Baaghi TV

Category: کاروبار

  • سب سے بڑےبحری جہاز کی  امریکی خام تیل لے کر حب آمد

    سب سے بڑےبحری جہاز کی امریکی خام تیل لے کر حب آمد

    پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی معاہدے کے بعد پہلی مرتبہ سب سے بڑا بحری جہاز امریکی خام تیل لے کر حب پہنچ گیا۔

    ریفائنری حکام کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق امریکی خام تیل سے لدے بحری جہاز کی سنرجیکو کے آئل ٹرمینل پر آمد ہوئی ہے جس میں 10 لاکھ بیرل خام تیل موجود ہے،ریفائنری حکام کا کہناہےکہ ایک لاکھ 35 ہزار ٹن کے ساتھ پاکستان آنے والا یہ سب سے بڑا تیل کا جہاز ہے،اعلامیے میں بتایا گیا ہےکہ اگلے ماہ ایک اور امریکی خام تیل بردار جہاز پاکستان آئے گا، یہ بحری جہاز پیگاسس امریکی خام تیل کے ساتھ 14 ستمبر کو ہیوسٹن سے روانہ ہوا ہے.

  • عالمی و مقامی منڈیوں میں سونا پھر مہنگا

    عالمی و مقامی منڈیوں میں سونا پھر مہنگا

    ایک دن میں تاریخی کمی کے بعد عالمی و مقامی منڈیوں میں سونا پھر مہنگا ہوگیا۔

    آل پاکستان صرافہ جیولرزاینڈ ایسوسی ایشن کے مطابق 24 قیراط فی تولہ سونے کے دام 3500 روپے بڑھکر 4 لاکھ 19 ہزار 862 روپے ہوگئے، 10 گرام سونے کی قیمت 3 ہزار روپے کے اضافے سے 3 لاکھ 59 ہزار 963 روپے ہوگئی۔رپورٹ کے مطابق عالمی مارکیٹ میں سونے کے نرخ 35 ڈالر اضافے سے فی اونس 3975 ڈالر ہوگئے۔صراف ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ چاندی کی قیمت 110 روپے بڑھ کر ایک بار پھر 5 ہزار روپے سے تجاوز کر گئی، نرخ 5034 روپے ہوگئے۔خیال رہے کہ گزشتہ روز مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں 14 ہزار روپے اور عالمی مارکیٹ میں 140 روپے کم ہوئی تھی۔

  • روپیہ مستحکم، ڈالر 6 ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا

    روپیہ مستحکم، ڈالر 6 ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا

    پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں ڈالر 6 ماہ کی کم ترین سطح پر آ گیا ہے۔

    منگل کے روز انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں روپے کی قدر میں مزید بہتری ریکارڈ کی گئی۔ انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 281 روپے سے کم ہو کر 280 روپے 97 پیسے پر بند ہوا، جبکہ ایک موقع پر ڈالر کی قدر 280 روپے 75 پیسے تک گر گئی تھی۔اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر 5 پیسے کی کمی کے ساتھ 282 روپے کی سطح پر بند ہوا۔ ماہرین کے مطابق زرمبادلہ کی منڈی میں روپے کی مضبوطی کی بنیادی وجہ درآمدی طلب میں کمی اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہونا ہے۔

    دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث مقامی مارکیٹ میں بھی سونے کے نرخوں میں رد و بدل جاری ہے۔ رپورٹس کے مطابق عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کے بعد پاکستان میں بھی سونا سستا ہوا

    سندھ کی خواتین کے لیے اسکوٹی پروگرام اور پنک ای وی ٹیکسی سروس کا فیصلہ

    پی ٹی آئی کا میئر کراچی کے حمایت یافتہ ارکان سے لاتعلقی کا اعلان

  • بینک مکرمہ لمیٹڈ کا 9 ماہ میں ایک ارب 75 کروڑ روپے منافع

    بینک مکرمہ لمیٹڈ کا 9 ماہ میں ایک ارب 75 کروڑ روپے منافع

    کراچی: بینک مکرمہ لمیٹڈ (BML) نے رواں سال کے پہلے 9 ماہ (اختتام 30 ستمبر 2025) کے دوران ٹیکس سے قبل 1.75 ارب روپے منافع کما کر اپنی شاندار مالیاتی بحالی کا تسلسل برقرار رکھا ہے، جب کہ گزشتہ سال اسی مدت میں بینک کو 5.05 ارب روپے کا نقصان ہوا تھا۔ یہ ایک غیر معمولی بہتری ہے جو 6.80 ارب روپے کے ٹرن اراونڈ کو ظاہر کرتی ہے۔

