Baaghi TV

Category: کاروبار

  • اسٹاک مارکیٹ کی بہتری کا سفری جاری

    اسٹاک مارکیٹ کی بہتری کا سفری جاری

    اسٹاک مارکیٹ کی بہتری کا سفری جاری, پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں کاروباری ہفتے کے چوتھے روز کا آغاز مثبت زون میں ہوا ہے۔

    جمعرات کے روز مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز 34 ہزار 432 پر ہوا اور 100 انڈیکس میں 46 پوائنٹس کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔کے ایس ای 100 انڈیکس کا آغاز 34 ہزار 83 پوائنٹس پر ہوا اور ابتدائی ایک گھنٹے کے دوران 130 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 100 انڈیکس 34 ہزار 213 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا۔
    اس سےپہلے اسٹاک مارکیٹ کا آغاز کے ایس ای 100 انڈیکس میں 31 ہزار 658 پوائنٹس پر ہوا۔ کاروبار کے آغاز کے 100 انڈیکس میں 80 پوائنٹس تک کی کمی ریکارڈ کی گئی اور انڈیکس 31 ہزار 578 پوائنٹس پر ٹریڈ کرتے دیکھا گیا تاہم کاروبار کے اختتام سے دو گھنٹے قبل تک کے ایس ای 100 انڈیکس میں ملا جلا رجحان موجود رہا۔
    پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں کاروبار کا مثبت رجحان

  • انٹر بینک میں ڈالر کم ہونےلگا

    انٹر بینک میں ڈالر کم ہونےلگا

    آج جمعرات کاروباری ہفتے کے چوتھے روز انٹر بینک میں ڈالر کی قدر میں چھ پیسے کمی ہوئی ہے۔

    فاریکس ڈیلرز کے مطابق انٹر بینک میں روپے کے مقابلے ڈالر 156 روپے سے نیچے آگیا۔

    انٹر بینک میں ڈالر آج 156.01 سے کم ہوکر 155.95 روپے میں فروخت ہورہا ہے ۔
    ڈالر کی قیمت کتنے ماہ کی کم ترین سطح پر آگئی؟

    اسٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان، 100 انڈیکس میں 46 پوائنٹس کا اضافہ
    2019 میں بھی ڈالر کی قیمت میں روپے کے مقابلے میں پیش رفت جاری رہی۔ جنوری میں ڈالر 138 روپے93 پیسے، فروری میں 138 روپے 90 پیسے اور مارچ میں 139 روپے10 پیسے پر ٹریڈ کررہا تھا۔
    ماہر معیشت کے مطابق ڈالر لی حالیہ کمی عالمی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے ہے.جب کہ حکومت پاکستان کو روپے کو مستحکم کرنے کے لیے کاروباری سرگرمیوں کا عام کرنا ہوگا اور تاجروں کے لیے آسانی پیدا کرنی ہوگی.سرمایا کاروں کے اعتماد کو بحال کرنا ہو گا. تاکہ سرمایہ کاری بڑھے اور منجمد تجارتی سرگرمیاں بحال رہیں.

    ہنڈائی موٹرز موبلٹی ٹیکنالوجی پر کتنے بلین ڈالر خرچ کرے گی؟ خبر آ گئی

  • گورنر سٹیٹ بینک نے بتا دیا کہ کب  تک مہنگائی کم ہونے لگے گی

    گورنر سٹیٹ بینک نے بتا دیا کہ کب تک مہنگائی کم ہونے لگے گی

    معیشت کی بہتری بارے پاکستان کی عوام کو امید کی کرن دکھاتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے عندیہ دیا ہے کہ آنے والے مہینوں میں مہنگائی کے اثرات زائل ہو سکتے ہیں۔

    عالمی جریدے بلومبرگ کو دیے گئے ایک انٹریو میں رضا باقر کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مرکزی بینک مہنگائی کی شرح کم کرنا چاہتا ہے۔

