Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • 17- رمضان المبارک کی تراویح بادشاہی مسجد سے براہ راست باغی ٹی وی پرپاکستان سمیت دنیا بھرمیں دکھائی جاری ہیں

    17- رمضان المبارک کی تراویح بادشاہی مسجد سے براہ راست باغی ٹی وی پرپاکستان سمیت دنیا بھرمیں دکھائی جاری ہیں

    لاہور:17 – رمضان المبارک کی تراویح بادشاہی مسجد سے براہ راست باغی ٹی وی پردکھائی جاری ہیں ،اطلاعات کے مطابق الحمد للہ باغی ٹی وی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ لاہور کی بادشاہی مسجد سے براہ راست نماز تراویح دنیا بھرمیں پھیلے مسلمانوں تک پہنچا رہا ہے ،

    ذرائع کے مطابق بڑی تعداد میں مسلمان آج سترھویں دن بھی اپنے دل کو قرآن کی تلاوت سے مزین کرنے کے لیے باغی ٹی وی کے توسط سے بادشاہی مسجد سے براہ راست نماز تراویح دیکھ رہے ہیں‌باغی ٹی و ی: رمضان المبارک کے سعادتوں اور رحمتوں والے میں مہینے میں باغی ٹی وی اپنے ناظرین کےلیے نیکی سے بھرپور موقع فراہم کرتے ہوئے قرآن کی سماعت کا موقع فراہم کر رہا ہے

     

    چونکہ رمضان اور قرآن کا گہرا تعلق ہے اس سلسے میں نماز تراویح قرآن کی تلاوت اور قرآن کی سماعت کا بنیادی ذریعہ ہوتا ہے اس لیے نماز تراویح کو براہ رست دیکھنے کی سہولت دی جارہی ہے . آپ اب بادشاہی مسجد لاہور میں ادا کی جانے والی نماز تراویح کو دیکھ سکتے ہیں .

    بادشاہی مسجد لاہور سے براہ راست تراویح‌دیکھنے کے لیے آپ باغی ٹی وی کی ویب سائٹ پر جا سکتے ہیں اور اسی طرح باغی کے یو ٹیوب چینل پر بھی نماز تراویح لائیو دیکھ سکتے ہیں. جو کہ بادشاہی مسجد لاہور سے براہ راست نشر کی جائے گی.

    یاد رہے کہ باغی ٹی وی پریہ پاکستان کے سب سے بڑی سوشل میڈیا ٹرانسمیشن ہے جسے دنیا بھرمیں دیکھا جارہاہے ، اس کے علاوہ اس ٹرانسمیشن میں رمضان المبارک کے حوالےسے وعظ ونصیحت کا سلسلہ بھی جاری ہے

  • کورونا مریضوں کی کھوج کیلئے جاسوس ٹیمیں تشکیل دے دی گئیں‌

    کورونا مریضوں کی کھوج کیلئے جاسوس ٹیمیں تشکیل دے دی گئیں‌

    انقرہ : کورونا مریضوں کی کھوج کیلئے جاسوس ٹیمیں تشکیل دے دی گئیں‌،اطلاعات کے مطابق کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر اسلامی ملک نے وبا سے نمٹنے کے لیے قدرے منفرد طریقہ اختیار کرتے ہوئے ڈاکٹرز اور طبی عملے کی جاسوس ٹیمیں تشکیل دے دیں۔

    ترکی اسلامی ممالک میں کورونا سے متاثرہ سب سے بڑا ملک ہے، جہاں 10 مئی کی شام تک ایک لاکھ 37 ہزار افراد وبا میں مبتلا ہوچکے تھے، تاہم ترکی میں ہلاکتوں کا تناسب دیگر ممالک میں کم دیکھا جا رہا ہےیہاں تک ترکی میں کورونا سے ہلاکتیں ایران سے بھی کم ہوئی ہیں، جب کہ ایران میں ترکی سے کم مریض ہیں۔

    جب کہ ترکی میں ایران سے 30 ہزار سے زیادہ مریض ہونے کے باوجود وہاں 10 مئیی کی شام تک ہلاکتوں کی تعداد 3 ہزار 700 تک تھی جو کہ ایران کے مقابلے نصف تھیں۔ اسی طرح ترکی میں کورونا سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کا تناسب بھی زیادہ دیکھا جا رہا ہے اور حکومت کے مطابق وہاں 10 مئی تک صحت یاب مریضوں کی تعداد 90 ہزار کے قریب تھی۔

