لندن :معاشرتی فاصلہ جتنا بھی کرلیں کووڈ 19 کے خطرات برقرار رہیں گے ،تفصیلات کے مطابق برطانوی ماہرین طب اس بات پرتحقیق کررہےہیں اور ان کا کہنا ہےکہ کرونا وائرس معاشرتی فاصلوں کے باجود اپنے اثرات ضرور رکھتا ہے ، اسی حوالے سے دی گارڈین نے ایک مضمون لکھا ہے جس کا موضوع ہے اگر کوڈ 19 ہمارے سب سے بڑا خطرہ نہیں ہے تو کیا ہوگا؟
اس مضمون میں لکھا ہےکہ چاہے معاشرتی طور پر کتنا دور ہو یا اس میں کتنا زیادہ ہاتھ دھولیں کووڈ 19 کے خطرات تو پھر بھی رہیں گے – دی گاڑدین میںچھپے اس مضمون میں ہم مستقبل کے مہلک پھیلاؤ کو روکنے ، یا کم سے کم حد تک کسی قسم کے بین الاقوامی اقدام کی توقع کرسکتے ہیں۔
اس مضمون میں لکھا گیا ہےکہ ماہرین اس کی تباہ کاریوں سے کچھ زیادہ واقف نہیں تھے اوران کو اس بات کا اندازہ بھی نہیں تھا شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم ممکنہ تباہی کی توقع کرنے میں بہت کم مہارت رکھتے ہیں جس کی زندہ یادداشت میں کوئی مثال نہیں ہے۔ "یہاں تک کہ جب ماہرین کسی بے مثال واقعے کے ایک اہم امکان کا تخمینہ لگاتے ہیں ،” وہ لکھتے ہیں ، "ہمیں اس پر یقین کرنے میں بڑی مشکل پیش آتی ہے جب تک کہ ہم اسے نہ دیکھیں۔” یہ خاص طور پر کورونا وائرس کا مسئلہ تھا۔
دوسری طرف سائنس دانوں نے پشین گوئی کی ہے کہ مستقبل قریب میں کسی بھی وقت عالمی وبا پھیلنے کا تقریبا یقین ہے۔ ماہر مائیکرو سافٹ کے بانی ، بل گیٹس نے ، وائرسولوجسٹ اور وبائی امراض کے فوقوں کے انتباہات کے علاوہ ، 2015 میں ایک وسیع پیمانے پرپھیلنے کے حوالے سے انہون نے قاتل وائرس کے خطرے کو تفصیلی طور پر پیش کیا۔
اس مضمون میں لکھا ہے کہ بل گیٹس 2015 میں ہی اس کے بارے میں خبردار کرچکے ہیں لیکن اس کے باوجود اس کے سد باب کے لیے کچھ نہیں کیا گیا ،دوسری اہم بات یہ کی گئی ہے کہ اس کے خطرات کو نہ تو عوام ، ماہرین اورنہ ہی حکومتوں نے اس کے خطرات کو بھانپا یہی ایک لمحہ فکریہ ہے ،
مضمون نگارلکھتے ہیں کہ یہ تمام باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ معاشرتی فاصلے ہوں یا اس پرتحقیقات کا سلسلہ اس کے اثرات کو کم نہیں کررہا یہ بات مستقبل میں مزید تباہی پھیلا سکتا ہے
اسلام آباد:کرونا کی آڑ میں مساجد کے خلاف بعض نجی ٹی وی چینلز کی رپورٹنگ ہی اصل میں کرونا سے زیادہ خطرناک ہے ،زید حامد کا سخت ردعمل ، اطلاعات کے مطابق معروف بلاگراورسوشل ورکرسید زید حامد نے پاکستان میں بعض نجی ٹی وی چینلز کی کرونا وائرس کی آڑ میں مساجد کے خلاف غلط رپورٹنگ پربڑے افسوس کا اظہارکیا ہے ،
وہ کہتے ہیں کہ یہ ٹھیک ہے کہ کرونا وائرس بہت نقصان پہنچا رہا ہے لیکن یہ تاثرکیوں دیا جارہا ہےکہ صرف مساجد میں جانے سے نماز پڑھنے سے ہی کرونا پھیلتا ہے ، ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اوردوسرے ممالک جہاںلاکھوں لوگ کرونا کا شکارہوئے اوران میں سے اکثراپنی مزہبی مقامات پرتو جاتے ہی نہیں پھران کو کرونا کہاں سے لگا
زید حامد نے یہ ٹھیک ہے کہ ہمیں سوش فاصلے پرعمل کرنا چاہیے لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ کوئی اللہ کے گھروں کی رونق پروارکرے یہ ناقابل برداشت ہے ،
یاد رہے کہ آج ایک نجی ٹی وی نے پاکستان میں کرونا سے مرنے والوں اوربیمار ہونے والوں کی خبردی لیکن تصویرکسی مسجد میں نمازیوں کی دی جو کہ ماہرین طب اورحکومت وقت کی ہدایات کے مطابق فاصلہ رکھ کرنمازپڑھ رہے تھے ، ان کا کہنا ہے کہ یہ نہ صرف منفی رپورٹنگ ہے بلکہ ایک گھنوئنی سازش ہے
تبلیغی ہیروز کا ٹرینڈ اس وقت بھارتی ٹویٹر میں ٹاپ پر ہے۔
مسلم ایکٹوسٹس ، سیکولر ہندو، بھارت کی اکثر اہم غیر متشدد شخصیات تبلیغی جماعت کے کارکنان کو خراج تحسین پیش کر رہے ہیں، یہ وہی انڈیا ہے جہاں چند دن سے تبلیغی جماعت کو کرونا پھیلانے کا زمہ دار قراد دیا جا رہا تھا، جس کی بنیاد ایک تبلیغی اجتماع کو بتا دیا جا رہا تھا۔
