Baaghi TV

Category: تعلیم

  • سعودی طالب علموں کی موجیں ہوگئیں ، کینٹینزپر چیزیں سستیں ملیں گی

    سعودی طالب علموں کی موجیں ہوگئیں ، کینٹینزپر چیزیں سستیں ملیں گی

    ریاض : طلباء کے لیے فراہم کی جانے والی اشیاء خورونوش کے نرخ مساوی رکھے جائیں۔ کوئی بھی چیز 4 ریال سے زیادہ میں فروخت نہ کی جائے ۔ سعودی اخبار کے مطابق وزارت تعلیم کی جانب سے ملک بھرکے تمام سکولوں کو جاری کردہ سرکلر میں کہا گیا ہے کہ کینٹینز میں وہ اشیاء ہی رکھی جائیں جن کی اجازت ہے۔

    سعودی وزارت تعلیم کی طرف سے جاری کردہ سرکلر میں مزید کہا گیا ہے کہ کینٹین میں فروخت کیا جانے والی تمام مصنوعات 2 سے 4 ریال مقرر کئے گئے ہیں پر فروخت کی جائیں۔ حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔دوسری جانب نجی سکولز کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وزارت تعلیم کی جانب سے جاری کردہ سرکلر پر عمل کو یقینی بنانے کے لئے کینٹین کنٹریکٹرز کو ہدایت کر دی گئی ہے ۔

    پاکستانی ٹیم سری لنکا پہنچ گئی

    سعودی وزارت تعلیم نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر ضروری چیزوں اور مضر صحت اشیا کینٹین میں نہ رکھی جائیں، ممنوعہ اشیائے خورونوش جن میں سربند تھیلوں کے سنیکس اور سافٹ ڈرنکس شامل ہیں سکولوں میں قطعی طور پر نہ رکھی جائیں۔

  • قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی کا مقصد : علی چاند

    قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی کا مقصد : علی چاند

    انتہاٸی پروقار ، دلفریب ، بلند حوصلہ ،جرأت مند ہستی ، جو نہ کبھی کسی کے آگے جھکے ، نا کبھی ہمت ہاری ، نہ کبھی حوصلہ کم ہوا ، جس بات پر ڈٹ گٸے اس سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے ،اور پھر دنیا نے دیکھا کہ وہ پروقار انسان ایسا بہادر ، قوی ، جرأت مند نکلا کہ مسلمانوں نے ان کی قیادت میں صرف چند ماہ میں ہی پاکستان جیسا عظیم ملک بنا لیا ۔
    کون جانتا تھا کہ 25 دسمبر 1876 کو پونجا جناح کے گھر پیدا ہونے والا بچہ ایک دن اپنا نام اتنا روشن کرے گا کہ دنیا کے تمام مسلمانوں کے لیے جیتی جاگتی زندہ مثال بن جاٸے گا ۔ لوگ غلامی سے چھٹکارا پانے کے لیے اس عظیم انسان کی مثالیں دیں گے ۔ کون جانتا تھا کہ مظلوموں کو آزادی دلوانے والے اس عظیم لیڈر کو اپنا راہنما اور مشعل راہ سمجھیں گے ۔

