Baaghi TV

Category: کاروبار

  • اسٹاک مارکیٹ میں تیزی،انڈیکس 1 لاکھ 14 ہزار کی ریکارڈ سطح پر بند

    اسٹاک مارکیٹ میں تیزی،انڈیکس 1 لاکھ 14 ہزار کی ریکارڈ سطح پر بند

    کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مسلسل مثبت کاروبار کے باعث 100 انڈیکس بلند ترین سطح پر برقرار رہی۔

    باغی ٹی وی :کاروباری ہفتے کے چوتھے روز بھی پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں کاروبار میں تیزی دیکھی گئی، جہاں کاروبار کے آغاز پر 100 انڈیکس میں 2671 پوائنٹس کا اضافہ ہوا،جس کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں بینچ مارک 100 انڈیکس پہلی بار ایک لاکھ 13 ہزار 400 پوائنٹس کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا۔

    کاروبار کے اختتام پر ہنڈریڈ انڈیکس 3377 پوائنٹس اضافے سے ایک لاکھ 14 ہزار 180 کی ریکارڈ سطح پر بند ہوا، مارکیٹ میں 463 کمپنز کے 64 ارب 39 کروڑ روپے مالیت کے ایک ارب 45 کروڑ شیئرز کے سودے کئے گئے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ کاروباری روز کے اختتام پر پاکستان سٹاک ایکسچینج میں 100 انڈیکس 1913 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 1 لاکھ 11 ہزار 810 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا تھا۔

    دوسری جانب پاکستان میں آج پھر سونے کی قیمت میں ہزاروں روپے کا اضافہ دیکھا گیا ہےآل پاکستان جیمز اینڈ جیولر ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 2300 روپے کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد سونے کی قیمت 2 لاکھ 82 ہزار 800 ہوگئی ہے،ایسوسی ایشن کے مطابق اسی طرح 10 گرام سونے کا بھاؤ 1971 روپے اضافے کے بعد 2 لاکھ 42 ہزار 455 روپے ہےدوسری جانب عالمی مارکیٹ میں سونے کا بھاؤ 23 ڈالر اضافے سے 2716 ڈالر فی اونس ہے۔

  • اسلامی مالیاتی نظام پر منتقلی کے سفر میں سب نے مل کر چلنا ہے.وزیر خزانہ

    اسلامی مالیاتی نظام پر منتقلی کے سفر میں سب نے مل کر چلنا ہے.وزیر خزانہ

    اسلام آباد: وزیر خزانہ، محمد اورنگزیب نے اسلامک کیپیٹل مارکیٹس کانفرنس کے حوالے سے زوم پر خطاب کرتے ہوئے اظہار خیال کیا اور مختلف مالیاتی اداروں کی کاوشوں کی تعریف کی۔

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ یہ کانفرنس پاکستان کی اسلامی مالیاتی مارکیٹ کے حوالے سے ایک اہم قدم ہے اور اس کے انعقاد پر پاکستان کے مالیاتی اداروں جیسے ایس ای سی پی (سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان)، ایوفی (اسلامی فنانس انسٹی ٹیوٹ) اور اسلامی ترقیاتی بینک کو مبارکباد پیش کی۔وزیر خزانہ نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ خود اس کانفرنس میں کراچی آ کر شرکت کرنا چاہتے تھے لیکن اپنی مصروفیات کے باعث وہاں نہیں پہنچ سکے۔ تاہم، انہوں نے بیرونی مندوبین کو پاکستان میں خوش آمدید کہا اور اس بات کا یقین دلایا کہ پاکستان اسلامی مالیاتی مارکیٹس کے فروغ کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلامی کیپیٹل مارکیٹس کانفرنس کا انعقاد اس بات کا عکاس ہے کہ پاکستان کا مالی نظام شریعہ اصولوں پر منتقلی کی جانب گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منتقلی کی راہ میں پیش رفت انتہائی حوصلہ افزا ہے اور یہ ایک مثبت تبدیلی کا نشان ہے جو نہ صرف مالیاتی شعبے کو مستحکم کرے گی بلکہ ملک کی معیشت کو بھی تقویت دے گی۔وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ اسلامی مالیاتی نظام کی طرف منتقلی کے اس سفر میں تمام اداروں اور افراد کو یکجا ہو کر کام کرنا ہوگا۔ شریعہ اصولوں پر مبنی مالیاتی مصنوعات تیار کرنا اور ان مصنوعات سے صارف کا اعتماد حاصل کرنا اس تبدیلی کی بنیاد ہے۔ یہ صرف ایک مالیاتی تبدیلی نہیں بلکہ معاشرتی اور اقتصادی تبدیلی کی طرف بھی ایک قدم ہے۔

