کرونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے دیواریں بنا دی گئیں
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس کو روکنے کے لئے دیوار بنا دی گئی
کرونا وائرس سے بھارت میں تباہی جاری ہے،بھارتی ریاست آندھرا پردیش کے ضلع چتور کے مقام پر بھارتی ریاست تامل ناڈو نے ایک دیوار بنا دی ہے کہا جا رہا ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے دیوار بنائی گئی ہے تا کہ آندھراپردیش سے کوئی شہری تامل ناڈو میں داخل نہ ہو سکے، تامل ناڈو کی سرحد پر تین مقامات پر ایسی دیوار بنائی گئی ہے
ریاست تامل ناڈو نے آندھراپردیش کے شہریوں کا اپنی ریاست میں داخلہ بند کر دیا ہے،ضلع چتور کے تروتاڑی کی شیٹن تنگل شاہراہ ، ملامونیرو کے حدود اور بوماسمدرم علاقہ میں تمل ناڈو سے جوڑنے والی شاہراہ پر ایک دیواربنائی گئی ہے، کل تین دیوارین تامل ناڈو سرکار نے بنائی ہیں
تامل ناڈو میں کرونا کے باعث لاک ڈاؤن جاری ہے کسی کو گھر سے نکلنے کی اجازت نہین، لاک ڈاؤن کو مزید سخت کئے جانے کا بھی امکان ہے، پولیس غیر ضروری طور پر گھروں سے نکلنے والوں کو گرفتار کر کے جیل بھجوا دیتی ہے،
واضح رہے کہ بھارت میں کرونا کی سپیڈ جاری ہے، بھارت میں کرونا کے مریضوں اور ہلاکتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ، بھارت میں 24 گھنٹوں میں 58 ہلاکتیں ہوئیں جس کے بعد مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 939 ہو چکی ہے،بھارت میں مریضوں کی تعداد 29451 ہو چکی ہے، 7134 مریض صحتیاب ہو چکے ہیں
اپوزیشن جماعت کے سینئر رہنما،سابق پارٹی ترجمان کی ہوئی کرونا سے موت
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس نے بھارت میں تباہی مچا رکھی ہے، بھارت میں ہلاکتوں اور مریضوں میں اضافہ ہو رہا ہے
کرونا وائرس سے بھارتی گجرات میں اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما،احمد آباد میونسپل کارپوریشن کے كارپوریٹر بدرالدین شیخ کی ہلاکت ہوئی ہے ، انکی عمر 68 برس تھی، بدرالدین شیخ اجمیر کی خواجپ معین الدین چشتی درگارہ کی نگرانی کرنے والی کمیتی کے ٹرسٹی بھی تھے،
کانگریس کے ترجمان منیش دوشی نے بدرالدین شیخ کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بهرام پور میں بدرالدین شیخ دو ہفتے سے ہسپتال میں داخل تھے اوروہ وینٹی لیٹر پر تھے۔ گزشتہ شب ان کی موت ہو گئی ہے۔ وہ ذیابیطس کے مرض میں بھی مبتلا تھے۔ بدرالدین شیخ کی اہلیہ میں بھی کرونا وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے اور وہ بھی ہسپتال میں زیر علاج ہیں.
