Baaghi TV

Category: کاروبار

  • ہماری ترجیحات کیا ہیں؟ شاہ محمود قریشی نے کینیا میں تجارتی کانفرنس میں بتا دیں

    ہماری ترجیحات کیا ہیں؟ شاہ محمود قریشی نے کینیا میں تجارتی کانفرنس میں بتا دیں

    ہماری ترجیحات کیا ہیں؟ شاہ محمود قریشی نے کینیا میں تجارتی کانفرنس میں بتا دیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان اور افریقی ممالک ایک دوسرے کی ضروریات کو پورا کرنے کی بھرپور صلاحیت اور استعداد رکھتے ہیں۔ ہمیں مستقبل کی شراکت داری کے لئے مضبوط بنیاد رکھنے کی ضرورت ہے۔کینیا، افریقہ میں پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ سیاحت ہماری اولین ترجیح ہے۔ایشیاء میں گوادر کی وہی اہمیت ہے جو ممباسا کی افریقہ میں ہے ۔ممباسا گوادر ملٹی ماڈل رابطہ، ٹرانسپورٹ کی لاگت کم کرسکتا ہے۔پاکستان میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے نتیجے میں، مسائل، مواقع میں تبدیل ہورہے ہیں۔

    قومی خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق کینیا کے دارلحکومت نیروبی میں پاکستان اور افریقہ میں تجارتی ترقی کے فروغ کے حوالے پہلی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کانفرنس کے انعقاد پرکینیا کے کیبنٹ سیکریٹریز برائے خارجہ امور اور تجارت، صنعت وکوآپریٹوز کی بھر پور معاونت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ افریقہ میں تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے سلسلے میں اس آغاز کے لئے نیروبی کا انتخاب دانستہ کیاگیا۔کینیا، افریقہ میں پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ گذشتہ برس ہماری دو-طرفہ باہمی تجارت تقریباً ایک ارب ڈالر کی حد کو چھو چکی ہے۔

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افریقہ، پاکستان کے لئے اجنبی نہیں نہ ہی پاکستان افریقہ کے لئے اجنبی ہے۔ ہمارے احساسات ، خواب، امنگیں، خواہشات اور تخلیقات، ہمارے دکھ درد کی کہانیاں ایک جیسی ہیں ہمارے جذبے ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔ پاکستان نے افریقی ریاستوں کی آزادی کی تحریک کی سیاسی، سفارتی، اخلاقی اور مادی مدد کی ہے۔ ہم نے رنگ ونسل کے امتیاز اور بیرونی جارحیت کے خلاف ہمیشہ کردار ادا کیا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ساوتھ کوآپریشن کے فریم ورک کے اندر پاکستان نے افریقی ریاستوں اور شہریوں کی استعداد کار بڑھانے کے لئے معاونت فراہم کی۔ میں بڑے فخر ومسرت سے یہ بات کہہ رہا ہوں کہ 52 ریاستوں کے 700 افریقی سفارتکار پاکستان کی فارن سروس اکیڈمی کے تربیت شدگان کی تنظیم کا حصہ ہیں۔ یہ سفارتکار جن میں سے بہت سارے آج بہت اعلی مناصب پر فرائض ہائے منصبی بجالارہے ہیں، پاکستان اور افریقہ کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کررہے ہیں۔ ہماری نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے افریقہ کی شراکت داری سے کئی منصوبہ جات کامیابی سے مکمل کئے ہیں۔ صومالیہ سے لائیبیریا اور کانگو تک ہماری افریقی بھائیوں کو جب بھی امن وامان کے قیام کے لئے جس بھی طرح کی ضرورت درپیش آئی، ہم نے ہمیشہ ان کی آواز پر لبیک کہا۔ اقوام متحدہ کے جھنڈے تلے پاکستانی نیلے ہیلمٹ خطے میں استحکام کے لئے سرگرم عمل دکھائی دئیے ہیں۔ ہم نے دوست ممالک کی مسلح افواج کی استعداد کار بڑھانے میں بھی معاونت فراہم کی ہے اور ہرممکنہ حد تک سکیورٹی کوآپریشن مہیا کیا۔

