Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • صرف دو روپے لیکر مریضوں کا علاج کرنیوالا ڈاکٹر کرونا کے باعث چل بسا

    صرف دو روپے لیکر مریضوں کا علاج کرنیوالا ڈاکٹر کرونا کے باعث چل بسا

    صرف دو روپے لیکر مریضوں کا علاج کرنیوالا ڈاکٹر کرونا کے باعث چل بسا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صرف دو روپے لے کر مریضوں کا علاج کرنے والا ڈاکٹر کرونا وائرس کی وجہ سے جان کی بازی ہار گیا

    بھارتی ریاست حیدرآباد میں مسلمان ڈاکٹر محمد اسماعیل حسین کی کرونا وائرس کی وجہ سے موت ہو گئی ہے، ان میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی،انہوں نے بیرون ملک کا سفر نہیں کیا تھا لیکن کرونا کے پھیلاؤ کے بعد انہوں نے اپنا کلینک بند کر دیا تھا اور کرونا رید زون میں جا کر مریضوں کا علاج کر رہے تھے جہاں سے ان میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی.

    76 سالہ ڈاکٹر اسماعیل حسین عوام میں مقبول تھے انکی موت کی خبر کے بعد ان سے علاج کروانے والوں کی انکے گھر کے باہر لائن لگ گئی ، بڑی تعداد میں شہری ان کے گھر پہنچ گئے،ڈاکٹر اسماعیل کسی مریض کو علاج سے انکار نہیں کرتے تھے،وہ صرف دو روپے میں مریض کا چیک اپ بھی کرتے تھے اور دوائی بھی دیتے تھے

    ڈاکٹر اسماعیل حسین اتنے مقبول تھے کہ کرناٹک کے اضلاع اور تلنگانہ سے بھی مریض ان کے پاس علاج کے لئے آتے تھے. انکے محلے کی مسجد کے امام عبدالروف کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر اسماعیل نے ہمیشہ عوام کی خدمت کی، انہوں نے جو کمایا تھا وہ مریضوں پر ہی لگا دیا، انہوں نے پیسے کی پرواہ نہیں کی اگر کسی کے پاس پیسے نہیں تو پھر بھی وہ علاج کرتے تھے کبھی کسی کو مایوس نہیں کیا.

    ڈاکٹر اسماعیل سرکاری ڈاکٹر تھے جب ریٹائر ہوئے تو انہوں نے اپنا کلینک کھولا اور اسکی فیس دو روپے رکھی تھی بعد ازاں مریض انہیں اپنی خوشی سے دس یا بیس روپے دے جاتے تھے،وہ دو روپے لے کر علاج کرنے کے حوالہ سے علاقہ میں مشہور تھے انکے کلینک میں ہر وقت مریضوں کا رش لگا رہتا تھا اور جب تک وہ تمام مریضوں کو چیک نہ کر لیتے انہوں نے کبھی کلینک بند نہیں کیا نماز کا وقفہ ضرور کرتے تھے.

    ڈاکٹر اسماعیل کے علاقے کے رہائشی سماجی رہنما چندر شیکھر جو ڈاکٹر اسماعیل کے دوست تھے وہ کہتے ہیں انکے کلینک میں ایک ڈبہ ہوتا تھا جس میں مریض چیک اپ کے بعد پیسے ڈالتے تھے،اور کبھی تو ایسا ہوتا کہ کم پیسے ڈال کر زیادہ واپس نکال لئے جاتے لیکن وہ کچھ نہ کہتے

    ڈاکٹر اسماعیل کی وفات پر تمام علاقے میں سوگ کا سماں ہے، انکی آخری رسومات سرکاری قوانین کے مطابق ادا کی گئیں، نماز جنازہ میں انکے بیٹے سمیت 5 افراد کو شرکت کی اجازت دی گئی. انکے پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ تین بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل ہے.

  • ایک ہی خاندان کے 11 افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص

    ایک ہی خاندان کے 11 افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص

    ایک ہی خاندان کے 11 افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایک ہی خاندان کے 11 افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے

    بھارتی علاقے پرانی دہلی کی جامع مسجد کے قریب چوڑی والا علاقہ میں ایک ہی خاندان کے 11 افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے، ان میں 2 ماہ اور 12 سال کے بچے بھی شامل ہیں، اس خاندان کے تمام افراد نے پرائیویٹ طور پر اپنا کرونا کا ٹیسٹ کروایا تھا تب ان سب کی رپورٹ مثبت آئی.

    دہلی کے چوڑی والا علاقہ میں کئی جگہ پر دو گھروں کے درمیان دو میٹر کی دوری بھی نہیں ہے اور اس وجہ سے لوگوں میں وائرس پھیلنے کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔ چوڑی والا جامع مسجد سے تقریباً آدھے کلو میٹر کے فاصلے پر یہ لوگ رہائش پذیر ہیں اور تین بھائیوں کی دیملیاں ایک ساتھ رہتی ہین، اس خاندان میں کل 18 افراد ہیں جن میں سے 11 میں کرونا کی تشخیص ہو چکی ہے جبکہ سات محفوظ ہیں.

    بھارتی میڈیا کے مطابق اس خاندان کے ایک شخص نے بیرن ملک کا سفر کیا تھا اور اس میں کرونا کی تشخیص ہو چکی تھی لیکن اس سے قبل وہ اپنے خاندان والوں کو مل چکا تھا، وہ شخص ہسپتال میں زیر علاج تھا کہ اسکے خاندان کے دیگر افراد کے ٹیسٹ کروائے گئے جن میں سے 11 کے مثبت آ گئے ان سب کو دہلی کے ایل این جے پی ہسپتال میں‌ داخل کروا دیا گیا ہے.

    ایک ہی خاندان کے 11 افراد میں کرونا کی تشخیص کے بعد محکمہ صحت کی ٹیمیں علاقہ میں پہنچ چکی ہیں اور ان افراد سے جو لوگ رابطے میں آئے تھے ان کو تلاش کیا جا رہا ہے انکے بھی ٹیسٹ کروائے جائیں گے،انکے پڑوسیوں کے بھی ٹیسٹ کروائے جائیں گے

    واضح رہے کہ دہلی میں کرونا وائرس کے 2 ہزار سے زائد مریض سامنے آ چکے ہیں، بھارت میں کرونا وائرس کی وجہ سے 3 مئی تک لاک ڈاؤن نافذ ہے.

