Baaghi TV

Category: کاروبار

  • پی ایس ایکس میں تیزی کا رجحان برقرار ،100 انڈیکس ایک لاکھ8 ہزار 238  پوائنٹس پر بند

    پی ایس ایکس میں تیزی کا رجحان برقرار ،100 انڈیکس ایک لاکھ8 ہزار 238 پوائنٹس پر بند

    کراچی: پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان برقرار ہے، بینچ مارک 100 انڈیکس تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔

    باغی ٹی وی : پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے چوتھے روز 100 انڈیکس میں دن کا آغاز ایک لاکھ 5 ہزار 104 پوائنٹس سے ہوا کاروبار کے اختتام پر 100 انڈیکس مجموعی طور پر 3 ہزار 134 پوائنٹس اضافے سے ایک لاکھ8 ہزار 238 پوائنٹس پر بند ہوا، آج کاروبار کے دوران 100 انڈیکس نے نئی بلند ترین سطح ایک لاکھ 8 ہزار 345 پوائنٹس بنائی-

    بازار میں آج 1.64 ارب شیئرز کے سودے 63 ارب روپے میں طے ہوئے جبکہ مارکیٹ کیپٹلائزیشن 388 ارب روپے اضافے سے 13 ہزار 745 ارب روپے ہے،بازار میں آج مسلسل چوتھے روز ایک ارب سے زائد شیئرز کے سودے ہوئے ہیں، گزشتہ روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے 100 انڈیکس نے ایک لاکھ 5 ہزار کا ہندسہ عبور کیا تھا۔

    دوسری جانب عالمی اور مقامی گولڈ مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں ایک روز بعد دوبارہ اضافہ ہوگیا ہے۔

    جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی مارکیٹ زیر اثر ملک میں 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت 500 روپے بڑھ کر 2 لاکھ 75 ہزار 700 روپے ہوگئی جبکہ 10 گرام سونے کا بھاؤ 428 روپے اضافے سے 2 لاکھ 36 ہزار 368 روپے ہوگئے،جبکہ عالمی مارکیٹ میں سونے کی فی اونس قیمت 5 ڈالر بڑھ کر 2645 ڈالر ہوگئی۔

    علاوہ ازیں انٹربینک میں ڈالر سستا ہونے سے روپے کی قدر میں بہتری آنے لگی ہے،کاروباری ہفتے کے چوتھے روز انٹر بینک میں امریکی کرنسی مزید 12 پیسے سستی ہوئی ہے، جس کے بعد انٹر بینک میں ڈالر 277 روپے 92 پیسے سے کم ہو کر 277 روپے 80 پیسے پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔

  • وزیراعظم کی ملک میں ٹیکسیشن کو مؤثر ، تیز تر بنانے کی ہدایت

    وزیراعظم کی ملک میں ٹیکسیشن کو مؤثر ، تیز تر بنانے کی ہدایت

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملکی معاشی صورتحال اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی ڈیجیٹائز یشن کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا

    اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار ، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب ، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ ، وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات علی پرویز ملک اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی ۔اجلاس کو ایف بی آر کی ڈیجیٹائز یشن میں پیشرفت بارے بریفنگ دی گئی، بتایا گیا کہ ایف بی آر کی ویلیو چین کی ڈیجیٹائز یشن سی متعلق تمام کام مارچ 2025 تک مکمل ہو جائے گا،شوگر انڈسٹری کی ویڈیو اینالیٹیکس کی تنصیب کا کام مکمل ہو چکا ہے ،سیمنٹ انڈسٹری کی ویڈیو اینالیٹیکس کی تنصیب کے حوالے سے ڈیزائن کا کام مکمل ہو چکا ہے ،وزیراعظم نےسیمنٹ انڈسٹری کی ویڈیو اینالیٹیکس کی تنصیب کا کام جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی، بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل انوائسنگ کے لئے سسٹم ڈیزائن کا کام مکمل ہو چکا ہے،چھوٹے کاروباروں کی ڈیجیٹل انوائسنگ کے حوالے سے موبائل فون ایپلی کیشن اس مہینے کے آخر تک مکمل کر لی جائے گی،پرآل کا نیا بورڈ تشکیل دیا جا چکا ہے ،پرآل کا ہارڈ ویئر اور ڈیٹا سینٹر اپ گریڈ کیا جا رہا ہے،فیس لیس کسٹمز اسیسمینٹ کے حوالے سے سینٹرل اسیسمینٹ یونٹ کراچی میں قائم کیا جا چکا ہے جو کہ 31 دسمبر 2024 سے کام کا آغاز کر دے گا

