کراچی:پی آئی اے نے پائلٹ اور فضائی میزبانوں کے تربیتی کورسز سے بڑا فیصلہ کرلیا ،اطلاعات کےمطابق کرونا وائرس کے احتیاطی اقدامات کے ساتھ پائلٹ اور فضائی میزبانوں کی مدت مکمل کرنے والے کورسز کا دورانیہ بڑھا دیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کاک پٹ اور کیبن کریو کے کورسز اور ٹریننگ کی مدت میں اضافہ کر دیا۔پی آئی اے سمیت نجی ایئر لائنز، چارٹرڈ طیاروں کے پائلٹس اور فضائی میزبانوں کے لائسنس میں تین ماہ کی چھوٹ دے دی گئی۔
کرونا وائرس کے خطرہ کے پیش نظر فضائی آپریشن اور ٹریننگ کلاسز پہلے ہی معطل کی جا چکی ہیں تاہم پائلٹ اور فضائی میزبانوں کے لائسنز جن کی مدت ختم ہو رہی تھی اور ریفریشرز کورسز کی مدت میں بھی توسیع کر دی ہے۔
پائلٹ اور فضائی میزبانوں کی سیفٹی ایمرجنسی پروسیجر ریفریشر ویٹ ڈرل سیکیوریٹی کی مدت میں تین ماہ کی چھوٹ دی گئی ہے۔
سی اے اے کی جانب سے پائلٹس اور فضائی میزبانوں کو ٹریننگ کی مدت میں 30 جون 2020 تک کی چھوٹ دی گئی،ڈینجرز گڈز ریگولیشن،کریو ریسورس منیجمنٹ اور سیکیوریٹی منیجمنٹ سسٹم والے سرٹیفکیٹ کی مدت میں بھی 30 جون تک رعایت دی گئی ہے۔
اسلام آباد:حکومت کا میڈیا کے 1.8 ارب روپے کے بقایاجات ادا کرنے کا فیصلہ،میڈیا مالکان خوش ہوگئے ،اطلاعات کےمطابق میڈیا انڈسٹری کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے وفاقی حکومت نے میڈیا کے بقایاجات ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق میڈیا کو درپیش مالی مشکلات کا ازالہ کرنے کے لیے وفاقی حکومت نے میڈیا کو 1.8 ارب روپے کے بقایاجات جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے.پی ٹی آئی حکومت کےذمے1.8 ارب کےبقایاجات واجب الادا تھے جو حکومت نے اس کٹھن اور مشکل وقت کے تناظر میں میڈیا کو ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
چند روز قبل ملک میں کرونا وائرس کی وبا کے دوران میڈیا انڈسٹری اور ورکرز کے تحفظ کے لیے اقدامات کے پیش نظر وزیر اعظم عمران خان نے 5 رکنی کمیٹی قائم کی تھی۔کمیٹی شفقت محمود، فردوس عاشق اعوان، شہزاد اکبر اور شہباز گل پر مشتمل ہے، کمیٹی کو سفارشات کا جائزہ لینے اور مسائل کا حل نکالنے کا ٹاسک سونپ دیا گیا تھا ۔
اس حوالے سے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کے درپیش چیلنج سے نمٹنے میں میڈیا کا کلیدی کردار ہے، کرونا وائرس کی صورت حال میں صحافی اور میڈیا ورکرز بھی ہر اول دستے کا کردار ادا کر رہے ہیں، ہم میڈیا ورکرز کا تحفظ، انڈسٹری کی مشکلات کم کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔
لاہور:سول ڈیفنس کرونا کے خلاف شہریوں کوبتانے لگا کہ اپنا دفاع کیسے ہوگا،اطلاعات کےمطابق سول ڈیفنس لاہور (کوئیک رسپانس گروپ) کی کورونا کے خلاف آگاہی مہم جاری
ذرائع کےمطابق آج سول ڈیفنس کی طرف سے جمعرات کے دن لاہور کے علاقہ مصطفی ٹاؤن اور سبزہ زار میں کورونا وائرس کی روک تھام کے حوالے سے شہریوں میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے لوگوں کے ہاتھوں کو سینیٹائز کیا گیا.
