Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • میرپور خاص میں بھوک سے حاملہ خاتون وفات پاگئی ، چندے سے تدفین،مگربھٹوپھربھی زندہ ہے

    میرپور خاص میں بھوک سے حاملہ خاتون وفات پاگئی ، چندے سے تدفین،مگربھٹوپھربھی زندہ ہے

    جھڈو:میرپور خاص میں بھوک سے حاملہ خاتون وفات پاگئی ، چندے سے تدفین،مگربھٹوپھربھی زندہ ہے،اطلاعات کےمطابق سندھ میں ضلع میرپور خاص کے شہر جھڈو میں غربت وبھوک کے باعث نبی سرروڈ کے علاقے میں 45سالہ حاملہ خاتون روبینہ پا گئی۔

    میرپورخاص سے ذرائع کےمطابق شوہر اللہ بخش بروہی نے بتایا کہ متوفیہ چھ بچوں کی ماں اور پانچ ماہ کی حاملہ تھی، لاک ڈاون کی وجہ سے بے روزگار ہوں جس کی وجہ سے بیوی پریشان تھی، چوبیس گھنٹے سے گھر میں کھانے پینے کے لیے کچھ نہیں تھا، بیوی کی تدفین بھی علاقے کے لوگوں نے چندہ کرکے کی ہے۔

    دوسری طرف پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت بار بار یہ دعوے کرتی چلی آئی ہے کہ حکومت نے ہرگھرتک راشن پہنچا دیا ہے ، اسی دعوے کو ثابت کرنے کےلیے چیف جسٹس آف پاکستان نے سندھ حکومت سے تفصیلات بھی طلب کیں تھیں کہ ذرا بتایا جائے کہ اربوں روپے کا راشن کس کس کودیا ہے .لیکن سندھ حکومت سپریم کورٹ میں‌ابھی تک رپورٹ جمع نہ کروا سکی

  • امریکہ میں کورونا کی تباہ کاریاں جاری ،ایک ہی روز میں1867افرادچل بسے،مرنے والوں کی تعداد 40ہزارکے قریب پہنچ گئی

    امریکہ میں کورونا کی تباہ کاریاں جاری ،ایک ہی روز میں1867افرادچل بسے،مرنے والوں کی تعداد 40ہزارکے قریب پہنچ گئی

    واشنگٹن :امریکامیں کوروناوائرس نےتباہی مچا دی، ایک ہی روزمیں 1867سے زائدافراد زندگی کی بازی ہار گئے، جس کے بعد مجموعی طور پرامریکہ میں وائرس سےہلاکتوں کی تعداد 39 ہزار651 سے تجاوز کرگئی ۔ امریکہ میں متاثرین کی تعداد ساڑھے 7لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہے جبکہ کورونا کے 29ہزار 216 نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں ۔

    کورونا کے پیش نظر پینٹاگون نے امریکی فوجیوں کے اندرون بیرون ملک سفر کرنے پر 30جون تک پابندی عائد کردی ہے ۔ کینیڈا نے بھی امریکہ کے ساتھ سرحدوں کو ایک ماہ تک مزید بند رکھنے کا اعلان کیا ہے ۔ امریکی ریاست نیویارک مہلک وائرس سے زیادہ متاثر ہوئی ہے ۔ نیویارک میں ہلاکتوں کی تعداد نائن الیون میں مرنے والوں کی تعداد سے زیادہ ہوگئی ، جبکہ صرف نیویارک میں مریضوں کی تعداد دو لاکھ سے بڑھ چکی ہے ۔ قبرستانوں میں جگہ کم پڑنے کی وجہ سے ریاست نیو یارک کے ہارٹ لینڈ جزیرے میں ہلاک ہونے والے افراد کی اجتماعی تدفین کی گئی ۔

    امریکی صدر نے چین کوایک بار پھر دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا کا پھیلاؤ غلطی ہے تو غلطی تو غلطی ہوتی ہے، اگر چین جانتے ہوئے ذمہ دار ہے تو نتائج بھگتنا ہوں گے۔ صدرٹرمپ نے پھر سے چین میں کوروناسے ہلاکتوں پر شک کا اظہار کیا ہے ۔اس حوالے سے مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ چین نے بین الاقوامی سائنسدانوں کو لیبارٹری میں جانے کی اجازت نہیں دی ۔

    دوسری جانب امریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ جاری کی ہے جس میں امریکی صدر کی نااہلی اورناقص کارکردگیوں سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ وبا کی سنگینی سے لاعلم تھی ، امریکہ نے چین کو جنوری ، فروری میں لاکھوں روپے مالیت کا طبی سامان بھیجا ہے ۔امریکہ نے ماہرین کی وارننگ کو نظر انداز کیا ۔

