Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • وزیر اعظم عمران خان کی جی 20 ممالک ،آئی ایم ایف اورورلڈ بینک کے اقدامات کی تعریف

    وزیر اعظم عمران خان کی جی 20 ممالک ،آئی ایم ایف اورورلڈ بینک کے اقدامات کی تعریف

    وزیر اعظم عمران خان کی جی 20 ممالک ،آئی ایم ایف اورورلڈ بینک کے اقدامات کی تعریف

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان سے مشیر خزانہ حفیظ شیخ کی ملاقات ہوئی ہے

    مشیر خزانہ نے ملاقات میں ملکی معاشی صورتحال پر بریفنگ دی،وزیر اعظم نے جی 20 ممالک ،آئی ایم ایف اورورلڈ بینک کے اقدامات کی تعریف کی،وزیر اعظم کو آئی ایم ایف کی جانب سے ایک ارب 40 کروڑ ڈالر کے پیکج سے آگاہ کیا گیا،وزیراعظم عمران خان کوآئی ایم ایف سے متوقع ڈیل کے اثرات سے آگاہ کیاگیا.مشیر خزانہ نے وزیر اعظم کو حکومت کے ذریعہ اعلان کردہ اقتصادی پیکیج پر عملدرآمد سے بھی آگاہ کیا

    قبل ازیں وزیراعظم عمران خان سے معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی ملاقات ہوئی ،ملاقات میں سینٹر فیصل جاوید بھی موجود تھے،ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے وزیرِ اعظم کو احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کی پیش رفت سے آگاہ کیا

    میٹنگ میٹنگ ہو رہی ہے، کام نہیں ، ہسپتالوں کی اوپی ڈیز بند، مجھے اہلیہ کو چیک کروانے کیلئے کیا کرنا پڑا؟ چیف جسٹس برہم

    ڈاکٹر ظفر مرزا کی کیا اہلیت، قابلیت ہے؟ عوام کو خدا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ، چیف جسٹس

    قیدیوں کی رہائی کیخلاف درخواست پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آ گیا، بڑا حکم دے دیا

    کابینہ کے 49 ارکان کا مطلب،وزیراعظم کچھ جانتا ہی نہیں،حکومت یہ کام نہیں کر سکتی تو سرینڈر کر دے، سپریم کورٹ

    مبینہ طور پر کرپٹ لوگوں کو مشیر رکھا گیا، از خود نوٹس کیس، چیف جسٹس برہم، ظفر مرزا کی کارکردگی پر پھر اٹھایا سوال

    غیر منتخب افراد وزیراعظم کے معاون خصوصی کیوں؟ عدالت میں درخواست دائر

    حکومت کے چوتھے عالمی اقدام کو کامیابی ملی،عمران خان مبارکباد کے مستحق، وزیر خارجہ

    اس موقع پر وزیرِ اعظم عمران خان نے ہدایت کی کہ احساس پروگرام سے مستفید ہونے کے لئے عوام کو موثر طریقے سے آگاہی فراہم کی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد اس پروگرام سے استفادہ کر سکیں۔

    وفاقی وزراء کے لئے بڑی مشکل، وزیراعظم نے کیا رپورٹ طلب کر لی

  • کورونا لیبارٹری میں تیار ہوا؟ امریکی خفیہ ایجنسیوں کی تحقیق شروع،  امریکہ چورنالے چتر،  چین کا جواب

    کورونا لیبارٹری میں تیار ہوا؟ امریکی خفیہ ایجنسیوں کی تحقیق شروع، امریکہ چورنالے چتر، چین کا جواب

    واشنگٹن :کورونا لیبارٹری میں تیار ہوا؟ امریکی خفیہ ایجنسیوں کی تحقیق شروع،امریکہ چورنالے چتر، چین کا جواب ،اطلاعات کےمطابق دنیا کے 190 کے قریب ممالک کو اپنی لپیٹ میں لینے والی وبا کورونا وائرس سے 16 اپریل کی صبح تک 20 لاکھ 65 ہزار سے زائد افراد متاثر جب کہ ایک لاکھ 37 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے تھے مگر بدقسمتی سے اب تک دنیا کی بہت بڑی آبادی اس وبا کے حوالے سے مخمصے کا شکار دکھائی دیتی ہے۔

    امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز کا کہنا ہےکہ مذکورہ وبا کے شروع ہونے سے لے کر اب تک اس سے متعلق سازشی اور جھوٹی تھیوریز سامنے آتی رہی ہیں جب کہ امریکا اور چین کی حکومتیں بھی اس وبا کے حوالے سے ایک دوسرے پر الزامات لگاتی رہی ہیں۔

     

    جہاں امریکا نے کورونا وائرس کو چینی وبا قرار دیا، وہیں چین نے بھی امریکا پر الزام لگایا کہ دراصل امریکی فوج ہی ابتدائی طور پر کورونا کو ان کے شہر ووہان لے آئی تھی مگر ایسے الزامات کو ثابت نہیں کیا جا سکا اور یہ سب صرف بیانات اور میڈیا کی خبروں کی زینت تک محدود رہے۔

    ماضی میں جہاں کچھ تحقیقات میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ کورونا کا وائرس چین کے شہر ووہان کی گوشت مارکیٹ سے شروع ہوا اور اس حوالے سے دو مختلف تحقیقات میں 2 مختلف دعوے کیے گئے تھے۔

    ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ممکنہ طور پر کورونا وائرس 2 اقسام کے سانپوں یعنی چینی کوبرا اور کرایت سے شروع ہوا ہوگا اور پھر اسی مارکیٹ کا دورہ کرنے والے انسانوں میں یہ وائرس سانپوں کے ذریعے داخل ہوا ہوگا یا انہوں نے ان کا گوشت کھایا ہوگا۔

    اس کے بعد سامنے آنے والی ایک اور تحقیق میں اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ممکنہ طور پر کورونا وائرس چمگادڑ سے شروع ہوا ہوگا تاہم دوسری تحقیق کے ماہرین بھی اس بات پر متفق نظر آئے کہ کورونا شروع ووہان کی گوشت مارکیٹ سے ہی ہوا۔

    مگر مذکورہ تحقیقات کے باوجود دنیا کے عام لوگ، بعض ماہرین اور سیاستدان بھی اس بات کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہوئے، جس وجہ سے اب تک کورونا وائرس کے حوالے سے لوگ پریشانی کا شکار ہیں۔

    اگرچہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے کورونا وائرس کو 11 مارچ 2020 کو عالمی وبا قرار دیا گیا، تاہم اس باوجود تاحال اس وبا کے حوالے سے کئی ممالک کے حکمران اور ماہرین مخمصے کا شکار دکھائی دیتے ہیں اور ایسے حکمرانوں اور ماہرین میں امریکی حکام بھی شامل ہیں۔

    امریکا کی جانب سے کورونا کو مسلسل چینی یا ووہان قرار دیے جانے کے بعد چین نے بھی بھی دعویٰ کیا کہ دراصل مذکورہ وائرس کو امریکی فوج ہی چین کے شہر ووہان لائی تھی۔ چین نے امریکی سینیٹ کے ایک اجلاس کی کارروائی کی ویڈیو کو بنیاد بناتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ مذکورہ وائرس کو امریکی فوج چین کے شہر ’ووہان‘ لے کر آئی تھی۔اس سے قبل چینی حکومت ا

    مریکا پر کورونا سے متعلق افواہیں اور خوف پھیلانے جیسے الزامات لگاتی آئی تھی۔امریکا اور چین کی طرح دنیا کے دیگر ممالک کے سیاستدان، مذہبی رہنما، ماہرین اور عام افراد کی رائے بھی کورونا سے متعلق متفرق دکھائی دی، جس وجہ سے بھی کورونا وائرس کا مقابلہ کرنا حکومتیں کے لیے مشکل بنتا گیا۔یہی نہیں بلکہ کورونا وائرس کے حوالے سے اور بھی کئی دیگر سازشی نظریات سامنے آئے جس وجہ سے بھی دنیا کی بہت بڑی آبادی پریشانی کا شکار رہی۔

