Baaghi TV

Category: کاروبار

  • آموں کے موسم میں فروٹ فلائیز سے نجات کیلئے آسان طریقے

    آموں کے موسم میں فروٹ فلائیز سے نجات کیلئے آسان طریقے

    گرمیوں کا موسم آتے ہی آموں کی مانگ میں اضافہ ہو جاتا ہے، لیکن اس بار آم ایک غیر متوقع مسئلے کی وجہ سے خبروں میں ہیں ماہرین کے مطابق فروٹ فلائیز (پھلوں پر حملہ کرنے والی چھوٹی مکھیاں) آموں کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ برآمدات اور گھریلو صفائی دونوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہےحال ہی میں بھارت میں آموں کے سیزن کو اس وقت ایک بڑا جھٹکا لگا جب جاپان نے وہاں سے آموں کی درآمد پر عارضی پابندی لگا دی۔

    یہ فیصلہ بھارت میں آموں کی برآمد کے لیے منظور شدہ ویپر ہیٹ ٹریٹمنٹ (وی ایچ ٹی) مرکز کے معائنے کے دوران سامنے آنے والی تکنیکی اور حفظانِ صحت سے متعلق خامیوں کے بعد کیا گیا،بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق جاپانی حکام کا کہنا تھا کہ بھارت میں پھلوں کو کیڑوں سے پاک کرنے والے مراکز کے طریقہ کار میں کچھ خامیاں پائی گئی ہیں، جس کی وجہ سے الفانسو، کیسر، لنگڑا اور بنگن پلی جیسی مشہور اقسام کی برآمدات متاثر ہوئی ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق جاپانی قرنطینہ حکام نے مارچ میں بھارتی ریاست اتر پردیش کے رحمان پور میں واقع وی ایچ ٹی مرکز کا معائنہ کیا، جہاں دھونی کاری اور جراثیم کشی کے طریقۂ کار میں بعض خامیاں پائی گئیں دوطرفہ برآمدی معاہدے کے تحت جاپان بھیجے جانے والے تمام آموں کے لیے وی ایچ ٹی عمل سے گزرنا لازمی ہے تاکہ پھل کیڑوں اور فروٹ فلائی کے لاروؤں سے پاک ہو۔

    معائنے کے بعد جاپان کی یوکوہاما پلانٹ پروٹیکشن ایسوسی ایشن نے اعلان کیا کہ 25 مارچ 2026 کے بعد جاری ہونے والے تصدیقی سرٹیفکیٹس کے حامل آموں کی کھیپ قبول نہیں کی جائے گی پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک جاپانی حکام مطمئن نہیں ہو جاتے کہ متعلقہ مرکز مطلوبہ عملی اور نباتاتی معیار پر پورا اترتا ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق بھارت نے مالی سال 25-2024 کے دوران قریباً 30 ہزار ٹن آم عالمی منڈیوں کو برآمد کیے، جن سے لگ بھگ 5 کروڑ 65 لاکھ ڈالر آمدنی حاصل ہوئی جاپان کو تازہ اور پراسیس شدہ آموں کی برآمدات کا حجم قریباً 15 لاکھ 40 ہزار ڈالر رہا، جس میں گجرات کے کیسر آم کا حصہ سب سے زیادہ تھا۔

    واضح رہے کہ جاپان نے 1986 میں بھی فروٹ فلائی کے خدشات کے باعث بھارتی آموں پر پابندی عائد کی تھی طویل سائنسی جائزوں، نگرانی کے نظام اور وی ایچ ٹی سہولیات کی بہتری کے بعد 2006 میں بھارتی آموں کو دوبارہ جاپانی منڈی تک رسائی حاصل ہوئی تھی۔

    موجودہ برآمدی انتظامات کے تحت بھارت کو الفانسو، کیسر، بنگان پلی، لنگڑا، چونسہ اور مالیکا سمیت 6 اقسام کے آم جاپان برآمد کرنے کی اجازت حاصل ہے یہ آم آندھرا پردیش، مہاراشٹر، گجرات، اتر پردیش اور مغربی بنگال میں قائم منظور شدہ مراکز سے برآمد کیے جاتے ہیں۔