    واضح رہے کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعدادایک لاکھ 63 ہزار سے تجاوزکرگئی ہے جبکہ 23 لاکھ 73ہزار سے زائد افراد اس سے متاثر ہوئے ہیں ۔ دنیا بھر میں 15 لاکھ 74 ہزار مریض زیرعلاج ہیں جبکہ کورونا سے صحت یاب افراد کی تعداد6لاکھ 12 ہزار ہوگئی ہے۔

  • لاہورراجگڑھ میں 6 گھروں میں کرونا کے مریضوں کا انکشاف،علاقہ سیل کردیا گیا

    لاہورراجگڑھ میں 6 گھروں میں کرونا کے مریضوں کا انکشاف،علاقہ سیل کردیا گیا

    لاہور:لاہورراجگڑھ میں 6 گھروں میں کرونا کے مریضوں کا انکشاف،علاقہ سیل کردیا گیا ،اطلاعات کےمطابق لاہور کے علاقہ راجگڑھ میں کرونا وائرس کے 6 مریضوں کی شناخت ہوگئی ہے،یہ مریض مختلف گھروں سے تعلق رکھتے ہیں ،

    ادھرذرائع کے مطابق راجگڑھ میں 6 گھروں میں مریض ہیں ایک مریض سامنے آنے پر 3 گلیوں کے 2 روز پہلے ٹیسٹ کیے گئے تھے،یہ بھی بتایا گیا ہےکہ ایک دودھ دہی کی دکان والے کا ٹیسٹ بھی مثبت آیا وہ بھاگ گیا

    دوسری طرف مقامی لوگوں کا کہنا ہےیہ اسی گلی میں ایک دودھ والا کا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد دودھ والے سے کتنے لوگ متاثر ہوئے ہوں گے ،یہ بات قابل تشویش ہے ،گلیوں میں پولیس کے ناکے لگے ہوئے ہیں اورموٹر سائیکل باہر نکالنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے ، یہ بھی بتایا گیا ہےکہ 5 بجے کے بعد کوئی باہر نہیں نکلے گا

  • حکومت سے وعدے اورمعاہدے ہوامیں اُڑا دیئے گئے ، ایک لاکھ سے زائد افراد کی نمازجنازہ میں شرکت

    حکومت سے وعدے اورمعاہدے ہوامیں اُڑا دیئے گئے ، ایک لاکھ سے زائد افراد کی نمازجنازہ میں شرکت

    چٹاگنگ :حکومت سے وعدے اورمعاہدے ہوامیں اُڑا دیئے گئے ، ایک لاکھ سے زائد افراد کی نمازجنازہ میں شرکت ،اطلاعات کےمطابق کورونا وائرس کے باعث مجمع پر پابندی اور جزوی لاک ڈاؤن نافذ ہونے کے باوجود بنگلہ دیش میں ایک مذہبی رہنما کی نماز جنازہ میں کم از کم ایک لاکھ افراد کی شرکت سے پولیس اور حکومتی عہدیدار بھی حیران رہ گئے۔

    بنگلہ دیش میں بھی دیگر ممالک کی طرح کورونا کے پھیلاؤ سے بچنے کے لیے گزشتہ ماہ مارچ کے وسط سے جزوی لاک ڈاؤن نافذ ہے اور جہاں پبلک ٹرانسپورٹ کو بند کردیا گیا ہے، وہیں مجمع پر بھی پابندی ہے۔بنگلہ دیش میں مساجد میں بھی بہت سارے افراد کے جمع ہونے کی اجازت نہیں ہے جب کہ تفریحی و عوامی مقامات کو بھی بند کردیا گیا ہے۔

    ملک بھر میں گزشتہ ماہ مارچ کے وسط سے نافذ جزوی لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے والوں کو پولیس و سیکیورٹی نافذ کرنے والے ادارے گرفتار بھی کرتے ہیں، تاہم 17 اپریل کو ایک جنازے میں ایک لاکھ افراد کے شریک ہونے پر خود سیکیورٹی ادارے اور حکومت بھی حیران رہ گئی۔

    ترک خبر رساں ادارے اناطولو کے مطابق بنگلہ دیش کی مذہبی جماعت خلافت مجلس کے نائب سربراہ و معروف عالم دین زبیر احمد انصاری کی نماز جنازہ میں کم از کم ایک لاکھ افراد کی شرکت پر خود پولیس اور مقامی انتظامیہ بھی حیران رہ گئی۔ترک خبر رساں ادارے نے اپنی رپورٹ میں مقامی میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ چٹاگانگ ڈویژن کے ضلع برہمنباریا کے ایک مدرسے میں زبیر احمد انصاری کی نماز جنازہ کا اہتمام کیا گیا تھا، جہاں پر دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کا سمندر جمع ہوگیا۔

