واشنگٹن :فرانس میں کورونا وائرس نومبر 2019 سے ہی موجود،پھراسے دنیا سے کیوں چھائے رکھا اہم رپورٹ آگئی ،اطلاعات کے مطابق 2019 کے آخر میں چین میں باضابطہ طور پر کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا تھا جس کے بعد سے اب تک دنیا بھر میں 40 لاکھ سے زائد افراد متاثرہ اور پونے تین لاکھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق چین کی جانب سے 31جنوری 2019کو پہلی مرتبہ باضابطہ طور پرکورونا وائرس کی وبا کے متعلق آگاہ کیاگیا حالانکہ وائرس اس سے پہلے بھی چین میں موجود تھا۔اب تک کی اطلاعات کے مطابق کورونا وائرس چین کے شہر ووہان سے پھیلا جہاں مبینہ طور پر یہ وائرس چمگادڑ سے پھیلا ہے تاہم انسان میں یہ وائرس کس طرح یا کس جانور سے ہوتا ہوا منتقل ہوا یہ ابھی واضح نہیں ہے۔
دوسری جانب فرانس میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق فرانس میں کورونا وائرس 16 نومبر سے پہلے بھی موجود تھا۔یہ انکشاف ایک فرانسیسی اسپتال کے ایکسرے ڈپارٹمنٹ کی جانب سے یکم نومبر 2019 سے 30 اپریل 2020 تک ڈھائی ہزار افراد کے سینے کے ایکسرے نتائج کے جائزے سے سامنے آیا ہے۔
یہ جائزہ عالمی ادارہ صحت کے مشورے پر کیا گیا تھا جس میں ڈبلیو ایچ او نے کورونا وبا کے پھیلاؤ سے متعلق جاننے کے لیے تمام ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ گذشتہ سال کے آخر سے نمونیا اور اس سے ملتے جلتے امراض کے مریضوں کی رپورٹس کا جائزہ لیں۔
ایکسرے ڈپارٹمنٹ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ رپورٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ کورونا وائرس نومبر سے ہی فرانس میں گھوم رہا تھا اور ایکسرے نتائج کے مطابق کورونا کا پہلا مریض 16 نومبر کو سامنے آچکا تھا اور بعد ازاں کرسمس اور دیگر تقریبات کے باعث یہ پورے ملک میں تیزی سے پھیلتا چلا گیا۔
خیال رہے کہ فرانس میں کورونا کا پہلا باضابطہ کیس 24 جنوری کو سامنے آیا تھا اور اب تک وہاں ایک لاکھ 76 ہزار سے زائد افراد متاثر اور 26 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت نیشنل ہیلتھ ٹاسک فورس کا اجلاس ہوا،
اجلاس میں چیئرمین نیشنل ہیلتھ ٹاسک فورس ڈاکٹر نوشیروان برکی، معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا، صوبائ وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد، صوبائ وزیر صحت خیبر پختونخواہ تیمور سلیم جھگڑا، اور سینئر افسران کی ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت۔ وزیراعظم کے فوکل پرسن برائے کوویڈ-19 ڈاکٹر فیصل بھی اجلاس میں شریک تھے ۔
صوبائ وزراء صحت نے اپنے صوبوں میں کورونا وائرس کی صورتحال، ہسپتالوں میں مریضوں کی دیکھ بھال، ڈاکٹروں اور طبی عملے کی حفاظت و سہولت کے اقدامات، کورونا ٹیسٹنگ کی استعداد میں اضافے کے حوالے سے شرکاء کو آگاہ کیا۔
وزیراعظم کے فوکل پرسن برائے کوویڈ-19 ڈاکٹر فیصل نے ملک کے مختلف صوبوں اور علاقوں میں کورونا وائرس کے متاثرین کے اعدادوشمار، شرح اموات، کیسز کے تناسب کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان دوسرے ممالک کی نسبت کورونا وائرس سے کم متاثر ہوا ہے۔