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمہ سے متعلق کہا کہ پختہ عزم کے ساتھ ہم نے دہشت گردی کی لہر کا منہ موڑ دیا ہے ۔ آج آپ پاکستان کا دورہ کریں تو آپ محسوس کریں گے کہ عدم تحفظ، قصہ پارینہ بن چکا ہے۔بیس کروڑ سے زائدآبادی کے ملک پاکستان میں، نصف کی عمر 30 سے کم ہے۔ ہم دنیا کی پانچویں بڑی آبادی ہیں۔پاکستان میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے نتیجے میں، مسائل، مواقع میں تبدیل ہورہے ہیں۔ قوت خرید کے لحاظ سے پاکستان کی معیشت کا تخمینہ 1.19 ٹریلین ڈالر لگایاگیا ہے جو اسے پچیس ویں بڑی معیشت بناتا ہے۔2019ءمیں پاکستان میں کاروباری آسانیوں کے لحاظ سے، کی گئی درجہ بندی میں 28 درجے کی بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ اس درجہ بندی کی بدولت پاکستان دنیا میں اصلاحات کے لحاظ سے سرفہرست آ چکا ہے جبکہ موڈیز نے پاکستان کی آوٹ لک منفی سے مستحکم کردی ہے۔

    پاکستان نیوی کا بلوچستان کی عوام کے لئے شاندار کام، عوام کی دعائیں

    پاکستان نیوی کے صف اول کے جنگی جہاز کا دورہ سعودی عرب

    پاک بحریہ کا خشکی سے بحری جہاز کو نشانہ بنانے والے میزائل کا کامیاب تجربہ

    پاک بحریہ کے دو جہازوں کا افریقی ممالک کا دورہ

    شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ افریقہ کی طرح پاکستان معدنی ودیگر وسائل کے لحاظ سے مالامال ہے جن سے استفادہ نہیں کیاگیا۔ ہمارا جغرافیائی محل وقوع نہایت اہمیت کا حامل ہے جہاں ایشیاءکے چار خطے آپس میں ملتے ہیں۔ ان میں وسط ایشیا، جنوب ایشیا، مشرق_ وسطیٰ اور چین شامل ہیں۔ شاید یہ محل وقوع پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری جو چین کا ’روڈ اینڈ بیلٹ‘ کا فلیگ شپ منصوبہ ہے، تیزی سے روبہ عمل ہے جیو اکنامک ثمرات کے حصول میں تیزی سے ڈھل رہا ہے۔ سی پیک ہماری گہرے پانیوں کی بندرگاہ گوادر سے جڑا ہے جس کے ذریعے وسیع ایشیا تک بحری رسائی کم ترین وقت میں ممکن ہے۔ افریقہ اس میں اضافی فوائد کے ساتھ شامل ہے۔ سی پیک کے اولین مرحلے کی تکمیل کے ثمرات سے ڈھانچے کی ترقی اور توانائی میں قلت کے مسائل کو دور کیاگیا۔ اس تناظر میں سی پیک کے راستے پر ہم خصوصی اقتصادی زونز بھی بنارہے ہیں تاکہ پاکستان اورچین کی مارکیٹ تک رسائی سے فائدہ اٹھایا جاسکے۔ پاکستان کو امریکہ اور یورپ کی منڈیوں تک رسائی کی ترجیح بھی میسر ہے۔ پاکستان دنیا کے لئے کھل رہا ہے۔ ہماری نئی ویزہ پالیسی پچاس ممالک سے سیاحت کے لئے آنے والوں کو آمد پر ویزا دینے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ 175ممالک سے آن لائن ویزا کی سہولت بھی دی گئی ہے۔ سیاحت ہماری اولین ترجیح ہے۔ افریقہ میں مجموعی تجارتی پورٹ فولیو ایک ٹریلین ڈالر ہے۔ پاکستان اور افریقہ کے درمیان اس وقت تجارت پانچ ارب ڈالر ہے۔ میرے خیال میں یہ فرق دور کرنے کی ضرورت ہے۔

    وزیراعظم عمران خان نے ٹرمپ سے کشمیر بارے بڑا مطالبہ کر دیا

    وزیراعظم عمران خان سے چینی وزیر خارجہ کی ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال

    ہم اپنی سرزمین پرکسی دہشتگرد گروپ کوکام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، وزیراعظم

    نائن الیون کے بعد پاکستان نے امریکہ کی جنگ میں شامل ہو کر بہت بڑی غلطی کی، وزیراعظم عمران خان

    کشمیر سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کیا جواب دیا؟ جان کر ہوں حیران