    اگرچہ اس وقت ترکی اسلامی ممالک میں سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے، تاہم اس باوجود ترکی نے 11 مئی کو لاک ڈاؤن میں مزید نرمی کا اعلان کردیا ہے، کیوں کہ حکومت کے بقول ان کی جاسوس ٹیمیں اچھی طرح سے ذمہ داریاں نبھا رہی ہیں۔دراصل ترکی کی حکومت نے کورونا کے پھیلاؤ کے آغاز میں ہی ڈاکٹرز اور طبی عملے پر مشتمل ایسی جاسوس ٹیمیں تشکیل دی تھیں جنہوں نے گھر گھر جاکر مریضوں کے ٹیسٹ کیے اور متاثرہ افراد کی معلومات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے مزید جاسوس کرکے نئے مریضوں کی کھوج لگائی۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ترک حکومت نے وزارت صحت کے ماتحت ملک بھر میں کورونا کے مریضوں کی کھوج لگانے کے لیے 4 سے 5 افراد کے عملے پر مشتمل 6 ہزار ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔مذکورہ ٹیموں میں ڈاکٹرز سمیت انتہائی پیشہ ور طبی عملے کے ارکان شامل ہیں جو کہ گھر گھر جاکر مشکوک افراد سے معلومات لینے کے بعد ان کا ٹیسٹ کرتے ہیں اور ٹیسٹ مثبت آنے پر حاصل کی گئی معلومات کے مطابق مزید جاسوسی کرتے ہیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ ٹیمیں معلومات ملنے یا شک ہونے پر کہیں بھی پہنچ جاتی ہیں اور ان افراد سے ابتدائی طور پر سوالات کرتی ہیں جن میں انہیں شبہ ہوتا ہے کہ وہ وبا کے مریض ہو سکتے ہیں۔اگر معلومات کے دوران مشکوک افراد کے سوالات ٹیم کے طے شدہ معیار کے مطابق اترتے ہیں تو وہ نہ صرف مشکوک شخص کا ٹیسٹ کرتے ہیں بلکہ ایسے افراد کو 2 ہفتوں تک قرنطینہ میں رہنے کی ہدایت بھی کرتے ہیں۔

    ترکی کے وزیر صحت فخر الدین کوسا نے ڈاکٹروں اور طبی عملے کی ان جاسوس ٹیموں کو حکومت کی کامیاب حکمت عملی قرار دیتے ہوئے بتایا کہ ان ٹیموں کی کارکردگی سے محلوں اور گھروں میں موجود مریضوں کا پتہ لگانے میں آسانی ملی اور وبا کے پھیلاؤ کو بھی روکنے میں مدد ملی۔

    حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی جاسوس ٹیمیں استنبول اور انقرہ سمیت ملک کے تمام علاقوں میں کام کر رہی ہیں اور ایسی ٹیموں کے کام سے ضلع فتح جیسے علاقوں میں حکومت کو نمایاں کامیابیاں بھی ملی ہیں۔ضلع فتح کے شعبہ عوامی صحت کے ڈائریکٹر ملک نور اسلان کے مطابق مریضوں کی کھوج لگانے والی ڈاکٹرز اور طبی عملے پر مشتمل یہ جاسوس ٹیمیں درحقیقت اصل جاسوس والی کام کر رہی ہیں اور ان کے کام سے کئی مریض سامنے آئے۔

    عام طور پر ہر ایک ٹیم یومیہ 4 سے 5 کیسز کی تفتیش کرتی ہے، جس میں سے اگر کسی شخص کی جانب سے فراہم کی جانے والی معلومات ٹیم کی جانب سے بنائے گئے سوالنامے پر پورا اترتی ہے تو اس شخص کا ٹیسٹ کرنے سمیت انہیں قرنطینہ میں رہنے کی ہدایت بھی کی جاتی ہے۔ مذکورہ ٹیم گھر سے ہی کسی بھی مشکوک شخص کے ٹیسٹ کے لیے نمونے لے کر اسے لیبارٹری بھجوا دیتی ہے اور وہی ٹیم مذکورہ شخص کو ٹیسٹ نتائج سے آگاہ کرتی ہے۔

