Baaghi TV

Category: کاروبار

  • عالمی سطح پر سونے کی قیمت کا نیا ریکارڈ قائم

    عالمی سطح پر سونے کی قیمت کا نیا ریکارڈ قائم

    عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت نے نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔

    سونے کی فی اونس قیمت 5097 کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، گزشتہ روز سونے کے نرخ میں 109 ڈالر کا بڑا اضافہ ہوا دوسری جانب عالمی مالیاتی ادارے گولڈ مین سیچز نے سونے کی قیمت سے متعلق پیشگوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ فی اونس قیمت 5,400 ڈالر سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔

    پاکستان میں بھی سونے کے نرخ ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں گزشتہ روز بھی سونے کے نرخ میں 10900 کا بڑا اضافہ ہوا جس کے بعد فی تولہ قیمت 5 لاکھ 32 ہزار 62 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی،پاکستان میں چاندی کی قیمت نے بھی تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں، فی تولہ قیمت 11428 روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔

    عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں کریکشن کے باعث سونے کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی تاہم اسکے برعکس چاندی کی قیمتوں میں اضافے کا تسلسل برقرار رہامقامی صرافہ مارکیٹوں میں 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت 1ہزار 500روپے کی کمی سے 5لاکھ 30ہزار 562روپے کی سطح پر آگئی،فی دس گرام سونے کی قیمت بھی 1ہزار 286روپے کی کمی سے 4لاکھ 54ہزار 871روپے کی سطح پر آگئی۔

    اسی طرح فی عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی کی قیمت 2ڈالر 12سینٹس کے اضافے سے 111 ڈالر 65سینٹس کی بلند ترین سطح پر آنے سے مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی فی تولہ چاندی کی قیمت 212روپے کے اضافے سے 11ہزار 640روپے اور فی دس گرام چاندی کی قیمت بھی 182روپے کے اضافے سے 9 ہزار 979روپے کی بلند ترین سطح پر آ

    دوسری جانب پرائمری ویژن کے گلوبل مارکیٹ اینڈ پروڈکٹ اسٹریٹجسٹ، سید اسامہ رضوی نے اتوار کو نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ عالمی سطح پر دو اہم محفوظ اثاثے ہیں؛ ایک امریکی ڈالر اور دوسرا سونا۔

    سونے کی قیمتوں میں جاری اضافے کی وضاحت کرتے ہوئے سید اسامہ رضوی نے بتایا کہ تاریخی طور پر جب بھی جغرافیائی سیاسی تناؤ پیدا ہوتا تھا تو امریکہ براہِ راست اثرات سے محفوظ اور الگ تھلگ رہتا تھا اور ایک استحکام پیدا کرنے والے ملک کا کردار ادا کرتا تھا جس کے نتیجے میں امریکی ڈالر قدر کے ذخیرے کے طور پر اولین انتخاب رہا۔

    انہوں نے مزید کہا تھا کہ اس بار خود امریکہ ان جغرافیائی سیاسی تناؤ کے مرکز میں ہے زیادہ تفصیل میں جائے بغیر امریکہ کے معاشی اشاریے اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں اور امریکی ڈالر پر سرمایہ کاروں کا اعتماد کسی حد تک کم ہوا ہے10 سال پہلے عالمی مرکزی بینکوں کے تقریباً 66 فیصد ذخائر ڈالر میں رکھے جاتے تھے۔

    انہوں نے کہا تھا کہ آج یہ شرح کم ہوکر 56 فیصد رہ گئی ہے، یعنی 10 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے، نتیجتاً لوگ امریکی ڈالر سے دور ہورہے ہیں اور سونے کی طرف رجوع کر رہے ہیں تاکہ اسے غیر یقینی صورتحال سے بچاؤ کیلئے ایک ڈھال کے طور پر استعمال کرسکیں سونے کے ساتھ ساتھ چاندی نے بھی محفوظ پناہ گاہ کے طور پر سرمایہ کاری کو اپنی طرف متوجہ کرنا شروع کر دیا ہے جو قیمتی دھاتوں کی مارکیٹ میں ایک بڑی تبدیلی کا اشارہ ہے۔

    اسامہ کا کہنا تھا کہ چاندی ہمیشہ سے ایک اثاثے کے طور پر موجود رہی ہے، لیکن پہلے اسے اتنی اہمیت نہیں دی جاتی تھی کیونکہ عالمی لین دین میں امریکی ڈالر کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ اب ہم چاندی میں بھی محفوظ سرمایہ کاری کے رجحانات دیکھ رہے ہیں میرا خیال ہے کہ مستقبل میں بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