جس کے بعد بھارت بھر میں مسلمانوں کے خلاف پہلے سے موجود شدت میں اور اضافہ ہوا ، نفرت بڑھی، جگہ جگہ بائیکاٹ کیا گیا، معروف ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمانوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کی بات کی جانے لگی، حتیٰ کہ مسلمان مریضوں کو ہسپتال تک میں داخل نہیں ہونے دیا جا رہا تھا۔ اس نفرت کا دائرہ بھارت سے نکل کر عرب ریاستوں میں قیام پزیر لاکھوں ہندوؤں تک پھیل گیا، کچھ عربوں کی غیرت جاگی جس پر کچھ ہندو انتہا پسندوں نے انہیں گالیاں دیں ، جسکے جواب میں کویت سے لے کر متحدہ عرب امارات کے تمام متحرک، ایکٹوسٹس، بلاگرز، صحافی، شاہزادے اور شہزادیوں نے خبردار کیا کہ اوقات میں رہو یہاں تمہاری وجہ سے وائرس پھیل رہا اور بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نازیبا سلوک بند کرو، کہیں ایسا نا ہو کہ روزی روٹی سے جاؤ،
آج سارا بھارت جس وجہ سے تبلیغی ہیروز کی بات کر رہا انہیں خراج تحسین پیش کر رہا وہ یہ ہے کہ 129 تبلیغی ارکان نے دہلی کے ایک ہسپتال میں پلازما عطیہ کیا ہے، ایک فرد کے پلازمے سے 4 کرونا مریضوں کا علاج ممکن ہے۔ یہ وہی تبلیغی ہیں جنہیں نفرت، گالی ، بیماری بنا دیا گیا تھا آج انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت لوگوں کی جان بچانے کیلئے پلازمہ دے رہے ہیں جسکی تصدیق بھارتی وزارت صحت بھی کر چکی ہے۔ یہی اسلام کی تعلیمات ہیں۔ سلام ہے تبلیغی ہیروز کو۔
احساس پروگرام کو سب سے بڑا گھپلا قرار دینے پرثانیہ نشتر اور شہباز گل کا سلیم صافی کو جواب،اسی جھوٹ کا توذکرمولانا طارق جمیل نے کیا،تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر پاکستان کے نامور صحافی سلیم صافی نے ٹویٹ کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے احساس پروگرام کو پاکستان کا سب سے بڑا گھپلا قرار دیتے ہوئے ٹویٹ کیا اور کہاں کے جتنے اس پروگرام میں جنوبی وزیرستان کے مستحقین نہ ہونے کے برابر ہیں۔
سلیم صافی نے ٹویٹ کرتے ہوئے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ ” احساس پروگرام پاکستان کی تاریخ کا سب سےبڑا گھپلا بنتا جارہا ہے۔ تحریک انصاف کی بے انصافی ملاحظہ کیجئے کہ وزیراعلی کےسوات ضلع میں 99 ہزار مستحقین دکھاکر 86 ہزار پانچ سو کو ادائیگی کی گئی ہےلیکن جنوبی وزیرستان ضلع میں صرف اٹھارہ افراد مستحق قرار پائےجن میں صرف 3 کو ادائیگی کی گئی”
احساس پروگرام پاکستان کی تاریخ کا سب سےبڑا گھپلا بنتا جارہا ہے۔ تحریک انصاف کی بے انصافی ملاحظہ کیجئے کہ وزیراعلی کےسوات ضلع میں ٩٩ ہزار مستحقین دکھاکر ٨٢ ہزار پانچ سو کو ادائیگی کی گئی ہےلیکن جنوبی وزیرستان ضلع میں صرف اٹھارہ افراد مستحق قرار پائےجن میں صرف ٣ کو ادائیگی کی گئی۔ pic.twitter.com/drxRiYcpcC
دوسری جانب صحافی سلیم صافی کے ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے پروگرام کی سربراہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے ٹویٹ کیا جس میں انہوں نے لکھا کہ ” یہ سکرینیں احساس ایمرجنسی کیش انفارمیشن پورٹل کی ہیں جو کہ شفافیت کے پیش نظر شائع کیا گیا ہے۔ 8171 سکیم میںCategory-1 اور Category-2کی امداد 2010 کے سروے کی بنیاد پر دی جا رہی ہے۔2010 میں شمالی اور جنوبی وزیرستان میں امن عامہ نہ ہونے کی وجہ سے سروے نہیں ہوا تھا”
یہ سکرینیں احساس ایمرجنسی کیش انفارمیشن پورٹل کی ہیں جو کہ شفافیت کے پیش نظر شائع کیا گیا ہے۔ 8171 سکیم میںCategory-1 اور Category-2کی امداد 2010 کے سروے کی بنیاد پر دی جا رہی ہے۔2010 میں شمالی اور جنوبی وزیرستان میں امن عامہ نہ ہونے کی وجہ سے سروے نہیں ہوا تھا۔ 1/4 https://t.co/LlW8KsLHcG
ایک دوسرے ٹویٹ میں انہوں نے لکھا کہ ” احساس ایمرجنسی کیش کی Category 3 میں وزیرستان کا حصہ آبادی کے لحاظ سے ہے۔ 8171 سکیم کے تحت شمالی وزیرستان سے 61,164 اور جنوبی وزیرستان سے62,499 ایس ایم ایس موصول ہوئے ہیں۔ جانچ پڑتال جاری ہے”
احساس ایمرجنسی کیش کی Category 3 میں وزیرستان کا حصہ آبادی کے لحاظ سے ہے۔ 8171 سکیم کے تحت شمالی وزیرستان سے 61,164 اور جنوبی وزیرستان سے62,499 ایس ایم ایس موصول ہوئے ہیں۔ جانچ پڑتال جاری ہے۔2/4
ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے اپنے ایک اور ٹویٹ میں لکھا کہ ” برائے Category-3 تمام صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کا حصہ آبادی کے لحاظ سے رکھا گیا ہے اور مستحقین کی نشاندہی NADRA کے Data Analytics کےذریعے کی جا رہی ہے۔ Category-3 میں رقم کی ترسیل اگلے ہفتے شروع ہوگی”