بدرالدین شیخ 13 ستمبر 1954 کو پیدا ہوئے بدرالدین شیخ ستر کی دہائی میں گجرات یونیورسٹی کے سینٹ رکن بھی رہے۔ وہ 1985 سے 1990 تک گجرات یوتھ کانگریس کے جنرل سکریٹری ،۔ 2000 سے 2003 تک میونسپل کارپوریشن کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین اور 2010 میں حزب اختلاف کے لیڈر بھی رہے ہین، بدرالدین شیخ کانگریس کے ترجمان کے طور پر بھی کام کر چکے تھے۔
واضح رہے کہ بھارت میں کرونا کی سپیڈ جاری ہے، بھارت میں کرونا کے مریضوں اور ہلاکتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ، بھارت میں 24 گھنٹوں میں 58 ہلاکتیں ہوئیں جس کے بعد مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 939 ہو چکی ہے،بھارت میں مریضوں کی تعداد 29451 ہو چکی ہے، 7134 مریض صحتیاب ہو چکے ہیں
کرونا وائرس ٹیسٹ سے روزہ ٹوٹے گا یا نہیں؟ دارالعلوم دیو بند نے فتویٰ جاری کر دیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس نے دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، رمضان المبارک کا مقدس مہینہ بھی شروع ہو چکا ہے، روزے میں کرونا کا ٹیسٹ کروانا کیسا ہے اس حوالہ سے دارالعلوم دیوبند نے فتویٰ جاری کیا ہے
دارالعلوم دیوبند کے شعبہ دارالافتاء کے مفتیان نے کورونا وائرس سے متعلق ٹیسٹ کرائے جانے سے متعلق کہا ہے کہ روزہ کی حالت میں مذکور ہ ٹیسٹ کے لئے ناک یا منہ سے رطوبت کا نمونہ دینا جائز ہے ، ایسا کرنے سے روزہ پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
درارالعلوم دیو بند کے شعبہ افتا سے اس حوالہ سے سوال پوچھا گیا تھا جس کے جواب میں دارالعلوم دیوبند کے شعبہ دارالافتاء نے فتویٰ جاری کیا ہے۔ دارالعلوم سے سوال پوچھا گیا تھا کہ روزہ کی حالت میں کورونا وائرس ٹیسٹ کا کیا حکم ہے؟ اس سے روزہ تو نہیں ٹوٹتا؟
اس کے جواب میں دارالعلوم دیو بند کے مفتیان کرام نے کہا ہے کہ کورونا وائرس ٹیسٹ کے لئے ناک کے اندرونی حصہ کی رطوبت اور حلق کی دیوار پر لگی ہوئی رطوبت لینے کے لئے ناک اور حلق میں جو پلاسٹک کی اسٹک ڈالی جاتی ہے ، اس میں یا اس کے ایک کنارے پر لگی ہوئی روئی میں کسی طرح کی کوئی دوا یا کیمیکل نہیں ہوتاا ور یہ اسٹک صرف ایک بار ڈال کر اور اندر گھما کر واپس نکال لی جاتی ہے، دوبارہ نہیں ڈالی جاتی۔ یعنی ناک یا حلق کی رطوبت میں حلق یا دماغ میں کوئی دوا یا کیمیکل نہیں جاتا بلکہ سادی اور خشک روئی میں ناک اور حلق کی رطوبت لی جاتی ہے اور اسے مشین کے ذریعہ چیک کیا جاتاہے۔ لہٰذا روزہ کی حالت میں کورونا وائرس ٹیسٹ کے لئے ناک یا حلق کی رطوبت دینا جائز ہے اور اس سے روزہ پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
بھارت میں کرونا کی سپیڈ جاری ہے، بھارت میں کرونا کے مریضوں اور ہلاکتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ، بھارت میں 24 گھنٹوں میں 58 ہلاکتیں ہوئیں جس کے بعد مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 939 ہو چکی ہے،بھارت میں مریضوں کی تعداد 29451 ہو چکی ہے، 7134 مریض صحتیاب ہو چکے ہیں
بھارت کے 4 ہسپتالوں میں 115 طبی عملے کے اراکین میں کرونا پھیل گیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ جاری ہے، بھارت میں طبی عملے میں بھی بڑی تعداد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہو رہی ہے
دہلی کے علاقے جہانگیر پور میں واقع جگجیون رام ہسپتال میں کرونا کے مریضوں کی تعداد 59 ہو چکی ہے جن میں 11 ڈاکٹر شامل ہیں، ہسپتال کے مزید 19 ملازمین میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے، دو روز قبل تک ہسپتال کے طبی عملے میں مریضوں کی تعداد 40 تھی جو اب 59 تک پہنچ چکی ہے.