    قاٸد اعظم محمد علی جناح 25 دسمبر 1876 کو ایک تاجر پونجا جناح کے گھر پیدا ہوٸے ۔ والدین نے آپ کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی جس کے اثرات پھر پوری دنیا نے دیکھے ۔ والدین نے چھ سال کی عمر میں آپ کو مدرسے میں داخل کروا دیا ۔ پراٸمری تعلیم کے لیے آپ کو گوگل داس پراٸمری سکول میں داخل کروایا گیا ۔ میٹرک کا امتحان آپ نے اعلی نمبروں کے ساتھ سندھ مدرسة السلام ہاٸی سکول سے پاس کیا ۔ 1892 میں آپ نے وکالت کا امتحان پاس کیا ۔ پھر اعلی تعلیم کے لیے انگلستان چلے گے اور بیرسٹر بن کر واپس آٸے ۔ پہلے آپ نے کراچی اور پھر ممبٸی میں وکالت کر کے بہت نام کمایا ۔ آپ کو سیاست سے بہت دلچسپی تھی ۔ شروع میں قاٸد اعظم ہندو مسلم اتحاد کے حامی تھے اس لیے آپ نے 1906 میں کانگریس میں شمولیت اختیار کر لی ۔ کچھ مسلمان راہنماٶں نے آپ کومسلم لیگ میں شمولیت کی دعوت دی اور آپ کو اس پر راضی بھی کر لیا بالآخر آپ نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کر لی ۔ 1913 میں آپ نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی ۔ مسلم لیگ پہلے صرف بڑے لوگوں کی جماعت سمجھی جاتی تھی لیکن آپ کی مسلم لیگ میں شمولیت کے بعد لوگ اسے عام مسلمانوں یعنی اپنی جماعت سمجھنا شروع ہوگے ۔

    1929میں قاٸداعظم نے اپنے مشہور چودہ نکات پیش کٸیے جو درج ذیل ہیں :

    ہندوستان کا آئندہ دستور وفاقی نوعیت کا ہو گا۔

    تمام صوبوں کو مساوی سطح پر مساوی خود مختاری ہو گی۔

    ملک کی تمام مجالس قانون ساز کو اس طرح تشکیل دیا جائے گا کہ ہر صوبہ میں اقلیت کو مؤثر نمائندگی حاصل ہو اور کسی صوبہ میں اکثریت کو اقلیت یا مساوی حیثیت میں تسلیم نہ کیا جائے۔

    مرکزی اسمبلی میں مسلمانوں کو ایک تہائی نمائندگی حاصل ہو۔

    ہر فرقہ کو جداگانہ انتخاب کا حق حاصل ہو۔

    صوبوں میں آئندہ کوئی ایسی سکیم عمل میں نہ لائی جائے جس کے ذریعے صوبہ سرحد، پنجاب اور صوبہ بنگال میں مسلم اکثریت متاثر ہو۔

    ہر قوم و ملت کو اپنے مذہب، رسم و رواج، عبادات، تنظیم و اجتماع اور ضمیر کی آزادی حاصل ہو۔

    مجالس قانون ساز کو کسی ایسی تحریک یا تجویز منظور کرنے کا اختیار نہ ہو جسے کسی قوم کے تین چوتھائی ارکان اپنے قومی مفادات کے حق میں قرار دیں۔

    سندھ کو بمبئی سے علاحدہ کر کے غیر مشروط طور پر الگ صوبہ بنا دیا جائے۔

    صوبہ سرحد اور صوبہ بلوچستان میں دوسرے صوبوں کی طرح اصلاحات کی جائیں۔

    سرکاری ملازمتوں اور خود مختار اداروں میں مسلمانوں کو مناسب حصہ دیا جائے۔

    آئین میں مسلمانوں کی ثقافت، تعلیم، زبان، مذہب، قوانین اور ان کے فلاحی اداروں کے تحفظ کی ضمانت دی جائے۔

    کسی صوبے میں ایسی وزارت تشکیل نہ دی جائے جس میں ایک تہائی وزیروں کی تعداد مسلمان نہ ہو۔

    ہندوستانی وفاق میں شامل ریاستوں اور صوبوں کی مرضی کے بغیر مرکزی حکومت آئین میں کوئی تبدیلی نہ کرے۔