    وزیراعظم شہبا زشریف کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن حکومت کی اہم معاشی اصلاحات میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے،وزیراعظم نےمحصولات میں اضافے کے لیے ڈیٹا پر مبنی حکمت عملی پر زور دیا اور کہا کہ ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن کے حوالے سے اہم پیشرفت ہوئی ہے، اس حوالے سے وفاقی وزیر خزانہ ، وزیر مملکت برائے خزانہ ،چئیر مین ایف بی آ ر، سیکریٹری خزانہ کی کوششیں لائق تحسین ہیں،معاشی ٹیم کی کوششوں کے ثمرات آنا شروع ہو گئے ہیں ، فسکل اسپیس بڑھنا خوش آئند ہے

    وزیراعظم نے ملک میں ٹیکسیشن کو مؤثر ، تیز تر بنانے کی ہدایت کی،وزیراعظم نے محصولات کے نفاذ اور اس حوالے سے بنائی گئی حکمت عملی پر عملدرآمد کے حوالے سے سخت اقدامات کی ہدایت کی،وزیراعظم نے ایف بی آر ڈیجیٹائز یشن کے حوالے سے اہم کاموں کو 31 دسمبر 2024 تک مکمل کرنے کی ہدایت کی،

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اسمگل شدہ ایندھن کے خلاف سخت کریک ڈاؤن اور پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی وجہ سے، پاکستان کی پیٹرولیم کی فروخت نومبر 2024 میں 25 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جو 1.58 ملین ٹن تک رہی کو کہ انتہائی خوش آئند ہے،پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں سال بہ سال (YoY) 15 فیصد اضافہ ہوا ، جو توانائی کی مارکیٹ میں بحالی کی نشاندہی کرتا ہے ،وزیراعظم شہباز شریف نے پیٹرول کی اسمگلنگ کے خلاف مزید سخت کاروائی کی ہدایت کی، وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ چینی کی برآمد کے بروقت فیصلے کی بدولت پاکستان کو 500 ملین کا قیمتی زر مبادلہ ملا ،

    خیبر پختونخوا حکومت، پی ٹی آئی رہنما عاطف خان کو دوسرے کیس میں نوٹس جاری

    عاطف خان کی طلبی، پی ٹی آئی میں اختلافات

    اینٹی کرپشن میں طلبی،عاطف خان بولے،اب کھل کو بولوں گا

    فیض حمید کو میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بنائیں گے،عمران خان

  • معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن موجودہ دور کی ضرورت بن چکی ہے،وزیرخزانہ

    معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن موجودہ دور کی ضرورت بن چکی ہے،وزیرخزانہ

    اسلام آباد: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ڈھانچہ جاتی اصلاحات پائیدار اقتصادی ترقی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہیں اور یہی حکومت کے پالیسی ایجنڈے کا بنیادی ستون ہیں۔

    وزیر خزانہ نے آج معاشی ترقی کی راہ میں اہم سنگ میل ثابت ہونے والے "ای ایس جی سسٹین پورٹل” کا افتتاح کیا۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ یہ پورٹل کمپنیوں کے لیے ایک "ون ونڈو سلوشن” فراہم کرے گا، جو کہ دستاویزات کی ڈیجیٹل فائلنگ اور سرمایہ کاروں کو آسانی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس پورٹل کے ذریعے نہ صرف کاروباری عمل کو مزید سہل بنایا جائے گا بلکہ اس سے معیشت کے مختلف شعبوں میں شفافیت اور کارکردگی بھی بہتر ہوگی۔وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن موجودہ دور کی ضرورت بن چکی ہے، اور یہ عمل نہ صرف کاروباری سہولتوں میں اضافہ کرے گا بلکہ محصولات کی وصولی میں بھی شفافیت لائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اینڈ ٹو اینڈ ڈیجیٹائزیشن سے معیشت کی نگرانی اور انتظامی عمل میں بہتری آئے گی، جس سے ملک کی مالی حیثیت مضبوط ہوگی۔

    انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ معاشی ترقی کے لیے نجی شعبے کو آگے آنا ہوگا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کا یہ ماننا ہے کہ نجی شعبے کی شراکت داری سے ہی معیشت کی رفتار میں تیزی آ سکتی ہے اور ملک کی اقتصادی ترقی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نجی شعبے کے ساتھ تعاون بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے تاکہ سرمایہ کاری کے مواقع بڑھ سکیں اور کاروباری ماحول مزید سازگار ہو۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت ہر ممکن کوشش کرے گی کہ معیشت کو استحکام ملے اور ملک کی اقتصادی ترقی کی رفتار تیز ہو۔ وزیر خزانہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان اصلاحات کی بدولت نہ صرف ملکی معیشت کو فائدہ پہنچے گا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی معاشی پوزیشن بھی مستحکم ہو گی۔

    اس موقع پر ای ایس جی سسٹین پورٹل کے تکنیکی ماہرین اور کاروباری شخصیات بھی موجود تھیں، جنہوں نے پورٹل کی افادیت اور اس کے ذریعے معیشت میں بہتری لانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔

    خیبر پختونخوا حکومت، پی ٹی آئی رہنما عاطف خان کو دوسرے کیس میں نوٹس جاری

    عاطف خان کی طلبی، پی ٹی آئی میں اختلافات

    اینٹی کرپشن میں طلبی،عاطف خان بولے،اب کھل کو بولوں گا

    فیض حمید کو میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بنائیں گے،عمران خان

    فیض حمید عبرت کا نشان،عمران کا نشہ بند، بشریٰ پر فیض کا فیض

    فیض حمید کے بارے مبشر لقمان کے پروگرام کھرا سچ میں محسن بیگ کے چشم کشا انکشافات

    فیض حمید کی گرفتاری پر نہ ڈرا ہوں نہ گھبرایا ہوں،عمران خان

  • خنجراب پاس کو تجارت کے لئے سال بھر کے لیے فعال کر دیا گیا

    خنجراب پاس کو تجارت کے لئے سال بھر کے لیے فعال کر دیا گیا

    خنجراب پاس کو پاکستان، چین اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے درمیان تجارت کے لیے سال بھر کے لیے فعال بنادیا گیا ۔ یہ اہم سنگ میل آزادی کے 77 سال بعد پہلی بارعبور کیا گیا.خنجراب پاس سے مشینری، ٹیکسٹائل، الیکٹرانکس اور اشیاء خورد و نوش سمیت دیگر تجارتی سامان کی نقل و حرکت ہوتی ہے، جو ہمسایہ ممالک کی معاشی ترقی کے لئے نہائت اہمیت کا حامل ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران، پاکستان نے اس راستے کو وسطی ایشیائی ریاستوں خصوصاً تاجکستان، کرغزستان اور قازقستان کو صنعتی اور زرعی مصنوعات کی ترسیل کے لیے بھی استعمال کیا ہے۔ خنجراب پاس کے سال بھر کھلنے سے چین، پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے جس سے علاقائی تجارت کو فروغ ملے گا۔نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن (این ایل سی) نے سوست ڈرائی پورٹ پر سرحد پار تجارت کے لئے جامع اقدامات اٹھائے ہیں جن میں حکام اور تاجر برادری کے لئے سینٹرل ہیٹنگ سسٹم کی تنصیب اور دیگر سہولیات شامل ہیں۔ ان سہولیات کا مقصد سال بھر تجارتی سرگرمیوں کو خوش اصلوبی سے سر انجام دینا ہے

  • فوکس واگن شدید بحران سے دوچار،متعدد پلانٹس کو بند کرنے کا اعلان،ورکرز کی ہڑتال

    فوکس واگن شدید بحران سے دوچار،متعدد پلانٹس کو بند کرنے کا اعلان،ورکرز کی ہڑتال

    جرمنی کی میٹل ورکرز کی صنعت کی یونین ’’ای جی میٹال‘‘ نے جرمن کارساز کمپنی فوکس واگن کی جرمن فیکٹریوں کے ہزاروں ملازمین، ملازمتوں میں کمی کے منصوبے کے خلاف پیر دو دسمبر کو ہڑتال کی-