شرکاء کو آگاہ کیا گیا کہ مارچ کی نسبت کورونا وائرس کی ٹیسٹنگ لیبز کی تعداد کو 4 سے بڑھا کر 63 تک لے جایا جا چکا ہے۔ صوبائی وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے ہوم قرنطینہ کے حوالے سے اقدامات پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کہ اس حوالے سے جلد باضابطہ لائحہ عمل کا اعلان کر دیا جائے گا ۔
وزیراعظم نے موجودہ صورتحال کے حوالے سے عوام الناس میں بھرپور آگاہی اجاگر کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ بحیثیت فرد اور بحیثیت ذمہ دار شہری، ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اگر کوئ فرد کورونا وائرس سے متاثر ہو گیا ہے تو اس کے ساتھ نہایت ذمہ داری سے پیش آئیں ۔ وزیراعظم نے کورونا وائرس کے متاثرین کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھنے کے واقعات کی رپورٹ کے حوالے سے نہایت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ طرز عمل ناقابل برداشت ہے اور خوف کا موجب بنتا ہے۔
وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام اگر کوروناوائرس کی علامات محسوس کریں تو فوری اور بلا خوف ٹیسٹ کے لیے رجوع کریں ۔ اس ضمن میں عوام میں غیر ضروری ہچکچاہٹ اور خوف کے تاثر کو زائل کرنے کے حوالے سے وزیر اعظم نے ایک جامع اور بھرپور عوامی آگاہی مہم شروع کرنے کے اقدامات کی اہمیت پر زور دیا اور اس حوالے سے جلد ایک مربوط حکمت عملی مرتب کرنے کی ہدایت کی ۔
وزیراعظم نے دوسرے ممالک کی نسبت پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز کی کم شرح کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ابھی پاکستان میں حالات دنیا کے دوسرے ممالک کی نسبت قابو میں ہیں۔ حفاظتی تدابیر اختیار کرنے اور عوام میں اعتماد اجاگر کرنے سے صورتحال میں نمایاں بہتری آسکتی ہے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ وبا نے جو کرونا وائرس ہے اس نے کھرب پتیوں کی دولت میں بے پناہ اضافہ کیا ہے ایک دفعہ مشہور وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ پانامہ لیکس کے مقدمے کے حوالہ سے کہ مقدمہ تو موکل ہارتا ہے،وکیل ، اس طرح بڑے بڑے کاروباری لوگ نہیں ہارتے چاہے وبا ہو یا کچھ اور وہ لوگ دولت بنانے کے راستے نکال لیتے ہیں
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ رگڑے جاتے ہیں تو چھوٹے کاروباری یا ملازمین، بڑے کاروبار چھریاں ورکرز پر چلاتے ہیں جو برسوں سے ان کی کمپنی میں کام کر کے انکو منافع دے رہے ہوتے ہیں، دنیا میں اس وبا سے بڑی معیشتوں کا رونا رویا جا رہا ہے، کروڑوں لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں پہلے سے ارب پتی لوگوں کی دولت میں اضافہ ہوا ہے، صرف امریکہ میں ارب پتی عالمی وبا کے دوران ارب پتی افراد نے وبا کے دوران 238 بلین اضافی ڈالر حاصل کئے،18 مارچ سے 10 اپریل تک امریکہ میں لوگوں کی دولت میں 2.38 بلین ڈالر کا اضافہ ہوا، دوسری طرف 22 ملین امریکی ملازمت سے گئے،
جنوری کے شروع میں ہونے وبا کے دوران آٹھ ارب پتی افراد نے ایک ارب ڈالر سے زیادہ کا انکی دولت میں اضافہ ہوا،جب کہ ایمازون کے بانی کی دولت کی بات کی جائے تو 25 بلین ڈالر جنوری سے اضافہ ہوا،1990 سے لے کر اب تک امریکہ میں ارب پتی لوگوں کی دولت میں 1130 فیصد اضافہ ہوا،اور اسکے مقابلے میں 1980 سے 2018 کے درمیان ارب پتی ٹیکس کی ذمہ داریوں میں 79 فیصد کم ہوئے اسکے باوجود 78 فیصد امریکی وبا کے دوران تنخواہوں میں زندگی گزار رہے ہیں اور انکی تنخواہوں میں کٹوتی بھی ہوئی.
