Baaghi TV

Category: کاروبار

  • آئی ایم ایف وفد کا وزارتِ خزانہ میں اجلاس، مذاکرات پانچویں روز میں داخل

    آئی ایم ایف وفد کا وزارتِ خزانہ میں اجلاس، مذاکرات پانچویں روز میں داخل

    اسلام آباد: انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کا اعلیٰ سطحی وفد آج وزارتِ خزانہ پہنچ گیا، جہاں پاکستان کے ساتھ دوسرے ششماہی اقتصادی جائزہ مذاکرات جاری ہیں۔ یہ مذاکرات اپنے پانچویں روز میں داخل ہوچکے ہیں۔

    ذرائع وزارتِ خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف کا وفد وزیر خزانہ اور اعلیٰ حکام سے ملاقات کرے گا۔ اس دوران وزیر خزانہ وفد کو پاکستان کے میکرو اکنامک اہداف، مجموعی معاشی کارکردگی اور مالیاتی حکمتِ عملی سے آگاہ کریں گے۔ اجلاس میں ٹیکس محاصل اور مالیاتی شعبے کی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان عالمی ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے ریٹنگ میں بہتری کے بارے میں آئی ایم ایف وفد کو آگاہ کرے گا۔ اسی سلسلے میں صوبائی حکومتوں کے نمائندوں اور آئی ایم ایف مشن کے درمیان ملاقات بھی شیڈول ہے۔ ان ملاقاتوں میں صوبائی حکومتوں کی معاشی کارکردگی، بجٹ سرپلس، زرعی آمدن پر ٹیکس وصولی اور دیگر مالیاتی امور پر تبادلۂ خیال ہوگا۔

    مزید برآں، صوبائی نمائندے آئی ایم ایف ٹیم کے ساتھ تکنیکی سطح کے مذاکرات میں متعلقہ مالیاتی و اقتصادی ڈیٹا بھی شیئر کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے حکام ٹیکس ریونیو کی موجودہ صورتِ حال اور اصلاحاتی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دیں گے۔نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں پہلی سہ ماہی کے دوران ٹیکس ریونیو میں ممکنہ کمی اور اس کے حل کے لیے تیار کردہ تجاویز پر بھی گفتگو ہوگی تاکہ آئی ایم ایف کو پاکستان کی پالیسی اقدامات پر اعتماد میں لیا جاسکے۔

  • ایشیائی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ

    ایشیائی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ

    ایشیائی مارکیٹ میں جمعرات کو خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔

    کاروباری سرگرمیوں کے دوران برینٹ فیوچرز 26 سینٹ (0.4 فیصد) کم ہوکر 69.05 ڈالر فی بیرل پر آگیا جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کروڈ فیوچرز 27 سینٹ (0.4 فیصد) کمی کے ساتھ 64.72 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز دونوں بینچ مارکس میں 2.5 فیصد اضافہ ہوا تھا، جو یکم اگست کے بعد سب سے بلند سطح تھی۔ یہ اضافہ امریکی خام تیل کے ذخائر میں غیر متوقع کمی اور یوکرین کی جانب سے روسی توانائی ڈھانچے پر حملوں کے خدشات کے باعث سامنے آیا تھا، جس سے سپلائی میں خلل کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔

    فلپ نووا کی سینئر مارکیٹ اینالسٹ پرینکا ساچدیوا کے مطابق رواں سال کی چوتھی سہ ماہی میں موسمی طلب میں کمی اور اوپیک پلس کی بڑھتی ہوئی سپلائی دیکھی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قیمتوں میں حالیہ اضافہ بنیادی عوامل کی وجہ سے نہیں بلکہ خدشات کی بنیاد پر ہوا، برینٹ کی قیمتیں معمولی کمی کے ساتھ مستحکم رہ سکتی ہیں۔

    ایشیا کپ 2025: بھارتی کپتان کو سیاسی بیان بازی سے روک دیا گیا

    ایف آئی اے میں تنظیمِ نو، آپریشنل ڈھانچہ 3 ریجن میں تقسیم، 2 نئے زون قائم

    اسرائیل کے صنعا پر فضائی حملے، 70 اسکوائر اور باب الیمن میں 13 مقامات نشانہ

    ٹرمپ کی نوبیل امن انعام کی خواہش پھر ادھوری، ماہرین نے امکان مسترد کر دیا

  • پاکستان میں استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کی منظوری

    پاکستان میں استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کی منظوری

    پاکستان کی اعلیٰ ترین اقتصادی فیصلہ ساز کمیٹی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) نے ایک اہم اور متنازعہ فیصلے میں استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد کی منظوری دے دی ہے، جس پر ملک کی آٹو انڈسٹری نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے "تباہ کن” قرار دیا ہے۔

