Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • رمضان المبارک کے پیش نظر سعودی عرب کا یمن میں جنگ بندی میں ایک ماہ کی توسیع کا اعلان

    رمضان المبارک کے پیش نظر سعودی عرب کا یمن میں جنگ بندی میں ایک ماہ کی توسیع کا اعلان

    ریاض :رمضان المبار ک کے پیش نظر سعودی عرب کا یمن میں جنگ بندی میں ایک ماہ کی توسیع کا اعلان،اطلاعات کے مطابق خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی قیادت میں قائم عرب اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے کہا کہ 8 اپریل 2020 کو جنگ بندی کے اعلان کے بعدجہاں ایک طرف سعودی عرب نے رمضان المبارک کے پیش نظر جنگ بندی کا فیصلہ کیا ہے وہاں اب یمن میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفھیس کی جانب سے جنگ بندی کی درخواست کی تھی

    عرب اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے کہا کہ ہم اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر فریقین کے مابین مذاکرات کے اقدام کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔کرنل ترکی المالکی نے واضح کیا کہ مستقل طور پر جنگ بندی، معاشی اور انسان دوست اقدامات کے معاہدوں اور سیاسی عمل کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ یمن کے عوام کے دکھوں کو دور کرنے کے لیے اتحادی فوج سنجیدہ ہے۔

    ترکی المالکی نے کہا کہ ہم یمن میں وائرس کا مقابلہ کرنے اور اس کی روک تھام کے لیے اقدامات لینے پر غور کر رہے ہیں۔اتحادی افواج کے ترجمان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ یمن میں جامع اور مستقل جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے ٹھوس کوششوں اور یمنی بھائیوں کے مصائب کے خاتمے اور براہ راست اور ٹھوس اقدامات پر اتفاق رائے کا اب بھی امکان موجود ہے۔

    عرب اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے مزید کہا کہ ہم اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر تمام بنیادی اقدامات کی بھر پور حمایت کریں گے تاکہ تمام یمنیوں کے اتفاق رائے سے ایک منصفانہ اور جامع سیاسی حل نکل سکے۔اس سے قبل 8 اپریل کو عرب اتحاد نے جنگ بندی کے توسیع کے امکان کے ساتھ یمن میں دو ہفتوں کے لیے جامع جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ترکی المالکی نے کہا تھا کہ یمن میں جامع اور پائیدار صلح کی کوششوں میں شامل ہونے کا یہ موقع ہے۔

  • ایک طرف کرونا تو دوسری طرف برمی فوج کے مظالم ،بنگلہ دیش کا روہنگیا مہاجرین کی کشتیوں کو داخلے کی اجازت دینے سے انکار

    ایک طرف کرونا تو دوسری طرف برمی فوج کے مظالم ،بنگلہ دیش کا روہنگیا مہاجرین کی کشتیوں کو داخلے کی اجازت دینے سے انکار

    ڈھاکہ :ایک طرف کرونا تو دوسری طرف برمی فوج کے مظالم ،بنگلہ دیش کا روہنگیا مہاجرین کی کشتیوں کو داخلے کی اجازت دینے سے انکار،اطلاعات کے مطابق بنگلہ دیش نے خلیج بنگال میں پھنسے ہوئے روہنگیا مہاجرین کے جہازوں کو اپنی سمندر حدود میں داخل ہونے کی اجازت دینے سے انکار کردیا جس میں تقریباً 500 مہاجرین سوار ہیں۔

    الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے سے سمندر میں پھنسے ہوئے روہنگیا مہاجرین کے معاملے پر بات کرتے ہوئے بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ اے کے عبدالمومن کا کہنا تھا کہ ‘یہ بنگلہ دیش کی ذمہ داری نہیں ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘بنگلہ دیش کو ان روہنگیا مہاجرین کو لینے کے لیے کیوں کہا جارہا ہے، وہ گہرے سمندر میں ہیں اور بنگلہ دیش کی حدود کے اندر بھی نہیں ہیں’۔بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ خلیج بنگال کے اطراف میں تقریباً 8 ممالک کی سرحد ملتی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ماہی گیروں کے دو جہازوں میں تقریباً 500 افراد سوار ہیں جن میں خواتین، بچے اور مرد شامل ہیں جن کو کورونا وائرس کی وبا کے باعث ملائیشیا کی جانب سے داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔اقوام متحدہ کےا ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے مطابق ‘کئی ہفتوں سے سمندر میں پھنسے ہوئے روہنگیا مہاجرین مناسب خوراک اور پانی کے بغیر ہیں’۔

    بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ عبدالمومن نے کہا کہ چند ہفتے قبل ہی بنگلہ دیش نے 396 روہنگیا مہاجرین کو بچایا تھا جو ملائیشا پہنچنے میں ناکام ہوئے تھے۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کا کہا کہ ‘بنگلہ دیش کو ہر دفعہ ذمہ داری کیوں لینی چاہیے، بنگلہ دیش پہلے ہی 10 لاکھ سے زائد روہنگیا کو جگہ دے چکا ہے اور اب ہم اپنی استعداد سے باہر ہوگئے ہیں’۔

    عبدالمومن کے مؤقف کے برعکس ہیومن رائٹس واچ نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش کی حکومت کو چاہیے کہ وہ سمندر میں پھنسے ہوئے مہاجرین کو فوری طور پر اترنے کی اجازت دے اور ان کے لیے ضروری خوراک، پانی اور صحت کا انتظام کرے۔

    ہیومن رائٹس واچ ایشیا کے ڈائریکٹر براڈ ایڈمز کا کہنا تھا کہ ‘بنگلہ دیش پر میانمار کی فوج کے بدترین جرائم کے نتیجے میں بھاری بوجھ آچکا ہے لیکن یہ کوئی بات نہیں کہ سمندر میں پھنسے مہاجرین کو موت کی طرف دھکیل دیا جائے’۔انہوں نے بنگلہ دیش کی حکومت پر زور دیا کہ ‘جو مہاجرین بدترین حالات کا شکار ہیں ان کی مدد جاری رکھنی چاہے اور روہنگیا مہاجرین کی مدد کرکے حالیہ برسوں میں جو عالمی شہرت حاصل کی ہے اس کو محفوظ رکھیں’۔

    بنگلہ دیش کی بحریہ کے لیفٹننٹ کمانڈر سہیل رانا کا کہنا تھا کہ انہوں نے روہنگیا مہاجرین کے کسی جہاز کو ملک کی سمندری حدود میں آتے ہوئے نہیں دیکھا۔ تاہم ایک ماہی گیر کا کہنا تھا کہ انہوں نے 20 اپریل کو روہنگیا مہاجرین کی دو کشتیوں کو دیکھا تھا جو ساحل کی طرف بڑھ رہی تھیں جبکہ وہ اس وقت دیگر ماہی گیروں کے ساتھ اپنی کشتی میں تھے۔

    ہیومن رائٹس واچ کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش اپنی عالمی ذمہ داری کو پوری کرتے ہوئے اجازت دے اور جہاز کو واپس نہ بھیجے جس کے نتیجے میں کسی کو نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    بیان میں عالمی تنظیم نے کہا کہ ‘بین الاقوامی قانون کے تحت ملائیشیا اور تھائی لینڈ سمیت تمام ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ مشکل میں پھنسی ہوئی کشتیوں کو جواب دیں اور ان کو بچانے کا عمل شروع کریں اور پناہ کے خواہاں لوگوں کی زندگیوں کو سمندر میں خطرے میں نہ ڈالیں’۔

    خیال رہے کہ 2017 میں فوج کی زیر قیادت کیے گئے آپریشن کے بعد تقریباً ساڑھے 7 لاکھ روہنگیا مسلمانوں نے میانمار سے بھاگ کر بنگلہ دیش میں سرحد پر واقع کیمپوں میں پناہ لی تھی۔اقوام متحدہ نے اس معاملے پر اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ یہ فوجی کارروائی روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کی غرض سے شروع کی گئی تھی۔اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی طاقتوں نے میانمار کے اس عمل کو نسل کشی قرار دیا تھا اور حکومت میں شراکتی فوج کو اس میں ملوث قرار دیا گیا تھا۔

  • شیخ رشید دل دکھانے والی باتیں کرتے ہیں ،مریم اورنگزیب

    شیخ رشید دل دکھانے والی باتیں کرتے ہیں ،مریم اورنگزیب

    لاہور :شیخ رشید دل دکھانے والی باتیں کرتے ہیں ،مریم اورنگزیب کے شیخ رشید کے بیانات پرسخت تبصرے ، اطلاعات کےمطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کی وزیرریلوے شیخ رشید کے بیان کی شدید مذمت کی ہے

