Baaghi TV

Category: کاروبار

  • پاکستان کی بلیو اکانومی میں اہم پیش رفت، سی فوڈ کی برآمدات میں تاریخی اضافہ

    پاکستان کی بلیو اکانومی میں اہم پیش رفت، سی فوڈ کی برآمدات میں تاریخی اضافہ

    پاکستان کی بلیو اکانومی میں اہم پیش رفت، سمندری خوراک کی برآمدات میں تاریخی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے-

    پاکستان کی سی فوڈ برآمدات مالی سال 26-2025میں پہلی بار 500 ملین ڈالر کی حد عبور کرتے ہوئے 568 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں،وزارتِ بحری امور کے مطابق گزشتہ دو برسوں میں پاکستانی سی فوڈ برآمدات میں 38 فیصد نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، سی فوڈ برآمدات 24-2023 میں 406 ملین ڈالر سے بڑھ کر 26-2025 میں568 ملین ڈالرکی تاریخی سطح پر پہنچ گئیں

    وزارتِ بحری امور کے مطابق فروزن فش پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی سمندری خوراک رہی، جس سے 105 ملین ڈالر سے زائد آمدن حاصل ہوئی، فروزن اسکویڈ، کٹل فش، فش میل، جھینگے اور کیکڑے بھی پاکستان کی اہم برآمدی مصنوعات میں شامل رہے-

    وزارتِ بحری امور کے مطابق پاکستانی سی فوڈ چین، جاپان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، امریکہ اور دیگر عالمی منڈیوں تک پہنچ رہی ہےبرآمدی معیار، فوڈ سیفٹی اور نئی عالمی منڈیوں تک رسائی نے اس کامیابی میں اہم کردار ادا کیا یورپی یونین کی 2007 کی پابندی کے بعد پاکستانی سی فوڈ مصنوعات دوبارہ یورپی مارکیٹ میں اعتماد بحال کر رہی ہیں-

    ماہرین کے مطابق ویلیو ایڈڈ سی فوڈ مصنوعات پر توجہ دے کر پاکستان اس شعبے کو 3 ارب ڈالر تک بڑھا سکتا ہے، پاکستان کی بڑھتی سی فوڈ برآمدات بلیو اکانومی، روزگار اور معاشی ترقی کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہی ہیں-

  • اوگرا نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں مزید اضافہ کر دیا

    اوگرا نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں مزید اضافہ کر دیا

    اوگرا نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کردیا، پیٹرول 3 روپے 40 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 6 روپے 72 پیسے فی لیٹر مہنگا کردیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 40 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 367 روپے 75 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی۔

    اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 6 روپے 72 پیسے بڑھا کر 392 روپے 67 پیسے مقرر کردی گئی ہے۔

    اوگرا کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جبکہ نئی قیمتوں کا اطلاق 10 ستمبر تک رہے گا۔

    پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد عوام کو ایک مرتبہ پھر اضافی مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑے گا، جبکہ پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے کے اثرات ٹرانسپورٹ اور دیگر روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی پڑنے کا امکان ہے۔

  • پی ایس ایکس میں مسلسل تیسرے روز مندی،  698 پوائنٹس کی  مزید کمی

    پی ایس ایکس میں مسلسل تیسرے روز مندی، 698 پوائنٹس کی مزید کمی

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مسلسل تیسرے روز بھی 100 انڈیکس منفی رجحان کے ساتھ کاروبار کے اختتام پر بند ہوا، جبکہ مارکیٹ میں کاروباری حجم بھی 20 مئی کے بعد کم ترین سطح پر آگیا۔ سرمایہ کاروں کی توجہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث بڑھتی ہوئی خام تیل کی قیمتوں اور 14 ستمبر کو ہونے والے مانیٹری پالیسی اجلاس پر مرکوز رہی۔

    کاروباری دن کے اختتام پر پی ایس ایکس کا 100 انڈیکس 698 پوائنٹس کی کمی کے بعد ایک لاکھ 71 ہزار 943 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔ گزشتہ تین کاروباری دنوں کے دوران انڈیکس مجموعی طور پر 3 ہزار 385 پوائنٹس کم ہوچکا ہے، جس کے باعث مارکیٹ میں مسلسل منفی رجحان برقرار ہے۔

