Baaghi TV

Category: کاروبار

  • ایف بی آر کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم  پر عملدرآمد میں خامیاں

    ایف بی آر کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم پر عملدرآمد میں خامیاں

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو   کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم   پر عملدرآمد کے حوالے سے میریٹ ہوٹل، اسلام آباد میں ایک انتہائی اہم گول میز مباحثہ منعقد کیا گیا۔ پلڈاٹ کے اشتراک سے انسٹی ٹیوٹ آف پبلک اوپینین اینڈ ریسرچ   کے زیر اہتمام اس مباحثے میں اہم سٹیک ہولڈر نے شرکت کی جن میں سرکاری حکام، صنعتی شعبے کے قائدین، پالیسی ماہرین اور میڈیا کے نمائندے شامل تھے۔ جنہوں نے تازہ ترین تحقیق سے حاصل ہونے والے نتائج کا جائزہ لیا۔

    تقریب کا آغاز مامون بلال، ایڈوائزر پلڈاٹ کے خیر مقدمی کلمات سے ہوا جس کے بعد  انسٹی ٹیوٹ آف پبلک اوپینین اینڈ ریسرچ   کے چیف ایگزیکٹو آفیسر  طارق جنید نے مذکورہ تحقیق کے کلیدی نتائج پر تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ جس میں انہوں نے صنعتی شعبے کے اندر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم پر عدم تعمیل کے حوالے سے پریشان کن حالات پر روشنی ڈالی۔تمباکو کے شعبے میں ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم پر عملدرآمد کرنے کی کوششیں 2021 میں تین دیگر شعبوں کے ساتھ شروع ہوئیں جن میں سیمنٹ، کھاد اور چینی کے شعبے شامل تھے۔ جولائی 2022 سے ٹریک اینڈ ٹریس کی مہر کے بغیر سگریٹ کا پیک فروخت کرنا غیر قانونی ہے۔ تاہم، حتمی تاریخ گزرنے کے بعد سےاس سسٹم پر عملدرآمد صرف ایک خواب ہی رہا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف پبلک اوپینین اینڈ ریسرچ  نے پنجاب اور سندھ کے 11 شہروں میں مارکیٹ پر تحقیق کی جس میں 18 مارکیٹوں میں 40 پرچون فروشوں کی دکانوں  کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا جس میں کل 720 دکانیں شامل تھیں۔ اس تحقیق کے دو مقاصد تھے؛ فروخت کے وقت ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم پر عملدرآمد کی صورت حال کا پتہ لگانا اور سگریٹ کے لیے کم از کم طے شدہ قانونی قیمت   پر عملدرآمد کا جائزہ لینا جو ایف بی آر کی طرف سے لازمی ہے۔رپورٹ کے مطابق سروے کیے گئے 264 سگریٹ برانڈ میں سے صرف 19 برانڈ نے اس سسٹم کے مطلوبہ تقاضوں پر پوری طرح عمل کیا جو کہ ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کی مہر کے استعمال کو لازمی قرار دیتے ہیں۔ عملدرآمد نہ کرنے والے برانڈ مارکیٹ کے 58 فیصد حصے پر مشتمل ہیں، جن میں مقامی طور پر تیار کردہ ڈیوٹی ادا نہ کرنے والے   برانڈ 65 فیصد ہیں جبکہ سمگل شدہ برانڈ 35 فیصد ہیں جو ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کی مہر کی غیر موجودگی سے لے کر قیمتوں یا صحت سے متعلق انتباہ کے ضوابط پر عملدرآمد نہیں کرتے ہیں۔اس کے علاوہ 197 برانڈ کم از کم طے شدہ قانونی قیمت سے کم جبکہ 48 برانڈ اس طے شدہ قیمت سے زیادہ قیمت پر فروخت کرتے پائے گئے۔ مزید یہ کہ وہ دیگر طے شدہ قانونی تقاضوں پر بھی عملدرآمد نہیں کر رہے تھے۔ 19 برانڈ تمام طے شدہ قانونی تقاضوں کے مطابق عملدرآمد کرتے پائے گئے مگر وہ کم از کم طے شدہ قانونی قیمت سے زیادہ قیمت پر فروخت کر رہے تھے۔