برائے Category-3 تمام صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشیر کا حصہ آبادی کے لحاظ سے رکھا گیا ہے اور مستحقین کی نشاندہی NADRA کے Data Analytics کےذریعے کی جا رہی ہے۔ Category-3 میں رقم کی ترسیل اگلے ہفتے شروع ہوگی۔3/4
انکا اپنے ایک اور ٹویٹ میں لکھنا تھا کہ ” احساس ایمرجنسی کیش میں سیاسی مداخلت اور اقربا پروری کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ سماجی تحفظ کے اس پروگرام میں شفافیت ہماری اولین ترجیح ہے”
احساس ایمرجنسی کیش میں سیاسی مداخلت اور اقربا پروری کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ سماجی تحفظ کے اس پروگرام میں شفافیت ہماری اولین ترجیح ہے۔4/4
دوسری جانب ڈاکٹر ثانیہ نشتر کا ساتھ دیتے ہوئے ترجمان پنجاب حکومت ڈاکٹر شہباز گل نے سلیم صافی کو جواب دیتے ہوئے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ "سلیم صافی صاحب یہ وہ جھوٹ اور غلط بیانی تھی جس کا مولانا طارق جمیل نے اشارہ کیا تھا۔جیسا کہ ثانیہ نشتر صاحبہ نے اعدادو شمار سے آپ کی اس غلط بیانی اور ناجائز بہتان بازی کا پول کھول دیا-امید کرتے ہیں کہ اگر یہ غیر دانستہ ہوئی تو اس پر معافی مانگ لیں گے۔لیکن اگر دانستہ تو ڈے رہئیے”
سلیم صافی صاحب یہ وہ جھوٹ اور غلط بیانی تھی جس کا مولانا طارق جمیل نے اشارہ کیا تھا۔جیسا کہ ثانیہ نشتر صاحبہ نے اعدادو شمار سے آپ کی اس غلط بیانی اور ناجائز بہتان بازی کا پول کھول دیا-امید کرتے ہیں کہ اگر یہ غیر دانستہ ہوئی تو اس پر معافی مانگ لیں گے۔لیکن اگر دانستہ تو ڈے رہئیے https://t.co/DAMEGuTEnepic.twitter.com/J0t3AvwYJc
ایک دوسرے ٹویٹ میں انہوں لکھا کہ ” سنئیر جرنلسٹز کی رائے: آزادی اظہار کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کسی پر جھوٹا الزام لگائیں۔احساس کو ڈاکٹر ثانیہ نشتر چلاتی ہیں جن کی ایمانداری فرض شناسی کی دنیا گواہ ہے۔ہمیں ان پر ناز ہے۔آپ نے پروگرام پر جھوٹا الزام لگایا۔امید ہے سینئر جرنلسٹز کی جو ڈیمانڈ مولانا سے تھی وہی اب آپ سے ہو گی”
شہباز گل نے اپنے ایک اور ٹویٹ میں لکھا کہ ” میں تمام سینئر اینکر صاحبان سے پر زور مطالبہ کرتا ہوں کہ آج شام کے پروگرامز میں اس بات پر بحث کی جائے جیسا مولانا کہ معاملہ میں کی-مولانا کی تو جنرل سٹیٹمنٹ تھی۔دوسروں کی دل آزاری ہوئی انہوں نے معزرت کر کے بڑے پن کا ثبوت دیا۔صافی صاحب نے تو صاف جھوٹ بولا-اب آپکے انصاف کو دیکھیں گے”
سلیم صافی صاحب یہ وہ جھوٹ اور غلط بیانی تھی جس کا مولانا طارق جمیل نے اشارہ کیا تھا۔جیسا کہ ثانیہ نشتر صاحبہ نے اعدادو شمار سے آپ کی اس غلط بیانی اور ناجائز بہتان بازی کا پول کھول دیا-امید کرتے ہیں کہ اگر یہ غیر دانستہ ہوئی تو اس پر معافی مانگ لیں گے۔لیکن اگر دانستہ تو ڈے رہئیے https://t.co/DAMEGuTEnepic.twitter.com/J0t3AvwYJc
واشنگٹن :امریکہ میں نوجوان اوردرمیانی عمر کے لوگ کس بیماری سے مررہے ہیں ،واشنگٹن پوسٹ نے پوسٹ مارٹم کردیا ،اطلاعات کے مطابق معروف امریکی اخبارواشنگٹن پوسٹ نے امریکہ میں مرنے والوں کے متعلق بڑے ہوش ربا انکشافات کیئے ہیں نوجوان اور درمیانی عمر کے لوگ ، جو کوڈ 19 کا شکار ہیں وہ دہری مصیبت میں مبتلا ہیں ، واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہےکہ یہ لوگ فالج سے مر رہے ہیں
واشنگٹن پوسٹ نے خبردار کیا ہے کہ ڈاکٹرز 30 اور 40 کی عمر کے مریضوں کے بارے میں خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں جو کمزور ہیں واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہےکہ ایمرجنسی اسٹروک کے تمام مریضوں کا علاج کرنے کے لئے کافی ڈاکٹرز موجود نہیں تھے ، اور آپریٹنگ روم میں اس کی ضرورت تھی۔
واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ مریض کا چارٹ پہلی نظر میں ناقابل قابل دکھائی دیتا تھا۔ اس نے کوئی دوائی نہیں لی اور اس کے دائمی حالات کی کوئی تاریخ نہیں تھی۔ ملک کے دیگر حصوں کی طرح لاک ڈاؤن کے دوران گھر میں مررہے تھے ۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کرونا وائرس کی یہ شکل خون کی شریانوں کو متاثرکرتا ہے جو دماغ کو خون فراہم کرتی ہیں لیکن چند دنوں کے بعد یہ صورت حال بہت بگڑجاتی ہے اورمریض فالج سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے ،
واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ یہ صورت حال بڑے علاقوں میں پائی جارہی ہے خصوصا ان علاقوں مین جہاں ٹمریچرکم ہے ، اس رپورٹ کے مطابق ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس بہت سے ایسے مریض آئے ہیں ،اسٹروک میں اضافے نوجوان اور درمیانی عمر کے لوگوں کے جھٹکے کی خبریں – نہ صرف پہاڑی سینا میں ، بلکہ بہت سے دوسرے کمیونٹیز کے دیگر ہسپتالوں میں ، جو ناول کورونا وائرس سے متاثر ہیں ،
اب پہلی بار ، امریکہ کے تین بڑے طبی مراکز فالج کے رجحان سے متعلق اعداد و شمار کو شائع کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہاں ہر مقام پر صرف چند درجن معاملات ہیں ، لیکن وہ اس بارے میں نئی بصیرت فراہم کرتے ہیں کہ وائرس ہمارے جسموں کو کیا کرتا ہے۔ کورونا وائرس پھیپھڑوں کو ختم کرتا ہے۔ لیکن ڈاکٹروں کو گردوں ، دلوں اور کہیں بھی اس کا نقصان مل رہا ہے۔
فالج ، جو خون کی فراہمی میں اچانک رکاوٹ ہے ، متعدد وجوہات اور پیش کشوں کے ساتھ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔ یہ دل کی پریشانیوں ، کولیسٹرول کی وجہ سے بھری شریانوں ، یہاں تک کہ مادے کے غلط استعمال کی وجہ سے ہوسکتا ہے۔ منی اسٹروک اکثر مستقل نقصان کا سبب نہیں بنتے ہیں اور 24 گھنٹوں میں خود ہی حل ہوجاتے ہیں۔ لیکن بڑے لوگ تباہ کن ہوسکتے ہیں۔
کورونا وائرس کے مریض زیادہ تر مہلک قسم کے فالج کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ مرض LVOs کے نام سے جانا جاتا ہے ، وہ ایک دھچکے میں حرکت ، تقریر اور فیصلہ سازی کے ذمہ دار دماغ کے بڑے حصوں کو ختم کر سکتے ہیں کیونکہ وہ خون کی فراہمی کرنے والی بنیادی شریانوں میں ہیں۔
بہت سے محققین کو شبہ ہے کہ کوڈ 19 مریضوں میں فالج کی وجہ سے خون کی پریشانیوں کا براہ راست نتیجہ ہوسکتا ہے جو کچھ لوگوں کے جسموں میں کلاٹ پیدا کررہا ہے۔ برتن کی دیواروں پر بننے والے ٹکڑے اوپر کی طرف اڑتے ہیں۔ بچھڑوں میں شروع ہونے والا ایک پھیپھڑوں میں ہجرت کرسکتا ہے ، جس کی وجہ سے ایک پلمونری ایمبولیزم کہلاتا ہے جس سے سانس لینے کی گرفت ہوتی ہے۔
یہ کوویڈ 19 کے مریضوں میں موت کی ایک مشہور وجہ ہے۔ دل میں یا اس کے آس پاس جمنے سے دل کا دورہ پڑ سکتا ہے جو موت کی ایک اور عام وجہ ہے۔ کوئی بھی چیز جو اس کے دماغ میں جاسکتی ہے ، جس سے فالج ہوتا ہے۔ بالٹیمور کے جان ہاپکنز اسپتال کے ایک اہم نگہداشت ڈاکٹر اے ڈی رابرٹ اسٹیونز نے خون کے "سب سے زیادہ ڈرامائی انداز میں سے ایک” کہا جاتا ہے۔
نئی دہلی :کوروناہیروز:مودی سرکارتبلیغیوں پرمقدمات درج کررہی ہے ، تبلیغی اپنا پلازما عطیہ کررہے ہیں،ڈاکٹروں نے تبلیغی جماعت سے امیدیں وابستہ کرلیں ،اطلاعات کے مطابق مقامی علما ئے کرام اور دیگر سماجی کارکنان ریاست کے مختلف اضلاع کے مرکز میں منعقد ہ اجتماع کے شرکاء کے ساتھ رابطہ کر رہے ہیں تاکہ خون کا عطیہ اور پلازما تھراپی کرانے کے لئے تیار رضاکاروں کی ایک فہرست تیار کی جاسکیں۔
ادھر حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ تبلیغی جماعت ہی انڈیاکوبناسکتی ہےکورونا سے پاک؟اس طرح اراکین کررہے ہیں مددمقامی علما ئے کرام اور دیگر سماجی کارکنان ریاست کے مختلف اضلاع کے مرکز میں منعقد ہ اجتماع کے شرکاء کے ساتھ رابطہ کر رہے ہیں تاکہ خون کا عطیہ اور پلازما تھراپی کرانے کے لئے تیار رضاکاروں کی ایک فہرست تیار کی جاسکیں۔
تامل ناڈو میں تبلیغی جماعت کے شرکاء ، جنہوں نے گذشتہ ماہ نئی دہلی کے نظام الدین مرکز میں پروگرام میں شرکت کے بعد کورونا مثبت پائے گئے تھے۔وہ متاثرہ مریضوں کی جان بچانے کے لئے اپنا پلازما عطیہ کرنے کے لئے آگے آئے ہیں۔ یادرہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد میں اضافہ کے بعد نظام الدین مرکز میں منعقد ہ تبلیغی اجتماع میں شرکت کرنے والوں کو نشانہ بنایا جارہاتھا اور اسی کے نام پر تبلیغی جماعت کے متعلق بے بنیاد الزامات لگائے جارہے تھے ۔ ٹویٹر پر ہیش ٹیک کورونا جہا د ٹرینڈ کررہاتھا۔لیکن اب جو خبر یں آرہی ہے اس پر سوشل میڈیا پر کوئی چرچا نہیں ہے۔ دراصل ہندوستان میں کورونا کے خلاف جو جدوجہد جاری ہے وہ اب تبلیغی جماعت کے اراکین کے مدد کے بغیر نامکمل نظر آرہی ہے۔