شمالی دہلی کے ضلع مجسٹریٹ کا کہنا ہے کہ جن مریضوں کی حالت تشویشناک ہے وہ ہسپتال میں رہیں گے باقی طبی عملے کو چھٹی دے دی گئی ہے کہ وہ گھروں میں خود کو قرنطینہ کر لیں.
جگجیون رام ہسپتال کرونا وائرس کے حوالہ سے ریڈ زون قرار دے دیا گیا ہے، ہسپتال میں موجود تمام طبی عملے کے کرونا ٹیسٹ کروائے جا رہے ہیں، ہسپتال میں موجود مریضوں کے بھی دوبارہ ٹیسٹ کروائے جائیں گے،
دوسری جانب روہنی میں واقع امبیڈکر ہسپتال کے 32 اہلکاروں میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ، ان میں ڈاکٹر اور نرس بھی شامل ہیں۔ کچھ دن پہلے اس ہسپتال میں کورونا متاثرہ ایک عورت آئی تھی۔ اس نے اپنی بیماری کو چھپایا تھا اور بعد میں اسپتال میں ہی اس کی موت ہو گئی تھی۔ کرونا کی مریضہ ایک عورت سے ہی 32 طبی اہلکاروں میں کرونا وائرس پھیلا
بھارت میں طبی عملے کے لئے کرونا سے بچاؤ کے لئے ایک طرف ڈاکڑز و پیرا میڈیکل سٹاف کو حفاظتی کٹس نہیں دی گئیں دوسری جانب ڈاکٹروں کو ہوٹلوں سے نکالا جا رہا ہے، ایسا ایک واقعہ بھارتی ریاست اترپردیش میں سامنے آیا، جہاں ضلع سنبھل میں ایک ہوٹل میں قرنطینہ مرکز میں رکھے گئے طبی عملے کے لئے پہلے مشکلات کھڑی کی گئیں پھر انہیں ہوٹل سے نکال دیا گیا
اترپردیش کے ضلع سنبھل میں 15 اپریل کو ایک ہوٹل میں 3 ڈاکٹر اور 6 دیگر طبی اسٹاف کو ٹھہرایا گیا تھا۔ ہوٹل میں ٹھہرنے کے اگلے دن سے ہی ان کے ساتھ ہوٹل مالک نے زیادتیاں کرنا شروع کر دیں،جن کمروں میں ڈاکٹر ٹھہرے تھے ان کے کمروں کی صفائی نہیں کی گئی، پھر کمروں کے ٹی وی بند کر دئیے گئے۔ اسی پر بس نہیں ہفتہ کی رات کو تو انکے کمروں میں پانی ختم ہوجانے پر پانی بھی نہیں بھرا گیا۔ بعد میں ڈاکٹروں کو ہوٹل سے زبردستی نکال دیا گیا.
ڈاکٹروں کو ہوٹل سے نکالے جانے پر انہوں نے متعلقہ حکام کو آگاہ کیا مگر ان کی داد رسی نہیں ہوئی ، پولیس کو کاروائی کا حکم دیا گیا لیکن پولیس نے کاروائی کی بجائے تحقیقات کا آغاز کر دیا، بعد ازاں ضلع مجسٹریٹ نے ڈاکٹروں کو ایک اور ہوٹل میں بھجوا دیا.
قبل ازیں اوکھلا کے مشہور ‘الشفاء اسپتال’ میں 10 طبی اہلکاروں میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی جن کو قرنطینہ مرکز بھیج دیا گیا، ان ڈاکٹرز سے جن کا رابطہ ہوا تھا انکے بھی ٹیسٹ کروائے جائیں گے،اس ضمن میں الشفا نے ایک پریس ریلیز جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ہسپتال کے باقی عملے کے بھی ٹیسٹ کروائے جائیں گے،الشفا مین ایک الگ وارڈ بنا دیا گیا ہے جہاں کرونا کے مریضوں کو رکھا جائے گا ،
کلکتہ میڈیکل کالج کے چار ڈاکٹروں میں کورونا وائرس مثبت پایا گیا ہے جس کے بعد انہیں قرنطینہ مرکز بھیج دیا گیا
واضح رہے کہ بھارت میں 200 سے زائد طبی عملے میں کرونا وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے، بھارت میں کرونا کے مریضوں کا علاج کرنے والے طبی عملے پر حملے بھی ہو چکے ہیں، کرونا کا علاج کرنے والے نرسوں کو کرونا نرس کہہ کر پکارا جاتا ہے.