    باغی ٹی وی: ووکس ویگن کے ہزار وں کارکنوں نے بڑھتے ہوئے صنعتی تنازعہ میں پیر کو ہڑتال کر دی، یونینوں نے خبردار کیا کہ بحران سے متاثرہ جرمن آٹو کمپنی بڑے پیمانے پر چھانٹی اور فیکٹریاں بند کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

    یونین ذرائع نے بتایا کہ صبح کی شفٹوں میں کام کرنے والے مزدوروں نے دو گھنٹے تک ہڑتال کی، جب کہ شام کی شفٹ میں کام کرنے والوں نے کار ساز کے مطالبات، جس میں اجرت میں 10 فیصد کٹوتی بھی شامل ہے، پر احتجاج کرتے ہوئے جلد کام چھوڑنے کا ارادہ کیا، وولفسبرگ میں ووکس ویگن کے مرکزی پلانٹ میں، جس میں 70,000 افراد کام کرتے ہیں، دو گھنٹے کی ہڑتال کا مطلب ہے کہ کئی سو کاریں نہیں بن سکتیں-

    جرمنی کا دیو پیکر کارساز ادارہ فوکس واگن شدید بحران سے دوچار ہے رواں سال ستمبر میں ہونے والے اس اعلان کے بعد کہ جرمنی میں اس کے متعدد پلانٹس کو بند کر دیا جائے گا، ٹریڈ یونینوں اور فوکس واگن کمپنی کے سرمایہ کاروں کے مابین سخت مذاکرات کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ جرمنی کے اندر فوکس واگن کے پلانٹس کو بند کرنے کے منصوبے سے براہ راست ایک لاکھ بیس ہزار ملازمین متاثر ہو سکتی ہیں۔

    یہ پہلی بار ہے کہ کمپنی نے اپنی 87 سالہ تاریخ میں جرمنی میں فیکٹریاں بند کرنے کی دھمکی دی ہے کیونکہ یورپی مینوفیکچررز غیر ملکی مسابقت، اعلی پیداواری لاگت اور براعظم میں الیکٹرک گاڑیوں کی سست رفتاری سے لڑ رہے ہیں۔

    یورپ میں وی ڈبلیو کاروں کی فروخت میں کمی آئی ہے کیونکہ ڈیمانڈ اسٹالز اور صارفین پیٹرول موٹرز میں دلچسپی لے رہے ہیں،عالمی سطح پر، سال کے پہلے تین مہینوں میں فروخت میں تین فیصد کی کمی واقع ہوئی کیونکہ پٹرول موٹروں کی فروخت میں چار فیصد اضافہ ہوا۔

    Stellantis – جو Vauxhall کا مالک ہے نے اس ہفتے کے شروع میں مینڈیٹ کو مورد الزام ٹھہرایا جب اس نے لوٹن میں اپنی وین فیکٹری کو بند کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا، جس سے 1,100 ملازمتیں خطرے میں پڑ گئیں۔ چیف ایگزیکٹیو کارلوس ٹاویرس نے اتوار کے روز اچانک استعفیٰ دے دیا جب گروپ اس سال اپنی قیمت کا تقریباً 40 فیصد کھو دیا-

    فورڈ کے یوکے بازو کے باس نے گزشتہ ماہ کے آخر میں خبردار کیا تھا کہ برقی کاروں کی مانگ میں زبردست کمی کی وجہ سے برطانیہ کی کار انڈسٹری بحران کا شکار ہےفورڈ یو کے کی چیئرمین اور مینیجنگ ڈائریکٹر لیزا برینکن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دلچسپی کو بڑھانے کے لیے فوری طور پر ‘مراعات’ متعارف کروائیں۔

    یورپ کی سب سے بڑی کار ساز کمپنی کے بحران نے جرمنی کو اقتصادی غیر یقینی صورتحال اور ملکی سیاسی ہلچل کے ساتھ ساتھ خطے کے کار ساز اداروں کے درمیان وسیع تر انتشار کے وقت متاثر کیا ہے۔