  • کاروبار کا مثبت آغاز،اسٹاک مارکیٹ میں تیزی

    کاروبار کا مثبت آغاز،اسٹاک مارکیٹ میں تیزی

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں منگل کو کاروبار کا آغاز مثبت زون میں ہوا جہاں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس ابتدائی اوقات میں 200 سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا۔

    صبح ایک موقع پر بینچ مارک انڈیکس 264.57 پوائنٹس یا 0.14 فیصد اضافے سے 188,852.23 پوائنٹس پر جاپہنچا بینکاری، آٹو موبائل اسمبلرز اور کھاد کے شعبوں میں خریداری کا رجحان دیکھا جارہا ہے، ایچ بی ایل، ایم سی بی، میزان بینک (ایم ای بی ایل)، نیشنل بینک (این بی پی) اور یو بی ایل بھی مثبت زون میں دکھائی دیے۔

    اسٹیٹ بینک نے مارکیٹ توقعات کے برعکس پیر کو سال 2026 کی پہلی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں شرح سود کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا پیر کو کے ایس ای 100 انڈیکس 579.17 پوائنٹس یا 0.31 فیصد کی کمی سے 188,587.66 پوائنٹس پر بند ہوا۔

    عالمی سطح پر منگل کو ایشیائی حصص بازاروں میں تیزی دیکھی گئی کیونکہ سرمایہ کار امریکی بڑی کمپنیوں کے مالی نتائج سے بہتر توقعات وابستہ کیے ہوئے ہیں تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنوبی کوریا پر نئے ٹیرف اقدامات سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال نے مجموعی بڑھوتری کو محدود رکھا جبکہ سونا اور چاندی کی قیمتوں کو سہارا ملا،سونے کی قیمت 1 فیصد بڑھ کر 5,066 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی جبکہ چاندی 6.4 فیصد بڑھ کر 110.60 ڈالر فی اونس ہو گئی۔

  • 2026 کے اختتام تک سونے کی قیمت کہاں تک جا سکتی ہے؟عالمی مالیاتی ادارے کی پیشگوئی جاری

    2026 کے اختتام تک سونے کی قیمت کہاں تک جا سکتی ہے؟عالمی مالیاتی ادارے کی پیشگوئی جاری

    عالمی مالیاتی ادارے گولڈ مین سیچز کے مطابق 2026 کے اختتام تک فی اونس سونے کی قیمت 5,400 ڈالر تک جاسکتی ہے۔

    بروکریج ہاؤس کے مطابق اس اضافے کی بڑی وجہ نجی شعبے اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری ہے، جو عالمی پالیسی خدشات کے خلاف ایک مؤثر تحفظ سمجھی جا رہی ہے،پیر کے روز اسپاٹ گولڈ کی قیمت 5097 ڈالر فی اونس کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی رواں سال 2026 کے آغاز سے اب تک سونے کی قیمت میں 13 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا جا چکا ہے، جبکہ گزشتہ سال سونے کی قیمت میں 64 فیصد کا غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا تھا۔

    گولڈمین سیچز نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ادارہ یہ فرض کر رہا ہے کہ نجی شعبے کے وہ سرمایہ کار جو عالمی پالیسی اور جغرافیائی خدشات کے پیش نظر سونے کو بطور ہیج استعمال کر رہے ہیں، وہ 2026 کے دوران اپنے سونے کے ذخائر فروخت نہیں کریں گے، اس رویے کے باعث سونے کی قیمت کے لیے ابتدائی سطح پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو گئی ہے، جس نے قیمتوں کے اندازے کو اوپر کی جانب دھکیل دیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق، ابھرتی ہوئی معیشتوں کے مرکزی بینک بھی اپنے زرمبادلہ کے ذخائر میں تنوع لانے کے لیے تیزی سے سونے کی خریداری کر رہے ہیں، تاکہ ڈالر اور دیگر کرنسیوں پر انحصار کم کیا جا سکے۔ یہی رجحان عالمی منڈی میں سونے کی طلب کو مزید تقویت دے رہا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال، جغرافیائی کشیدگیاں اور مالیاتی پالیسیوں میں اتار چڑھاؤ برقرار رہا تو سونا آئندہ بھی سرمایہ کاروں کے لیے ایک مضبوط محفوظ سرمایہ کاری بنا رہے گا، اور گولڈمین سیچز کی پیش گوئی حقیقت کا روپ دھار سکتی ہے۔