    مارکیٹ ذرائع کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی سطح تک پہنچنے سے سرمایہ کاروں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے نے پاکستان کی معیشت اور مہنگائی کے حوالے سے بھی خدشات کو بڑھایا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا اثر مسلسل عوام تک منتقل ہونے کے باعث مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ہے، جس کی وجہ سے سرمایہ کار 14 ستمبر کو ہونے والے مانیٹری پالیسی اجلاس کے فیصلے پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ غیر یقینی صورتحال کے باعث مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی سرگرمیاں محدود رہیں اور کاروباری حجم تقریباً چار ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا۔

    حصص بازار میں کاروباری دن کے دوران مجموعی طور پر 47 کروڑ شیئرز کے سودے ہوئے، جن کی مالیت تقریباً 22 ارب روپے رہی۔ کاروبار کے اختتام پر اسٹاک مارکیٹ کی مجموعی مارکیٹ کیپٹلائزیشن 62 ارب روپے کم ہوکر 19 ہزار 233 ارب روپے رہ گئی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ تین کاروباری دنوں کے دوران پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں مجموعی طور پر 395 ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے مارکیٹ میں جاری دباؤ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

  • پیٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل مزید مہنگا کر دیا گیا

    پیٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل مزید مہنگا کر دیا گیا

    اوگرا نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کردیا ہے، جس کے بعد ملک بھر میں پیٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل مزید مہنگا ہوگیا۔ نئی قیمتوں کا اطلاق 9 ستمبر سے ہوگا۔

    اوگرا کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 58 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 364 روپے 35 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔

    اسی طرح ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 4 روپے 18 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 385 روپے 95 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔

    پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد نئی قیمتوں کا اطلاق 9 ستمبر سے ہوگا، جس کے نتیجے میں شہریوں کے لیے سفری اور روزمرہ اخراجات میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا براہِ راست اثر ٹرانسپورٹ کے کرایوں، مال برداری اور مختلف اشیا کی نقل و حمل کے اخراجات پر بھی پڑتا ہے۔

    اوگرا کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کے تحت پیٹرول 364 روپے 35 پیسے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل 385 روپے 95 پیسے فی لیٹر میں دستیاب ہوگا۔

  • قومی بچت سکیموں میں سرمایہ کاری کرنے والوں کیلئے بری خبر،  شرح منافع میں کمی

    قومی بچت سکیموں میں سرمایہ کاری کرنے والوں کیلئے بری خبر، شرح منافع میں کمی

    قومی بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے لیے اہم خبر سامنے آگئی، بیشتر سیونگ اسکیموں کی شرحِ منافع میں کمی کردی گئی ہے، جس سے فکسڈ انکم پر انحصار کرنے والے سرمایہ کاروں کی آمدن متاثر ہونے کا امکان ہے۔

    تفصیلات کے مطابق قومی بچت نے مختلف سیونگ اسکیموں پر منافع کی شرحوں میں رد و بدل کردیا ہے۔ زیادہ تر اسکیموں کی شرحِ منافع میں کمی کی گئی ہے، تاہم ایک سالہ شارٹ ٹرم سیونگ سرٹیفکیٹ کی شرح میں معمولی اضافہ کیا گیا ہے۔

    پنشنرز بینیفٹ اکاؤنٹ اور بہبود سیونگ سرٹیفکیٹس کی شرحِ منافع میں 36 بیسس پوائنٹس کمی کے بعد اسے 12.60 فیصد کردیا گیا ہے۔ اسی طرح ریگولر انکم سرٹیفکیٹس کی شرحِ منافع بھی 36 بیسس پوائنٹس کم کرکے 11.16 فیصد مقرر کردی گئی ہے۔