    اس گول میز مباحثے میں سٹیک ہولڈر کو اس سسٹم کے حوالے سے درپیش چیلنجز، پرچون کی سطح پر اس کے نفاذ، ایف بی آر کی ٹیکس وصولی اور صحت عامہ کی کوششوں پر عدم تعمیل کے مجموعی اثرات پر تفصیل سے تبادلہٴ خیال کرنے کا ایک موقع فراہم کیا گیا۔ کلیدی مقررین میں ایف بی آر کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے پروجیکٹ ڈائریکٹر، محمد ظہیر قریشی بھی شامل تھے جنہوں نے اس سسٹم کے نفاذ کی موجودہ صورت حال کے بارے میں بتایا۔ تقریب کی صدارت علی پرویز ملک، رکن قومی اسمبلی اور وزیر مملکت برائے خزانہ ومحصولات نے کی جنہوں نے تمام شعبوں میں اس سسٹم پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کے عزم پر اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مذکورہ سسٹم کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے بہتر ریگولیٹری اقدامات کی ضرورت ہے۔

    اس سسٹم پر عملدرآمد کو بڑھانے کے لیے اہم مجوزہ سفارشات:
    گول میز مباحثے کا اختتام قابل عمل سفارشات کے ساتھ ہوا جو مندرجہ ذیل ہیں،عدم تعمیل والے برانڈ تک رسائی کو روکنے کے لیے پرچون فروشوں کی سطح پر نفاذ کو مضبوط بنایا جائے،خلاف ورزیوں کے لیے سزاؤں میں اضافہ کیا جائے،صارفین کو تعمیل شدہ مصنوعات کی خریداری کی اہمیت سے آگاہ کرنے کے لیے عوامی آگاہی کی مہمات کا آغاز کیا جائے،

    بجٹ میں تمباکو پر ٹیکس بڑھایا جاتا تو معیشت بہتر ہوتی، شارق خان

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

  • سونے کی فی تولہ قیمت میں  اضافہ،ڈالر سستا

    سونے کی فی تولہ قیمت میں اضافہ،ڈالر سستا

    کراچی: ملک میں سونے کی فی تولہ قیمت میں اضافہ ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق ملک میں فی تولہ سونے کا بھاؤ 1400 روپے بڑھا ہے،اس اضافے کے بعد ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت 2لاکھ 71 ہزار 900 روپے ہے،ایسوسی ایشن کے مطابق 10گرام سونے کا بھاؤ 1200 رو پے اضافے سے 2 لاکھ 33 ہزار 111 ہے،جبکہ عالمی بازار میں سونے کی فی اونس قیمت 14 ڈالر اضافے سے 2 ہزار 607 ڈالر ہے۔

    دوسری جانب ملک میں روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر سستا ہوگیااسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق بدھ کو انٹربینک تبادلہ میں ڈالر کا بھاؤ 8 پیسے کم ہوا ہے کاروبار کے اختتام پر ڈالر کا بھاؤ 277 روپے 85 پیسے ہے۔انٹربینک میں گذشتہ روز ڈالر 277روپے 93 پیسے پر بند ہوا تھا۔

  • ایف بی آر نے تمام ٹیکسوں کی ادائیگیوں کا نیا مربوط سسٹم  متعارف کر ادیا ۔

    ایف بی آر نے تمام ٹیکسوں کی ادائیگیوں کا نیا مربوط سسٹم متعارف کر ادیا ۔

    ایف بی آر نے تمام ٹیکسوں کی ادائیگیوں کا نیا مربوط سسٹم epayment 2.0 متعارف کر ادیا ۔