    امریکی اخبار واشنٹگن پوسٹ نے تین دن قبل ہی اپنے ایک مضمون میں بتایا کہ کورونا وائرس شروع ہونے سے 2 سال قبل ہی امریکی سائسندانوں اور ماہرین نے ووہان کی مذکورہ گوشت مارکیٹ اور ووہان کے بائیوٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ کا دورہ کیا تھا اور اس دورے کے دوران ماہرین کی جانب سے دیکھی گئی چیزوں کا تفصیلی احوال انہوں نے امریکی محکمہ خارجہ کو بھجوایا تھا۔

    امریکی اخبار کے مطابق چین میں امریکی سفارتخانے کے تعاون سے امریکی ماہرین نے ووہان کی گوشت مارکیٹ کے دورے سمیت ووہان انسٹی ٹیوٹ آف ورولاجی (ڈبلیو آئی وی) کا دورہ بھی کیا تھا جو کہ بائیوٹیکنالوجی کا ایک اہم ادارہ ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی ماہرین کی جانب سے دورے کے بعد چین میں موجود امریکی سفارتخانے نے امریکی محکمہ خارجہ کو مراسلے بھیجے تھے جس میں سفارتخانے نے ووہان میں وائرس جیسے امکانات کا خدشہ ظاہر کیا تھا اور گوشت مارکیٹ سمیت بائیوٹیکنالوجی ادارے میں ہونے والی تحقیقات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا، تاہم ان مراسلوں میں واضح طور پر نہیں لکھا گیا تھا کہ وہاں پر کسی وائرس کی تیاری کی جا رہی ہے۔

    واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اگرچہ 2018 میں ہی امریکی ماہرین نے ووہان میں وائرس کے شروع ہونے کے خدشات کا اظہار کیا تھا تاہم متعدد امریکی اداروں کے ماہرین نے دسمبر 2019 میں ووہان سے شروع ہونے والے کورونا وائرس کو لیبارٹری میں تیار کیا جانے والا وائرس نہیں کہا۔

    واشنگٹن پوسٹ کی طرح برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے بھی مارچ میں اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں کہا تھا کہ نام نہاد ماہرین کے کچھ گروپس ایسے ہیں جنہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ کورونا وائرس لیبارٹری میں تیار ہوا، تاہم اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ مذکورہ وائرس چین نہیں بلکہ مغربی دنیا میں تیار ہوا، جسے بعد ازاں چین بھجوایا گیا۔

    رائٹرز نے اپنی رپوٹ میں بتایا تھا کہ ایک گروپ کے دعوے کے مطابق معروف فلاحی ادارے بل اینڈ ملنڈا گیٹس نے انگلینڈ کے پربرائٹ انسٹی ٹیوٹ کو ایسے ہی کسی وائرس کے تیار کرنے کے لیے امداد فراہم کی تھی اور پھر انگلینڈ کے ادارے نے کورونا کو لیبارٹری میں تیار کیا۔

    رپورٹ میں ایک گروپ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اگرچہ اس دعوے کو کئی ماہرین، امریکی و برطانوی ادارے افواہ قرار دیتے ہیں، تاہم اس دعوے کے مطابق انگلینڈ کے ادارے نے بل اینڈ ملنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کی امداد کے تحت نہ صرف کورونا وائرس کو تیار کیا بلکہ اسے رجسٹرڈ بھی کروا لیا تھا۔

    رپورٹس کے مطابق بعد ازاں اسی وائرس کو دوسرے ممالک کے اداروں کے ساتھ مل کر چینی شہر ووہان منتقل کیا گیا، تاہم اس دعوے پر بھی کسی مستند ادارے کو یقین نہیں اور کئی ماہرین ایسے دعووں کو سازشی تھیوری قرار دیتے ہیں۔