    مقامی پولیس افسر شہادت حسین ٹیپو نے اناطولو کو بتایا کہ زبیر احمد انصاری 16 اور 17 اپریل کی درمیان شب کو فوت ہوگئے تھے اور ان کی نماز جنازہ 17 اپریل کو نماز جمعہ کے درمیان رکھی گئی تھی۔پولیس افسر کے مطابق وہ عالم دین کے اہل خانہ سے رابطے میں تھے، جنہیں زیادہ سے زیادہ 50 افراد کو جنازے میں آنے کے لیے راضی کیا گیا تھا مگر دیکھتے ہی دیکھتے نماز جنازہ کے مقام پر بہت بڑی تعداد میں لوگ جمع ہونا شروع ہوگئے۔

    پولیس کے مطابق چند درجن اہلکار ہزاروں افراد کے سمندر کے آگے بے بس تھے، اس لیے وہ کچھ نہیں کر سکے اور وہ وہاں پر ایک لاکھ افراد کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔مجمع پر پابندی کے باوجود ایک لاکھ افراد کے جمع ہونے پر دیگر مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی حیرانگی کا اظہار کیا، تاہم انہوں نے اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کے جمع ہونے کو حکومت و انتظامیہ کی نااہلی قرار دیا۔

    مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پولیس و مقامی انتظامیہ کو علم تھا کہ عالم دین زبیر احمد انصاری معروف شخصیت ہیں اور ان کے چاہنے والے پورے بنگلہ دیش میں ہیں اور وہ ان کی نماز جنازہ میں شرکت کی کوشش ضرور کریں گے مگر انتظامیہ نے اس حساب سے انتظامات نہیں کیے۔ترک خبر رساں ادارے کے مطابق عالم دین زبیر احمد انصاری کی نماز جنازہ میں کم از کم ایک لاکھ افراد شریک ہوئے، تاہم بعض رپورٹس کے مطابق جنازے میں شرکت والے افراد کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ تھی۔

    بنگلہ دیش میں بھی جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کی طرح کورونا وائرس کا پھیلاؤ جاری ہے اور وہاں پر 19 اپریل کی شام تک متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ کر 2500 کے قریب جا پہنچی تھی جب کہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 90 سے زائد ہو چکی تھی۔بنگلہ دیش میں عالم دین کی نماز جنازہ میں شرکت سے قبل گزشتہ ماہ بھی کورونا سے بچنے کے لیے دعائیہ اجتماع میں بھی ہزاروں افراد نے شرکت کی تھی اور انتطامیہ بے بس دکھائی دی تھی۔

  • جب اللہ کی طرف سے شدید آندھی اورطوفان آجائے تو کون مقابلہ کرسکتا ہے،طوفان سے گرنا اورہے خودگرانا اورہے،وضاحت آگئی

    جب اللہ کی طرف سے شدید آندھی اورطوفان آجائے تو کون مقابلہ کرسکتا ہے،طوفان سے گرنا اورہے خودگرانا اورہے،وضاحت آگئی

    کرتارپور:جب اللہ کی طرف سے شدید آندھی اورطوفان آجائے تو کون مقابلہ کرسکتا ہے،طوفان سے گرنا اورہے خودگرانا اورہے ،باغی ٹی وی کےمطابق کل رات سخت آندھی اورطوفان کی وجہ سے جہاں ملک بھرمیں بہت نقصان ہوا ہے وہاں کرتارپورمیں حال ہی میں گردوارے پربنے گنبد بھی اپنا وجود برقرار نہ رکھ سکے

    باغی ٹی وی کےمطابق گردوارے پر بنے گنبد ہی نہیں اوربھی چیزیں زمین پرآگریں تھیں ، جس کے بارے میں باغی ٹی وی نے یہ خبردی تھی کہ کیا خوب کام ہوا ہے کہ چند دن بعد ہی کرتارپورہوا کی نظرہوگیا

    ذرائع کےمطابق اس خبرکے بعد کرتارپورانتظامیہ کی طرف سے یہ وضاحت آئی کہ یہ ٹھیک ہےکہ کچھ نقصان ہوا ہے تاہم یہ توہرکوئی جانتا ہے کہ یہ ہوا،آندھی بہت سخت تھا اورایک طوفان برپا تھا جس کے سامنے کون ٹھہرسکتا ہے

    ساتھ ہی وضاحت میں کہا ہے کہ بھارت میں بھی اس پرتنقید کی جارہی ہے لیکن بھارت کو پہلے یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ سخت آندھی اورطوفان کی وجہ سے گرگیا لیکن جلد ہی اسے دوبارہ مرمت کرکے دوبارہ سجا دیا گیا لیکن یہ تونہیں کہ یہ کسی تعصب اورانتقام کی آگ کا شکارہوا ہے ،

