Baaghi TV

Category: کاروبار

  • امریکی ڈالر کی قدر میں کمی

    امریکی ڈالر کی قدر میں کمی

    کراچی: پاکستانی روپیہ کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں کمی ہوئی ہے۔

    کرنسی ڈیلرز کے مطابق کاروباری ہفتے کے دوسرے روز انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں 10 پیسے کمی ہوئی ہے۔ انٹر بینک میں امریکی ڈالر 278 روپے 60 پیسے کا ہوگیا، گزشتہ روز انٹربینک میں ڈالر 13 پیسے مہنگا ہو کر 278 روپے 70 پیسے پر بند ہوا،دوسری جانب ای کیپ کے مطابق اوپن مارکیٹ میں ڈالر 17 پیسے مہنگاہو کر 281 روپے 3 پیسے کا ہو گیا ہے۔

  • سونے کی قیمت میں  ہزراوں روپے کی کمی

    سونے کی قیمت میں ہزراوں روپے کی کمی

    کراچی: ملک بھر میں سونے کی قیمت میں ہزراوں روپے کی کمی ہوئی-

    باغی ٹی وی : آل پاکستان جیمز اینڈ جیولر ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر میں سونے کی قیمت میں 2 ہزار روپے کی کمی ہوئی ہے جس کے بعد فی تولہ سونے کی قیمت 2 لاکھ 61 ہزار 500 روپے ہوگئی، اسی طرح 10 گرام سونا 1714 روپے کم ہوکر 2 لاکھ 24 ہزار 194 روپے میں فروخت ہورہا ہے،اسی طرح فی تولہ چاندی کی قیمت 50 روپے کی کمی سے 2850 روپے اور دس گرام چاندی کی قیمت بھی 42.87 روپے کی کمی 2443.41 روپے ہو گئی۔

    دوسری جانب بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں ہفتے کو فی اونس سونے کی قیمت 21 ڈالر کی کمی سے 2497 ڈالر کی سطح پر آ گئی۔

    عمران خان کے وکلاء کو اڈیالہ جیل داخلے سے روکنے کیخلاف درخواست کا تحریری فیصلہ …

    پی ٹی آئی نے عمر ایوب کا استعفیٰ منظور کر لیا

    لاہور میں جلد الیکٹرک بسیں چلنا شروع ہوجائیں گی،مریم اورنگزیب

  • ایف بی آر ، مالی سال کے دو ماہ میں  1588   ارب روپے کے محصولات جمع

    ایف بی آر ، مالی سال کے دو ماہ میں 1588 ارب روپے کے محصولات جمع

    ایف بی آر نے مالی سال کے دو ماہ میں 1588 ارب روپے کے محصولات جمع کر لئے
    فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے رواں مالی سال کے دومہنیوں جولائی اور اگست میں مجموعی طور پر 1588 ارب روپے کے محصولات جمع کر لئے ہیں۔ دوماہ کے ہدف 1554 ارب روپے کے مقابلہ میں ایف بی آر نے 1456 ارب روپے کے خالص محصولات جمع کئے ہیں جبکہ لیکوڈیٹی کے مسائل کے حل کیلے برآمدکنندگان کو 132 ارب روپے کے ریفنڈز جاری کئے گئے جو گذشتہ سال کے اسی عرصہ کے مقابلہ میں 44 فیصد زیادہ ہیں۔