    ایسے ہی متضاد دعووں کے بعد حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اشارہ دیا کہ امریکی حکومت کورونا وائرس کے لیبارٹری میں ممکنہ تیاری کے معاملات پر نظر رکھے ہوئے ہے، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پریس کانفرنس کے محض 2 دن بعد اب امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حکومت اور خفیہ ایجنسیاں اس بات کی تحقیقات کر رہی ہیں کہ کیا واقعی کورونا وائرس ووہان کی لیبارٹری میں تیار ہوا؟۔

    سی این این نے رپورٹ میں امریکی خفیہ اداروں کے اہلکاروں اور نیشنل سیکیورٹی کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ امریکی حکومت اس بات کی تحقیق کر رہی ہے کہ کیا واقعی کورونا وائرس ووہان کی گوشت مارکیٹ سے نہیں پھیلا بلکہ اسے ممکنہ طور پر کسی لیبارٹری میں تیار کیا گیا؟۔

    رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ اگرچہ امریکی حکومت کے زیادہ تر عہدیداروں کو یقین ہے کہ کورونا وائرس کو لیبارٹری میں تیار نہیں کیا گیا تاہم پھر بھی اب حکومت اور خفیہ ادارے مل کر اس بات کی کھوج لگائیں گے کہ کیا واقعی کورونا وائرس ایک حیاتیاتی ہتھیار ہے۔

    رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت اور خفیہ اداروں کی جانب سے کورونا کی ممکنہ طور پر لیبارٹری میں تیاری کی تحقیقات کے معاملے نے اس وقت تقویت پکڑی جب کہ امریکی صدر کے انتہائی قریبی اور ان کی پارٹی کے کچھ ارکان کانگریس نے ڈونلڈ ٹرمپ پر کورونا وائرس کے حوالے سے ہونے والی تنقید پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ اس حوالے سے امریکی صدر پر تنقید بے جا ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی حکومت سے منسلک خفیہ ادارے کے عہدیدار نے بتایا کہ خفیہ ادارے کے ماہرین اس بات کی تحقیق کر رہے ہیں کہ کیا واقعی کورونا وائرس ووہان کی لیبارٹری میں تیار ہوا اور اسے اتفاقی طور پر انسانوں میں منتقل ہونے کے لیے چھوڑا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق خفیہ ایجنسی کے ایک اور ذرائع نے بتایا کہ اگرچہ خفیہ اداروں کے ماہرین اس تھیوری پر یقین نہیں رکھتے کہ کورونا کو لیبارٹری میں ہی تیار کیا گیا، تاہم خفیہ ایجنسی کے ماہرین یہ بات جاننے کی کوشش کریں گے کہ کہیں لیبارٹری میں کام کرنے والے کسی شخص سے تو کوئی متاثر نہیں ہوا اور وہیں سے اس وبا کی شروعات ہوئی ہو۔

    اسی حوالے سے امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز نے بھی اپنی رپورٹ میں ذرائع سے بتایا کہ امریکی حکومت اور خفیہ اداروں کے ماہرین کو شک ہے کہ چین نے امریکا کا مقابلہ کرنے کے لیے کورونا وائرس کو لیبارٹری میں تیار کیا، تاہم فی الحال اس حوالے سے کوئی ثبوت نہیں۔

    فاکس نیوز نے اپنی رپورٹ میں امریکا کے چیئرمین آف جوائنٹ چیفس آف اسٹاف مارک ملی کے حوالے سے بتایا کہ کسی کو اس بات پر تعجب نہیں ہونا چاہیے کہ ہم مذکورہ معاملے کو انتہائی اہمیت کی نظر سے دیکھ رہے ہیں اور ہمیں نہیں پتہ کہ سچائی کیا ہے لیکن ہم اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔

    فاکس نیوز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ بھی کیا کہ کورونا وائرس کے حوالے سے چینی حکومت دنیا سے شیئر کیے جانے والے ڈیٹا کے حوالے سے بھی بدنیت ہے اور دیکھا گیا ہے کہ چینی حکومت شفاف انداز میں ڈیٹا کا تبادلہ نہیں کر رہی۔