    رضا باقر نے کہا کہ پاکستانی کرنسی کی قدر میں کمی نے شرح تبادلہ کو مارکیٹ بیس کردیا ہے۔
    پاکستان میں معیشت کی بہتری ممکن ہے ، لیکن کیسے ؟
    گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ پاکستان نے سال 2018کے آغاز سے شرح سود 13.25 فیصد کردی ہے جو جنوبی ایشیائی ممالک میں سب سے زیادہ ہے۔
    اسی طرح آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (ایٹما) کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی ذاتی دلچسپی اور پالیسیوں کی بدولت صنعت علاقے کے دیگر ممالک سے مقابلے کے قابل بنی۔ 10 سال تک نقصان میں رہنے والی ٹیکسٹائل صنعت سے بالآخر اچھی خبریں آنا شروع ہوگئی ہیں۔16 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات برآمد کی گئیں جبکہ 2.8 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات مقامی مارکیٹ میں فروخت کی گئیں.
    پاکستان کی معیشت کے سمبھلنے کی نوید

  • آئی ایم ایف عالمی ماہرین کی ٹیم کا آج وزارت تجارت کا دورہ

    آئی ایم ایف عالمی ماہرین کی ٹیم کا آج وزارت تجارت کا دورہ

    وزارت تجارت کے مطابق آئی ایم ایف عالمی ماہرین کی ٹیم آج وزارت تجارت کا دورہ کرے گی،مشیر تجارت تجارتی خسارے اور درآمدات میں کمی کے اقدامات سے بھی آگاہ کریں گے.آئی ایم ایف ٹیم مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد سے ملاقات کرے گی.جو آئی ایم ایف ٹیم کو برآمدات میں اضافے کے حکومتی اقدامات سے آگاہ کریں گے،

    ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کا ٹیکنیکل مشن سیلزٹیکس سے متعلق تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گا۔ واضح رہے کہ مجموعی ٹیکس محصولات میں سیلز ٹیکس کا حصہ 40 فیصد ہے۔ مشن کی توجہ سیلز ٹیکس اخراجات، استثنیات، اور گنجائش کے مقابلے میں کم محصولات جمع ہونے پر مرکوز رہے گی۔
    کیا آئی ایم ایف ایک بار پھر حکومت کو ٹیکسز بڑھانے کا کہے گا ؟
    سروے آف پاکستان کے مطابق گذشتہ مالی سال میں ٹیکس استثنیٰ سے 972.4 ارب روپے کا نقصان ہوا تھا جو گذشتہ سے پیوستہ مالی سال کے 431 ارب روپے کے مقابلے میں 80 فیصد زیادہ ہے۔ اس نقصان میں انکم ٹیکس استثنیات کا حصہ 141.6 ارب روپے تھا۔

    اسد عمر نے آئی ایم ایف بارے خوش کن خبر دے دی

  • کیا آئی ایم ایف ایک بار پھر حکومت کو ٹیکسز بڑھانے کا کہے گا ؟

    کیا آئی ایم ایف ایک بار پھر حکومت کو ٹیکسز بڑھانے کا کہے گا ؟

    عالمی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف ) کے ٹیکنیکل مشن نے پاکستان کے زوال پذیر ٹیکس نظام کے جائزے کے لیے مذاکرات کا آغاز کردیا۔

    گزشتہ روز شروع ہونے والے مذاکرات میں ٹیکس سسٹم کے جائزے پر گفت و شنید ہوگی جو رواں برس اضافی ٹیکسوں کی مد میں 734 ارب کی لیوی کے باوجود خاطرخواہ کارکردگی نہیں دکھاسکا۔ آئی ایم ایف مشن خاص طور سے ٹیکس دہندگان کو انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس سے استثنیٰ کو زیر غور لائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر ٹیکس سے استثنیٰ وزیراعظم کے ڈیٹ انکوائری کمیشن کے ریڈار پر بھی ہے۔