    یہ چودہ نکات تحریک پاکستان میں سنگ میل کی حثیت رکھتے ہیں ۔ 1940 میں لاہور منٹو پارک ( موجودہ نام اقبال پارک ) میں ایک قرار داد پیش کی گٸی جسے قرارد داد پاکستان بھی کہا جاتا ہے اس قرار داد میں مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کا مطالبہ کیا گیا ۔ ہندوٶں اور انگریزوں کی طرف سے اس قرارداد کا بہت مذاق اڑایا گیا لیک مسلمان ارادے کے پکے اور ایمان کے سچے تھے انہوں نے قاٸد اعظم جیسے عظیم لیڈر کی راہنماٸی میں 14 اگست 1947 کو مسلمانوں نے الگ وطن حاصل کر لیا ۔ اس کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے ۔ قاٸد اعظم نے پاکستان بننے کے بعد مہاجرین کی آباد کاری ، پاکستانی معیشیت اور اداروں کی بحالی کے لیے انتھک محنت کی جس کی وجہ سے آپ بہت زیادہ علیل ہوگے ۔

    آپ کو ڈاکٹرز کے مشورے سے زیارت کے مقام پر بھیج دیا گیا تاکہ آپ کی صحت کچھ سنبھل سکے ۔ لیکن آپ کی صحت جواب دیتی جارہی تھی ۔ 10 ستمبر کو کرنل الہی بخش نے قاٸد اعظم کی صحت کے حوالے سے فاطمہ جناح کو جواب دے دیا ۔ اگلی صبح قاٸد اعظم کو کوٸٹہ سے کراچی اٸیرپورٹ لایا گیا ۔ وہاں سے ایک ایمبولینس میں آپ کا سٹریچر رکھا گیا ۔ ایمبولیس میں آپ کی بہن فاطمہ جناح بھی بیٹھ گٸی ۔ جب ایمبولینس مہاجروں کی ایک گنجان آباد بستی سے زرا آگے پہنچی تو ایمبولینس چلنا رک گٸی ۔ فاطمہ جناح کو بتایا گیا کہ پیٹرول ختم ہوگیا ہے ۔ ایک گھنٹہ بعد دوسری ایمبولینس آٸی اور پھر قاٸد اعظم کو دوسری ایمبولینس کے ذریعے قاٸد اعظم گورنر ہاٶس پہنچایا گیا جہاں انہوں نے کلمہ پڑھتے ہوٸے اپنی جان خالق حقیقی کے حوالے کر دی ۔

    کیا ایمبولینس کا واقعی پیٹرول ختم ہوا تھا یا پھر یہ بھی ایک سازش تھی ۔ اگر پیٹرول واقعی ختم ہوا تھا تو کیا ایمبولینس روانہ کرتے وقت چیک نہ کیا گیا تھا ۔ کیا کوٸی اس قدر احمق بھی ہوسکتا ہے کہ اپنے محسن کی حالت کو جانتا ہو پھر بھی ایسا کرے ۔ اور اگر یہ ایک سازش تھی تو قاٸد اعظم اور پاکستان کے ساتھ غداری تھی ۔ دونوں صورتوں میں کیا کبھی کسی نے اس سازش کے پیچھے چھپے چہرے تلاش کرنے کی کوشش کی ۔ کیا کسی نے ان چہروں کو بے نقاب کر کے انہیں سزا دلوانے کی کوشش کی ۔ اگر نہیں تو کیا ہم ایک بے حس قوم نہیں ہیں جنہوں نے اپنے عظیم لیڈر کے احسانات کو بھلا دیا اور کبھی یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی کہ آخر کون لوگ تھے جو پاکستان سے دشمنی میں اس قدر آگے نکل گے کہ انہوں نے قاٸد اعظم کی جان کی پرواہ بھی نہ کی ؟