    ایف بی آر نے انکم ٹیکس کی مد میں 593 ارب روپے جمع کئے جبکہ جولائی،اگست 2023 میں اسی مد میں 437 ارب روپے جمع کئے گئے تھے۔ اس طرح اس مد میں 36 فیصد زیادہ محصولات جمع کئے گئے۔ سیلز ٹیکس کی مد میں 314 ارب روپے جمع کئے گئے جو سال بہ سال کی بنیاد پر 40 فیصد کا صحت مندانہ اضافہ ظاہر کرتا ہے۔فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 86 ارب جمع کئے گئے جو سال بہ سال کی بنیاد پر 13 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔اس کے نتیجہ میں ڈومیسٹک ٹیکسوں کی وصولی میں مجموعی طور پر 35 فیصد کا اضافہ حاصل کیا گیا ہے۔تاہم درآمدات میں مسلسل کمپریشن کی وجہ سے اس شرح نموکو برقرار نہیں رکھا جا سکا ہے۔امریکی ڈالر کے اعتبار سے اگست 2023 کے مقابلہ میں اگست 2024 میں درآمدات میں 2.2 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔اسی طر ح سے اگست 2024 کے دوران درآمدت میں اگست 2023 کے مقابلہ میں پاکستانی روپے کے حساب سے7 فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ مزید برآں ہائی ڈیوٹی اشیاء جیسے گاڑیوں، گھریلو آلات کے ساتھ ساتھ متفرق اشیاء مثلاً گارمنٹس، فیبرکس، جوتے وغیرہ کی درآمدات میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔ اس رجحان نے کسٹمز ڈیوٹیز اور درآمدات کی سطح پر وصول کئے جانے والے دیگر ٹیکسوں کو متاثر کیا ہے۔کسٹمز ڈیوٹیز میں 4 فیصد کے اضافہ کے باوجود ایف بی آر کی خالص وصولیوں میں پچھلے سال کے مقابلہ میں مجموعی طور پر 21 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

    ایف بی آر کے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں محصولات جمع کرنے کے اہداف پورے کرنے کے روشن امکانات ہیں کیونکہ ستمبر میں کم پالیسی ریٹ اورحالیہ مہینوں میں حکومتی سطح پر دیگر اقدامات کی وجہ سے اقتصادی سرگرمیوں اور درآمدات میں اضافہ کی توقع کی جارہی ہے۔ وزیر اعظم پاکستان اور وزیر خزانہ کی نگرانی میں ہونے والی ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن اور دیگر اصلاحات کی وجہ سے بھی شرح نمو میں اضافہ ہونے کا واضح امکان ہے۔ان اصلاحات میں سپلائی چین کی اینڈ ٹو اینڈ مانیٹرنگ،آٹو میٹڈ پروڈکشن مانیٹرنگ، پی او ایس، آرٹی فیشل انٹیلی جنس کی بنیا د پر ڈیٹا انٹگریشن، امپورٹ اسکیننگ اور ایف بی آر کی افرادی قوت کی ساکھ پر کڑی نظر رکھنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ایف بی آر کاروبار کرنے میں آسانیاں لانے اور اسے ترقی دینے کے لئے اپنے بزنس پراسسز کو بھی بہتر بنا رہا ہے۔

    رواں مالی سال کے پہلے ماہ میں آئی ٹی برآمدات میں اضافہ ہوا، شزہ فاطمہ

    وزیر مملکت برائے آئی ٹی شزہ فاطمہ نے انٹرنیٹ کی سست روی کا زمہ دار وی پی این کو قرار دے دیا

    عظمیٰ بخاری کی جعلی ویڈیو بنانے والے ہر کردار کو بے نقاب کرینگے،شزہ فاطمہ

    وزیر مملکت آئی ٹی شزہ فاطمہ کی سعودی سفیر نواف سے ملاقات

    خواہش ہے پاکستان اور امریکہ کے آئی ٹی و ٹیلی کام سیکٹر میں تعلقات مزید مستحکم ہوں۔ شزہ فاطمہ

    وزارت آئی ٹی نوجوانوں کی ترقی کے لئے کوشاں ہے،شزہ فاطمہ خواجہ

    وزیر مملکت برائے آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ سے سی ای او تاون، وطین کی ملاقات

  • پاکستان میں مائننگ انڈسٹری ،  ڈنمارک کے بڑے گروپ  کا اظہار دلچسپی

    پاکستان میں مائننگ انڈسٹری ، ڈنمارک کے بڑے گروپ کا اظہار دلچسپی

    پاکستان میں مائننگ انڈسٹری میں بھاری سرمایہ کاری، ڈنمارک کے بڑے گروپ نے کاروباری سرگرمیوں میں اظہار دلچسپی کیا ہے

