Baaghi TV

Category: کاروبار

  • سونے کی قیمتوں میں اضافہ

    سونے کی قیمتوں میں اضافہ

    سونے کی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمتوں میں اضافہ ہوگیا۔

    بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج ہفتے کے روز فی اونس سونے کی قیمت 3 ڈالر کے اضافے سے 4ہزار 053ڈالر کی سطح پر آگئی ، مقامی صرافہ بازاروں میں کاروباری ہفتے کے آخری دن فی تولہ سونے کی قیمت بھی 300روپے کے اضافے سے 4لاکھ 27ہزار 736روپے اور فی 10 گرام سونے کی قیمت 257روپے بڑھ کر 3لاکھ 66ہزار 714روپے کی سطح پر آگئی،اسی طرح مقامی سطح پر فی تولہ چاندی کی قیمت 12روپے کی کمی سے 6ہزار 297روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 10روپے کی کمی سے 5ہزار 398روپے کی سطح پر آگئی ہے۔

  • سونے اور چاندی کی قیمتوں میں آج پھر کمی

    سونے اور چاندی کی قیمتوں میں آج پھر کمی

    عالمی اور مقامی صرافہ مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں آج پھر کمی ہوئی ہے-

    بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 46ڈالر کی کمی سے 4ہزار 050ڈالر کی سطح پر آگئی،کمی کے باعث مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی جمعہ کو فی تولہ سونے کی قیمت 4ہزار 600روپے کی کمی سے 4لاکھ 27ہزار 436روپے کی سطح پر آگئی اور فی دس گرام سونے کی قیمت 3ہزار 944روپے کی کمی سے 3لاکھ 66ہزار 457روپے کی سطح پر آگئی۔

    دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی کی قیمت 61سینٹس کی کمی سے 58ڈالر 30سینٹس کی سطح پر آگئی جس کے بعد مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی فی تولہ چاندی کی قیمت 61روپے کی کمی سے 6ہزار 309روپے اور فی دس گرام چاندی کی قیمت 53روپے کی کمی سے 5ہزار 408روپے کی سطح پر آگئی۔

  • خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز

    خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت پہلی مرتبہ مئی کے آخر کے بعد 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعرات کو برینٹ خام تیل کے سودے 6.58 ڈالر یعنی تقریباً 7 فیصد اضافے کے بعد 100.65 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے،جو گزشتہ دو ماہ کی بلند ترین سطح ہےجبکہ عالمی مارکیٹ میں ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت بھی 91.65 ڈالر فی بیرل کی سطح تک پہنچ چکی ہے۔

    دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکرز کی تعداد کم ہو کر دو ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئی ہےخبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جمعرات کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، خام تیل لے جانے والا جہاز نیو جائنٹ، جس میں تقریباً 20 لاکھ بیرل عراقی خام تیل لدا تھا، جمعرات کو آبنائے ہرمز سے گزر کر چین کی بندرگاہ ریژاؤ پورٹ کی جانب روانہ ہوا۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں تیل کی قیمتوں کا رخ اس بات پر منحصر ہوگا کہ حوثی بحیرہ احمر کے راستے باب المندب سے کن بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دیتے ہیں اور کنہیں نشانہ بناتے ہیں۔

    حوثیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ سعودی عرب سے آنے والے تیل بردار جہازوں کی بحری ناکہ بندی کریں گے اور سعودی عرب، اسرائیل اور امریکا سے وابستہ آئل ٹینکروں کو باب المندب میں نشانہ بنائیں گے،یہ آبی گزرگاہ بحیرہ احمر کو بحرِ ہند سے ملاتی ہے اور عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہےجمعرات کو حوثیوں نے 2 سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کا دعویٰ کیا، جبکہ سعودی خبر رساں ایجنسی نے تصدیق کی کہ ان میں سے ایک جہاز میں آگ لگ گئی۔

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں6 ہفتوں سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں6 ہفتوں سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد قیمتیں 6 ہفتوں سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔

    برینٹ خام تیل کے سودے 1.93 ڈالر، یعنی تقریباً 2 فیصد اضافے کے بعد 96 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جو 8 جون کے بعد بلند ترین سطح ہے،گزشتہ روز بھی برینٹ خام تیل کی قیمت 3 ڈالر سے زائد اضافے کے ساتھ 94.07 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی تھی،امریکی خام تیل یعنی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت بھی 1.44 ڈالر، یعنی 1.7 فیصد اضافے کے بعد 88.27 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی،اس سے قبل بدھ کے روز اس کی قیمت میں تقریباً 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