    ٹیسٹ مثبت آنے پر مذکورہ شخص کی جانب سے فراہم کی گئی معلومات کے مطابق مزید تفتیش کرکے ان افراد سے بھی رابطہ کیا جاتا ہے، جن سے متاثرہ شخص نے 48 گھنٹوں میں رابطہ کیا ہوتا ہے۔ یوں جاسوس ٹیمیں ان افراد کا بھی معائنہ کرنے سمیت ضرورت پڑنے پر ٹیسٹ بھی کرتی ہیں جو متاثرہ مریض سے پہلے مل چکے ہوتے ہیں۔

    جہاں ترک حکومت کے عہدیدار وزیر کورونا کے مریضوں کی کھوج لگانے والی ان جاسوس ٹیموں کو انتہائی مؤثر حکمت عملی قرار دے رہے ہیں، وہیں بعض انسانی حقوق کے رہنماؤں نے ان ٹیموں پر خدشات کا اظہار بھی کیا ہے۔بعض کارکنان کے مطابق حکومت کورونا کے مریضوں کی کھوج لگانے کے نام پر جاسوس کرکے لوگوں کا ڈیٹا اکٹھا کر رہی ہے۔

  • امیدیں دم توڑگئیں ، مایوسیاں بڑھ گئیں‌ :کورونا کی ویکسین 2021 تک تیار نہیں ہوسکتی، عالمی ادارہ صحت

    امیدیں دم توڑگئیں ، مایوسیاں بڑھ گئیں‌ :کورونا کی ویکسین 2021 تک تیار نہیں ہوسکتی، عالمی ادارہ صحت

    اسلام آباد : امیدیں دم توڑگئیں ، مایوسیاں بڑھ گئیں‌ :کورونا کی ویکسین 2021 تک تیار نہیں ہوسکتی، عالمی ادارہ صحت نے خبر سناکر دنیا والوں کو ہلا کررکھ دیا ،اطلاعات کے مطابق عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے واضح کیا ہے کہ کچھ بھی ہوجائے کورونا وائرس کی وبا سے بچاؤ کی ویکسین 2021 تک تیار نہیں ہوسکتی۔

    عالمی ادارہ صحت کی جانب سے یہ وضاحت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کہ حال ہی میں امریکی ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے بائیو ٹیک کمپنی موڈرینا کو تیار کردہ ویکسین کی آزمائش کے دوسرے مرحلے کی اجازت دی ہے۔ایف ڈی اے نے چند دن قبل ہی موڈرینا کو اپنی تیار کردہ ویکسین کے دوسرے آزمائشی مرحلے شروع کرنے کی اجازت دی تھی، موڈرینا وہ پہلی کمپنی تھی جس نے مارچ میں انسانوں پر اپنی ویکسین کی آزمائش شروع کی تھی۔

    مذکورہ کمپنی نے ویکسین کے انسانی ٹرائل کے پہلے مرحلے کو حال ہی میں مکمل کیا تھا جس کا مقصد اس ویکسین کے محفوظ ہونے اور مقدار کے بارے میں سمجھنا تھا اور اب دوسرے مرحلے میں محققین اس کی افادیت اور مضر اثرات کو 600 افراد پر دیکھیں گے۔
    امریکا کی اسی کمپنی کے علاوہ ایک اور امریکی کمپنی کا بھی انسانی ٹرائل جاری ہے جب کہ برطانیہ اور جرمنی کی کمپنیوں کی جانب سے تیار کردہ ویکسین کا انسانی ٹرائل بھی جاری ہے، تاہم باقی تینوں کمپنیوں کے یہ ابتدائی ٹرائل ہیں اور ان تمام ویکسین کے ٹرائلز مجموعی طور پر تین آزمائشی مراحل پر مشتمل ہوں گے۔

    امریکی کمپنی موڈریکا کی ویکسین ایم آر این اے 1273 کا دوسرا آزمائشی مرحلہ شروع ہوتے ہی عالمی ادارہ صحت نے واضح کیا ہے کہ کچھ بھی ہوجائے، دنیا میں کوئی بھی کورونا سے بچاؤ کی ویکسین 2021 کے آخر تک سامنے نہیں آ سکتی۔

    عرب نشریاتی ادارے العربیہ کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے ترجمان کے مطابق نئی ویکسین کی آزمائش کے تین مرحلے ہوتے ہیں، جس کے بعد مزید دو اور مرحلے بھی ہوتے ہیں اور ان تمام مراحل کو مکمل کرنے میں ڈیڑھ سال کا وقت لگ جائے گا اور یوں کوئی بھی ویکسین 2021 کے اختتام سے قبل دستیاب نہیں ہوگی۔