    یہ فیصلہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ایک آن لائن اجلاس میں کیا گیا، جو اس وقت نیویارک میں موجود ہیں۔ ابتدائی طور پر صرف پانچ سال پرانی گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دی گئی ہے، تاہم 30 جون 2026 کے بعد اس عمر کی حد کو ختم کر دیا جائے گا۔

    یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آئی ایم ایف کا وفد پاکستان کے لیے 7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام کے دوسرے جائزے کے لیے ملک کا دورہ کرنے والا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارہ پاکستان سے تجارتی پابندیاں نرم کرنے اور استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر عائد پابندیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

    وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ای سی سی نے "کمرشل بنیادوں پر استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد” کے لیے 2022 کے امپورٹ پالیسی آرڈر میں ترمیم کی منظوری دی ہے۔یہ اجازت ماحولیاتی تحفظ اور حفاظتی معیار کی سخت پابندیوں سے مشروط ہوگی۔پانچ سال سے کم عمر گاڑیوں کی درآمد پر موجودہ کسٹمز ڈیوٹی کے علاوہ 40 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی جائے گی۔یہ ریگولیٹری ڈیوٹی جون 2026 تک برقرار رہے گی اور اس کے بعد ہر سال 10 فیصد کی کمی کی جائے گی، یہاں تک کہ مالی سال 2029-30 میں یہ صفر ہو جائے گی۔

    پاکستان کی مقامی آٹو صنعت جن میں ٹويوٹا، ہونڈا، سوزوکی، ہنڈائی، کیا موٹرز، اور چانگان شامل ہیں نے اس فیصلے کو صنعت دشمن قرار دیا ہے۔پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PAMA) کے ڈائریکٹر جنرل عبدالوحید خان نے عرب نیوز سے گفتگو میں کہا “یہ درآمدی پالیسی میں ایک بنیادی تبدیلی ہے۔ 40 فیصد اضافی ٹیرف کے باوجود، یہ فیصلہ مارکیٹ کو استعمال شدہ گاڑیوں سے بھر دے گا اور مقامی مینوفیکچرنگ کو تباہ کر دے گا۔” ملک میں ڈالر کی قلت اور انوینٹری کے مسائل کے باعث گزشتہ چند سال مقامی کار ساز اداروں کے لیے انتہائی مشکل رہے۔ 2022 میں 226,433 یونٹس کی پیداوار کے مقابلے میں 2025 میں پیداوار 51 فیصد کم ہو کر 111,402 یونٹس پر آ گئی ہے۔

    پاکستان آٹوموٹیو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PAAPAM) نے بھی اس فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے “یہ فیصلہ ایک ایسی انڈسٹری پر تباہ کن اثر ڈالے گا جو 3 لاکھ افراد کو براہ راست اور 18 لاکھ سے زائد پاکستانیوں کو بلا واسطہ روزگار فراہم کر رہی ہے،” ، ملک میں 1,200 سے زائد کمپنیاں اسٹیل، پلاسٹک، ربڑ، تانبا، ایلومینیم اور دیگر پرزے بناتی ہیں جو 13 مقامی کار اسمبلرز کو فراہم کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “یہ فیصلہ الیکٹرک گاڑیوں کی لوکل اسمبلی اور سرمایہ کاری کے عمل کو بھی نقصان پہنچائے گا۔”

    ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے تجزیہ کار شنکر تلریجا کا کہنا ہے “فی الوقت کم قیمت یا ہیچ بیک گاڑیاں زیادہ درآمد ہو رہی ہیں، لیکن اب یہ تعداد بڑھ سکتی ہے، خاص طور پر جب ریگولیٹری ڈیوٹی ہر سال کم ہوتی جائے گی۔”انہوں نے خبردار کیا کہ “پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر جو کہ گزشتہ ہفتے 14 ارب ڈالر تھے، استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد سے مزید دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔”تاہم، وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ “چونکہ حکومت نے کچھ غیر ٹیرف رکاوٹیں اور معیار قائم کیے ہیں، اس سے کچھ حد تک مقامی انڈسٹری کو ریلیف مل سکتا ہے۔”لیکن عبدالوحید خان کا کہنا ہے کہ “ایک گاڑی کی درآمد کا مطلب ہے ایک گاڑی کی مقامی سطح پر پیداوار کا نقصان۔ یہ براہ راست مقابلہ ہے۔”

    استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد کا یہ فیصلہ بظاہر آئی ایم ایف کی شرائط کو پورا کرنے کی ایک کوشش ہے، لیکن اس کے نتیجے میں مقامی کار سازی اور پارٹس انڈسٹری کو شدید نقصان کا اندیشہ ہے۔روزگار کے مواقع متاثر ہو سکتے ہیں۔زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔صارفین کو قلیل مدتی فائدہ، لیکن طویل المدتی نقصان ہو سکتا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت آنے والے دنوں میں کیا حفاظتی اقدامات کرتی ہے تاکہ ایک طرف آئی ایم ایف کی شرائط پوری ہوں اور دوسری طرف ملک کی صنعت، روزگار، اور معیشت کو بچایا جا سکے۔

  • انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کی آخری تاریخ سے قبل فارم میں تبدیلی

    انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کی آخری تاریخ سے قبل فارم میں تبدیلی

    انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ ختم ہونے سے چند روز قبل ٹیکس فارم میں تبدیلی کر دی گئی۔

    ایف بی آر کی جانب سے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 ستمبر بتائی گئی ہے تاہم ڈیڈ لائن سے چند روز قبل انکم ٹیکس فارم میں ایک کالم کا اضافہ کر دیا گیا ہے،ٹیکس ریٹرن جمع کرانے والوں کے لیے آئرس فارم میں تبدیلی کی گئی ہے اور ایف بی آر نے گوشواروں میں اثاثوں کی مارکیٹ ویلیو ظاہر کرنا لازمی قرار دے دیا ہے۔

    انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ سے چند روز قبل ٹیکس فارم میں تبدیلی سے ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والے صارفین کی پریشانی میں اضافہ ہو گیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ڈیڈ لائن سے چند روز قبل اس طرح کی اہم تبدیلی ناقابل فہم اور باعث تشویش ہے۔

  • سونے کی قیمت بلند ترین  سطح پر برقرار

    سونے کی قیمت بلند ترین سطح پر برقرار

    عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونا مہنگا نہ ہونے کے باعث قیمتیں تاریخ کی بلند سطح پر مستحکم رہیں۔

    آل پاکستان سرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن نے بتایا ہے کہ مقامی مارکیٹ میں 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت بغیر کسی تبدیلی کے 3 لاکھ 98 ہزار 800 روپے پر برقرار رہی،اسی طرح 24 قیراط کا 10 گرام سونا بھی 3 لاکھ 41 ہزار 906 روپے پر مستحکم رہا جبکہ 22 قیراط کے 10 گرام سونے کی قیمت بھی 3 لاکھ 13 ہزار 425 روپے پر برقرار رہی۔

    بین الاقوامی مارکیٹ میں سونا 3 ہزار 770 امریکی ڈالر فی اونس اور چاندی 44.10 ڈالر فی اونس میں فروخت ہوئی،چاندی کی قیمت میں بھی کوئی ردوبدل نہیں ہوا، 24 قیراط کی فی تولہ چاندی 4 ہزار 637 روپے اور 10 گرام 3 ہزار 975 روپے پر مستحکم رہی، گزشتہ روز کے مقابلے میں عالمی قیمتوں میں بھی کوئی تبدیلی ریکارڈ نہیں کی گئی۔

    واضح رہے گزشتہ کئی ماہ سے سونا مسلسل مہنگا ہو رہا ہے جس کے باعث قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچنے سے سونے کی خرید عوام کی پہنچ سے دور ہو گئی ہے۔

  • سونے کی قیمت  تاریخ کی بلند ترین سطح پر

    سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر

    سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ،گئی۔

    مقامی صرافہ مارکیٹوں میں آج دوسرے دن بھی 24قیراط کا حامل فی تولہ سونے کی قیمت 5ہزار 100روپے کے اضافے سے 3لاکھ 98ہزار 800 روپے کی نئی بلند ترین سطح پر آگئی ہے،اسی طرح فی دس گرام سونے کی قیمت 4ہزار 372روپے کے اضافے سے 3لاکھ 41ہزار 906روپے کی نئی بلند ترین سطح پر آگئی-

