Baaghi TV

Category: کاروبار

  • پاکستان کو سعودی عرب سے 2 ارب ڈالر موصول، اسٹیٹ بینک کی تصدیق

    پاکستان کو سعودی عرب سے 2 ارب ڈالر موصول، اسٹیٹ بینک کی تصدیق

    پاکستان کو سعودی عرب کی جانب سے 2 ارب ڈالر موصول ہو گئے ہیں، جس کی تصدیق اسٹیٹ بینک نے کر دی ہے۔ یہ رقم پاکستان کو مالی معاونت اور زرمبادلہ ذخائر کو مستحکم کرنے کے لیے فراہم کی گئی ہے۔

    اسٹیٹ بینک کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کے لیے مجموعی طور پر 3 ارب ڈالر ڈپازٹ کرانے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، جس میں سے 2 ارب ڈالر موصول ہو چکے ہیں جبکہ باقی رقم بھی جلد ملنے کی توقع ہے۔یاد رہے کہ اس سے قبل وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا تھا کہ سعودی حکومت کی جانب سے 3 ارب ڈالر کی سپورٹ اگلے ہفتے تک پاکستان کو مل جائے گی۔انہوں نے مزید بتایا تھا کہ 5 ارب ڈالر کے ڈپازٹس کی سالانہ رول اوور مدت کو بھی بڑھایا جا رہا ہے، اور اب اسے سالانہ تجدید کے بجائے تین سال کے لیے توسیع دی جائے گی۔ اس فیصلے کے بعد ان ڈپازٹس کی میچورٹی 2028 تک پہنچ جائے گی۔ماہرین کے مطابق سعودی مالی تعاون سے پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں بہتری، روپے پر دباؤ میں کمی اور معاشی استحکام کے امکانات روشن ہوں گے۔

  • پاکستانی اسٹاک مارکیٹ میں تاریخی تیزی، ایک لاکھ 70 ہزار کی تاریخی سطح سے تجاوز

    پاکستانی اسٹاک مارکیٹ میں تاریخی تیزی، ایک لاکھ 70 ہزار کی تاریخی سطح سے تجاوز

    عالمی سفارتکاری میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار اور دوست ممالک کی جانب سے مالی تعاون کے اعلانات نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بلند سطح پر پہنچا دیا-

    سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو 3 ارب ڈالر کے اضافی ڈپازٹس کی یقین دہانی کےبعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں مسلسل دوسرے روز تیزی کا رجحان جاری ہے،مارکیٹ میں تیزی کا یہ تسلسل دوسرے روز بھی برقرار رہا –

    بدھ کے روز کاروبار کے آغاز پر ہی مارکیٹ میں زبردست تیزی دیکھی گئی، جہاں انڈیکس 5,005 پوائنٹس کے غیر معمولی اضافے کے ساتھ ایک لاکھ 70 ہزار کی تاریخی سطح سے تجاوز کر گیا،گزشتہ روز بھی انڈیکس میں 5 ہزار پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس طرح محض 2 کاروباری دنوں میں مجموعی طور پر 10 ہزار پوائنٹس سے زائد کا اضافہ ہو چکا ہے۔

    بزنس ریکارڈ کے مطابق مارکیٹ میں بھرپور خریداری کا رجحان دیکھا جارہا ہے جس میں سیمنٹ، کمرشل بینک، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں، بجلی کی پیداوار اور ریفائنری جیسے اہم شعبے شامل رہے۔ انڈیکس کے بڑے حصص بشمول اے آر ایل، پی آر ایل، او جی ڈی سی، پی او ایل، پی پی ایل، ماری، ایچ بی ایل، ایم سی بی، ایم ای بی ایل اور یو بی ایل بھی مثبت زون میں دکھائی دیے۔

    ایک اہم پیش رفت میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آگاہ کیا ہے کہ سعودی عرب نے 3 ارب ڈالر کے اضافی ڈپازٹس کی یقین دہانی کرائی ہے جن کی منتقلی آئندہ ہفتے متوقع ہے، پہلے سے موجود 5 ارب ڈالر کے سعودی ڈپازٹس اب سالانہ رول اوور (توسیع) کے سابقہ انتظامات کے پابند نہیں رہیں گے بلکہ اس کے بجائے ان کی مدت میں طویل عرصے کے لیے توسیع کر دی جائے گی۔

  • سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ

    سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ

    عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمت میں اضافہ ہو گیا-

    بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج منگل کے روز فی اونس سونے کی قیمت میں 46 ڈالر کا اضافہ ریکارڈ ہوا، جس کے نتیجے میں نئی عالمی قیمت 4 ہزار 776 ڈالر فی اونس کی سطح پر آ گئی ،جس کے ساتھ ہی مقامی صرافہ بازاروں میں بھی کاروباری ہفتے کے دوسرے دن 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت میں 4600روپے کا اضافہ ریکارڈ ہونے سے نئی قیمت 499962 روپے فی تولہ ہو گئی، 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 3943 روپے کا اضافہ ہوگیا اور نئی قیمت 429636 روپے کی سطح پر آ گئی۔