    عالمی ادارہ صحت کے عالمی وبا کے الرٹ اور ریسپانس سینٹر کے سربراہ ڈاکٹر ڈیل فشر نے امریکی نشریاتی ادارے سی این بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کورونا سے بچاؤ کی ویکسین کی آزمائش کا دوسرا اور تیسرا مرحلہ پہلے مرحلے سے زیادہ مشکل ہوتا ہے اور اس میں بہت وقت لگتا ہے۔ڈاکٹر ڈیل فشر کے مطابق پہلے مرحلے کی کامیابی کے بعد دوسرے مرحلے میں بہت سارے لوگوں پر ویکسین کو آزمایا جاتا ہے اور ساتھ ہی اس دوران رضاکاروں کی صحت اور ویکسین کے نتائج کو بھی مانیٹر کیا جاتا ہے جو کہ ایک تھکا دینے والا مرحلہ ہے۔

    عالمی ادارہ صحت کے عہدیدار کے مطابق پہلے اور دوسرے مرحلے کی کامیابی کے بعد ویکسین کی آزمائش کا تیسرا اور سب سے اور بڑا مرحلہ شروع ہوتا ہے اور تیسرے مرحلے میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں پر ویکسین کو آزمایا جاتا ہے۔ ان کے مطابق لاکھوں لوگوں کو ویکسین دینے، ان کی صحت مانیٹر کرنے اور دوا کے رد عمل جانچنے میں نہ صرف بہت بڑی ٹیم اور فنڈز کی ضررت ہوتی ہے بلکہ اس میں کافی وقت بھی لگتا ہے۔

    ڈاکٹر ڈیل فشر نے بتایا کہ اگر تینوں آزمائشی پروگرام کامیاب بھی گئے اور ویکسین کے نتائج بھی بہتر ثابت ہوئے تو ویکسین کا چوتھا مرحلے اس کی تیاری کا ہے جو کہ خود ایک بہت بڑا چیلنج ہے، جس کے بعد آخری مرحلہ اس ویکسین کی تقسیم اور دور دراز علاقوں تک ترسیل کا ہے اور ان سب مراحل کو طے کرنے میں ڈیڑھ سال کا وقت لگ سکتا ہے۔

    انہوں نے واضح طور پر ویکسین کی دستیابی کے حوالے سے کسی مہینے یا تاریخ کا ذکر نہیں کیا، تاہم بتایا کہ اگر تمام مراحل توقعات کے مطابق طے کیے گئے تو بھی ویکسین کی فراہمی 2021 کے آخر سے قبل ناممکن ہوگی۔تاہم بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی بھی ویکسین کے تجربے اور تحقیق کے لیے بہت سارے وسائل فراہم کرکے ٹیم ورک کے طور پر کام کیا جائے تو ایک سال کے اندر ویکسین کی دستیابی ممکن ہو سکے گی یعنی پھر بھی دنیا کو کورونا سے بچاؤ کی ویکسین 2021 کے وسط تک ہی مل پائے گی۔

  • بھکر اور سانگھڑ میں  حملے میں  خربوزے اور تربوز کی فصل تباہ

    بھکر اور سانگھڑ میں حملے میں خربوزے اور تربوز کی فصل تباہ

    بھکر:بھکر اور سانگھڑ میں حملے میں خربوزے اور تربوز کی فصل تباہ،اطلاعات کے مطابق صحرائے تھل کے علاقے بھکر میں ٹڈی دل کے حملے نے تباہی مچاتے ہوئے خربوزے اور تربوز کی فصل تباہ کر دی۔