    جبکہ،بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت مزید 51ڈالر کے اضافے سے 3ہزار 770ڈالر کی نئی بلند ترین سطح پرپہنچ،گئی،فی تولہ چاندی کی قیمت 42روپے کے اضافے سے 4ہزار 637روپے اور دس گرام چاندی کی قیمت بھی 36روپے کے اضافے سے 3ہزار 975روپے کی سطح پر آگئی ہے۔

    ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو راہداری ضمانت مل گئی

    رپورٹ کے مطابق امریکی ٹیرف پالیسی سے عالمگیر سطح پر غیر یقینی اقتصادی صورتحال، امریکی فیڈرل ریزرو کی شرح سود میں کمی اور یو ایس ٹریژری کے سونے کے ذخائر محفوظ رکھنے کے اقدامات کے باعث عالمی سطح پر سونا محفوظ سرمایہ کاری کا اہم ذریعہ بن گیا ہے، متعدد ممالک کے سینٹرل بینکوں کی جانب سے زرمبادلہ کے بجائے سونے کے ذخائر بڑھانے کی حکمت عملی، ڈالر کمزور ہونے اور اگلے ماہ دیوالی کی وجہ سے بھارت میں سونے کی ڈیمانڈ دوگنی ہونے جیسے عوامل نے عالمی اور مقامی سطح پر سونے کی قیمت کو تاریخ کی بلندیوں پر پہنچادیا ہے۔

    پی ڈی ایم اے پنجاب کی سیلاب سے نقصانات کی تازہ ترین رپورٹ جاری

  • سونا مہنگا، قیمت بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    سونا مہنگا، قیمت بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    پاکستان میں سونے کی قیمت میں 3400 روپے کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد فی تولہ سونا تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔

    آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ پیر کو ملک میں سونے کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا، 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت 3 ہزار 400 روپے بڑھ کر 3 لاکھ 93 ہزار 700 روپے ہو گئی جو اتوار کو 3 لاکھ 90 ہزار 300 روپے تھی۔

    اسی طرح 24 قیراط کے 10 گرام سونے کی قیمت 2 ہزار 915 روپے اضافے کے بعد 3 لاکھ 37 ہزار 534 روپے تک پہنچ گئی، جو ایک روز قبل 3 لاکھ 34 ہزار 619 روپے تھی، 22 قیراط کے 10 گرام سونے کی قیمت بھی 2 ہزار 672 روپے بڑھ کر 3 لاکھ 9 ہزار 417 روپے ہو گئی جو گزشتہ روز 3 لاکھ 6 ہزار 745 روپے تھی،بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی سونا مہنگا ہوا، جہاں قیمت 34 ڈالر کے اضافے سے فی اونس 3 ہزار 719 ڈالر ہو گئی، جو ایک روز قبل 3 ہزار 685 ڈالر ریکارڈ کی گئی تھی۔

    چاندی کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا، ملک میں فی تولہ چاندی 63 روپے مہنگی ہو کر 4 ہزار 595 روپے ہو گئی جو گزشتہ روز 4 ہزار 532 روپے تھی، جبکہ 10 گرام چاندی 54 روپے بڑھ کر 3 ہزار 939 روپے ہو گئی جو پہلے 3 ہزار 885 روپے تھی،عالمی مارکیٹ میں بھی چاندی کی قیمت میں اضافہ ہوا اور فی اونس 0.63 ڈالر بڑھ کر 43.68 ڈالر ہو گئی جو ایک روز قبل 43.05 ڈالر تھی۔

  • اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس بلند ترین سطح پر

    اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس بلند ترین سطح پر

    اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس بلند ترین سطح پرپہنچ،گیا-

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پیر کے روز کاروبار کے آغاز پر زبردست تیزی دیکھنے میں آئی، جہاں کے ایس ای 100 انڈیکس 700 پوائنٹس بڑھ گیابینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 158,726.21 پوائنٹس پر تھا، جو 688.84 پوائنٹس یعنی 0.44 فیصد زیادہ رہا-