    ماہرین کے مطابق بحیرۂ احمر میں حوثیوں کی بحری ناکہ بندی اور آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے عائد پابندیاں عالمی توانائی کی رسد کو متاثر کر سکتی ہیں، جس کے باعث عالمی تیل منڈی میں بے یقینی اور قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

    دوسری جانب امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکا میں خام تیل کے ذخائر میں 20 لاکھ بیرل اضافہ ہوا یہ اضافہ ریفائنریوں کی سرگرمیوں میں کمی، خام تیل کی برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافے کے باعث سامنے آیا، جبکہ ماہرین نے اس کے برعکس 11 لاکھ بیرل کمی کی توقع ظاہر کی تھی۔

  • سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ

    سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ

    سونے اور چاندی کی عالمی و مقامی مارکیٹوں میں قیمتوں میں آج بھی اضافہ ریکارڈ ہوا۔

    بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج بدھ کے روز بھی فی اونس سونے کی قیمت میں 46ڈالر کے اضافے کے بعد نئی عالمی قیمت 4ہزار 114ڈالر کی سطح پر آگئی،جس کے بعد مقامی صرافہ بازاروں میں بھی آج کاروباری ہفتے کے تیسرے دن 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت میں 4ہزار 600روپے کا اضافہ ہونے کے نتیجے میں نئی قیمت 4لاکھ 33ہزار 836روپے کی سطح پر آگئی،جبکہ فی 10 گرام سونے کی قیمت 3ہزار 944روپے بڑھ کر 3لاکھ 71ہزار 944روپے کی سطح پر آگئی ہے۔

    دوسری جانب ملک میں فی تولہ چاندی کی قیمت 7روپے کے اضافے سے 6ہزار 403روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 6روپے کے اضافے سے 5ہزار 489روپے کی سطح پر آگئی ہے۔

  • ریاستی بینک کا  آئندہ ہفتے شرح سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا امکان

    ریاستی بینک کا آئندہ ہفتے شرح سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا امکان

    ماہرین نے پیشگوئی کی ہے کہ اسٹیٹ بینک آئندہ ہفتے ہونے والے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں اپنی بنیادی شرح سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھ سکتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات نے ملک میں مہنگا ئی میں بہتری اور شرح سود میں کمی کے حق میں بڑھتے ہوئے دلائل کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے،ا سٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس 27 جولائی کو متوقع ہے، ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ مرکزی بینک شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں کرے گا۔

    ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی جانب سے کیے گئے ایک سروے کے مطابق 97 فیصد شرکاء کا خیال ہے کہ 27 جولائی کے اجلاس میں پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھا جائے گا، جبکہ صرف 3 فیصد نے 100 بیسس پوائنٹس کمی کی توقع ظاہر کی ہےسخت مانیٹری پالیسی، محتاط مالیاتی نظم و ضبط، بہتر ہوتی ہوئی کریڈ ٹ ریٹنگ اور ساختی اصلاحات میں پیش رفت کی بدولت پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صورتحال مستحکم ہے، جو معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔

    اے کے ڈی کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافے، آبنائے ہرمز کی دوبارہ بندش اور حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کو ہدف بناتے ہوئے بحری ناکہ بندی کی دھمکیوں نے عالمی منڈی میں بے یقینی بڑھا دی ہےاس کے علاوہ رواں ماہ کے آخری ہفتے میں متوقع سیلاب بھی مہنگائی کے نئے خدشات پیدا کر سکتے ہیں ان عوامل کے پیش نظر ادارے نے پیش گوئی کی ہے کہ اسٹیٹ بینک آئندہ اجلاس میں شرح سود برقرار رکھے گا۔

    ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے بھی اسی نوعیت کی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 18 جون 2026 کو امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد کشیدگی میں کمی اور عالمی تیل کی قیمتوں میں نرمی سے مارکیٹ میں آئندہ 2 سے 3 مانیٹری پالیسی اجلاسوں کے دوران مجموعی طور پر 100 سے 150 بیسس پوائنٹس تک شرح سود میں کمی کی توقعات پیدا ہو گئی تھیں تاہم گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ان تو قعات کو کمزور کر دیا ہے، جس کے باعث اب امکان یہی ہے کہ 27 جولائی کے اجلاس میں پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھا جائے گا۔

  • حکومت سے مذاکرات ناکام، پیٹرول پمپ ایسوسی ایشن کا  پیٹرول پمپ بند کرنے کا اعلان

    حکومت سے مذاکرات ناکام، پیٹرول پمپ ایسوسی ایشن کا پیٹرول پمپ بند کرنے کا اعلان

    وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کے بعد پیٹرول پمپ مالکان نے کل رات 12 بجے سے ملک گیر ہڑتال اور پیٹرول پمپس بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    منگل کو حکومت اور آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن کے درمیان پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر رد و بدل کے معاملے پر ہونے والے مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ہمایوں خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے اور حکومت کے ساتھ معاملات طے نہ ہو سکے روزانہ کی بنیاد پر پیٹرو لیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کسی صورت قابل قبول نہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ پیٹرول پمپ مالکان کا مؤقف ہے کہ قیمتوں کا تعین ماہانہ بنیادوں پر ہونا چاہیے جب کہ ڈیلرز کے کمیشن کے معاملے کو بھی حل کیا جائے کیوں کہ موجودہ نظام میں ڈیلرز شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، ایک جانب اوگرا اور آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (او ایم سیز) ہیں اور دوسری جانب حکومت جب کہ روزانہ قیمتوں میں تبدیلی کی پالیسی ”آدھا تیتر، آدھا بٹیر“ والی صورت حال پیدا کر رہی ہے، جو عملی طور پر قابل عمل نہیں۔

    ہمایوں خان نے کہا کہ حکومت پیٹرولیم شعبے سے متعلق پالیسیاں مرتب کرتے وقت پیٹرول پمپ مالکان سے مشاورت نہیں کرتی حالاں کہ وہ اس نظام کا اہم حصہ ہیں، ہم کل رات 12 بجے سے ملک گیر ہڑتال کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔

    دوسری جانب پیٹرول پمپ ایسوسی ایشن کے رہنما نعمان علی بٹ نے بھی مذاکرات کی ناکامی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزیر پیٹرولیم کے ساتھ ہونے والے مذاکرات بے نتیجہ رہے،روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں میں رد و بدل کا فیصلہ ڈیلرز کے لیے قابل قبول نہیں، اسی لیے حکومت اور پیٹرولیم ڈیلرز کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے، مذاکرات کی ناکامی کے بعد کل رات 12 بجے سے ملک گیر ہڑتال کی جائے گی اور ملک بھر کے پیٹرول پمپ بند رکھے جائیں گے۔

    واضح رہے کہ حکومت نے فیصلہ کیا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کے نئے پرائسنگ میکنزم کے تحت اوگرا اب پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمتیں روزانہ جاری کرے گا،نئے میکنزم کے تحت اوگرا نئی قیمتوں کا تعین گزشتہ 7 روز کی اوسط عالمی قیمتوں کی بنیاد پر کیا جائے گا جبکہ ہفتہ اور اتوار کو پہلے سے جاری قیمتیں برقرار رہیں گی۔

  • سونے کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

    سونے کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

    ملک بھر میں آج سونے کی مقامی اور بین الاقوامی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق اضافے کے بعد فی تولہ سونے کی قیمت 4 لاکھ 29 ہزار 236 روپے تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت 4 ہزار 29 روپے اضافے کے بعد 3 لاکھ 68 ہزار روپے ہوگئی ہےدوسری جانب بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 47 ڈالر بڑھنے کے بعد 4 ہزار 68 ڈالر تک جا پہنچی ہے۔

    علاوہ ازیں ملک میں فی تولہ چاندی کی قیمت 219روپے کے اضافے سے 6ہزار 396روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 188روپے کے اضا فے سے 5ہزار 483روپے کی سطح پر آگئی۔

    ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات مقامی مارکیٹ پر بھی مرتب ہوئے ہیں، جس کے باعث پاکستان میں سونے کے نرخوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور مقامی معاشی عوامل سونے کی قیمتوں پر اثرانداز ہوتے ہیں، جس کے باعث آئندہ دنوں میں بھی قیمتوں میں ردوبدل کا امکان موجود ہے۔