    ڈنمارک کے سفیر جیکب لینولف کی سربراہی میں ڈینش کمپنی ایف ایل سمڈتھ کے سی ای او جناب میکو کیٹو نےوفاقی وزرا سے تفصیلی سیشن کیا ہے،وفاقی وزراء ڈاکٹر مصدق ملک، محمد اورنگزیب، عبدالعلیم خان اور جام کمال خان نے ڈنمارک بزنس گروپ سے اجلاس کیا ہے، اس موقع پر وفاقی وزرا کا کہنا تھا کہ پاکستان میں معدنی وسائل کے وسیع ذخائر موجود ہیں اور بڑی سرمایہ کاری ہو سکتی ہے، ایف ایل سمڈتھ مائننگ کے شعبے دنیا بھر میں اہم مقام رکھتی ہے۔

    ڈنمارک کے سفیر کا کہنا تھا کہ ڈنمارک گذشتہ 30 برسوں سے پاکستان میں سٹیٹ آف دی آرٹ منصوبوں میں سرگرم عمل ہے، سی ای او ایف ایل سمڈتھ کا کہنا تھا کہ مائننگ انڈسٹری میں قابل عمل تجاویز اور فائدہ مند منصوبوں کے ساتھ آگے بڑھیں گے، وفاقی وزیر مصدق ملک کا کہنا تھا کہ پاکستان معدنیات کے شعبے میں غیرملکی سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرے گا،ٹیکنالوجی کے تبادلے اور طلبہ کے لیے ریسرچ و ٹریننگ کے مواقع پر بھی کام کریں گے۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اپنے محکمے کی طرف سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی،وفاقی وزیر عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ ڈنمارک سے سرمایہ کاری بہت حوصلہ افزا ہے، مثبت نتائج سامنے آئیں گے، حکومت نجی شعبے کے تعاون سے کاروباری سرگرمیوں کے فروغ میں دلچسپی رکھتی ہے، جام کمال خان کا کہنا تھا کہ ڈنمارک کےمعدنیات کے شعبے میں تعاون اور دو طرفہ کاروباری سرگرمیوں سے ملکی معیشت مضبوط ہو گی، ڈنمارک پاکستان کا انتہائی اہم کاروباری شراکت دار ہے ہم اس کورڈیل ریلیشن شپ کو آگے بڑھتا دیکھنا چاہتے ہیں

    اڈیالہ جیل میں ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر دیسی مرغ کھانے سے انقلاب نہیں آتے،عظمیٰ بخاری