    کمیشن نے پاکستان پیپلزپارٹی ( 2008-13 ) اور پاکستان مسلم لیگ ( ن ) ( 2013-18) کے گذشتہ ادوار میں دیے گئے استثنیٰ کی تفصیلات بھی طلب کرلی ہیں۔
    فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے حکام کے مطابق پہلے روز آئی ایم مشن نے ایف بی آر کے ساتھ اجلاس میں سیلزٹیکس اور کارپورٹی انکم ٹیکس کے معملات پر تفصیلی گفتگوکی۔ آئی ایم ایف مشن پاکستان میں 2 ہفتے تک قیام کرے گا اور اس دوران وفاقی اور صوبائی ٹیکس حکام سے ملاقاتیں کرے گا۔

    ٹیکینکل اسسٹنس ٹیم کی ملاقاتیں 29 نومبر کو ختم ہوں گی اور اسی تاریخ کو آئی ایم ایف کا جائزہ مشن جولائی تا ستمبر کے عرصے کے دوران 6 ارب ڈالر کے قرضہ پروگرام کے تحت پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ لے گا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کا ٹیکنیکل مشن سیلزٹیکس سے متعلق تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گا۔ واضح رہے کہ مجموعی ٹیکس محصولات میں سیلز ٹیکس کا حصہ 40 فیصد ہے۔ مشن کی توجہ سیلز ٹیکس اخراجات، استثنیات، اور گنجائش کے مقابلے میں کم محصولات جمع ہونے پر مرکوز رہے گی۔

    سروے آف پاکستان کے مطابق گذشتہ مالی سال میں ٹیکس استثنیٰ سے 972.4 ارب روپے کا نقصان ہوا تھا جو گذشتہ سے پیوستہ مالی سال کے 431 ارب روپے کے مقابلے میں 80 فیصد زیادہ ہے۔ اس نقصان میں انکم ٹیکس استثنیات کا حصہ 141.6 ارب روپے تھا۔

    ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کی ٹیم کارپوریٹ ٹیکس اور بڑی فرموں کو دیے جانے والے استثنیٰ کا بھی جائزہ لے گی۔ ٹیم انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکنڈ شیڈول کو بھی تفصیلاً زیربحث لائے گی جو ٹیکس استثنیٰ سے پُر ہے اور جس میں بڑے کاروباروں، ججوں، جرنیلوں اور بیوروکریٹس کو رعایتیں دی گئی ہیں۔ ٹیم کسٹم ڈیوٹی اسٹرکچر اور کم محصولاتی آمدنی کی وجوہ کا بھی جائزہ لے گی۔

  • پاکستان میں معیشت کی بہتری ممکن ہے ، لیکن کیسے ؟

    پاکستان میں معیشت کی بہتری ممکن ہے ، لیکن کیسے ؟

    اب تک تقریبا ہر شخص یہ تسلیم کرچکا ہے کہ کھپت پر مبنی ترقی کا ماڈل جس پر پاکستان بہتر شرح نمو کو حاصل کرنے کے لئے بھروسہ کرتا ہے وہ ناقابل برداشت ہے۔ زیادہ تر مبصرین اس بات سے بھی متفق ہیں کہ پاکستان کو ترقی کے کلیدی محرک کی حیثیت سے برآمدات کی طرف رخ کرنا چاہئے۔ اس بیانیہ نے موجودہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو استحکام کے ضروری اقدامات پر عمل درآمد کرنے کے لئے اہم گنجائش فراہم کی ہے جس کا مقصد کھپت پر قابو پانا ہے جبکہ بیک وقت ، صنعتوں کو برآمد کرنے کے لئے مراعات فراہم کرنا ہے۔

    تاہم ، بیشتر مبصرین کی یہ اور اس جیسی پالیسی تجاویز نے اس غلط فہمی کو جنم دیا ہے کہ معاشی عدم توازن کا ازالہ کرنے کے لئے صرف استحکام کی پالیسیاں ہی کسی نہ کسی طرح اعلی نمو کے راستے کو جنم دیتی ہیں جو کہ آئی ایم ایف کے بیل آوٹ پیکج سے بچا لیتی ہیں یہ غلط ہے۔