    بھاکر سے ذرائع کا کہنا ہے کہ آج ٹڈی دل نے بھکرکے علاقے ڈھینگانہ، دلے والا، ماہنی، کپاہی، نواں گسو، گوہروالہ کے علاقوں میں حملہ کر کے خربوزے اور تربوز کی فصلوں کو مکمل تباہ کر دیا اور درختوں کے پتے بھی چٹ کرگئے۔ اسپرے کے باوجواد انتظامیہ ٹڈی دل پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام ہے۔اس حوالے سے بھکر کے ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ ٹڈی دل کے خلاف آپریشن جاری ہے اور اس سے بچاؤ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب چند ماہ کے وقفے کے بعد سندھ کے ضلع سانگھڑ میں ٹڈی دل کی دوبارہ آمد نے کورونا وائرس سے پریشان حال عوام کو اپنے معاشی مستقبل سے مزید فکرمند کر دیا ہے۔سانگھڑ کے دیہی علاقوں میں کسان 3 ماہ تک گندم کی کٹائی اور کپاس کی بوائی میں مصروف عمل رہے، ہزاروں ایکڑ رقبے پر کاشت کی گئی کپاس کی چند کونپلوں نے ابھی زمین سے سر اٹھایا ہی تھا کہ ٹڈی دل کی آمد نے اس بڑی آبادی کے رہائشی کسانوں کو معاشی طور سے فکر مند کر دیا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر سانگھڑ نے ٹڈی دل کے خاتمے کے لیے دستیاب وسائل کے علاوہ پاک فوج کی خدمات بھی حاصل کر لی ہیں۔ضلعی انتظامیہ کے اجلاس میں متاثرہ علاقوں میں اسپرے کے علاوہ پاک فوج، محکمہ زراعت اور محکمہ پلانٹ پروٹیکشن کے تعاون سے ہنگامی منصوبہ بھی تشکیل دے دیا ہے۔کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات اپنی جگہ لیکن ٹڈی دل کے مؤثر خاتمے کے لیے مسلسل فضائی اسپرے کرانا نہایت ضروری ہے۔

  • سعودی عرب میں کورونا وائرس کے مزید کیسز سامنے آگئے ، مجموعی تعداد  کہاں چلی گئی

    سعودی عرب میں کورونا وائرس کے مزید کیسز سامنے آگئے ، مجموعی تعداد کہاں چلی گئی

    سعودی عرب میں کورونا وائرس کے مزید کیسز سامنے آگئے ، مجموعی تعداد کہاں چلی گئی

    باغی ٹی وی :سعودی عرب میں کورونا وائرس کے مزید 1704 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد ملک میں وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد 37 ہزار136 ہو گئی ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی وزارت صحت نے کورونا کی تازہ ترین صورتحال کے حوالے سے بتایا ہے کہ سعودی عرب میں کورونا وائرس کے باعث آج مزید 10 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں جبکہ اموات کی مجموعی تعداد 239 ہو گئی ہے۔
    واضح‌رہے کہ اسی طرح‌ہانگ کانگ میں تین انٹی وائرس ادویات کے کورونا مریضوں پر مثبت اثرات سامنے آئے ہیں، ڈاکٹرز نے پانچ روز میں وائرس ختم ہونے کی تصدیق کی ہے۔کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد مسلسل بڑھتی جا رہی ہے، برازیل میں مزید 664 افراد لقمہ اجل بنے، تعداد10 ہزار 656 ہو گئی۔ برطانیہ میں مزید346 افراد جان سے گئے جس کے بعد تعداد31 ہزار 587 ہو گئی۔
    اسپین میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد دو لاکھ 62 ہزارسے زائد ہو گئی ہے۔ اس طرح اسپین میں جاں بحق ہونے والوں کی کل تعداد 26 ہزار 4 سوسے بڑھ گئی ہے۔

    اٹلی میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد دو لاکھ 18 ہزار سے زائد ہو گئی ہے جبکہ جاں بحق ہونے والوں کی کل تعداد 30 ہزار 3 سو سے زائد ہو گئی ہے۔

    عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق برطانیہ میں کورونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد دو لاکھ 15 ہزار سے زائد ہو گئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں 31 ہزار 5 سو سے زائد افراد نے داعی اجل کو لبیک کہا ہے۔

    فرانس میں ایک لاکھ 76 ہزار سے زائد افراد اب تک کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق جاں بحق ہونے والوں کی کل تعداد 26 ہزار 3 سو سے بڑھ گئی ہے۔
    جرمنی میں بھی کورونا کے باعث اموات کا سلسلہ جاری ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اب تک سات ہزار 540 سے زائد اموات ہوچکی ہیں۔ کورونا سے متاثرہ افراد کی کل تعداد ایک لاکھ 71 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

    ترکی میں مہلک وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد تین ہزار 700 سے تجاوز کرگئی ہے اور ایک لاکھ 37 ہزار سے زیادہ افراد متاثر ہو چکے ہیں