    انتظامیہ نے بابری مسجد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ پہلے اس پر ہی نظردوڑا لیں کہ اسے تو شدت پسندی کی وجہ سے گرادیا گیا لیکن وہ آج تک دوبارہ نہ بن سکی

  • مودی کی انتہا پسند ہندوحکومت مسلمانوں پربہت زیادہ ظلم کررہی ہے، باز آجائے ، وزیراعظم عمران خان نے بھارت کو سخت پیغام بھیج دیا

    مودی کی انتہا پسند ہندوحکومت مسلمانوں پربہت زیادہ ظلم کررہی ہے، باز آجائے ، وزیراعظم عمران خان نے بھارت کو سخت پیغام بھیج دیا

    اسلام آباد:مودی کی انتہا پسند ہندوحکومت مسلمانوں پربہت زیادہ ظلم کررہی ہے، باز آجائے ، وزیراعظم عمران خان نے بھارت کو سخت پیغام بھیج دیا ،باغی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم پاکستان عمران خان جہاں ایک طرف کرونا سے لڑرہے ہیں وہاں وہ دوسرے محاذپرکشمیریوں‌اوربھارتی مسلمانوں کےحقوق کے لیے لڑرہے ہیں‌

     

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم پاکستان اپنی تمام ترمصروفیات کے باوجود بھارت کے معاملے پربڑے محترک نظرآتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ بھارت میں مسلمانوں پرہونے والے مظالم کے خلاف عمران خان نہ صرف بیان دیتے ہیں بلکہ باقاعدہ ایک مہم جوئی بھی کررہےہیں‌

    آج اپنے تازہ بیان میں انہوں‌ نے کہا ہےکہ بھارت میں مودی سرکار بھارت میں کرونا وائرس کے خلاف اقدامات کرنے میں بالکل ناکام رہا ہےاسی لیئے وہ مسلمانوں‌پرمظالم کرکے توجہ ہٹانا چاہتا ہے ، یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ وزیراعظم نے مودی کو نازی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہی تاریخ دہرائی جارہی ہے جو نازیوں نے یہودیوں کے خلاف نسلی امتیاز کیا تھا

    وزیراعظم کہتے ہیں‌کہ ہزاروں افرادکوبھوک/مصائب میں پھانسنے والی اپنی ناکام کروناپالیسی کیخلاف ردعمل سےتوجہ ہٹانے کیلئےمودی سرکارکا جان بوجھ کرمسلمانوں کونشانہ ستم بنانا ویسا ہی ہے جیساجرمنی میں نازیوں نے یہودیوں کیساتھ کیا۔نسلی بالادستی کےنظریے ہندوتوا سے مودی سرکار کےگہرے تعلق کا یہ ایک اور ثبوت ہے۔

  • بھارت میں کرونا کے شکارمسلمان مریضوں کا علاج نہ کیا جائے ، مسلمان دشمنی میں ہندو اندھے ہوگئے

    بھارت میں کرونا کے شکارمسلمان مریضوں کا علاج نہ کیا جائے ، مسلمان دشمنی میں ہندو اندھے ہوگئے

    دہلی :بھارت میں کرونا کے شکارمسلمان مریضوں کا علاج نہ کیا جائے ، مسلمان دشمنی میں ہندو اندھے ہوگئے ،باغی ٹی وی کے مطابق بھارت میں ایک طرف کرونا تباہی پھیلارہا ہے اوروہ کسی مسلمان اورغیرمسلم کسی کی تمیز نہیں کررہا ، جہاں ہندوکرونا کا شکارہورہے ہیں وہاں مسلمان بھی متاثرہیں

    ذرائع کےمطابق بھارت میں اسلام دشمنی اورمسلمان دشمنی کے واقعات تیزی سے رپورٹ ہورہے ہیں ،لیکن تازہ رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا ہےکہ بھارت میں کرونا کے شکارمسلمان مریضوں کا علاج کرنے سے انکارکیا جارہاہے،

    ذرائع کےمطابق ایسا ہی ایک واقعہ میروتی کے ہسپتال میں پیش آیا جہاں ہسپتال انتظامیہ نے ایک مسلمان کرونا مریض کا علاج اس لیے کرنے سے انکارکردیا ہے کہ وہ ملسمان ہے ہندونہیں ،

    ادھر مقامی ذرائع کےمطابق یہ پہلا واقع نہیں بلکہ کرونا کے مسلمان مریضوں کے ساتھ بھیانک سلوک کیا جارہاہے جس کی وجہ سے مسلمان سخت پریشان ہیں ،

  • ملک میں ایک ہی دن میں ریکارڈ 18 اموات، مجموعی تعداد 167 ہوگئی،پنجاب میں صحت مند افراد کی تعداد 7 سوسے تجاوزکرگئی