    استحکام کی پالیسیاں جس میں مالی اور مالیاتی پالیسیاں شامل ہیں معیشت کو اس کی بنیادی پیداواری شرح نمو کے گرد مستحکم کرتی ہیں۔ اس کو دیکھنے کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ، جب بھی جی ڈی پی بنیادی پیداواری شرح نمو سے زیادہ بڑھتی ہے ، معاشی عدم توازن سامنے آنا شروع ہوتا ہے ، جس سے پالیسی سازوں کو استحکام کی پالیسیوں کے ساتھ جواب دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔
    اگر 2013 سے 2018 تک کے مالی سال اور ان کی جی ڈی پی گروتھ کی بات کی جائے تو ان سالوں میں شرخ نمو 4 فیصد سے زائد رہی لیکن کرنٹ اکاونٹ خسارہ کل جی ڈی پی کا 1.54- سے 6.14- تک جا پہنچا ، جس کے نتائج ابھی تک موجودہ حکومت بھگت رہی ہے،

    اسی طرح کی صورتحال مالی سال 2004 سے 2008 کے درمیان پیدا ہوئی جب جب ملک کی جی ڈی پی گروتھ 5 فیصد سے زائد تھی لیکن پانچ سال بعد کرنٹ اکاونٹ خسارہ جو کہ جی ڈی پی کا 0.8 فیصد تھا وہ 9.2 فیصد تک جا پہنچا، ان دونوں ادوار میں خسارے کی بنیادی وجہ پالیسی ایڈجسٹمنٹ کا دیر بعد ہونا ثابت ہوئی، اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اگر آپ اپنی ترقی کی شرخ 5 فیصد سے اوپر لیکر جانا چاہتے ہیں تو اس کی بنایدی وجہ ملک کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہونا چاہیے نہ کہ مانیٹری یا مالیاتی پالیسی کی توسیع ہونی چاہیے،

    مہاتیر محمد نے بھارت سے تجارت کے متعلق اہم اعلان کر دیا

    ہماری توجہ کو پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے کی طرف موڑنے کی اہمیت کو اس اہم کردار کو تسلیم کرکے مزید سراہا جاسکتا ہے جو اس نے ملک کی برآمدات کی کارکردگی میں ادا کیا ہے۔ جرنل آف انٹرنیشنل اکنامکس میں شائع ہونے والے 2002 کے ایک مقالے میں ، محققین ہسپانوی مینوفیکچرنگ فرموں کے اعداد و شمار کا استعمال کرتے ہیں تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ برآمدی منڈی میں داخل ہونے کا امکان زیادہ تر پیداواری فرموں کے پاس ہے۔جائزہ برائے عالمی اقتصادیات میں شائع ہونے والے 2005 کے ایک مقالے میں ، بوکونی یونیورسٹی اور سنٹر فار یورپی اقتصادی تحقیق کے محققین نے جرمن مینوفیکچرنگ فرموں کے لئے اسی طرح کے نتائج برآمد کیے۔ امریکن اکنامک ریویو میں شائع ہونے والا 2008 کا ایک مقالہ تائیوان کے الیکٹرانکس پروڈیوسروں کے لئے بھی یہی دکھایا گیا ہے۔

    معیشت کی پیداواری صلاحیت کا تعین کرنے والے عین عوامل بہت زیادہ چرچ کا موضوع بنے ہوئے ہیں جو ابھی تک حل طلب نہیں ہیں۔ لیکن نسبتا یقین کے ساتھ جو کچھ کہا جاسکتا ہے وہ یہ ہے کہ پیداواری شرح نمو اس بات پر منحصر ہے کہ کسی ملک کے معاشی وسائل پیداواری مقاصد کے لئے کس طرح موثر انداز میں اکٹھے ہوسکتے ہیں، پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کی خاطر، پالیسی سازوں کو اپنی توجہ صرف وسائل کے معیار پر ہی محدود نہیں رکھنا چاہئے۔ اس کے بجائے ، اور جیسا کہ رابرٹ سولو (ایک اور نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات) کہتا ہے کہ ، معاشرتی اصول اور ادارے بھی کسی ملک کی پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے کی جستجو میں عوامل کو محدود کرنے یا ان کو بہتر کرنے میں اہم ثابت ہوسکتے ہیں۔