  • کرونا وائرس کے وار دنیا کو گھائل کیے ہوئے ، ہلاکتیں بڑے عدد کو چھونے لگی

    کرونا وائرس کے وار دنیا کو گھائل کیے ہوئے ، ہلاکتیں بڑے عدد کو چھونے لگی

    کرونا وائرس کے وار دنیا کو گھائل کیے ہوئے ، ہلاکتیں بڑے عدد کو چھونے لگی

    باغی ٹی وی : کرونا کے وار جاری ہیں، دنیا بھر میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 2 لاکھ 80 ہزار 435 ہو گئی، وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 41 لاکھ سے تجاوز کر گئی، برازیل میں مزید 664، برطانیہ میں 346، اٹلی 194، اسپین میں 179 ہلاکتیں ہوئیں۔

    ہانگ کانگ میں تین انٹی وائرس ادویات کے کورونا مریضوں پر مثبت اثرات سامنے آئے ہیں، ڈاکٹرز نے پانچ روز میں وائرس ختم ہونے کی تصدیق کی ہے۔کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد مسلسل بڑھتی جا رہی ہے، برازیل میں مزید 664 افراد لقمہ اجل بنے، تعداد10 ہزار 656 ہو گئی۔ برطانیہ میں مزید346 افراد جان سے گئے جس کے بعد تعداد31 ہزار 587 ہو گئی۔
    اسپین میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد دو لاکھ 62 ہزارسے زائد ہو گئی ہے۔ اس طرح اسپین میں جاں بحق ہونے والوں کی کل تعداد 26 ہزار 4 سوسے بڑھ گئی ہے۔

    اٹلی میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد دو لاکھ 18 ہزار سے زائد ہو گئی ہے جبکہ جاں بحق ہونے والوں کی کل تعداد 30 ہزار 3 سو سے زائد ہو گئی ہے۔

    عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق برطانیہ میں کورونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد دو لاکھ 15 ہزار سے زائد ہو گئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں 31 ہزار 5 سو سے زائد افراد نے داعی اجل کو لبیک کہا ہے۔

    فرانس میں ایک لاکھ 76 ہزار سے زائد افراد اب تک کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق جاں بحق ہونے والوں کی کل تعداد 26 ہزار 3 سو سے بڑھ گئی ہے۔
    جرمنی میں بھی کورونا کے باعث اموات کا سلسلہ جاری ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اب تک سات ہزار 540 سے زائد اموات ہوچکی ہیں۔ کورونا سے متاثرہ افراد کی کل تعداد ایک لاکھ 71 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

    ترکی میں مہلک وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد تین ہزار 700 سے تجاوز کرگئی ہے اور ایک لاکھ 37 ہزار سے زیادہ افراد متاثر ہو چکے ہیں۔

    دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ایران میں کورونا سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد چھ ہزار 589 سے بڑھ گئی ہے۔ ایران میں اب تک ایک لاکھ چھ ہزار 220 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔

  • سیالکوٹ میں بدبخت بیٹے نے ماں باپ  بہن بھائیوں سمیت سات افراد کو جلا ڈالا

    سیالکوٹ میں بدبخت بیٹے نے ماں باپ بہن بھائیوں سمیت سات افراد کو جلا ڈالا

    سیالکوٹ: سیالکوٹ میں بیٹے نے ماں باپ بہن بھائیوں سمیت سات افراد کو جلا ڈالا،باغی ٹی وی کے مطابق سیالکوٹ کے نواحی علاقے ڈسکہ میں ایک نوجوان نے آگ چھڑک اپنی ماں ، باپ اوربہن بھائیوں سمیت 7 افراد کو جلا ڈالا ہے ،

    ذرائع کے مطابق امیرحمزہ نامی نوجوان جسے اس کے والدین آوارہ گردی سے منع کرتے تھے نے طیش میں‌آکرکمرے میں لیٹے ہوئے اپنے والدین اوربہین بھائیوں‌سمیت سب پرپٹرول چھڑک کرآگ لگادی اورباہرسے دروازہ بند کردیا ، دروازہ بندہونے کی وجہ سے کمرے مٰیں موجود 7 اہل خانہ کو جلاڈالا ،