  • دکانوں پر ڈیجیٹل ادائیگی لازمی قرار

    دکانوں پر ڈیجیٹل ادائیگی لازمی قرار

    حکومت نے کیش لیس پاکستان پروگرام کے تحت کیو آر کوڈ سسٹمز کا فیصلہ کیا جس کا مقصد نقدی پر انحصار کم کرنا، مالی شفافیت کو فروغ دینا اور ڈیجیٹل معیشت کو مضبوط بنانا ہے-

    پاکستان حکومت نے ملک بھر کے ریٹیل آؤٹ لیٹس، دکانوں اور خوردہ فروشوں کے لیے ڈیجیٹل ادائیگی کا کم از کم ایک طریقہ لازمی قرار دے دیا جس میں بالخصوص کیو آر (QR) کوڈ سسٹمز شامل ہوں گےوزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہار کیانی نے پالیسی مباحثے کے دوران بتایا کہ ہر ریٹیل آؤٹ لیٹ کو کم از کم ایک ڈیجیٹل پیمنٹ آپشن فراہم کرنا ہو گا، جیسے کہ راست کیو آر کوڈ یا دیگر قابل قبول ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام۔

    انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے مؤثر نفاذ کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر قانونی فریم ورک تیار کیا جا رہا ہے تاکہ اس اقدام کو مستقل بنیادوں پر نافذ کیا جا سکے ، اس پالیسی کے نفاذ سے کیش لیس ادائیگیوں کا رجحان بڑھے گا۔ ٹیکس چوری اور غیر رجسٹرڈ کاروباروں کی نگرانی ممکن ہو سکے گی جبکہ مالی شفافیت میں اضا فہ ہو گا۔

    انہوں نے کہا کہ ریٹیلرز کو ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام اپنانا ہو گا، بصورت دیگر متعلقہ حکام کارروائی کر سکتے ہیں، یہ اقدام وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ڈیجیٹل پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دینے اور مالی شمولیت بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں اس فیصلے سے صارفین نقدی کے بغیر آسانی سے خریداری کر سکیں گےجبکہ کاروباری سرگرمیوں میں شفافیت آئے گی، اور پاکستان ڈیجیٹل معیشت کی جانب ایک اہم قدم آگے بڑھے گا۔

  • سونے اور چاندی کی قیمتیں تاریخ کی نئی بلندیوں پر پہنچ گئیں

    سونے اور چاندی کی قیمتیں تاریخ کی نئی بلندیوں پر پہنچ گئیں

    عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتیں تاریخ کی نئی بلندیوں پر پہنچ گئیں۔

    پیر کو سونے کی قیمت 5,100 ڈالر فی اونس کی تاریخی سطح سے تجاوز کر گئی،گرین وچ مین ٹائم کے مطابق صبح 6 بجکر 56 منٹ پر اسپاٹ گولڈ (نقد سونا) 2.2 فیصد اضافے کے ساتھ 5,089.78 ڈالر فی اونس پر رہا جبکہ اس سے قبل یہ 5,110.50 ڈالر کی تاریخی بلند ترین سطح کو چھو چکا تھا، اسی طرح فروری کی ڈلیوری کے لیے امریکی گولڈ فیوچر کی قیمت بھی اسی شرح سے بڑھ کر 5,086.30 ڈالر فی اونس ہو گئی، اسی دوران اسپاٹ سلور (نقد چاندی) کی قیمت 4.8 فیصد اضافے کے ساتھ 107.903 ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ اس سے قبل یہ 109.44 ڈالر کی ریکارڈ سطح کو چھو چکی تھی-

    ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت بھی 10ہزار 900روپے کے بڑے اضافے سے 5لاکھ 32ہزار 062روپے کی نئی بلند سطح پر آگئی،اس کے علاوہ فی دس گرام سونے کی قیمت 9ہزار 345روپے بڑھ کر 4لاکھ 56ہزار 157روپے کی سطح پر آگئی جبکہ فی تولہ چاندی کی قیمت یکدم 537 روپے کے اضافے سے 11ہزار 428روپے کی نئی بلند سطح پر آگئی، فی دس گرام چاندی کی قیمت 537روپے کے اضافے سے 9ہزار 797روپے کی سطح پر آگئی۔

  • اسٹیٹ بینک کا مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرح سود 10.5 فیصد پر برقرار