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ ہم ایک دوسرے کی ضروریات کو پورا کرنے کی بھرپور صلاحیت اور استعداد رکھتے ہیں۔ہمیں مستقبل کی شراکت داری کے لئے مضبوط بنیاد رکھنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ایشیاءمیں گوادر کی وہی اہمیت ہے جو ممباسا کی افریقہ میں ہے۔یہ ایشیاء اور افریقہ میں تجارت اور ترقی کے مراکز ہیں۔ ممباسا گوادر ملٹی ماڈل رابطہ، ٹرانسپورٹ کی لاگت کم کرسکتا ہے اور مختلف شعبہ جات اور صنعت میں شراکت داری کے بے پناہ نئے امکانات کھول سکتا ہے۔ اس سے افریقی برآمدات کو ایشیائی مارکیٹوں تک آسان رسائی میسرآجائے گی اور ایشیائی مصنوعات، وسائل اور اشیاءکی افریقہ تک مختصر ترین راستے سے تیز ترین فراہمی کو یقینی بنانا ممکن ہو گا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ہماری معیشت ایک دوسرے کی تکمیل کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ ایسے شعبہ جات ہیں جن میں پاکستان کے تجربے اور مہارت سے آپ استفادہ کرسکتے ہیں جبکہ ایسے بہت سارے شعبے ہیں جس میں آپ کے تجربے سے ہم فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایک دوسرے کی معیشت میں ہماری سرمایہ کاری اور صنعت میں شراکت داری سے دونوں اطراف یکساں فائدہ اٹھاسکتی ہیں۔ زراعت، زراعت پر مبنی صعنت، ٹیکسٹائل، خدمات، کھیلوں کا سامان، چمڑے، لائٹ انجینئرنگ، ادویات اور آلات جراحی کا معیاری سامان ایسی مصنوعات اور شعبے ہیں جن سے دونوں فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔ یہ کانفرنس باہمی اعتماد، خیرسگالی اور ایک دوسرے کی صلاحیتوں، دستیاب مواقعوں اور زمینی حقائق سے آگاہی میں نہایت اہم ثابت ہوگی جس کے نتیجے میں مستقبل کی شراکت داری، تعاون اور مل کر آگے بڑھنے کی مضبوط بنیاد قائم ہوگی۔

  • ڈالر کی قیمت میں اضافہ

    ڈالر کی قیمت میں اضافہ

    باغی ٹی وی :کاروباری ہفتے کے چوتھے روز اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں 10 پیسے اضافہ ہوگیا۔

    ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے مطابق اوپن مارکیٹ میں ڈالر آج 154.90 روپے میں فروخت ہورہا ہے جو کہ گزشتہ روز 154.80 روپے میں دستیاب تھا۔اسی طرح انٹر بینک میں ڈالر 154.60 روپے میں فروخت ہورہا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ سال کے آغاز میں ڈالر کی قیمت مسلسل بڑھتی رہی، جنوری میں ڈالر 138 روپے93 پیسے، فروری میں 138 روپے 90 پیسے اور مارچ میں 139 روپے10 پیسے تک پہنچ گیا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ سال کے آغاز میں ڈالر کی قیمت مسلسل بڑھتی رہی، جنوری میں ڈالر 138 روپے93 پیسے، فروری میں 138 روپے 90 پیسے اور مارچ میں 139 روپے10 پیسے تک پہنچ گیا۔واضح رہے کہ گزشتہ سال کے آغاز میں ڈالر کی قیمت مسلسل بڑھتی رہی، جنوری میں ڈالر 138 روپے93 پیسے، فروری میں 138 روپے 90 پیسے اور مارچ میں 139 روپے10 پیسے تک پہنچ گیا۔

  • سٹاک مارکیٹ مسلسل مندی کا شکار

    سٹاک مارکیٹ مسلسل مندی کا شکار

    سٹاک مارکیٹ مسلسل مندی کا شکار
    باغی ٹی وی :پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں آج مسلسل چوتھے روز بھی مندی کا رجحان ہے۔ ابتدائی ایک گھنٹے کے دوران 146 پوائنٹس کی کمی ہوئی۔کاروباری ہفتے کے چوتھے روز جمعرات کو پاکستان اسٹاک مارکیٹ کا آغاز منفی زون میں ہوا۔ کے ایس ای 100 انڈیکس میں کاروبار کا آغاز 41 ہزار 898 پوائنٹس پر ہوا۔ ابتدائی ایک گھنٹے کے دوران انڈیکس منفی زون میں ہی ٹریڈ کرتا نظر آیا۔

    کے ایس ای 100 انڈیکس ابتدائی ایک گھنٹے کے دوران 146 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 41 ہزار 452 کی سطح پر ٹریڈ کر رہا تھا۔
    خیال رہے کہ اسٹاک مارکیٹ مسلسل تیز ہو رہی تھی اسی لیے پاکستان کی معاشی صورت حال عالمی جریدے کی رپورٹ نے موجودہ حکومت کی پالیسیوں کو بہت مثبت قراردیا،بین الاقوامی جریدے بلومبرگ نے تیزی کے زبردست رجحان کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو نمبرون قراردے دیا، ماہ فروری میں ملک میں غیرملکی سرمایہ آئے گا.