    ملک میں ایک ہی دن میں ریکارڈ 18 اموات، مجموعی تعداد 167 ہوگئی،پنجاب میں صحت مند افراد کی تعداد 7 سوسے تجاوزکرگئی

    اسلام آباد :ملک میں ایک ہی دن میں ریکارڈ 18 اموات، مجموعی تعداد 167 ہوگئی،پنجاب میں صحت مند افراد کی تعداد 7 سوسے تجاوزکرگئی ،اطلاعات کے مطابق دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی تیزی سے پھیل رہا ہے اور یہاں مزید نئے کیسز کے بعد متاثرہ افراد کی تعداد 8 ہزار 212 ہوگئی جبکہ اسلام آباد، سندھ اور خیبرپختونخوا میں مزید 19 اموات کے بعد مجموعی تعداد 167 تک پہنچ چکی ہے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران خیبرپختونخوا میں مزید 10 جبکہ سندھ میں مزید 8 اموات رپورٹ ہوئی ہیں جو وائرس کی ابتدا سے اب تک کسی بھی صوبے میں رپورٹ ہونے والی اموات کی سب سے زیادہ تعداد ہے جبکہ اسلام آباد میں مزید ایک موت رپورٹ ہوئی ہے جس کے بعد ملک میں وائرس سے اموات کی مجموعی تعداد 167 ہوگئی ہے۔

    پنجاب
    صوبہ پنجاب کے پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر ڈیپارٹمنٹ (کورونا مانیٹرنگ روم) کے ترجمان کے مطابق صوبے میں کورونا وائرس کے مزید 37 کیس رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد مجموعی تعداد 3686 ہو گئی۔ترجمان کے مطابق کورونا وائرس سے اب تک صوبے میں مجموعی طور پر 41 اموات رپورٹ ہوئی ہیں جبکہ 702 افراد صحتیاب ہوئے ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبے میں اب بھی 17 مریض تشویشناک حالت میں ہیں۔ترجمان پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر نے عوام سے درخواست کی کہ حفاظتی تدابیر اختیار کرکے خود کو محفوظ بنائیں اور متاثرہ ممالک سے آئے افراد میں آئسولیشن کے دوران علامات ظاہر ہوں تو 1033 پر رابطہ کریں۔

    سندھ
    وزیراعلیٰ سندھ نے ویڈیو بیان میں صوبے میں کورونا وائرس کے کیسز کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 182 کیسز کی تصدیق کی گئی۔انہوں نے کہا کہ اسی دوران ملک میں 8 اموات بھی رپورٹ ہوئیں جو اب تک سندھ میں رپورٹ ہونے والی اموات کی سب سے زیادہ تعداد ہے، جس کے بعد صوبے میں مجموعی اموات 56 تک پہنچ چکی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران کورونا وائرس کے 33 متاثرین صحتیاب ہوکر گھروں کو واپس لوٹ گئے۔

    خیبرپختونخوا
    خیبرپختونخوا میں گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران مزید 60 کیسز رپورٹ ہوئے۔صوبائی وزیر خزانہ اور صحت تیمور خان جھگڑا نے بتایا کہ کورونا وائرس سے مزید 10 اموات ہوئی ہیں۔

    خیال رہے کہ وائرس کی ابتدا سے اب تک کسی بھی صوبے میں رپورٹ ہونے والی اموات کی یہ سب سے زیادہ تعداد ہے، جس کے بعد ملک میں وائرس سے اموات کی مجموعی تعداد 158 تک پہنچ چکی ہے۔صوبائی وزیر نے بتایا کہ پشاور اور سوات میں بالترتیب 4، 4 جبکہ ابیٹ آباد اور مردان میں بالترتیب ایک ایک موت رپورٹ ہوئی۔فراہم کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں مجموعی کیسز کی تعداد ایک ہزار 137 جبکہ صوبے میں مجموعی اموات 60 ہوگئی۔

    اسلام آباد
    علاوہ ازیں وائرس سے متعلق تازہ اطلاعات فراہم کرنے والی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق اسلام آباد میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 8 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد مجموعی تعداد 171 ہوگئی۔سرکاری اعداد وشمار کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید ایک موت بھی رپورٹ ہوئی ہے جس کے بعد اسلام آباد میں مجموعی اموات کی تعداد 2 ہوگئی ہے۔

    گلگت بلتستان
    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گلگت بلتستان میں بھی کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ جارہی ہے۔گلگت بلتستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 7 نئے کیسز سامنے آنے کے بعد وہاں متاثرین کی مجموعی تعداد 257 ہوگئی۔