    اس سسٹم کے تحت ود ہولڈنگ ٹیکس ، انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی ادائیگی یکجا کر دی گئی ہے۔ ایف بی آر کے مطابق ٹیکسوں کی ادائیگی کا نیا سسٹم IRIS 2.0 پورٹل کے اندر دستیاب ہے۔حکومت پاکستان کے وژن کے تحت پاکستان کے ٹیکس کے نظام کو جدید بنانے کی راہ میں یہ ایک اہم پیش رفت ہے۔ نئے سسٹم سے صارفین کو انٹرنیٹ بینکنگ، اے ٹی ایم اور موبائل بینکنگ کے ذریعے آسان آن لائن ادائیگی کی سہولت میسر ہو گی۔ ایف بی آر نے ٹیکس دہندگان کو ePayment 2.0 کے ذریعے ایک جامع اور بہتر یوزر فرینڈلی انٹرفیس فراہم کیا ہے ۔ ادائیگی مکمل ہونے پر تصدیق شدہ کمپیوٹرائزڈ پیمنٹ رسید (CPR) ای میل اور ایس ایم ایس کے ذریعے جاری کی جاۓ گی۔ یہ انقلابی جدت ڈیجیٹل ٹیکس ایڈمنسٹریشن میں ایف بی آر کی لیڈر شپ کی آئینہ دار ہے۔ ایک ہی مربوط انٹرفیس فراہم کرنے سے متعدد لاگ اِنز اور پلیٹ فارم تبدیل کرنے کی ضرورت ختم ہو گئی ہے۔

  • سونے کی فی تولہ قیمت میں بڑی کمی

    سونے کی فی تولہ قیمت میں بڑی کمی

    کراچی: سونے کی فی تولہ قیمت میں 7000 روپے کی کمی ہوگئی ۔

    باغی ٹی وی: مقامی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ سونا 2لاکھ 70ہزار500 روپےکا ہوگیا، جبکہ 10گرام سونا 6000روپے سستا ہوا جس کے بعد اس کی قیمت 2لاکھ31ہزار911روپے کی ہوگئی ،سونے کی عالمی قیمت 77 ڈالر کمی سے 2593 ڈالر فی اونس پر آگئی۔

    دوسری جانب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا،عالمی منڈی میں برینٹ کروڈ فیوچر کی قیمت میں کمی جبکہ یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق برینٹ کروڈ فیوچر ایک فیصد کم ہو کر 71.82 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔ جبکہ یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت میں 3 سینٹ کا اضافہ ہوا اور 68.07 ڈالر فی بیرل پر جاپہنچا ہے،دونوں معاہدوں میں پچھلے 2 تجارتی سیشنوں کے مقابلے میں 5 فیصد سے زیادہ کی کمی واقع ہوئی تھی، قیمتوں کی مزید سمت پیٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کی ماہانہ رپورٹ سے آئے گی جو بعد میں جاری کی جائے گی۔

  • پاکستان میں امریکا سے روئی کی درآمدات میں ریکارڈ اضافہ

    پاکستان میں امریکا سے روئی کی درآمدات میں ریکارڈ اضافہ

    چیئرمین کاٹن جنرز فورم، احسان الحق نے کہا ہے کہ پاکستان نے امریکا سے روئی کی درآمدات میں ریکارڈ اضافہ کیا ہے۔ ان کے مطابق، گزشتہ ہفتے امریکا سے 72 ہزار بیلز کی درآمدی معاہدے ہوئے ہیں، اور اس سال پاکستان امریکی روئی کا دنیا میں سب سے بڑا خریدار بن گیا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اس سال پاکستان نے 30 لاکھ بیلز سے زائد روئی کے درآمدی معاہدے مکمل کیے ہیں۔ احسان الحق کے مطابق، پاکستان میں کپاس کی پیداوار میں کمی اور معیاری روئی کی محدود دستیابی کی وجہ سے درآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے۔چیئرمین کاٹن جنرز فورم نے یہ بھی بتایا کہ روئی کی قیمت میں 200 روپے کا اضافہ ہوا ہے، اور اب اس کی قیمت 18 ہزار 200 روپے فی من تک پہنچ چکی ہے۔