    مریم اونگزیب نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شیخ رشید صاحب کی سیاست کا جنازہ اس دن نکل گیا تھا جس دن انہوں نے مسلم لیگ (ن) اور نوازشریف کے ساتھ غداری کی تھی ،شیخ رشید صاحب20 برس سے اپنی سیاست کامردہ ہر نئی جماعت کے کاندھے پر اٹھائے پھررہے ہیں

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ شیخ رشید صاحب کے بیانات چینی سکینڈل رپورٹ میں تاخیر سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے ،شیخ رشید صاحب کورونا سے مرتے عوام پر توجہ دیں ، نیب نیازی گٹھ جوڑ کی طرح شہبازشریف کے غم سے باہر نکلیں

    انہوں نے کہا کہ قائد حزب اختلاف شہبازشریف پر سنگ دشنام پھینکنے والے سازشی کہلائے اور ہمیشہ ناکام ونامراد ہوئے ،اپوزیشن لیڈر کے خلاف بیانات سے حکومت کی کرپشن ، نالائقی اور بے حسی چھپ نہیں سکتی ،پارٹی قیادت کے خلاف جھوٹے بیانات پر کارکنان مشتعل ہوئے تو اس کے ذمہ دار شیخ رشید صاحب ہوں گے

  • کرونا وائرس، پاکستان نے فضائی آپریشن کی بندش میں کی مزید توسیع

    کرونا وائرس، پاکستان نے فضائی آپریشن کی بندش میں کی مزید توسیع

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے سول ایوی ایشن اتھارٹی کا اہم فیصلہ،بین الاقوامی فضائی آپریشن کی بندش میں مزید 15دنوں کی توسیع کردی گئی

    ترجمان ایوی ایشن ڈویژن کے مطابق پاکستان کا بین الاقوامی فضائی آپریشن 15مئی تک بند رہے گا،خصوصی پروازوں، اور چارٹر طیاروں کو پابندی سے استثنیٰ حاصل ہوگا،بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو لانے کیلئے طیاروں کو پابندی سے استثنی ٰحاصل ہوگا،کارگوفلائٹس کوبھی پابندی سےاستثنیٰ حاصل ہوگا،

    کرونا کے وار جاری، 288 پولیس اہلکاروں میں ہوئی کرونا کی تشخیص

    سعودی عرب میں کرونا کے مریضوں میں مسلسل اضافہ، شاہ سلمان نے دیا عالمی ادارہ صحت کو فنڈ

    پی آئی اے کی مالی مشکلات، سی ای او ارشد ملک اور افسران کا بڑا فیصلہ

    راشن نہیں چاہئے، ہمیں پاکستان واپس بھجواؤ، یو اے ای میں پھنسے پاکستانیوں کا احتجاج

    بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کیلئے پی آئی اے کوشاں

    بیرون ملک سے پاکستانیوں کو واپس لانے کے لئے پی آئی اے کا بڑا فیصلہ

     

    واضح رہے کہ سول ایوی ایشن نے 25 مارچ کو کورونا وائرس کے پیش نظر اندرون اور بیرون ملک فلائٹ آپریشن عارضی طور پر معطل کردیا تھا۔ حکومت پاکستان نے بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے ان پاکستانیوں کا لانے والی پروازوں کے لیے خصوصی ویب سائٹ قائم کردی ہے۔ بیرون ملک سے پاکستانیوں کو لانے والی تمام اسپیشل فلائٹ کا شیڈول Covid.gov.pk پر جاری کردیا گیا ہے اور اس حوالے سے مستقل اپ ڈیٹ جاری رہے گی۔

    حکومت پاکستان کی ہدایات پر بیرون ممالک پھنسے پاکستانیوں کی وطن واپسی کیلئے پی آئی اے کی خصوصی پروازیں جاری ہیں۔

    وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی ہدایت پر بیرونِ ممالک میں پھنسے ہو ئے پاکستانیوں کی وطن واپسی کے لئے خصوصی اقدامات کئے گئے ہیں۔ حکومت پاکستان اور خاص طور پر وزیر ِ اعظم عمران خان صورتحال کی ذاتی طور پر نگرانی کر رہے ہیں ،موجودہ تکلیف دہ صورتحال میں مشکلات کا شکار سمندر پار پاکستانیوں کی بھرپور امداد کا فیصلہ کیاگیا ہے۔