  • قرنطینہ مرکز میں وقت پر کھانا نہ ملنے سے تبلیغی جماعت کے رکن کی ہوئی موت

    قرنطینہ مرکز میں وقت پر کھانا نہ ملنے سے تبلیغی جماعت کے رکن کی ہوئی موت

    قرنطینہ مرکز میں وقت پر کھانا نہ ملنے سے تبلیغی جماعت کے رکن کی ہوئی موت

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قرنطینہ مرکز میں کھانا وقت پر نہ ملنے سے کرونا کے مریض کی موت ہو گئی، مریض شوگر کے عارضہ میں بھی مبتلا تھا

    واقعہ بھارت میں پیش آیا، دہلی کے سلطانپوری علاقہ میں واقع قرنطینہ مرکز میں ایک 50 سالہ شخص کی موت ہوئی ہے اس کا تعلق تبلیغی جماعت سے تھا۔ قرنطینہ مرکز میں اس مرحوم شخص کے ساتھ رہنے والے لوگوں کا الزام ہے کہ شوگر کا مریض ہونے کے باوجود اس شخص کو نہ وقت پر دوا دی گئی، نہ ہی اس کو وقت پر کھانا دیا گیا۔ دوا اور کھانا دینے کے لئے قرنطینہ مرکز کے اسٹاف اور ڈاکٹرس سے بار بار درخواست بھی کی گئی تھی

    بھارتی ریاست تامل ناڈو کے کوئمبٹور کے رہنے والے محمد مصطفی کو راجیو گاندھی سپر اسپیشلٹی اسپتال سے چار روز قبل سلطانپوری میں واقع قرنطینہ مرکز میں منتقل کیا گیا تھا اورانکی دوبارہ کرونا ٹیسٹ کی رپورٹ بھی نہیں آئی تھی۔ محمد مصطفی 19 مارچ کو تمل ناڈو سے دہلی میں تبلیغی جماعت کے اجتماع میں شرکت کے لئے آئے تھے اور 24 مارچ کو انہیں اپنے ساتھیوں کے ساتھ واپس جانا تھا لیکن 24 مارچ کی رات کوگیر لاک ڈاون کے اعلان کے بعد وہ نہیں جاسکے۔

    31 مارچ کو انہیں راجیو گاندھی سپر اسپیشلٹی اسپتال لے جایا گیا تھا جہاں ان میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی، مصطفی کی اہلیہ کا کہنا تھا مصطفی ڈاکٹرز سے شوگر کی دوا اور وقت پر کھانے کی گزارش کرتا رہا، لیکن کسی نے اس کی نہیں سنی۔ اس نے مجھ سے کہا تھا کہ اگر اس کو وقت پر کھانا اور دوا ملتی رہے تو وہ ٹھیک ہو جائیں گے لیکن اب تو میں ان کو آخری بار بھی نہیں دیکھ پاوں گی مصطفی کے اہل خانہ میں اہلیہ اور دو لڑکے ہیں۔

  • کورونا کا خوف ، معمر خاتون کی لاش گھر والوں نے کنوئیں میں پھینک دی

    کورونا کا خوف ، معمر خاتون کی لاش گھر والوں نے کنوئیں میں پھینک دی

    کورونا کا خوف ، معمر خاتون کی لاش گھر والوں نے کنوئیں میں پھینک دی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کرونا کے خوف سے گھر والوں نے 65 سالہ خاتون کی لاش کنویں میں پھینک دی

    واقعہ بھارت میں پیش آیا جہاں جھار کھنڈ کے مشرقی سنگھ بھوم کے علاقہ بہرا گوڑا میں ایک 65 سالہ خاتون کی کرونا وائرس سے موت ہوئی تو اسکے رشتے داروں نے آخری رسومات ادا کرنے کی بجائے اسکی لاش کو کنویں میں پھینک دیا

    خاتون کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا لیکن وہ صحتیاب ہو گئی تھی، اسکا ٹیسٹ منفی آ چکا تھا لیکن بعد میں جب وہ ہسپتال سے گھر گئی تو اسکی موت ہو گئی اسکے خاندان والوں نے آخری رسومات کی ادائیگی کے بجائے لاش کو کنویں میں پھینک دیا، علاقے کے لوگوں نے اسکی آخری رسومات میں شرکت سے انکار کر دیا تھا،

    کرونا لاک ڈاؤن، گھر میں فاقے، ماں نے 5 بچوں کو تالاب میں پھینک دیا،سب کی ہوئی موت

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    کرونا مریض اہم، شادی پھر بھی ہو سکتی ہے، خاتون ڈاکٹر شادی چھوڑ کر ہسپتال پہنچ گئی

    کرونا لاک ڈاؤن، رات میں بچوں نے کیا کام شروع کر دیا؟ والدین ہوئے پریشان

    لاک ڈاؤن ہے تو کیا ہوا،شادی نہیں رک سکتی، دولہا دلہن نے ماسک پہن کے کر لی شادی

    کوئی بھوکا نہ سوئے، مودی کے احمد آباد گجرات کے مندروں میں مسلمانوں نے کیا راشن تقسیم

    کرونا لاک ڈاؤن، مودی کے بھارت میں خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں کمی نہ آ سکی

    واٹس ایپ کے ذریعے فحش پیغام بھیجنے والا ملزم ہوا گرفتار، کئے ہوش اڑا دینے والے انکشاف

    شادی سے انکار، لڑکی نے کی خودکشی تو لڑکے نے بھی کیا ایسا کام کہ سب ہوئے پریشان

    واضح رہے کہ بھارت میں یہ پہلا ایسا واقعہ نہیں بلکہ کئی ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں جہاں کرونا سے مرنے والے ہندوؤن کی آخری رسومات کی ادائیگی کے لئے کوئی تیار نہین ہوتا انکے خاندان والے بھی کرونا سے ڈر جاتے ہیں تب مسلمان گھروں سے نکلتے ہیں اور انکی آخری رسومات کی ادائیگی کرتے ہیں، بھارت میں کم ازکم چھ ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں.