    صحتیاب
    تاہم جو چیز اس تمام بحرانی صورتحال کے باوجود اُمید کی کرن نظر آتی وہ مریضوں کا تیزی سے صحتیاب ہونا ہے۔ملک میں کیسز میں تیزی سے اضافے کے ساتھ ہی اس سے صحتیاب ہونے والوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے اور مزید 36 افراد نے وائرس کو شکست دے دی ہے۔ان نئے اعداد و شمار کے بعد ملک میں صحتیاب افراد کی تعداد 1868 تک پہنچ چکی ہے۔

    مجموعی صورتحال
    مزید برآں اگر ہم ملک کے کیسز کو صوبوں اور علاقوں کے حساب سے ایک نظر میں دیکھیں تو پنجاب میں 3686، سندھ میں 2537، خیبرپختونخوا 1137 کیسز ہیں۔اسی طرح بلوچستان میں 376، گلگت بلتستان 257، اسلام آباد 171 اور آزاد کشمیر میں 48 افراد وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔

    کورونا وائرس کی وجہسے ملک میں سب سے زیادہ اموات اب تک خیبرپختونخوا میں سامنے آئی ہیں جبکہ دوسرے نمبر صوبہ سندھ ہے۔

    خیبرپختونخوا: 60
    سندھ: 56
    پنجاب: 41
    بلوچستان: 5
    گلگت بلتستان: 3
    اسلام آباد: 2
    آزاد کشمیر: کوئی نہیں

  • شیخ رشید شہبازشریف کو کچھ نہ کہیں ، عوام کوریلیف دینے پرتوجہ دیں ، رانا ثنا اللہ شیخ رشید کے بیان پرجزباتی ہوگئے

    شیخ رشید شہبازشریف کو کچھ نہ کہیں ، عوام کوریلیف دینے پرتوجہ دیں ، رانا ثنا اللہ شیخ رشید کے بیان پرجزباتی ہوگئے

    لاہور:شیخ رشید شہبازشریف کو کچھ نہ کہیں ، عوام کوریلیف دینے پرتوجہ دیں ، رانا ثنا اللہ شیخ رشید کے بیان پرجزباتی ہوگئے،اطلاعات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ(ن) پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ خاں کا وزیر ریلوے شیخ رشید کے بیان پر ردعمل سامنے آیا ہے اورساتھ انہوں نے کہا ہےکہ شیخ رشید شہبازشریف کو کچھ نہ کہیں‌

    رانا ثنااللہ نے شیخ رشید کے بیان پرغصے کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ شیخ رشید کے لئے سیاست سے باز رہنا ممکن نہیں لیکن عوام کے گھر کورونا کے ماتم کے دوران سیاست نہ کریں تو اچھا ہے،کاش اس موقع پر زبان درازی کے بجائے حکمران عوام کی خدمت کے لئے خود کو وقف کر دیں

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عوام اِس وقت شیخ صاحب کی گالی گلوچ اور بدزبانی کی متحمل نہیں ہو سکتی ،مسلم لیگ ن کی ترجیح عوام کی خدمت پر توجہ مرکوز رکھنا ہے،انہوں نے کہا کہ اِس وقت عوام کو سہارا اور ہمت دینے ، ہمدردی کی زبان بولنے کا وقت ہے

    رانا ثنااللہ نےکہا کہ شیخ صاحب عوام اِس وقت آپ کے منہ سے سیاست ، بدزبانی اور گالی گلوچ نہیں بلکہ ہمدردی کے دو بول سُننا چاہتی ہے،آج شہباز شریف پر توجہ نہیں بلکہ عوام کے ریلیف ، راشن اور روزگار پہ توجہ ہونی چاہئیے

    یاد رہے کہ آج وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ آئی پی پیز، شوگر اسکینڈل اور قرض معاف کرانے والے انجام کو پہنچیں گے۔وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے لاہور ریلوے اسٹیشن پر قلیوں اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین میں راشن تقسیم کیا۔

    اس موقع پر شیخ رشید کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کورونا کنٹرول میں ہے، امریکا اور یورپی ممالک کی طرح لوگ نہیں مررہے، پاکستان پر اللہ خاص کرم کرے گا۔انہوں نے کہا کہ غریب آدمی کو تو راشن مل رہا ہے لیکن مسئلہ سفید پوش کا ہے جو ہاتھ پھیلانا توہین سمجھتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے بین الاقوامی اداروں سے قرض معاف کرنے کی بات کی اور قرض ایک سال کےلیے ملتوی کرائے۔آٹا چینی بحران کی تحقیقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ فرانزک رپورٹ آئے گی، آئی پی پیز، شوگر اسکینڈل اور قرض معاف کرانے والے انجام کو پہنچیں گے۔