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ میں وبا کی وجہ سے نوکریوں کا تیزی سے خاتمہ ہوا اور لاکھوں افراد نے بے روزگار ہونے کے بعد الاؤنس کے لئے درخواستیں جمع کروائیں،وبا کے دوران وہ کمپنیاں جو وبا کو شکست دینے کے لئے ویکسین اور ٹیسٹ کٹس بنانے میں لگی ہوئی ہیں ان کمپنیوں کی دولت میں بھی بے پناہ اضافہ دیکھا گیا ہے، دنیا بھر میں ویکسین کے لگ بھگ کے 80 منصوبے جاری ہیں،زیادہ تر ویکسین کے منصوبوں کا چھوٹی بڑی ادویات ساز کمپنیوں کا تعلق امریکہ، کینڈا،چائنہ اور جرمنی سے ہے،بل گیٹس جو بظاہر اربوں روپے خرچ کر کے نہ صرف گڈ ویل بڑھا رہا ہے بلکہ ویکسین بنانے والی کمپنیوں میں انویسمنٹ بھی کر رہا ہے،تا کہ دنیا میں اثر رسوخ بڑھا سکے، اسکے علاوہ دولت صرف چند ہاتھوں میں گردش کر رہی ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ وبا کے دنوں میں اس دولت میں کئی گنا اضافہ ہوا، یعنی ثابت ہوا کہ وبا کے دنوں میں یہ کمپنیاں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ٹیسٹ کٹس اور ویکسین نہیں بنا رہیں بلکہ اربوں روپے کمانے کے لئے کر رہی ہیں،صرچ پچھلے سات پفتوں میں انویسمنٹ کرنے والوں ایک ارب پتی کا اضافہ ہوا ، یہ ارب پتی سٹیفن ڈنسز ہین جو موڈینا نام کی کمپنی کا سی ای او ہے،اس کمپنی نے سب سے پہلے 16 مارچ کو کرونا ویکسین پر ہیومن ٹرائل کیا، جب ڈبلیو ایچ او نے کرونا کے وبا کا عالمی اعلان کیا تو اسوقت سٹیفن کی دولت 720 ملین ڈالر تھی تب سے اسکی دولت میں 130 فیصد کا اضافہ ہوا، یعنی سات ہفتوں میں 107 فیصد اضافہ ہوا،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ایک اور شخص کی دولت میں 32 فیصد کا اضافہ ہوا، جنوبی کوریا کے ایک شخص بائیو میریو کے بانی ایل این میریو کی دولت میں 1.5 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا،یہ کرونا کی ٹیسٹنگ کے دور میں بڑے پلیئرز میں شامل ہیں.جنہوں نے مارچ میں ٹیسٹ کٹس جاری کیں،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کمپنی کی کمائی کیا ہو گی،سب کی دولت میں اضافہ ہو رہا ہے،وبا کے خلاف پہلا انسانی ٹرایل جرمنی میں شروع کیا گیا تھا اس کمپنی کی دولت میں اضافہ ہوا ہے، ادویات ساز کمپنیاں دولت بٹور رہی ہیں اور یہ ادویات ساز کمپنیاں صنعت بن چکی ہیں جن کا مقصد زیادہ سے زیادہ دولت کمانا ہے اور شاید انہوں نے انسانی ہمدردی کو نظر انداز کر دیا ہے،ادویات سازی کے کاروبار میں سرمایہ کاری سے بہت منافع ہے، وبا کے لئے ویکسین تیار ہو گی یا نہیں لیکن اس پر سرمایہ کاری کرنے والوں کی تجوریاں ابھی سے بھرنا شروع ہو گئی ہیں، ابھی تو یہ کھیل شروع ہو رہا ہے، کرونا کے اختتام کے بعد نئے بل گیٹس سامنے آئیں گے.