    امیرحمزہ نے کہا کہ ایک ہی کمرے میں سب سوتے تھے میں کنڈی لگاکرسب کو جلا دیا ایک بہن اورایک بھائی زخمی حالت میں ہسپتال پہنچا دیئے گئے ہیں‌،پولیس نے بتایا کہ اس کے ایک بھائی نے حال ہی میں قرآن مجید حفظ کیا تھا بہت پیارا تھا یہ بچہ جسے جلا دیا گیا

    پولیس ذرائع کے مطابق امیرحمزہ نامی نوجوان نے اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہےکہ اس کےوالد گرامی پھیری کرتا تھا ، اس کے والد نے بار بار اس کو سمجھایا لیکن مجھے اس بات پربہت زیادہ غصہ آتا تھا

  • ٹرمپ نے دھمکی کے بعد سعودی عرب سے پھریاری لگا لی

    ٹرمپ نے دھمکی کے بعد سعودی عرب سے پھریاری لگا لی

    واشنگٹن :ٹرمپ نے دھمکی کے بعد سعودی عرب سے پھریاری لگا لی ،اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے فون پر گفتگو کر کے دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط دفاعی شراکت داری جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

    دونوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو جمعہ کو ایک ایسے موقع پر پوئی جب تیل کے عالمی بحران کے سبب امریکا اور سعودی عرب کے درمیان تناؤ کی خبریں زیر گردش ہیں اور امریکا نے سعودی عرب سے اپنی افواج کے انخلا کی بھی دھمکی دی تھی۔ٹرمپ نے گزشتہ ماہ سعودی عرب سے تیل کی پیداوار کم کرنے کی درخواست کی تھی کیونکہ کورونا وائرس کے بحران کے سبب سعودی عرب کی جانب سے پیدوار بڑھانے کے بعد امریکا میں تیل کی پیداوار کرنے والوں پر شدید دباؤ بڑھ گیا تھا۔

    وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں ترجمان جُڈ ڈیر نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے عالمی توانائی کی مارکیٹوں کے استحکام کی اہمیت پر اتفاق کیا اور سعودی عرب اور امریکا کے درمیان مضبوط دفاعی شراکت داری جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا گیا۔بیان میں بتایا گیا کہ امریکی صدر اور شہزادہ سلمان نے بالترتیب جی7 اور جی20 کے رہنماؤں کی حیثیت سے دیگر علاقائی اور دوطرفہ معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

    بیان میں پیٹریاٹ میزائل کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا اور وائٹ ہاؤس نے اس معاملے پر مزید وضاحت نہیں دی۔امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے سعودی عرب کی حفاظت کے لیے نصب پیٹریاٹ میزائل ہٹانے کے حوالے سے زیر گردش خبروں کی تصدیق کی۔
    تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ امریکا، سعودی عرب سے تعاون میں کمی کردے گا اور اس کا مقصد تیل کے معاملے پر سعودی عرب پر دباؤ ڈالنا بھی نہیں ہے۔

  • حکومت کی طرف سے لاک ڈاون میں نرمی ، عوام نے حکومت کی نرمی سے زیادہ فائدہ اٹھا لیا

    حکومت کی طرف سے لاک ڈاون میں نرمی ، عوام نے حکومت کی نرمی سے زیادہ فائدہ اٹھا لیا

    لاہور:حکومت کی طرف سے لاک ڈاون میں نرمی ، عوام نے حکومت کی نرمی سے زیادہ فائدہ اٹھا لیا ،اطلاعات کے مطابق ملک بھر میں کورونا وائرس لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد لوگوں کی بڑی تعداد نے مارکیٹوں کا رخ کرلیا حالانکہ ہفتہ کے روز ملک میں دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ کیسز ریکارڈ کیے گئے۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی ‘اے ایف پی’ کے مطابق حکومت نے کورونا وائرس کے باعث پابندیوں کی وجہ سے معیشت کی بگڑتی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے 9 مئی سے کاروبار مرحلہ وار کھولنے کا اعلان کیا ہے۔راولپنڈی میں ہزاروں لوگ عیدالفطر کی تیاریوں کے سلسلے میں مارکیٹ پہنچے، جن میں سے بیشتر نے سماجی فاصلے کا خیال رکھا اور نہ ہے ماسک پہنے ہوئے تھے۔