    گوادر پورٹ پوری طرح فعال ہے، برآمدات میں کتنا ہوا اضافہ؟ مشیر تجارت نے بتائی اہم باتیں

    اس پر غور کرتے ہوئے ، ایسی کوئی بھی پالیسی جو کسی ملک کے وسائل یعنی زمین ، مزدوری اور سرمایے کے مابین تعامل کو سہولت فراہم کرتی ہے یا اس طرح کے وسائل کے معیار کو بہتر بناتی ہے وہ معیشت کی پیداوری کو بڑھانے میں معاون ثابت ہوگی۔
    بہت سے معاملات میں ، قدیم اور ناقص تحقیق شدہ قواعد و ضوابط کی بہتات معاشی وسائل کو اکٹھا کرنے میں کلیدی رکاوٹ پیش کرتی ہے۔ دوسرے معاملات میں ، مناسب قوانین کا فقدان وہ ہے جو مارکیٹوں کی ترقی میں رکاوٹ ہے۔

    سی فوڈ کی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ

    اسی طرح علاقائی وسطی اور جنوبی ایشین معیشتوں کے ساتھ تجارتی روابط کو فروغ دینے کے مقصد کے ساتھ اہم انفراسٹرکچر اور سفارتی راہداری میں رکاوٹوں کا ازالہ کرنا معیشت کی پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے میں بہت آگے جاسکتا ہے۔ تکنیکی اور پیشہ ورانہ تربیتی پروگراموں کی اصلاح ایک اور شعبہ ہے جس پر ضروری توجہ نہیں دی گئی ہے۔ اب جبکہ حکومت نے استحکام کے بیشتر اقدامات پہلے ہی کر رکھے ہیں ، لہذا توجہ مرکوز کو پیداواری صلاحیت میں بہتری لانے کی طرف ہونا چاہئے۔ توقع ہے کہ ایک سال کے عرصے میں معیشت مستحکم ہونے لگے گی۔ تاہم ، یہ سارے اسباب کم و بیش چار فیصد کی معمولی شرح سے بڑھ رہے ہیں۔

    اور اب اگر حکومت ان اصلاحات کا آغاز نہیں کرتی تو الیکشن کے قریب حکومت کو ایک بار پھر پرانے گھسے پٹے نعروں اور ترقی کے اشاروں کا سہارا لینا ہوگا جو کہ عین ممکن ہے کہ ایلکشن میں کامیاب نہ کرو سکیں،

  • پنجاب سیڈ کونسل نے 31 اقسام کے بیجوں کی منظوری دے دی

    پنجاب سیڈ کونسل نے 31 اقسام کے بیجوں کی منظوری دے دی

    لاہور: محکمہ زراعت آفس میں صوبائی وزیر زراعت ملک نعمان لنگڑیال کی زیر صدارت میں پنجاب سیڈ کونسل کا 52 واں اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں مجموعی طور پر بیجوں کی 31 اقسام کی منظوری دی گئی جن میں آلو کی 3، شوگر کین کی 4، آئل سیڈ کی 2، چاول کی 2، پیاز کی 2، پھولوں کی 3، مٹر کی 1، جئی کی 2، انکیر کی 1، انگور کی 3، ہائبرڈ چاول کی 1 اور مسعر کی 1 بیج کی منظوری دی گئی،

    محکمہ زراعت ہیڈ آفس ڈائریکٹر جنرل ریسرچ ڈاکٹر عابد اور ڈائریکٹر جنرل فیڈرل سیڈ سرٹیفیکیشن مسعود قریشی اور سیڈ کونسل کے دیگر عہدیداران نے شرکت کی، اجلاس میں زراعت کی ترقی کیلئے دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا،