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا بھر میں اسلامی مالیاتی خدمات کی مانگ بڑھ رہی ہے، اور پاکستان کو اس بڑھتی ہوئی عالمی طلب کا فائدہ اٹھانے کے لئے اپنی مالیاتی مارکیٹوں کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت عالمی سطح پر اسلامی فنانشل خدمات کے لیے ایک نیا رجحان دیکھنے کو مل رہا ہے اور پاکستان کو اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنے کے لیے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔وزیر خزانہ نے ایس ای سی پی کے کردار کو سراہا اور کہا کہ یہ ادارہ اسلامی کیپیٹل مارکیٹس کے لیے ایک مضبوط ریگولیٹری ماحول فراہم کر رہا ہے تاکہ مالیاتی ادارے شفافیت اور اخلاقی اصولوں کے تحت کام کر سکیں۔ ایس ای سی پی کا یہ عمل مالیاتی شعبے کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے بھی اہم ہے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد حاصل کیا جا سکے اور ملکی معیشت میں استحکام آئے۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اپنے خطاب کے آخر میں اس بات کا اعادہ کیا کہ اسلامی مالیاتی نظام کی طرف منتقلی کے عمل میں حکومت اور مالیاتی ادارے مل کر کام کر رہے ہیں اور اس کی کامیابی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔

    سپریم کورٹ،پریکٹس پروسیجر آرڈیننس کے خلاف درخواستیں خارج

    ڈونلڈ ٹرمپ کی چینی صدر کو حلف برداری تقریب میں شرکت کی دعوت

    ریڈ بال کوچ ٹم نیلسن کا پاکستانی ٹیم کے ساتھ سفر اختتام پذیر

  • سونے کی فی تولہ قیمت میں 3100 روپے کا اضافہ

    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3100 روپے کا اضافہ

    کراچی: عالمی بلین مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات مقامی مارکیٹوں پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔ بدھ کے روز عالمی سطح پر فی اونس سونے کی قیمت میں 31 ڈالر کا اضافہ ہوا، جس کے بعد سونے کی قیمت 2693 ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی۔

    عالمی بلین مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اضافے کے بعد مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی سونے کی قیمتوں میں زبردست اضافہ دیکھنے کو ملا۔ 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت میں 3100 روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 280500 روپے تک پہنچ گئی۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں 2658 روپے کا اضافہ ہوا، اور اس کی قیمت 240484 روپے کی سطح پر جا پہنچی۔اسی دوران، چاندی کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ فی تولہ چاندی کی قیمت میں 50 روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 3450 روپے پر پہنچ گئی۔ 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 42.86 روپے کے اضافے سے 2957.81 روپے تک جا پہنچی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں اضافے کا اثر مقامی مارکیٹ پر پڑا ہے، اور اس کی قیمتیں مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ، عالمی معیشت اور سیاسی صورتحال بھی سونے کی قیمتوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں اس اضافے کے بعد لوگوں کو اپنے سرمایہ کاری کے فیصلے دوبارہ سے دیکھنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

