Baaghi TV

Category: کاروبار

  • مشرق وسطیٰ کشیدگی، مہنگے خام تیل کے خدشات پر پی ایس ایکس میں منفی رجحان

    مشرق وسطیٰ کشیدگی، مہنگے خام تیل کے خدشات پر پی ایس ایکس میں منفی رجحان

    مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات کے پیش نظر پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری سرگرمیوں کے دوران منفی رجحان دیکھا گیا، سرمایہ کاروں کی جانب سے محتاط رویہ اختیار کیے جانے کے باعث مارکیٹ دباؤ کا شکار رہی۔

    کاروباری دن کے اختتام پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس ایک ہزار 692 پوائنٹس کی کمی کے بعد ایک لاکھ 73 ہزار 636 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔

    کاروباری دن کے دوران 100 انڈیکس میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا اور انڈیکس تقریباً 1700 پوائنٹس کے وسیع بینڈ میں کاروبار کرتا رہا۔ مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور اس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے نے سرمایہ کاروں کے خدشات میں اضافہ کیا، جس کے باعث مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ رہا۔

    حصص بازار میں مجموعی طور پر 67 کروڑ شیئرز کے سودے ہوئے جن کی مالیت تقریباً 23 ارب روپے رہی۔

    دوسری جانب مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ مارکیٹ کی مجموعی سرمایہ کاری ایک سو چوراسی ارب روپے کم ہوکر 19 ہزار 434 ارب روپے رہ گئی۔

  • سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر کمی

    سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر کمی

    مقامی اور عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر کمی ریکارڈ کی گئی ہے-

    عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت میں کمی ریکارڈ کی گئی، جہاں فی اونس سونا 36 ڈالر کمی کے بعد 4 ہزار 430 ڈالر کی سطح پر آگیا آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 3 ہزار 86 روپے کی کمی ہوئی، جس کے بعد نئی قیمت 3 لاکھ 99 ہزار 122 روپے ہوگئی۔

    خیال رہے کہ گزشتہ چند روز کے دوران سونے کی قیمت میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے،3 ستمبر کو پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 11 ہزار 200 روپے کا بڑا اضافہ ہوا تھا، جس کے بعد سونا 4 لاکھ 65 ہزار 236 روپے کا ہوگیا تھا، جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت 9 ہزار 602 روپے اضافے سے 3 لاکھ 98 ہزار 864 روپے پر پہنچ گئی تھی۔

    واضح رہے سونے کی قیمت میں ردوبدل کی بڑی وجوہات میں عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، امریکی ڈالر کی قدر میں تبدیلی، عالمی معاشی صورتحال میں غیر یقینی اور جغرافیائی کشیدگی شامل ہیں، عالمی سطح پر سرمایہ کار معاشی اور سیاسی غیر یقینی کے دوران سونے کو محفوظ سرمایہ کاری سمجھتے ہیں، جس کے باعث اس کی طلب میں اضافہ قیمتوں کو اوپر لے جاتا ہے۔

  • بجلی صارفین کیلئے بری خبر، نیپرا نے قیمت میں اضافہ کردیا

    بجلی صارفین کیلئے بری خبر، نیپرا نے قیمت میں اضافہ کردیا

    نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کی قیمت میں 2 روپے 8 پیسے فی یونٹ اضافہ کردیا، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق بجلی کی قیمت میں اضافہ مقررہ طریقہ کار کے تحت کیا گیا ہے، جس کا اطلاق ستمبر کے بجلی کے بلوں پر ہوگا۔ اضافے کے بعد صارفین کو بجلی کے استعمال کے حساب سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ بل ادا کرنا پڑیں گے۔

    نیپرا کے فیصلے کے بعد بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں نئے نرخوں کے مطابق ستمبر کے بل جاری کریں گی، جبکہ صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑے گا۔

    بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافے اور تبدیلی کے باعث پہلے ہی زیادہ بل ادا کرنے والے صارفین کے ماہانہ اخراجات میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