  • کرونا وائرس ہم نے نہیں بنایاالبتہ ہم نے کرونا پرتجربات کئے ہیں وہان لیبارٹری کا اقرار، چین مارا گیا ، نئی جنگ شروع ہوسکتی ہے

    کرونا وائرس ہم نے نہیں بنایاالبتہ ہم نے کرونا پرتجربات کئے ہیں وہان لیبارٹری کا اقرار، چین مارا گیا ، نئی جنگ شروع ہوسکتی ہے

    بیجنگ :کرونا وائرس کوتیارتو نہیں کیا البتہ ہم نے کرونا پرتجربات کئے ہیں وہان لیبارٹری کا اقرار، چین مارا گیا ، نئی جنگ شروع ہوسکتی ہے،اطلاعات کے مطابق چینی شہر ووہان کے انسٹی ٹیوٹ آف ورولاجی نے پہلی بار وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں کوئی صداقت نہیں کہ کورونا وائرس کو ان کی لیبارٹری میں تیار کیا گیا۔مگریہ بات ٹھیک ہے کہ وہان میں کرونا وائرس پرتجربات اورتحقیق ضرور ہوئی ہے

    ذرائع کے مطابق دنیا بھر میں 19 اپریل کی سہ پہر تک 23 لاکھ سے زائد افراد کو متاثر کرنے اور ایک لاکھ 60 ہزار سے زائد انسانی زندگیوں کا خاتمہ کرنے والے کورونا وائرس کا آغاز ووہان سے دسمبر 2019 کے وسط میں ہوا تھا۔
    کورونا وائرس کے شروع ہوتے ہی یہ افواہیں شروع ہوگئی تھیں کہ ممکنہ طور پر اس وائرس کو لیبارٹری میں تیار کیا گیا، مگر تاحال ایسے دعوے کرنے والوں کے پاس کوئی ثبوت نہیں۔دنیا بھر کے ماہرین، سیاستدانوں اور عام افراد میں کورونا وائرس کو قدرتی بیماری سمجھنے کے حوالے سے اختلاف پایا جاتا ہے، تاہم ایسے اختلافات میں گزشتہ ہفتے سے شدت دیکھی جا رہی ہے۔

    گزشتہ ہفتے امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٖغیر واضح طور پر کہا تھا کہ امریکی حکومت اس بات کی تفتیش کر رہی ہے کہ کیا واقعی کورونا وائرس چین کی کسی لبیارٹری میں تیار ہوا؟اسی حوالے سے امریکی نشریاتی اداروں سی این این اور فاکس نیوز نے اپنی رپورٹس میں امریکی حکومت اور خفیہ اداروں کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ اگرچہ زیادہ تر امریکی حکومتی عہدیداروں اور سائنسی ماہرین کو یقین ہے کہ کورونا لیبارٹری میں تیار نہیں ہوا، تاہم اس باوجود امریکی حکومت نے اس معاملے کی تفتیش کا حکم دے دیا ہے۔

    واشنگٹن پوسٹ نے بھی اسی حوالے سے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ چین میں موجود امریکی سفارت خانے نے 2018 میں ہی امریکی محکمہ خارجہ کو بھیجے گئے پیغامات میں عندیہ دیا تھا کہ ووہان انسٹی ٹیوٹ میں غیر معمولی تحقیقات ہو رہی ہیں اور وہاں پر وائرس سے بچنے کے سخت اقدامات بھی نہیں۔

    فاکس نیوز کے مطابق یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ دراصل ووہان انسٹی ٹیوٹ آف ورولاجی کی لیبارٹری میں کورونا جیسے ہی کسی وائرس پر تحقیق کرنے والا ایک رکن اس وائرس میں مبتلا ہوگیا تھا جو ووہان کی گوشت مارکیٹ گیا، جس کے بعد اس متاثرہ شخص سے وائرس پہلے گوشت مارکیٹ میں پھیلا اور پھر پورے شہر میں، تاہم اس حوالے سے بھی کوئی ثبوت دستیاب نہیں۔مذکورہ رپورٹس آنے کے بعد چینی وزارت خارجہ نے کورونا وائرس کے لیبارٹری میں تیاری سے متعلق الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ عالمی ادارہ صحت بھی کہہ چکا ہے کہ کورونا کی لیبارٹری میں تیاری کے کوئی ثبوت نہیں۔

    ایسی رپورٹس آنے کے بعد امریکی و اسرائیلی میڈیا میں بھی اس حوالے سے مزید رپورٹس سامنے آئیں جن میں بتایا گیا کہ ووہان انسٹی ٹیوٹ آف ورولاجی کو امریکی و کینیڈین حکومت نے بھی تحقیق کے لیے فنڈز فراہم کیے، تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ دونوں حکومتوں نے ووہان لیبارٹری کو کورونا وائرس کے لیے فنڈز دیے یا کسی اور تحقیق کے لیے رقم فراہم کی۔