    جرمن زبان میں ”فوکس واگن‘‘ سے مراد عوامی گاڑی ہے، اس موٹر کار کا معیار اور اس کی پائیداری کی ضمانت یہ تھی کہ جرمنی کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی یہ بہت زیادہ استعمال ہونے والی گاڑی سمجھی جاتی رہی ہے، اب اس کار ساز ادارے کو سب سے بڑی زک جو پہنچی ہے اُس کا تعلق جرمنی کے اندر اس پر آنے والی بلند پیداواری لاگت ہے، دوسری جانب الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال میں تیز رفتار اضافہ اور کلیدی مارکیٹ چین کے ساتھ سخت مقابلہ فوکس واگن کو پہنچنے والے سخت نقصانات کی اہم ترین وجوہات ہیں۔

    جرمنی کی آٹو موٹیو انڈسٹری واحد صنعت نہیں ہے جو توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور زیادہ اجرتوں جیسے بنیادی مسائل کا شکار ہے، فوکس واگن کو گھر میں اعلیٰ پیداواری لاگت، الیکٹرک گاڑیوں میں ہنگامہ خیز تبدیلی اور کلیدی مارکیٹ چین میں سخت مقابلے کی وجہ سے سخت نقصان پہنچا ہے چین کا عالمی معیشت میں بدلتا ہوا کردار اور ایک حریف، ایک سخت مدمقابل ہونا جرمن معیشت کے لیے بڑے چیلنجز کا سبب بنا ہے۔

    جرمنی کے معروف کار مینوفیکچررز کی گاڑیوں کی فروخت کے اعداد و شمار سے یہ صورتحال واضح ہو جاتی ہے۔ محض سال رواں کی پہلی ششماہی کے اعداد و شمار پر ایک نظر ڈالیں تو پتا چلتا ہے کہ فوکس واگن کی فروخت میں 14 فیصد، بی ایم ڈبلیو کی فروخت میں 15 فیصد اور مرسیڈیز بینز کی فروخت میں 16 فیصد کی کمی آئی ہے۔

    گزشتہ ماہ یونین اور فوکس واگن کی ورکس کونسل نے کئی تجاویز پیش کیں تھیں جن میں کہا گیا تھا کہ موٹر سازی کی فیکٹریوں یا سائٹس کی بندش کے بغیر لیبر کاسٹ یا مزدوری کے اخراجات میں 1.5 بلین یورو (1.6 بلین ڈالر) کی بچت ممکن ہے، ان میں انتظامیہ اور عملے کے لیے بونس ختم کرنے کی تجاویز شامل تھیں۔

    یونین نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ کچھ فیکٹریوں میں کام کے گھنٹے کم کرنے کے بدلے تنخواہ میں اضافے کا مطالبہ بھی ختم کر سکتی ہےتاہم فوکس واگن نے کہا کہ ان تجاویز سے قلیل المدتی بنیادوں پرمدد مل سکتی ہے،مگر یہ معاشی مسائل کا طویل المدتی حل نہیں ہو سکتا ہے اور نہ ہی کمپنی کو اس سے ریلیف ملے گا۔

    فوکس واگن کے اس رویے کو جرمنی کی میٹل ورکرز کی صنعت کی یونین ”ای جی میٹال‘‘ نے ”افسوسناک‘‘ قرار دیتے ہوئے اس پر ”ملازمین کے نمائندوں کی تعمیری تجاویز کو نظر انداز کرنے‘‘ کا الزام لگایا۔

    واضح رہے کہ جرمنی میں آٹوموٹیو سیکٹر ہی یورپ کی اقتصادی شہ رگ سمجھے جانے والے اس ملک کی معیشت کا ایک اہم ستون سمجھا جاتا ہے پچھلے سال جرمنی نے 273 بلین یورو مالیت کی کاریں برآمد کیں جرمنی کی برآمدات میں موٹر گاڑیوں کا حصہ 17 فیصد سے زیادہ ہے، اس کے بعد مشینری، کیمیکل، الیکٹرانکس، دوا سازی، دھاتیں اور دیگر مصنوعات ہیں، اس کے علاوہ جرمن گاڑیوں کی فیکٹریا ں اندرون ملک کئی شہروں اور دیہات میں واقع ہیں اور ان علاقوں میں رہنے والوں کے لیے روزگار کا بڑا ذریعہ ہیں۔