سول ڈیفنس لاہور (کوئیک رسپانس گروپ) کے رضاکاروں کی جانب سے لوگوں کو بار بار ہاتھ دھونے اور اسی طرح بازاروں میں دوکانوں کے باہر نشاندہی کر کے لوگوں کو سماجی فاصلہ اپنانے کی تلقین کی گئی، واضح رہے کہ سول ڈیفنس لاہور کے رضاکار کورونا کے خلاف مقامی سطح پر بھرپور مہم جاری رکھے ہوئے ہیں،
لندن :لوگوں کے قریب کھانسنے یا تھوکنے والے کو 2 سال تک قید کی تجویز،اطلاعات کےمطابق دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والے کورونا وائرس کی وجہ سے کھانسنے، چھینکنے اور لوگوں کے قریب تھوکنے والے افراد پر کورونا کے مریض ہونے کے شبہ کی وجہ سے مسائل بڑھ رہے ہیں اور ایسے مسائل کے پیش نظر متعدد ممالک میں سخت اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔
اس وقت دنیا بھر میں لوگ ڈاکوؤں اور مجرموں کے مقابلے چھینکنے اور کھانسنے والے افراد سے زیادہ ڈر رہے ہیں اور ایسے ہی افراد کو سب سے بڑا خطرہ سمجھا جا رہا ہے۔کھانسنے اور چھیکنے جیسی علامات کو کورونا وائرس کی ابتدائی علامات بھی تصور کیا جاتا ہے، تاہم یہ لازمی نہیں ہے کہ چھینکنے اور کھانسنے والے افراد کورونا سے متاثر ہوتے ہیں۔
برطانیہ کی ریاستوں انگلینڈ اور ویلز نے سخت ضوابط کی تجویز پیش کرتے ہوئے لوگوں کے قریب کھانسنے اور تھوکنے والے افراد کو 2 سال تک قید کی سزا کی تجویز پیش کردی۔
برطانوی اخبار دی انڈیپینڈنٹ کے مطابق انگلینڈ اور ویلز میں پہلے سے ہی کھانسنے اور تھوکنے والے افراد کے حوالے سے سخت ضوابط نافذ ہیں، تاہم نئی تجاویز کے مطابق کھانسنے والے افراد کو 2 سال کی سزا بھی دی جا سکے گی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ انگلینڈ اور ویلز کے محکمہ انصاف کی جرائم پر سزائیں تجویز کرنے والی کونسل نے ایک مجوزہ بل پیش تیار کیا ہے جس کے تحت لوگوں کے قریب کھانسنے اور تھوکنے والے شخص کو 2 سال تک جیل کی سزا دی جا سکے گی۔
روم:محبت کی طاقت سے کورونا کو شکست دینے والوں سے ہرکوئی متاثر،اطلاعات کے مطابق اٹلی میں ایک معمر جوڑے نے اپنی شادی کی 50 ویں سالگرہ اس ہسپتال کے بستروں پر ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر منائی، جہاں ان کا نئے نوول کورونا وائرس کا علاج چل رہا ہے۔
73 سالہ جیانکارلو اور 71 سالہ ساندرا وینٹی لیٹر پر تھے اور ایک دوسرے کے ہاتھ تھامے ہوئے تھے اور اس منظر کو نرس رابرٹا فیریٹی نے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرلیا اور اب یہ تصویر انٹرنیٹ پر وائرل ہوچکی ہے۔4 اپریل کو ان کی شادی کی سالگرہ تھی اور اب یہ جوڑا صحتیاب ہوکر ہسپتال سے گھر واپس جاچکا ہے۔
نرس نے مقامی میڈیا کو بتایا ‘ساندرا بہت زیادہ رو رہی رہی تھی، مگر اپنے لیے نہیں بلکہ وہ اپنے شوہر کے لیے بہت فکرمند تھی، جبکہ ان کے شوہر نے مجھے بتایا تھا کہ وہ اپنی بیوی سے کتنی محبت کرتا ہے اور اتنے برسوں بعد بھی اس میں کمی نہیں آسکی، جب ہمیں معلوم ہوا کہ ان کی شادی کی سالگرہ ہے تو میں نے سوچا کہ اسے منایا جانا چاہیے’۔یہ تقریب 10 منٹ تک چلتی رہی اور اس دوران عملے نے حفاظتی ملبوسات کا استعمال کیا۔