پچھلے دنوں ملک کی کئی ریاستوں کی حکومتوں اور محکمہ پولیس نے نظام الدین مرکز میں منعقد ہ اجتماع میں شرکت کرنے والے شرکاء کو تلاش کرکے انہیں اسپتال پہنچا نے کا عویٰ کیاہے ۔ تاہم تمل ناڈو اور تلنگانہ میں تبلیغی جماعت کے ارکان نے رضاکارانہ طورپر اسپتال پہنچ کر کووڈ-19 کا ٹیسٹ کروایاتھا۔ وہیں تمل ناڈو میں تبلیغی جماعت کے 1 ہزار اراکین نے رضاکارانہ طور پر خود کو کورونا وائرس کی جانچ آگے ہیں ۔ تبلیغی جماعت کے اراکین ، انتظامیہ کے ساتھ تعاون نہ کرنے کے الزامات کو مستر د کرنا چاہتے ہیں۔تمل ناڈو میں اب تک 1629افراد کورونا سے متاثر ہوئے ہیں۔ جن میں 1300 افراد نے نظام الدین مرکز میں منعقد اجتماع میں شرکت کی تھی ۔
کورونا کے علاج کے لیے پلازما تھراپی کے استعمال پر ڈاکٹرس کا کہنا ہے کہ یہ تھراپی اسی صورت میں مریض کے لیے فائدہ مند ہے جبکہ اس پر دواؤں کا کوئی اثر نہ ہو ۔ جب کورونا سے متاثر ہونے والوں کے جسم میں ،کورونا سے لڑ کر مکمل صحتیاب ہونے والوں کے خون سے حاصل کردہ اینٹی باڈیز ،منتقل کیے جاتے ہیں تو مریض میں اتنی قوت مدافعت پیدا ہوتی ہے کہ اسکا نظام کورونا سے چھٹکارا پا لیتا ہے ۔
اس عمل کو اس طرح بھی سمجھایا کا سکتا ہے کہ عطیہ دینے والے کے جسم میں کورونا کو شکست دینے کے بعد اس کے پلازما کے اسی تجربہ کو عطیہ لینے والے شخص کے جسم میں بھی کورونا کو فنا کرنے میں آزما یا جاتا ہے ۔ پلازما تھراپی کے سلسلہ میں پلازما کا عطیہ لینے سے پہلے یہ خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ عطیہ کنندہ کورونا سے صحتیاب ہونے کے بعد اسکی رپورٹ دو ہفتوں تک کرونا نیگیٹیو رہے ۔ وہ دوسرے امراض جیسے ہیپاٹائیٹس اور ایچ آئی وی سے پاک رہے اور خاص بات یہ ہے کہ اس کے جسم میں پلازما کی اتنی مقدار رہے کہ عطیہ دینے کے بعد بھی خود اسکے جسم میں قوت مدافعت قائم رکھنے کے لیے کافی ہو ۔
تبلیغی جماعت کے اراکین کیسے بن رہے ہیں کورونا ہیر وز؟
تری چیراپلی میں ایمن کالج آف آرٹس اینڈ سائنس فار ویمن کے ڈائریکٹر ، ایم ایم محمد ، پہلے کور ونا وائرس سے متاثر ہوئے تھے اور انکا ٹیسٹ بھی مثبت آیا تھا ۔ ایم ایم محمد کا کہنا ہے کہ اگر ڈاکٹروں سے اس سے کہیں گے تو وہ اپنا پلازما عطیہ کرنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا ، "میری عمر 68 سال ہے۔لیکن اگر ڈاکٹر مجھے مشورہ دیں گے تو میں تیار ہوں۔”انہوں نے مزید کہا کہ انہیں 16 اپریل کو تریچی جنرل اسپتال سے ڈسچارج کیا گیا تھا۔ "مسلمانوں میں خون کا عطیہ بہت عام ہے۔ اگر ہمیں موقع ملا تو ہم مذہب یا دیگر اختلافات سے قطع نظر بھی انسانیت کی مدد کے لئے آگے آئیں گے۔”
مقامی علمائے اور دیگر سماجی کارکنان ریاست کے مختلف اضلاع کے مرکز میں منعقد ہ اجتماع کے شرکاء کے ساتھ رابطہ کر رہے ہیں تاکہ خون کا عطیہ اور پلازما تھراپی کرانے کے لئے تیار رضاکاروں کی ایک فہرست تیار کی جاسکیں۔ تبلیغی جماعت کے اراکین کا کہناہے کہ ، تبلیغی جماعت کے سربراہ مولانا سعد ، جنہوں نے حال ہی میں اراکین سے اپنا خون عطیہ کرنے اور پلازما تھراپی کرانے کی خواہش کی تھی ۔ تاہم ، جماعت کے اراکین کی بڑی تعداد معاشرے میں ان کے ساتھ کیے گئے سلوک کے بعد سے محتاط ہیں ، اور وہ صرف سکون سے رہنا چاہتے ہیں۔
اسپتال سے ڈسچارج ہونے والے مریضو ں کو ایک فارم دیاگیا تھا ۔ جس پر سوال تحریر تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو کیا وہ خون کے عطیہ دیں گے ؟ جس پر تبلیغی جماعت کے بیشتر ارکان نے رضامند ی کا اظہارکیاہے۔وہیں چنئی کے نیو کالج کے پر وفیسر ، پروفیسر عبدالحمید کا کہناہے کہ انتظامیہ نے اسپتال میں ہمیں کئی دستاویزات دیئے تھے۔ جس کے بعد کچھ لوگوں کو پریشانی ہوگئی تھی ۔ کیوں نکہ ان میں ایسے سیکشن تھے کہ کہا گیا تھا کہ انتظامیہ خود نمونے حاصل کریگا۔جسے پڑھنے کے بعد تبلیغی جماعت کے بہت سے ارکان فکر مند نظر آرہے تھے۔تبلیغی جماعت سے وابستہ کارکنان کی گرفتاری کےلئےاتراکھنڈ پولیس دیگر ریاستوں سے بھی مدد لے رہی ہے۔