  • جانباز موورز پاکستان کے چیئرمین جان محمد رمضان کا پیاف گروپ کی حمایت کا اعلان

    جانباز موورز پاکستان کے چیئرمین جان محمد رمضان کا پیاف گروپ کی حمایت کا اعلان

    جانباز موورز پاکستان کے چیئرمین جان محمد رمضان نے پیاف گروپ کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔

    جانباز موورز پاکستان کے چیئرمین جان محمد رمضان کا کہنا ہے کہ پیاف گروپ کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہیں،پیاف رہنماؤں کی قیادت میں تاجر برادری کے مسائل کے حل، صنعت و تجارت کے فروغ اور کاروباری ماحول کی بہتری کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔پیاف کے پیٹرن اِن چیف انجینئر سہیل لاشاری، سابق صدر لاہور چیمبر میان شفقت علی، چیئرمین پیاف سید محمود غزنوی، سینئر وائس چیئرمین کاشف اکرامی خواجہ اور وائس چیئرمین راجہ وسیم حسن و دیگر رہنماؤں اس عزم کا اظہار کیا کہ پیاف گروپ متحد ہو کر تاجر برادری کے حقوق کے تحفظ اور کاروباری طبقے کی آواز کو مزید مضبوط بنائے گا۔

    جان محمد رمضان کا کہنا تھا کہ موجودہ معاشی حالات میں صنعتکاروں اور تاجروں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مضبوط، متفقہ اور فعال قیادت ناگزیر ہے، پیاف تاجر برادری کے مفادات کے تحفظ، حکومتی اداروں سے مؤثر رابطوں اور کاروباری برادری کے لیے سازگار پالیسیوں کے فروغ میں اپنا کردار مزید مؤثر انداز میں ادا کرے گا۔پیاف قیادت نے اس موقع پر اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ تنظیم کے پلیٹ فارم سے تاجر برادری کو متحد رکھا جائے گا اور باہمی مشاورت کے ذریعے صنعت و تجارت کی ترقی کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جائے گی۔

  • پبلک ٹرانسپورٹ اور مال بردار گاڑیوں کے کرایوں میں اضافہ

    پبلک ٹرانسپورٹ اور مال بردار گاڑیوں کے کرایوں میں اضافہ

    حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ملک بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ اور مال بردار گاڑیوں کے کرایوں میں اضافہ کر دیا گیا-

    سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 44 پیسے اضافے کے بعد نئی قیمت 316 روپے 15 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 31 روپے مہنگا ہونے کے بعد 354 روپے 35 پیسے فی لیٹر کا ہو گیا ہے نئی قیمتوں کا اطلاق آئندہ تین روز تک ہوگا، جبکہ مستقبل میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

    قیمتوں میں اضافے کے فوری بعد پاکستان منی مزدا گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے ملک بھر میں منی مزدا گاڑیوں کے کرایوں میں 10 فیصد اضافے کا اعلان کر دیا، جس کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے ،ایسوسی ایشن کے صدر حاجی شیر علی چوہدری کا کہنا ہے کہ ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھ گئے ہیں، جس کے باعث کرایوں میں اضافہ ناگزیر ہو گیا۔

    وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین اب اوگرا سات روزہ اوسط قیمت کی بنیاد پر کرے گا، یہ فیصلہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث کیا گیا ہے اور معاشی استحکام کے لیے ضروری ہے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ حکومت نے عوام پر اضافی بوجھ کم رکھنے کے لیے پیٹرولیم لیوی میں کمی کی ہے، جبکہ ذخیرہ اندوزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

    ادھر شہریوں، ٹرانسپورٹرز اور پیٹرول پمپ مالکان نے نئی قیمتوں اور روزانہ کی بنیاد پر نرخ مقرر کرنے کی پالیسی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے پیٹرول پمپ ایسو سی ایشن کے چیئرمین نعمان علی بٹ نے کہا کہ اگر حکومت نے فیصلہ واپس نہ لیا تو آئندہ ہفتے احتجاج اور ہڑتال پر غور کیا جائے گا، نئی قیمتوں کے تعین سے قبل تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے۔