    پی آئی اے کا عملہ موذی وائرس کے خطرے کے باوجود اس مشکل صورتحال میں صف اول کا کردار ادا کر رہا ہے۔ وزیر ہوابازی غلام سرور خان کی کوششوں سے وطن واپسی کے خواہشمند پاکستانیوں کے لئے خصوصی پروازیں چلانی ممکن ہو ئیں۔ پی آئی اے نے بیرونِ ممالک پھنسے ہو ئے پاکستانیوں کی واپسی کے لیے پاکستان نے4اپریل سے اپنی فلائٹس کا آغاز کیا ،محدود پیمانے پر اسلام آباد کو ائیر ٹریفک کے لئے کھولا گیا اور پی آئی اے پر مسافروں کی تعداد کے حوالے سے پابندیاں عائد کر دی گئیں

  • وزیراعظم صاحب آپ کے بچے کرغستان میں بھوک اور افلاس کا شکار ہیں ،کرغستان میں پھنسے پاکستانی طالب علموں کی فریاد

    وزیراعظم صاحب آپ کے بچے کرغستان میں بھوک اور افلاس کا شکار ہیں ،کرغستان میں پھنسے پاکستانی طالب علموں کی فریاد

    کرغستان :وزیراعظم صاحب آپ کے بچے کرغستان میں بھوک اور افلاس کا شکار ہیں ،کرغستان میں پھنسے پاکستانی طالب علموں کی فریاد اطلاعات کے مطابق کرونا وائرس سے جہاں عام پاکستانی اوربیرون ملک پاکستانی پریشان ہیں ایسے ہی پاکستان کے بیٹے جواعلیٰ تعلیم کے لی سمندرپارگئے ہوئے تھے کرونا وائرس کی وجہ سے سخت مصائب کا شکارہیں ،

    باغی ٹی وی کو کرغستان سے ملنے والی اطلاعات میں کہا گیا ہےکہ بڑی تعداد میں وہاں پاکستانی طالب علم اس وقت پھنسے ہوئے ہیں ، ایک طرف کرفیو ہے تو دوسری طرف بھوک اورافلاس کے شکارپاکستانی طالب سخت مشکلات کا شکارہیں ، باغی ٹی وی سے بات کرنے والے طالب علموں کا کہنا ہے کہ یہ تو ایک پہلو ہے دوسرا پہلو یہ ہے کہ طالب علموں کو جرمانے کیئے جارہے ہیں وہ بھی ڈالرز کی شکل میں ۔

    ان طالب علموں نے وزیراعظم پاکستان سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے بیٹوں کو اس مشکل سے نکالیں ، آپ کے یہ بیٹے سخت پریشان ہیں اور آپ کے علاوہ اس پریشانی کا کوئی حل نہیں کرسکتا ، ان طالب علموں کا کہنا ہے کہ ایک تو ویسے ان کے پاس کھانے پینے کے لیے کوئی پیسے وغیرہ نہیں ہیں دوسرا اگرکسی کے پاس ہیں تو بازار بند ہیں حتی کہ بینک بند ہیں ، کرونا وائرس کی وجہ سےہسپتالوں تک جانا ممکن نہیں

    ان حالات میں ہمارے پاس صرف ایک ہی آپشن بچتا ہے ک ہمیں اپنے وطن واپس لایا جس کے لیے خصوصی پروازوںکا بندوبست کیا جائے ،

    آپ کے بیٹے آپ کی مدد کے منتظر

  • کورونا وائرس کی تشخیص لعاب دہن سے بھی ممکن،نئی  تحقیق نے مشکل حل کردی

    کورونا وائرس کی تشخیص لعاب دہن سے بھی ممکن،نئی تحقیق نے مشکل حل کردی

    واشنگٹن :کورونا وائرس کی تشخیص لعاب دہن سے بھی ممکن،نئی تحقیق نے مشکل حل کردی ،اطلاعات کے مطابق نئے نوول کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے جو تیسٹ کیا جاتا ہے اس کی کٹس کی قلت کا سامنا متعدد ممالک کو ہے۔