    سی فوڈ کی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ

  • گجرات لاری اڈہ جگا ٹیکس۔اڈہ فیس 60 روپے کی بجائے من مانے ریٹ

    گجرات لاری اڈہ جگا ٹیکس۔اڈہ فیس 60 روپے کی بجائے من مانے ریٹ

    گجرات(چوہدری فیضان ارشاد سے )لاری اڈہ جگا ٹیکس کیس۔الفتح سنز کے چوہدری رفعت محمود،چوہدری ہمایوں سرور ساکنائے خونی چک،منشی مسعود اختر،ملک رضوان،محبوب،رفیع عرف اعجاز ججی کے خلاف فردجرم عائد۔سنیئر سول جج گجرات محمد شعیب عدیل نے کیس کی سماعت 5 نومبر تک ملتوی کرتے ہوئے کیس کے تمام گواہان کو طلب کرلیا۔ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے اڈہ فیس فی گاڑی سرکاری ریٹ 60 روپے کی بجائے 350/600 روپے تک وصول کرتے رہے ہیں۔ملزمان کے خلاف تھانہ لاری اڈہ میں خرم شہزاد ڈرائیور کی مدعیت میں مقدمہ نمبر 105/19درج ہے۔مزید تفتیش جاری۔۔۔

  • سی فوڈ کی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ

    سی فوڈ کی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ

    سی فوڈ کی برآمدات میں ریکارڈ اضافے کے باعث اگست 2019 کے دوران سی فوڈ کی برآمدات کا کل حجم ایک کروڑ 88 ڈالر تک پہنچ گیا، گزشتہ سال کی اسی مدت میں برآمدات کا حجم ایک کروڑ 77 لاکھ ڈالر تھا، پی بی ایس
    دنیا بھر میں پاکستان کی سی فوڈ کی طلب میں بتدریج اضافے کا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے جبکہ اگست2019 کے دوران عالمی منڈیوں میں پاکستانی سی فوڈ کی برآمدات 6.2 فیصد بڑھ گئیں جس میں مزید اضافہ متوقع ہے،

    ملائشیا میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر میں کتنا ہوا اضافہ؟ خبر آ گئی

  • پنجاب حکومت کی بڑی کامیابی

    پنجاب حکومت کی بڑی کامیابی

    رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پنجاب حکومت نے پچھلے سال کی نسبت 44 فیصد زیادہ ٹیکس اکٹھا کر کے باقی صوبوں کو پیچھے چھوڑ دیا،
    وسائل کے وفاقی تقسیم کے تدارک میں صوبوں کے لئے حصہ لینے کے لئے وفاقی حکومت کی سخت شرائط کے باوجود ، گذشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلہ میں رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پنجاب کے ٹیکس وصولی میں 44 فیصد اضافے سے 77 ارب روپے تک کا اضافہ ہوا ہے۔ وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جوان بخت نے پیر کو محکمہ خزانہ کے جائزہ اجلاس میں اس کا انکشاف کیا۔

    ہنڈائی موٹرز موبلٹی ٹیکنالوجی پر کتنے بلین ڈالر خرچ کرے گی؟ خبر آ گئی

    اجلاس کو بتایا گیا کہ سابقہ ​​حکومت کے مالی اعداد وشمار کے باوجود موجودہ حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) قرض پروگرام کی شرائط کی تعمیل کے لئے وفاقی حکومت کی مالی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے 233 ارب روپے کا فاضل بجٹ دیا، اجلاس کے شرکاء نے نوٹ کیا کہ رواں مالی سال 2019۔20 کے لئے پنجاب کے لئے 388 ارب روپے کے محصولات جمع کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا ، جو پچھلے مالی سال سے 44 فیصد زیادہ تھا۔

    مہاتیر محمد نے بھارت سے تجارت کے متعلق اہم اعلان کر دیا