Baaghi TV

Category: کاروبار

  • پیٹرول کی قیمت میں بڑی کمی

    پیٹرول کی قیمت میں بڑی کمی

    حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کردی-

    پیٹرولیم ڈویژن سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق حکومت نے آئل اینڈ گیس ریگیولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی تجاویز کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کردیا ہے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق یکم جنوری 2026 سے اگلے 15 روز کے لیے ہوگا۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 10 روپے 28 پیسے کمی کردی گئی ہے، جس کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر نئی قیمت 253 روپے 17 پیسے مقرر کردی گئی جبکہ پرانی قیمت 263 روپے 45 پیسے تھی،اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 8 رو پے 57 پیسے کمی کردی گئی ہے اور فی لیٹر نئی قیمت 257 روپے 8 پیسے ہوگئی ہے جبکہ اس سے قبل فی لیٹر قیمت 265 روپے 65 پیسے تھی۔

  • سونے کی قیمت میں مزید کمی

    سونے کی قیمت میں مزید کمی

    سونا تیسرے دن بھی مزید سستا ہو گیا ہے۔

    تین دن میں سونے کے فی تولہ نرخ میں 18700 روپے کی کمی ہو گئی ہے گزشتہ روز سونا 10700 روپے سستا ہوا تھاآج سونے کے فی تولہ نرخ میں 2500 روپے کی کمی ہوئی ہے جس کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 56 ہزار 962 روپے ہو گئی ہے۔

    دس گرام سونا 2143 روپے سستا ہونے سے نئی قیمت 3 لاکھ 91 ہزار 771 روپے کی سطح پر آ گئی ہے جبکہ عالمی مارکیٹ میں سونے کے نرخ میں 25 ڈالر کی کمی ہوئی ہے جس کے بعد فی اونس سونا 4346 ڈالر کا ہو گیا ہے۔

    دوسری جانب چاندی کے فی تولہ نرخ بھی 212 روپے کم ہوئے ہیں جس کے بعد چاندی کی نئی قیمت 7718 روپے ہو گئی ہے۔

  • ایکسپورٹرز کی جانچ پڑتال کے معاملے پر پاکستان ریٹیل بزنس کونسل کا وزیراعظم کو خط

    ایکسپورٹرز کی جانچ پڑتال کے معاملے پر پاکستان ریٹیل بزنس کونسل کا وزیراعظم کو خط

    ایکسپورٹرز کی جانچ پڑتال کے معاملے پر پاکستان ریٹیل بزنس کونسل نے وزیراعظم کو خط لکھ دیا۔ کاپی وزیر خزانہ، چیئرمین ایف بی آر اور دیگر اعلیٰ حکام کو ارسال کردی گئی۔

    برآمدکنندگان کی جانچ پڑتال پر پاکستان ریٹیل بزنس کونسل نے شدید تحفظات کا اظہار کردیا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آر کی نئی ہدایات سے برآمدی شعبے میں بے چینی بڑھ رہی ہے، ٹیکس نظام میں تبدیلی کے بعد ایکسپورٹرز کی اضافی اسکروٹنی کاروباری اعتماد کیلئے خطرہ ہے۔ریٹیل بزنس کونسل نے مزید کہا کہ مہنگی بجلی، بلند شرح سود کے بعد سخت نگرانی برآمدات کیلئے نقصاندہ ہے، موجودہ اقدامات سے برآمدی سرگرمیاں تجارتی طور پر ناقابل عمل ہو رہی ہیں، برآمد کنندگان کو ہراساں کرنے کے بجائے سہولت فراہم کی جائے۔خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پالیسیوں کے باعث برآمد کنندگان کاروبار بند کرنے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔ ریٹیل بزنس کونسل نے وزیراعظم سے فوری مداخلت اور واضح پالیسی گائیڈ لائنز کا مطالبہ کردیا۔

  • حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے خصوصی توجہ دے رہی ہے،وزیرخزانہ

    حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے خصوصی توجہ دے رہی ہے،وزیرخزانہ

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کی نوجوان آبادی ملک کی سب سے بڑی معاشی قوت بن سکتی ہے، بشرطیکہ اسے درست سمت، جدید ہنر اور مواقع فراہم کیے جائیں۔حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے ہنرمندی کی تربیت، تعلیم اور روزگار کے مواقع پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔

    اسلام آباد میں ایک اہم تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کی مجموعی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، جو اگر معیشت میں مؤثر طور پر شامل ہو جائے تو ملک تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا حکومت کی معاشی حکمتِ عملی کا بنیادی ستون ہے.ہمارا اصل مسئلہ پالیسی سازی نہیں بلکہ نتائج کے حوالے سے نظم و ضبط اور عملدرآمد کی کمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان 24 کروڑ آبادی پر مشتمل ایک بڑی قوم ہے، جس کی سالانہ آبادی میں شرح نمو 2.5 فیصد ہے۔ ایسی صورتحال میں غربت کے خاتمے اور معاشی استحکام کے لیے پائیدار اور دیرپا معاشی بہتری کی جانب بڑھنا ناگزیر ہے۔

    وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت ایک اہم معاشی موڑ پر کھڑا ہے، جہاں درست فیصلے اور مؤثر اقدامات مستقبل کی سمت کا تعین کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ معیشت کو محض وقتی سہارا دینے کے بجائے مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جائے تاکہ ترقی کے ثمرات عام آدمی تک پہنچ سکیں۔ وزیر خزانہ نے سوشل امپیکٹ فنانسنگ فریم ورک پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس فریم ورک کا مقصد پاکستان میں سماجی شعبے میں سرمایہ کاری کو منظم اور مؤثر بنانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ فریم ورک محض ایک پالیسی بیان نہیں بلکہ ایک مکمل مالیاتی ڈھانچہ ہے، جس کے ذریعے نتائج پر مبنی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے گا۔

    محمد اورنگزیب نے بتایا کہ پی ایس آئی بی میں خاص طور پر نوجوان خواتین کو مرکزِ توجہ بنایا گیا ہے، تاکہ انہیں معاشی طور پر خودمختار بنایا جا سکے۔ انہوں نے نیوٹیک (NAVTTC) اور ابتدائی اسٹیئر کوڈیل ٹیم کو اس تاریخی اجراء پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام سماجی اور معاشی ترقی کی سمت ایک اہم قدم ہے، آئندہ مراحل میں حکومت مزید نتائج پر مبنی فنڈنگ کی جانب بڑھے گی اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کو فروغ دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ نجی شعبے کے تعاون سے نہ صرف وسائل میں اضافہ ہوگا بلکہ کارکردگی اور شفافیت بھی بہتر ہو گی۔ حکومت نوجوانوں کو قومی ترقی کا حقیقی شراکت دار بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی، تاکہ پاکستان کو ایک مضبوط، مستحکم اور خوشحال معیشت کی طرف لے جایا جا سکے۔

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کا امکان

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کا امکان

    عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کے بعد نئے سال کے موقع پر پاکستان میں بھی قیمتوں میں کمی کا امکان ہے۔

    پاکستان میں نئے سال کے آغاز پر پیٹرولیم مصنوعات کی عالمی قیمتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے قیمتوں میں بڑی کمی کا امکان ہے لیکن اس کا حتمی فیصلہ حکومت کرے گی،پیٹرول کی فی بیرل قیمت 75 ڈالر 5 سینٹ سے کم ہوکر 69 ڈالر 73 سینٹ کی سطح پر آ گئی ہے، عالمی منڈی میں پیٹرول کی فی بیرل قیمت میں 5 ڈالر 32 سینٹ کی کمی ہوئی ہے۔

    انڈر 19 اور شاہینز ٹیم پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے،محسن نقوی

    پیٹرول کی فی لیٹر ایکس ریفائنری قیمت 145روپے 66 پیسے ریکارڈ کی گئی، ایکس ریفائنری قیمت میں 11روپے فی لیٹر کمی دیکھنے میں آئی ہے، 15دسمبر کو پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت 156روپے66 پیسے تھی۔

    عالمی مارکیٹ میں ڈیزل کی قیمت میں 4 ڈالر 35 سینٹ کی کمی ہوئی، جس کے بعد فی بیرل قیمت 84 ڈالر27 سینٹ سے کم ہوکر 79 ڈالر 92 سینٹ کی سطح پر آ گئی ہےڈیزل کی ایکس ریفائنری نرخ میں 9 روپے 57 پیسے کی کمی ہوئی ہے، ڈیزل کی ایکس ریفائنری قیمت 164روپے 92 پیسے سے کم ہوکر 155روپے 35 پیسے کی سطح پر آ گئی ہے۔

    یکم جنوری سے اسلام آباد میں بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کے داخلے پر پابندی ،محسن نقوی

  • سونے کی قیمت  تاریخ کی بلند ترین سطح پر آگئی

    سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر آگئی

    کراچی: سونے کی قیمت بڑھ کر تاریخ کی بلند ترین سطح پر آگئی۔

    ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت بھی 2300روپے کے اضافے سے 4لاکھ 75ہزار 662روپے کی نئی بلند سطح پر آگئی اس کے علاوہ فی دس گرام سونے کی قیمت 1972روپے بڑھ کر 4لاکھ 07ہزار 803روپے کی بلند سطح پر آگئی،جبکہ بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت مزید 23ڈالر کے اضافے سے 4ہزار 533ڈالر کی سطح کی نئی بلند سطح پر آگئی۔