    کیا ہم میں سے کوٸی اس بہن کا درد محسوس کر سکتا ہے جس کے بھاٸی کو ڈاکٹرز جواب دے چکے ہوں اور اس ایمبولینس کو جان بوجھ کر روکے رکھا گیا ہو جس میں ایک بہن کے سامنے اس کا بھاٸی زندگی کی آخری سانسیں لے رہا ہو ۔ جو کہتے ہیں پیٹرول ختم ہو گیا تھا ،ان کی عقل کو داد دیں یا پھر اپنی قوم کی بے حسی کو ۔ اگر پٹرول ختم ہوگیا تھا تو گنجان آبادی قریب تھی وہاں سے کسی گاڑی کا انتظام کیوں نہ ہوا ۔ اس آبادی سے کسی کی گاڑی سے کہیں سے بھی پٹرول مل سکتا تھا پھر ایک گھنٹے تک کیوں اس بہن کو اذیت میں رکھا گیا جس کے بھاٸی نے اپنی بہن کے ساتھ اپنی تمام تر زندگی اس وطن کے نام کر دی ۔ آخر کیوں کون سے وجوہات تھی کہ ہم نے باباٸے قوم اور مادر ملت کو اذیت دینے والوں کے گریبان نہیں پکڑے ۔ آخر کیوں ہم اتنے بے حس ہوگے کہ محسن پاکستان محمد علی جناح کے ساتھ ان کی بہن کے ساتھ ایسا ظلم کرنے والوں کو کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا گیا ۔ وہ بہن جو مادر ملت تھی کہتی ہیں زندگی میں جتنی بھی مشکلات آٸیں یہ ایک گھنٹہ ان سب مشکلات سے بھاری تھا ، تکلیف دہ تھا ۔ آخر کیوں اس بات کو جاننے کی کوشش نہیں کی گٸی کہ آخر کون تھا جس پر قاٸد اعظم کی سانسیں باعث تکلیف تھی ، آخر ایمبولینس کو جان بوجھ کر روکنے میں کسی کا کیا فاٸدہ تھا ؟ ہمیں بحثیت قوم ان حقاٸق کو جاننا ہوگا ۔ ان کالی بھیڑوں کو ڈھونڈنا ہوگا جو تب سے لے کر آج تک وطن پاکستان اور اس سے جڑے ہر مخلص انسان کو نقصان پہنچا رہی ہیں ۔

  • سیکرٹری سکولز ایجوکیشن کیوں عدالت میں پیشن نہیں ہو رہے ، اضافی فیسوں کے متعلق جواب دیں ، عدالت برہم

    سیکرٹری سکولز ایجوکیشن کیوں عدالت میں پیشن نہیں ہو رہے ، اضافی فیسوں کے متعلق جواب دیں ، عدالت برہم

    لاہور : لوگ بیچارے مصیبت میں پڑے ہیں اور سیکرٹری سکولز ایجوکیشن کو پرواہ تک نہیں ، نجی سکول بچوں سے زیادہ فیسیں لے رہے ہیں ، اس زیادتی کو کس نے ختم کرنا ہے ، عدالت کو بتایا جاءے کہ ابھی تک سیکرٹری سکولز نے کیا اقدامات کیے ، لوگ نجی سکولوں کی زیادتیوں کا شکار ہورہے ہیں اور سیکرٹری سکولز کو احساس تک نہیں ،

    اطلاعات کے مطابق نجی سکولز میں اضافی فیسوں کی وصولی کیخلاف درخواست پر سیکرٹری سکولز ایجوکیشن کی عدم پیشی پر عدالت نے اظہار برہمی ہوتے ہوئے سیکرٹری سکولز ایجوکیشن کو کل ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا عدالتیں آپ کے دفاتر ہیں جہاں آپ چکر دیتے ہیں،اگر کام ہو رہے ہوتے تو یہاں لوگوں کونہ آنا پڑتا۔عدالت نے کل پھر سیکرٹری سکولز ایجوکیشن کو طلب کیا ہے

  • نئی مصیبت کھڑی ہوگئی ، اب حاضر سروس سرکاری ملازم یا اساتذہ کے پڑھانے پربھی  پابندی عائد

    نئی مصیبت کھڑی ہوگئی ، اب حاضر سروس سرکاری ملازم یا اساتذہ کے پڑھانے پربھی پابندی عائد