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ

    اسلام آباد: حکومت نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا-

    باٹی وی : حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا گیا ، ہائی اسپیڈ ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کر دیا گیا حکومت نے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 72 پیسے اضافہ کر دیا ، پیٹرول کی نئی قیمت 252 روپے 10 پیسے ہوگئی ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 29 پیسے کا اضافہ کردیا گیا ، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 258 روپے 43 پیسے ہوگئی ہے،پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق 12 بجے سے ہو گیا ہے، نئی قیمتوں کا اطلاق آئندہ 15 روز کیلئے کیا گیا ہے۔

  • احتجاج،اقتصادی سرگرمیاں متاثر،ٹیکس خسارہ بڑھنےکا قوی امکان

    احتجاج،اقتصادی سرگرمیاں متاثر،ٹیکس خسارہ بڑھنےکا قوی امکان

    اسلام آباد: پاکستان میں گزشتہ دنوں ہونے والے سیاسی احتجاج اور ملک بھر میں لاک ڈاؤن کے بعد اقتصادی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں، جس کے نتیجے میں حکومتی محصولات میں 160 ارب روپے تک شارٹ فال ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    ملک بھر میں سیاسی حالات کی وجہ سے پانچ دن تک اقتصادی سرگرمیاں معطل رہیں، جس سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو اپنے مقرر کردہ محصولات کے ہدف کو پورا کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایف بی آر کا نومبر تک محصولات جمع کرنے کا مجموعی ہدف 1003 ارب روپے تھا، تاہم اب تک صرف 700 ارب روپے ہی اکٹھے کیے جا سکے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ اگر ایف بی آر کو 160 ارب روپے کا شارٹ فال ہو گیا تو پہلے چار ماہ (جولائی تا اکتوبر) کے دوران ہونے والے 189 ارب روپے کے شارٹ فال کو مدنظر رکھتے ہوئے پانچ ماہ کے مجموعی شارٹ فال کی رقم 349 ارب روپے تک پہنچ سکتی ہے۔

    معاشی ماہرین کے مطابق، ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام اور لاک ڈاؤن کے اثرات قومی خزانے پر سنگین نوعیت کے پڑ رہے ہیں، اور ایف بی آر کے اعلیٰ حکام اس بات سے پریشان ہیں کہ بند پڑی اقتصادی سرگرمیوں کے باوجود کس طرح زیادہ سے زیادہ محصولات جمع کیے جا سکتے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک اعلیٰ سرکاری ذریعے نے جمعرات کو تصدیق کی کہ ایف بی آر کی بھرپور کوششوں کے باوجود زیادہ سے زیادہ 840 سے 850 ارب روپے جمع کیے جا سکیں گے، جس کا مطلب ہے کہ متوقع خسارہ 150 سے 160 ارب روپے کے درمیان ہوگا۔ایک سرکاری عہدیدار نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "لاک ڈاؤن اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاجی کال کے نتیجے میں ملک بھر میں اقتصادی سرگرمیاں رکنے کی وجہ سے حکومتی ریونیو میں مزید کمی واقع ہوئی ہے۔”

    اس وقت حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ کیسے آئی ایم ایف کے ساتھ اپنی مالیاتی ڈیل کو برقرار رکھتے ہوئے اس خسارے کو پورا کرے گا۔ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق، موجودہ سیاسی اور معاشی صورتحال میں حکومت کے لیے مطلوبہ ٹیکس وصولی کے ہدف کو پورا کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔یہ صورتحال نہ صرف قومی خزانے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے بلکہ حکومت کے لیے آئی ایم ایف سے امداد حاصل کرنے میں بھی مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے، جس کے اثرات ملک کی معیشت پر گہرے ہو سکتے ہیں۔

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    پیسے دے کر کہا گیا دھرنے میں جا کر آگ لگانی ،گرفتار شرپسندوں کے انکشاف