30 سالہ پروفیسر تبلیغی جماعت کے شرکاء میں بھی شامل تھے اور 20 اپریل کو اسپتال سے ڈ سچارج ہونے سےپہلے ،کورونا وائرس کا ٹیسٹ کرواچکے ہیں۔ جو مثبت رہا۔ انہوں نے کہا ، ” اب ماہ رمضان بھی آرہاہے، ایسے میں تبلیغی جماعت کے اراکین آ نا مشکل ہوگا لیکن اب تمام اراکین کو راضی کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور حکومت ہمیں انتظامات کرنے میں تعاون کریگی تو ہم سب اراکین خون کا عطیہ دینے اور پلازما تھراپی کرانے کے لیے تیا ر ہیں۔
نظام الدین اجتماع کے شرکاء نے واضح کیا ہے کہ یہ عطیہ حکومت کی مدد سے منظم انداز میں انجام دیا جانا چاہئے تاکہ عوام میں یہ پیغام عام ہوجائے کہ جماعت کے اراکین حکومت کا تعاون کررہے ہیں ور مددگار ثابت ہوئے ہیں۔ شرکاء محسوس کرتے ہیں کہ کورونا کی وباء کے لیے میڈیا نے مسلم کمیونٹی کو ذمہ دار ٹہرایاہے اور وہ چاہتے ہیں کہ میڈیا اب اپنی کوششوں کو بھی عوام کے درمیان اجاگر یں ۔ اراکین کا کہناہے کہ "ہم خون کا عطیہ کریں گے ، لیکن اگر ہم حکومت کے ذریعہ یہ منظم طریقے سے کراتے ہیں تو ، لوگوں کو معلوم ہوجائے گا کہ انہیں ہمیں تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تمل ناڈو حکومت پلازما تھراپی کے مقدمے کی سماعت کے بعد انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) سے منظوری کے منتظر ہے۔
نئی دہلی کے میکس سوپر اسپیسلیٹی اسپتال میں 4 اپریل کو 49 سالہ کورونا سے متاثر شخص ساکت کو شریک کروایا گیا ۔ ساکت کو شدید نمونیا تھا اور 8 اپریل تک انکا نظام تنفس مکمل طور پر کام کرنا بند کردیا تھا۔ اسلئے انہیں وینٹیلیٹر پر رکھا گیا تھا ۔ ساکت اپنے خاندان کے تیسرے ایسے فرد ہیں جو کورونا سے متاثر ہوئے تھے انکے والد اور والدہ بھی کرونا پوزیٹو پائے گئے تھے حال ہی میں انکے والد کا انتقال ہوگیا ۔جبکہ انکی والدہ علاج کے بعد صحت یاب ہو چکی ہیں ۔ اس کے بعد ساکت بھی کورونا پوزیٹو پائے گئے اور انہیں اسپتال میں شریک کروایا گیا ۔
ساکت کی بگڑتی حالت دیکھ کر انکے رشتے دار وں نے درخواست کی کہ انہیں پلازما تھراپی دی جائے۔ ڈاکٹرس نے پہلے ایک ایسے سابقہ کورونا پوزیٹو شخص کو پلازما کے عطیہ دینے پر رضامند کیا جو علاج کے بعد نیگیٹیو قرار دیا گیا تھا ۔ 14 اپریل کو ساکت کو پلازما چڑھایا گیا تھا او رپلازما تھراپی دیے جانے کے بعدجہاں تک ساکت کی حالت کا سوال ہے انکی حالت بہتر ہے ان کا تنفس کا نظام بھی بحال ہو چکا ہے اور اب انہیں مزید ونٹلیٹر کی ضرورت نہیں ہے 19اپریل کو ٹیسٹ کے بعد وہ کرونا نیگیٹیو ہو چکے ہیں۔
ہندوستان اور دنیا کے دوسرے خطوں میں کورونا کے متاثرین کو پلازما کے ذریعہ راحت کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ جب تک اسکا ٹیکہ دریافت نہ ہو پلازما کا طریقہ کورونا کے علاج کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے ۔ ماہرین کی یہ تجویز ہے کہ مخصوص بلڈ بینکس کی نشان دہی کی جائے اور وہاں عطیہ دینے والوں سے پلازما حاصل کیا جائے اس کے بعد اسے ضرورت مندوں تک پہچایا جا سکتا ہے ۔
برلن :خبردارجولاک ڈاون کے خلاف کرے گا احتجاج وہ جائے گا جیل،پھرنہ کہنا ،اطلاعات کے مطابق ملک میں ایک عرصے سے جاری لاک ڈاؤن کے خلاف ایک ہزار سے زائد افراد نے احتجاج کیا اور احتیاطی تدابیر کی خلاف ورزی کرنے پر پولیس نے درجنوں افراد کو گرفتار کر لیا۔
ذرائع کے مطابق دارالحکومت برلن میں ایک ہزار سے زائد افراد نے لاک ڈاؤن کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ریلی نکالی جہاں حکام کی جانب سے انتباہ جاری کیے جانے کے باوجود مستقل چند ہفتوں سے اس احتجاج کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔اس احتجاج میں بائیں بازوں کے افراد کی اکثریت موجود تھی لیکن حیران کن طور پر اس مرتبہ احتجاج میں دائیں بازو کے افراد بھی موجود تھے۔مظاہرین کو آگے بڑھتا دیکھ کر پولیس نے لگزمبرگ میں رکاوٹیں کھڑی کردیں جس کے بعد شرکا قریبی روڈوں پر جمع ہونے لگے۔
پولیس نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے کی جانے والی احتیاطی تدابیر کی روشنی میں یہ احتجاج جاری کردہ ہدایات اور قوانین سے مطابقت نہیں رکھتا۔چند مظاہرین نے شرٹ زیب تن کر رکھی تھیں جس میں چانسلر اینجلا مرکل پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے لوگوں پر عرصہ حیات تنگ کردیا ہے جبکہ دیگر افراد لاک ڈاؤن سے آزادی کے نعرے لگا رہے تھے۔