طبی عملے نے ایک چھوٹے کیک کے ارگرد 50 موم بتیاں رکھ دیں مگر انہیں روشن نہیں کیا کیونکہ آکسیجن کے قریب ان کو جلانا ممکن نہیں تھا، جوڑے کے بستروں کو اتنا قریب کردیا کہ وہ اپنے ہاتھ تھام سکیں، جبکہ نرسز اور دیگر نے ارگرد جمع ہوکر اپنے ہاتھوں سے دل کے نشان بنائے۔
رابرٹا فیریٹی نے کہا ‘وہ بہت اچھا لمحہ تھا، بہت خوبصورت، اس طرح کے لمحات ہی ہمارے اندر موجودہ حالات میں ہر طرح کی قربانی دینے کا حوصلہ پیدا کرتے ہیں’۔انہوں نے کہا ‘جیانکارلو مسلسل دہراتے رہے کہ وہ ساندرا سے کتنی محبت کرتے ہیں، یہ دیکھ کر ہماری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، ہوا میں اس محبت کا احساس ہورہا تھا جس کا تعاقب زندگی بھر لوگ کرتے ہیں’۔
جکارتا: کرونا سے نہ ڈرنے والوں کے لیے "بھوتوں "کی ٹیم نے خوف کی فضا پیدا کردی ،اطلاعات کے مطابق انڈونیشیا میں اس وقت بڑی تعداد میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریض موجود ہیں تاہم اب بھی عوام باہر نکلنے سے باز نہیں آرہے اور اب نوجوانوں نے بھوتوں کا روپ دھار کر انہیں ڈراکر گھر بھجوانا شروع کردیا ہے۔
انڈونیشیا میں جنوں اور بھوتوں کے قصے بہت مشہور ہیں اور لوگوں کی بڑی اکثریت ان پر یقین بھی رکھتی ہے۔ اسی معاشرتی رحجان کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جاوا جزیرے کے نوجوانوں نے رات کی تاریکی میں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے والوں کو بھوتوں کی صورت میں ڈرانا اور بھگانا شروع کردیا ہے۔
انڈونیشیا کے صدر ملک میں دو ہفتے کے لاک ڈاؤن کا اعلان کرچکے ہیں لیکن لوگوں کی اکثریت اس کی خلاف ورزی کررہی ہے۔ لوگ نہ اپنی صحت وصفائی کا خیال رکھ رہے ہیں اور نہ ہی ایک دوسرے سے فاصلہ رکھنے پر راضی ہیں۔ اس جزیرے پر بھی جنوں، بھوتوں اور آسیب کی سینکڑوں کہانیاں مشہور ہیں جن کی بنا پر بھوتوں نے لوگوں کو ڈرانا شروع کردیا ہے۔
سینٹرل جاوا کے علاقے کیپوح میں بہت سے نوجوان بھوتوں کے روپ میں سڑکوں پر گشت کرتے ہیں ۔ ان کے میک اپ اور اداکاری سے کئی لوگ خوفزدہ ہوکر اب گھروں میں دبکنے پر مجبور ہوچکے ہیں لیکن اب بھی کچھ منچلے باز نہیں آرہے۔ اس گاؤں میں نوجوانوں کی ٹیم کے سربراہ انجار پنسنگاتیاز نے بتایا کہ انہیں اس غیرمعمولی کام میں پولیس کی مکمل حمایت حاصل ہے۔
گروپ سے وابستہ افراد کفن جیسا لباس پہن کر چہرے پر کبھی سیاہ یا کبھی مردے کا میک اپ کرکے ’پوچونگ‘ بن جاتے ہیں۔ یہاں پوچونگ بھٹکتی ہوئی روحوں کو کہتے ہیں جو عموماً کفن میں ملبوس ہوتی ہے۔ رضاکار پوچونگ کی صورت میں اندھیرے میں کھڑے ہوجاتے ہیں اور قریب آنے والوں کو اچانک ڈراتے ہیں۔ کبھی کبھی ایک یا دو لڑکے کفن کا لباس پہن کر ایک ہی جگہ خاموشی سے بیٹھے رہتے ہیں۔
اس علاقے میں اب رات کے وقت سڑکوں پر آنے والے افراد اور بچوں کی شرح بھی کم ہوگئی ہے لیکن کچھ نوجوان اب کوشش کررہے ہیں کہ بھوتوں کا روپ دھارنے والوں کو بھی کسی طرح قابو کیا جائے۔
بیجنگ :حالات بدل گئے ، امریکہ پرکرونا وائرس کا الزام لگانے والا چین دفاعی پوزیشن میں آگیا،بہت اہم بیان دے دیا،اطلاعات کےمطابق چینی حکومت نے کہا ہے کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) بھی متعدد بار کہہ چکا ہے کہ دنیا بھر میں 20 لاکھ سے زائد افراد کو متاثر کرنے والا کورونا وائرس کسی لیبارٹری میں تیار نہیں کیا گیا۔