    پاکستان میں کپاس کی پیداوار میں کمی اور معیاری روئی کی قلت نے ملک کو غیر معمولی طور پر روئی کی درآمدات بڑھانے پر مجبور کر دیا ہے۔ یہ امر پاکستان کی معیشت اور زراعت کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے۔ امریکا سے روئی کی خریداری کا ریکارڈ اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر کپاس کی کمی کو پورا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن ساتھ ہی اس کی قیمتوں میں اضافے کا بھی سامنا ہے۔ یہ صورتحال مقامی کاٹن جنرز کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے، کیونکہ بڑھتی ہوئی قیمتیں انہیں مزید چیلنجز میں مبتلا کر سکتی ہیں۔

    چیمپئنز ٹرافی،بھارت کا انکار،پاکستان کیا کرے گا؟

    چیمپئینز ٹرافی:ایونٹ کی منسوخی کی اطلاعات پر پی سی بی کا موقف سامنے آ گیا

    چیمپئنزٹرافی: بھارتی ٹیم کے کپتان روہت شرما کا بیان سامنے آگیا

  • دالوں اور چینی کی قیمتوں میں  کمی

    دالوں اور چینی کی قیمتوں میں کمی

    لاہور: حکومت کی جانب سے دالوں اور چینی کی قیمتوں میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی: چیئرمین ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن رؤف ابراہیم کا کہنا ہے کہ دالوں کی قیمتیں 25سے75 روپے تک کم ہوئی ہیں، دالوں کی قیمتوں میں مزید کمی کا امکان ہے،ستمبر سے اب تک کالے چنے کی فی کلو قیمت میں 50 روپے کمی ہوئی، اسی طرح 400 روپے فی کلو بکنے والی چنے کی دال کی قیمت 360 روپے ہوگئی، دال ماش کی فی کلو قیمت 500 روپے سے کم ہوکر 425 روپے ہوگئی، کابلی چنا درجہ اول کی قیمت 400 روپے کلو سے کم ہو کر 355 روپے ہوگئی، کابلی چنا چھوٹا دانہ کی قیمت 320 روپے سے کم ہوکر 295 روپے ہوگئی، جبکہ چینی کی قیمت 32 روپے کم ہو کر 157 سے 125 روپے پر آگئی۔

    دوسری جانب مارکیٹ میں 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 60 روپے کا اضافہ ہوا ہے اور 20 کلو کا تھیلہ 1625سے1685 روپے کا ہوگیا ہے، آٹے کی قیمت میں اضافے پر آٹا ڈیلرز اور تندور مالکان کی جانب سے قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

  • پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مسلسل تیزی،پاکستانی معیشت کیلئے اچھی خبر

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مسلسل تیزی،پاکستانی معیشت کیلئے اچھی خبر

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا تسلسل، کے ایس ای 100 انڈیکس 93,000 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر بند

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعہ کو تجارتی دن کے دوران اسٹاکس نے اپنی تیزی کا تسلسل برقرار رکھا، اور کے ایس ای 100 انڈیکس پہلی بار اپنی تاریخ میں 93,000 پوائنٹس کی سطح کو عبور کر گیا۔پی ایس ایکس کی ویب سائٹ کے مطابق، اس دن کے دوران انڈیکس نے 93,514.55 پوائنٹس کی بلند ترین اور 92,566.49 پوائنٹس کی کم ترین سطح کو چھوا۔ کل تجارت کے دوران 361,755,080 حصص کی خرید و فروخت ہوئی، جس کی مارکیٹ ویلیو تقریباً 21.5 ارب پاکستانی روپے رہی۔دن کے اختتام پر، کے ایس ای 100 انڈیکس 93,291.68 پوائنٹس پر بند ہوا، جو کہ پچھلے دن کے 92,520.48 پوائنٹس کے مقابلے میں 771.20 پوائنٹس یا 0.83 فیصد کا اضافہ تھا۔

    اس دن مختلف اہم شعبوں میں خریداری کی سرگرمیاں دیکھنے کو ملیں، جن میں آٹوموبائل اسمبلرز، کمرشل بینک، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیاں، پاور جنریشن اور ریفائنریز شامل ہیں۔ انڈیکس میں شامل بڑے حصص جیسے پی آر ایل، ہبکوب، ایس این جی پی ایل، او جی ڈی سی، ایم سی بی اور ایم ای بی ایل مثبت زون میں ٹریڈ ہوئے۔

