Baaghi TV

Category: کاروبار

  • پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر   19.74 ارب ڈالر تک پہنچ گئے

    پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 19.74 ارب ڈالر تک پہنچ گئے

    پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک ہفتے کے دوران ایک کروڑ 43 لاکھ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد مجموعی ذخائر 19 ارب 73 کروڑ 82 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔

    اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق 14 نومبر 2025 کو ختم ہونے والے ہفتے میں مرکزی بینک کے ذخائر 2 کروڑ 70 لاکھ ڈالر بڑھ کر 14 ارب 55 کروڑ 15 لاکھ ڈالر ہوگئے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں کمی دیکھی گئی، جو 12.6 ملین ڈالر گھٹ کر 5 ارب 18 کروڑ 67 لاکھ ڈالر رہ گئے۔گزشتہ ہفتے یعنی 7 نومبر کو مجموعی ذخائر 19 ارب 72 کروڑ 39 لاکھ ڈالر تھے، جن میں اسٹیٹ بینک کے پاس 14 ارب 52 کروڑ 46 لاکھ ڈالر جبکہ کمرشل بینکوں کے پاس 5 ارب 19 کروڑ 93 لاکھ ڈالر موجود تھے۔

    ماہرین کے مطابق ذخائر میں اضافے سے ادائیگیوں کے توازن پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں اور بیرونی ادائیگیوں کے لیے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی مالی پوزیشن بہتر دکھائی دیتی ہے

    28ویں آئینی ترمیم پر ابتدائی مشاورت شروع، ٹائم لائن دینے سے گریز

    کوپ 30 پویلین میں آگ لگنے کا واقعہ، تمام سرگرمیاں منسوخ

    ضمنی انتخابات،شفافیت کے لیےالیکشن کمیشن کی سخت ہدایات

    ایم کیو ایم کی پریس کانفرنس پر ترجمان سندھ حکومت کا ردِعمل

  • ایس ای سی پی میں 4 ماہ کے دوران 14 ہزار 802 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن

    ایس ای سی پی میں 4 ماہ کے دوران 14 ہزار 802 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن

    سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے مالی سال 2025 کے پہلے 4 ماہ میں 14 ہزار 802 نئی کمپنیاں رجسٹر کیں، جس سے پاکستان میں کل رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد 2 لاکھ 72 ہزار 918 ہوگئی۔

    اعلامیے کے مطابق 99.9 فیصد رجسٹریشنز آن لائن ہوئیں، جبکہ کل سرمایہ 20.59 ارب روپے رہا۔ 59 فیصد کمپنیاں پرائیویٹ لمیٹڈ، 37 فیصد سنگل ممبر اور 4 فیصد دیگر اقسام کی تھیں۔پنجاب میں سب سے زیادہ 7,476 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، اس کے بعد اسلام آباد میں 3,230، سندھ میں 2,197 اور خیبر پختونخوا میں 1,320 کمپنیاں شامل ہیں۔انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ای کامرس کے شعبے میں سب سے زیادہ 2,999 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جب کہ دیگر نمایاں شعبوں میں ٹریڈنگ، سروسز، رئیل اسٹیٹ، سیاحت، تعلیم اور خوراک شامل ہیں

    بلوچستان کے 36 اضلاع میں موبائل انٹرنیٹ سروس 16 نومبر تک معطل

    سینیٹ اجلاس طلب، 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری ایجنڈے میں شامل

    امریکا کی ایران پر نئی پابندیاں، میزائل اور ڈرون پروگرام سے وابستہ 32 افراد و ادارے نشانہ