    ذرائع کے مطابق اس حوالے سے امریکی سائنسدانوں نے کہا ہے کہ لعاب دہن سے بھی سارس کوو 2 کی تشخیص ممکن ہے اور اس کے ٹیسٹ محفوظ ہونے کے ساتھ زیادہ آسانی سے دستیاب بھی ہوں گے۔یالے یونیورسٹی کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اس وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کی تشخیص کے لیے لعاب دہن کے ٹیسٹ نسل سواب ٹیسٹ جتنے ہی درست ہیں۔

    محققین کا کہنا تھا کہ لعاب دہن کے نمونوں کو بڑے پیمانے پر گھروں میں کورونا وائرس کی تشخیص کے ٹیسٹوں کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔اس تحقیق کے نتائج ابھی طبی جرائد میں شائع نہیں ہوئے اور اس حوالے سے ابھی مزید تحقیق کی جارہی ہے۔

    محققین کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی تشخیص کے موجودہ ٹیسٹ کے علاوہ بھی نئے طرز کے ٹیسٹوں کو متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ نسل سواب پر انحصار کرنے میں ایک مسئلہ یہ ہے ک اس ٹیسٹ کو کرنے والے طبی عملہ بھی وائرس سے متاثر ہوسکتا ہے کیونکہ نمونے لینے کے عمل کے دوران مریض میں کھانسی یا چھینک آسکتی ہے۔

    ان کے بقول لعاب دہن کورونا وائرس کے ٹیسٹس کے لیے آسان حل ہے کیونکہ اس کے نمونے آسانی سے حاصل ہوسکتے ہیں جس سے طبی عملے کے لیے بھی خطرہ کم ہوتا ہے۔تحقیق کے دوران لعاب دہن پر مبنی ٹیسٹ کے نتائج کا موازنہ کورونا وائرس کے روایتی ٹیسٹ کے نتائج سے کیا گیا۔

    نتائج سے معلوم ہوا کہ لعاب دہن کے ذریعے بھی وائرس کی موجودگی کی تشخیص ممکن ہے جبکہ نمونے حاصل کرتے ہوئے متاثر ہونے کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔

  • حکومت پاکستان بہہت مخلصانہ کوششیں کررہی ہے،امید ہے پاکستان مہلک کورونا وائرس پر جلد قابو پالے گا، چینی سفیر

    حکومت پاکستان بہہت مخلصانہ کوششیں کررہی ہے،امید ہے پاکستان مہلک کورونا وائرس پر جلد قابو پالے گا، چینی سفیر

    اسلام آباد:حکومت پاکستان بہہت مخلصانہ کوششیں کررہی ہے،امید ہے پاکستان مہلک کورونا وائرس پر جلد قابو پالے گا، چینی سفیر،اطلاعات کے مطابق پاکستان میں چین کے سفیر یاؤ چنگ نے پاکستانی عوام کو ماہ رمضان کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کورونا وائرس کے اس آزمائشی وقت میں چینی حکومت کی طرف سے پاکستان کو مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔

    رمضان المبارک کے حوالے سے اپنے خصوصی ویڈیو پیغام میں چینی سفیر یاؤ چنگ نے کہا کہ رمضان کے مقدس ماہ کے آغاز پر میں اپنے پاکستانی بھائیوں اور بہنوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دیتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک انتہائی چیلنجنگ وقت ہے اور پوری پاکستانی قوم نوول کورونا وائرس کے خلاف جدوجہد کر رہی ہے۔

     

     

    چینی سفیر نے کہا کہ اس آزمائش کی گھڑی میں چینی حکومت، چین کے عوام اور پاکستان میں مقیم چینی کمیونٹی وبا سے نمٹنے کے لیے پاکستانی عوام کی ہر ممکن مدد کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے وبا کی روک تھام کے لیے پاکستان کی حکومت اور عوام کو لاکھوں کی تعداد میں طبی حفاظتی ساز و سامان سمیت دیگر اشیا فراہم کی ہیں۔

    یاؤ چنگ کا کہنا تھا کہ وائرس سے نمٹنے کے لیے کئی چینی طبی ماہرین پاکستانی طبی عملے کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ میں اس نازک مرحلے پر اس مہلک وبا کے خلاف جدوجہد میں پاکستانی حکومت، طبی ماہرین اور عوام کی جانب سے کی جانے والی کوششوں اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