    آموں کے موسم میں فروٹ فلائیز کیوں بڑھ جاتی ہیں؟

    ماہرین کے مطابق یہ چھوٹی مکھیاں صرف آموں کو ہی خراب نہیں کرتیں بلکہ ان کے ذریعے پوشیدہ انڈے ہمارے گھروں تک پہنچ جاتے ہیں این ڈی ٹی وی کے مطابق اکلیولینڈ کلینک کی ایک رپورٹ ثابت کرتی ہے کہ یہ مکھیاں میٹھے اور پکے ہوئے پھلوں کی خوشبو سے بہت تیزی سے راغب ہوتی ہیں ایک مادہ مکھی ایک وقت میں پانچ سو تک انڈے دے سکتی ہے گرمی اور حبس کے موسم میں یہ انڈے بہت تیزی سے بچے بنتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا گھر ان مکھیوں سے بھر جاتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق آم میں قدرتی شکر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور جب یہ زیادہ پک جاتا ہے تو اس سے خارج ہونے والی خوشبو فروٹ فلائیز کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے یہی وجہ ہے کہ کمرے کے درجہ حرارت پر رکھے گئے آم ان کے لیے بہترین افزائش گاہ بن سکتے ہیں،بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ فرو ٹ فلائیز صرف پھلوں کے قریب رہتی ہیں، لیکن حقیقت میں ان مکھیوں کی افزائش کے لیے کچن کی سنک، کچرے کے ڈبے اور گیلے کپڑے یا اسفنج سب سے بہترین جگہیں ثابت ہوتے ہیں۔

    ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ یہ مکھیاں گھروں کے گرم اور نمی والے ماحول جیسے کہ گٹر کے دہانے، کچرا تلف کرنے والی جگہوں اور ری سائیکلنگ کے ڈبوں میں بہت زیادہ پھلتی پھولتی ہیں، بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ مکھیاں کاٹتی نہیں ہیں اس لیے نقصان دہ نہیں ہیں، لیکن سائنسی تحقیق اس کے برعکس بتاتی ہے سائنس ڈائریکٹ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق اگرچہ فروٹ فلائیز مچھروں کی طرح کاٹتی نہیں، لیکن یہ جراثیم پھیلانے کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔

    یہ مکھیاں گندی جگہوں، نالیوں اور خراب کھانے سے خطرناک جراثیم جیسے کہ ای کولائی اور سالمونیلا اپنے ساتھ لاتی ہیں اور جب یہ ہمارے تازہ کھانے پر بیٹھتی ہیں تو یہ جراثیم وہاں منتقل کر دیتی ہیں اس لیے یہ صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ کچن میں صفائی کے لیے استعمال ہونے والے کپڑوں یا اسفنج پر اگر تھوڑا سا بھی کھانا یا مائع رہ جائے تو یہ مکھیاں وہاں کھینچی چلی آتی ہیں، اس لیے صفائی کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے۔

    ان مکھیوں سے گھر پر نجات پانے کے لیے ماہرین نے کچھ بہت آسان طریقے بتائے ہیں۔ سب سے پہلا طریقہ یہ ہے کہ آم، کیلے یا دیگر پھل جیسے ہی پک جائیں، انہیں باہر رکھنے کے بجائے فریج میں رکھ دیں کیونکہ ٹھنڈا درجہ حرارت ان مکھیوں کو دور رکھتا ہےپھلوں کو دھونے کے بعد اچھی طرح خشک کریں جوس، شربت یا میٹھی اشیاء کے گرنے کی صورت میں فوراً صفائی کریں اس کے علاوہ کچن کو صاف ستھرا رکھنا، گندے برتن جلد دھونا اور کچرے کو بروقت ٹھکانے لگانا بھی ضروری ہے۔

    اگر گھر میں فروٹ فلائیز کی تعداد بڑھ جائے تو سیب کے سرکے سے آسان جال تیار کیا جا سکتا ہے ایک چھوٹے پیالے یا بوتل میں سیب کا سرکہ ڈالیں اور اس میں برتن دھونے والے صابن کے چند قطرے ملا دیں۔

    اس پیالے کو پلاسٹک کی شیٹ سے ڈھانپ دیں اور اس میں چھوٹے چھوٹے سوراخ کر دیں ماہرین کا کہنا ہے کہ سیب کے سرکے کی میٹھی خوشبو ان مکھیوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور جیسے ہی وہ سوراخوں کے راستے اندر جاتی ہیں، صابن کے محلول میں پھنس جاتی ہیں یوں چند دنوں میں فروٹ فلائیز کی تعداد نمایاں طور پر کم ہو سکتی ہے۔