  • ایل این جی کے 21 کارگوز منسوخی کا فیصلہ

    ایل این جی کے 21 کارگوز منسوخی کا فیصلہ

    پاکستان نے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے 21 کارگوز منسوخ کرنےکا فیصلہ کیا ہے۔
    ذرائع پٹرولیم ڈویژن کے مطابق ایل این جی کے یہ کارگوز اٹلی کی کمپنی سے معاہدے کے تحت آنے تھے،ذرائع کے مطابق پاکستان ایل این جی لمیٹڈکا کمپنی سےہر ماہ ایک ایل این جی کارگو درآمد کا معاہدہ ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع پٹرولیم ڈویژن کا کہنا ہےکہ پاکستان 2026 میں 12 کے بجائے 2 ایل این جی کارگو خریدےگا۔ 2 کارگو جنوری اور دسمبر 2026 میں لیے جائیں گے۔ذرائع کے مطابق اٹلی کی کمپنی سے2027 میں صرف جنوری میں ایک کارگو لیا جائےگا۔ذرائع کا کہنا ہےکہ سوئی ناردرن سےگیس طلب جاننےکے بعد 21 کارگوز منسوخ کرنےکا فیصلہ کیا گیا۔

  • ٹیکس ریٹرن فائلرزکی تعداد 49 سے بڑھ کر 59 لاکھ ہوگئی،چیئرمین ایف بی آر

    ٹیکس ریٹرن فائلرزکی تعداد 49 سے بڑھ کر 59 لاکھ ہوگئی،چیئرمین ایف بی آر

    چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کو مزید ٹیکس لگانے کی ضرورت نہیں ہے۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر نے کہاکہ ٹیکس سے متعلق بجٹ میں منظور ہونے والے اقدامات پر عمل پیرا ہیں اور ایف بی آر کو مزید ٹیکس لگانے کی ضرورت نہیں ہے، ایف بی آر کو تمام اداروں کا تعاون حاصل ہے، مؤثر اقدامات کے باعث ٹیکس وصولیوں میں اضافہ ہوا ہے ، ٹیکس اصلاحات میں وقت درکار ہوتا ہے، وفاق سے 15فیصد اور صوبوں سے 3 فیصد ریونیو اکٹھاکرنا ہے، ریونیو کےلیے صوبوں کے اوپر اتنا دباؤ نہیں جتنا وفاق پر ہے، انفرادی ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی شرح میں اضافہ ہواہے، ٹیکس ریٹرن فائلرزکی تعداد 49 سے بڑھ کر 59 لاکھ ہوگئی ہے جب کہ پہلی بار ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح میں 1.5 فیصد اضافہ ہوا ہے، ،ہمیں ٹیکس وصولی کو جی ڈی پی کے 18فیصد پر لے کر جانا ہے۔

  • ایف بی آر کا ٹیکس شارٹ فال 274 ارب روپے تک پہنچ گیا

    ایف بی آر کا ٹیکس شارٹ فال 274 ارب روپے تک پہنچ گیا

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی چار مہینوں (جولائی تا اکتوبر) میں ٹیکس شارٹ فال 274 ارب روپے تک پہنچ گیا، جس کی بڑی وجہ سیلز ٹیکس کی وصولی میں کمی بتائی جا رہی ہے۔

    ایف بی آر نے اس مدت میں 38 کھرب 35 ارب روپے جمع کیے، جبکہ ہدف 41 کھرب 8 ارب روپے تھا، تاہم مجموعی ریونیو گزشتہ سال کے مقابلے میں 12 فیصد بڑھا۔ریونیو میں کمی کی بڑی وجہ مقامی سیلز ٹیکس کی سست وصولی ہے، جو بجلی کی بندش اور بڑھتی سولرائزیشن سے متاثر ہوئی۔ اکتوبر میں ایف بی آر ریونیو ہدف سے 75 ارب روپے کم رہا، اور 951 ارب روپے اکٹھے کیے گئے، جبکہ گزشتہ سال اسی ماہ میں 879 ارب روپے جمع ہوئے تھے۔اسی دوران ایف بی آر نے 206 ارب روپے کے ریفنڈز اور ریبیٹس جاری کیے، جو گزشتہ سال کے 170 ارب روپے کے مقابلے میں 21 فیصد زیادہ ہیں۔