مراد آباد میں ایک ڈاکٹر پر اسوقت حملہ کر دیا گیا جب وہ کرونا کے مریضوں کے ٹیسٹ کے لئے ایک علاقے میں گیا وہاں بھارتی ہندوؤں نے اکٹھے ہو کر اس پر حملہ کیا جس سے وہ شدید زخمی ہوگیا، بھارتی ڈاکٹر پر حملے کے بعد بھارتی ڈاکٹروں کی تنظیم نے احتجاج بھی کیا مگر اسکے باوجود ڈاکٹروں کو تحفظ فراہم نہ کیا جا سکا
بھارت میں کرونا سے ہلاکتیں بڑھنے لگیں، مریضوں کی تعداد 30 ہزار کے قریب
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں کرونا کی سپیڈ جاری ہے، بھارت میں کرونا کے مریضوں اور ہلاکتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ، بھارت میں 24 گھنٹوں میں 58 ہلاکتیں ہوئیں جس کے بعد مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 939 ہو چکی ہے،بھارت میں مریضوں کی تعداد 29451 ہو چکی ہے، 7134 مریض صحتیاب ہو چکے ہیں
بھارتی وزارت صحت کے مطابق کرونا وائرس کے مریضوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، کرونا وائرس بھارت کی 32 ریاستوں میں پھیل چکا ہے، دہلی میں کرونا کے مریضوں کی تعداد 3108 ہو چکی ہے جبکہ 54 ہلاکتیں ہو چکی ہیں، دہلی میں 877 مریض صحتیاب ہو چکے ہیں،
بھارتی ریاست تلنگانہ کے وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا ہے کہ 28 اپریل یعنی منگل سے ریاست کے 21 اضلاع میں کرونا کا کوئی مریض نہیں رہے گا سب مریض صحتیاب ہو چکے ہین اور کرونا کا کوئی نیا مریض سامنے نہیں آیا
ممبئی میں کرونا وائرس کے 395 نئے مریض سامنے آنے کے بعد مجموعی تعداد 5589 ہو گئی ہے، ممبئی میں 219 ہلاکتیں ہو چکی ہیں، بھارت کے چار بڑے شہروں میں سے کرونا وائرس کے حساب سے ممبئی پہلے نمبر پرہے ، دوسرے نمبر پر دہلی میں سب سے زیادہ مریض ہیں،مدھیہ پردیش میں بھی کرونا وائرس سے 110 ہلاکتیں ہو چکی ہین جبکہ مریضوں کی تعداد 2165 ہو چکی ہے.
بہار میں کرونا کے مریضوں کی تعداد 326 ہو گئی ہے،چوبیس گھنٹوں میں 36 نئے مریض سامنے آئے،مونگیر ضلع میں جمال پور کے علاقے میں اور پٹنہ، بھوجپور، اورنگ آبا ،لکھی سرائے ، سارن میں مریض سامنے آئے، جمال پور کے صدر بازار کے متاثرین میں پانچ مرد اور چار خواتین شامل ہیں۔ مردوں میں دو کی عمر 45-45 اور دیگر کی 07 سال، 10 سال اور 16 سال ہے۔ جمال پور میں ایک سات سالہ بچی میں بھی کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
بھارتی ریاست اترپردیش کے ضلع گورکھپور مین بھی کرونا کا پہلا مریض سامنے آ گیا ہے، گورکھپور کے علاقے ہاٹا بزرگ کا رہائشی 49 سالہ شخص جس نے دہلی کا سفر کیا تھا اس میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی جس کے بعد اسے ہسپتال داخل کروا دیا گیا.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انتہائی اہم ترین حکومتی شخصیت میں کرونا وائرس کی تشخیص ہو گئی ہے
گورنر سندھ عمران اسماعیل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے پیٍغام دیا ہے کہ انہوں نے بھی کرونا کا ٹیسٹ کروایا جو مثبت آیا،انہوں نے دعاؤن کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس وبا کا مقابلہ کرین گے، جلد صحتیاب ہو جاؤں گا
I have just been tested Covid 19 positive, Allah Kareem inshallah will fight it out. @ImranKhanPTI thought us to fight out the most difficult in life and I believe this is nothing against what we r prepared for. May Allah give strength to fight this Pandemic inshallah.