    اسپیشل سیونگ اکاؤنٹ کی شرحِ منافع میں 30 بیسس پوائنٹس کمی کی گئی، جس کے بعد نئی شرح 10.90 فیصد ہوگئی ہے۔ تین ماہ کے شارٹ ٹرم سیونگ سرٹیفکیٹس کی شرح 26 بیسس پوائنٹس کمی سے 10.86 فیصد کردی گئی، جبکہ چھ ماہ کے شارٹ ٹرم سیونگ سرٹیفکیٹس کی شرحِ منافع میں 28 بیسس پوائنٹس کمی کے بعد یہ بھی 10.86 فیصد ہوگئی ہے۔

    دوسری جانب ایک سالہ شارٹ ٹرم سیونگ سرٹیفکیٹس سرمایہ کاروں کے لیے معمولی بہتری کا باعث بنے ہیں، جن کی شرحِ منافع میں 11 بیسس پوائنٹس اضافہ کیا گیا ہے۔ اضافے کے بعد ایک سالہ شارٹ ٹرم سیونگ سرٹیفکیٹس کی شرحِ منافع 11.28 فیصد ہوگئی ہے۔

    قومی بچت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق نئی شرحِ منافع کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔ شرحوں میں اس رد و بدل سے بالخصوص پنشنرز، فکسڈ انکم پر انحصار کرنے والے افراد اور قومی بچت کی مختلف اسکیموں میں سرمایہ کاری کرنے والوں کی متوقع آمدن پر براہِ راست اثر پڑے گا۔

  • عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونا سستا ،چاندی  مہنگی

    عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونا سستا ،چاندی مہنگی

    عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمت کم ہو گئی جب کہ چاندی کی قیمت بڑھ گئی-

    بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج منگل کے روز فی اونس سونے کی قیمت میں 10 ڈالر کی کمی ریکارڈ ہوئی، جس کے نتیجے میں نئی عالمی قیمت 4ہزار 396ڈالر کی سطح پر آگئی، اسی طرح مقامی صرافہ بازاروں میں بھی آج کاروباری ہفتے کے دوسرے دن فی تولہ سونے کی قیمت 1ہزار روپے کی کمی سے 4لاکھ 62ہزار 136روپے اور فی 10 گرام سونے کی قیمت 857روپے کی کمی سے 3لاکھ 96ہزار 207روپے کی سطح پر آگئی۔

    دوسری جانب ملک میں فی تولہ چاندی کی قیمت 10روپے کے اضافے سے 7ہزار 69روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 9روپے کے اضافے سے 6ہزار 060روپے کی سطح پر آگئی۔

  • پاکستانی معیشت مستحکم ہے،ہرمز کے موجودہ بحران کو برداشت کر سکتی ہے،موڈیز

    پاکستانی معیشت مستحکم ہے،ہرمز کے موجودہ بحران کو برداشت کر سکتی ہے،موڈیز

    اسلام آباد: موڈیز کا کہنا ہے کہ پاکستانی معیشت مستحکم ہے اور ہرمز بحران کے جھٹکے برداشت کر سکتی ہے۔

    بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معیشت آبنائے ہرمز سے پیدا ہونے والے موجودہ بحران کے جھٹکے کو 2022 کے تیل کے بحران کے مقابلے میں زیادہ بہتر طور پر برداشت کرنے کی پوزیشن میں ہے۔

    وزارت خزانہ کے مطابق موڈیز کی تجزیہ کار گریس لِم کے مطابق پاکستان کی معیشت میں اس بار جھٹکوں کو جذب کرنے کی صلاحیت بہتر ہوئی ہے جس کی وجہ گزشتہ 2 برس کے دوران حاصل ہونے والی زیادہ مضبوط معاشی استحکام اور لچک ہے،کم افراطِ زر، مستحکم شرحِ تبادلہ اور زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں بہتری نے پاکستان کو حالیہ علاقائی اور عالمی جھٹکوں سے نمٹنے کے لیے مضبوط حفاظتی گنجائش فراہم کی ہے،جب دنیا غیر مستحکم ہو تو معاشی استحکام سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔

  • عالمی منڈی میں تیل  کی قیمتوں میں مزید اضافہ

    عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ

    امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگیا۔

    عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 97 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی جبکہ امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی 92 ڈالر فی بیرل سے زائد میں فروخت ہورہا ہے،دوسری جانب اماراتی خام تیل مربان کی قیمت بھی 106 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی ہے۔

