Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • گورنمنٹ نے کورونا سے جاں بحق ہونے والے ڈاکٹرمحمد جاوید کوسول ایوارڈ کیلئے نامزد کردیا

    گورنمنٹ نے کورونا سے جاں بحق ہونے والے ڈاکٹرمحمد جاوید کوسول ایوارڈ کیلئے نامزد کردیا

    پشاور:کے پی گورنمنٹ نے کورونا سے جاں بحق ہونے والے ڈاکٹر محمد جاوید سول ایوارڈ کیلئے نامزد کردیا ،اطلاعات کے مطابق خیبرپختونخوا (کے پی) حکومت نے کورونا سے جاں بحق ہونے والے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے پروفیسر ڈاکٹر محمد جاوید کو سول ایوارڈ کیلئے نامزدکردیا۔

    وزیر اعلیٰ خیبرپختونخواکے مشیر اطلاعات اجمل وزیر کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر محمد جاوید کی شہادت کوحکومت اور قوم سلام پیش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ڈاکٹر جاوید کے خاندان کیلئے خصوصی پیکچ کا اعلان بھی کرے گی۔

    اجمل وزیر کا مزید کہنا تھا کہ عوام سےایک بارپھرگزارش ہے، خداراگھروں میں رہیں، اور ڈاکٹر جاوید جیسے ڈاکٹروں کی جانوں سےکھیلنا بند کریں، انہوں نے قوم پر جان تو نچھاورکی لیکن خدارا ان کی نصیحت پر عمل کرکے گھروں سے نہ نکلیں۔

    خیال رہے کہ گذشتہ روز پشاور کے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے پروفیسر ڈاکٹر محمد جاوید کورونا وائرس سے انتقال کرگئے تھے ، وہ ایک ہفتہ قبل کورونا سے متاثر ہوئے تھے اور حالت بگڑنے پر انہیں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا تاہم وہ جانبرنہ ہوسکے۔

    اس سے قبل گلگت میں ڈاکٹر اسامہ اور سندھ میں ڈاکٹر عبدالقادر سومرو بھی کورونا سے جاں بحق ہوچکے ہیں جب کہ ملک میں متعدد ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل اسٹاف کورونا سے متاثر ہوئے ہیں۔

  • ہم جو بھی کام کرتے ہیں سوشل میڈیا پراس کا پردہ چاک کردیا جاتا ہے ،ایسے عناصرکوروکا جائے ، سندھ حکومت کا ایف آئی اے سے مطالبہ

    ہم جو بھی کام کرتے ہیں سوشل میڈیا پراس کا پردہ چاک کردیا جاتا ہے ،ایسے عناصرکوروکا جائے ، سندھ حکومت کا ایف آئی اے سے مطالبہ

    کراچی :ہم جو بھی کام کرتے ہیں سوشل میڈیا پراس کا پردہ چاک کردیا جاتا ہے ،ایسے عناصرکوروکا جائے ، سندھ حکومت کا ایف آئی اے سے مطالبہ،اطلاعات کے مطابق سندھ حکومت کے خلاف گمراہ کن آڈیو اور ویڈیو ٹیپ پھیلائی گئیں جس میں صنعتکاروں اور تاجروں سے رشوت طلبی کا الزام لگایا گیا

    وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر برائے قانون بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو سندھ حکومت کے خلاف سوشل میڈیا مہم پر خط لکھ کر قانونی کارروائی کا مطالبہ کردیا۔ سندھ حکومت کے ترجمان و مشیر قانون مرتضیٰ وہاب نے ایف آئی آئی کو خط میں لکھا ہے کہ سندھ حکومت کے خلاف گمراہ کن آڈیو اور ویڈیو ٹیپ پھیلائی گئیں جس میں صنعتکاروں اور تاجروں سے رشوت طلبی کا الزام لگایا گیا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پر دو جعلی آڈیو ٹیپ وائرل کی گئیں جبکہ تحریک انصاف کے رہنما حلیم عادل شیخ نے بھی جعلی آڈیو سوشل میڈیا پرشیئرکی تاہم تاجر اور صنعتکاروں نے بے بنیاد الزمات کی خود تردید کی۔خط کے متن کے مطابق سندھ حکومت کے خلاف من گھڑت مہم چلائی گئی جس کا مقصد سندھ حکومت کو متزلزل کرنا ہے۔