    یہ کامیابی بینک کی مالیاتی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ جون 2025 میں ختم ہونے والے چھ ماہ کے دوران بینک نے 1.44 ارب روپے کا منافع ظاہر کیا تھا — جو تقریباً ایک دہائی بعد بینک کا پہلا مثبت مالی نتیجہ تھا۔رواں 9 ماہ کے دوران ٹیکس کے بعد منافع 0.861 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں 3.18 ارب روپے کا خسارہ درج کیا گیا تھا۔

    بینک کی مجموعی آمدنی میں 2.18 ارب روپے کا اضافہ ہوا جبکہ نان فنڈ انکم (غیر سودی آمدنی) میں 8 فیصد اضافہ ہو کر 2.95 ارب روپے تک جا پہنچی۔ یہ بہتری سمجھدار سرمایہ کاری، ڈپازٹ مینجمنٹ میں نظم و ضبط اور سرمایہ جاتی منافع میں اضافے کی مرہونِ منت رہی۔30 ستمبر 2025 تک بینک کے ڈپازٹس 165.58 ارب روپے رہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 1.92 فیصد یا 3.11 ارب روپے کا اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔ اوسط بنیاد پر ڈپازٹ پورٹ فولیو میں 7.28 فیصد (11.51 ارب روپے) اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو مستحکم فنڈنگ اور بیلنس شیٹ کی مضبوطی پر بینک کی توجہ کو ظاہر کرتا ہے۔بینک نے سخت مسابقتی مالیاتی مارکیٹ کے باوجود CASA مکس (کرنٹ اور سیونگ اکاؤنٹس کا تناسب) میں بہتری لاتے ہوئے 94.58 فیصد تک بڑھایا، جو گزشتہ سال 89.59 فیصد تھا۔ نتیجتاً اوسط ڈپازٹ لاگت 7.20 فیصد رہی، جو بینک کی مالی کارکردگی کا مظہر ہے۔

    بینک مکرمہ نے اخراجات پر سخت کنٹرول برقرار رکھتے ہوئے آپریٹنگ اخراجات میں اضافہ صرف 7.2 فیصد تک محدود رکھا۔کل نان مارک اپ اخراجات 6.39 ارب روپے رہے جو گزشتہ سال کے 5.96 ارب روپے سے معمولی زیادہ ہیں۔ریکوری کے میدان میں بھی بینک نے غیر معمولی کارکردگی دکھائی۔ گزشتہ تین سالوں کی مضبوط کارکردگی کو برقرار رکھتے ہوئے 2025 میں 5.99 ارب روپے کی نیٹ پروویژن ریورسل حاصل کی گئی، جو گزشتہ سال کے 0.97 ارب روپے کے مقابلے میں چھ گنا زیادہ ہے۔اسی بنیاد پر بینک کے نان پرفارمنگ لونز (NPLs) دسمبر 2024 کے 34.19 ارب روپے سے گھٹ کر ستمبر 2025 میں 28.88 ارب روپے تک آگئے — جو بینکنگ انڈسٹری میں سب سے بڑی ریکوریز میں شمار ہوتی ہے۔نتیجتاً گراس NPL ریشو 69.95 فیصد سے کم ہو کر 63.57 فیصد رہ گیا جبکہ کوریج ریشو 95.49 فیصد پر مستحکم رہی۔

    بینک مکرمہ لمیٹڈ اب پوری کیپٹل کمپلائنس کے قریب ہے۔ اس کامیابی میں اسپانسر شیئر ہولڈرز کا بھرپور کردار شامل ہے، جنہوں نے نہ صرف مالی معاونت کی بلکہ اپنی کمپنی "گلوبل ہیلی” (Global Haly) کو 26 ارب روپے مالیت کے ساتھ بینک میں ضم کرنے کی تجویز دی ہے۔مزید برآں، 5 ارب روپے ایڈوانس شیئر کیپٹل انویسٹمنٹ کو ایکوئٹی شیئرز میں تبدیل کر کے MCR کمپلائنس یقینی بنائی جا رہی ہے۔بینک نے اپنی جائیداد Cullinan Tower کو 12 ارب روپے میں فروخت کیا، جس میں سے 1 ارب روپے کی ابتدائی رقم وصول ہو چکی ہے — اس سے بینک کی ایکویٹی مزید مضبوط ہوگی۔اسی طرح ایک بڑے کاروباری گروپ سے وابستہ نان پرفارمنگ لونز کے تصفیے کے حتمی مراحل جاری ہیں، جس سے بینک کی مالی پوزیشن مزید مستحکم ہونے کی توقع ہے۔