کراچی :لیاری جنرل اسپتال ایک بار پھر میدان جنگ بن گیا ،مریضوں اورڈاکٹروں کی دوڑیں لگ گئیں ،اطلاعات کےمطابق سندھ میں سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار کے مزید سامنے آنے سے حکومت کی کارکردگی کا اندازہ ہوتا ہے،صوبے میں صحت کی ناکافی سہولیات کی وجہہ لوگ تنگ بھی ہیں اور ابھی احتجاج کرتے ہوے بھی نظرآتے ہیں، ایسے ہی آج لیاری کے جنرل ہسپتال میں واقعہ پیش آیا
علاج کیلئے آئے مریض اور کئی ڈاکٹرز جان بچا کر بھاگنے پر مجبور ہوگئے.،اس واقعے کے بعد نرسز کا اسپتال کے احاطے میں شدید احتجاج.کیا گیا اورمتاثرین کا کہنا تھا کہ ہم پر شہید بینظیر بھٹو میڈیکل کالج کے ملازمین نے حملہ کیا تھا ، یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ کالج کے ملازمین نے اسپتال کے فیمیل اسٹاف کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا,
ذرائع کے مطابق لیاری جنرل اسپتال میں قائم کورونا مریضوں کیلئے آئسولیشن سینٹر وجہ تنازعہ بن گیا,جہاں کورونا آئسولیشن سینٹر اسپتال کے بجائے کالج کے زیر انتظام ہے.
اسپتال میں ادارہ برائے قلب کے بالائی حصے میں کورونا کے مریضوں کیلئے آئیسولیشن سینٹر قائم ہے,کورونا وائرس کے مریض اور دل کے امراض میں مبتلا مریضوں کیلئے ایک ہی داخلی راستہ ہے. کورونا کےمریضوں کی وجہ سے دیگر مریض بھی متاثر ہوسکتے ہیں..
مظائرین کا کہنا ہےکہ آئسولیشن سینٹر سے اب تک عملے کے چار افراد کورونا وائرس کا شکر ہوگئے. کورونا آئسولیشن سینٹر کا فوکل پرسن کالج کے برطرف ملازم کو لگایا گیا ہے, بلدیاتی نمائندے بھی مظائرین سے یکجہتی کیلئے پہنچ گئے.. یوسی وائس چئیرمین رانگیواڑہ عبداللہ دشتی کا حکومت سے واقعے کو نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا اورعبداللہ دشتی نے کہا کہ عملے پرتشدد کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے
اسلام آباد :ن لیگی قیادت آج اپنا بویا کاٹ رہی ہے،عدالت کو جواب دیں ، عوام کوگمراہ کرنے سے کچھ نہیں ہوگا، اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے مسلم لیگ نواز کی قیادت سے متعلق کہا کہ سیاست کو کاروبار کا ذریعہ بنانے والے عوام کو مزید گمراہ نہیں کرسکتے۔
وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے سابق حکمران جماعت مسلم لیگ نواز سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگی قیادت آج اپنا بویا کاٹ رہی ہے، انہوں نے ن لیگی قیادت کو مشورہ دیا کہ بے گناہ ہیں تو فکر کس بات کی؟ سوالوں کے جواب دے دیں۔شبلی فراز کا کہنا تھا کہ لمبی پریس کانفرنس ثبوت ہیں کہ نواز لیگ کے پاس قانونی دفاع نہیں ہے، سیاست کو کاروبار کا ذریعہ بنانے والے عوام کو مزید گمراہ نہیں کرسکتے۔