    اسٹیٹ بینک کا مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرح سود 10.5 فیصد پر برقرار

    کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے آئندہ دو ماہ کے لیے شرح سود 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ موجودہ معاشی حالات، مہنگائی کے رجحانات اور بیرونی شعبے کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ ملک میں مہنگائی کی شرح اس وقت 7.4 فیصد پر برقرار ہے، جو پالیسی ریٹ کے حوالے سے ایک اہم اشاریہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی میں مجموعی طور پر استحکام دیکھا جا رہا ہے تاہم بعض اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بدستور موجود ہے، جس پر اسٹیٹ بینک گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

    جمیل احمد نے بیرونی شعبے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ ملکی برآمدات (ایکسپورٹس) میں کمی جبکہ درآمدات (امپورٹس) میں اضافہ ہو رہا ہے، جو تجارتی توازن کے لیے ایک چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ درآمدی دباؤ کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، تاہم زرمبادلہ کے ذخائر اور مالیاتی نظم و ضبط کے ذریعے اس صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔گورنر اسٹیٹ بینک نے مزید کہا کہ مانیٹری پالیسی کا بنیادی مقصد مہنگائی کو قابو میں رکھنا، مالیاتی استحکام کو یقینی بنانا اور معاشی سرگرمیوں کو سہارا دینا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ پالیسی فیصلے آنے والے معاشی اعداد و شمار، عالمی مالیاتی حالات اور اندرونی معاشی دباؤ کو دیکھتے ہوئے کیے جائیں گے۔

    ماہرینِ معیشت کے مطابق شرح سود برقرار رکھنے کے فیصلے سے کاروباری طبقے اور سرمایہ کاروں کو وقتی استحکام ملے گا، تاہم برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافے کا رجحان طویل مدت میں معیشت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔

  • پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، 100 انڈیکس 1 لاکھ 90 ہزار 600 کی سطح عبور کر گیا

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، 100 انڈیکس 1 لاکھ 90 ہزار 600 کی سطح عبور کر گیا

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان پیر کو بھی برقرار رہا، جہاں کاروباری ہفتے کے پہلے روز مارکیٹ کا آغاز مثبت انداز میں ہوا۔ سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کے باعث ابتدائی لمحات میں ہی 100 انڈیکس میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

    تفصیلات کے مطابق کاروبار کے آغاز پر کے ایس ای 100 انڈیکس میں 1434 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو ٹریڈنگ کے دوران بڑھتے ہوئے 1800 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔ اس نمایاں تیزی کے نتیجے میں اسٹاک مارکیٹ کا 100 انڈیکس ایک لاکھ 90 ہزار 600 پوائنٹس کی اہم نفسیاتی سطح عبور کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

    مارکیٹ ماہرین کے مطابق اسٹاک ایکسچینج میں حالیہ تیزی کی بڑی وجوہات میں معاشی اشاریوں میں بہتری، شرحِ سود اور مہنگائی سے متعلق مثبت توقعات، اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے حوصلہ افزا اشارے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بینکنگ، توانائی اور سیمنٹ کے شعبوں میں خریداری کے رجحان نے بھی انڈیکس کو اوپر لے جانے میں اہم کردار ادا کیا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ معاشی استحکام اور پالیسی تسلسل برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں بھی مارکیٹ میں تیزی کا رجحان جاری رہنے کا امکان ہے، تاہم سرمایہ کاروں کو محتاط حکمتِ عملی اپنانے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔

  • پاکستان کی معاشی ترقی کی راہ میں ایک اور سنگِ میل

    پاکستان کی معاشی ترقی کی راہ میں ایک اور سنگِ میل

    اسلام آباد: پاکستان کے مالیاتی شعبے میں ایک اور بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں کویت کے تعاون سے رقمی اسلامک ڈیجیٹل بینک کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ جدید اور مکمل طور پر ڈیجیٹل اسلامی بینک آئندہ ماہ پاکستان میں اپنے باقاعدہ آپریشنز کا آغاز کرے گا۔ حکام کے مطابق ابتدائی مرحلے میں بینک میں 10 کروڑ امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، جسے پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی صورتحال اور جاری اصلاحاتی عمل پر عالمی اعتماد کا واضح اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔

    ذرائع کے مطابق رقمی اسلامک ڈیجیٹل بینک کو کویت انویسٹمنٹ اتھارٹی (KIA) کی معاونت حاصل ہے، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) نے اس منصوبے کی مؤثر سہولت کاری میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ پاکستان کے مالیاتی شعبے کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا، جو نہ صرف اسلامی بینکاری کے فروغ میں مدد دے گا بلکہ ڈیجیٹل معیشت کے استحکام میں بھی نمایاں کردار ادا کرے گا۔مشیرِ وزیر خزانہ خرم شہزاد نے اس موقع پر اپنے بیان میں کہا کہ یہ سرمایہ کاری پاکستان کی معاشی سمت، مالیاتی اصلاحات اور پالیسی تسلسل پر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی اعتماد کی عکاس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور کویت کے درمیان مالیاتی، سرمایہ کاری اور ڈیجیٹل معیشت کے شعبوں میں تعاون مسلسل مضبوط ہو رہا ہے، جو مستقبل میں مزید مشترکہ منصوبوں کی راہ ہموار کرے گا۔خرم شہزاد کے مطابق رقمی اسلامک ڈیجیٹل بینک پاکستان میں ڈیجیٹل تبدیلی (Digital Transformation) کے عمل کو تیز کرے گا اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بینکاری نظام کو زیادہ مؤثر، شفاف اور عوام دوست بنائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل بینکاری کا بنیادی مقصد زیادہ سے زیادہ افراد، خصوصاً نوجوانوں اور دور دراز علاقوں میں رہنے والی آبادی کو مالیاتی نظام سے جوڑنا ہے تاکہ مالی شمولیت (Financial Inclusion) کو فروغ دیا جا سکے۔

    حکام کے مطابق رقمی بینک مکمل طور پر ڈیجیٹل اسلامی بینک کے طور پر کام کرے گا، جہاں شریعہ کے مطابق جدید مالیاتی مصنوعات اور خدمات فراہم کی جائیں گی۔ اس اقدام سے نہ صرف اسلامی بینکاری کے شعبے میں مسابقت بڑھے گی بلکہ پاکستان کو خطے میں ڈیجیٹل اسلامی مالیات کے ایک ابھرتے ہوئے مرکز کے طور پر متعارف کرانے میں بھی مدد ملے گی۔ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ ایس آئی ایف سی کی مؤثر سہولت کاری کے باعث پاکستان میں جدید اور پائیدار مالیاتی نظام کی بنیاد مضبوط ہو رہی ہے۔ عالمی سرمایہ کاروں کی دلچسپی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اصلاحات کے درست راستے پر گامزن ہے اور مستقبل قریب میں مزید غیر ملکی سرمایہ کاری متوقع ہے، جو مجموعی معاشی ترقی، روزگار کے مواقع اور مالیاتی استحکام میں اہم کردار ادا کرے گی۔

  • سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے جس کے نیتجے میں قیمتیں دھاتوں کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر جاپہنچی ہیں۔

    بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں مزید 65 ڈالر کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد سونے کی قیمت 4 ہزار 988 ڈالر کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

    ملک میں 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت 6 ہزار 500 روپے کے نمایاں اضافے سے 5 لاکھ 21 ہزار 162 روپے کی نئی بلند سطح پر پہنچ گئی اسی طرح فی 10 گرام سونے کی قیمت بھی 5 ہزار 573 روپے اضافے کے بعد 4 لاکھ 46 ہزار 812 روپے کی سطح پر آ گئی۔ جمعہ کو سونے کی فی تولہ قیمت 9 ہزار 100 روپے کے اضافے سے 5 لاکھ 14 ہزار 662 روپے ہوگئی تھی۔

    اسی طرح چاندی کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جہاں فی تولہ چاندی کی قیمت یکدم 526 روپے بڑھ کر 10 ہزار 801 روپے کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی اسی طرح فی 10 گرام چاندی کی قیمت 451 روپے کے اضافے سے 9 ہزار 260 روپے کی سطح پر آ گئی۔

  • پاکستان میں سرمایہ کاری کی نئی لہر، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال، معیشت مستحکم

    پاکستان میں سرمایہ کاری کی نئی لہر، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال، معیشت مستحکم

    خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کی مؤثر پالیسیوں اور حکومتی اصلاحات کے باعث پاکستانی معیشت میں استحکام آنا شروع ہو گیا ہے جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد واضح طور پر بحال ہو رہا ہے۔ مشیرِ وزیرِ خزانہ خرم شہزاد نے پاکستان میں سرمایہ کاری اور معاشی بحالی سے متعلق تفصیلی اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان تیزی سے سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش اور اولین انتخاب بنتا جا رہا ہے۔