    چینی سفیر نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی زیر قیادت پاکستانی حکومت اور عوام اس مہلک وائرس کے چیلنج پر جلد قابو پالیں گے۔یاؤ چنگ نے اپنے پیغام کے اختتام پر کہا کہ میں پوری پاکستانی قوم کو اپنی مخلصانہ اور نیک خواہشات پیش کرنا چاہتا ہوں اور ایک صحت مند، محفوظ اور خوش آئند رمضان کی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

  • وائرس کے پھیلنے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ مسترد،یہ سازشی تھیوری ہے ، چین

    وائرس کے پھیلنے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ مسترد،یہ سازشی تھیوری ہے ، چین

    بیجنگ :وائرس کے پھیلنے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ مسترد،یہ سازشی تھیوری ہے ،اطلاعات کے مطابق چین نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ جاننے کے لیے عالمی سطح پر آزادانہ تحقیقات کے مطالبے کو مسترد کردیا۔

    برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں تعینات اعلیٰ سفارت کار چین وین کا کہنا تھا کہ مطالبات کی بنیاد سیاسی اور وبا کے خلاف جنگ سے چین کی توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔خیال رہے کہ امریکا سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے چند روز قبل مطالبہ کیا تھا کہ چین حساس لیبارٹری کی تحقیقات کی اجازت دے۔

    کورونا وائرس کے حوالے چین سے تحقیقات کا مطالبہ کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ تحقیقات سے کووڈ-19 کے پیدا ہونے اور ابتدائی طور پر پھیلنے کی وجوہات سامنے آسکتی ہیں۔وائرس کے حوالے سے شروع میں خیال ظاہر کیا جارہا تھا کہ ووہان کی ایک گوشت کی مارکیٹ سے یہ وائرس پھیلا ہے جبکہ یورپی یونین نے چین کو بحران کے معاملے پر غلط معلومات پھیلانے کا بھی الزام عائد کیا تھا۔

    یورپی یونین کی ایکسٹرنل ایکشن سروس کا کہنا تھا کہ روس اور چین نے یورپی یونین اور ہمسایہ ممالک کو سازشی بیانیے سے نشانہ بنایا ہے۔چینی سفارت کار چین وین نے کہا کہ ہمارا ملک کسی قسم کی عالمی تفتیش کو تسلیم نہیں کرسکتا۔انہوں نے کہا کہ ‘آزاد تحقیقات کا مطالبہ سیاسی ہے’۔

    ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم اس وقت وائرس سے لڑ رہے ہیں اور ہماری تمام تر کوششوں کا مرکز وائرس کے خلاف لڑنا ہے اور ایسے موقع پر تفتیش کی بات کیوں کی جاتی ہے’۔مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘اس سے نہ صرف توجہ ہٹ جائے گی بلکہ وسائل بھی تقسیم ہوجائیں گے’۔

    چین وین کاکہنا تھاکہ ‘چونکہ یہ مطالبہ سیاسی طور پر کیا گیا ہے اس لیے کوئی بھی اس کو تسلیم نہیں کرسکتا اس سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا’۔ان کا کہنا تھا کہ وائرس کی ابتدا سے متعلق کئی افواہیں گردش کررہی تھیں لیکن اس طرح کی غلط معلومات خطرناک ہیں۔اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ سیاسی وائرس کی طرح ہے اور کورونا وائرس کی طرح خطرناک ہے۔

    خیال رہے کہ کورونا وائرس کے شروع ہوتے ہی اس پر تفتیش کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت مختلف رہنماؤں نے آواز اٹھائی تھی اور مطالبہ کیا تھا کہ چین میں اس وائرس کے پھیلنے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے اجازت دی جائے۔دو روز قبل آسٹریلیا کے وزیر اعظم اسکاٹ موریسن نے کہا تھا کہ میں اگلے ماہ ہونے والی ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں تفتیش کے لیے مطالبہ کروں گا۔ورلڈ ہیلتھ اسمبلی عالمی ادارہ صحت کا فیصلہ سازادارہ ہے اور آسٹریلیا اس کے ایگزیکٹیو بورڈ کا رکن ہے۔

    قبل ازیں مائیک پومپیو نے 23 اپریل کو اپنے بیان میں چین پر کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث حساس لیبارٹریز میں انسپکٹرز کو جانے کی اجازت دینے کے لیے زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’آپ کو یاد رکھنا چاہیے کہ صرف ووہان انسٹیٹیوٹ آف وائرولوجی نہیں بلکہ چین میں ایسی لیبارٹریز اب بھی کھلی ہوئی ہیں جہاں پیچیدہ پیتھوجینز (بیماری پھیلانے والے وائرس) موجود ہیں اور ان پر تحقیق ہورہی ہے‘۔

    مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ ’اس قسم کے مواد کو محفوظ طریقوں سے سنبھالنا انتہائی اہم ہے کہ وہ حادثاتی طور پر بھی خارج نہ ہوں‘۔ساتھ ہی انہوں نے ایک مرتبہ پھر اس تشویش کا اظہار کیا کہ چین نے شناخت ہونے والے ابتدائی وائرس کا نمونہ فراہم نہیں کیا جسے سائنسی زبان میں SARS-CoV-2 کہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس اب بھی وائرس کا نمونہ نہیں اور نہ ہی دنیا کو ان لیبارٹیریز یا ووہان میں دیگر جگہوں تک رسائی حاصل ہے جہاں یہ وائرس شاید اصل تیار ہوا۔

  • کورونا وائرس: ملک میں 12500سے زائد افراد متاثر، 260 سے زائد جاں بحق ہوگئے

    کورونا وائرس: ملک میں 12500سے زائد افراد متاثر، 260 سے زائد جاں بحق ہوگئے

    اسلام آباد:کورونا وائرس: ملک میں 12500سے زائد افراد متاثر، اموات 260 سے متجاوز،اطلاعات کےمطابق جہاں دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو متاثر اور ہلاک کرنے والے مہلک کورونا وائرس کے کیسز پاکستان میں دن بدن بڑھتے جارہے ہیں اور نئے اعداد و شمار کے بعد ملک میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 12 ہزار 507 جبکہ اموات 261 تک پہنچ چکی ہیں۔

    ملک میں اس مہلک وبا کو روکنے کے لیے حکومتی سطح پر پابندیاں اور جزوی لاک ڈاؤن نافذ کیے گئے تاہم اس کے باوجود اس وائرس کا پھیلاؤ جاری ہے۔تاہم حکومت نے اس وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ملک گیر جاری اس جزوی لاک ڈاؤن میں 9 مئی تک توسیع بھی کردی گئی ہے۔

    پاکستان میں کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر ڈاکٹرز نے بھی مئی کے مہینے میں کورونا وائرس کے شدید خطرے سے خبردار کیا ہے اور حکومت سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اس وقت سخت لاک ڈاؤن کیا جائے ورنہ اسے سنبھالنا مشکل ہوجائے گا۔اگر اس وائرس سے متعلق کیسز کو دیکھیں تو آج (25 اپریل) کو بھی پاکستان میں مزید کیسز کی تصدیق کی گئی۔

    سندھ
    ادھر سندھ میں کورونا وائرس کے مزید 287 نئے کیسز اور 3 اموات کی تصدیق کردی گئیاس حوالے سے ایک ویڈیو پیغام میں مراد علی شاہ نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں کیے گئے ٹیسٹ میں سے 287 کیسز مثبت آئے ہیں۔ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ ان نئے کیسز کے بعد صوبے میں متاثرین کی تعداد 4 ہزار232 تک پہنچ گئی ہے۔وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ گزشتہ 24 گھںٹوں میں مزید 3 افراد کا انتقال ہوا جس کے بعد سندھ میں اموات کی مجموعی تعداد 78 ہوگئی۔

    پنجاب


    پنجاب میں مزید 475 نئے کیسز اور 10 اموات کی تصدیق کردی گئی۔ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر قیصر آصف کے مطابق صوبے میں نئے کیسز کے بعد متاثرین کی تعداد 5326 تک پہنچ چکی ہے۔ان مجموعی کیسز کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ 768 افراد زائرین سینٹر سے، 1922 افراد رائے ونڈ سے منسلک، 86 قیدی اور 2550 شہری اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔ترجمان کے مطابق صوبے میں اب تک مجموعی اموات کی تعداد 78 ہوگئی جبکہ 28 مریض ایسے ہیں جن کی حالت تشویش ناک ہے۔انہوں نے کہا کہ اب تک ایک ہزار 96 افراد وائرس سے صحتیاب ہوچکے ہیں۔

    اسلام آباد
    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مزید 9 افراد اس وائرس کا شکار ہوگئے۔سرکاری سطح پر فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق اسلام آباد میں کورونا متاثرین کی تعداد 223 تک جا پہنچی ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ روز تک اسلام آباد میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 214 تھی۔