    خیال رہے کہ صوبے میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کیلئے 23 مارچ سے لاک ڈاؤن جاری ہے جبکہ صوبائی حکومت نے لاک ڈاؤن میں نرمی کرتے ہوئے تاجروں کو طے کردہ ضابطہ کار پر عمل درآمد کرتے ہوئے کاروبار کی اجازت دے دی ہے۔

  • معروف صنعت کار مہتاب چاؤلہ کورونا وائرس کی وجہ سے وفات پا گئے

    معروف صنعت کار مہتاب چاؤلہ کورونا وائرس کی وجہ سے وفات پا گئے

    لاہور:معروف صنعت کار مہتاب چاؤلہ کورونا وائرس کی وجہ سے وفات پا گئے،اطلاعات کےمطابق ممتاز صنعت کار مہتاب چاؤلہ کورونا وائرس کے سبب کراچی میں وفات پا گئے۔ممتاز صنعت کارمہتاب چاولہ کئی دنوں سے بیمار تھے

    فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری ( ایف پی سی سی آئی )کے رہنما میاں زاہد حسین کے مطابق مہتاب چاؤلہ چند دن قبل کورونا وائرس کا شکار ہوئے تھے۔میاں زاہد حسین کا کہنا ہے کہ مہتاب چاؤلہ کورونا سے بیمار ہونے کے بعد نجی اسپتال میں داخل تھے جہاں وہ آج انتقال کرگئے۔

    ٹیکسٹائل کی صنعت سے وابستہ مہتاب چاؤلہ کے انتقال پر ملک کے معروف صنعت کاروں نے لواحقین سے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔خیال رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس سے 13 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں جن میں سے 272 افراد ہلاک ہوچکے ہیں ۔

  • ملک میں استعمال شدہ گاڑیوں کا سیلاب آنے والا ہے :بندرگاہ سے استعمال شدہ گاڑیوں کی کلیئرنس کی امید

    ملک میں استعمال شدہ گاڑیوں کا سیلاب آنے والا ہے :بندرگاہ سے استعمال شدہ گاڑیوں کی کلیئرنس کی امید

    اسلام آباد: ملک میں استعمال شدہ گاڑیوں کا سیلاب آنے والا ہے :بندرگاہ سے استعمال شدہ گاڑیوں کی کلیئرنس کی امید،اطلاعات کےمطابق بجٹ 2020-21 میں گاڑیوں کو تجارتی درآمد کی اجازت دینے کی تجویز پیش کرتے ہوئے استعمال شدہ گاڑیوں کے درآمد کاروں نے کراچی بندرگاہ پر موجود طریقہ کار کی خلاف ورزی پر درآمد شدہ 7 ہزار سے زائد گاڑیوں کی کلیئرنس کا مطالبہ کردیا۔

    رپورٹ کے مطابق آل پاکستان موٹرز ڈیلرز ایسوسی ایشن (اے پی ایم ڈی اے) کے چیئرمین ایچ ایم شہزاد نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو ان گاڑیوں کی کلیئرنس پر غور کرنا چاہیے تاکہ ’تارکین وطن پاکستانی کی مدد ہوسکے‘۔بجٹ پیشکش میں اے پی ایم ڈٰی اے نے کہا کہ حکومت کو 660 سی سی استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دینی چاہیے جو کم لاگت کی ہوتی ہیں اور اس میں ایندھن لا بھی کم استعمال ہوتا ہے۔

    وزیر اعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کو بھیجے گئے خط میں ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ ایس آر او 52 کے نفاذ کو فوری طور پر روکا جائے اور گفٹ اسکیم کے تحت درآمدی کاروں کی منظوری کے لیے سابقہ طریقہ کار کو بحال کیا جائے۔

    وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار حماد اظہر کو بھیجے گئے ایک اور خط کے ذریعے ایسوسی ایشن نے مقامی ڈیلروں کو استعمال کیا جانے والی گاڑیوں کی تجارتی درآمد کے لیے مقامی جمع ہونے والوں کو اس طرز پر اجازت دینے کی درخواست کی۔انہوں نے کہا کہ ‘ہمارے مطالبات نئی پالیسی مرتب کرنے کے نہیں بلکہ موجودہ پالیسی میں تبدیلی لانا ہیں‘۔