    راچی میں بھی کپڑوں، جوتوں اور چوڑیوں کی دکانیں سجی دکھائی دیں، جبکہ دارالحکومت اسلام آباد میں تو لوگ اسٹورز کھلنے کے انتظار میں قطاروں میں کھچا کھچ کھڑے نظر آئے۔اسی طرح کے مناظر لاہور، کوئٹہ اور پشاور میں بھی دکھائی دیے۔پیشے کے اعتبار سے بینکر اور اپنی بیٹی کے ساتھ راولپنڈی میں شاپنگ کرنے والے عمر شیرازی نے حکومت کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ‘عید قریب آرہی ہے اور ہمیں اپنے بچوں کے لیے نئے کپڑے خریدنے ہیں، اب یہ لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اپنائیں اور قواعد و ضوابط پر عمل کریں۔’انہوں نے کہا کہ ‘ہم حکومت کے اس فیصلے سے خوش ہیں لیکن ساتھ ہی میرے دل میں یہ خوف ہے کہ اگر یہ بیماری پھیلی تو بہر خطرناک ہوگا، کیونکہ یہاں لوگ احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں کر رہے۔’

  • دنیا کی جان خطرے میں پڑگئی : دنیا بھر میں کورونا متاثرین کی تعداد 40 لاکھ 96 ہزار سے تجاوز کر گئی

    دنیا کی جان خطرے میں پڑگئی : دنیا بھر میں کورونا متاثرین کی تعداد 40 لاکھ 96 ہزار سے تجاوز کر گئی

    اسلام آباد:عالمی وبا قرار دیے جانے والے کورونا وائرس سے پوری دنیا میں متاثرہ افراد کی تعداد 40 لاکھ 96 ہزار سے زائد ہو گئی ہے۔ کورونا وائرس نامی مہلک وبا کے باعث اب تک جہان فانی سے دو لاکھ 80 ہزار سے زائد افراد کوچ کر چکے ہیں۔

    عالمی ذرائع کا کہنا ہے کہ پوری دنیا میں اب تک اپنے یقین، مضبوط قوت ارادی اور طاقتور مدافعتی نظام کی بدولت 14 لاکھ 31 ہزار سے زائد افراد کورونا کو شکست بھی دے چکے ہیں۔خبر رساں ادارے کے مطابق امریکہ میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 13 لاکھ 45 ہزار سے بڑھ گئی ہے جب کہ 80 ہزار سے زائد اموات ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔

    اعداد و شمار کے مطابق اسپین میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد دو لاکھ 62 ہزارسے زائد ہو گئی ہے جب کورونا نے مزید 179 افراد کی جانیں لے لی ہیں۔ اس طرح اسپین میں جاں بحق ہونے والوں کی کل تعداد 26 ہزار 4 سوسے بڑھ گئی ہے۔خبررساں ادارے کے مطابق اٹلی میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد دو لاکھ 18 ہزار سے زائد ہو گئی ہے جب کہ مزید 194 افراد اپنی جانوں کی بازیاں ہار گئے ہیں۔ اٹلی میں جاں بحق ہونے والوں کی کل تعداد 30 ہزار 3 سو سے زائد ہو گئی ہے۔

    ذرائع کےمطابق برطانیہ میں کورونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد دو لاکھ 15 ہزار سے زائد ہو گئی ہے جب کہ ملک میں مزید 346 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں 31 ہزار 5 سو سے زائد افراد نے داعی اجل کو لبیک کہا ہے۔

    مغربی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس میں ایک لاکھ 76 ہزار سے زائد افراد اب تک کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق فرانس میں کورونا سے مزید 80 افراد جاں بحق ہوئے ہیں جس کے بعد کل تعداد 26 ہزار 3 سو سے بڑھ گئی ہے۔جرمنی میں بھی کورونا کے باعث اموات کا سلسلہ جاری ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اب تک سات ہزار 530 سے زائد اموات ہوچکی ہیں۔ کورونا سے متاثرہ افراد کی کل تعداد ایک لاکھ 71 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

    ترکی میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 50 افراد ہمیشہ کی نیند سو گئے ہیں جس کے بعد ہونے والی اموات کی تعداد تین ہزار 700 سے تجاوز کرگئی ہے۔دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ایران میں کورونا کے سبب مزید 48 افراد نے دار فانی سے کوچ کیا ہے جس کے بعد ملک میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد چھ ہزار 589 سے بڑھ گئی ہے۔ ایران میں اب تک ایک لاکھ چھ ہزار 529 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