    دوسری جانب ملک میں چاندی بھی مہنگی ہو گئی۔ فی تولہ قیمت میں 326 روپے کے اضافے سے چاندی کی نئی قیمت 8260 روپے اور 279 روپے کے اضافے سے 10 گرام چاندی کی قیمت 7081 روپے کی سطح پر آگئی۔

  • ایف بی آر کے گوداموں سے سگریٹ چوری،تحقیقات کرنے والوں کو ہراساں کا انکشاف

    ایف بی آر کے گوداموں سے سگریٹ چوری،تحقیقات کرنے والوں کو ہراساں کا انکشاف

    ایف بی آر کے گوداموں سے سگریٹ کے ہزاروں کارٹن کی چوری، جانچ کرنے والی کمیٹی کے چیئرمین کو ایف بی آر کی جانب سے ہراساں کئے جانے کا انکشاف سامنے آگیا۔

    سیف اللہ ابڑو نے بتایا کہ کمیٹی کے بعد گھر جاتا ہوں تو ایف بی آر کا نیا نوٹس مل جاتا ہے مگر ڈرنے والا نہیں۔کمیٹی رکن عمر فاروق نے کہا کہ اسمگلنگ میں کسٹمز عملہ ملوث ہے، پیٹرول، ڈیزل اور شراب سمیت دیگر اشیاء اسمگل ہوکر آرہی ہیں۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ٹیکس سے مستشنیٰ علاقوں میں قائم فیکٹریوں کی تفصیلات دی جائیں، فاٹا اور پاٹا کرپشن کا گڑھ بن چکے، ٹیکس چوری کیا جارہا ہے۔کمیٹی نے ہدایت کی کہ بلوچستان کے جس بارڈر سے اسمگلنگ ہورہی ہے اسے روکا جائے۔ کسٹمز حکام نے بتایا کہ گوادر، پنجگور، چاغی سمیت مختلف اضلاع سے ایرانی تیل آتا ہے، 30 لاکھ لیٹر ایرانی تیل روزانہ اسمگل ہوکر آتا ہے، ایک سال میں کسٹمز نے ڈھائی ارب کی پیٹرولیم مصنوعات پکڑیں۔

    دوسری جانب رواں مالی سال 610 ارب روپے شارٹ فال کے باوجود ٹیکس مقدمات سست روی کا شکار ہیں، ایف بی آر کے ٹیکس مقدمات 5 ہزار 457 ارب روپے سے تجاوز کرگئے۔وزیراعظم شہباز شریف نے عدالتوں اور اپیلٹ ٹریبونلز میں زیر التواء ٹیکس کیسز پر تشویش کا اظہار کردیا۔ انہوں نے ٹیکس کیسز کی جلد سماعت کیلئے لائحہ عمل پر رپورٹ مانگ لی۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ 2 سال میں التواء کے شکار ٹیکس کیسز کی شرح میں مزید 30 فیصد اضافہ ہوگیا، سپریم کورٹ میں 3 ہزار 277 ٹیکس کیسز میں 169 ارب روپے سے زائد پھنسے ہوئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ٹیکس کیسز کا حجم 3760 ارب روپے سے بڑھ کر 5457 ارب روپے سے تجاوز کرچکا ہے، اپیلٹ ٹریبونلز میں التواء کے شکار ٹیکس کیسز بڑھ کر 3330 ارب روپے تک پہنچ گئے۔

  • وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف پروگرام کی نئی قسط کی منظوری جلد ہونے کی نوید سنادی

    وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف پروگرام کی نئی قسط کی منظوری جلد ہونے کی نوید سنادی

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آئی ایم ایف پروگرام کی نئی قسط کی منظوری جلد ہونے کی نوید سنادی۔

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے اجلاس کے موقع پر اہم ملاقاتیں کیں۔وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف پروگرام کی نئی قسط جلد منظور ہونے کی نوید سنادی۔ کہا کہ فی الحال آئی ایم ایف کے پروگرام میں اضافے یا تبدیلی کی ضرورت نہیں، معاشی صورتحال کمزور ہوئی تو پھر آئی ایم ایف سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔محمد اورنگزیب نے پاکستان کی عالمی بانڈ مارکیٹ میں واپسی کا عندیہ بھی دے دیا۔