چینی حکومت کی جانب سے یہ وضاحتی بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کہ یہ خبریں سامنے آئی ہیں کہ امریکی خفیہ ایجنسیوں نے اس بات کی تحقیقات شروع کردی ہے کہ کیا واقعی کورونا کو کسی لیبارٹری میں تیار کیا گیا؟
امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز اور سی سی این کی رپورٹس کے مطابق امریکی حکومت نے خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں کی مدد سے اس بات کی تفتیش شروع کردی ہے کہ کیا واقعی مہلک وبا کو کسی لیبارٹری میں تیار کیا گیا؟
رپورٹس میں امریکی خفیہ ذرائع و حکومتی ذرائع سے بتایا گیا تھا کہ اگرچہ بیشتر حکومتی و خفیہ ایجنسی کے عہدیداروں کو یقین ہے کہ کورونا کو کسی لیبارٹری میں تیار نہیں کیا گیا، تاہم اس باوجود امریکی حکومت نے اس کی تحقیقات شروع کردی ہے کہ کہیں کورونا کے چین کے شہر ووہان کی کسی لیبارٹری میں تو تیار نہیں کیا گیا۔
امریکی حکومت کی جانب سے کورونا کو لیبارٹری میں تیار کرنے کے حوالے سے تفتیش شروع کرنے کی خبریں ایک ایسے وقت میں سامنے آئیں جب کہ چند دن قبل ہی امریکی صدر نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اس بات کا عندیہ دیا تھا کہ امریکی حکومت اس بات کو دیکھ رہی ہے کہ کورونا لیبارٹری کی پیداوار تو نہیں۔
یاد رہےکہ امریکی ٹی وی سی این این نے 16 اپریل کو اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ امریکی حکومت نے خفیہ ایجنسیوں کے عہدیداروں کی مدد سے کورونا کے لیبارٹری میں تیار ہونے کے معاملے کی تفتیش کا آغاز کردیا۔
ایران میں حقیقی طور پر کرونا سے کتنے لوگ متاثر تہلکہ خیز اعداد و شمار آگئے
باغی ٹی وی :ایران میں کورونا وائرس کے حوالے سے تشویشناک اعداد و شمار سامنے آئے ہیںِ ایران کی پالیمنٹ نے بتایا ہے کہ ملک میں کرونا کے متاثرہ افراد کی اصل تعداد سرکاری اعداد شمار سے کہیں زیادہ ہے۔
ذرائع کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے اسٹڈی سینٹر کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اب تک ایران میں کرونا وائرس سے 8600 افراد ہلاک اور متاثرہ افراد کی تعداد چھ لاکھ سے ساڑھے سات لاکھ افراد کے درمیان ہے۔
اگر ایران میں کرونا کی وباء اسی شدت کے ساتھ جاری رہی اور حکومت کی طرف اس کی روک تھام کے لیے مداخلت نہیں کی گئی تو ایران کی 8 کروڑ تیس لاکھ کی آبادی میں چھ کروڑ افراد کرونا کا شکار ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران میں کرونا مزید 400 دن تک رہ سکتا ہے اور آئندہ نومبر میں یہ بیماری عروج پر پہنچ سکتی ہے۔ایرانی پارلیمانی ریسرچ سینٹر کی رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ مذکورہ تفصیلات ایرانی وزات صحت کے ایک خفیہ ذریعے سے حاصل کی گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اگر حکومت نے 10 فی صد مداخلت کی تو چو بیس ملین لوگ کرونا سے بیمار اور تیس ہزار ہلاک ہوسکتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دارالحکومت تہران میں متاثرہ افراد کی تعداد پانچ لاکھ 30 ہزا تک پہنچ سکتی ہے جب کہ ہلاکتیں 6500 ہوگئی ہیں.