گورنر سندھ کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے ہمیں زندگی میں ہر طرح کے مشکل حالات سے لڑنا سکھایا، مجھے اس بات کا یقین ہے ہمیں جس کیلئے تیار کیا گیا ، یہ اس کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے۔ میری اللہ سے دعا ہے کہ وہ اس وبا سے لڑنے کی مجھے لڑنے کی طاقت عطا کرے گا، انشاء اللہ۔
واضح رہے کہ اس سے قبل سندھ کے صوبائی وزیر سعید غنی میں بھی کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی لیکن وہ صحت یاب ہو چکے، سندھ سے جماعت اسلامی کے رکن صوبائی اسمبلی سید عبدالرشید اور ان کی اہلیہ میں بھی کرونا وائرس کی تشخٰص ہوئی ہے، وزیراعلیٰ سندھ کے بہنوئی کی کرونا وائرس کی وجہ سے موت ہو چکی ہے
قبل ازیں کرونا وائرس کے حوالہ سے سندھ کی صورتحال بتاتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ آج 341 نئے کیسز سامنے آئے ہیں آج مزید 4کورونا کے مریض انتقال کر گئے،کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 85 ہوگئی، 3ہزار946مریض زیرعلاج اور24کی حالت تشویشناک ہے،16مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں
وزیراعلیٰ سندھ کا مزید کہنا تھا کہ 2ہزار705مریض گھروں میں زیرعلاج ہیں،825مریض آئیسولیشن سنٹرز میں زیر علاج ہیں،ضلع شرقی 90، جنوبی 50 اور کورنگی میں 40 میں نئے کیسز سامنے آئے،ملیر 30 ، ضلع وسطی 20 ، حیدرآباد اور لاڑکانہ میں 12بارہ کیسز رپورٹ ہوئے،خیرپور 23، گھوٹکی 8، سکھر 4 اورمٹیاری 2 نئے کورونا کے کیسز سامنے آئے ہیں،
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ مریضوں کے بڑھنے کی باعث ہم بستر بڑھار ہے ہیں،ایکسپو سینٹر میں 1200 سے بڑھا کر 1500 بسترے کرنے کا فیصلہ کیا ہے،پی اے ایف میوزیم سائٹ پر 600 اور گڈاپ اسپتال 150بستروں کااضافہ کیا ہے، دنبہ گوٹھ اسپتال 120 بستروں کا مرکز قائم کرنے کا فیصلہ کیا ،100بستروں کا فیلڈ آئیسولیشن سینٹر ہر ضلع میں قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے
بڑی خوشخبری، رمضان گناہوں کے ساتھ ساتھ وبا سے بھی ڈھال ،کیسے؟ سنیے مبشر لقمان کی زبانی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آج دنیا پر نظر ڈالیں تو ہر طرف آلودگی پھیلاتی زمین اور فضائی ٹریفک ماضی کا حصہ بن چکی ہے، تیل اتنا سستا ہو چکا ہے کہ ملکوں کے پاس رکھنے کے لئے جگہ نہیں اور پاکستان جیسے ملک میں بھی اب پروڈکشن کم کرنے کی سوچ رہے ہیں، یوٹیلتی بلوں کی ادائیگی میں چھوٹ مل چکی ہے،بچے گھروں میں ہیں اور والدین ان کا خیال رکھ رہے ہیں، ہوٹلز بند ہیں، فاسٹ فوڈ ہوٹلز سے کھانے کی بجائے لوگ گھروں میں کھانا کھا کر لطف اندوز ہو رہے ہیں، لوگوں کا کمر توڑ شیڈول دم توڑ چکے ہیں،اب وہ گھروں میں پرسکون نیند پوری کرتے ہیں اپنے ہی گھر میں لوگ ہیں، ماحول خوشگوار اور ہوا صاف ستھری ہو چکی ہے ،پیسہ اور طاقت