    اڈیالہ جیل میں سزا یافتہ عمران خان الیکشن لڑنے کے خواہشمند

    اڈیالہ جیل ،عمران خان کے سیل کی خصوصی تصاویر،باغی ٹی وی پر

    بشریٰ بی بی کو زہر دے کر عمران خان کو جھکانے کی کوشش کی جارہی ہے،زرتاج گل

    کھانے میں زہر،کوئی ثبوت ہے؟ صحافی کے سوال پر بشریٰ بی بی "لال” ہو گئیں

  • پی ایس ایکس: ملا جلا رجحان، انڈیکس 78,801 پر بند

    پی ایس ایکس: ملا جلا رجحان، انڈیکس 78,801 پر بند

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں آج کے کاروباری دن کے دوران ملا جلا رجحان دیکھنے میں آیا۔ کاروباری دن کے آغاز پر مارکیٹ نے مثبت آغاز کیا اور 297 پوائنٹس کا اضافہ ہوا، جس کے باعث 100 انڈیکس 79 ہزار کی سطح عبور کرتے ہوئے اگست کے مہینے میں پہلی بار اس مقام تک پہنچا۔ تاہم دن کے اختتام تک یہ اضافہ کم ہو کر صرف 8 پوائنٹس رہ گیا اور انڈیکس 78 ہزار 801 پر بند ہوا۔اس کاروباری دن کے دوران 100 انڈیکس مجموعی طور پر 413 پوائنٹس کے بینڈ میں رہا، جس کی بلند ترین سطح 79 ہزار 173 رہی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی جانب سے مختلف عوامل کی بنا پر ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آیا۔
    پی ایس ایکس کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن 24 جولائی کے بعد سے بڑھ کر 10 ہزار 500 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے، جو کہ ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔ آج کے کاروباری دن میں 68 کروڑ شیئرز کے سودے طے پائے، جن کی مجموعی مالیت 18 ارب روپے رہی۔ اس دوران مارکیٹ کیپٹلائزیشن 25 ارب روپے بڑھ کر 2 ہزار 512 ارب روپے ہو گئی۔ماہرین کے مطابق، موجودہ معاشی صورتحال، حکومتی پالیسیوں اور بین الاقوامی مارکیٹ کے حالات نے پی ایس ایکس پر اثرات مرتب کیے ہیں۔ اگرچہ کاروباری دن کے آغاز پر مثبت رجحان دیکھا گیا، لیکن بعد میں سرمایہ کاروں کی جانب سے محتاط رویہ اپنایا گیا جس کے باعث انڈیکس میں کمی واقع ہوئی۔
    سرمایہ کاروں کے مطابق، مستقبل میں بھی پی ایس ایکس کی صورتحال میں مزید تبدیلیاں متوقع ہیں، اور اس کے لیے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ہونے والے واقعات پر نظر رکھنا ضروری ہوگا۔

  • شوگر ایڈوائزری بورڈ  نے 100000 میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کی سفارش کردی

    شوگر ایڈوائزری بورڈ نے 100000 میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کی سفارش کردی

    وزیرصنعت و پیداوار رانا تنویر حسین کی زیر صدارت شوگر ایڈوائزری بورڈ کا اجلاس ہوا

    اجلاس میں وزیر تجارت جام کمال خان بھی شریک تھے، اجلاس کے بعد جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں چینی کے اسٹاک کی دستیابی اور قیمتوں کا جائزہ لیا گیا، شوگر ایڈوائزری بورڈ نے 100000 میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کی سفارش کردی،چینی کی برآمد کی حتمی منظوری کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی دے گی،

    وزیرصنعت و پیداوار رانا تنویر حسین کا کہنا تھا کہ ملک میں سرپلس چینی موجودہے،چینی کی ایکس ملز پرائس میں کسی قسم کا اصافہ نہیں ہوگا،چینی کر برآمد کیبنٹ کے طرف سے طے شدہ شرائط پر کی جائے گی،

    انٹرنیٹ سروس سب میرین کیبل میں فالٹ کی وجہ سے متاثر ہے، چیئرمین پی ٹی اے

    انٹرنیٹ کی سست رفتاری پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لیے خطرہ: اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس کی وارننگ

    انٹرنیٹ فائروال کے نفاذ سے پاکستانی معیشت کو 30 کروڑ ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے: پی ایس ایچ اے

    انٹرنیٹ کی سست روی ناقابل برداشت، 5G کی نیلامی کے لیے کوششیں جاری، شزہ فاطمہ

    حساس ڈیٹا گوگل پر عام مل جاتا ہے، اسے کیسے روکا جائے،سینیٹر پلوشہ خان

  • ہفتہ وار مہنگائی رپورٹ: اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں معمولی کمی

    ہفتہ وار مہنگائی رپورٹ: اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں معمولی کمی