    وزیر خزانہ کی آئی ایم ایف ڈائریکٹر اور پاکستان کیلئے آئی ایم ایف مشن ٹیم سے ملاقات کی، وہ امریکی محکمہ خزانہ کے ڈپٹی انڈر سیکریٹری سے بھی ملے، سعودی فنڈ برائے ترقی کے سی ای او، ماسٹر کارڈ کے چیف گلوبل افیئرز سے بھی ملاقاتیں ہوئیں، انہوں نے گوگل کے نائب صدر اور ملٹی لیٹرل انویسٹمنٹ گارنٹی ایجنسی کے ایم ڈی سے بھی تبادلہ خیال کیا۔

  • عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونےاور چاندی کی قیمتوں میں کمی

    عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونےاور چاندی کی قیمتوں میں کمی

    عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمت کم ہو گئی-

    بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج کاروباری ہفتے کے پہلے دن فی اونس سونے کی قیمت میں 16ڈالر کی کمی ریکارڈ ہونے سے نئی عالمی قیمت 4ہزار 730ڈالر فی اونس کی سطح پر آگئی مقامی صرافہ بازاروں آج پیر کے روز 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت بھی 1600روپے کم ہونے کے نتیجے میں 4لاکھ 95ہزار 362روپے فی تولہ کی سطح پر آگئی ہےاسی طرح ملک میں فی 10 گرام سونے کی قیمت 1371روپے گھٹ کر 4لاکھ 24ہزار 693روپے ہو گئی۔

    مقامی سطح پر فی تولہ چاندی کی قیمت بھی 130 روپے کی کمی سے 7ہزار 934 روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت 111روپے کی کمی سے 6ہزار 802روپے کی سطح پر آگئی۔

  • سونے کی قیمت میں کمی

    سونے کی قیمت میں کمی

    فی تولہ سونا 700 روپے اور 10 گرام سونا 600 روپے سستا ہوگیا۔

    آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوس ایشن کے مطابق فی تولہ سونے کی قیمت میں 700 روپے کی کمی کے بعد یہ 4 لاکھ 96 ہزار 962 روپے کی سطح پر آ گئی ہے اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت 600 روپے کم ہو کر 4 لاکھ 26 ہزار 64 روپے ہو گئی جبکہ عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی، جہاں فی اونس سونا 7 ڈالر سستا ہو کر 4746 ڈالر پر آ گیا ہے۔

    دوسری جانب ملک میں چاندی کی قیمت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے فی تولہ چاندی 50 روپے مہنگی ہو کر 8064 روپے کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔

  • بائننس کا یو اے ای میں عملے کو عارضی منتقلی کا اختیار

    بائننس کا یو اے ای میں عملے کو عارضی منتقلی کا اختیار

    عالمی کرپٹو ایکسچینج کمپنی بائننس نے اپنے متحدہ عرب امارات میں تعینات ملازمین کو علاقائی کشیدگی کے پیش نظر عارضی طور پر دیگر ایشیائی شہروں میں منتقل ہونے کا اختیار دے دیا ہے۔

    کمپنی کے مطابق ملازمین کو ہانگ کانگ، ٹوکیو، کوالالمپور اور بینکاک جیسے شہروں میں وقتی طور پر کام جاری رکھنے کی پیشکش کی گئی ہے تاکہ غیر یقینی صورتحال کے دوران انہیں زیادہ لچک اور تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ایک ترجمان نے کوئن ڈیسک کو بتایا کہ یہ اقدام “ملازمین کی حفاظت اور سہولت” کے تحت کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق بائننس ایک ریموٹ فرسٹ کمپنی ہے، اس لیے اس طرح کی عارضی منتقلی سے کاروباری سرگرمیوں پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ترجمان نے مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات میں کمپنی کی تمام سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں اور وہاں موجود بڑی تعداد میں ملازمین نے ملک میں ہی رہنے کو ترجیح دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بائننس متحدہ عرب امارات کو اپنے اہم علاقائی مراکز میں سے ایک سمجھتی ہے اور وہاں طویل مدتی وابستگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔

    یہ پیشکش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں حالیہ کشیدگی کے بعد جنگ بندی کا معاہدہ ہوا ہے۔ تقریباً چھ ہفتوں کی کشیدہ صورتحال کے دوران متحدہ عرب امارات میں کاروباری سرگرمیوں پر بھی اثرات مرتب ہوئے، جبکہ ملک کے دفاعی نظام نے سینکڑوں میزائل اور ڈرونز کو روکنے کا دعویٰ کیا ہے۔اسی دوران خطے میں متعدد بڑے کاروباری اور ٹیکنالوجی ایونٹس بھی متاثر ہوئے ہیں۔ دبئی میں ہونے والی TOKEN2049 Dubai کو 2027 تک ملتوی کر دیا گیا ہے، جبکہ TON Gateway کو سیکیورٹی اور سفری خدشات کے باعث منسوخ کیا گیا۔