  • کرونا وائرس، تبلیغی جماعت کو اب بھارت میں ” ہیرو” کہا جانے لگا

    کرونا وائرس، تبلیغی جماعت کو اب بھارت میں ” ہیرو” کہا جانے لگا

    کرونا وائرس، کڑی تنقید کے بعد تبلیغی جماعت کو اب بھارت میں ” ہیرو” کہا جانے لگا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں کرونا وائرس سے تباہی جاری ہے، کرونا وائرس کو لے کر بھارت میں تبلیغی جماعت پر کڑی تنقید کی گئی کرونا وائرس کو تبلیغی وائرس کہا گیا تا ہم اب بھارت میں تبلیغی جماعت کے اراکین نے ایسا کام کر دیا کہ بھارت تبلیغی جماعت کے اراکین کو ہیرو کہنے پر مجبور ہو گیا

    دہلی کے نظام الدین مرکز میں بھارتی ریاست تامل ناڈو سے شرکت کرنے والے تبلیغی جماعت کے وہ اراکین جن میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی اور وہ صحتیاب ہو گئے ہیں، انہوں نے کرونا کے مریضوں کے علاج کے لئے پلازمہ عطیہ کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد تبلیغی جماعت کے اراکین جن پر کڑی تنقید کی گئی تھی کو بھارت میں ہیرو کہا جا رہا ہے اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بھارت سے تبلیغی جماعت ہی کرونا کا خاتمہ کر سکتی ہے

    دہلی کے نظام الدین مرکز میں شرکت کرنے والے تبلیغی جماعت کے اراکین کو نہ صرف ہراساں کیا گیا بلکہ ان کے خلاف مقدمے بھی درج کئے گئے، ٹویٹر پر ٹرینڈ چلائے گئے لیکن مشکل کی اس گھڑی میں تبلیغی جماعت ہی کرونا وائرس سے بچاؤ کے لئے میدان میں آئی اور رضاکارانہ طور پر پلازمہ عطیہ کرنے کا اعلان کیا ہے، تامل ناڈو کے ایک ہزار سے زائد تبلیغی اراکین جن کا کرونا ٹیسٹ پہلے مثبت پھر منفی آیا تھا انہوں نے خود کو پیش کر دیا ہے،تامل ناڈو میں 1629 مریض سامنے آئے تھے جن میں سے 1300 افراد نے دہلی اجتماع میں شرکت کی تھی.

    کرونا وائرس کے علاج کے لئے پلازمہ تھراپی کے استعمال کے حوالہ سے ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ یہ تھراپی اس صورت میں استعمال کی جاتی ہے جب دوا سے مریض کا علاج نہ ہو سکے، اسلئے اسے پلازمہ دیا جاتا ہے اور مریض صحتیاب ہو جاتا ہے، اینٹی باڈیز سے مریض میں قوت مدافعت پیدا ہوتی ہے. پلازمہ کے لئے خون عطیہ کرنے والے کا بیماری سے صحتیاب ہونا ضروری ہے،اسکے لئے اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ مریض جو صحتیاب ہوا کم ازکم اسے دو ہفتے گزر چکے ہوں،

    تامل ناڈو میں ایمن کالج آف آرٹس اینڈ سائنس فار ویمن کے ڈائریکٹر ، ایم ایم محمد ، پہلے کور ونا وائرس سے متاثر ہوئے تھے اور انکا ٹیسٹ بھی مثبت آیا تھا ۔ ایم ایم محمد کا کہنا ہے کہ اگر ڈاکٹر ان سے کہیں گے تو وہ اپنا پلازما عطیہ کرنے کو تیار ہیں۔میری عمر 68 سال ہے۔لیکن اگر ڈاکٹر مجھے مشورہ دیں گے تو میں تیار ہوں۔ انہیں 16 اپریل کو تریچی جنرل اسپتال سے ڈسچارج کیا گیا تھا۔ ایم ایم محمد کا کہنا تھا کہ مسلمانوں میں خون کا عطیہ بہت عام ہے۔ اگر ہمیں موقع ملا تو ہم مذہب یا دیگر اختلافات سے قطع نظر بھی انسانیت کی مدد کے لئے آگے آئیں گے۔

    اس ضمن میں تامل ناڈو کے مقامی علماء کرام اور دیگر سماجی کارکنان بھی مختلف اضلاع میں تبلیغی جماعت کے صحتیاب مریضوں سے رابطہ کر رہے ہیں،پلازمہ عطیہ کرنے کے لئے تیار افراد کی ایک لسٹ تیار کی جا رہی ہے، دہلی نظام الدین مرکز کے امیرمولانا سعد کاندھلوی نے تبلیغی جماعت کے اراکین سے پلازمہ عطیہ کرنے کی اپیل کی تھی جس پر تبلیغی جماعت کے اراکین میدان میں آئے اور ایک ہزار کے قریب اراکین نے اپنے نام لکھوا دیئے.

    تامل ناڈو کے ہسپتالوں سے صحتیاب ہونے والے مریضوں کو ایک فارم بھی دیا جا رہا ہے جس میں ان سے پوچھا گیا ہے کہ کیا وہ پلازمہ عطیہ کریں گے، اس فارم پر سوائے تبلیغی جماعت کے اراکین کے کسی نے بھی پلازمہ عطیہ کرنے کی حامی نہیں بھری، دہلی کے اجتماع میں شرکت کرنے والے اراکین جو کرونا سے صحتیاب ہو چکے ہیں انہون‌نے تامل ناڈو کے علاوہ دیگر ریاستوں میں بھی پلازمہ عطیہ کرنے کا اعلان کیا ہے،اب وہی بھارتی میڈیا جو تبلیغی جماعت کے اراکین کو تبلیغی وائرس، کرونا جہاد کہہ رہا تھا اب بھارت کے لئے ہیرو قرار دے رہا ہے، تبلیغی جماعت کے اراکین کا کہنا ہے کہ ہم انسانیت کو بچائیں گے اور بلا تفریق سب کے لئے پلازمہ دیں گے،

    تمل ناڈو حکومت پلازما تھراپی کے استعمال کے لئے انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) سے منظوری کی منتظر ہے ابھی تک ریاستی سرکار کو اجازت نہیں ملی جیسے ہی اجازت ملے گی پلازمہ سے مریضوں کا علاج شروع کر دیا جائے گا.