  • پاکستان کی معیشت استحکام کی جانب گامزن،سروے میں خوش آئند اشارے

    پاکستان کی معیشت استحکام کی جانب گامزن،سروے میں خوش آئند اشارے

    پاکستان کی معیشت میں گزشتہ سال کے دوران قابلِ ذکر بہتری آئی ہے، جس کا مظاہرہ حالیہ کنزیومر کانفیڈنس انڈیکس کے چوتھے سہ ماہی کے سروے کے نتائج میں ہوا ہے۔ اس سروے کے مطابق پاکستان کی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے، اور عوام کی اقتصادی حالت پر اعتماد میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    کنزیومر کانفیڈنس انڈیکس کے چوتھے سہ ماہی کے سروے کے نتائج کے مطابق، پاکستان میں اقتصادی بہتری پر اُمید میں 19 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں بدستور تیزی کا رجحان برقرار ہے، اور چوتھی سہ ماہی کے دوران کئی اقتصادی ریکارڈز بھی قائم ہوئے ہیں۔ سروے کے مطابق، پاکستان میں ستمبر 2023 کے بعد اقتصادی حالت کو مضبوط قرار دینے والے افراد کی تعداد میں چار گنا اضافہ ہوا ہے۔2024 میں پاکستان میں مہنگائی ساڑھے تین سال کی کم ترین سطح تک پہنچ چکی ہے، جس سے عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اسی طرح، مقامی معیشت کے حوالے سے 19 فیصد افراد اگلے 6 ماہ میں اقتصادی بہتری کی توقع رکھتے ہیں۔ پاکستان میں کمزور اقتصادی حالات کا تاثر 9 فیصد کم ہوا ہے، اور اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عوام میں معیشت کے حوالے سے پُر امیدی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    اس سروے کے ایک اور اہم پہلو میں پاکستان نے ترکیہ کو عالمی صارف اعتماد کے انڈیکس میں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ یہ امر پاکستان کی معیشت کے استحکام کی جانب اشارہ کرتا ہے، اور عالمی سطح پر پاکستان کی اقتصادی صورتحال کو بہتر سمجھا جا رہا ہے۔سروے کے مطابق، پاکستانیوں کی گھریلو خریداری کی صلاحیت میں 6 پوائنٹس کی بہتری آئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقامی افراد کی مالی حالت بہتر ہو رہی ہے۔ مزید برآں، پاکستانیوں کا مقامی اقتصادی حالات پر اعتماد 20 فیصد بڑھا ہے، جبکہ عدم اعتماد میں نمایاں کمی آئی ہے۔ملازمت کے تحفظ پر اعتماد میں مسلسل استحکام دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اس سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانیوں کو اپنی ملازمتوں کے بارے میں مزید اعتماد حاصل ہو رہا ہے، جو کہ ایک مثبت اقتصادی اشارہ ہے۔

    یہ سروے اپسوس گلوبل کنزیومر کانفیڈنس انڈیکس کا حصہ ہے، جو ایک عالمی سطح پر اہم سروے مانا جاتا ہے۔ یہ انڈیکس صارفین کے معاشی حالات اور سرمایہ کاری کی صلاحیت کو اجاگر کرتا ہے، اور عالمی سطح پر ممالک کی اقتصادی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ اس انڈیکس کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی معیشت ایک مثبت راستے پر گامزن ہے، اور مستقبل میں مزید ترقی کی امید ہے۔

    پاکستان کی معیشت کے حوالے سے حالیہ کنزیومر کانفیڈنس انڈیکس کے نتائج نے عوام میں پُر امیدی کی لہر پیدا کی ہے۔ معاشی استحکام، مہنگائی میں کمی، اور عوامی اعتماد میں اضافہ یہ سب اشارے ہیں کہ پاکستان کی معیشت اب استحکام کی جانب گامزن ہے اور عالمی سطح پر اس کی اقتصادی پوزیشن مضبوط ہو رہی ہے۔ ان مثبت رجحانات کے جاری رہنے کی صورت میں پاکستان کی معیشت 2024 اور اس کے بعد مزید ترقی کر سکتی ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ، عدالت کی توہین کا سوچ بھی نہیں سکتا، سیکرٹری داخلہ کا جواب

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی کیمونسٹ پارٹی آف چائنہ کے چائنامیوزیم آمد

    تنقید نہیں جمہوری حمایت کرو، پاکستان کا امریکہ سےمطالبہ

    مزید 34 فلسطینی شہید، جنرل اسمبلی میں فوری جنگ بندی پر ووٹنگ آج ہوگی

  • ملک بھر میں سونے کی قیمت میں  مزید اضافہ

    ملک بھر میں سونے کی قیمت میں مزید اضافہ

    کراچی: ملک بھر میں سونے کی قیمت میں آج مزید اضافہ ہواہے۔

    باغی ٹی وی: آل پاکستان جیمز اینڈ جیولر ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر میں سونے کی فی تولہ قیمت میں ایک ہزار روپے کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد فی تولہ سونے کی قیمت 2 لاکھ 77 ہزار 400 روپے ہوگئی ہے ایسوسی ایشن کے مطابق 10گرام سونے کا بھاؤ 858 روپے اضافے سے 2 لاکھ37 ہزار 826 روپے ہے،دوسری جانب عالمی بازار میں سونے کا بھاؤ 10 ڈالر اضافے سے 2662 ڈالر فی اونس ہے۔

    جبکہ سونے کی قیمتوں میں اضافے کے برعکس فی تولہ چاندی کی قیمت بغیر کسی تبدیلی کے 3400 روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت بھی بغیر کسی تبدیلی کے 2914.95روپے کی سطح پر مستحکم رہی۔