  • پاکستان اسٹاک مارکیٹ مثبت رجحان

    پاکستان اسٹاک مارکیٹ مثبت رجحان

    پاکستان اسٹاک مارکیٹ مثبت رجحان

    باغی ٹی وی : پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں کاروباری ہفتے کے تیسرے روز کا آغاز مثبت رجحان سے ہوا ہے۔

    بدھ کے روز اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز 42 ہزار 299 کی سطح سے ہوا اور ابتدائی ایک گھنٹے کے دوران 100 انڈیکس میں 44 پوائنٹس کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ اسٹاک مارکیٹ مسلسل تیز ہو رہی تھی اسی لیے پاکستان کی معاشی صورت حال عالمی جریدے کی رپورٹ نے موجودہ حکومت کی پالیسیوں کو بہت مثبت قراردیا،بین الاقوامی جریدے بلومبرگ نے تیزی کے زبردست رجحان کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو نمبرون قراردے دیا، ماہ فروری میں ملک میں غیرملکی سرمایہ آئے گا.

  • ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر مستحکم

    ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر مستحکم

    ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر مستحکم

    باغی ٹی وی : کاروباری ہفتے کے تیسرے روز اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی اور روپے کی قدر مستحکم رہی۔

    ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے مطابق ڈالر آج 154.80 روپے میں فروخت ہورہا ہے جو کہ گزشتہ روز بھی اسی قیمت پر دستیاب تھا.اسی طرح انٹر بینک میں ڈالر 154.63 روپے میں ٹریڈ کر رہا ہے۔ گزشتہ روز اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں 10 پیسے کمی ہوئی تھی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ سال کے آغاز میں ڈالر کی قیمت مسلسل بڑھتی رہی، جنوری میں ڈالر 138 روپے93 پیسے، فروری میں 138 روپے 90 پیسے اور مارچ میں 139 روپے10 پیسے تک پہنچ گیا۔واضح رہے کہ گزشتہ سال کے آغاز میں ڈالر کی قیمت مسلسل بڑھتی رہی، جنوری میں ڈالر 138 روپے93 پیسے، فروری میں 138 روپے 90 پیسے اور مارچ میں 139 روپے10 پیسے تک پہنچ گیا۔

  • حکومت کی مہنگائی سے بے حال عوام کو گیس بم مارنے کی تیاری

    حکومت کی مہنگائی سے بے حال عوام کو گیس بم مارنے کی تیاری

    حکومت کی مہنگائی سے بے حال عوام کو گیس بم مارنے کی تیاری

    باغی ٹی وی : اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس بدھ کو ہوگا، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ اجلاس کی صدارت کریں گے۔

    ذرائع کے مطابق مشیر خزانہ ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ کی زیر صدارت ہونے والی اقتصادی رابطہ کمیٹی اجلاس کے دوران 6 نکاتی ایجنڈے پر بھی غور کیا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ گیس کی قیمتوں میں اضافے کی سمری اقتصادی رابطہ کمیٹی کے پاس موجود ہے۔ عوام پر گیس کی قیمتوں میں اضافہ کر کے مہنگائی بم مارا جاسکتا ہے۔ گھریلو صارفین سمیت مختلف شعبوں کے لیے گیس کے نرخ بڑھنے کا امکان ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان موٹگیج ریفائنری کمپنی کے لیے ایک کروڑ ڈالر کی منظوری دیئے جانے کا بھی امکان ہے، وزارت خزانہ کے لیے 8 کروڑ روپے سپلیمنٹری گرانٹ منظور ہوسکتی ہے، ای گورننس پروگرام کے لیے 10 کروڑ روپے کی سپلیمنٹری گرانٹ ایجنڈے میں شامل ہے۔

  • پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مندی

    پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مندی

    پاکستان اسٹاک مارکیٹ 240 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 42 ہزار 299 پوائنٹس کی سطح پر آ گئی۔

    باغی ٹی وی : کاروباری ہفتے کے دوسرے روز منگل کو کے ایس ای 100 انڈیکس میں مندی کا رجحان رہا۔ 100 انڈیکس کا آغاز 42 ہزار 539 پوائنٹس پر ہوا۔ اور آغاز سے ہی کے ایس ای 100 انڈیکس منفی زون میں ٹریڈ کرنے لگا جو اختتام تک منفی زون میں ہی رہا۔