  • پاکستانیوں کے لیے خوشخبری آگئی :8جون تک پاکستان میں کورونا کے 97 فیصد کیسزختم ہو جائیں گے،سنگاپوریونیورسٹی

    پاکستانیوں کے لیے خوشخبری آگئی :8جون تک پاکستان میں کورونا کے 97 فیصد کیسزختم ہو جائیں گے،سنگاپوریونیورسٹی

    سنگاپور: پاکستانیوں کے لیے خوشخبری آگئی :8جون تک پاکستان میں کورونا کے 97 فیصد کیسزختم ہو جائیں گے،سنگاپوریونیورسٹی،اطلاعات کےمطابق سنگاپور یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اینڈ ڈیزائن نے دعویٰ کیا ہے کہ 8 جون تک پاکستان میں کورونا وائرس کے 97 فیصد کیسز ختم ہو جائیں گے۔

    سنگاپور کی یونیورسٹی نے اعدادوشمار کی بنیاد پر تخمینہ لگایا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز اپنی چوٹی پر پہنچ کر گھٹنا شروع ہو جائیں گے اور 8 جون تک 97 فیصد کیسز ختم ہو جائیں گے۔اس کے برخلاف عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا تھا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کئے گئے تو جولائی کے وسط تک پاکستان میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 2 لاکھ سے تجاوز کر سکتی ہے۔

    ادھر آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدان جدید کورونا وائرس اینٹی باڈی ٹیسٹ کٹس بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ ٹیسٹ کٹس کے ذریعہ شہری خود گھر میں ٹیسٹ کر سکیں گے کہ کیا ان کے جسم میں کورونا وائرس کے خلاف مدافعت موجود ہے؟

    امیونٹی ٹیسٹ کٹس صرف 20 منٹ میں نتیجہ دے گی۔ ایک ٹیسٹ کی قیمت 10 پاؤنڈ ہوگی۔ برطانوی حکومت نے پہلے ہی 5 کروڑ کٹس کا آرڈر دے دیا ہے۔ جون سے ایک ہفتے میں 10 لاکھ ٹیسٹ کٹس بنانے کے عمل کا آغاز ہوگا۔

  • کرونا وائرس امریکیوں کےلیے ایک طرف زحمت تو دوسری طرف رحمت ،جرائم میں کمی ہوگئی 63 سال میں پہلی بارکوئی قتل نہیں‌ہوا

    کرونا وائرس امریکیوں کےلیے ایک طرف زحمت تو دوسری طرف رحمت ،جرائم میں کمی ہوگئی 63 سال میں پہلی بارکوئی قتل نہیں‌ہوا

    واشنگٹن :کرونا وائرس امریکیوں کےلیے ایک طرف زحمت تو دوسری طرف جرائم میں کمی ہوگئی ،اطلاعات کےمطابق دنیا بھر میں پھیلی ہوئی کورونا وائرس کی وبا کے باعث جہاں دنیا کے کئی ممالک میں ماحولیاتی آلودگی میں واضح کمی دیکھی گئی ہے۔

    وہیں کورونا وائرس کے باعث دنیا کی نصف آبادی کے گھروں تک محدود رہنے کی وجہ سے دنیا بھر میں جرائم اور مسائل میں بھی نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔تاہم ساتھ ہی کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن نافذ کیے جانے کی وجہ سے گھریلو تشدد کی شکایات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، وہیں دنیا بھر میں بےروزگاری میں بھی اضافے ہوا ہے۔

    اسی طرح دنیا کے کئی ممالک میں قتل، تشدد اور جنسی جرائم میں بھی نمایاں کمی ہوئی ہے اور ایسے ممالک میں امریکا جیسے ممالک بھی شامل ہیں۔حیران کن طور پر امریکا کی متعدد ریاستوں اور جرائم کے حوالے سے خطرناک شہروں میں شمار ہونے والے شہروں میں بھی جرائم میں نمایاں دیکھی جا رہی ہے۔ایسے شہروں میں امریکی ریاست فلوریڈا کا شہر میامی بھی شامل ہے، جہاں 63 سال میں پہلی بار 7 ہفتوں تک کوئی قتل نہیں ہوا۔