  • ماہرین معیشت نے سول نافرمانی کو ملک سے غداری قرار دے دیا

    ماہرین معیشت نے سول نافرمانی کو ملک سے غداری قرار دے دیا

    ماہرین معیشت نے سول نافرمانی کو ملک سے غداری قرار دے دیا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ڈائریکٹر احمد چنائے کا کہنا ہے کہ سول نافرمانی ملک سے غداری ہے، ملک بہتری کی جانب گامزن ہے۔آل کراچی سٹی تاجر اتحاد کے صدر حماد پونے والا نے کہا کہ پروپیگنڈا چلایا جایا رہا ہے، جان بوجھ کر ایسا کیا جا رہا ہے۔راول انسٹیٹیوٹ ہیلتھ سائنسز کے چیئرمین خاقان خواجہ نے کہا کہ سول نافرمانی ملک کے حق میں نہیں۔ماہر معیشت چوہدری اکمل نے کہا کہ کمپین نے انارکی جیسا محول پیدا کر دیا، ریمیٹنسز کم ہوں گی تو زرمبادلہ کے ذخائر پر بوجھ پڑے گا۔آل پاکستان انجمنِ تاجران کے صدر جاوید ارسلا خان نے کہا کہ معیشت بہتری کی طرف گامزن ہے۔ روات انڈسٹریل بورڈ کے چیئرمین چوہدری ندیم نے کہا کہ سول نافرمانی سے نقصان ہوگا۔ایف سی سی آئی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین زاہد حسین نے کہا کہ دھرنے کی سیاست غلط ہو گی، قوم اکھٹے ہو کر مذموم ایجنڈے کا بائیکاٹ کرے۔ آئرن اسٹیل ملز کے صدر آصف مارفانی نے کہا کہ معیشت کو بہتر کر سکتے ہیں۔

    گورنر ہائوس کراچی میں سندھ کلچرل فیسٹیول کا انعقاد

    کراچی میں 2 روز کیلئے دفعہ 144 نافذ

    وزیراعلی سندھ سے مشیر اطالوی وزارت دفاع کی وفد سمیت ملاقات

  • پاکستان اسٹاک ایکسچینج،100 انڈیکس ایک لاکھ 10 ہزار سے تجاوز کر گیا

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج،100 انڈیکس ایک لاکھ 10 ہزار سے تجاوز کر گیا

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں کاروباری ہفتے کے پہلے روز ایک نیا تاریخی سنگ میل عبور کیا گیا ہے، جب 100 انڈیکس ایک لاکھ 10 ہزار کی سطح تک پہنچ گیا۔ یہ کامیابی مارکیٹ میں ہونے والی تیزی اور سرمایہ کاروں کی اعتماد کی بدولت ممکن ہوئی ہے۔

    پیر کو کاروبار کا آغاز منفی رجحان کے ساتھ ہوا اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے 100 انڈیکس میں 678 پوائنٹس کی کمی آئی، جس کے نتیجے میں انڈیکس 109375 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔ تاہم، کاروبار کے دوران مارکیٹ میں بہتری آئی اور انڈیکس میں تیزی دیکھنے کو ملی۔کاروبار کے دوران انڈیکس میں اضافہ ہوا، اور کچھ ہی دیر بعد انڈیکس 109868 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔ اس کے بعد مارکیٹ نے ایک اور نیا ریکارڈ بنایا اور انڈیکس میں مزید اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں 100 انڈیکس 1044 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ ایک لاکھ 10 ہزار 98 تک جا پہنچا۔ یہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی تاریخ میں ایک اور سنگ میل ثابت ہوا۔

    سال 2024 میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے شاندار پرفارمنس کا مظاہرہ کیا ہے، اور اب تک 100 انڈیکس میں 70 فیصد کا اضافہ ہو چکا ہے۔ اس زبردست اضافہ نے سرمایہ کاروں اور مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کو حیران کن طور پر متاثر کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ترقی ملک کی معیشت میں بہتری اور کاروباری ماحول کی استحکام کی علامت ہے۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی اس شاندار کارکردگی کو دیکھتے ہوئے امید کی جا رہی ہے کہ ملک کی معیشت میں مزید بہتری آئے گی، اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج آنے والے دنوں میں مزید ترقی کرے گا۔ سرمایہ کاروں کے لیے یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے، کیونکہ یہ انہیں مثبت سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرتی ہے۔اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جاری ترقی کا اثر ملکی معاشی استحکام، حکومت کی پالیسیوں اور بیرونی سرمایہ کاری پر بھی پڑے گا۔ امید کی جا رہی ہے کہ 2024 کے باقی حصے میں مارکیٹ اسی رفتار سے ترقی کرے گی۔