  • پاکستان میں قربانی کے جانوروں کی کھالوں سے بڑھتی سرگرمیاں

    پاکستان میں قربانی کے جانوروں کی کھالوں سے بڑھتی سرگرمیاں

    اسلام آباد: پاکستان میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی کے جانوروں کی کھالوں سے اربوں روپے کی معاشی سرگرمی متوقع ہے، جبکہ چمڑے کی صنعت ملکی برآمدات میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

    عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق رواں سال ملک بھر میں قربانی کیے جانے والے تقریباً 75 لاکھ جانوروں کی کھالوں سے 8.7 ارب روپے (31 ملین ڈالر) کی معاشی سرگرمی پیدا ہونے کا امکان ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستان میں قربانی کے جانوروں کی تعداد میں 17 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے چمڑے کی صنعت کو خام مال کی فراہمی میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔ماہرین کے مطابق گزشتہ نو برسوں کے دوران پاکستان کی چمڑے کی صنعت کا رجحان صرف خام کھالوں کی فروخت سے ہٹ کر زیادہ منافع بخش تیار شدہ مصنوعات کی تیاری کی جانب منتقل ہوا ہے، جس سے صنعت کی مجموعی قدر میں اضافہ ہوا ہے۔

    عرب نیوز کے مطابق پاکستان کی برآمدات میں چمڑے سے تیار کردہ مصنوعات اور جوتوں کا حجم بڑھ کر 694.20 ملین ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جو اس شعبے کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کی طلب کو ظاہر کرتا ہے۔صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کھالوں کی بروقت وصولی، محفوظ ذخیرہ اور جدید پراسیسنگ کے نظام کو مزید بہتر بنایا جائے تو چمڑے کی صنعت نہ صرف مقامی معیشت کو تقویت دے سکتی ہے بلکہ برآمدات میں بھی خاطر خواہ اضافہ ممکن ہے۔ عیدالاضحیٰ کے دوران حاصل ہونے والی کھالیں اس صنعت کے لیے سال بھر کے خام مال کا ایک اہم حصہ فراہم کرتی ہیں، جس سے ہزاروں افراد کے روزگار اور ملکی زرمبادلہ میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

  • تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ

    تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ

    ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کی تاخیر اور کشیدگی کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

    برطانوی برینٹ خام تیل کی قیمت مزید اضافے کے بعد 94.29 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گئی ہے، امریکی خام تیل کی فی بیرل قیمت بھی مزید بڑھ گئی ہے امریکی خام تیل کے نرخ 91.41 ڈالر فی بیرل ہو گئے ہیں، اماراتی تیل مربان کی قیمت بھی مزید اضافے کے بعد 94.43 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔

    ماہرین نے آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ کا امکان ظاہر کیا ہے، واضح رہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بڑھنے سے پاکستان میں بھی قیمتوں پر اثر پڑتا ہے تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پاکستان میں پیٹرول و ڈیزل کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، چند دن قبل حکومت نے پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کی ہے۔

    توانائی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی خام تیل پر بھاری پریمیم اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عالمی خریدار شدید اضطراب کے عالم میں مشرقِ وسطیٰ سےباہر متبادل سپلائی لائنز کو محفوظ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں،کیونکہ خلیج فارس میں شپنگ کےراستے مکمل طور پر بند ہونے کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں کشیدگی میں اس اچانک اضافے نے مالیاتی اسکرینوں پر ایک واضح تضاد پیدا کر دیا ہے۔

  • سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی،چاندی مہنگی

    سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی،چاندی مہنگی

    سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوئی ہے،پاکستان میں فی تولہ سونا 4 ہزار 400 روپے سستا ہوگیا، جبکہ چاندی کی قیمت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کی رپورٹ کے مطابق کاروباری ہفتے کے پہلے یعنی پیر کے روز ملکی صرافہ مارکیٹوں میں سونا سستا ہوا ہے، جس کے بعد عالمی اور مقامی گولڈ مارکیٹس میں سونے کی قیمتیں بلند ترین سطح سے نیچے آگئیں۔

    ملک میں فی تولہ سونا 4400 روپے کمی کے بعد 4 لاکھ 71 ہزار 762 روپے کا ہو گیا ہے۔ جب کہ 10 گرام سونا 3 ہزار 773 روپے کم ہو کر 4 لاکھ 4 ہزار 459 روپے تک پہنچ گیا ہے،جبکہ عالمی بازار میں سونا 44 ڈالر کمی کے بعد 4494 ڈالر فی اونس کا ہوگیاہے۔