    دوسری جانب فی تولہ چاندی کی قیمت بھی 462روپے کے اضافے سے 8ہزار 407روپے کی بلند سطح پر آگئی-

    شہید بے نظیربھٹو نےبدترین آمریت کا سامنا کیا،شیری رحمان

    ہم چاہتے تو بھارت کے سارے جہاز گرا سکتے تھے، صدر مملکت

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کا نام سنتے نریندر مودی چھپ جاتا ہے،بلاول بھٹو

  • سونے کی قیمت میں  بڑا اضافہ ریکارڈ

    سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ ریکارڈ

    سونے کی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمت میں اچانک بڑا اضافہ ریکارڈ ہوا-

    آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق آج سونے کی فی تولہ قیمت میں 8500 روپے کا بڑا اضافہ ہونے سے قیمت 4 لاکھ 70 ہزار 862 روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی،اس طرح 10 گرام سونا ملکی تاریخ میں پہلی بار 4 لاکھ سے تجاوز کر گیا10 گرام سونے کی قیمت میں 7288 روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 3 ہزار 688 روپے ہو گئی ہے،جبکہ عالمی مارکیٹ میں سونا 85 ڈالر کے اضافے کے بعد 4485 ڈالر فی اونس کی سطح پر آگیا۔

    پی آئی اے کے اچھے دن پھر شروع ہوں گے،عارف حبیب

    دوسری جانب فی تولہ چاندی کی قیمت بغیر کسی تبدیلی کے 7205 روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت بھی بغیر کسی تبدیلی کے 6177 روپے کی بلند ترین سطح پر مستحکم رہی ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سونے کے نرخ میں 6200 روپے کا اضافہ ہوا تھا، 2 دن میں سونے کے فی تولہ نرخ میں 14700 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

    فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کی منظوری مل گئی

  • عالمی اداروں کا پاکستانی معیشت میں بہتری کا اعتراف

    عالمی اداروں کا پاکستانی معیشت میں بہتری کا اعتراف

    اسلام آباد: پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں جبکہ بین الاقوامی ریٹنگ اور تحقیقی اداروں نے بھی پاکستانی معیشت میں نمایاں بہتری کی تصدیق کر دی ہے۔

    عالمی سطح پر معتبر سمجھی جانے والی ریٹنگ ایجنسیوں گیلپ اور ڈی اینڈ بی نے اپنی تازہ رپورٹس میں پاکستان کی معاشی سمت کو مثبت قرار دیتے ہوئے صارفین کے اعتماد میں واضح اضافے کا اعتراف کیا ہے۔بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں کے مطابق پاکستان میں صارفین کے اعتماد میں 19 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو معیشت میں استحکام اور اصلاحاتی اقدامات پر عوام اور کاروباری طبقے کے بڑھتے ہوئے اعتماد کا مظہر ہے۔ ماہرین کے مطابق صارفین کے اعتماد میں یہ اضافہ معاشی سرگرمیوں میں بہتری اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول کی نشاندہی کرتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق مارچ 2022 کے بعد پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 21.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، جو گزشتہ چند برسوں کے مقابلے میں ایک نمایاں پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ میں کمی، کرنٹ اکاؤنٹ کی بہتری اور مالی نظم و ضبط کا نتیجہ ہے۔ذرائع کے مطابق اس مثبت تبدیلی میں ایس آئی ایف سی کی مؤثر سہولت کاری، معاونت اور مربوط کاوشوں نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ایس آئی ایف سی کی جانب سے سرمایہ کاری کے فروغ، پالیسی ہم آہنگی اور تیز رفتار فیصلوں کے باعث مالی عدم تحفظ میں نمایاں کمی آئی ہے، جس سے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔معاشی اصلاحات کے نتیجے میں معیشت پر سرمایہ کاروں کا اعتماد پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہوا ہے۔ صنعتی شعبے، خدمات اور برآمدات میں بہتری کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں جبکہ مالی نظم و ضبط اور اصلاحاتی اقدامات کے باعث معیشت بتدریج استحکام کی جانب گامزن ہے۔

    معروف ماہرِ معیشت خاقان نجیب کے مطابق پاکستان نے 28 سے 30 ماہ کے عرصے میں میکرواکنامک استحکام کا اہم سفر طے کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بیرونی اکاؤنٹ میں غیر ضروری دباؤ کو کم کرتے ہوئے درآمدات کے بے قابو اضافے کو روکا اور کرنٹ اکاؤنٹ میں سرپلس حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی، جو معیشت کے لیے ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔ماہرِ معیشت اشفاق تولہ کا کہنا ہے کہ صارفین کے اعتماد میں اضافہ حکومت اور ایس آئی ایف سی کے ٹھوس اور بروقت اقدامات کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق پالیسی تسلسل، مالیاتی نظم و ضبط اور اصلاحات نے عوام اور کاروباری طبقے کو یہ یقین دلایا ہے کہ معیشت درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔

  • سونے کی قیمت میں آ ج بھی اضافہ

    سونے کی قیمت میں آ ج بھی اضافہ

    ملک میں سونے کی قیمت میں ایک بار پھر بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے-

    آل پاکستان جیمز اینڈ جیولر ایسوسی ایشن کے مطابق مقامی صرافہ مارکیٹ کے مطابق سونے کی فی تولہ قیمت میں 6 ہزار 200 روپے کا اضافہ ہوا ہےاضافے کے بعد 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت بڑھ کر 4 لاکھ 62 ہزار 362 روپے ہوگئی،اس کے علاوہ 10گرام سونے کی قیمت5ہزار315روپے اضافے کے بعد 3لاکھ96ہزار400روپے ہوگئی،دوسری جانب عالمی بازار میں سونے کا بھاؤ 62 ڈالر اضافے سے 4400 ڈالر فی اونس ہوگیا،مارکیٹ ماہرین کے مطابق عالمی اور مقامی معاشی صورتحال کے باعث سونے کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔

    پاکستانی بیرون ملک ہجرت کرنے پر مجبور کیوں؟تحریر: تابندہ طارق عکس

    سندھ کے لیے 1018 ارب روپے کی جامع ترقیاتی حکمتِ عملی کی منظوری

    بویا سیکورٹی فورسز ہیڈ کوارٹر پر حملہ،ایک حملہ آور کی افغان شہری ہونے کی تصدیق

  • پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر مارچ 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر

    پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر مارچ 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر

    ملکی معیشت میں ایک اور سنگ میل،پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر مارچ 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئے

    تاریخی بلندی پر موجود ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پائیدار ترقی اور ملکی قیادت پر سرمایہ کاروں کے بھر پور اعتماد کا مظہر ہیں، تازہ اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2022کے بعد پاکستان کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 21.1 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں،اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر 15.9 ارب ڈالر ریکارڈ کیے گئے ہیں، ملک کی درآمدی صلاحیت 2.6 ماہ سے تجاوز کر گئی ہے جو فروری 2023 میں صرف 2 ہفتوں سے بھی کم رہ گئی تھی

    معاشی ماہرین کے مطابق؛ ذخائر میں اضافہ قرضوں کی بجائے مقامی ترقی و اعتماد کی وجہ سے ہے، اعداد و شمار کے مطابق بیرونی قرضہ بمقابلہ جی ڈی پی تناسب 31 فیصد سے کم ہو کر 26 فیصد تک آ گیا ہے،بیرونی قرضوں کے حصول میں بتدریج کمی مالی نظم و ضبط اور اصلاحاتی اقدامات کی عکاسی کرتا ہے،ملکی زرمبادلہ کے ذخائر محض وقتی انتظامات کے تحت نہیں بڑھے بلکہ یہ ایک واضح بحالی کا نتیجہ ہیں،مرکزی بینک کے 2023 میں جہاں ذخائر صرف 2.9 ارب ڈالر کی سطح پر آ گئے تھے، وہیں اب یہ بڑھ کر تقریباً 15.9 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں،2023 کے مقابلے میں ملکی زخائر میں تقریباً ساڑھے 5 گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، فارورڈ فارن ایکسچینج واجبات میں بھی تقریباً 65 فیصد کمی کی گئی ہے، جس سے مستقبل کے دباؤ میں نمایاں کمی آئی ہے، 2015 سے 2022 کے دوران پاکستان میں قرضوں میں مسلسل اضافہ جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی دیکھنے میں آئی، تاہم 2022 کے بعد صورتحال تبدیل ہوئی ہے، قرضہ بمقابلہ جی ڈی پی کے تناسب میں کمی اور ذخائر میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے

    ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت کئی اہم اشارے دیتی ہے، ان اشاریوں میں بیرونی معاشی کمزوری میں کمی، مضبوط ذخائر، کاروباری طبقے کے اعتماد میں اضافہ اور معاشی استحکام شامل ہیں،معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں حالیہ اضافہ محض عددی بہتری نہیں بلکہ ایک معیاری تبدیلی کی علامت ہے، پاکستان ملکی استحکام سے قرضوں پر مبنی وقتی بقا کی پالیسی سے نکل کر پائیدار بیرونی معاشی استحکام کی جانب بڑھ رہا ہے،