  • سیلز ٹیکس کی چوری سے  کاروباری ماڈلز کا استحکام نہیں ہو سکتا۔وزیر خزانہ

    سیلز ٹیکس کی چوری سے کاروباری ماڈلز کا استحکام نہیں ہو سکتا۔وزیر خزانہ

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ سیلز ٹیکس کی چوری سے ملک میں کاروباری ماڈلز کا استحکام نہیں ہو سکتا۔

    کراچی میں اوورسیز چیمبرز آف کامرس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کی مفید پالیسیوں کی بدولت ملکی معیشت مستحکم ہو رہی ہے اور مہنگائی میں بتدریج کمی آ رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ تمام ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان میں بہتر زرِ مبادلہ کما رہی ہیں اور یہ کمپنیاں عالمی سطح پر پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ، انہوں نے بتایا کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں نے گزشتہ سال 2.2 ارب ڈالر کا منافع بیرون ملک بھیجا ہے۔وزیر خزانہ نے ان کمپنیوں کو یہ بھی مشورہ دیا کہ وہ اپنی ایکسپورٹ بڑھائیں، کیونکہ پرائیویٹ سیکٹر کو معیشت کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کرنا ہے۔ "پرائیویٹ سیکٹر نے ہی معیشت کو لیڈ کرنا ہے،”

    محمد اورنگزیب نے یہ بھی کہا کہ سرمایہ کاروں کو سہولتیں فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے "میڈ ان پاکستان” مصنوعات کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات ناگزیر ہیں، تاکہ ملکی معیشت کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ رواں مالی سال میں 35 ارب ڈالر سے زائد ترسیلات زر کا امکان ہے، جو کہ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک اچھا اشارہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کنٹرول کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور اس مقصد کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ پیٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس لگانے کی کوئی بات نہیں ہو رہی۔ایک سوال کے جواب میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ کے خلاف سخت کارروائی کی ہے اور اس سلسلے میں 900 سے زائد جعلی پیٹرول پمپس کو سیل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ ملک کے خزانے کے لیے نقصان دہ ہے اور اس کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رہے گا۔

    وزیر خزانہ نے یہ بھی کہا کہ سیلز ٹیکس چوری سے ملکی کاروباری ماڈلز میں استحکام نہیں آ سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیلز ٹیکس چوری کے باعث گزشتہ 6 برسوں میں حکومت کو 6 ٹریلین روپے کا نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سیلز ٹیکس کی چوری کو روکنے کے لیے سخت اقدامات نہ کیے گئے تو معیشت کی ترقی متاثر ہو گی۔  اداروں کی اصلاح کی ضرورت ہے تاکہ یہ قومی معیشت کے لیے مثبت کردار ادا کر سکیں۔

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی اس گفتگو سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حکومت معیشت کی مضبوطی کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے، بشمول کاروباری ماحول میں اصلاحات، سیلز ٹیکس چوری کے خلاف کریک ڈاؤن، اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اقدامات۔ ان کا کہنا تھا کہ معاشی استحکام اور ترقی کے لیے حکومت کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سیکٹر کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔

    سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانات،پروپیگنڈہ،مزید 7 ملزمان پر مقدمہ

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

  • پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات میں خوشگوار تبدیلی

    پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات میں خوشگوار تبدیلی

    ایک طویل عرصے تک پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان کشیدہ تعلقات میں اب خوشگوار تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے

    5 اگست کو بھارتی کٹھ پتلی حسینہ واجد کی حکومت کا عوامی انقلاب سے خاتمہ اور عبوری حکومت کا قیام بھارت کے منہ پر طمانچہ ہے،پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تجارت اوربراہ راست ہوائی سفر طویل عرصے سے تعطل کا شکار تھا،اب بنگلہ ڈیش کے ڈپٹی ہائی کمشنر ایس ایم محبوب عالم نے اعلان کیا ہے کہ ” دونوں ممالک کے درمیان براہ راست پروازیں شروع ہوں گی، جس سے تجارتی تعلقات میں اضافہ ہوگا” ”حیدرآباد چیمبر آف سمال ٹریڈرس اینڈ سمال انڈسٹری کے تعاون سے دونوں ممالک کے درآمد کنندگان و برآمد کنندگان کے لیے نمائش منعقد کی جائے گی”