    انکم ٹیکس میں 17 کھرب 96 ارب روپے جمع ہوئے، جو ہدف سے 103 ارب روپے کم ہیں، لیکن گزشتہ سال کے مقابلے میں 11 فیصد زیادہ ہے۔ سیلز ٹیکس میں ہدف 15 کھرب 42 ارب کے مقابلے میں 13 کھرب 59 ارب روپے اکٹھے ہوئے، یعنی 183 ارب روپے کا شارٹ فال رہا، جبکہ کسٹمز ڈیوٹی اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں ہدف کے مقابلے میں اضافہ دیکھا گیا

    سی ٹی ڈی پنجاب نے ایک ماہ میں 18 دہشت گرد گرفتار کیے

    فرانس میں داعش خراساں سے تعلق کے شبہے میں افغان شہری گرفتار

    کراچی: حساس اداروں کی کارروائی،2 دہشت گرد گرفتار

  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 16 ملین ڈالر کا اضافہ

    اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 16 ملین ڈالر کا اضافہ

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں 16 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد مجموعی ذخائر 24 اکتوبر 2025 تک 14.47 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔

    مرکزی بینک کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک کے کل مائع زرمبادلہ کے ذخائر 19.69 ارب ڈالر ریکارڈ کیے گئے۔اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس خالص ذخائر 5.22 ارب ڈالر ہیں، جب کہ اسٹیٹ بینک کے پاس موجود ذخائر میں 16 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا۔اسٹیٹ بینک کے بیان میں بتایا گیا کہ 24 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران ذخائر بڑھ کر 14,471.6 ملین ڈالر ہو گئے۔یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے بھی اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں 14 ملین ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا.

    سوڈان میں ریپڈ سپورٹ فورسز کی اسپتال پر کارروائی، 460 افراد قتل

    کراچی،ای چالان سسٹم خامی، شہری کو غلط نمبر پلیٹ اور چالان موصول

  • سب سے بڑےبحری جہاز کی  امریکی خام تیل لے کر حب آمد

    سب سے بڑےبحری جہاز کی امریکی خام تیل لے کر حب آمد

    پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی معاہدے کے بعد پہلی مرتبہ سب سے بڑا بحری جہاز امریکی خام تیل لے کر حب پہنچ گیا۔

    ریفائنری حکام کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق امریکی خام تیل سے لدے بحری جہاز کی سنرجیکو کے آئل ٹرمینل پر آمد ہوئی ہے جس میں 10 لاکھ بیرل خام تیل موجود ہے،ریفائنری حکام کا کہناہےکہ ایک لاکھ 35 ہزار ٹن کے ساتھ پاکستان آنے والا یہ سب سے بڑا تیل کا جہاز ہے،اعلامیے میں بتایا گیا ہےکہ اگلے ماہ ایک اور امریکی خام تیل بردار جہاز پاکستان آئے گا، یہ بحری جہاز پیگاسس امریکی خام تیل کے ساتھ 14 ستمبر کو ہیوسٹن سے روانہ ہوا ہے.

  • عالمی و مقامی منڈیوں میں سونا پھر مہنگا

    عالمی و مقامی منڈیوں میں سونا پھر مہنگا

    ایک دن میں تاریخی کمی کے بعد عالمی و مقامی منڈیوں میں سونا پھر مہنگا ہوگیا۔

    آل پاکستان صرافہ جیولرزاینڈ ایسوسی ایشن کے مطابق 24 قیراط فی تولہ سونے کے دام 3500 روپے بڑھکر 4 لاکھ 19 ہزار 862 روپے ہوگئے، 10 گرام سونے کی قیمت 3 ہزار روپے کے اضافے سے 3 لاکھ 59 ہزار 963 روپے ہوگئی۔رپورٹ کے مطابق عالمی مارکیٹ میں سونے کے نرخ 35 ڈالر اضافے سے فی اونس 3975 ڈالر ہوگئے۔صراف ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ چاندی کی قیمت 110 روپے بڑھ کر ایک بار پھر 5 ہزار روپے سے تجاوز کر گئی، نرخ 5034 روپے ہوگئے۔خیال رہے کہ گزشتہ روز مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں 14 ہزار روپے اور عالمی مارکیٹ میں 140 روپے کم ہوئی تھی۔