دنیا کو مزید گھمانے سے قاصر ہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ڈیزائن والے کپڑوں میں اسوقت کسی کی کوئی دلچسپی نہیں، بڑے بڑے فنکاروں اور کھلاڑیوں کی بجائے دنیا ڈاکٹروں کی تعریف کر رہی ہے،زمین کی حرکت میں تبدیلی آ چکی ہے اسی دوران رمضان کا مقدس مہینہ شروع ہو چکا ہے، رمضان غیر معمولی حالات میں آیا، مسلمانوں کے سب سے مقدس مہینے رمضان کے آغاز سے قبل ہی دنیا وبا کی وجہ سے غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے،اس میں کوئی شک نہیں کہ رمضان کا آنا مسلمان کے لئے بڑی خوشخبری ہے، دوسری خوشخبری یہ ہے کہ روزہ وبا سے بچنے کی بھی ڈھال ہے جس کی سائنس بھی گواہی دیتی ہے، اور اس سے پہلے ماہ رمضان میں مساجد کھچا کھچ بھری ہوتی ہیں اجتماعی سحر و افطار کے پروگرام بھی ہوتے تھے،لیکن وبا کی وجہ سے باقی دنیا کی طرح اسلامی ممالک میں بھی لاک ڈاؤن اور دیگر پابندیاں عائد ہیں اور لوگ تراویح گھروں میں پڑھ رہے ہیں
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جدید دنیا میں پہلی بار اس طرح ہو رہا ہے کہ تقریبا ایک کھرب اسی کروڑ مسلمان ایک ایسے رمضان کا سامنا کر رہے ہیں جس کا مشاہدہ شاید پہلے کبھی نہ کیا ہو یہی وجہ ہے کہ رمضان سے قبل مسلمانوں میں اضطراب بھی دیکھا گیا، یورپ میں مسلم تنظیموں کی جانب سے وبائی صورتحال میں مسلمانوں کے لئے ہدایات جاری کی گئی ہیں اور اس بار وبا کی وجہ سے باجماعت نماز ،تراویح اور اجتماعی افطار نہیں ہو رہی ،مسلم تنظیموں نے کہا ہے کہ وہ افطار میں دیگر افراد کو اپنے ساتھ شامل کرنے کے لئے انٹرنیٹ پر ویڈیوز کال کریں، یورپ میں اس بار روزہ 14 گھنٹے کا ہے اگر مین کہوں کہ ماہ رمضان اللہ کی رحمت اور خوشخبری کا مہینہ بن کر آیا ہے تو یہ غلط نہ ہو گا، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے مسلمانو تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں. جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر کئے گئے تھے تا کہ تم پرہیز گار بن جاؤ،
رمضان اللہ کا قرب حاصل کرنے اور بے پایا رحمتوں سے مستفید ہونے اور جہنم سے نجات حاصل کرنے کا مہینہ ہے، ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ تمہارا روزہ رکھ لینا تمہارے لئے بہتر ہے اگر تمہیں سمجھ ہو،حدیث مبارکہ میں ہے کہ بندوں کو معلوم ہوتا رمضان کیا چیز ہے تو میری امت کہتی کہ پورا سال رمضان ہی ہو، رمضان کا سب سے بڑا فائدہ یہ انسان کے اندر قوت مدافعت پیدا کرتا ہے، دنیا بھر میں لوگ وبا سے پریشان ہیں وہیں مسلمان روزے کے ذریعے اس مسئلے سے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں، ابھی تک کسی چیز نے وبا کو شکست دی ہے تو وہ ہے آپ کا جسم ، بیماری سے بچنے کے لئے انسانی جسم میں خود کار نظام کام کرتا ہے جو بیماری کے سبب بننے والے حملے کو ابتدائی مرحلے پر ہی روک دیتا