    لاہور :پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے پارٹنر سکولوں میں حاضر سروس سرکاری ملازم یا اساتذہ کی تعیناتی پر پابندی عائد کردی۔یہ فیصلہ تعلیمی معیار کو بہتر کرنے کے لیے اٹھایا جارہا ہے ، پنجاب ایجوکشن فاونڈیشن کی طرف سے پیغام میں کہا گیا ہےکہ اس حوالے سے کچھ شکایات ملی ہیں‌

    ذرائع کے مطابق پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی جانب سے پارٹنر سکولوں میں حاضر سروس سرکاری ملازم یا اساتذہ کے پڑھانے پر پابندی عائد کردی گئی ہے ،ذرائع کے مطابق پیف حکام کو پارٹنر سکولوں میں سرکاری ملازمین کے پڑھانے کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں جس کے بعد سے پیف حکام نے پارٹنر سکولوں کو تنبیہ لیٹر جاری کردیا ہے۔

    دوسری طرف پیف حکام کا کہنا ہے کہ معیاری تعلیم کے فروغ کیلئے اساتذہ کا کلیدی کردار ہے، لیکن سرکاری ملازم یا ٹیچر کو پیف سکولوں میں مامور کرنا قانوناً جرم ہے،احکامات کیخلاف ورزی پر پارٹنر سکولوں کے سربراہان کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی

  • اب انگریزی بھی جاپانی شکل میں‌ لکھی جائے ،  جاپانی وزیرتعلیم کی تجویزنے ہلچل مچادی

    اب انگریزی بھی جاپانی شکل میں‌ لکھی جائے ، جاپانی وزیرتعلیم کی تجویزنے ہلچل مچادی

    ٹوکیو : اسے کہتے ہیں تبدیلی ، جاپان نے ترقی کی تو جاپانی زبان میں‌تعلیم حاصل کرنے کےبعد ، اب جاپان کی حکومت اسے سے بھی اگلہ قدم اٹھانے جارہی ہے ، اطلاعات کے مطابق جاپان کے وزیر تعلیم ماساہیکو شِبایاما نے تجویز پیش کی ہے کہ حکومتی دستاویزات میں انگریزی زبان میں جاپانی ناموں کی ترتیب جاپان کے روایتی انداز میں لکھی جانی چاہیئے جس میں خاندانی نام کے بعد پہلا نام لکھا جاتا ہے۔انہوں نے یہ درخواست کابینہ کے اپنے دیگر اراکین سے کہی۔

    بیٹی کیلئے انصاف کا منتظر باپ عدالت کی دہلیز میں دم توڑ گیا ، دردناک کہانی پڑھنا نہ بھولئیے

    ذرائع کےمطابق یہ تجویز پہلی مرتبہ نہیں‌بلکہ اس سے پہلے بھی وزارت تعلیم کے ایک پینل نے تقریباً 20 سال قبل تجویز دی تھی کہ زبانوں اور ثقافت میں تنوع کے احترام میں ناموں کو لکھنے کی ترتیب روایتی جاپانی انداز میں ہونی چاہیے۔وزیر تعلیم نیصحافیوںکو بتایا کہ پینل کی تجویز عوام الناس تک نہیں پہنچ سکی تھی۔

  • ارلی چائلڈ ایجوکیشن اینڈ کیئر تیسری عالمی کانفرنس اسلام آباد میں ہوگی

    ارلی چائلڈ ایجوکیشن اینڈ کیئر تیسری عالمی کانفرنس اسلام آباد میں ہوگی

    اسلام آباد : پاکستان میں ارلی چائلڈ ایجوکیش کے حوالے سے پہلے بھی کوششیں ہوتی رہتی ہیں مگر اس مسئلے پر خصوصی کانفرنس 2روزہ تیسری عالمی کانفرنس25 اور 26 ستمبر کو منعقد ہو گی۔اس سال یہ کانفرنس علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں پاکستان الائنس برائے ارلی چائلڈ ہوڈ ڈویلپمنٹ روپانی فائونڈیشن ،ْ وزارت منصوبہ بندی و ترقی اور قراکرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے تعاون سے ہوگی