    واضح رہے امریکا ایران کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل کی سپلائی اور اس سے جڑے معاملات پر خدشات کے اثرات خام تیل کی قیمتوں پر نمایاں ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا، برینٹ خام تیل عالمی سطح پر تیل کی قیمت کے اہم اشاریے کے طور پر استعمال ہوتا ہے جبکہ ڈبلیو ٹی آئی امریکی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت کا اہم معیار ہے۔ اماراتی مربان خام تیل بھی عالمی تیل مارکیٹ میں اہم حیثیت رکھتا ہے۔

    دوسری جانب عالمی سطح پر خام تیل کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات پاکستان پر بھی پڑے جہاں حکومت نے گزشتہ شب پیٹرولیم مصنوعات کی قیتموں میں اضافہ کر دیا۔

    پیٹرولیم ڈویژن کے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 12 روپے 90 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 358 روپے 77 پیسے ہو گئی ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 72 پیسے کا اضافہ کر دیا گیا جس کے بعد ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 381 روپے 77 پیسے ہو گئی، پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق 8 ستمبر کے لیے ہے۔

  • پاکستان کی سی فوڈ برآمدات پہلی بار 50 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر گئیں

    پاکستان کی سی فوڈ برآمدات پہلی بار 50 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر گئیں

    پاکستان کی سمندری خوراک (سی فوڈ) کی برآمدات مالی سال 2025-26 کے دوران ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہیں اور پہلی بار 50 کروڑ ڈالر کی حد عبور کرتے ہوئے 56 کروڑ 80 لاکھ ڈالر ہوگئی ہیں۔

    سی فوڈ کا شعبہ ملک کے لیے زرمبادلہ کے حصول، روزگار کے مواقع اور سرمایہ کاری کے فروغ کا اہم ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ دو سال کے دوران پاکستان کی سی فوڈ برآمدات میں تقریباً 40 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    مالی سال 2023-24 کے دوران پاکستان کی سی فوڈ برآمدات 40 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تھیں، جو اگلے مالی سال 2024-25 میں بڑھ کر 48 کروڑ 90 لاکھ ڈالر ہوگئیں۔ اس کے بعد مالی سال 2025-26 میں برآمدات میں مزید نمایاں اضافہ ہوا اور یہ 56 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئیں۔

    ماہرین اور متعلقہ شعبے کے مطابق سی فوڈ کے معیار میں مزید بہتری، جدید پروسیسنگ، بہتر پیکیجنگ اور ویلیو ایڈیشن پر توجہ دے کر اس شعبے کی برآمدات میں مزید اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

    سی فوڈ برآمدات میں مسلسل اضافے سے نہ صرف ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل ہورہا ہے بلکہ اس شعبے سے وابستہ کاروباری سرگرمیوں، روزگار اور سرمایہ کاری کے مواقع میں بھی اضافے کی توقع کی جارہی ہے۔

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

    اسلام آباد: حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کردیا ہے، جس کے بعد ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں مزید بڑھ گئی ہیں۔

    پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 12 روپے 90 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 358 روپے 77 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 3 روپے 72 پیسے بڑھنے کے بعد 381 روپے 77 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔

    پیٹرول کی قیمت میں ہونے والا حالیہ اضافہ ڈیزل کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے، جس کے باعث شہریوں کے سفری اخراجات کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبوں کی لاگت میں بھی اضافے کا امکان ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 3 روپے 13 پیسے فی لیٹر کمی کی تھی، جس کے بعد پیٹرول 345 روپے 87 پیسے فی لیٹر ہوگیا تھا۔

    دوسری جانب گزشتہ ہفتے ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 74 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد اس کی قیمت 378 روپے 5 پیسے فی لیٹر مقرر ہوئی تھی۔

    تازہ اضافے کے بعد پیٹرول کی قیمت میں گزشتہ کمی کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ ڈیزل کی قیمت بھی گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں مزید بڑھ گئی ہے۔