  • پاکستان کے معاشی استحکام  میں ایس آئی ایف سی کا نمایاں کردار

    پاکستان کے معاشی استحکام میں ایس آئی ایف سی کا نمایاں کردار

    پاکستان میں معاشی استحکام اور سروسز ایکسپورٹ کی ترقی کے لئے ایس آئی ایف سی کا کردار نہایت اہم ثابت ہو رہا ہے۔ رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کی سروسز ایکسپورٹ میں 6 فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور یہ 1 ارب 90 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ اس ترقی کی بنیادی وجہ خاص طور پر آئی ٹی شعبہ کی نمایاں ترقی ہے، جس نے عالمی سطح پر پاکستان کی سروسز ایکسپورٹ کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

    پاکستان کی سروسز ایکسپورٹ میں اضافہ کا ایک بڑا حصہ آئی ٹی مصنوعات کی برآمد سے آیا ہے، جن میں سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، ویب ڈویلپمنٹ، موبائل ایپلیکیشنز، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کی خدمات شامل ہیں۔ ان شعبوں میں ترقی کی وجہ سے پاکستان کی عالمی سطح پر سروسز کی طلب میں اضافہ ہوا ہے، جس سے نہ صرف ایکسپورٹ میں اضافہ ہوا ہے بلکہ مقامی معیشت کو بھی فائدہ پہنچا ہے۔

    پاکستان میں فری لانسرز کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر حکومت نے ان کے لئے نئے مواقع فراہم کرنے کی کوششیں تیز کردی ہیں۔ اس ضمن میں ایک نیا فری لانسنگ فریم ورک متعارف کرایا گیا ہے جس کے تحت فری لانسرز کے لیے بینک اکاؤنٹس کھولنا اور رقم کو آسانی سے برقرار رکھنا ممکن ہوگا۔ اس اقدام سے فری لانسرز کو عالمی مارکیٹ میں اپنی خدمات کی فراہمی میں مزید سہولت ملے گی اور وہ بہتر طریقے سے اپنی آمدنی کا انتظام کر سکیں گے۔

    ایس آئی ایف سی نے اس ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایس آئی ایف سی نہ صرف سروسز ایکسپورٹ کے فروغ کے لئے کام کر رہی ہے بلکہ اس کے ذریعے پاکستان کے معاشی استحکام کے لیے اقدامات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ ایس آئی ایف سی کی جانب سے آئی ٹی اور دیگر سروسز سیکٹر کے لیے مالیاتی معاونت، تربیتی پروگرامز، اور بین الاقوامی مارکیٹس تک رسائی کے لیے سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔پاکستان میں سروسز ایکسپورٹ کا بڑھتا ہوا حجم، خاص طور پر آئی ٹی کے شعبہ میں ہونے والی ترقی، معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر اسی طرح کی اصلاحات اور اقدامات جاری رہیں تو پاکستان عالمی سطح پر سروسز ایکسپورٹ کے ایک اہم کھلاڑی کے طور پر ابھر سکتا ہے، جو ملکی معیشت کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔

    پیسے دے کر کہا گیا دھرنے میں جا کر آگ لگانی ،گرفتار شرپسندوں کے انکشاف

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

  • پاکستان اسٹاک ایکسچینج ،100انڈیکس ایک لاکھ سےزائد پوائنٹس  عبورکرگیا

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج ،100انڈیکس ایک لاکھ سےزائد پوائنٹس عبورکرگیا

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج ،100انڈیکس ایک لاکھ سےزائد پوائنٹس عبورکرگیا

    اسٹاک ایکسچینج 790 پوائنٹس کی تیزی سے 1 لاکھ پوائنٹس کی نفسیاتی حد عبورکرگیا، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 1233پوائنٹس کا اضافہ ہوا،کاروبارکے دوران انڈیکس ایک لاکھ 502پوائنٹس پر ٹریڈ کرتے دیکھاگیا، 28 نومبر پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی تاریخ میں گولڈن ڈے بن گیا،نومبر پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی تاریخ میں ریکارڈ کامہینہ ثابت ہوا،معاشی اشارے بہتر ہونے سے مارکیٹ میں سرمایہ کارسرگرم ہیں