    دسمبر میں ابو ظہبی گلوبل مارکیٹ (ADGM) نے کہا تھا کہ بائننس کا عالمی پلیٹ فارم اس کے ریگولیٹری فریم ورک کے تحت کام کرے گا، جو کمپنی کے ڈھانچے کو باضابطہ بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔کمپنی کے مطابق تقریباً 1000 ملازمین، یعنی اس کی عالمی افرادی قوت کا 20 فیصد، متحدہ عرب امارات میں موجود ہے، جبکہ عالمی آپریشنز کا ایک بڑا حصہ ابو ظہبی سے بھی سپورٹ کیا جا رہا ہے۔

  • اتصالات سے واجبات کی فوری وصولی کا مطالبہ، رقم بڑھ کر 6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی

    اتصالات سے واجبات کی فوری وصولی کا مطالبہ، رقم بڑھ کر 6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی

    اسلام آباد: ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ کی اتصالات کو فروخت کے بعد واجب الادا رقم کی فوری وصولی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں، جو 2005 میں 80 کروڑ ڈالر تھی اور 20 سال تک عدم ادائیگی کے باعث بڑھ کر تقریباً 6 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔

    بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب متحدہ عرب امارات نے پاکستان سے اپنے 3.5 ارب ڈالر قرض کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے، جسے 2019 سے مسلسل رول اوور کیا جا رہا تھا۔مشیرِ نجکاری کے نام لکھے گئے ایک خط میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس نے 2011 میں چیف جسٹس آف پاکستان سے رجوع کر کے اس جانب توجہ دلائی تھی کہ متحدہ عرب امارات کی کمپنی میسرز اتصالات 800 ملین ڈالر کی نادہندہ ہے جو اس وقت بڑھ کر 1.6 ارب ڈالر ہوچکے تھے۔ اب مزید 15 سال گزرنے کے بعد یہ رقم 6 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے جسے خزانے کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کے مالکان سے وصول کرنے کی ضرورت ہے، اس نے پی ٹی اے اور سپریم کورٹ آف پاکستان کو 2 فیصد جرمانے کے مد میں ہونے والے نقصان کے بارے میں خط لکھا ہے جس کا تخمینہ سات سال (2005 سے) کے دوران 1.5 ارب امریکی ڈالر لگایا گیا ہے، اس کے ساتھ میسرز اتصالات کی جانب سے پی ٹی سی ایل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کے 800 ملین امریکی ڈالر سے زائد کی عدم ادائیگی کا معاملہ بھی اٹھایا گیا ہے، پی ٹی اے کی جانب سے مبینہ طور پر میسرز اتصالات کو دی گئی غیر ضروری رعایت پی ٹی اے کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہے جس کی وجہ سے خزانے کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے، جب کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات پی ٹی سی ایل سے متعلق دیرینہ مسائل کو حل کرنے کی جانب بڑھ رہے ہیں تو یہ ضروری ہے کہ حکومتِ پاکستان واجب الادا ادائیگیوں (ڈیفالٹڈ پیمنٹس) کا معاملہ اٹھائے

  • پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے اثرات،مہنگائی 19 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے اثرات،مہنگائی 19 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    اسلام آباد: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے اثرات ملک بھر میں نمایاں ہونا شروع ہوگئے ہیں، جس کے باعث ہفتہ وار مہنگائی میں تقریباً 2 فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ مجموعی مہنگائی کی شرح بڑھ کر 12.15 فیصد کی سطح پر پہنچ گئی ہے، جو گزشتہ 19 ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔

    ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ تازہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 28 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے عام شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق سبزیوں اور خوراک کی بنیادی اشیاء میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، ٹماٹر کی قیمت میں 9.35 فیصد، آلو میں 4.13 فیصد، پیاز میں 3.84 فیصد جبکہ انڈوں کی قیمت میں 3.77 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ بیف، مٹن اور بریڈ سمیت دیگر ضروری اشیاء بھی مہنگی ہوگئیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ مہنگائی کی بڑی وجہ بنا ہے۔ ایک ہفتے کے دوران ڈیزل کی قیمت میں 54.71 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ پیٹرول 18 فیصد مہنگا ہوا۔ اسی طرح ایل پی جی کی قیمت میں بھی 8.61 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

    ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ٹرانسپورٹ اور پیداواری لاگت میں اضافہ ہوتا ہے، جس کے اثرات براہ راست اشیائے خوردونوش اور دیگر ضروریات زندگی کی قیمتوں پر پڑتے ہیں۔عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ شہریوں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