    ایس ایم محبوب عالم نے پاکستان کی کاروباری برادری کو جنوری 2025 میں ڈھاکہ میں ہونے والی تجارتی نمائش میں شرکت کی دعوت بھی دی ہے،اور کہا کہ ”بنگلہ دیش 80 ممالک کو اپنی مصنوعات برآمد کرتا ہے اور پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات میں مزید اضافہ کرنے کی ضرورت ہے”

    حیدرآباد چیمبر کے صدر محمد سلیم میمن نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے تجارتی تعلقات میں اہم پیشرفت پر روشنی ڈالی،اس موقع پر حیدر آباد چیمبر کے صدر نے 11 نومبر کو پاکستان سے بنگلہ دیش کیلئے پہلی براہ راست کارگو کا بھی ذکر کیا،حیدرآباد چیمبر کے صدرنے بنگلہ دیشی تاجروں کو پاکستان میں نمائشوں میں شرکت کی ترغیب دی اور کہا کہ ”پاکستانی تاجروں کو بنگلہ دیش میں شرکت کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت پر زور دیاجائے”محمد سلیم میمن نے ڈھاکہ میں پاکستانی مصنوعات کے برآمد کنندگان کو درپیش کسٹم کلیئرنس کے مسائل کی نشاندہی کی اور ان کے فوری حل کی ضرورت پر زور دیا

    معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ”پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات کی بہتری سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم بڑھے گا””پاکستان سے براہ بنگلہ دیش کی پروازوں سے دونوں ممالک کی تاجر برادری فائدہ اٹھا کر کاروبار کو وسعت دی سکتی ہے”

  • پی ایس ایکس میں تیزی کا رجحان برقرار ،100 انڈیکس ایک لاکھ8 ہزار 238  پوائنٹس پر بند

    پی ایس ایکس میں تیزی کا رجحان برقرار ،100 انڈیکس ایک لاکھ8 ہزار 238 پوائنٹس پر بند

    کراچی: پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان برقرار ہے، بینچ مارک 100 انڈیکس تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔

    باغی ٹی وی : پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے چوتھے روز 100 انڈیکس میں دن کا آغاز ایک لاکھ 5 ہزار 104 پوائنٹس سے ہوا کاروبار کے اختتام پر 100 انڈیکس مجموعی طور پر 3 ہزار 134 پوائنٹس اضافے سے ایک لاکھ8 ہزار 238 پوائنٹس پر بند ہوا، آج کاروبار کے دوران 100 انڈیکس نے نئی بلند ترین سطح ایک لاکھ 8 ہزار 345 پوائنٹس بنائی-

    بازار میں آج 1.64 ارب شیئرز کے سودے 63 ارب روپے میں طے ہوئے جبکہ مارکیٹ کیپٹلائزیشن 388 ارب روپے اضافے سے 13 ہزار 745 ارب روپے ہے،بازار میں آج مسلسل چوتھے روز ایک ارب سے زائد شیئرز کے سودے ہوئے ہیں، گزشتہ روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے 100 انڈیکس نے ایک لاکھ 5 ہزار کا ہندسہ عبور کیا تھا۔

    دوسری جانب عالمی اور مقامی گولڈ مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں ایک روز بعد دوبارہ اضافہ ہوگیا ہے۔

    جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی مارکیٹ زیر اثر ملک میں 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت 500 روپے بڑھ کر 2 لاکھ 75 ہزار 700 روپے ہوگئی جبکہ 10 گرام سونے کا بھاؤ 428 روپے اضافے سے 2 لاکھ 36 ہزار 368 روپے ہوگئے،جبکہ عالمی مارکیٹ میں سونے کی فی اونس قیمت 5 ڈالر بڑھ کر 2645 ڈالر ہوگئی۔

    علاوہ ازیں انٹربینک میں ڈالر سستا ہونے سے روپے کی قدر میں بہتری آنے لگی ہے،کاروباری ہفتے کے چوتھے روز انٹر بینک میں امریکی کرنسی مزید 12 پیسے سستی ہوئی ہے، جس کے بعد انٹر بینک میں ڈالر 277 روپے 92 پیسے سے کم ہو کر 277 روپے 80 پیسے پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