    جی ہاں، فلوریڈا میں 63 سال بعد پہلی بار تقریبا 2 ماہ میں کسی قتل کی رپورٹ نہیں درج نہیں ہوئی۔امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کے مطابق میامی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ 1957 کے بعد پہلی بار شہر میں کوئی بھی قتل نہیں ہوا۔

    میامی پولیس کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے لوگوں کے گھروں میں محدود رہنے کے باعث شہر میں قتل سمیت دیگر جرائم میں نمایاں دیکھی گئی ہے اور حیران کن طور پر میامی شہر کی 63 سالہ تاریخ میں پہلی بار 7 ہفتوں اور 6 دن تک کسی بھی قتل کی رپورٹ درج نہیں ہوئی۔

    پولیس کے مطابق اس سے قبل 1960 میں بھی میامی شہر میں 6 ہفتوں اور 5 دن تک کسی بھی قتل کا واقعہ پیش نہیں آیا تھا اور اس سے قبل 1957 میں شہر میں 9 ہفتوں اور 3 دن تک قتل کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا تھا۔

    میامی میں 1957 کے بعد کوئی بھی ایسا دور نہیں گزرا جو 7 ہفتوں میں کسی شخص کو قتل نہ کیا گیا ہو، البتہ 1960 میں ایک ایسا وقت بھی آیا تھا جو شہر میں 6 ہفتوں اور 5 دن تک کسی کو قتل نہیں کیا گیا تھا لیکن ساتویں ہفتے کے آغاز سے قبل ہی وہاں قتل کی واردات پیش آئی تھی۔

    میامی پولیس کے مطابق اگرچہ شہر میں دیگر جرائم میں بھی کمی واقع ہوئی ہے، تاہم پولیس کو شک ہے کہ شہر میں گھریلو تشدد اور بچوں کے استحصال میں کوئی کمی نہیں آئی ہوگی بلکہ عین ممکن ہے کہ اس میں اضافہ ہوا ہو لیکن ڈر کی وجہ سے ایسے جرائم کو رپورٹ نہ کیا جا رہا ہو۔سی بی ایس کی رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن نافذ کیے جانے سے نہ صرف میامی بلکہ ریاست میری لینڈ کے شہر بالٹی مور سمیت دیگر شہروں میں بھی جرائم میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔

    بالٹی مور پولیس کے مطابق شہر میں لاک ڈاؤن کے باعث ڈکیتیوں، راہ چلتے ہوئے افراد پر تشدد سمیت چھینا جھپٹی اور دوسروں کو تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے واقعات میں کمی ہوئی ہے۔بالٹی مور پولیس کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے واقعات میں 34 فیصد کمی ہوئی ہے۔

    اسی طرح ریاست کیلی فورنیا کے شہر لاس اینجلس میں بھی جرائم میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے، لاس اینجلس کا شمار امریکا کے بہت زیادہ جرائم والے شہروں میں ہوتا، تاہم وہاں بھی لاک ڈاؤن کے دوران قتل کی وارداتوں میں 21 فیصد تک کمی دیکھی جا رہی ہے۔

    لاس اینجلس میں بھی راہ چلتے افراد کو تشدد کا نشانہ بنائے جانے سمیت جنسی نوعیت کے جرائم میں بھی کمی دیکھی جا رہی ہے۔ریاست الینوائے کے شہر شکاگو میں بھی یہی صورتحال ہے اور وہاں بھی لاک ڈاؤن کے دوران جرائم میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔

    شکاگو پولیس کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں کے دوران شہر بھر میں فائرنگ کے محض 19 کیسز رپورٹ ہوئے جب کہ اتنے ہی عرصے میں گزشتہ سال 45 تک فائرنگ کے واقعات رپورٹ ہوئے تھے اور اس بار رپورٹ ہونے والے واقعات میں کسی بڑے نقصان کی اطلاعات بھی نہیں ملیں۔اسی طرح شکاگو میں بھی نہ صرف فائرنگ بلکہ تشدد اور ڈکیتیوں میں بھی نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔

    خیال رہے کہ امریکا کی تمام 50 ہی ریاستوں میں کورونا وائرس کی وبا کے باعث مارچ کے آغاز سے جزوی لاک ڈاؤن نافذ ہے، تاہم وہاں کئی ریاستوں میں اب لوگ لاک ڈاؤن کو ختم کرنے کے لیے مظاہرے بھی کر رہے ہیں۔

    امریکا کورونا وائرس کے حوالے سے اس وقت دنیا کا سب بڑا متاثرہ ملک ہے جہاں 26 اپریل کی شام تک کورونا کے مریضوں کی تعداد بڑھ کر ساڑھے 9 لاکھ تک جا پہنچی تھی جب کہ وہاں ہلاکتوں کی تعداد بھی بڑھ کر 54 ہزار کے قریب ہو چکی تھی۔

    دسمبر 2019 میں چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والی کورونا وائرس با سے 26 اپریل کی شام تک دنیا بھر میں متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ کر 29 لاکھ سے زائد ہو چکی تھی جب کہ اس سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 2 لاکھ 3 ہزار سے زائد ہو چکی تھی۔

  • ووہان کے ہسپتالوں میں کورونا کے تمام مریض صحتیاب ، وہی طریقہ علاج پاکستان میں اپنایا جانے لگا

    ووہان کے ہسپتالوں میں کورونا کے تمام مریض صحتیاب ، وہی طریقہ علاج پاکستان میں اپنایا جانے لگا

    بیجنگ : ووہان کے ہسپتالوں میں کورونا کے تمام مریض صحتیاب ، وہی طریقہ علاج پاکستان میں اپنایا جانے لگا،اطلاعات کے مطابق چین کے شہر ووہان سے نئے نووول کورونا وائرس کی وبا دسمبر میں پھیلنا شروع ہوئی جو اب دنیا کے لگ بھگ ہر ملک تک پہنچ چکی ہے۔

    دنیا بھر میں اب تک 29 لاکھ کے قریب کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ 2 لاکھ 3 ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔مگر اس وبا کا ابتدائی مرکز یعنی ووہان اب کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کو مکمل طور پر شکست دینے میں کامیاب ہوگیا ہے۔چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن کے ترجمان نے اتوار کو بتایا کہ ووہان کے ہسپتالوں میں اب کووڈ 19 کا کوئی مریض زیرعلاج نہیں۔

    ترجمان می فینگ کا کہنا تھا ‘ 26 اپریل کی تازہ خبر یہ ہے کہ ووہان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد صفر ہوگئی ہے، جس کے لیے ہم ووہان اور چین بھر کے طبی عملے کی مشترکہ کوششوں کے شکرگزار ہیں’۔ووہان میں مجموعی طور پر 46 ہزار 452 کیسز اور 3869 اموات رپورٹ ہوئی تھیں۔

    ووہان دنیا کا وہ پہلا شہر تھا جہاں کورونا وائرس کی وجہ سے سب سے پہلے یعنی 23 جنوری 2002 کو انتظامیہ نے لاک ڈاؤن نافذ کیا تھا۔ابتدائی طور پر چینی حکام نے شہر کو جزوی طور پر بند کیا تھا تاہم بعد ازاں وائرس کے تیزی سے پھیلنے کی وجہ سے شہر کو مکمل طور پر لاک ڈاؤن کیا گیا تھا۔

    یہ سخت ترین لاک ڈائون تھا جس کے ذریعے چینی حکام 2 ماہ کے عرصے میں اس وبا پر قابو پانے میں کامیاب ہوگئے تھے اور 19 مارچ وہ دن تھا جب پہلی بار وہاں کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا۔اس کے بعد لگاتار کئی دن کوئی کیس رپورٹ نہ ہونے پر 22 مارچ کو لاک ڈائون کو نرم کیا گیا۔چین میں مجموعی طور پر 83 ہزار 909 کیسز اب تک سامنے آچکے ہیں، 4634 ہلاکتیں اور 78 یزار 185 صحتیاب ہوچکے ہیں، یعنی اس وقت وہاں صرف 1088 کیس ایکٹیو ہیں، جن میں سے کوئی بھی ووہان سے تعلق نہیں رکھتا۔