  • پیٹرول سستا، ڈیزل مہنگا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری

    پیٹرول سستا، ڈیزل مہنگا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے یومیہ تعین کے تحت پیٹرول کی قیمت میں 3 روپے 13 پیسے فی لیٹر کمی جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 74 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا گیا۔

    اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت 345 روپے 87 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت بڑھ کر 378 روپے 5 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق 5 سے 7 ستمبر تک ہوگا۔

  • او جی ڈی سی ایل کے مالی نتائج نے نئی تاریخ رقم کردی، منافع 242 ارب روپے سے تجاوز کرگیا

    او جی ڈی سی ایل کے مالی نتائج نے نئی تاریخ رقم کردی، منافع 242 ارب روپے سے تجاوز کرگیا

    او جی ڈی سی ایل نے مالی سال 2025-26 کے شاندار مالیاتی نتائج کا اعلان کردیا، جس کے مطابق کمپنی کا بعد از ٹیکس منافع 242.37 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا۔

    ترجمان او جی ڈی سی ایل کے مطابق کمپنی نے مالی سال کے دوران مضبوط مالی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے ساتھ قومی خزانے میں بھی نمایاں حصہ ڈالا۔ کمپنی کی سالانہ سیلز آمدن 449.19 ارب روپے رہی جبکہ فی شیئر آمدن 56 روپے 35 پیسے ریکارڈ کی گئی۔

    کمپنی نے شیئر ہولڈرز کے لیے 6 روپے فی شیئر حتمی کیش ڈویڈنڈ دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ او جی ڈی سی ایل کی تاریخ کا بلند ترین سالانہ ڈویڈنڈ 17 روپے فی شیئر دینے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

    او جی ڈی سی ایل کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران قومی خزانے میں 187 ارب روپے جمع کرائے گئے، جبکہ ملکی معیشت کے لیے 3.31 ارب ڈالر کا زرمبادلہ بھی بچایا گیا۔

    کمپنی نے مالی سال کے دوران تیل اور گیس کے 9 نئے ذخائر دریافت کیے، جبکہ ریزرو ریپلیسمنٹ ریشو 236 فیصد رہا۔

    ترجمان کے مطابق مالی سال 2025-26 میں او جی ڈی سی ایل کی اوسط یومیہ تیل پیداوار 32 ہزار 861 بیرل رہی، جبکہ اوسط یومیہ گیس پیداوار 667 ایم ایم ایس سی ایف ڈی اور ایل پی جی کی اوسط یومیہ پیداوار 670 میٹرک ٹن ریکارڈ کی گئی۔

    او جی ڈی سی ایل کا مالیاتی حجم بھی بڑھ کر 1.44 کھرب روپے تک پہنچ گیا ہے، جو کمپنی کی مضبوط مالی پوزیشن کی عکاسی کرتا ہے۔

    کمپنی کے مطابق مالیاتی کارکردگی میں بہتری کے ساتھ نئے تیل و گیس ذخائر کی تلاش، پیداوار میں تسلسل اور ملکی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اقدامات آئندہ بھی جاری رکھے جائیں گے۔

  • معاشی دباؤ برقرار، مگر امید بڑھی، پاکستان درست سمت میں ہے: ایپسوس سروے

    معاشی دباؤ برقرار، مگر امید بڑھی، پاکستان درست سمت میں ہے: ایپسوس سروے

    فرانسیسی تھنک ٹینک ایپسوس (Ipsos) نے پاکستان کنزیومر کانفیڈنس انڈیکس جاری کردیا، جس کے مطابق معاشی دباؤ اب بھی پاکستانی عوام کی بڑی تشویش ہے، تاہم ملک کے مستقبل کے حوالے سے عوامی امید میں بہتری دیکھی گئی ہے۔