وفاقی وزیر اطلاعات کا مزید کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کرونا وائرس کی عالمی وبا سے لڑ رہے ہیں جبکہ مسلم لیگ نواز صرف عمران خان پر برس رہی ہے، وزیر اعظم کے فیصلوں کا محور عوام اور ان کی صحت اور سہولتوں کی فراہمی ہے۔اس سے قبل شبلی فراز نے کہا تھا کہ فراز شریف برادران کرونا وائرس کی آڑ میں سیاست کا کھیل کھیلنے کی کوشش نہ کریں، خواجہ آصف کا بیان بھرے پیٹ فارسی بولنے کے مترادف ہے۔
شبلی فراز نے کہا تھا کہ قوم خراب معیشت کا ذمے دار ماضی کے کرپٹ حکمرانوں کو سمجھتی ہے، معیشت ٹھیک کرنے کے لیے خواجہ آصف صاحب اپنی قیادت کو راضی کریں تاکہ خواجہ صاحب کی قیادت بیرون ملک رکھا سرمایہ واپس لے آئے۔
فیصل آباد: پنجاب پولیس نے پھر 4 پھڑکا دیئے ،پولیس کی طرف سے سنگین الزامات ،اطلاعات کے مطابق صوبہ پنجاب کے شہر فیصل آباد میں مبینہ پولیس مقابلے میں 4 ڈاکو ہلاک ہوگئے۔
پولیس کے مطابق ڈکیتیوں کی اطلاع پر ناکہ بندی کے دوران ڈولفن فورس نے 2 موٹر سائیکلوں پر سوار چار مشکوک افراد کو روکنے کی کوشش کی تو انہوں نے فائرنگ کردی، پولیس کی جوابی فائرنگ سے چاروں ڈاکو مارے گئے۔ رپورٹ کے مطابق فیصل آباد کے علاقے غلام محمد آباد میں مبینہ پولیس مقابلے میں 4 ڈاکو مارے گئے، مارے جانے والے ملزمان سے اسلحہ، لوٹی گئی رقم اور موبائل فونز برآمد کرلیے گئے۔
پولیس کے مطابق ڈاکوؤں کا تعلق ایک ہی گینگ سے ہے جو سحری کے وقت رضا آباد اور جھنگ بازار سمیت متعدد علاقوں میں وارداتیں کرتے تھے۔ادھر سرگوھا میں بھی مبینہ پولیس مقابلے میں ایک ڈاکو ہلاک ہوگیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ فیصل آباد پولیس نے پانچ سالہ بچےسے زیادتی کیس میں گرفتار ملزمان کو چھڑانے کی کوشش کرنے والے 4 حملہ آوروں کو مقابلے میں ہلاک کردیا تھا۔سی پی او نے آئی جی پنجاب کو مقابلے کی رپورٹ ارسال کی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ ہلاک ہونے والے دو حملہ آوروں کی شناخت عمر اور شبہاز کے ناموں سے ہوئی، دونوں قتل، اقدام قتل اور ڈکیتی کے متعدد مقدمات میں مطلوب تھے۔
رپورٹ میں بتایا تھا کہ کہ 7 حملہ آوروں نے زیادتی اور قتل کے دو ملزمان کو چھڑوانے کے لیے پولیس پر حملہ کیا تھا۔
کراچی،سعید غنی کے حلقے کے رہائشی گٹر ملا پانی پینے پر مجبور،لوگ ڈرکے مارے بول بھی نہیں سکتے ،اطلاعات کے مطابق وزیر تعلیم سندھ سعید غنی کے حلقے کشمیر کالونی کے رہائشی گٹر ملا پانی پینے پر مجبور ہوگئے۔
تفصیلات کے مطابق پیپلزپارٹی رہنما سعید غنی کے حلقے کشمیر کالونی اور محمود آباد کے رہائشیوں نے اپنی بے بسی پر افسوس کا اظہارکیا ، شہریوں کا کہنا ہے کہ تین سال سے زائد عرصہ ہوچکا ہے کہ سیوریج کا سسٹم ٹھیک نہیں کیا جاسکا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ پانی کی لائن میں سیوریج کا پانی آتا ہے، پانی کا ٹینکر بھی ڈلوائیں تو وہ بھی گندا ہوجاتا ہے۔