    مارچ کے آخری ہفتے میں چین میں معمولات زندگی بحال ہونا شروع ہوئی تھیں اور اب وہاں جزوی طور پر تفریحی و عوامی مقامات کو کھولا جا چکا ہے جب کہ فضائی آپریشن بحال کرنے سمیت ٹرانسپورٹ کو بھی چلانے کی اجازت دی جا چکی ہے۔7 اپریل کو چین میں اس وبا کے دوران پہلی بار کورونا وائرس سے کوئی ہلاکت نہیں ہوئی اور اگلے دن یعنی 8 اپریل کو ووہان میں لاک ڈائون کو مکمل طور پر ختم کردیا گیا۔

    اسی طرح چین میں مسلسل 11 دن سے اب تک اس بیماری کے نتیجے میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی جبکہ اتوار کو صرف 11 دن کیسز سامنے آئے ہیں، جن میں سے 5 بیرون ملک سے آنے والے افراد ہیں، جبکہ دیگر 6 کیسز مقامی ٹرانسمیشن کا نتیجہ ہیں جو شمال مغربی اور جنوبی چین میں رپورٹ ہوئے۔

  • دنیا بھر میں کرونا کے شکار لوگوں کی تعداد 29 لاکھ سے تجاوز ، ہلاکتیں کہاں تک پہنچ گئیں

    دنیا بھر میں کرونا کے شکار لوگوں کی تعداد 29 لاکھ سے تجاوز ، ہلاکتیں کہاں تک پہنچ گئیں

    دنیا بھر میں کرونا کے شکار لوگوں کی تعداد 29 لاکھ سے تجاوز ، ہلاکتیں کہاں تک پہنچ گئیں

    باغی ٹی وی : دنیا بھر میں‌کرونا کے مہلک اور کاری وار جاری ہیں ،دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 29 لاکھ 21 ہزار 439 ہو چکی ہے جبکہ اس سے ہلاکتیں 2 لاکھ 3 ہزار 289 ہو گئیں۔

    کورونا وائرس کے دنیا بھر میں 18 لاکھ 81 ہزار 172 مریض اب بھی اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں، جن میں سے 57 ہزار 865 کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ 8 لاکھ 36 ہزار 978 مریض اللّٰہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس بیماری سے نجات پا کر اسپتالوں سے اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہیں۔

    امریکا تاحال کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے جہاں ناصرف کورونا مریض بلکہ اس سے ہلاکتیں بھی دنیا کے تمام ممالک میں سب سے زیادہ ہیں۔امریکا میں کورونا وائرس سے اب تک 54 ہزار 265 افراد موت کے منہ میں پہنچ چکے ہیں جبکہ اس سے بیمار ہونے والوں کی مجموعی تعداد 9 لاکھ 60 ہزار 896 ہو چکی ہے

    امریکہ میں کورنا وائرس سے مزید ایک لاکھ 658 افراد موت کے منہ میں چلے گئے جس کے بعد امریکہ میں اموات کی تعداد 54 ہزار 2 سو سے بڑھ گئیں۔ امریکہ میں متاثرہ افراد کی تعداد 9 لاکھ 60 ہزار سے زائد ہو گئیں جبکہ صحتیاب ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ 18 ہزار سے زائد ہے۔

    اسپین میں بھی گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران مزید 378 افراد کی اموات کے بعد اسپین میں اب تک ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 22 ہزار 900 سے تجاوز کر گئی اور متاثرہ افراد کی تعداد 2 لاکھ 23 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔

    اٹلی میں کورونا وائرس نے مزید 415 افراد کی جان لے لی جہاں اب تک ہونے والی اموات 26 ہزار سے زائد ہو گئیں۔ اٹلی میں کورونا سے متاثرہ 63 ہزار سے زائد افراد صحتیاب بھی ہو چکے ہیں۔فرانس میں بھی کورونا نے مزید 369 افراد کی جان لے لی۔ فرانس میں مرنے والوں کی تعداد 22 ہزار 600 سے بڑھ گئیں اور متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ 61 ہزار سے تجاوز کر گئیں۔