    ایپسوس کے سروے کے مطابق ہر چار میں سے صرف ایک پاکستانی سمجھتا ہے کہ ملک درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے، جبکہ مجموعی طور پر ملک کی سمت درست ہونے پر اعتماد رکھنے والوں کی شرح 24 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

    رپورٹ کے مطابق اگست 2024 میں صرف 11 فیصد پاکستانی ملک کی سمت درست ہونے پر اعتماد رکھتے تھے، یوں موجودہ سروے میں عوامی اعتماد میں نمایاں بہتری سامنے آئی ہے۔

    سروے میں مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کو عوام کے بڑے معاشی خدشات قرار دیا گیا ہے۔ ہر سات میں سے صرف ایک پاکستانی کا خیال ہے کہ ملک ماضی کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہوا ہے۔

    ایپسوس کے مطابق روزمرہ اور گھریلو ضروریات کی اشیا کی خریداری کے حوالے سے بھی عوام کا اعتماد کمزور ہے۔ 10 میں سے صرف ایک پاکستانی سمجھتا ہے کہ گھریلو یا ذاتی استعمال کی اشیا خریدنا آسان ہے۔

    تاہم گھریلو اخراجات پورے کرنے کی صلاحیت کے حوالے سے عوام کا اعتماد گزشتہ سروے کے مقابلے میں بہتر ہوا ہے۔ اس کے باوجود سرمایہ کاری، بڑی خریداری اور روزگار کے تحفظ سے متعلق عوام کا اعتماد اب بھی کمزور ہے۔

    رپورٹ کے مطابق معاشی حالات میں بہتری کے آثار کے باوجود پاکستانی بڑے مالی فیصلے کرنے میں محتاط ہیں۔ صرف 15 فیصد پاکستانی سرمایہ کاری کے حوالے سے پراعتماد نظر آئے۔

    ایپسوس کا کہنا ہے کہ پاکستان میں معاشی بحالی کا عمل محتاط انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔ عوام میں معاشی امید میں اضافہ ضرور ہوا ہے، تاہم مکمل معاشی اعتماد تاحال بحال نہیں ہوسکا۔

  • پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت اختتام

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت اختتام

    کاروباری ہفتے کے آخری روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا اختتام مثبت زون میں ہوا، جہاں 100 انڈیکس 399 پوائنٹس اضافے کے بعد 1 لاکھ 75 ہزار 328 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔

    ٹریڈنگ کے دوران 100 انڈیکس کی بلند ترین سطح 1 لاکھ 75 ہزار 418 پوائنٹس جبکہ کم ترین سطح 1 لاکھ 74 ہزار 515 پوائنٹس رہی۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مجموعی طور پر 569 کمپنیوں کے حصص میں کاروبار ہوا۔ ان میں سے 235 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ جبکہ 218 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔

    مارکیٹ میں مجموعی طور پر 32 ارب روپے مالیت کے 87 کروڑ حصص کا کاروبار ہوا۔

    دوسری جانب انٹربینک مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قدر میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق کاروبار کے اختتام پر انٹربینک میں ڈالر ایک پیسے سستا ہوکر 277 روپے 41 پیسے پر بند ہوا۔

  • ایک ہفتے میں 17 اشیاء مہنگی، 7 سستی، 27 کی قیمتیں برقرار، ادارہ  شماریات

    ایک ہفتے میں 17 اشیاء مہنگی، 7 سستی، 27 کی قیمتیں برقرار، ادارہ شماریات

    ملک میں مہنگائی کا سلسلہ جاری ہے، ایک ہفتے کے دوران 17 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ جبکہ 7 اشیاء سستی ہوگئیں، 27 اشیاء کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔

    پاکستان بیورو برائے شماریات کی ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق 3 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ہفتہ وار بنیاد پر 0.65 فیصد جبکہ سالانہ بنیادوں پر 8.35 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق صارفین کے لیے قیمتوں کا حساس اشاریہ (ایس پی آئی) 363.42 پوائنٹس ریکارڈ کیا گیا، جو گزشتہ ہفتے 361.07 پوائنٹس تھا۔