    اسرائیلی میڈیا نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ چین میں کورونا پھیلنے سے قبل ہی چین میں موجود امریکی سفارتخانے اور خفیہ اہلکاروں نے امریکی حکومت کو خبردار کیا تھا کہ جلد ہی ایک وائرس دنیا میں پھیلنے والا ہے اور بعد ازاں اس خبر سے اسرائیل کو بھی آگاہ کردیا گیا۔

    لیکن چینی حکام ایسے الزامات اور سازشی مفروضوں کو مسترد کرتے آئے ہیں اور اب ووہان انسٹی ٹیوٹ آف ورولاجی کے سربراہ کا بیان بھی سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے کورونا کو لیبارٹری میں تیار کرنے کے الزامات کو مسترد کردیا۔

    امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کے مطابق ووہان انسٹی ٹیوٹ آف ورولاجی کے سربراہ ڈاکٹر یوآن زمنگ نے کورونا وائرس کو لیبارٹری میں تیار کرنے کے سازشی مفروضوں کو مسترد کیا اور کہا کہ یہ ناممکن اور جھوٹ ہے کورونا کو ہمارے ادارے کی لیبارٹری میں تیار کیا گیا۔

    ڈاکٹر یوآن زمنگ کا کہنا تھا کہ یہ گمراہ کن باتیں ہیں کہ کورونا کو ہماری لیبارٹری میں تیار کیا گیا، ایسے باتیں پھیلا کر لوگوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے، ایسا ممکن ہی نہیں کہ کورونا ہماری لیبارٹری میں تیار ہوا ہو، اس کے کوئی بھی ثبوت نہیں ہیں اور ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔

    ووہان انسٹی ٹیوٹ آف ورولاجی کے سربراہ نے چینی سرکاری نشریاتی ادارے سی جی ٹی این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی لیبارٹری کا کوئی بھی رکن کورونا وائرس سے متاثر نہیں ہوا تھا، ایسی باتوں میں کوئی سچائی نہیں اور وہ اس بات پر حیران ہیں کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ کورونا ان کی لیبارٹری میں بنا اور پھر وہاں سے پھیلا۔

    ڈاکٹر یوآن زمنگ کے مطابق پوری دنیا جانتی ہے کہ ہمارا ادارا کس طرح کی تحقیقات پر کیسے کام کرتا ہے، ہماری لیبارٹریز میں کورونا وائرس جیسے دیگر خطرناک وائرسز پر تحقیقات ہوتی ہیں لیکن ایسا کوئی راستہ نہیں کہ کورونا ہماری لیبارٹری میں تیار ہوا اور وہیں سے پھیلا۔

    واضح رہے کہ ووہان انسٹی ٹیوٹ آف ورولاجی دنیا میں حیاتیاتی تحقیق کے حوالے سے چند نامور اداروں میں سے ایک ہے اور یہ تحقیقاتی ادارہ اسی شہر کی گوشت مارکیٹ سے 20 کلو میٹر سے بھی کم فاصلے پرموجود ہے۔ووہان شہر کا شمار نہ صرف چین بلکہ دنیا کے بڑے شہروں میں بھی ہوتا ہے، وہاں کی آبادی سوا ایک کروڑ تک ہے، اسی شہر میں متعدد طبی، حیاتیاتی و ٹیکنالوجی تحقیقاتی ادارے موجود ہیں۔

    ابتدائی طور پر کورونا وائرس کے کیسز اسی شہر میں رپورٹ ہوئے تھے اور یہاں پر ڈھائی ماہ کے دوران 80 ہزار سے زائد افراد کورونا سے متاثر ہوئے تھے اور اسی دوران ووہان شہر میں لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا تھا۔

    ووہان میں مارچ 2020 کے آغاز میں ہی چینی حکام نے کورونا پر قابو پالیا تھا اور جب ووہان سے لاک ڈاؤن ختم کیا جا رہا ہے تھا تو دنیا کے باقی ممالک میں لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے کورونا دنیا بھر میں پھیل گیا اور دیگر ممالک میں چین سے زیادہ مریض اور وہاں سے زیادہ ہلاکتیں بھی ہوئیں۔

    کورونا وائرس سے سب زیادہ متاثرہ ملک امریکا ہے، جہاں پر 19 اپریل کی سہ پہر تک کورونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد ساڑھے 7 لاکھ جب کہ ہلاکتوں کی تعداد 40 ہزار تک جا پہنچی تھی۔مجموعی طور پر دنیا کے 190 کے قریب ممالک میں 19 اپریل کی سہ پہر تک کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 23 لاکھ سے زائد جب کہ ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ 60 ہزار سے زائد ہو چکی تھی۔