    بینک مکرمہ لمیٹڈ انتظامیہ کے مطابق ادارہ نامیاتی ترقی (organic growth)، عملی نظم و ضبط اور اسٹریٹجک پالیسیوں پر عمل پیرا رہتے ہوئے سال 2025 کا اختتام ریکارڈ مالی نتائج کے ساتھ کرنے کی پوزیشن میں ہے۔یہ کارکردگی نہ صرف بینک کے مالی استحکام کی بحالی کو ظاہر کرتی ہے بلکہ یہ موثر حکمرانی، واضح وژن، اور اسپانسرز و بورڈ آف ڈائریکٹرز کے غیر متزلزل عزم کا عملی ثبوت بھی ہے۔بینک مکرمہ لمیٹڈ اب ایک بار پھر پاکستان کے بینکاری شعبے میں ایک مستحکم، منافع بخش اور قابلِ اعتماد ادارہ بن کر ابھر رہا ہے۔

  • پاکستان میں رواں مالی سال مہنگائی 7.2 فیصد رہنے کا امکان،ورلڈ بینک

    پاکستان میں رواں مالی سال مہنگائی 7.2 فیصد رہنے کا امکان،ورلڈ بینک

    عالمی بینک نے پاکستان ڈیولپمنٹ اپ ڈیٹ رپورٹ 2025 جاری کردی

    عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال پاکستان کی معاشی شرح نمو 3 فیصد رہنے کا امکان ہے جب کہ اگلے سال معاشی ترقی بڑھ کر 3.4 فیصد تک جانے کی پیشگوئی کی گئی ہے،رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ اس سال غربت کی شرح 21.5 فیصد رہنے کا امکان ہے جب کہ غربت میں کمی اور معیار زندگی میں بہتری کے لیے معاشی ترقی میں بہتری پر زور دیا گیا ہے،عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں رواں مالی سال مہنگائی 7.2 فیصد رہنے کا امکان ہے اور اگلے مالی سال مہنگائی کم ہوکر 6.8 فیصد تک محدود رہنےکا تخمینہ ہے،رپورٹ میں مزید بتایاگیا ہےکہ پاکستان میں ہرسال 16لاکھ نوجوان روزگارکے حصول کیلئے مارکیٹ میں آرہے ہیں،رپورٹ کے مطابق عالمی بینک نے مختلف شعبوں میں جامع اصلاحات پر بھی زور دیا اور رپورٹ میں ریونیو میں اضافہ، سرمایہ کاری اور کاروبار کے لیے سازگار ماحول کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    عالمی بینک کی رپورٹ میں ایکسچینج ریٹ، سرکاری شعبے میں اصلاحات، برآمدات بڑھانے پر بھی زور دیا گیا ہے جب کہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے برآمدات میں اضافہ ضروری قرار دیا گیا ہے،رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ پاکستان کے برآمدی شعبے کو کئی مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

  • اسٹیٹ بینک کا شرحِ سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان

    اسٹیٹ بینک کا شرحِ سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان

    کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے شرحِ سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ مسلسل چوتھا اجلاس ہے جس میں مرکزی بینک نے شرحِ سود میں کسی قسم کی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

    اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) کا اجلاس کراچی میں ہوا، جس کے بعد جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا کہ موجودہ معاشی حالات، مہنگائی کے رجحانات اور بیرونی مالی دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے شرحِ سود 11 فیصد ہی برقرار رکھی گئی ہے۔اعلامیے کے مطابق، مہنگائی کی شرح میں معمولی اضافہ سیلاب کے اثرات اور سپلائی چین میں مشکلات کے باعث ریکارڈ کیا گیا ہے، تاہم اس اضافے کی نوعیت وقتی ہے اور آئندہ مہینوں میں قیمتوں کے استحکام کی توقع ہے۔