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے 100 انڈیکس کے 1 لاکھ پوائنٹس سے تجاوز پر پوری قوم کو مبارکباد دی اور کہا کہ اسٹاک ایکسچینج کا تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک لاکھ پوائنٹس سے تجاوز کرنا حکومتی پالیسیوں پر کاروباری برادری اور سرمایہ کاروں کے بھروسے کی عکاسی کرتا ہے.اس سنگ میل کو عبور کرنے کیلئے حکومتی معاشی ٹیم اور ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے مصروف عمل حکام لائق تحسین ہیں.اپنی قوم سے عہد کیا تھا کہ ملکی معاشی استحکام اور ملکی ترقی کیلئے ہر ممکن اقدام اٹھاؤنگا. پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے کیلئے اپنی سیاست کی قربانی دی، اللہ کے فضل و کرم سے قربانی رائیگاں نہیں گئی. ملکی استحکام و ترقی کے دشمن ملک کو دوبارہ ڈی ریل کرنے کی مزموم و ناکام کوششیں کر رہے ہیں. ملک میں مہنگائی کی شرح میں مزید کمی ہوئی ہے، شرح سود 15 فیصد اور ترسیلاتِ زر ریکارڈ سطح پر پہنچ چکے. ملکی ترقی کیلئے یونہی محنت کرتے رہیں گے. ملکی ترقی و خوشحالی کے دشمنوں کو اپنے مزموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دینگے.

    ہر تاریخی کام، ہر ریکارڈ مسلم لیگ ن کے دور میں ہوتا ہے.وزیراعلیٰ پنجاب
    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نےسٹاک مارکیٹ کے1 لاکھ پوائنٹس کی تاریخی حد عبور کرنے پر اظہار تشکر کیا اور کہا کہ الحمداللہ۔ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں آج نئی تاریخ رقم ہوئی. پاکستان سٹاک ایکسچینج دنیا کی بہترین پرفارمنگ ایکوئٹی مارکیٹ کادرجہ حاصل کر چکی. ہر تاریخی کام، ہر ریکارڈ مسلم لیگ ن کے دور میں ہوتا ہے. وزیر اعظم شہباز شریف اور انکی معاشی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں. سٹاک مارکیٹ کا 1لاکھ پوائنٹس عبور کرنا معیشت پر بڑھتے اعتماد کا واضح ثبوت ہے.یہ ریکارڈسرمایہ کاروں کے اعتماداورحکومتی دانشمندانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے.سرمایہ کاروں کا اعتماد دلیل ہے کہ پاکستان کا مستقبل روشن ہے.وزیر اعظم شہبازشریف کی پالیسیاں عالمی سرمایہ کاروں کیلئے پرکشش ثابت ہورہی ہیں،

  • پاکستان میں نئی ائیر لائن بنانے کا اعلان

    پاکستان میں نئی ائیر لائن بنانے کا اعلان

    کراچی: تاجر برادری کی جانب سے نئی ایئرلائن بنانے کا اعلان کیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : ’ایئر کراچی‘‘ کے نام سے نئی فضائی کمپنی کراچی کی تاجر برادری کی جانب سے متعارف کرائی جا رہی ہے نئی ایئر لائن کے نام ’’ایئر کراچی‘‘ کو ایس ای سی پی نے بھی رجسٹرڈ کرلیا ہے۔

    ایف پی سی سی آئی کے سابق سینئر نائب صدرحنیف گوہر نے بتایا کہ ایئر کراچی کے لائسنس کے لیے وفاقی حکومت کو درخواست ارسال کردی گئی ہے، ایئر کراچی کے لیے پہلے مرحلے میں 3 طیارے لیز پر حاصل کیے جائیں گے،ائیر کراچی میں سی او کے منصب پر سدرن کمانڈر ائیر وائس مارشل عمران کو مقرر کیا گیا ہے جب کہ عقیل کریم ڈھیڈی، عارف حبیب، ایس ایم تنویر ، بشیر جان محمد ، خالد تواب، زبیر طفیل ،حمزہ تابانی ایئر کراچی کے شئیر ہولڈرز ہیں۔

    حنیف گوہر نے بتایا کہ نئی فضائی کمپنی کا لائسنس چند دنوں میں حاصل ہونے کے قوی امکانات ہیں، ائیر کراچی 5 ارب روپے کی سرمایہ کاری سے شروع کی جارہی ہے، جس میں فی شیئر ہولڈرز کا حصہ 5 کروڑ روپے ہے۔