    جرمنی میں بھی کورونا سے اموات کا سلسلہ جاری ہے جہاں گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران مزید 83 افراد جان کی بازی ہار گئے اور اب تک ہونے والی اموات کی تعداد 5 ہزار 800 سے بڑھ گئیں۔برطانیہ میں کورونا سے مزید 813 افراد کی موت کے بعد برطانیہ میں اب تک مرنے والوں کی تعداد 20 ہزار سے تجاوز کر گئی جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ اڑتالیس ہزار سے زائد ہے۔

    لمحہ با لمحہقومی خبریںبین الاقوامی خبریںتجارتی خبریںکھیلوں کی خبریںانٹرٹینمنٹصحتدلچسپ و عجیبخاص رپورٹ
    دنیا میں 2921439 کورونا مریض، 203289 اموات
    دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 29 لاکھ 21 ہزار 439 ہو چکی ہے جبکہ اس سے ہلاکتیں 2 لاکھ 3 ہزار 289 ہو گئیں۔

    کورونا وائرس کے دنیا بھر میں 18 لاکھ 81 ہزار 172 مریض اب بھی اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں، جن میں سے 57 ہزار 865 کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ 8 لاکھ 36 ہزار 978 مریض اللّٰہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس بیماری سے نجات پا کر اسپتالوں سے اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہیں۔

    امریکا تاحال کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے جہاں ناصرف کورونا مریض بلکہ اس سے ہلاکتیں بھی دنیا کے تمام ممالک میں سب سے زیادہ ہیں۔

    امریکا میں کورونا وائرس سے اب تک 54 ہزار 265 افراد موت کے منہ میں پہنچ چکے ہیں جبکہ اس سے بیمار ہونے والوں کی مجموعی تعداد 9 لاکھ 60 ہزار 896 ہو چکی ہے۔

    امریکا کے اسپتالوں میں 7 لاکھ 88 ہزار 469 کورونا مریض زیرِ علاج ہیں جن میں سے 15 ہزار 110 کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ 1 لاکھ 18 ہزار 162 کورونا مریض اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت سے اب تک شفا یاب ہو چکے ہیں۔

    اسپین میں کورونا کے اب تک 2 لاکھ 23 ہزار 759 مصدقہ متاثرین سامنے آئے ہیں جب کہ اس وباء سے اموات 22 ہزار 902 ہو چکی ہیں۔

    اٹلی میں کورونا وائرس کی وباء سے مجموعی اموات 26 ہزار 384 ہو چکی ہیں، جہاں اس وائرس کے اب تک کل کیسز 1 لاکھ 95 ہزار 351 رپورٹ ہوئے ہیں۔

    فرانس میں کورونا وائرس کے باعث مجموعی ہلاکتیں 22 ہزار 614 ہوگئیں جبکہ کورونا کیسز 1 لاکھ 61ہزار 488 ہو گئے۔

    جرمنی میں کورونا سے کُل اموات کی تعداد 5 ہزار 877 ہو گئی جبکہ کورونا کے کیسز 1 لاکھ 56 ہزار 513 ہو گئے۔

    برطانیہ میں کورونا سے اموات کی تعداد 20 ہزار 319 ہوگئی جبکہ کورونا کے کیسز کی تعداد 1 لاکھ 48 ہزار 377 ہو گئی۔

    ترکی میں کورونا وائرس سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 2 ہزار 706 ہو گئی جبکہ کورونا کے کل کیسز 1 لاکھ 7 ہزار 773 ہو گئے۔

    ایران میں کورونا وائرس سے مرنے والوں کی کل تعداد 5 ہزار 650 ہو گئی جبکہ کورونا کے کل کیسز 89 ہزار 328 ہو گئے۔چین جہاں دنیا میں کورونا کا پہلا کیس سامنے آیا وہاں اس وائرس سے کل ہلاکتیں 4 ہزار 632 ہو گئی ہیں جبکہ کُل کورونا کیسز 82 ہزار 827 ہو گئے۔

  • سعودی عرب میں لاک ڈاون کرونا کی وجہ سے نہیں کسی اوروجہ سے ہے ،زید حامد

    سعودی عرب میں لاک ڈاون کرونا کی وجہ سے نہیں کسی اوروجہ سے ہے ،زید حامد

    اسلام آباد:سعودی عرب میں لاک ڈاون کرونا کی وجہ سے نہیں کسی اوروجہ سے ہے ،معروف بلاگراورسوشل ورکرزید حامد نے سعودی عرب میں ہونے والے لاک ڈاون کو کرونا کی وجہ ماننے سے انکارکرتے ہوئے کہا ہےکہ مکہ میں مسجد حرام کے اردگرد کرونا نہیں ہے