    خرم شہزاد کے مطابق سازگار معاشی پالیسیوں، مالی نظم و ضبط اور سرمایہ کار دوست اقدامات نے عالمی سطح پر پاکستان کا تشخص بہتر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایس آئی ایف سی کی کاوشوں سے سرمایہ کاری کے مواقع روشن ہوئے ہیں اور مختلف شعبوں میں غیر ملکی دلچسپی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔حالیہ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) کے سرمایہ کار سینٹیمنٹ سروے کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاری پر اعتماد 61 فیصد سے بڑھ کر 73 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جو اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ عالمی سرمایہ کار پاکستانی معیشت کے مستقبل کے حوالے سے پُرامید ہیں۔مشیرِ خزانہ کے مطابق ملٹی نیشنل کمپنی نیسلے نے پاکستان میں 60 ملین امریکی ڈالر کی اضافی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے اور پاکستان کو علاقائی ایکسپورٹ حب بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ نیسلے پاکستان سے 26 ممالک کو برآمدات کرے گا جس سے مقامی مینوفیکچرنگ مضبوط اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔

    اسی طرح آذربائیجان کی سرکاری توانائی کمپنی اسٹیٹ آئل کمپنی آف آذربائیجان ریپبلک (سوکار) رواں فروری میں پاکستان کے تیل و گیس کے شعبے میں سرمایہ کاری کو حتمی شکل دے گی۔ خرم شہزاد کے مطابق سوکار پاکستانی مارکیٹ کی وسعت، بڑھتی ہوئی توانائی کی طلب اور اصلاحات کی رفتار کی معترف ہے اور پاکستان کو طویل المدتی توانائی شراکت دار قرار دے چکی ہے۔خرم شہزاد نے بتایا کہ گزشتہ 15 سے 18 ماہ کے دوران 20 سے زائد غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں، جس کے نتیجے میں صنعتی سرگرمیوں میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ پاکستان آنے والی کمپنیوں میں گوگل، بی وائی ڈی، آرامکو، وافی، ابو ظہبی پورٹس، سیمسنگ، ترکیش پٹرولیم، نووا منرلز سمیت دیگر عالمی ادارے شامل ہیں۔لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں مالی سال 2026 کے جولائی تا نومبر کے پانچ ماہ میں 6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح مالی سال 2026 کے پہلے نصف میں گاڑیوں کی فروخت میں 32 فیصد، سیمنٹ کی فروخت میں 10 فیصد، کھاد کی فروخت میں 24 فیصد اور موبائل فونز کی فروخت میں 20 فیصد اضافہ ہوا، جو صارفین اور صنعت کاروں کے اعتماد کی بحالی کا واضح ثبوت ہے۔مشیرِ خزانہ کے مطابق مالی سال 2026 کے پہلے نصف میں 1.17 ارب امریکی ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ریکارڈ کیا گیا جو معیشت کی بحالی کی علامت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2025 میں پاکستان نے 14 سال بعد پہلی بار 2.1 ارب امریکی ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس حاصل کیا جبکہ مہنگائی 23.4 فیصد سے کم ہو کر 4.5 فیصد تک آ گئی۔مزید برآں مالی سال 2025 میں زرمبادلہ کے ذخائر میں 55 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، قرضہ جی ڈی پی تناسب 74 فیصد سے کم ہو کر تقریباً 70 فیصد پر آ گیا اور بنیادی مالیاتی سرپلس جی ڈی پی کا 2.4 فیصد رہا۔

    مالی سال 2026 کے پہلے نصف میں ترسیلات زر 19.7 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں جو 11 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہیں، جبکہ ٹیکنالوجی ایکسپورٹس 437 ملین امریکی ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔ خرم شہزاد کے مطابق درآمدات کا تقریباً 80 فیصد حصہ خام مال، درمیانی اجزاء اور سرمایہ کاری کی اشیاء پر مشتمل ہے جو پیداواری سرگرمیوں کے مستحکم ہونے کا مظہر ہے۔ماہرین کے مطابق پاکستان میں سرمایہ کاری کا سازگار ماحول، بڑھتا ہوا معاشی استحکام اور عالمی کمپنیوں کی دلچسپی ملک کے روشن مستقبل کی عکاسی کرتی ہے۔ معاشی استحکام اور سرمایہ کاری کے لیے موافق فضا عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کا مضبوط اشارہ ہے اور یہ پاکستان کی معیشت کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