    یاد رہے کہ اسٹیٹ بینک نے رواں سال 5 مئی کو شرحِ سود میں ایک فیصد کمی کرتے ہوئے اسے 12 فیصد سے گھٹا کر 11 فیصد کیا تھا۔ اس کے بعد سے مرکزی بینک محتاط مالی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے تاکہ معاشی نمو کو سہارا دیا جا سکے اور مہنگائی کے دباؤ کو متوازن رکھا جائے۔ماہرینِ معیشت کے مطابق، مارکیٹ میں عمومی تاثر یہی تھا کہ اسٹیٹ بینک موجودہ معاشی غیر یقینی صورتِ حال کے پیشِ نظر شرحِ سود میں کسی بڑی تبدیلی سے گریز کرے گا۔

    اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ چند ماہ میں اگر مہنگائی کی شرح میں واضح کمی دیکھنے میں آئی تو اسٹیٹ بینک اگلے اجلاس میں شرحِ سود میں کمی پر غور کر سکتا ہے۔ فی الحال مرکزی بینک کی ترجیح قیمتوں کا استحکام اور مالی نظم و ضبط برقرار رکھنا ہے۔

  • 25 اکتوبر سے غیر تصدیق شدہ ڈیجیٹل اکاؤنٹس معطل ہونے کا امکان

    25 اکتوبر سے غیر تصدیق شدہ ڈیجیٹل اکاؤنٹس معطل ہونے کا امکان

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے نئے ضوابط کے تحت وہ شہری جنہوں نے اب تک اپنے ڈیجیٹل بینک اکاؤنٹس یا موبائل والٹس کی بایومیٹرک تصدیق مکمل نہیں کی، 25 اکتوبر سے سروس معطلی کا سامنا کر سکتے ہیں۔

    یہ ضوابط جولائی میں بی پی آر ڈی سرکلر نمبر 1 آف 2025 کے ذریعے جاری کیے گئے تھے، جن کا مقصد اکاؤنٹ کھولنے اور صارفین کے اندراج کے عمل کو منظم بنانا ہے۔ ان ضوابط کا اطلاق ایس بی پی کے زیرِ انتظام تمام مالیاتی اداروں پر ہوگا، جن میں بینکس، ڈیولپمنٹ فنانس انسٹی ٹیوشنز، مائیکروفنانس بینکس، ڈیجیٹل بینکس اور الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشنز شامل ہیں۔25 جولائی کو جاری ہونے والے سرکلر کے مطابق اداروں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ صارفین کے اکاؤنٹس کے اندراج کا عمل بہتر اور مؤثر بنائیں۔ نئے قواعد کے تحت اکاؤنٹ یا والٹ ہولڈر کی بایومیٹرک تصدیق کو بنیادی تصدیقی طریقہ قرار دیا گیا ہے۔

    اس سے قبل صارفین کو بایومیٹرک مکمل کرنے کے لیے 60 دن کی مہلت دی جاتی تھی، جس کے بعد ان کے اکاؤنٹس پر ڈیبٹ بلاک لگایا جاتا تھا۔ذرائع کے مطابق، نئے ضوابط کے نفاذ کے بعد لاکھوں صارفین جنہوں نے اب تک بایومیٹرک تصدیق نہیں کرائی، اپنے اکاؤنٹس یا والٹس تک رسائی سے محروم ہو سکتے ہیں.

    خواتین ورلڈ کپ: پاکستان اور سری لنکا کا میچ بارش کی نذر

    امریکا کی تجارتی پالیسی کو کنٹرول نہیں کر سکتے، کینیڈین وزیرِ اعظم

    بھارت کا پاکستان کی سرحد کے قریب بڑی فوجی مشقوں کا اعلان

  • سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑی گراوٹ ریکارڈ

    سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑی گراوٹ ریکارڈ

    سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی، فی تولہ سونا 7538 روپے کی کمی سے 4 لاکھ 37 ہزار 362 روپے پر آگیا۔

    امریکی شرح سود میں کمی کی خبروں نے عالمی منڈی میں سونے کی قدر گرادی، انٹرنیشنل مارکیٹ میں فی اونس سونا مزید 85 ڈالر سستا ہوکر 4 ہزار 150 ڈالر ہوگیا۔صراف ایسوسی ایشن کے مطابق پاکستان میں فی تولہ سونا 7538 روپے سستا،4لاکھ 37 ہزار 362 روپے تولہ پر آگیا، دس گرام سونا بھی 6463 روپے کمی سے 3 لاکھ 74 ہزار 967 روپے کا ہوگیا۔رپورٹ کے مطابق فی تولہ چاندی کی قیمت بھی 151 روپے کم ہوکر 5110 روپے پر آگئی۔