    گزشتہ ہفتے 7 اشیاء کی قیمتوں میں کمی ہوئی۔ کیلے 2.54 فیصد، دال مونگ 0.69 فیصد، ایل پی جی 0.45 فیصد، چینی 0.18 فیصد، انڈے 0.11 فیصد، دال چنا 0.06 فیصد جبکہ گڑ کی قیمت میں 0.05 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

    دوسری جانب 17 اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ پیاز کی قیمت میں سب سے زیادہ 26.30 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ٹماٹر 2.55 فیصد، آلو 0.96 فیصد، پیٹرول 0.90 فیصد، آٹا 0.88 فیصد، چکن 0.85 فیصد، دال ماش 0.67 فیصد، لہسن 0.18 فیصد، سرسوں کا تیل 0.13 فیصد اور ڈیزل کی قیمت میں 0.09 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    ادارہ شماریات کے مطابق قیمتوں کا حساس اشاریہ ملک کے 17 بڑے شہروں کی 50 مارکیٹوں میں 51 ضروری اشیاء کی قیمتوں میں ہونے والی کمی بیشی کی بنیاد پر تیار کیا جاتا ہے۔

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث مہنگائی کے دباؤ میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھنے سے اشیائے خورونوش سمیت روزمرہ استعمال کی متعدد اشیاء کی قیمتیں بھی متاثر ہورہی ہیں۔

    آمدن میں اسی رفتار سے اضافہ نہ ہونے کے باعث متوسط اور کم آمدن والے طبقے کے لیے گھریلو بجٹ چلانا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ مہنگائی کے اثرات صرف کھانے پینے کی اشیاء تک محدود نہیں بلکہ تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ اور رہائش کے اخراجات بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں۔

    بڑھتی قیمتوں کے باعث شہریوں نے غیر ضروری اخراجات کم کرنا شروع کردیئے ہیں، جبکہ کئی خاندان بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی اپنے اخراجات محدود کرنے پر مجبور ہیں۔ صورتحال نے حکومت کے لیے مہنگائی پر قابو پانے، قیمتوں کی مؤثر نگرانی اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کا چیلنج مزید بڑھا دیا ہے۔

  • پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگے، نئی قیمتوں کا اطلاق 4 ستمبر سے ہوگا

    پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگے، نئی قیمتوں کا اطلاق 4 ستمبر سے ہوگا

    اوگرا نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ کردیا، جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 2 روپے 84 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 349 روپے فی لیٹر مقرر ہوگئی۔

    ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 28 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 374 روپے 31 پیسے فی لیٹر ہوگئی۔

    نئی قیمتوں کا اطلاق 4 ستمبر سے ہوگا۔

  • سونے کی قیمت میں مسلسل 5 روز کمی کے بعد آج بڑا اضافہ

    سونے کی قیمت میں مسلسل 5 روز کمی کے بعد آج بڑا اضافہ

    پاکستان میں سونے کی قیمت میں مسلسل 5 روز کمی کے بعد آج بڑا اضافہ ہوا ہے-

    بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج جمعرات کے روز فی اونس سونے کی قیمت 112 ڈالر اضافے کے بعد 4 ہزار 427 ڈالر کی سطح پر آگئی آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی مارکیٹ کے زیر اثر مقامی صرافہ بازاروں میں کاروباری ہفتے کے چوتھے روز سونے کی فی تولہ قیمت میں 11 ہزار 200 روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد فی تولہ سونا 4 لاکھ 65 ہزار 236 روپے کا ہوگیا ، اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں 9 ہزار 602 روپے اضافہ ہوا، جس کے بعد 10 گرام سونے کی نئی قیمت 3 لاکھ 98 ہزار 864 روپے کی سطح پر آگئی۔

    دوسری جانب چاندی کی فی تولہ قیمت میں بھی 185 روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد چاندی کی فی تولہ قیمت 7 ہزار 440 روپے ہو گئی۔