ہے، انسانی جسم میں مزاحمت کا یہ نظام قوت مدافعت کہلاتا ہے اور وبا کا شکار وہ شخص قوت مدافعت مضبوط ہونے سے ہی بچ سکتا ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ طبی ماہرین کے نزدیک روزہ رکھنا نظام انہضام کے لئے انتہائی مفید ہے بلکہ اس سے انسان میں بہت زیادہ قوت مدافعت بھی بنتی ہے جو متعدی اور وبائی امراض سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، چند سال پہلے کی گئی تحقیق کے مطابق اگر مسلمان درست طریقے سے اپنے جسم کو روزوں سے تیار کریں تو یہ حیران کن حد تک بہت طبی فائدے کا باعث بنتی ہے، روزے میں مسلمان سورج طلوع ہونے سے غروب ہونے تک کچھ کھا پی نہیں سکتے، تو جسم کے لئے ذاتی چربی ہے اسکو توانائی کے حصول کے لئے جلانا آسان ہوتا ہے اس سے موٹاپے میں بھی کمی آتی ہے، کولسیٹرول لیول بہتر ہوتا ہے، صحتمند غذا کو معمول بنانے سے شوگر اور بلڈ پریشر بھی کنٹرول ہوتا ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ رمضان کے آغاز کے بعد کچھ دن کھانے کے نئے اوقات پر خود کو ایڈجسٹ کرتا ہے،روزے داروں کو چوکنا اور بہتر ذہنی صحت کا احساس فراہم کرتا ہے،رمضان کے روزے اگر صحیح طریقے سے رکھے جائیں تو ہر روز جسم کی توانائی بحال ہوتی ہے، روزہ نہ صرف گناہ سے بچنے کے لئے ڈھال ہے بلکہ وبا سے بچنے کے لئے بھی بہت بڑی ڈھال ہے،اور ہم نے اللہ کا شکر ادا کرنا ہے کہ اس مصیبتوں کے دنوں میں برکت عطا کی،وبا سے بچنے کا طریقہ سماجی دوری بہترین ہے، رمضان ہمیں یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ بغیر ضرورت کے گھر سے نہ نکلیں اور ضرورت مندوں کی مدد کریں تا کہ وہ گھروں میں محدود رہیں، یہ پہلی بار ہے کہ رمضان لاک ڈاؤن میں شروع ہوا، تمام مسلم ممالک میں مذہبی رہنما لوگوں پر زور دے رہے ہین کہ اس مہینے میں محبت، رواداری، فراخدلی، درگزر کریں اور ان لوگوں کا خاص خیال رکھیں جو بے روزگار ہونے کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں ہمیں چاہئے کہ اس مبارک مہینے میں زیادہ عبادات اور صدقہ خیرات کریں، ضرورت مندوں کو احساس نہ ہونے دیں کہ وہ اکیلے ہیں، اس مہینے میں جو بھی بھلائی کے کام ہوں گے انکا ثواب سب سے زیادہ ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سب سے بڑی بھلائی خود کو اس موذی وبا سے خود کو اور دوسروں کو بچانا ہے، اگر آپ لوگوں سے کم ملیں گے تو خود بھی بچیں گے اور دوسروں کو بھی بچائیں گے، روزے کا مقصد بھلائی، صبر اور استقامت کا مظاہرہ ہے، دوسری طرف ہم دیکھتے ہین کہ جب بھی ہر سال رمضان کا مہینہ آتا ہے تو اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے،اور ان حالات مین منافع خوری کی بجائے احساس کرنے کا وقت ہے، کاش ہمیں سمجھ آ جائے کہ بابرکت مہینے میں ان تمام تقاضوں کا خیال رکھا جائے، شاید اس وبا سے بھی ہم جلد از جلد چھٹکارا پار لیں.