    رپورٹ کے مطابق پاکستان میں آج چاندی کی فی تولہ قیمت میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، فی تولہ چاندی کی قیمت 46 روپے کے اضافے کے بعد 8 ہزار 059 روپے کی سطح پر پہنچ گئی ہے جبکہ 10 گرام چاندی کی قیمت 39 روپے بڑھ کر 6 ہزار 908 روپے ہو گئی ہے۔

  • تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ

    تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ

    عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا۔

    عالمی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ آئل 93 ڈالر 50 سینٹ فی بیرل کی سطح پر آ گیا ہے، ڈبلیو ٹی آئی تقریباً 90 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہو رہا ہے خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گئی ہے، ماہرین نے اس اضافے کی وجہ ایران اور امریکا کے درمیان متوقع ڈیل کا نہ ہونا قرار دیا ہے۔

    واضح رہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا اثر پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات پر بھی پڑتا ہے، پاکستان میں پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں کمی ہوئی ہے لیکن عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہو سکتی ہیں۔

    دوسری جانب متحدہ عرب امارات میں پیٹرول کی قیمت میں اضافہ ہو گیا ہے، سپر 98 پیٹرول کی قیمت 3.66 سے بڑھ کر 3.95 درہم فی لیٹر کر دی گئی ہے، اسپیشل 95 پیٹرول 3.55 سے بڑھ کر اب 3.83 درہم فی لیٹر کا ہو گیا ہے-

  • سونا مزید مہنگا، چاندی کی قیمت میں کمی

    ہفتے کو ملک بھر میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 1300 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد اب ایک تولہ سونا 4 لاکھ 76 ہزار 162 روپے کی سطح پر آگیا ہے۔

    بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج ہفتے کے روز سونے کی قیمت میں 13 ڈالر کا اضافہ ہونے کے نتیجے میں نئی عالمی قیمت 4 ہزار 538 ڈالر فی اونس کی سطح پر پہنچ گئی جس کےبعد مقامی صرافہ بازاروں میں بھی آج کاروباری ہفتے کے آخری دن 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت میں 1300 روپے بڑھ گئی، جس کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 76 ہزار 162 روپے فی تولہ ہو گئی،فی 10 گرام سونے کی قیمت میں 1115 روپے کا اضافہ ہونے سے نئی قیمت 4 لاکھ 8 ہزار 232 روپے ہوگئی۔

    علاوہ ازیں عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی کی قیمت 75.29 ڈالر ہوگئی جب کہ مقامی مارکیٹ میں 21 روپے کی کمی سے فی تولہ چاندی 8013 روپے اور فی 10 گرام چاندی کے نرخ 18 روپے کی کمی سے 6869 روپے کی سطح پر آ گئے۔

    صرافہ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کا بڑھنا اور روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ مقامی بازار میں سونا مہنگا ہونے کی بنیادی وجوہات ہیں، اور موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر آنے والے دنوں میں قیمتیں مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید کمی

    عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید کمی

    امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں اتار چڑھاؤ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی مسلسل کمی بیشی دیکھی جا رہی ہے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق پیچیدہ مذاکرات کے باعث عالمی تیل مارکیٹ غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے بدھ کے روز برینٹ خام تیل کی قیمت میں 1 اعشاریہ 42 ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد فی بیرل قیمت 98 اعشاریہ 16 ڈالر ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 1 اعشاریہ 66 ڈالر کم ہو کر 92 اعشاریہ 23 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔

    واضح رہے کہ منگل کو امریکی فوج کی جانب سے جنوبی ایران میں حملوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ دیکھنے میں آیا تھا جبکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان ممکنہ معاہدے کی امیدوں کو بھی دھچکا پہنچا تھا۔

    دوسری جانب خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بعض ایل این جی ٹینکرز کے حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اطلاعات کے بعد مارکیٹ میں یہ توقعات بڑھ گئی ہیں کہ اہم بحری گزرگاہ جلد دوبارہ مکمل طور پر کھول دی جائے گی، جس سے عالمی سطح پر تیل و گیس کی سپلائی میں بہتری آسکتی ہے۔

  • امریکا  ایران امن معاہدے کی پیشرفت:خا،م تیل کی قیمتوں میں کمی

    امریکا ایران امن معاہدے کی پیشرفت:خا،م تیل کی قیمتوں میں کمی

    درمیان ممکنہ امن معاہدے کی پیش رفت کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں دو ہفتوں کی کم ترین سطح پر آگئی ہیں۔