اٹلی میں کورونا مزید پانچ سو اٹھہتر جانیں نگل گیا اور ساڑھے اکیس ہزار سے زائد اموات ہوچکی ہیں۔ فرانس میں ایک ہی دن میں چودہ سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ فرانس میں مجموعی ہلاکتیں سترہ ہزار سے زائد ہیں۔ جرمنی میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے سبب ستانوے افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
برطانیہ میں کورونا سے مزید سات سو اکسٹھ افراد چل بسے اور اموات کی تعداد تیرہ ہزار کے قریب ہو گئی ہے۔برطانیہ میں ایک لاکھ کے قریب کیسز ہیں۔ بیلجیم میں چوالیس سو اور نیدر لیںڈز میں اکتیس سو سے زائد افراد کورونا وائرس کے سبب ہلاک ہوچکے ہیں۔
بھارتی حکومت نے 14 اپریل کو لاک ڈاؤن کی مدت میں مزید 3 ہفتوں کی توسیع کرتے ہوئے اسے تین مئی تک بڑھا دیا تھا تاہم اب حکومت نے اپنے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے متعدد کاروبار کھولنے کی اجازت دے دی۔
14 اپریل کو وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے خطاب میں لاک ڈاؤن کو تین مئی تک برقرا رکھنے کا اعلان کیا، تاہم انہوں نے عندیہ دیا تھا کہ لاک ڈاؤن کے نئے مرحلے میں کچھ نرمیاں کی جا سکتی ہیں اور 15 اپریل کو حکومت نے لاک ڈاؤن میں نرمی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔
مرکزی حکومت کی جانب سے ریاستوں حکومتوں کو بھجوائے گئے نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ 20 اپریل سے لاک ڈاؤن میں نرمی کرتے ہوئے متعدد کاروبار کو کھولنے کی اجازت ہوگی۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز بھارت میں کورونا وائرس کے مجموعی کیسز کی تعداد 11 ہزار 555 ہوچکی ہے جہاں 396 افراد ہلاک بھی ہوچکے ہیں۔
نئی دہلی :کورونا وائرس کا پھیلاؤ، تبلیغی جماعت کے امیر پر مجرمانہ قتل کا الزام،اطلاعات کےمطابق حکومت نے ملک کے تبلیغی جماعت کے سربراہ کے خلاف گزشتہ ماہ اجتماع منعقد کرنے کے الزام میں قتل کے مترادف الزامات عائد کردیے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق دہلی کے ایک کونے میں قائم تبلیغی جماعت کے مرکز کو سیل کردیا گیا ہے جبکہ اس تنظٰم کے ہزاروں اراکین بشمول انڈونیشیا، ملائشیا اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے افراد کو قرنطینہ میں رکھ دیا گیا۔
ایک پولیس ترجمان نے بتایا کہ پولیس نے ابتدائی طور پر مرکز کے چیف محمد سعد قندھلوی کے خلاف بڑے اجتماعات پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا تھا لیکن اب انہوں نے مجرمانہ قتل عام کے دفعات بھی اس میں شامل کرلیے ہیں۔
پولیس افسر کا کہنا تھا کہ دہلی پولیس نے پہلے تبلیغی جماعت کے سربراہ کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی جس میں ’اب دفعہ 304 کو شامل کیا گیا ہے‘ جس میں مجرمانہ قتل عام کا ذکر ہے اور اس کے تحت زیادہ سے زیادہ 10 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے۔تبلیغی جماعت کے ترجمان مجیب الرحمٰن نے یہ کہتے ہوئے رائے دینے سے انکار کیا کہ انہوں نے نئے الزامات کے بارے میں اطلاعات کی تصدیق نہیں کی ہے۔
برسلز:ایشیا میں رواں سال اقتصادی ترقی کی شرح صفر رہے گی، آئی ایم ایف نے خطرے کی ایک اورگھنٹی بجادی ،طلاعات کےمطابق عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے ایشیا میں رواں سال اقتصادی ترقی کی شرح صفر رہے گی۔
خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق آئی ایم ایف کے مطابق شعبہ برآمدات اور سروس سیکٹر کے حوالے سے مشہور ایشیا میں وائرس کی وجہ سے ’اموات‘ کی شرح غیر معمولی بڑھ گئی ہیں۔آئی ایم ایف کے مطابق گزشتہ 60 برس میں پہلی مرتبہ ایسے حالات پیدا ہوئے ہیں کہ جس میں معاشی ترقی کی شرح نمو اس سطح پر پہنچی۔
آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جیورجیوا نے کہا کہ پالیسی سازوں کو متاثرہ خاندانوں اور کاروباری مراکز کو مدد فراہم کرنی چاہیے جو سفری و سماجی پابندیوں کی وجہ سے بہت متاثر ہور ہے ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ وبا کے پھیلاؤ میں کمی لانے کے لیے اقدامات بھی کیے جائیں۔
کرسٹالینا جیورجیوا نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت عالمی معیشت غیریقینیصورت حال سے دوچار ہے، ایشیا پیسیفک اس چیلنج سے آزاد نہیں ہے، وائرس کا اس خطے میں اثر انتہائی زیادہ ہوگا جس کے نتائج ناقابل فہم ہوسکتے ہیں۔