لاہور:کورونا کے مریضوں کی سیلری کاٹنے کا اعلان۔میڈیاورکرزدہری آزمائش میں مبتلا ،اطلاعات کے مطابق لاہورمیں میڈیا ورکردہری آزمائش میں مبتلا ہیں ایک طرف کرونا ہے تو دوسری طرف میڈیا مالکان نے کرونا سے متاثرہ مریضوں کی ہمت بندھانے اورسہارا بننے کی بجائے ان کے لیے مصائب کے پہاڑ بن کرگررہے ہیں،
ذرائع کےمطابق لاہور کے میڈیا ہاؤس سٹی نیوز نیٹ ورک میں کورونا میں مبتلا مریضوں کو جنہیں ادارے نے فوری رخصت پر بھیج دیا تھا ، ان تمام کی تنخواہیں کاٹنے کا اعلان کیاگیا ہے۔ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ۔۔کورونا کے خوف سے دفتری حدود میں اتنی سختی ہے کہ کسی کا ماسک چہرے سے ہٹاہوا پایا گیا تو اس پر بھی جرمانہ عائد کیاگیا۔۔ جن کے ماسک چہرے سے نیچے لٹکے ہوئے تھے وہ بھی جرمانوں کا شکار بنے۔۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کورونا کی وجہ سے جن لوگوں کو چھٹیاں دی گئی تھیں وہ بغیر تنخواہ چھٹیاں منظور کی گئی ہیں۔۔پپو کا کہنا ہے کہ دو،تین روز قبل کے ایف سی کی جانب سےمیڈیا ہاؤس میں لنچ باکس دیئے گئے جو صرف منظور نظر افراد کو تقسیم کئے گئے۔۔لنچ باکس کی تقسیم کے وقت کوئی احتیاطی تدبیر نہیں اپنائی گئی۔۔لنچ باکس کچن کے بجائے ایڈمن کے کمرے سے دیئے گئے جہاں لائن بھی نہیں لگائی گئی بلکہ عملے کا اتنا رش تھا کہ ایک دوسرے پر گررہے تھے۔۔
ذرائع کے مطابق عملے کو ڈیوٹی کے وقت باہرجانے کی اجازت نہیں بلکہ انہیں آفس کے گیٹ تک بھی جانے کی اجازت نہیں۔۔بلڈنگ کے برآمدے کے پاس جہاں ڈس انفیکشن یونٹ لگایاگیا ہے اس سے آگے سرخ لائن کھینچ کر بینر آویزاں کردیاگیاہے کہ لاک ڈاون اور کورونا کی وبا تک دوران ڈیوٹی اس سرخ لائن کراس کرنے پر پانچ روپے جرمانہ ہوگا۔ ۔ذرائع نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ دفتر کی حدود میں مسجد بھی ختم کردی گئی ہے۔
نئی دہلی :بھارت: قرنطینہ سینٹر میں خاتون کا گینگ ریپ ،اطلاعات کے مطابق بھارت کی ریاست راجستھان میں پولیس نے قرنطینہ میں موجود خاتون کا گینگ ریپ کرنے والے 3 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔
ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق راجستھان کی پولیس نے خاتون کو ریاستی اسکول کے قرنطینہ سینٹر میں رکھا تھا۔واضح رہے کہ بھارت میں ملک گیر لاک ڈاؤن کی وجہ سے نقل و حرکت معطل ہے۔متاثرہ خاتون لاک ڈاؤن کی وجہ سے مادھو پور میں پھنس گئی تھیں جس کے بعد انہوں نے پیدل ہی جے پور جانے کا فیصلہ کیا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق متاثرہ خاتون کی عمر 40 سے 45 سال بتائی گئی۔مقامی پولیس اسٹیشن کے ایچ ایس او نے بتایا کہ خاتون جے پور جاتے ہوئے راستہ بھول گئیں اور مذکورہ گاؤں میں پھنس گئیں۔بعدازاں گاؤں والوں نے خاتون کو کورونا وائرس میں مبتلا سمجھ کر زبردستی اسکول میں تنہا چھوڑ دیا۔
پولیس کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے خاتون کو اسکول میں تنہا چھوڑنے پر اعتراض بھی کیا تھا۔حکام نے بتایا کہ اسی رات 3 ملزمان نے خاتون کا گینگ ریپ کردیا۔پولیس کے مطابق تینوں ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ خاتون کا طبی معائنہ بھی کرلیا گیا۔ان کے مطابق تمام ملزمان کی عمریں 20 برس کے لگ بھلگ ہیں۔
علاوہ ازیں پولیس نے بتایا کہ وائرس سے متعلق طبی معائنے کے لیے خاتون کے ٹیسٹ کے رپورٹ تاحال موصول نہیں ہوئی۔متاثرہ خاتون، جس کی عمر 40 سے 45 سال کے درمیان ہے، نے پولیس کو دیئے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ایک گاؤں میں پہنچنے سے پہلے کئی دن پیدل چل رہی تھی جہاں اس کے ساتھ زیادتی کی گئی۔واضح رہے کہ رواں ماہ کے وسط میں بھی ایسی طرح کا ایک واقعہ رپورٹ ہوا تھا۔
بھارتی ریاست بہار کے ضلع گیا کے ایک ہسپتال میں کورونا کا ٹیسٹ کرنے کے بہانے روکی گئی خاتون کا مسلسل 2 دن تک مبینہ طور پر گینگ ریپ کیے جانے کا انکشاف ہوا تھا۔گینگ ریپ کے باعث مذکورہ خاتون ہلاک ہو گئیں تھیں جس کے بعد پولیس نے معاملے کی تفتیش کرتے ہوئے ایک ملزم کو گرفتار کرلیا تھا۔
واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے حال ہی میں جاری کی گئی رپورٹ میں بھی خطرناک حقائق بیان کیے گئے ہیں۔بھارتی حکومت کے ادارے ’نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو (این سی آر بی) کی جانب سے حال ہی میں جاری کی گئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ بھارت میں ہر 15 منٹ میں ایک خاتون کا ’ریپ‘ کیا جاتا ہے۔
این سی بی آر کی 2017 کی رپورٹ کے مطابق بھارت بھر میں خواتین کے خلاف تشدد، ریپ، ان پر تیزاب سے حملے، انہیں ہراساں کرنے سمیت دیگر صنفی تفریق کے واقعات میں اضافہ ہوگیا اور گزشتہ برس 2016 سے زیادہ جرائم ریکارڈ کیے گئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ سال 2017 میں مجموعی طور پر بھارت بھر میں خواتین کے خلاف جرائم و تشدد کے 3 لاکھ 60 ہزار سے زائد کیسز رجسٹرڈ ہوئے جن میں سے زیادہ تر ’ریپ‘ کے کیسز تھے۔
ریاض :مکہ کے علاوہ سعودی عرب بھرمیں کرفیو جزوی طور پر اٹھا لیا گیا،لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں ، شاہ سلمان کا حکم ،اطلاعات کے مطابق سعودی فرماں روا شاہ سلمان نے ملک بھر سے کرفیو جزوی طور پر ہٹانے کا فرمان جاری کردیا ہے جبکہ مکہ اور قریبی علاقوں میں 24 گھنٹے کا کرفیو برقرار رہے گا۔
الجزیزہ کی رپورٹ کے مطابق سعودی نیوز ایجنسی کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں صبح 9 بجے شام 5 بجے تک کرفیو ہٹا دیا جائے گا جبکہ ہول سیل اور ریٹیل کی دکانوں کو 6 رمضان سے 20 رمضان (29 اپریل سے 13 مئی) تک کھولنے کی اجازت دی جائے گی۔
ہوپکنز یونیورسٹی سے جاری اعداد وشمار کے مطابق سعودی عرب میں اب تک 16 ہزار 299 کیسز سامنے آچکے ہیں اور 136 افراد کی ہلاکتیں ہوئی ہیں جو خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) ممالک میں سب سے زیادہ ہے۔سعودی عرب نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے 2 اپریل کومقدس شہروں مکہ اور مدینہ میں کرفیو نافذ کردیا تھا۔
سعودی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ کرفیو کے دوران کچھ اہم افراد کو گھروں سے نکلنے اور کھانے پینے کی اشیا اور ادویات خریدنے کی اجازت ہو گی۔بیان میں کہا گیا تھا کہ دونوں شہروں کے مکین کرفیو کے دوران میں اپنے گھروں اور قیام گاہوں ہی میں رہیں گے اور صرف صبح 6 بجے سے سہ پہر 3 بجے تک سودا سلف، خوراک کی اشیا اور ادویات کی خریداری کے لیے گھروں سے باہر نکل سکتے ہیں مگر انہیں اشیائے ضروریات کی خریداری کے لیے بھی اپنے اپنے علاقوں تک محدود رہنا چاہیے۔اعلامیے میں مزید بتایا گیا تھا کہ وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ان دونوں شہروں میں گاڑی میں صرف ایک شخص کو سفر کرنے کی اجازت ہو گی۔
وزارتِ داخلہ کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز، فوج اور میڈیا سمیت اہم سرکاری اور نجی شعبوں میں کام کرنے والے اہلکار اور شعبہ صحت میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر حضرات اور طبّی عملے کو کرفیو کی پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔اس سے قبل عمرے کو معطل کردیا تھا جس کے بعد رمضان میں مسجدالحرام میں مخصوص افراد کو نماز اور تراویح ادا کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق جولائی میں حج کا عظیم اجتماع بھی منسوخ ہوسکتا ہے جو جدید تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوگا کیونکہ سعودی حکومت نے مسلمان ممالک سے حج کی تیاریوں مؤخر کرنے کا مطالبہ کردیا تھا۔سعودی عرب کی حکومت کے لیے حج اور عمرہ زائرین آمدنی کا بڑا ذریعہ ہیں جبکہ ولی عہد محمد بن سلمان نے ملک میں سیاحوں کی تعداد کو بڑھانے کے منصوبہ کا بھی اعلان کردیا تھا۔
سعودی عرب میں کرونا وائرس کے باعث نہ صرف مقدس مقامات بلکہ بڑے معاشی مراکز اور ہوٹل بھی بند ہیں اور اسی طرح پروازوں کا سلسلہ بھی معطل ہے۔شاہ سلمان کورونا وائرس کے خلاف اقدامات کے سلسلے میں پہلے ہی مزید مشکل حالات سے خبردار کرچکے ہیں جبکہ حکومت کو وائرس کے ساتھ ساتھ تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث دگنا معاشی نقصان کا سامنا ہے۔