پی ٹی آئی رہنما خرم شیر زمان کا کہنا ہے کہ سعید غنی کے حلقے ہی کا نہیں پورے سندھ کا یہی حال ہے، آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کہتی ہے سندھ کے تمام ڈیپارٹمنٹس میں بے ضابطگی ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت سے سوال کیا ہے تو وہ مغلظات بکنے اور وال چاکنگ پر آگئے، چیف جسٹس سے مطالبہ ہے میڈیا کے خلاف مہم کا نوٹس لیں۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے اینکر پرسن اقرار الحسن نے سعید غنی کو ایک اور چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ سعید غنی اپنی مرضی کے 10 علاقے منتخب کرلیں، سندھ حکومت کہتی ہے راشن تقسیم کیا ہے ہمیں 10 علاقے بتادیں۔واضح رہے کہ اے آروائی نیوز نے سعید غنی سے صحت کے شعبے کا حساب پوچھا تو پیپلزپارٹی کے وزیر نے جواب کے بجائے سوشل میڈیا پرچینل کیخلاف مہم شروع کردی جبکہ کراچی اور اندرون سندھ کے شہروں میں اے آروائی نیوز کیخلاف وال چاکنگ بھی کرا دی۔
لاہور:پنجاب لاک ڈاؤن میں31 مئی تک توسیع،کون کرسکے گا کاروباراورکس پرہوگی پابندی،یہ بھی بتادیا،اطلاعات کےمطابق پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں ہونے والے لاک ڈاؤن میں اکتیس مئی تک توسیع کردی۔
پنجاب حکومت کے ذرائع کے مطابق محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے لاک ڈاؤن میں توسیع کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا جس کے مطابق صوبے کے تمام بڑے شاپنگ مالز اور تعلیمی ادارے 31 مئی تک بند رہیں گے۔
نوٹی فکیشن کے مطابق پنجاب میں تمام چھوٹی دکانیں ہفتے میں 4 دن کھلیں گی، جن میں الیکٹرانکس، اسٹیل، ایلومونیم، حجام کی دکانیں، بیوٹی پارلر ، سیلون، تندور، گروسری اور جنرل اسٹور صبح 9 سے شام پانچ بجے تک کھولنے کی اجازت ہوگی۔
نوٹی فکیشن کے مطابق حجام،سلون، بیوٹی پارلراورجمنیزیم کھول دیئےگئے، علاوہ ازیں کنسٹریکشن انڈسٹریز کو ایس اوپیز کے تحت کھولنےکی اجازت ہوگی۔رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزادر کی جانب سے تشکیل دی جانے والی کمیٹی نے لاہور کے حوالے سے تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا۔
صوبائی حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ تعلیمی ادارے، شادی ہالز، شاپنگ مالز اور پبلک ٹرانسپورٹ بند رہے گی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق تمام کھولے گئے شعبہ جات کو طے کردہ ضابطہ کار پر عملدرآمد یقینی بنانا ہوگا جبکہ 31 مئی سے پہلے دوبارہ صورتحال کا جائزہ لے کر آئندہ کے لیے فیصلے ہوں گے۔
یاد رہے کہ پنجاب میں اب تک کرونا کے 10 ہزار 471 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے 191 اموات بھی ہوئیں جبکہ 4 ہزار 131 مریض شفا یاب بھی ہوئے ہیں۔
کراچی "اقرارالحسن کا سعید غنی کو چیلنج سکولوں میں گدھے،میں صحافت چھوڑ دوں گا یا آپ سیاست چھوڑدیں ،باغی ٹی وی کے مطابق پاکستان کے معروف فیڈ رپورٹر،صحافی اقرار الحسن نے سندھ کے وزیرتعلیم سعید غنی کی طرف سے معروف چینل اے آروائی کے خلاف پراپیگنڈے کرنے پرمعروف صحافی نے سعید غنی کے حلقے کی عوام کے ساتھ سلوک پراوقات یاد کرادی ہے