کمزور طبقات کو ریلیف، اراکین اسمبلی متحرک کردار ادا کریں، وزیراعظم
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیرِاعظم عمران خان نے ارکان قومی اسمبلی کو ہدایت کی ہے کہ موجودہ صورت حال کے تناظر میں عوام بالخصوص کمزور طبقات کو ریلیف کی فراہمی میں متحرک کر دار ادا کریں۔
وفاقی وزیر برائے توانائی عمر ایوب خان،ارکان قومی اسمبلی پرنس محمد نواز الائی اور علی خان جدون نے وزیراعظم ہاؤس میں وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی۔
ملاقات میں ارکان قومی اسمبلی نے وزیرِاعظم کو اپنے اپنے حلقے کی صورت حال اور عوامی مسائل سے آگاہ کیا اورترقیاتی امور کے حوالے سے بھی بات چیت کی،ممبران قومی اسمبلی نے وزیرِ اعظم کو کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے پیداہونے والے صورتحال اور ریلیف سرگرمیوں کے حوالے سے آگاہ کیا۔
اس موقع پر وزیرِ اعظم عمران خان نے ارکان کو ہدایت کی کہ موجودہ صورتحال کے تناظر میں عوام اور خصوصا کمزور طبقوں کو ریلیف کی فراہمی کے سلسلے میں متحرک کردار ادا کریں
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نجی ٹی وی کے بعد اسلام آباد میں سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی میں بھی کرونا وائرس کی تصدیق ہونے کے بعد دفتر کو سیل کر دیا گیا
اےپی پی انتظامیہ نے صحافی میں کوروناوائرس کی تصدیق اورآفس سیل کرنےکی تصدیق کر دی،ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کہنا ہے کہ ٹی وی چینل کے بیوروآفس میں اسٹاف کے 8 افرادکوروناسے متاثر نکلے،ٹی وی چینل کے بیورو آفس اسلام آباد کوسیل کردیا گیا ہے
اسلام آباد میں سرکاری خبررساں ایجنسی اے پی پی کا آفس سیل کردیا گیا ہے، ایک صحافی میں کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد اے پی پی آفس کو سیل کیا گیا
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی سے تعلق رکھنے والے عبدالرشید بھٹی کی کرونا وائرس سے موت ہوئی ہے ، وہ اے پی پی ایمپلائیز یونین کے سابق صدر بھی رہ چکے ہیں.
واضح رہے کہ پاکستان کے کئی میڈیا کے اداروں میں کرونا وائرس پھیل چکا ہے، اسلام آباد کے اے آر وائی چینل میں آج 8 ملازمین میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی جس کے بعد اے آر وائی اسلام آباد کا دفتر بند کر دیا گیا،جبکہ ہم نیوز میں بھی کرونا وائرس کی تشخیص چند روز قبل ہوئی تھی.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا وائرس سے پہلے صحافی کی موت ہوئی ہے
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی سے تعلق رکھنے والے عبدالرشید بھٹی کی کرونا وائرس سے موت ہوئی ہے ، وہ اے پی پی ایمپلائیز یونین کے سابق صدر بھی رہ چکے ہیں.
انہوں نے چار روز قبل کرونا وائرس کے شبہ میں خود کو آئسولیشن میں منتقل کیا تھا ۔اتوار اور پیر کی درمیانی شب انکی موت ہوئی، انکا کرونا کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا،اے پی پی کے ایک اور کارکن میں بھی کرونا وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے،
واضح رہے کہ پاکستان کے کئی میڈیا کے اداروں میں کرونا وائرس پھیل چکا ہے، اسلام آباد کے اے آر وائی چینل میں آج 8 ملازمین میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی جس کے بعد اے آر وائی اسلام آباد کا دفتر بند کر دیا گیا،جبکہ ہم نیوز میں بھی کرونا وائرس کی تشخیص چند روز قبل ہوئی تھی.