    گلگت بلتستان
    دوسری جانب گلگت بلتستان میں بھی کورونا کے کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آیا اور مزید 7 افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے۔جس کے بعد گلگت بلتستان میں اس عالمی وبا سے متاثر افراد کی تعداد 300 سے بڑھ کر 307 تک پہنچ گئی۔

    صحتیاب افراد
    تاہم جوں جوں کیسز میں اضافہ ہورہا اسی طرح اس وائرس کو شکست دینے والوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں متاثرہ مزید 228 افراد اس وائرس سے صحتیاب ہوگئے۔جس کے بعد ملک میں مجموعی طور پر صحتیاب افراد کی تعداد 2527 سے بڑھ کر 2755 تک پہنچ گئی۔

    مجموعی صورتحال

    ان تمام صورتحال کے بعد ملک کے مجموعی کیسز کو صوبوں اور علاقوں کے حساب سے دیکھیں تو اس وقت پنجاب سب سے زیادہ متاثر صوبہ ہے اور وہاں کیسز کی تعداد 5326 ہے۔اسی طرح سندھ میں کیسز کی تعداد 4232 ہے جبکہ خیبرپختونخوا میں 1708 افراد وائرس کا شکار ہوچکے ہیں۔

    بلوچستان میں متاثرین کی تعداد 656 ہے جبکہ اسلام آباد میں 223 افراد وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔گلگت بلتستان میں کورونا وبا 307 افراد کو اپنا شکار بنا چکی ہے جبکہ آزاد کشمیر میں سب سے کم 55 کیسز سامنے آئے ہیں۔تاہم اموات کے حساب سے سب سے آگے خیبرپختونخوا ہے۔

    خیبرپختونخوا: 89
    سندھ: 78
    پنجاب: 78
    بلوچستان: 10
    گلگت بلتستان: 3
    اسلام آباد: 3
    آزاد کشمیر کوئی نہیں

    پاکستان میں کورونا وائرس

    خیال رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری 2020 کو کراچی میں سامنے آیا اور 25 مارچ تک کیسز کی تعداد ایک ہزار تک پہنچی۔تاہم اس کے بعد مذکورہ وائرس نے پاکستان میں اپنے پنجے گاڑھنا شروع کردیے اور اب یہ تعداد 11 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔ملک میں کورونا وائرس کے پہلے کیس سے لے کر اب تک کیا صورتحال رہی اور کس روز کتنے کیسز سامنے آئے؟ مکمل تفصیل جاننے کے لیے کلک کریں۔

    پاکستان میں اموات

    ملک میں 18 مارچ کو کورونا وائرس سے پہلی موت خیبرپختونخوا میں ہوئی جس کے بعد 31 مارچ تک مجموعی اموات 26 تک پہنچیں۔تاہم یکم اپریل سے لے کر اب تک 222 افراد انتقال کرچکے ہیں اور یہ کورونا وائرس سے متعلق تشویشناک صورتحال کو ظاہر کرتی ہے۔

  • چین سے میڈیکل ایمرجنسی ریلیف کےسامان کی دوسری کھیپ پاکستان پہنچ گئی

    چین سے میڈیکل ایمرجنسی ریلیف کےسامان کی دوسری کھیپ پاکستان پہنچ گئی

    اسلام آباد :چین سے میڈیکل ایمرجنسی ریلیف کےسامان کی دوسری کھیپ پاکستان پہنچ گئی۔اطلاعات کے مطابق چین سے پاکستان کے لیئے امدادی سامان کی ایک اور کھیپ پہنچ گئی ہے ، چین سے میڈیکل سامان سے لدا جہاز پاکستان لنگراندازہوگیا ہے

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق کورونا سے نمٹنے کیلئے درکار سامان میں پی سی آر، ٹیسٹنگ کٹس، سرجیکل ماسک شامل ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق چین سے آنے والے سامان میں این 95 ماسک اور وینٹی لیٹرز بھی موجود ہیں جبکہ چین کی طبی ٹیم گزشتہ روز پاکستان پہنچ چکی ہے۔

    پاکستان نے مشکل وقت میں امداد پر چین کا شکریہ ادا کیا ہے جبکہ چین کا کہنا ہے کہ جو ضرورت کے وقت کام آئے وہی حقیقی دوست ہوتا ہے۔