  • پاکستان نے افغانستان، ایران اور روس کے ساتھ نیا بارٹر ٹریڈ فریم ورک متعارف کروا دیا

    پاکستان نے افغانستان، ایران اور روس کے ساتھ نیا بارٹر ٹریڈ فریم ورک متعارف کروا دیا

    پاکستان نے افغانستان، ایران اور روس کے ساتھ نیا بارٹر ٹریڈ فریم ورک نافذ کر دیا، جس کے تحت تجارت کے لیے شرائط کو مزید آسان اور کاروبار دوست بنا دیا گیا ہے۔

    وزارتِ تجارت نے بزنس ٹو بزنس بارٹر ٹریڈ میکنزم میں ترامیم کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ نئی ترامیم کے مطابق برآمد سے قبل لازمی درآمد کی شرط ختم کر دی گئی ہے، جبکہ بیک وقت درآمد و برآمد کی اجازت دے دی گئی ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق نجی اداروں کو کنسورشیم بنانے کی اجازت مل گئی ہے، بارٹر ٹریڈ کے لین دین کا دورانیہ 90 سے بڑھا کر 120 روز کر دیا گیا ہے، اور مخصوص اشیاء کی فہرست بھی ختم کر دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق نیا فریم ورک ایکسپورٹ اور امپورٹ پالیسی آرڈرز کے ساتھ ہم آہنگ کیا گیا ہے، تاکہ بارٹر ٹریڈ کو مزید عملی اور کاروبار دوست بنایا جا سکے۔

    یاد رہے کہ پاکستان نے جون 2023ء میں ان ممالک کے ساتھ بارٹر ٹریڈ میکنزم نافذ کیا تھا، تاہم اس پر عمل درآمد میں کئی انتظامی و پالیسی مسائل سامنے آئے تھے۔بزنس گروپس اور اسٹیک ہولڈرز نے محدود اشیاء کی فہرست، تصدیقی شرائط اور 90 روزہ تصفیہ پابندیوں جیسے مسائل کی نشاندہی کی تھی۔

    ان مسائل کے حل کے لیے وزارتِ تجارت نے اسٹیٹ بینک، وزارتِ خارجہ، ایف بی آر اور پاکستان سنگل ونڈو سمیت سرکاری و نجی اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد نیا فریم ورک تیارکیا.

    اسرائیل کا جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا الزام حماس نے مسترد کر دیا

    سوشل میڈیا کا استعمال بچوں کی ذہنی کارکردگی کے لیے نقصان دہ، تحقیق

    سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیاں، فتنہ الہندوستان اور ٹی ٹی پی کے انتہائی مطلوب دہشتگرد ہلاک

  • وزیر خزانہ کی دورہ امریکا کے دوران فچ ریٹنگز کے حکام سے ملاقات

    وزیر خزانہ کی دورہ امریکا کے دوران فچ ریٹنگز کے حکام سے ملاقات

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کو B- کے ساتھ مستحکم آؤٹ لک دینے پر بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی فچ کا شکریہ ادا کیا ہے۔

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے دورہ امریکا کے دوران فچ ریٹنگز کے حکام سے ملاقات کی اور پاکستان کی اقتصادی اصلاحات اور پیشرفت پر تبادلہ خیال کیا،وزیر خزانہ نے تینوں بڑی بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں کی درجہ بندی میں ہم آہنگی پر اطمینان کا اظہار کیا، انہوں نے فچ ٹیم کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ طے پانے والے اسٹاف لیول معاہدےسے آگاہ کیا،وزیر خزانہ نے حکومت کے نجکاری کے عمل کو تیز کرنے، مالی استحکام اور کارکردگی میں مزید بہتری لانے کے عزم کا اظہار کیا جب کہ انہوں نے ٹیکس نظام، توانائی، نجکاری اور سرکاری اداروں میں کی جانے والی اصلاحات پر روشنی بھی ڈالی۔

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے امریکی انتظامیہ کے ساتھ تجارتی و ٹیرف مذاکرات کے بارے میں آگاہ کیا اور امریکی انتظامیہ کے ساتھ تجارتی و ٹیرف مذاکرات کے بارے میں بھی بتایا،وزیر خزانہ نے فچ ٹیم کے سوالات کے جوابات دیے جس میں انہوں نے پاکستان کی معیشت میں استحکام اور اصلاحاتی عمل کے تسلسل کے عزم کا اعادہ کیا۔