    دوسری جانب دہلی کے ایک ہسپتال میں 14 اپریل کو ایک مریض کو پلازمہ منتقل کیا گیا تھا، 49 سالہ مریض کو وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا اسکے والد کا بھی کرونا سے موت ہو گئی تھی جبکہ والدہ میں بھی کرونا کی تشخیص ہوئی تھی،جو اب صحتیاب ہو چکی ہیں، مریض کی بگڑتی حالت کو دیکھتے ہوئے اسکے رشتے داروں نے پلازمہ تھراپی کا کہا جس پر ڈاکٹر نے ایک ایسے شخص کو راضی کیا جو کرونا سے صحتیاب ہو چکا تھا اس نے پلازمہ عطیہ کیا اور دوسرے مریض کو لگا دیا گیا، پلازمہ تھراپی کے بعد مریض کی حالت بہتر ہو گئی اور صرف 5 دن بعد 19 اپریل کو مریض کا کرونا کا ٹیسٹ منفی آیا، مریض کا دوبارہ ٹیسٹ کیا گیا وہ بھی منفی آیا.

  • مساجد میں جانے سے اگر بیماری پھیلتی ہے تو جان کی حفاظت بھی ہمارے دین کا حصہ ہے، مولانا طارق جمیل

    مساجد میں جانے سے اگر بیماری پھیلتی ہے تو جان کی حفاظت بھی ہمارے دین کا حصہ ہے، مولانا طارق جمیل

    مساجد میں جانے سے اگر بیماری پھیلتی ہے تو جان کی حفاظت بھی ہمارے دین کا حصہ ہے، مولانا طارق جمیل
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق معروف مبلغ و عالم دین مولانا طارق جمیل نے کہا ہے کہ کورونا وائرس ایک آفت ہے اس سے نجات کیلئے احتیاطی تدابیر کے ساتھ ساتھ استغفار کرتے ہوئے اﷲ کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔

    وزیراعظم کے کورونا ریلیف فنڈ کے حوالہ سے احساس ٹیلی تھون کے اختتام پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے ہر سطح پر احتیاطی تدابیر کے حوالہ سے عوام میں آگاہی پیدا کی جا رہی ہے، وباء سے بچاؤ اور غریب عوام کے معاشی تحفظ کے حوالہ سے وزیراعظم عمران خان کی کوششیں لائق تحسین ہیں۔

    مولانا طارق جمیل کا مزید کہنا تھا کہ مساجد میں باجماعت نماز کے حوالہ سے حکومت اور علماء کرام کی جانب سے احتیاطی تدابیر کے حوالہ سے تجاویز دی گئی ہیں، عوام ان پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔ ناگہانی آفات سے بچنے کیلئے جھوٹ، دھوکہ دہی، خیانت اور بے حیائی جیسی برائیوں سے اجتناب کرنا چاہئے، مسلمان توبہ کریں اور پوری انسانیت کی فلاح کیلئے دعا کریں۔ احتیاطی تدابیر پر بہت زیادہ بحث ہو چکی ہے، میڈیا پر کافی باتیں کی گئی، ان پر عمل کریں،

    مولانا طارق جمیل کا مزید کہنا تھا کہ پوری قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے اپنے گھروں میں دو رکعت نفل پڑھیں، استغفار کریں اور اﷲ سے معافی مانگیں۔ وزیراعظم عمران خان ایماندار ہیں اور اپنے ملک کے نوجوانوں کو سنت نبویۖ سے وابستہ کرنے کے خواہشمند ہیں۔ اس مشکل گھڑی میں غریب اور مستحق لوگوں کی مدد میں حصہ ڈالیں۔

    مولانا طارق جمیل کا مزید کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس چھوٹے سے وائرس کیساتھ دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ہمیں اس آفت سے نجات کیلئے بے حیائی کو روکنا ہوگا۔ میرے دیس کی بیٹیوں کو نچایا جا رہا ہے۔ جب مسلمان کی بیٹی اور نوجوان بے حیائی کی طرف چلی جائے تو پھر اللہ کا عذاب آتا ہے۔جھوٹ سے ہم کسی آفت کا مقابلہ نہیں کر سکتے، سچ بولنا ہے چاہیے چاہے جان چلی جائے۔ ایک حدیث پر عمل ہو جائے تو کورونا کہیں نظر نہیں آئے گا، ہمیں اس کیلئے چار باتوں پر عمل کرنا ہوگا۔ پہلے ہمیشہ سچ بولنا ہے، کبھی کسی کو دھوکہ نہیں دینا چاہیے اور اپنے اخلاق کو اچھا کرنا ہے۔

    مولانا طارق جمیل کا کہنا تھا کہ مساجد میں جانے سے اگر بیماری پھیلتی ہے تو جان کی حفاظت بھی ہمارے دین کا حصہ ہے۔ نبی ﷺ کے دور میں بارش ہوئی تو آپ ﷺ نے حضرت بلالؓ سے اعلان کروایا کہ لوگوں سے کہیں کہ اپنے گھروں میں نماز پڑھیں حالانکہ اس وقت جان کا تو خطرہ نہیں تھا، اب تو زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔

    مولانا طارق جمیل نے ناگہانی آفات سے بچائو اور ملک و قوم کی سلامتی کیلئے خصوصی بھی کرائی۔

    واضح رہے کہ کورونا ریلیف فنڈ کیلئے عطیات جمع کرنے کے لئے وزیراعظم ہاؤس میں پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی خصوصی ”احساس ٹیلی تھون ”کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد کورونا وائرس کے اقتصادی اثرات کم کرنے کیلئے معاشرہ کے کمزور طبقات اور مستحقین کیلئے عطیات اکٹھا کرنا تھا۔

    وزیراعظم عمران خان نے خود اس ٹیلی تھون میں شرکت کی۔ وزیراعظم عمران خان نے اپیل کی تھی کہ مشکل کی اس گھڑی میں مخیر حضرات کارخیر میں بڑھ چڑھ کر حکومت کا ساتھ دیں، وزیراعظم احساس ٹیلی تھون کے پہلے 30 منٹ میں ہی 14 کروڑ سے زائد اکٹھے ہو گئے، پروگرام میں سابق کرکٹر جاوید میانداد، معروف سنگر علی ظفر، معروف فنکارہ بشری انصاری نے بھی شرکت کی۔ انہوں نے وزیراعظم کے ریلیف فنڈ کو سراہا اور شہریوں پر زور دیا کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور فنڈ میں دل کھول کر عطیات دیں، معروف کرکٹرز وسیم اکرم، وقار یونس اور جاوید میانداد کے علاوہ سابق کرکٹ کمنٹیٹر افتخار احمد نے بھی ٹیلی تھون میں شرکت کی اور سراہا۔