    کاروبار کے دوران آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینک، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیز، او ایم سیز، پاور جنریشن اور ریفائنری سیکٹرز میں خریداری کا رجحان غالب رہا،بڑی کمپنیوں جیسے حبکو، ماری، او جی ڈی سی، پی او ایل، ایم سی بی اور این بی پی کے شیئرز مثبت زون میں رہے۔

    گزشتہ ہفتے بھی پی ایس ایکس میں تیزی کا رجحان برقرار رہا، جب کے ایس ای 100 انڈیکس 3,597.68 پوائنٹس یعنی 2.3 فیصد بڑھ کر 158,037.37 پوائنٹس پر بند ہوا، جبکہ ایک ہفتہ قبل یہ سطح 154,439.69 پوائنٹس تھی،انڈیکس نے ہفتے کے دوران 159,337 پوائنٹس کی بلند ترین سطح بھی چھوئی، جو رواں سال کی نمایاں ریلیز میں سے ایک رہی۔ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں یہ اضافہ ملکی اور بیرونی عوامل کے امتزاج سے ہوا۔

  • ایف بی آر کا جیولرز کیخلاف اقدام،60 ہزارکا ڈیٹا جمع

    ایف بی آر کا جیولرز کیخلاف اقدام،60 ہزارکا ڈیٹا جمع

    اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے جیولرز کی جانب سے مبینہ ٹیکس چوری اور آمدن چھپانے کے خلاف بڑا قدم اٹھاتے ہوئے ملک بھر کے 60 ہزار سے زائد جیولرز کا تفصیلی ڈیٹا اکٹھا کر لیا ہے۔

    ایف بی آر ذرائع کے مطابق ان 60 ہزار میں سے صرف 21 ہزار جیولرز ایف بی آر کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں، جبکہ ان رجسٹرڈ افراد میں سے بھی صرف 10 ہزار 524 افراد نے ٹیکس ریٹرن جمع کرائی ہے۔ اس صورتحال نے حکام کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، اور اب ٹیکس چوری کی روک تھام کے لیے کریک ڈاؤن شروع کیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق جیولرز کی اکثریت اپنی اصل آمدنی کو چھپا کر کم ظاہر کر رہی ہے، جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان ہو رہا ہے۔ ایف بی آر کا کہنا ہے کہ جیولرز کی خرید و فروخت، دکانوں کی مالیت، اور طرزِ زندگی ٹیکس ریٹرنز سے مطابقت نہیں رکھتے۔

    نجی ٹی وی کے مطابق پہلے مرحلے میں ایف بی آر نے پنجاب کے 900 جیولرز کی نشاندہی کی ہے جن کا تعلق لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، اور ملتان جیسے بڑے شہروں سے ہے۔ ان تمام افراد کو ٹیکس گوشوارے نہ جمع کروانے یا آمدن چھپانے پر نوٹسز جاری کیے جا رہے ہیں۔ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ ٹیکس نیٹ میں تمام شعبوں کو لانے کا عمل جاری ہے، اور کسی بھی تاجر یا صنعتکار کو بلاوجہ ہراساں نہیں کیا جائے گا۔ تاہم، جو افراد اپنی آمدن چھپائیں گے، ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

  • سونے کی قیمت نئی بلند سطح پر پہنچ گئی

    سونے کی قیمت نئی بلند سطح پر پہنچ گئی

    ملک میں سونے کی قیمت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

    مقامی صرافہ مارکیٹ میں فی تولہ سونا 1700 روپے اضافے کے بعد 3 لاکھ 90 ہزار 300 روپے پر پہنچ گیا،آل پاکستان جمز اینڈ جیولرز سرا فا ایسوسی ایشن (APGJSA) کے مطابق دس گرام سونا 1458 روپے مہنگا ہونے کے بعد 3 لاکھ 34 ہزار 619 روپے میں فروخت ہوا،گزشتہ روز سونے کے نرخ میں 1100 روپے کی کمی ہوئی تھی لیکن آج دوبارہ اضافہ ہو گیا ہے۔

    عالمی مارکیٹ میں بھی ہفتے کے روز سونے کی قیمت میں اضافہ دیکھا گیا۔ ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونا 17 ڈالر کے اضافے کے ساتھ 3685 ڈالر پر پہنچ گیا جس پر 20 ڈالر کا پریمیم بھی شامل ہے،ادھر چاندی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور فی تولہ چاندی 114 روپے بڑھ کر 4542 روپے میں دستیاب ہوئی۔