سعید غنی صاحب کو چیلنج۔۔۔ آج، ابھی، اسی وقت میرے ساتھ اپنے حلقے میں چلیں، اگر وہاں اسکولوں میں گدھے نہ بندھے ہوں، ڈسپنسریوں میں گٹر کا پانی نہ ہو تو میں صحافت چھوڑ دوں گا ورنہ یہ ایسی ناکارہ سیاست چھوڑ دیں۔ خدا کے واسطے سندھ کے مظلوم عوام پر رحم کریں @SaeedGhani1pic.twitter.com/3n9wTpnP4e
— Iqrar ul Hassan Syed (@iqrarulhassan) May 9, 2020
باغی ٹی وی کے مطابق اقرار الحسن نے صوبائی وزیرتعلیم سعید غنی کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ اپنے کرتوت چھپانے کے لیے ذمہ دار صحافتی اداروں پرکیچڑ اچھال رہے ہیں یہ قبول نہیں ہے ،
اقرارالحسن نے سعید غنی کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہےکہ آج، ابھی، اسی وقت میرے ساتھ اپنے حلقے میں چلیں، اگر وہاں اسکولوں میں گدھے نہ بندھے ہوں، ڈسپنسریوں میں گٹر کا پانی نہ ہو تو میں صحافت چھوڑ دوں گا ورنہ یہ ایسی ناکارہ سیاست چھوڑ دیں۔ خدا کے واسطے سندھ کے مظلوم عوام پر رحم کریں
لاہور:زندگی میں پہلی بارہرکوئی گھرمیں قید،گھرمیں بہت کچھ ہوسکتا ہے،اطلاعات کےمطابق پاکستان کی ٹاپ ٹینس پلیئر سارہ محبوب کہتی ہیں کہ اگر کھلاڑی چاہے تو وہ اپنی فٹنس برقرر رکھنے کیلئے گھر میں ہی ٹریننگ کرسکتا ہے، ٹریننگ کیلئے نہ ہی ساز و سامان درکار ہے اور نہ کوئی بڑی جگہ بس ایک چیز درکار ہے اور وہ کچھ کرنے کا عزم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے بعد شروع میں انہیں روٹین تبدیل کرنا بہت مشکل لگتا تھا لیکن بعد میں احساس ہوا کہ ان حالات کا کچھ نہیں معلوم اس لیے حالات کے مطابق ہی روٹین بنالیا جائے۔
سارہ محبوب کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ گھر پر ہی ٹریننگ کریں اور جب باہر لوگ نہ ہوں تو کچھ دیر رننگ کرلیں۔ ایک سوال پر 29 سالہ ٹینس پلیئر نے کہا کہ وہ ٹینس کورٹ مِس کررہی ہیں، جو انرجی ٹینس کھیل کر ملتی تھی اس کی کمی محسوس ہورہی ہے اور اب بھی جب ٹینس ذہن پر سوار ہوتا ہے تو دیوار کے سامنے ‘والی’ کرتی ہیں یا ریکٹ سے گیند کو اچھالتی ہیں۔
سارہ محبوب نے بتایا کہ انہوں نے برطانوی کھلاڑی اینڈی مرے کے ‘ہنڈریڈ والیز’ چیلنج سے متاثر ہوکر اس کی جوابی وڈیو بھی تیار کی ہے تاہم سوئس ٹینس اسٹار راجر فیڈرر کی طرح ‘وال والیز’ کرنا آسان نہیں۔
پاکستان کی نمبر ون ٹینس پلیئر کا مزید کہنا تھا کہ وہ سمجھتی ہیں کہ حالات بہتر ہونے کے بعد ٹینس کورٹس میں واپسی زیادہ مشکل نہیں ہوگی کیوں کہ اس میں کھلاڑی ویسے ہی ایک دوسرے سے فاصلے پر ہوتے ہیں۔ احتیاط کے طور پر ہاتھ ملانے سے گریز کیا جاسکتا ہے اور کورٹ پر اضافی گیندیں رکھی جاسکتی ہیں تاکہ ایک گیند کو ہر کوئی نہ چھو سکے۔بغیر تماشائیوں کے بھی میچز ہوسکتے ہیں۔