    اسلام آباد: ادارہ شماریات کی جانب سے ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی کی رپورٹ جاری کردی گئی ہے جس کے مطابق ملک میں مہنگائی کی شرح میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ادارہ شماریات کے اعدادوشمار کے مطابق رواں ہفتے کے دوران ملک میں ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی کی شرح میں 0.16 فیصد کمی ہوئی ہے، جس کے بعد سالانہ بنیادوں پر ہفتہ وار مہنگائی کی مجموعی شرح 16.86 فیصد رہی۔رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے کے دوران 19 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا، جبکہ 13 اشیاء کی قیمتوں میں کمی ہوئی اور 19 اشیاء کی قیمتیں مستحکم رہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹماٹر کی قیمت میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا، جس کی فی کلو قیمت 40 روپے بڑھ گئی۔ اس کے علاوہ، انڈوں کی فی درجن قیمت میں 13 روپے کا اضافہ ہوا، جبکہ لہسن کی قیمت میں 10 روپے 40 پیسے فی کلو اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ بڑے گوشت کی قیمت میں 8 روپے 58 پیسے فی کلو اضافہ ہوا، اور گڑ، کپڑا، دہی اور دال چنا بھی مہنگی ہونے والی اشیاء میں شامل ہیں۔
    دوسری جانب، رواں ہفتے کے دوران کچھ اشیاء کی قیمتوں میں کمی بھی دیکھی گئی۔ پیاز کی فی کلو قیمت میں 7 روپے 17 پیسے کی کمی ہوئی، جبکہ پیٹرول کی قیمت میں 8 روپے 51 پیسے فی لیٹر کمی آئی۔ ڈیزل کی قیمت میں بھی 6 روپے 68 پیسے فی لیٹر کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے علاوہ، آٹے کا 20 کلو کا تھیلا 34 روپے 43 پیسے سستا ہوا، جبکہ دال مونگ کی قیمت میں 6 روپے 25 پیسے فی کلو کمی ہوئی۔ چکن، کیلے، ایل پی جی، چینی اور آلو بھی سستی ہونے والی اشیاء میں شامل ہیں۔ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق، یہ اعداد و شمار مختلف علاقوں سے جمع کیے گئے ہیں اور یہ موجودہ ہفتے کے دوران قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ عوام کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ مارکیٹ میں موجود اشیاء کی قیمتوں کا جائزہ لیں اور ان کے مطابق اپنی خریداری کریں۔

  • پی ایس ایکس : ہنڈرڈ انڈیکس 228 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 78,105 پوائنٹس پر بند

    پی ایس ایکس : ہنڈرڈ انڈیکس 228 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 78,105 پوائنٹس پر بند

    کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں کاروباری دن کے اختتام پر مثبت رجحان دیکھنے میں آیا، جہاں ہنڈرڈ انڈیکس 228 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 78,105 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔ دن بھر کے دوران مجموعی طور پر 441 کمپنیوں کے شیئرز میں کاروبار ہوا، جن میں سے 226 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ جبکہ 162 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ مارکیٹ کی بلند ترین سطح 78,709 پوائنٹس جبکہ کم ترین سطح 77,987 پوائنٹس رہی۔کاروباری دن کے دوران 59 کروڑ 10 لاکھ سے زائد شیئرز کا لین دین ہوا، جن کی مجموعی مالیت 20 ارب 10 کروڑ روپے سے زائد رہی۔ دوسری جانب، آج ڈالر کے بھاؤ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق، انٹربینک میں ڈالر 278 روپے 70 پیسے پر مستحکم رہا جبکہ اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر کا بھاؤ 280 روپے 40 پیسے پر برقرار رہا۔
    ماہرین کے مطابق، اسٹاک مارکیٹ میں بہتری ملکی معیشت میں استحکام کی علامت ہے تاہم آنے والے دنوں میں سیاسی اور معاشی حالات کے تناظر میں مزید استحکام کی ضرورت ہے۔

  • پاکستان اسٹاک ایکسچینج: کاروباری ہفتے کا آغاز منفی، 100 انڈیکس میں 589 پوائنٹس کی کمی

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج: کاروباری ہفتے کا آغاز منفی، 100 انڈیکس میں 589 پوائنٹس کی کمی

    کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں کاروباری ہفتے کے پہلے روز سرمایہ کاروں کو شدید مندی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک 100 انڈیکس میں 589 پوائنٹس کی نمایاں کمی ہوئی۔ اس کمی کے بعد 100 انڈیکس 77,980 پوائنٹس پر بند ہوا۔کاروباری دن کے دوران 100 انڈیکس نے 945 پوائنٹس کے بینڈ میں اتار چڑھاؤ کا مظاہرہ کیا، جہاں اس کی بلند ترین سطح 78,886 پوائنٹس رہی۔ تاہم، دن کے اختتام پر مندی غالب رہی اور انڈیکس میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
    حصص بازار میں 41 کروڑ 51 لاکھ شیئرز کے سودے ہوئے، جن کی مجموعی مالیت 22 ارب 24 کروڑ روپے رہی۔ اس کاروباری مندی کے باعث مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں 101 ارب روپے کی کمی ہوئی، جس کے بعد مارکیٹ کیپٹلائزیشن 10,389 ارب روپے رہ گئی۔ماہرین کے مطابق، کاروباری دن کے دوران سرمایہ کاروں نے محتاط رویہ اپنایا، جس کی وجہ سے مارکیٹ میں منفی رجحان دیکھنے میں آیا۔ عالمی اور مقامی عوامل، جیسے کہ سیاسی غیر یقینی صورتحال اور اقتصادی چیلنجز، اس مندی کا سبب بنے۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ہونے والی یہ مندی آنے والے دنوں میں مارکیٹ کے استحکام کے لیے ایک چیلنج ثابت ہو سکتی ہے، اور سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ ممکنہ نقصانات سے بچ سکیں۔