    عالمی منڈی میں پیر کے روز خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی برینٹ کروڈ کی قیمت 4 اعشاریہ 55 فیصد کمی کے بعد 98 ڈالر 83 سینٹ فی بیرل تک آگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 4 اعشاریہ 73 فیصد سستا ہو کر 92 ڈالر 3 سینٹ فی بیرل پر پہنچ گیا۔

    دونوں اہم آئل بینچ مارکس سیشن کے دوران 7 مئی کے بعد اپنی کم ترین سطح پر بھی پہنچے مارکیٹ میں یہ کمی امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے سے متعلق بڑھتی ہوئی امیدوں کے باعث سامنے آئی۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان امن معاہدے پر ’’بڑی حد تک مذاکرات مکمل‘‘ ہوچکے ہیں ممکنہ معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی۔ جنگ سے قبل دنیا بھر میں تیل اور ایل این جی کی تقریباً 20 فیصد ترسیل اسی اہم بحری راستے سے ہوتی تھی۔

    تاہم دونوں ممالک کے درمیان اب بھی کئی اہم معاملات پر اختلافات برقرار ہیں صدر ٹرمپ نے اتوار کو کہا کہ انہوں نے اپنے نمائندوں کو ہدایت کی ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے میں جلد بازی نہ کی جائے۔

    مارکیٹ تجزیہ کار ساؤل کاوونک کا کہنا ہے کہ اگرچہ امن معاہدے اور آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق اب بھی کئی خطرات اور خدشات موجود ہیں، لیکن صورتحال میں بہتری کی امید نے قلیل مدت کے لیے تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم کردیا ہے۔

  • سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ

    سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ

    گزشتہ روز سونے کے فی تولہ نرخ میں 6 ہزار 800 روپے کی کمی ہوئی ، آج پھر سونا مہنگا ہو گیا ہے۔

    بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج جمعرات کے روز فی اونس سونے کی قیمت میں 50 ڈالر کا اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں نئی عالمی قیمت 4ہزار 530 ڈالر فی اونس کی سطح پر آگئی ،جس کے بعد مقامی صرافہ بازاروں میں بھی 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت 5000 روپے کے اضافے سے 4لاکھ 75ہزار 362روپے کی سطح پر آگئی جبکہ فی 10 گرام سونے کی قیمت 4287روپے بڑھ کر 4لاکھ 7ہزار 546روپے ہوگئی۔

    علاوہ ازیں ملک میں فی تولہ چاندی کی قیمت 60 روپے کے اضافے سے 8ہزار 034 روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 51روپے کے اضافے سے 6ہزار 887روپے کی سطح پر آگئی ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز عالمی مارکیٹ میں سونا 68 ڈالر کی کمی سے 4480 ڈالر فی اونس اور مقامی سطح پر 6800 روپے کم ہونے سے 4 لاکھ 70 ہزار 362 روپے فی تولہ اور 5830 روپے کی کمی سے 4 لاکھ 3 ہزار 259 روپے فی 10 گرام کی سطح پر آگیا تھا۔

  • اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی

    اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کے روز بھی زبردست تیزی کا رجحان برقرار رہا،کاروبار کے ابتدائی منٹوں میں ہی انڈیکس 3,000 سے زائد پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ اوپر چلا گیا۔

    صبح 10:10 بجے کے قریب بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 167,892.19 کی سطح پر ٹریڈ کر رہا تھا، جو 3,060.77 پوائنٹس یعنی 1.86 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے،مارکیٹ میں آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، پاور جنریشن اور ریفائنری سیکٹرز میں نمایاں خریداری دیکھی گئی،بڑے انڈیکس شیئرز میں اٹک ریفائنری لمیٹڈ، حبکو، ماری پیٹرولیم، او جی ڈی سی، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، یونائیٹڈ بینک، فوجی فرٹیلائزر، مسلم کمرشل بینک اور میزان بینک سمیت متعدد کمپنیوں کے شیئرز مثبت زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔

    گزشتہ روز بھی مارکیٹ میں تیزی دیکھی گئی تھی، جب سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری کے باعث بڑے پیمانے پر خریداری ہوئی اور کے ایس ای 100 انڈیکس 1,934.74 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 164,831.42 پوائنٹس پر بند ہوا۔