    زید حامد کہتے ہیں کہ جس طرح حرم میں سوشل ڈسٹنس دکھایا جارہا ہے اس سے یہ مراد نہں لینی چاہیے کہ یہ کرونا کی وجہ سے ہوا ہے ،ا ن کا کہنا ہےکہ اصل میں سعودی شاہی خاندان کے درمیان اختلافات کی وجہ سے لاک ڈاون کیا گیا ہے

    اان کا کہنا تھا کہ ایسے نہیں ہوسکتا کہ ان لوگوں نے کرونا کی وجہ سے لاک ڈاون کیا ہو، زید حامد کہتے ہیں کہ پہلی مربتہ ایسا دیکھنے کو ملا ہے ، اور اس کے پیچھے شاہی خاندان کے اپنے مسائل ہیں

  • ویرانی اوردکھ کےسائے میں مسجد اقصیٰ اورالقدس میں ماہ صیام کا پہلا جمعہ

    ویرانی اوردکھ کےسائے میں مسجد اقصیٰ اورالقدس میں ماہ صیام کا پہلا جمعہ

    مقبوضہ بیت المقدس :ویرانی اوردکھ کےسائے میں مسجد اقصیٰ اورالقدس میں ماہ صیام کا پہلا جمعہ،اطلاعات کے مطابق فلسطین میں اس بار ماہ صیام ایک ایسے وقت میں سایہ فگن ہوا ہے جب دوسری طرف عالمی وبا کرنا نے فلسطین کو بھی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

    کل 23 اپریل کا جمعۃ المبارک فلسطین میں ماہ صیام کا پہلا جمعہ تھا۔ اس جمعہ کے موقعے پر نہ صرف فلسطین کی دیگر مساجد نمازیوں سے محروم رہیں وہیں مسجد اقصیٰ میں بھی نماز نہ ہوسکی۔ مسجد اقصیٰ میں جہاں ماہ صیام کے جمعہ کے موقعے پر ہزاروں فلسطینی نماز کی ادائی کے لیے آتے تھے چند ایک افراد کے سوا کوئی نہیں تھا۔

    گذشتہ روز ماہ صیام کے پہلے جمعہ کے موقعے پر مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ سے محروم رہنے والے فلسطینیوں کے پاس قبلہ اول سے عشق عقیدت کے اظہار کا اور کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ القدس اور دوسرے علاقوں کے فلسطینیوں کی طرف سے واٹس اپ، فیس بک اور سماجی رابطوں کی دوسری سائٹوں کے ذریعے یہ سوال گردش کرتے رہے کہ مسجد اقصیٰ کا حال کیا ہے۔ وہاں پرنماز جمعہ ہوسکی یا نہیں۔

    خیال رہے کہ ماہ صیام آتے ہی فلسطینیوں میں نماز جمعہ کی ادائی، شب بیداری اور مسجد میں قیام اللیل جیسے نیک کام میں فسلطینیوں میں مقابلے کی کیفیت دیکھی جاتی ہے۔ مگر اس بار مسجد اقصیٰ نمازی تو نہیں البتہ غم اور صدمے کی کیفیت ضرور ہے۔

    اسرائیلی ریاست بھی ہرسال فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ تک رسائی سے روکنے اورانہیں وہاں پرعبادت سے محروم کرنے کے لیے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتی مگر فلسطینی روزہ دار تمام تر مشکلات، رکاوٹوں اور پابندیوں کو توڑ کر قبلہ اول میں پہنچنے اور نمازیں ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس بار فلسطینیوں اور قابض اسرائیلی فوج کے درمیان یہ رسا کشی اس لیے نہیں کہ کرونا کی وجہ سے مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ کی ادائی مشکل ہوگئی ہے۔ فلسطینی محکمہ اوقاف کی طرف سے شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ کرونا کی وبا پھیلنے سے روکنے کے لیے اپنے گھروں میں رہیں اور نمازیں گھروں میں ادا کریں۔