    ذرائع کے حوالے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ اس کانفرنس میں 500کے قریب قومی و بین الاقوامی سطح کے ای سی ڈی ماہرین ،ْ پریکٹیشنرز ،ْ محققین ،ْ قانون دان ،ْ پالیسی میکرز ،ْ ڈونرز اور والدین شرکت کریں گے۔سکالرز ولادت سے قبل اور پیدائش کے بعد بچے اور ماں کی عذائیت ،ْ بچے کی ابتدائی پرورش اور مستقبل کے تعین پر مقالے پیش کریں گے۔

  • طالب علموں کے لیے فرسٹ ایڈ اور فائرفائنٹنگ ٹریننگ شروع ہوگئی

    طالب علموں کے لیے فرسٹ ایڈ اور فائرفائنٹنگ ٹریننگ شروع ہوگئی

    ہری پور: طالب علموں کو ہنگامی حالات میں خدمات سرانجام دینے کے لیے پہلے طالب علموں کو گر سکھانے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے ، اطلاعات کے مطابق ہری پور میں ریسکیو 1122 ایمرجنسی آفیسر امجد خان نے ڈائریکٹر جنرل ریسکیو ہدایات پر عوام الناس تک ریسکیو کی بین الاقومی طرز کی مفت سہولیات کی فراہمی سے متعلق ہری پور میں سکول نمبر 1 سکائوٹ سٹوڈنٹس کیلئے فرسٹ ایڈ اور فائر فائٹنگ ٹریننگ ورکشاپ کا انعقاد کیا۔

    ہری پور میں دی جانے والی اس ٹریننگ ونگ کے انچارج ساجد علی نے ریسکیو 1122 کی سروسز، فرسٹ ایڈ اور فائر فائٹنگ کے متعلق بریفنگ دی اور مشقوں کا عملی مظاہرہ کیا۔ ساجد علی نے ورکشاپ کے شرکاء کو بتایا کہ ریسکیو اہلکار ہر قسم کی ایمرجنسی سے نمٹنے کیلئے دن رات مصروف عمل ہیں اور دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے لمحوں میں پہنچ جاتے ہیں۔

  • پیار نہیں مار : استاد جلاد بن گیا، میٹرک کے طالبعلم کی جان لے لی

    پیار نہیں مار : استاد جلاد بن گیا، میٹرک کے طالبعلم کی جان لے لی

    لاہور : پہلے یہ نعرہ رواج پا گیا کہ مار نہیں پیار مگر اب معاملات الٹ چل رہے ہیں ، عقل سے عاری استاد نے اس نعرے کو پیار نہیں مار میں بدل دیا ، اطلاعات کے مطابق روحانی باپ جلاد بن گیا، امریکن لائسٹف سکول گلشن راوی برانچ کے استاد نے سبق یاد نہ کرنے پر دسویں جماعت کے طالبعلم کی جان لے لی۔

    پولیس کے مطابق امریکن لائسٹف سکول گلشن راوی برانچ کے استاد نے سبق یاد نہ کرنے پر دسویں جماعت کے طالبعلم کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا، طالبعلم پر لاتوں گھونسوں کی بارش کی، طالبعلم کا سر دیوار سے دے مارا جس سے طالبعلم کی حالت غیر ہوگئی، حالت غیر ہونے پر طالبعلم کو ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا

    ذرائع کے مطابق وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس نے پرائیویٹ سکول میں بچے کی ہلاکت پر نوٹس لیتے ہوئے سی ای او ایجوکیشن کو واقعے کے ذمہ دار وں کیخلاف کارروائی کی ہدایت کردی۔

    ڈاکٹر مراد راس کا کہنا ہے کہ بچے کی ہلاکت کا معاملہ انتہائی تکلیف دہ اور افسوسناک ہے، پولیس نے موقع پر پہنچ کرٹیچر کامران کو حراست میں لےلیا۔ذمہ دار ٹیچر کو منتقی انجام تک پہنچائیں گے