  • روپیہ مستحکم، ڈالر 6 ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا

    روپیہ مستحکم، ڈالر 6 ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا

    پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں ڈالر 6 ماہ کی کم ترین سطح پر آ گیا ہے۔

    منگل کے روز انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں روپے کی قدر میں مزید بہتری ریکارڈ کی گئی۔ انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 281 روپے سے کم ہو کر 280 روپے 97 پیسے پر بند ہوا، جبکہ ایک موقع پر ڈالر کی قدر 280 روپے 75 پیسے تک گر گئی تھی۔اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر 5 پیسے کی کمی کے ساتھ 282 روپے کی سطح پر بند ہوا۔ ماہرین کے مطابق زرمبادلہ کی منڈی میں روپے کی مضبوطی کی بنیادی وجہ درآمدی طلب میں کمی اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہونا ہے۔

    دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث مقامی مارکیٹ میں بھی سونے کے نرخوں میں رد و بدل جاری ہے۔ رپورٹس کے مطابق عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کے بعد پاکستان میں بھی سونا سستا ہوا

    سندھ کی خواتین کے لیے اسکوٹی پروگرام اور پنک ای وی ٹیکسی سروس کا فیصلہ

    پی ٹی آئی کا میئر کراچی کے حمایت یافتہ ارکان سے لاتعلقی کا اعلان

  • بینک مکرمہ لمیٹڈ کا 9 ماہ میں ایک ارب 75 کروڑ روپے منافع

    بینک مکرمہ لمیٹڈ کا 9 ماہ میں ایک ارب 75 کروڑ روپے منافع

    کراچی: بینک مکرمہ لمیٹڈ (BML) نے رواں سال کے پہلے 9 ماہ (اختتام 30 ستمبر 2025) کے دوران ٹیکس سے قبل 1.75 ارب روپے منافع کما کر اپنی شاندار مالیاتی بحالی کا تسلسل برقرار رکھا ہے، جب کہ گزشتہ سال اسی مدت میں بینک کو 5.05 ارب روپے کا نقصان ہوا تھا۔ یہ ایک غیر معمولی بہتری ہے جو 6.80 ارب روپے کے ٹرن اراونڈ کو ظاہر کرتی ہے۔

    یہ کامیابی بینک کی مالیاتی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ جون 2025 میں ختم ہونے والے چھ ماہ کے دوران بینک نے 1.44 ارب روپے کا منافع ظاہر کیا تھا — جو تقریباً ایک دہائی بعد بینک کا پہلا مثبت مالی نتیجہ تھا۔رواں 9 ماہ کے دوران ٹیکس کے بعد منافع 0.861 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں 3.18 ارب روپے کا خسارہ درج کیا گیا تھا۔

    بینک کی مجموعی آمدنی میں 2.18 ارب روپے کا اضافہ ہوا جبکہ نان فنڈ انکم (غیر سودی آمدنی) میں 8 فیصد اضافہ ہو کر 2.95 ارب روپے تک جا پہنچی۔ یہ بہتری سمجھدار سرمایہ کاری، ڈپازٹ مینجمنٹ میں نظم و ضبط اور سرمایہ جاتی منافع میں اضافے کی مرہونِ منت رہی۔30 ستمبر 2025 تک بینک کے ڈپازٹس 165.58 ارب روپے رہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 1.92 فیصد یا 3.11 ارب روپے کا اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔ اوسط بنیاد پر ڈپازٹ پورٹ فولیو میں 7.28 فیصد (11.51 ارب روپے) اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو مستحکم فنڈنگ اور بیلنس شیٹ کی مضبوطی پر بینک کی توجہ کو ظاہر کرتا ہے۔بینک نے سخت مسابقتی مالیاتی مارکیٹ کے باوجود CASA مکس (کرنٹ اور سیونگ اکاؤنٹس کا تناسب) میں بہتری لاتے ہوئے 94.58 فیصد تک بڑھایا، جو گزشتہ سال 89.59 فیصد تھا۔ نتیجتاً اوسط ڈپازٹ لاگت 7.20 فیصد رہی، جو بینک کی مالی کارکردگی کا مظہر ہے۔