    وزیراعظم کے کورونا ریلیف فنڈ کے سلسلہ میں ملکی تاریخ کی سب سے بڑی احساس ٹیلی تھون کے دوران میں 55 کروڑ 75 لاکھ روپے کے عطیات جمع ہوئے۔ سینیٹر فیصل جاوید نے نشریات کے اختتام پر اعلان کیا کہ احساس ٹیلی تھون میں ٹیلی فون کے ذریعے شرکت کرنے والے مخیر حضرات نے مجموعی طور پر 55 کروڑ 75 لاکھ روپے کے عطیات دینے کے اعلانات کئے ہیں۔ اس دوران ایس ایم ایس کے ذریعے 80 لاکھ روپے کے عطیات کے پیغامات بھی موصول ہوئے۔

    انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے کورونا ریلیف فنڈ کیلئے ٹیلی تھون کا اہتمام کرنے پر تمام ٹی وی چینلز کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ وزیراعظم کے کورونا ریلیف فنڈ کیلئے امریکہ سے طاہر جاوید نے 2 کروڑ روپے، گلوکار سلمان احمد نے 10 ہزار ڈالر، یو اے ای سے ڈاکٹر فضل نے 2 لاکھ روپے، لندن سے ڈاکٹر ہارون نے 2 لاکھ روپے، امریکہ سے جاوید انور نے 2 لاکھ ڈالر، اسلامی یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر نے 70 لاکھ روپے، امریکہ سے ڈاکٹر افضل گوندل نے 10 لاکھ ڈالر، بہائو الدین زکریا یونیورسٹی کے وائس چانسلر منصور اکبر نے 55 لاکھ روپے سے زائد کے عطیات دینے کا اعلان کیا۔

    اس کے علاوہ چیئرمین توصیف گروپ سلامت علی نے 2 کروڑ روپے دینے کا اعلان کیا۔ اسی طرح بحرین سے چوہدری اکرم اور ان کے اہلخانہ کی طرف سے 35 کروڑ روپے، ساجد قاضی نے وزیراعظم ریلیف فنڈ میں 50 لاکھ روپے، کویت سے محمود اشرف نے ایک کروڑ روپے دینے کا اعلان کیا۔

  • جیوکراچی بیورو میں کورونا کا ایک اور مریض سامنے آگیا۔

    کراچی :جیوکراچی بیورو میں کورونا کا ایک اور مریض سامنے آگیا۔اطلاعات کے مطابق جیونیوز کے کراچی ہیڈآفس میں چند روز قبل ایک کورونا مریض کا انکشاف ہوا تھا جس کے بعد ادارے نے سخت احتیاطی تدابیر کیں لیکن آج کراچی بیورو کے ایک رپورٹر کو بھی کورونا کا انکشاف ہواہے ۔

    اطلاعات کےمطابق جیو انتظامیہ کی میل میں کورونا مریض کی شناخت تو ظاہر نہیں کی گئی لیکن دیگر ورکرز کوتسلی دی گئی ہے کہ مریض سے رابطے میں رہنے والے پندرہ افراد کا ٹیسٹ لیاگیا جو منفی آیاہے۔ذرائع کا دعوی ہے کہ کراچی بیورو کے ایک رپورٹر کو کورونا پازیٹیو آیاہے جس کا علاج شروع کردیاگیاہے۔ بیورو میں لاک ڈاؤن اور کورونا کی وجہ سے آدھے رپورٹرز آلٹرنیٹ ڈے کے حساب سے کام کررہے ہیں۔۔

    ذرائع کا کہناہے کہ جیو کی عمارت سینٹرلی ایرکنڈیشنڈ ہے اور ایسے ماحول میں کورونا وائرس زیادہ تیزی سے پھیلتاہے اور خطرناک ثابت ہوتاہے اس لئے پانچویں اور چھٹے فلور پر موجود تمام کارکنوں کا کورونا ٹیسٹ کیاجائے تاکہ کسی اور مریض سے پہلے اس کا توڑ کرلیاجائے۔۔ذرائع کے مطابق نیوزروم کے باہر گارڈ جو سینٹائزر، ماسک اور اخبار وغیرہ دیتاتھا اس کی بھی اچانک طبیعت خراب ہونے پر فوری اسپتال لے جایاگیاتھا لیکن یہ آج کا نہیں دوتین روز پراناُواقعہ ہے۔

  • پاکستانیوں گھروں میں قیام رمضان کریں‌،نمازیں پڑھیں ،ایمان کی حفاظت کریں ،جان کی حفاظت کریں،بلاول بھٹو

    پاکستانیوں گھروں میں قیام رمضان کریں‌،نمازیں پڑھیں ،ایمان کی حفاظت کریں ،جان کی حفاظت کریں،بلاول بھٹو

    لاہور:پاکستانیوں گھروں میں قیام رمضان کریں‌،نمازیں پڑھیں ،ایمان کی حفاظت کریں ،جان کی حفاظت کریں،بلاول بھٹو،اطلاعات کے مطابق چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے پاکستانی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ گھر پر رہے اور رمضان کا مہینہ گھر میں پانچ وقت کی نماز پڑھائیں اور اپنی حفاظت کریں۔

    چیئرمین بلاول نے بی بی سی ورلڈ نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے پہلے سے موجود پابندیوں کو تبدیل کرنے کی منطق اور استدلال سمجھ سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی چند ہفتوں تک ، لاک ڈاؤن نسبتا went بہتر رہا اور لوگ پابندیوں کی پاسداری کر رہے تھے۔ مسجد کے عملے کے صرف پانچ ارکان کو ہی نماز پڑھنے کی اجازت دی گئی تھی اور لوگوں کو گھر پر ہی نماز پڑھنے کی تاکید کی گئی تھی۔

    بلاول بھٹوکا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے ملک میں نائی کی دکانوں اور درزیوں سمیت کچھ پابندیوں کو کم کیا لہذا دینی ذہنیت رکھنے والے لوگوں کو نماز کے بارے میں انہی پابندیوں پر عمل کرنے پر قائل کرنا مشکل تھا۔ وزیر اعظم کی طرف سے پابندیوں میں نرمی سے قبل ، مذہبی لوگ تعاون کر رہے تھے اور ان پابندیوں کو کم کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ تاہم ، اب وزیر اعظم لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ڈالنے والے اپنے فیصلے کو جواز بنا رہے ہیں۔

    چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ لاک ڈاؤن نافذ کرنے والا سندھ پہلا صوبہ تھا اور سندھ حکومت نے مذہبی طبقے کو مشغول کیا ہے کیونکہ ہمارے پاس مساجد میں نماز جمعہ کو روکنے کی صلاحیت یا پولیس نہیں ہے کیونکہ وفاقی حکومت کی طرف سے ملے جلے پیغامات آرہے ہیں۔ ہم ابھی بھی دینی جماعت کو شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اب مشکل ہے جب وزیر اعظم آزادی کے بارے میں کوئی مسئلہ بنارہے ہیں۔

    انہوں نے کہا ، "مجھے لگتا ہے کہ یہ قیادت کی زبردست ناکامی ہے۔” جب ہم خود کا موازنہ بقیہ مسلم دنیا جیسے سعودی عرب ، ایران اور دیگر سے کرتے ہیں تو وہ اپنے شہریوں کی زندگیاں بچانے کے لئے اقدامات کررہے ہیں۔ آبادی کے انتخابی فیصلوں کا یہ وقت نہیں ہے۔ اب وقت ہے کہ ڈاکٹروں اور ماہرین صحت کے مشورے پر فیصلے کریں۔ لاہور سے کراچی تک پاکستان کے ڈاکٹر احتجاج کر رہے ہیں یا پریس کانفرنسیں کر رہے ہیں جن سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ان کی حفاظت کے لئے ضروری اقدامات اٹھائیں اور ہمارے صحت عامہ کے نظام پر بوجھ کم کریں۔

    انہوں نے کہا کہ صلاحیت کے مسائل موجود ہیں اور وفاقی حکومت کی جانب سے ان کی آزمائش کی صلاحیت میں اضافہ کرنے کی توقعات کے مطابق کسی بھی صوبے کی حمایت نہیں کی جا رہی ہے۔ سندھ فی کس سب سے زیادہ جانچ رہا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وفاقی حکومت ان کی جانچ کی صلاحیت میں اضافہ کرنے کے لئے پاکستان کے تمام صوبوں کی مدد کرے۔

    بلاول بھٹوکہتے ہیں‌کہ دنیا کا کوئی بھی ملک اس طرح کے لاک ڈاؤن کو برقرار رکھنے کے لئے ڈیزائن یا قابل نہیں ہے لیکن ہر جگہ حکومتیں اور رہنما اپنے شہریوں کی زندگی اور صحت کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہم سندھ میں ایک ایسے فلسفے کے ساتھ کام کرتے ہیں جس سے ہم معیشت کو دوبارہ زندہ کر سکتے ہیں ، لیکن لوگوں کو نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوویڈ 19 وبائی امراض سے قبل پاکستان کے لئے معاشی اشارے پہلے ہی خراب تھے کیونکہ حکومت کی جانب سے اس کا بد انتظام کیا گیا تھا۔

    ورلڈ بینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس وبائی بیماری کے نتیجے میں پاکستان ، افغانستان اور مالدیپ کساد بازاری کا شکار ہوسکتے ہیں۔ معیشت کو چلانے کی ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوتی ہے اور اب اس کی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ لوگوں کی زندگیوں اور صحت کا تحفظ کرے اور ان کا معاش محفوظ بنائے۔ یہ ستم ظریفی ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے پہلا امدادی پیکج ڈاکٹروں اور نرسوں کی بجائے تعمیراتی شعبے کے لئے تھا جو ہر روز اپنی جان کو خطرہ میں ڈالتے ہیں۔

    چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ پاکستان صحت پر جی ڈی پی کا اعلی تناسب خرچ کرنے پر افسوس نہیں کرے گا۔ جب بھی پیپلز پارٹی برسراقتدار آئی ، اس نے صحت کی دیکھ بھال پر خرچ میں زبردست اضافہ کیا۔

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عالمی وبائی مرض کے وقت وہ نہ صرف پاکستان بلکہ دوسرے ترقی پذیر ممالک کے لئے بھی پریشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ سے لیکر ہندوستان تک پچھلی ایک دہائی سے ہم قوم پرست مقبولیت اور پارٹی کی شراکت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا مشاہدہ کرتے اور کثیرالجہتی سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔

    چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ ہم ایک عالمی برادری کی حیثیت سے اس وبائی امراض سے نمٹنے کے لئے تیار نہیں ہیں اور بدقسمتی سے ، پاکستان نے اس وبائی مرض سے لڑنے کے لئے درکار قومی اتحاد کو فراموش نہیں کیا۔

  • مذہبی طبقات کو سمجھانا مشکل ہو گیا، بلاول زرداری نے عوام سے بڑی اپیل کر دی

    مذہبی طبقات کو سمجھانا مشکل ہو گیا، بلاول زرداری نے عوام سے بڑی اپیل کر دی

    مذہبی طبقات کو سمجھانا مشکل ہو گیا، بلاول زرداری نے عوام سے بڑی اپیل کر دی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ عوام رمضان میں گھر پر رہ کر عبادات کریں اور اپنی زندگیوں کو بچائیں،

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ لاک ڈاوَن کے پہلے چند ہفتے بہت بہتر گزر رہے تھے لوگ لاک ڈاوَن کے پہلے ہفتوں میں پابندیوں کی پاسداری کر رہے تھے،عمران خان نے لاک ڈاؤن کی پابندیاں نرم کرکے حجام اور درزیوں کی دکانیں کھولنے کا حکم دیا،پابندیوں میں نرمی کے بعد مذہبی طبقات کو سمجھانا مشکل ہوگیا،لاک ڈاؤن کی پابندیاں نرم کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی،

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم عوام کی زندگیاں خطرے میں ڈال رہے ہیں،سندھ نے سب سے پہلے لاک ڈاؤن کیا اور مذہبی حلقوں کو اعتماد میں لیا،نرمی سے قبل سندھ کی مسجدوں میں باجماعت نماز میں صرف 5لوگ شامل ہو سکتے تھے ،عمران خان نے مساجد میں عبادت کے معاملے کو آزادی کا مسئلہ بنادیا ہے،یہ وقت ڈاکٹروں اور طبی ماہرین سے مشورہ کرکے فیصلے کرنے کا ہے،ڈاکٹر حکومت سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ ہیلتھ کیئر سسٹم کو بچانا چاہتے ہیں

    خانہ کعبہ میں تراویح پر پابندی ، یہاں کیوں نہیں،خدارا ہمیں یورپ جیسی صورتحال کی طرف نہ لے جائیں، ڈاکٹروں نے بڑی اپیل کر دی