  • سپیشل بچے بھی کشمیریوں سے یکجہتی کے لیے سڑکوں پر

    سپیشل بچے بھی کشمیریوں سے یکجہتی کے لیے سڑکوں پر

    وزیراعظم پاکستان کی اپیل پر سپیشل بچے بھی کشمیریوں سے یکجہتی کے لیے سڑکوں پر کل آئے ۔ سپیشل ایجوکیشن سنٹر فیروز والہ کے طلبا نے کشمیر یوں سے یکجہتی کے لیے مارچ کیا۔ یکجہتی کشمیر مارچ میں سکول کے سٹاف نے بھی شرکت کی۔ سپیشل بچوں نے کشمیر سے یکجہتی کے حوالہ سے بینرز اٹھا رکھے تھے اور اشاروں کی زبان میں نعرے لگا رہے تھے
    کشمیریوں سے یکجہتی، ملک بھر میں کشمیر آور منایا گیا، پاکستانیوں نے تاریخ رقم کر دی
    سپیشل ایجوکیشن سنٹر فیروزوالا کے سٹاف نے بھی احتجاج میں شرکت کی۔ اس موقع پر ناظم حسین کا کہنا تھا کہ سپیشل بچے آج مودی کو پیغام دے رہے ہیں کہ کشمیری ہمارے بھائی ہیں ان کے ساتھ ہمارا خون کا رشتہ ہے۔ کشمیریوں کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

    ناظم حسین کا مزید کہنا تھا کہ سپیشل بچوں کے بھی کشمیر کے حوالہ سے جذبات ہیں ۔آج وزیراعظم کی اپیل پر سپیشل بچے باہر نکلے ہیں ۔وزیراعظم جب بھی اعلان کریں گے سپیشل بچے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کرتے رہیں گے

  • داخلے کے خواہشمندوں کے لیے اہم خبر !  پنجاب یونیورسٹی نے داخلے کیلئے میرٹ لسٹوں کا شیڈول جاری

    داخلے کے خواہشمندوں کے لیے اہم خبر ! پنجاب یونیورسٹی نے داخلے کیلئے میرٹ لسٹوں کا شیڈول جاری

    لاہور : داخلے کے خواہشمندوں کے لیے خوشخبری ، اطلاعات کے مطابق پنجاب یونیورسٹی میں داخلوں کی میرٹ لسٹوں کا شیڈول جاری کردی ، پنجاب یونیورسٹی شیڈول کے مطابق ایم اے میں داخلوں کی پہلی میرٹ لسٹ 2 ستمبر جبکہ ایم فل اور پی ایچ ڈی میں داخلوں کی میرٹ لسٹ 4 ستمبر کو جاری ہوں گی۔

    ذرائع کے مطابق پنجاب یونیورسٹی میں داخلوں کی میرٹ لسٹیں شعبہ جات کے نوٹس بورڈز اور آن لائن سسٹم کے تحت جاری کی جائیں گی۔ ایم فل و پی ایچ ڈی میں داخلوں کی پہلی میرٹ لسٹ 4 ستمبر کو آویزاں ہوں گی جبکہ پنجاب یونیورسٹی میں ایم فل ، ایم ایس، پی ایچ ڈی میں داخلوں کی لسٹیں آن لائن بھی جاری ہوں گی۔ داخلوں کی دوسری میرٹ لسٹ 9 ستمبر کو آویزاں کی جائے گی۔

    اسی طرح ذرائع کے مطابق پنجاب یونیورسٹی میں ایم اے میں داخلوں کی پہلی میرٹ لسٹ 2 ستمبر جبکہ دوسری میرٹ لسٹیں 5 ستمبر کو جاری ہوں گی۔ ایم اے مارننگ، ایوننگ، ریلیکس اور سیلف سپورٹنگ پروگرام میں داخلوں کی لسٹ ایک ہی روز جاری ہوگی۔