    کے ایس ای 100 انڈیکس میں کاروبار کے دوران سب سے زیادہ کمی 386 پوائنٹس کی ہوئی اور انڈیکس 42 ہزار 153 پوائنٹس کی سطح پر تک گر گیا تھا تاہم کاروبار کا اختتام 240 پوائنٹس کی کمی پر ہوا۔کاروبار کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس میں 13 کروڑ، 71 لاکھ، 55 ہزار، 60 شیئرز کی لین دین ہوئی جس کی مالیت پاکستانی روپوں میں 5 ارب، 59 کروڑ، 96 لاکھ، 73 ہزار، 932 بنتی ہے۔

  • گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے کیا آئندہ دو ماہ کے لیے مانیٹری پالیسی کا اعلان

    گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے کیا آئندہ دو ماہ کے لیے مانیٹری پالیسی کا اعلان

    گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے آئندہ دو ماہ کے لیے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا۔

    باغی ٹی وی : گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی شرح سود کو 13 اعشاریہ 25 فیصد پر برقرار رکھا گیا ہے تاہم مہنگائی کی شرح 11 سے 12 فیصد ہے۔ اس لیے پالیسی ریٹ کو مستحکم رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ مہنگائی بڑھنے کی وجہ طلب اور رسد بنی ہے تاہم کھانے پینے کی اشیا کی کمی بھی مہنگائی کی وجہ بنی ہے۔ رسد کے معاملات خراب ہونے سے بھی مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے۔

    گورنر سٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ معاشی استحکام میں مزید بہتری آرہی ہے، برآمدی شعبے کوخصوصی طورپرسپورٹ کیا جارہا ہے، برآمدی شعبے کے لیے قرضوں کی حد 200ارب روپے کی جا رہی ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ایکسپورٹرز کے لیے سستے قرض میں 200 ارب روپے اضافہ کر رہے ، طویل مدتی قرض کی سہولت میں 100 ارب روپے اضافہ ہورہا ہے، ایل ٹی ایف ایف کی سہولت اس کے لیے ہے جو ایکسپورٹ کرے

  • اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کا رحجان

    اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کا رحجان

    کاروباری ہفتے کے پہلے روز پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کے رحجان سے کاروبار کا آغاز ہوا۔

    باغی ٹی وی :آج جب مارکیٹ کھلی تو انڈیکس 42633 پر تھا اور پہلے 30 منٹ میں 30 سے زائد پوائنٹس اوپر گیا تھا لیکن اگلے ہی گھنٹے 63 پوائنٹس کی کمی بھی ریکارڈ کی گئی جس سے انڈیکس اب تک کی کم ترین سطح 42570 پر آگیا تھا۔

    خیال رہے کہ اسٹاک مارکیٹ مسلسل تیز ہو رہی تھی اسی لیے پاکستان کی معاشی صورت حال عالمی جریدے کی رپورٹ نے موجودہ حکومت کی پالیسیوں کو بہت مثبت قراردیا،بین الاقوامی جریدے بلومبرگ نے تیزی کے زبردست رجحان کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو نمبرون قراردے دیا، ماہ فروری میں ملک میں غیرملکی سرمایہ آئے گا

  • ڈالر کے مقابلے روپے کی قیمت مستحکم

    ڈالر کے مقابلے روپے کی قیمت مستحکم

    روپے کی قیمت مستحکم

    باغی ٹی وی :ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے مطابق ڈالر آج 155 روپے میں فروخت ہورہا ہے جبکہ جمعے کو بھی اوپن مارکیٹ میں ڈالر اسی قیمت میں دستیاب تھا۔اسی طرح انٹر بینک میں ڈالر 154.60 روپے میں فروخت ہوا۔ جمعے کے روز اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں 20 پیسے اضافہ ہوا تھا۔
    واضح رہے کہ گزشتہ سال کے آغاز میں ڈالر کی قیمت مسلسل بڑھتی رہی، جنوری میں ڈالر 138 روپے93 پیسے، فروری میں 138 روپے 90 پیسے اور مارچ میں 139 روپے10 پیسے تک پہنچ گیا۔
    واضح رہے کہ گزشتہ سال کے آغاز میں ڈالر کی قیمت مسلسل بڑھتی رہی، جنوری میں ڈالر 138 روپے93 پیسے، فروری میں 138 روپے 90 پیسے اور مارچ میں 139 روپے10 پیسے تک پہنچ گیا۔واضح رہے کہ گزشتہ سال کے آغاز میں ڈالر کی قیمت مسلسل بڑھتی رہی، جنوری میں ڈالر 138 روپے93 پیسے، فروری میں 138 روپے 90 پیسے اور مارچ میں 139 روپے10 پیسے تک پہنچ گیا۔