    دوسری جانب پاکستان کی کارکنوں کی ترسیلات زر اکتوبر 2024 میں 24 فیصد اضافہ کے ساتھ 3.052 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جبکہ پچھلے سال اکتوبر میں یہ رقم 2.463 ارب ڈالر تھی۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، اکتوبر میں ماہانہ بنیادوں پر ترسیلات زر میں 7 فیصد اضافہ ہوا، جو ستمبر میں 2.86 ارب ڈالر تھیں۔ مالی سال 2024-25 کے پہلے چار مہینوں میں ترسیلات زر 11.8 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں، جو پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 35 فیصد کا اضافہ ہے۔

    اس کے علاوہ، مورگن اسٹینلے کیپٹل انٹرنیشنل (ایم ایس سی آئی) نے اپنی نومبر کی رپورٹ میں آٹھ پاکستانی کمپنیوں کو اپنے فرنٹیئر مارکیٹ (ایف ایم) اسمال کیپ انڈیکس میں شامل کیا ہے۔ ان کمپنیوں میں سٹی فارما، کریسنٹ اسٹیل اینڈ آلائیڈ پروڈکٹس، فاسٹ کیبلز، فلائنگ سیمنٹ کمپنی، پاکستان آکسیجن، شفا انٹرنیشنل ہسپتالز، تھٹا سیمنٹ کمپنی اور ٹی آر جی پاکستان شامل ہیں۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں یہ تیزی اس بات کا غماز ہے کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھ رہا ہے اور اقتصادی اشارے بہتر ہو رہے ہیں۔ اس تیزی کو مزید تقویت اس وقت ملی جب اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مرکزی شرح سود میں 250 بیسس پوائنٹس کی کمی کی، جس کے نتیجے میں شرح سود 17.5 فیصد سے کم ہو کر 15 فیصد تک پہنچ گئی۔ یہ کمی اقتصادی ماہرین کے لئے ایک حیران کن اقدام تھی، کیونکہ بیشتر ماہرین 200 بیسس پوائنٹس کی کمی کی توقع کر رہے تھے۔

    حالیہ ہفتوں میں پی ایس ایکس نے 0.96 فیصد کا ہفتہ وار اضافہ دیکھا، جو کہ مسلسل مانیٹری ایزنگ اور 20 سال میں پہلی بار حکومت کی جانب سے بجٹ سرپلس کی وجہ سے ممکن ہوا۔ یہ سرپلس 1.7 کھرب روپے کا تھا اور اس کے ساتھ ہی مضبوط کارپوریٹ ارننگ رپورٹس نے بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید تقویت دی۔تاہم، حکومت آئی ایم ایف کے دو سہ ماہی اہداف پورے کرنے میں ناکام رہی ہے، جس میں ٹیکس کی وصولی 90 ارب روپے کم اور صوبوں کا کیش سرپلس ہدف 182 ارب روپے کم رہا۔

    اکتوبر کے مہینے میں مہنگائی کی شرح 7.2 فیصد رہی، جب کہ حقیقی شرح سود موجودہ پالیسی شرحوں پر 10 فیصد سے زائد ہے۔ اقتصادی طور پر، اکتوبر کا تجارتی خسارہ 1.4 ارب ڈالر رہا، جبکہ برآمدات 4.9 فیصد ماہانہ اضافہ کے ساتھ 2.97 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔

    علاوہ ازیں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی طرف سے رواں سال جمع کرائے گئے ٹیکس گوشواروں کی تفصیلات جاری کر دی گئیں،6 نومبر تک 52 لاکھ 15 ہزار سے زائد ٹیکس گوشوارے موصول ہوئے، گزشتہ سال اسی مدت میں 29 لاکھ 59 ہزار ٹیکس گوشوارے موصول ہوئے تھے، گوشواروں کے ساتھ 6 نومبر تک ٹیکس کی ادائیگی 132 ارب سے زائد ہوئی، گزشتہ سال کے اسی عرصے میں ٹیکس ادائیگی 77 ارب 13 کروڑ روپے تھی،یکم جولائی سے 6 نومبر تک 6 لاکھ 60 ہزار نئے ریٹرن فائلرز کا اندراج ہوا، گزشتہ سال یکم جولائی سے 6 نومبر تک 13 لاکھ 46 ہزار نئے ریٹرن فائل ہوئے تھے، گزشتہ سال کے مقابلے رواں برس گوشواروں میں 76 فیصد اضافہ ہوا ہے، مالی سال 2024ء کے لیے 20 لاکھ 51 ہزار 962 افراد نے نِل ریٹرن فائل کیا،گزشتہ سال 6 نومبر تک 10 لاکھ 36 ہزار 998 نِل ریٹرن فائل کیے گئے تھے جبکہ گزشتہ سال مجموعی طور پر 36 لاکھ 92 ہزار سے زائد نِل ریٹرن فائل ہوئے تھے۔

  • سونے کی قیمت میں اضافہ

    سونے کی قیمت میں اضافہ

    کراچی: سونا دو روز تک سستا ہونے کے بعد مہنگا ہو گیا-

    باغی ٹی وی : آل پاکستان جیمز اینڈ جیولر ایسوسی ایشن کے مطابق آج سونے کی فی تولہ قیمت میں 2 ہزار روپے کے ساتھ قیمت 2 لاکھ 78 ہزار 800 روپے ہو گئی ہے اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں 1715 روپے کے اضافے کے بعد قیمت 2 لاکھ 39 ہزار 26 روپے ہو گئی جبکہ عالمی بازار میں سونے کا بھاؤ 21 ڈالر بڑھ کر 2683 ڈالر فی اونس پر آ گیا ہے۔

    دوسری جانب سونے کی قیمتوں میں اضافے کے برعکس ملک میں فی تولہ چاندی قیمت بغیر کسی تبدیلی کے 3300 روپے اور 10 گرام چاندی کی قیمت بھی بغیر کسی تبدیلی کے 2829.21 روپے کی سطح پر مستحکم رہی۔

    علاوہ ازیں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ایک بار پھر تاریخ رقم ہو گئی، کے ایس ای 100 انڈیکس نئی بلند ترین سطح کو چھو گیاکاروباری ہفتے کے آخری دن مارکیٹ کا آغاز 275 پوائنٹس کی تیزی کے ساتھ ہوا، جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس بڑھ کر 92796 پوائنٹس کی سطح پر آ گیا، جمعہ کے روز پی ایس ایکس میں ایک موقع پر کے ایس ای 100 انڈیکس میں 619 پوائنٹس کی تیزی ریکارڈ ہوئی، جس کے نتیجے میں انڈیکس 93 ہزار پوائنٹس کی نئی تاریخ سطح کو عبور کرکے 93140 پوائنٹس کی نئی بلند ترین سطح پر آ گیا۔

  • غیرقانونی سگریٹ کی فروخت،پاکستان کو سالانہ 3 سو ارب کا نقصان

    غیرقانونی سگریٹ کی فروخت،پاکستان کو سالانہ 3 سو ارب کا نقصان

    پاکستان میں غیر قانونی سگریٹس کی فروخت کا گراف تیزی سے بڑھ رہا ہے اور حالیہ رپورٹس کے مطابق، ملک میں 50 فیصد سے زیادہ سگریٹس اسمگل ہو کر فروخت ہو رہی ہیں۔ اس صورتحال کے باعث، قانونی سگریٹس کی فروخت میں واضح کمی آئی ہے، جس کا اثر ٹیکس آمدنی پر بھی پڑا ہے۔

    ذرائع کے مطابق، قانونی سگریٹس کی فروخت میں کمی کی وجہ سے پاکستان کو سالانہ 300 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ صرف رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں قانونی سگریٹس کی فروخت میں 80 کروڑ اسٹکس کی کمی آئی ہے۔ جولائی سے ستمبر تک کی مدت میں قانونی سگریٹس کی فروخت 7.1 ارب اسٹکس سے کم ہو کر 6.3 ارب اسٹکس پر آ گئی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہا، تو اس سال قانونی سگریٹس کی مارکیٹ سیل میں 4 ارب روپے کی مزید کمی کا امکان ہے۔ اسی طرح، کچھ برانڈز کی سالانہ فروخت میں بھی زبردست کمی آئی ہے، مثلاً ایک مشہور برانڈ کی فروخت 66 کروڑ سے کم ہو کر 30 کروڑ اسٹکس تک پہنچ گئی ہے۔

    یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ غیر قانونی تجارت کا مسئلہ پاکستان میں سنگین ہوتا جا رہا ہے، جو نہ صرف صحت کے مسائل پیدا کر رہا ہے بلکہ معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔ حکومت کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہے کہ وہ اسمگلنگ کو روکنے کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنائے اور ٹیکس کی آمدنی میں کمی کو پورا کرنے کے لیے اقدامات کرے۔

    پاکستان میں سگریٹ نوشی ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے، اور اس کا اثر نہ صرف بالغوں پر پڑتا ہے بلکہ بچوں کی صحت پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ سگریٹ نوشی سے بچوں کے جسمانی، ذہنی اور جذباتی صحت پر تباہ کن اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ایسے میں یہ ضروری ہے کہ ہم سگریٹ نوشی کی روک تھام کے لیے اقدامات کریں تاکہ ہم اپنے بچوں کو اس نقصان دہ عادت سے بچا سکیں۔سگریٹ میں پائے جانے والے مختلف کیمیکلز اور زہریلے مادے بچوں کے جسم میں داخل ہو کر ان کی صحت کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ سگریٹ کے دھوئیں میں شامل زہریلے مادے بچوں کی سانس کی نالیوں اور پھیپھڑوں کو متاثر کرتے ہیں۔ اس سے آسم، برونکائٹس، اور دیگر سانس کی بیماریوں کا خطرہ بڑھتا ہے۔ سگریٹ کا دھواں بچوں کی دماغی نشونما پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے، جس سے ان کی تعلیمی کارکردگی میں کمی آ سکتی ہے اور ذہنی بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔طویل مدتی اثرات میں بچوں میں دل کی بیماریوں کا خطرہ بھی شامل ہوتا ہے۔ سگریٹ نوشی سے خون کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں، جس سے دل کی صحت پر اثر پڑتا ہے۔ سگریٹ کے دھوئیں سے بچوں کی قوت مدافعت کم ہوتی ہے، جس کے باعث وہ مختلف انفیکشنز اور بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔سگریٹ میں موجود زہریلے مادے بچوں کے جسم میں کینسر کی نشوونما کا باعث بن سکتے ہیں۔