    بینک مکرمہ نے اخراجات پر سخت کنٹرول برقرار رکھتے ہوئے آپریٹنگ اخراجات میں اضافہ صرف 7.2 فیصد تک محدود رکھا۔کل نان مارک اپ اخراجات 6.39 ارب روپے رہے جو گزشتہ سال کے 5.96 ارب روپے سے معمولی زیادہ ہیں۔ریکوری کے میدان میں بھی بینک نے غیر معمولی کارکردگی دکھائی۔ گزشتہ تین سالوں کی مضبوط کارکردگی کو برقرار رکھتے ہوئے 2025 میں 5.99 ارب روپے کی نیٹ پروویژن ریورسل حاصل کی گئی، جو گزشتہ سال کے 0.97 ارب روپے کے مقابلے میں چھ گنا زیادہ ہے۔اسی بنیاد پر بینک کے نان پرفارمنگ لونز (NPLs) دسمبر 2024 کے 34.19 ارب روپے سے گھٹ کر ستمبر 2025 میں 28.88 ارب روپے تک آگئے — جو بینکنگ انڈسٹری میں سب سے بڑی ریکوریز میں شمار ہوتی ہے۔نتیجتاً گراس NPL ریشو 69.95 فیصد سے کم ہو کر 63.57 فیصد رہ گیا جبکہ کوریج ریشو 95.49 فیصد پر مستحکم رہی۔

    بینک مکرمہ لمیٹڈ اب پوری کیپٹل کمپلائنس کے قریب ہے۔ اس کامیابی میں اسپانسر شیئر ہولڈرز کا بھرپور کردار شامل ہے، جنہوں نے نہ صرف مالی معاونت کی بلکہ اپنی کمپنی "گلوبل ہیلی” (Global Haly) کو 26 ارب روپے مالیت کے ساتھ بینک میں ضم کرنے کی تجویز دی ہے۔مزید برآں، 5 ارب روپے ایڈوانس شیئر کیپٹل انویسٹمنٹ کو ایکوئٹی شیئرز میں تبدیل کر کے MCR کمپلائنس یقینی بنائی جا رہی ہے۔بینک نے اپنی جائیداد Cullinan Tower کو 12 ارب روپے میں فروخت کیا، جس میں سے 1 ارب روپے کی ابتدائی رقم وصول ہو چکی ہے — اس سے بینک کی ایکویٹی مزید مضبوط ہوگی۔اسی طرح ایک بڑے کاروباری گروپ سے وابستہ نان پرفارمنگ لونز کے تصفیے کے حتمی مراحل جاری ہیں، جس سے بینک کی مالی پوزیشن مزید مستحکم ہونے کی توقع ہے۔

    بینک مکرمہ لمیٹڈ انتظامیہ کے مطابق ادارہ نامیاتی ترقی (organic growth)، عملی نظم و ضبط اور اسٹریٹجک پالیسیوں پر عمل پیرا رہتے ہوئے سال 2025 کا اختتام ریکارڈ مالی نتائج کے ساتھ کرنے کی پوزیشن میں ہے۔یہ کارکردگی نہ صرف بینک کے مالی استحکام کی بحالی کو ظاہر کرتی ہے بلکہ یہ موثر حکمرانی، واضح وژن، اور اسپانسرز و بورڈ آف ڈائریکٹرز کے غیر متزلزل عزم کا عملی ثبوت بھی ہے۔بینک مکرمہ لمیٹڈ اب ایک بار پھر پاکستان کے بینکاری شعبے میں ایک مستحکم، منافع بخش اور قابلِ اعتماد ادارہ بن کر ابھر رہا ہے۔