  • بلند شرح سود سے ترقیاتی منصوبے متاثر، احسن اقبال کا ملکی معیشت پر تشویش کا اظہار

    بلند شرح سود سے ترقیاتی منصوبے متاثر، احسن اقبال کا ملکی معیشت پر تشویش کا اظہار

    اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی کے اجلاس میں ملک کو درپیش اقتصادی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ دی۔ کمیٹی کا اجلاس قرۃ العین مری کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں احسن اقبال نے ملک کے ترقیاتی منصوبوں پر شرح سود کے منفی اثرات پر روشنی ڈالی۔احسن اقبال نے کہا کہ گزشتہ دو سالوں میں پالیسی ریٹ راکٹ کی رفتار سے بڑھتے ہوئے 22 فیصد تک پہنچ گیا، جس کے نتیجے میں ملک کے تمام ترقیاتی منصوبے ناقابل عمل ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بلند شرح سود ملک کے کنٹریکٹرز کو منصوبوں سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر رہی ہے، اور اس کی وجہ سے پہلے سے منظور شدہ منصوبوں کی لاگت میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ برسوں میں منصوبوں کے لیے شرح سود کا تخمینہ 6 سے 8 فیصد تھا، لیکن موجودہ بلند شرح سود نے ان تخمینوں کو غیر مؤثر بنا دیا ہے۔
    احسن اقبال نے مزید کہا کہ پاکستان کو آئی ایم ایف پیکج کے تحت غیر معمولی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ آئی ایم ایف کی شرائط کا عوام پر گہرا اثر پڑا ہے اور ترقیاتی بجٹ کو شدید کٹوتیوں کا سامنا ہے۔ وفاقی پی ایس ڈی پی (پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام) کا حجم 1400 ارب روپے سے کم ہو کر 1100 ارب روپے تک آچکا ہے، اور اس میں مزید 200 سے 400 ارب روپے کی کمی کا خطرہ ہے۔ اسی وجہ سے موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے ترقیاتی فنڈز بھی جاری نہیں ہو سکے۔وفاقی وزیر نے کمیٹی کو مزید بتایا کہ سیاسی عدم استحکام اور پالیسیوں کے تسلسل کے فقدان نے بھی ملک کی ترقی میں رکاوٹیں پیدا کی ہیں۔ احسن اقبال نے کہا کہ پائیدار ترقی کے لیے امن، سیاسی استحکام اور پالیسیوں کا کم از کم دس سال کے لیے تسلسل ضروری ہے۔
    انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ حکومت نے چین سے حیدرآباد سکھر موٹروے کو سی پیک میں شامل کرنے کی درخواست کی ہے، جس پر چین نے رضا مندی ظاہر کی ہے۔ احسن اقبال نے یہ بھی کہا کہ مسلسل اصلاحات کے ایجنڈے پر عملدرآمد ضروری ہے، بصورت دیگر ملک قرضوں کی دلدل میں مزید دھنس جائے گا۔ احسن اقبال نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر اگلے دو تین سالوں میں اصلاحات میں کامیابی حاصل ہوئی تو پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ معاشی حالات کو بہتر بنانے کے لیے تمام سٹیک ہولڈرز کو مل کر کام کرنا ہوگا، تاکہ ملک کو درپیش چیلنجز کا سامنا کیا جا سکے۔