  • خیبرپختونخواہ، بلوچستان میں کرونا مریضوں کا اضافہ،لوکل ٹرانسمیشن بڑھنے لگی

    خیبرپختونخواہ، بلوچستان میں کرونا مریضوں کا اضافہ،لوکل ٹرانسمیشن بڑھنے لگی

    خیبرپختونخواہ، بلوچستان میں کرونا مریضوں کا اضافہ،لوکل ٹرانسمیشن بڑھنے لگی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں کرونا کے مریضوں میں اضافہ ہوا ہے

    ترجمان صوبائی حکومت لیاقت شاہوانی کے مطابق مزید 5 مقامی افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی،بلوچستان میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 285 ہوگئی،45رپورٹس موصول ہوئیں جن میں 5مثبت اور40منفی نتائج آئے،مقامی سطح پر کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے

    دوسری جانب خیبر پختونخواہ میں بھی کرونا کے مریضوں میں اضافہ ہوا ہے، صوبائی وزیر تیمور سلیم جھگڑا کا کہنا تھا کہ کوئی غلط فہمی میں نہ رہے کہ لاک ڈاوَن کا خطرہ ٹل گیا،6اضلاع ایسے ہیں جہاں کروناکا کوئی کیس نہیں،کل رات تک 1250 تک کیس رپورٹ ہوئے ،رواں ہفتے خیبرپختونخوا میں 500 کیس سامنے آئے،گزشتہ 7دن میں مردان میں 2کیسز رپورٹ ہوئے،کوہاٹ، بونیر،سوات اور اپردیر میں 36سے99کیسز ہیں،بنوں،شانگلہ،لوئردیر اور دیگر اضلاع میں 30 سے 35کیسز سامنے آئے،ٹانک،لکی مروت اور ہری پور میں 10سے کم کیسز ہیں،

    برطانیہ میں کرونا سے مسلمان سب سے زیادہ متاثر، جنازوں کے اجتماع پر بھی پابندی

    بھارت کی انتہائی اہم ترین شخصیت کرونا سے خوفزدہ، کروائے گی ٹیسٹ

    بھارت میں کرونا وائرس کے مریضوں میں اضافہ، کتنے مریض ہوئے صحتیاب

    کرونا وائرس کا خدشہ، مساجد کو تالے لگ گئے، نمازیں گھر پر پڑھنے کا حکم

    لاک ڈاؤن، بھوک سے مزدوروں کا کیا حال ہے، خاتون سامان تقسیم کرنے گئی تو اسکے ساتھ کیا بیتی؟ افسوسناک خبر

    تیمور سلیم جھگڑا کا مزید کہنا تھا کہ پہلے ہفتے میں ایک،دوسرے میں 25اورتیسرے میں 140کیس آئے،لاک ڈاوَن کے باعث کورونا کےپھیلاوَ میں کمی ہوئی،ہم نے کورونا کےخلاف شعبہ صحت کی استعداد بڑھانے کی کوشش کی،پاکستان میں کوئی بھی کورونا وائرس کا شکار ہوسکتا ہے،

  • 100 میٹر دور سے کورونا کے مریض کو پہچاننے والا آلہ آنے سے انقلاب آگیا

    100 میٹر دور سے کورونا کے مریض کو پہچاننے والا آلہ آنے سے انقلاب آگیا

    تہران : 100 میٹر دور سے کورونا کے مریض کو پہچاننے والا آلہ آنے سے انقلاب آگیا،اطلاعات کےمطابق ایرانی پاسداران انقلاب نے کورونا وائرس کی تشخیص کا آلہ متعارف کراتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ آلہ متاثرہ شخص کو 100 میٹر کی دوری سے پہچاننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے اپنی نوعیت کا پہلا منفرد آلہ متعارف کرایا گیا ہے جو کہ ایئرپورٹ یا ٹریفک حکام کے پاس گاڑیوں کو چیک کرنے والے اینٹینا کی طرح دکھائی دیتا ہے۔ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نیوز ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ایرانی پاسداران انقلاب نے مذکورہ آلے کو 15 اپریل کو ایک چھوٹی تقریب میں متعارف کرایا۔آلے کو متعارف کرانے والی تقریب میں ایرانی پاسدارن انقلاب کے کمانڈر جنرل حسین سلامی نے بھی شرکت کی۔