    سعودی شاہی خاندان میں بغاوت:گورنرہاوسز،شاہی محل فوج کے حوالے،13شہزادےگرفتار،حرمین شریفین کواسی وجہ سےبندکیا : مبشرلقمان

    سعودی ولی عہد کے خلاف بغاوت کے الزام میں شاہی خاندان کے 20 مزید افراد گرفتار

    سعودی عرب میں بغاوت ، کون ہوگا اگلا بادشاہ؟ سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نےبتائی اندر کی بات

    امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی ممکن، کیسے؟ سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے بتا دیا

    خلیل الرحمان قمر vs ماروی سرمد | مبشر لقمان بھی میدان میں آگئے۔

    وبا، سلیم صافی اور مولویوں کا مسئلہ کیا ہے،سنئے مبشر لقمان کی زبانی

    وبا کے خاتمہ تک مسجد میں باجماعت نماز کا سلسلہ روکا جائے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کی مدد نہیں کر رہی،ٹیسٹنگ کی استعداد بڑھانے کیلئے وفاقی حکومت نے صوبائی حکومتوں کی مدد نہیں کی وباکا مقابلہ کرنے کیلئے دنیا کے کسی بھی ملک میں صلاحیت نہیں ہے، ساری دنیا کی حکومتیں لوگوں کی زندگیاں بچانے کیلئے کوشاں ہیں،سندھ اس پر کام کر رہا ہے کہ ہم معیشت کو دوبارہ زندہ کر سکتے ہیں لیکن انسانوں کو نہیں،وبا سے پہلے پاکستان کی معیشت کمزور اور بدانتظامی کا شکار تھی،وفاقی حکومت معیشت کو چلائے اور لوگوں کی زندگیاں اور روزگار بچائے،حیرت کی بات ہے کہ تعمیراتی شعبے کو ریلیف پیکج دیا گیا لیکن ڈاکٹرز اور نرسز کو نہیں پیپلزپارٹی کی حکومت جب بھی آئی ہم نے ہیلتھ کے بجٹ میں اضافہ کیا،عالمی برادری وباسے نمٹنے کے لیے تیار نہیں تھی،بدقسمتی کی بات ہے کہ پاکستان میں اس وباسے نمٹنے کیلئے قومی یکجہتی پیدا نہیں کی گئی،

    حکومت ہمیشہ کی طرح بیک فٹ پر کیوں؟ مبشر لقمان نے کس کو کھری کھری سنا دیں؟

  • حکومت ہمیشہ کی طرح بیک فٹ پر کیوں؟ مبشر لقمان نے کس کو کھری کھری سنا دیں؟

    حکومت ہمیشہ کی طرح بیک فٹ پر کیوں؟ مبشر لقمان نے کس کو کھری کھری سنا دیں؟

    حکومت ہمیشہ کی طرح بیک فٹ پر کیوں؟ مبشر لقمان نے کس کو کھری کھری سنا دیں؟
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پچھلے 24 گھنٹوں میں کرونا کے مریضوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہونا شروع ہو گیا ہے، پہلے ہمیں امید تھی کہ اپریل کے آخر تک کچھ کمی آ جائے گی اور خاتمہ ہو سکتا ہے، لیکن پراپر لاک ڈاؤن نہیں کیا گیا،محدود لاک ڈاؤن کیا گیا یہ حکومت کا فیصلہ تھا، اب مکہ، مدینہ بند،تمام زیارتیں بند اور ہم نے اپنی مسجدیں کھول دیں جو پہلے بند تھیں،اور تراویح و نمازوں کے لئے ایک پورا وفد ہے جو صدر پاکستان سے ملتا ہے اور صدر پاکستان نے فیصلہ کر دیا کہ مساجد کھلیں گی،صدر پاکستان کو وہ لوگ کیوں ملے سمجھ نہیں آتی، مذہبی امور کے وفاقی وزیر موجود ہیں،انکو ملنا چاہئے تھا ، لیکن وہ صدر پاکستان سے ملے اور 20 نکاتی ایجنڈہ طے کر لیا

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ وائرس نے پھیلنا ہے اس کا ذمہ دار کون ہو گا، تمام علما دین سے میرا سوال ہے کہ سب کو پتہ ہے کہ وبا جان لیوا ہے اور کسی کی بھی جان لے سکتی ہے، اب جب جان بوجھ کو جو وبا کے منہ میں جائے گا اور کسی کی موت ہو جاتی ہے تو وہ خود کشی کے مترادف ہوا، خود کشی کرنے والے کی نماز جنازہ جائز ہے؟ میرے خیال میں تو یہ جائز نہیں، کیونکہ یہ شہادت کے زمرے میں نہیں آئے گا، مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیب الرحمان کہتے ہیں کہ ہم گھر میں پڑھیں گے، بھائی گھر میں کیوں ، جذبہ شہادت سے سرشار ہوں اور آئیں مسجد میں، آپ گھر میں ہوں گے، آپ کے بچے گھر میں ہوں گے لیکن دوسروں کے بچوں کو آپ مسجد لانا چاہتے ہیں انکی زندگی کی کوئی پرواہ نہیں.

    دنیا بحران کی جانب گامزن.ٹرمپ کی چین کو نتائج بھگتنے کی دھمکی، مبشر لقمان کی زبانی ضرور سنیں

    سعودی عرب میں طوفان ابھی تھما نہیں، فوج کے ذریعے تبدیلی آ سکتی ہے،سعودی ولی عہد کو کن سے ہے خطرہ؟ مبشر لقمان نے بتا دیا

    سعودی شاہی خاندان کو بڑا جھٹکا،بادشاہ اورولی عہد جزیرہ میں روپوش، مبشر لقمان نے کیے اہم انکشافات

    سعودی شاہی خاندان میں بغاوت:گورنرہاوسز،شاہی محل فوج کے حوالے،13شہزادےگرفتار،حرمین شریفین کواسی وجہ سےبندکیا : مبشرلقمان

    سعودی ولی عہد کے خلاف بغاوت کے الزام میں شاہی خاندان کے 20 مزید افراد گرفتار

    سعودی عرب میں بغاوت ، کون ہوگا اگلا بادشاہ؟ سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نےبتائی اندر کی بات

    امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی ممکن، کیسے؟ سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے بتا دیا