    بچوں کو سگریٹ سے بچانے کے لیے اقدامات
    پاکستان میں سگریٹ نوشی کے اثرات سے بچوں کو بچانے کے لیے کچھ مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے،والدین کی تربیت اور مثال بچوں کے لیے سب سے اہم ہوتی ہے۔ اگر والدین خود سگریٹ نوش ہیں تو یہ عادت بچوں میں منتقل ہونے کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔ والدین کو خود بھی اس عادت سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہیے تاکہ وہ اپنے بچوں کے لیے ایک بہتر نمونہ پیش کر سکیں۔ اس کے علاوہ، والدین کو اپنے بچوں کو سگریٹ نوشی کے نقصانات کے بارے میں آگاہ کرنا چاہیے۔سکولز اور کالجز میں بچوں کو سگریٹ نوشی کے خطرات سے آگاہ کرنے کے لیے مختلف آگاہی پروگرامز منعقد کیے جا سکتے ہیں۔ ان پروگرامز میں بچوں کو بتائیں کہ سگریٹ نوشی ان کی صحت، تعلیم اور زندگی کو کس طرح متاثر کر سکتی ہے۔حکومت کو سگریٹ نوشی کی روک تھام کے لیے قوانین مزید سخت بنانے کی ضرورت ہے۔ اسکولز اور پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی لگانی چاہیے۔ علاوہ ازیں، سگریٹ کی فروخت پر پابندی لگانے کے لیے موثر قانون سازی ضروری ہے۔یہ ضروری ہے کہ پبلک مقامات، جیسے پارکس، سڑکیں، اور کھیل کے میدانوں میں سگریٹ نوشی پر پابندی لگائی جائے۔ اس سے بچوں کو اس بات کا شعور ہوگا کہ سگریٹ نوشی معاشرتی طور پر قابل قبول نہیں ہے۔بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے حکومت اور غیر سرکاری تنظیموں کو مہمات چلانی چاہیے تاکہ لوگوں کو سگریٹ نوشی کے اثرات سے آگاہ کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ، والدین اور دیگر بزرگ افراد کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں کے سامنے سگریٹ نوشی نہ کریں۔صحت کے شعبے میں بہتری لاتے ہوئے، حکومت کو ایسی سہولتیں فراہم کرنی چاہئیں جن کے ذریعے لوگ سگریٹ نوشی سے نجات حاصل کر سکیں۔ نیکوٹین کو کم کرنے والی ادویات، تھراپی اور کونسلنگ سیشنز ان اقدامات کا حصہ ہو سکتے ہیں،پاکستان میں سگریٹ کی قیمت بہت کم ہے، جس کی وجہ سے بچے اسے آسانی سے خرید سکتے ہیں۔ حکومت کو سگریٹ کی قیمتوں میں اضافہ کرنا چاہیے تاکہ کم عمر بچے سگریٹ خریدنے کی استطاعت نہ رکھیں۔آج کل الیکٹرانک سگریٹ یا ‘وپنگ’ بھی بچوں میں مقبول ہوتی جا رہی ہے۔ یہ بھی سگریٹ نوشی کی طرح مضر صحت ہے، لہٰذا اس پر بھی پابندی لگانی چاہیے اور اس کے بارے میں آگاہی فراہم کرنی چاہیے۔

    پاکستان میں سگریٹ نوشی کی روک تھام اور بچوں کو اس عادت سے بچانے کے لیے ایک اجتماعی کوشش کی ضرورت ہے۔ والدین، اسکولز، حکومت اور معاشرے کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ بچوں کی صحت کو اس خطرے سے بچایا جا سکے۔ سگریٹ نوشی کے نقصانات اور اس کے اثرات کے بارے میں شعور بیدار کرنے کے ذریعے ہم اپنے بچوں کو صحت مند زندگی فراہم کر سکتے ہیں۔

    بجٹ میں تمباکو پر ٹیکس بڑھایا جاتا تو معیشت بہتر ہوتی، شارق خان

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

    تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے،شارق خان

  • شوگر ایڈوائزری بورڈ کا چینی کی مزید برآمد کی اجازت سے انکار

    شوگر ایڈوائزری بورڈ کا چینی کی مزید برآمد کی اجازت سے انکار

    وفاقی وزیر صنعت و پیداوار رانا تنویر حسین کی زیر صدارت شوگر ایڈوائزری بورڈ کا اجلاس ہوا
    اجلاس میں وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے بھی شرکت کی، اجلاس کے بعد جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اجلاس میں ملک میں شوگر کے اسٹاک کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا گیا، آنے والے سیزن کے لیے گنے کی فصل کے تخمینے کا جائزہ لیا گیا، آنے والے کرشنگ سال میں چینی کے مجموعی اسٹاک کی پوزیشن کا بھی جائزہ لیا گیا، بورڈ نے مقامی مارکیٹ میں چینی کی موجودہ قیمتوں پر اطمینان ظاہر کیا، رانا تنویر حسین کا کہنا تھا کہ مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں میں کمی کا رجحان ہے، تمام شوگر ملیں 21 نومبر سے کرشنگ شروع کر دیں گی، 21 تاریخ تک کرشنگ نہ کرنے والی ملوں کے خلاف کارروائی ہوگی،کاشتکاروں کی تمام ادائیگیاں کرشنگ سیزن شروع ہونے سے پہلے مکمل کی جائینگے،جو ملز کاشتکاروں کے واجبات ادا نہیں کریں گی ان سے برآمد کی اجازت واپس لے لیں گے، پی ایس ایم ای نے مزید چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگی،جب تک برآمد کا پہلا کو ٹا مکمل نہیں ہوتا مزید اجازت نہیں دے سکتے،