    خلیل الرحمان قمر vs ماروی سرمد | مبشر لقمان بھی میدان میں آگئے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ وائرس ہاتھ، بالوں کہیں بھی کسی جگہ سے بھی پھیلتا ہے، 14 دن میں وائرس کو قابو کیا جا سکتا ہے الگ رہ کر لیکن اگر 14 دن میں آمدورفت جاری رہی تو یہ مزید پھیلے گا،ہم نے تبلیغی جماعت اور زائرین کو دیکھا ہے.کہ وہ ایک دوسرے کو ملے اور کس طرح وائرس پھیلا، مصافحے بھی ہوتے رہے، سماجی فاصلے کا خیال بھی نہیں رکھا گیا اور پھر وائرس پھیل گیا ،یہ حکومتی نااہلی بھی تھی

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ صدر مملکت جو ڈاکٹر ہیں مجھے سمجھ نہیں آتی کہ عارف علوی کس چیز کے ڈاکٹر ہیں، میں میڈیکل ڈاکٹر سے اس بات کی توقع نہیں کر سکتا،علما کے ساتھ بیٹھ کر انہوں نے جو طے کیا کہ ایک صف میں 5 لوگ ہوں گے، 5 لوگ کیا یہ وائرس تعداد میں آتا ہے، یہ تو دو لوگوں میں بھی ہو جاتا ہے اور آگے پھیلتا جاتا ہے، پانچ ہوں یا پچاس فرق نہیں پڑتا، اصل مسئلہ دو لوگوں کا ہے، ان سے وائرس پھیل سکتا ہے، مسجد کے اندر بلانے کا کوئی تک نہیں بنتا تھا ان حالات میں

    وبا کے کامیاب طریقہ علاج کی طرف پیشرفت، مبشر لقمان کے اہم انکشافات

    عمران خان نے اسمبلیاں توڑنے کے لئے سمری صدر کو کیوں بھیجی؟ سیاسی میدان میں بڑی ہلچل

    ناامیدی کفر ہے، مشکل حالات میں امید کی کرن…مبشر لقمان کی تازہ ترین ویڈیو لازمی دیکھیں

    امریکہ. سپر پاور نہیں رہے گا.؟ مبشر لقمان کی زبانی سنیں اہم انکشافات

    مفتی عبدالقوی کا نیا چیلنج، دیکھیے خصوصی انٹرویو مبشر لقمان کے ہمراہ

    دعا کریں،پنجاب حکومت کو عقل آجائے، بزدار سرکار پر مبشر لقمان پھٹ پڑے

    سعودی عرب میں سخت ترین کرفیو،وجہ کرونا نہیں کچھ اور،مبشر لقمان نے کئے اہم انکشافات

    جنات کے 11 گروہ کون سے ہیں؟ حیرت انگیز اور دلچسپ معلومات سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    عالمی طاقتوں کی نا انصافی کا علاج…کرونا وائرس، گورنر کے پی شاہ فرمان کی کھری باتیں مبشر لقمان کے ساتھ

    چین سے پہلے امریکہ کو وبا کا پتہ تھا،ٹرمپ دنیا کو ماموں بناتے رہے، مبشر لقمان کے اہم انکشافات

    گریٹ گیم، اصل کہانی تو مئی کے بعد شروع ہو گی، مبشر لقمان کے اہم انکشافات

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مسجد کا قالین اس سے وائرس پھیل سکتا ہے، مسجد میں جو ٹوپیاں پہنتے ہیں اس سے بھی وائرس پھیل سکتا ہے،آپ جن نلکوں سے وضو کرتے ہیں ان سے بھی وائرس پھیلتا ہے، یہ وائرس کہیں سے بھی پھیل سکتا ہے ،اور کسی بھی جگہ ایک ایک دن تک زندہ رہ سکتا ہے وہ دروازہ ہو، جائے نماز ہو، چادریں ہوں، ٹوپی ہو، وضو کے نلکے ہوں، آپ مسجد میں بھی نقصان پہنچا رہے ہیں اور اگر وائرس ہوتا ہے تو آپ مسجد سے گھر لے آتے ہیں،گھر آ کر اورلوگ ہین ان معصوم جانوں کا ذمہ دار کون ہے جو آپ کے گھر میں ہیں منیب الرحمان یا عارف علوی، اس کا جواب دینا پڑے گا، پوری دنیا کہ رہی ہے کہ ہم نے اسکا لاک ڈاؤن کرنا ہے،خانہ کعبہ میں طواف بند ہو گیا، اس سے زیادہ مبارک جگہ تو ہمارے لئے کوئی اور ہو ہی نہیں سکتی جب انکو بند کر دیا گیا تو ہمارے لئے کیا مسئلہ ہے، دوسرا تراویح نفلی نماز ہے، یہ فرائض میں نہیں ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار جماعت کے ساتھ تراویح پڑھی،نبی کریم نے تہجد کے ساتھ پڑھے ہیں،نماز تراویح کے جو نوافل ہین یہ تہجدکے ساتھ لنک ہوتے ہیں، یہ اسطرح تو ہوتی ہی نہین جس طرح عشا کے ساتھ پڑھتے ہیں یہ کس جگہ لکھا ہوا ہے مجھے بھی بتایا جائے تا کہ علم ہو،خواہ مخواہ میں الگ سے ایک ایشو بنا دیا گیا، ہماری مساجد، عبادتگاہوں سے وائرس پھیلے یہ ہم افورٹ نہیں کر سکتے،جن لوگوں نے آپ کو صدقے دینے ہیں رمضان میں زکوۃ وغیرہ دینی ہے وہ دے کر ہی رہیں گے، آپ کے اکاؤنٹس میں ڈلوا دیں گے، اس پر سوچیں .

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کل میں نے عامر لیاقت کی ایک ٹویٹ پڑھی جس میں انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کی ایک مسجد اور مدرسے میں دس لوگوں کو کرونا ہو گیا ہے اس مسجد اور مدرسے کو سیل کر دیا گیا ہے،اس طرح سے آپ مساجد کو سیل کروانا چاہتے ہیں، اگر کوئی مر گیا تو پھر اس کا کون ذمہ دار ہو گا، اس میسج کو اتنا عام کریں کہ مفتی منیب الرحمان اور ڈاکٹر عارف علوی تک یہ میسج ضرور پہنچے اور وہ اسکو سنیں.

    وبا، سلیم صافی اور مولویوں کا مسئلہ کیا ہے،سنئے مبشر لقمان کی زبانی