    مذکورہ آلہ کورونا سے متاثرہ شخص کی نشاندہی 100 میٹر کی دوری سے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ساتھ ہی آلہ کسی بھی ایسے علاقے کی نشاندہی بھی کرنے کی اہلیت رکھتا ہے جہاں پر کورونا کی نمی موجود ہو۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاسداران انقلاب کے سائنسدانوں کی ٹیم کی جانب سے تیار کیا گیا آلہ محض 5 سیکنڈ میں نتائج دیتا ہے اور اس کے نتائج کورونا ٹیسٹ سے 80 فیصد ملتے جلتے ہیں یعنی آلہ 80 فیصد درست نشاندہی کرتا ہے۔

    آلے کو متعارف کراتے ہوئے کمانڈر کا کہنا تھا کہ مذکورہ آلے کے استعمال کے بعد تشخیص کیے گئے شخص کے بلڈ ٹیسٹ کرنے سمیت دیگر ٹیسٹ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ َخبر رساں ادارے نے رپورٹ میں یہ نہیں بتایا کہ مذکورہ آلے کو صحت کے حکام کو دیا گیا ہے یا نہیں اور کیا اس آلے کو بڑے پیمانے پر عام افراد اور علاقوں میں آزمایا گیا ہے یا نہیں۔

    خیال رہے کہ ایران کورونا وائرس سے متاثرہ ممالک کے حوالے سے بڑے ممالک میں شمار ہوتا ہے وہاں پر 70 ہزار سے زائد لوگ وبا سے متاثر جب کہ 4 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ایران اسلامی ممالک میں کورونا سے متاثر ہونے والا سب سے بڑا ملک ہے اور وہاں پر گزشتہ ڈھائی ماہ سے جزوی لاک ڈاؤن نافذ ہے۔

  • لاک ڈاؤن، عوام بھوک سے تڑپنے لگی،کہا ہاتھ دھو دھو کر مر جائیں؟ راشن کہاں سے لیں

    لاک ڈاؤن، عوام بھوک سے تڑپنے لگی،کہا ہاتھ دھو دھو کر مر جائیں؟ راشن کہاں سے لیں

    لاک ڈاؤن، عوام بھوک سے تڑپنے لگی،کہا ہاتھ دھو دھو کر مر جائیں؟ راشن کہاں سے لیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس ایمرجنسی کی تحت لاک ڈاؤن میں توسیع کر دی گئی،کاروبارِ زندگی بند ہونے کے باعث عوام بھوک سے تڑپنے لگی

    کراچی کے علاقے کورنگی 5 نمبر پر شہریوں کا ہجوم جمع ہو گیا،عورتوں بچوں بوڑھوں اور نوجوانوں کی بڑی تعداد راشن کیلئے دھکے کھا رہی ہے

    شہریوں کا کہنا ہے کہ شناختی کارڈ کاپیاں لے کر کہا تھا راشن گھر پہنچائیں گے۔15 دن سے راشن کیلئے ترس رہے ہیں۔گھنٹوں انتظار کرنے کے باوجود راشن نہیں مل رہا۔ 25-50 تھیلے آتے ہیں اور خاص لوگوں میں بانٹ دیتے ہیں۔ گھروں میں معصوم بچے بھوک سے بے حال ہیں۔ حکومت نے گھروں میں قید کر دیا ہے۔

    مستحقین کی آڑ میں لٹیرے راشن لیکر فروخت کرنے لگ گئے

     

    شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت نےراشن پہنچانے کے جھوٹے وعدے کیئے۔ اگر اس طرح ترسانا ہے تو نہیں چاہیئے راشن۔ لاک ڈاؤن توڑ کر اپنا کام دھندا شروع کر دیں گے،حکومت نے کہا گھروں میں رہو، ہاتھ دھوتے رہو۔ ہاتھ دھو دھو کر بھوکے مر جائیں کیا ۔وزیر اعظم نے بھی جھوٹ کہا دھوکہ دیا۔ میسج کر کر کے تھک گئے کوئی جواب نہیں مل رہا۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے عمران خان کی بجائے بلاول کو وزیراعظم کہہ دیا،کہا سندھ میں لاک ڈاؤن سخت ہے تو نیویارک جا سکتے ہو

    تبلیغی جماعت کے ملک بھر میں کتنے اراکین قرنطینہ مراکز میں؟ 2 کی ہوئی کرونا سے موت

    کرونا وائرس، تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک اور شخص کی ہوئی موت

    کرونا کے وار جاری، 288 پولیس اہلکاروں میں ہوئی کرونا کی تشخیص

    کرونا کے کئی کیس رپورٹ نہیں ہو رہے ،ایسے کیس بھی آرہے ہیں جنہیں مردہ حالت میں لایا گیا،وزیراعلیٰ سندھ

    سندھ میں‌ 24 گھنٹوں میں کرونا کے 340 نئے مریض سامنے آ گئے، ہلاکتوں میں بھی اضافہ

    شہریوں نے راشن فراہم نہ کرنےپر لاک ڈاؤن ختم کرنےکا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سہولتیں نہیں دے سکتی تو گھروں میں قید بھی نہیں کر سکتی .لاک ڈاؤن ختم کیا جائے تا کہ ہم مزدوری کر سکیں.

    سعودی عرب میں کرونا کے مریضوں میں مسلسل اضافہ، شاہ سلمان نے دیا عالمی ادارہ صحت کو فنڈ

    کرونا وائرس،اچھی خبر بھی سامنے آ گئی، گھروں کی قیمیتں ہوں گی کم

    کرونا وائرس، آئی ٹی سیکٹر میں بھی بڑے بحران کا خدشہ

    یقین نہ آئے تو میری پینٹ اتار کر دیکھ لینا،پولیس تشدد کے بعد خودکشی کرنیوالے نوجوان کا دردناک پیغام

    بھوک نے لوگوں کو بچے فروخت کرنے پر مجبور کر دیا،سندھ میں شہری نے کہا "ایک بچہ لو اور ہمیں راشن دو”

    واضح رہے کہ سندھ حکومت کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہم راشن رات کو گھرون‌ میں پہنچا دیتے ہیں جبکہ فلاحی اداروں کو بھی پابند کیا گیا ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ ملکر راشن کی تقسیم کریں ، اس ضمن میں حکومت نے ایس او پیز بھی جاری کئے ہیں.

     

    سندھ میں راشن کی تقسیم پر نیب تحقیقات کا مطالبہ آ گیا

  • کرونا نے خون سفید کردیئے ،محبتیں چھین لیں‌،مزید 22 سال تک سماجی فاصلوں کی آوازیں آنے لگیں

    کرونا نے خون سفید کردیئے ،محبتیں چھین لیں‌،مزید 22 سال تک سماجی فاصلوں کی آوازیں آنے لگیں

    نیویارک :کرونا نے خون سفید کردیئے ،محبتیں چھین لیں‌،مزید 22 سال تک سماجی فاصلوں کی آوازیں آنے لگیں ،اطلاعات کےمطابق ہارورڈ اسکول آف پبلک ہیلتھ کے محققین کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے سماجی فاصلے سے متعلق کیے جانے والے اقدامات پر امریکا کو 2022 تک عمل درآمد کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں حالیہ تحقیق کے حوالے سے بتایا کہ یہ تحقیق ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا میں منگل کے روز 2 ہزار 200 لوگوں کی کورونا وائرس سے موت ہوئی جبکہ ملک میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ ملک کی معیشت کو کس طرح بحال کیا جاسکتا ہے۔یاد رہے کہ امریکا میں کورونا وائرس سے اب تک مجموعی طور پر 28 ہزار 300 اموات ہو چکی ہیں۔

    جنرل سائنس میں منگل کے روز شائع ہونے والی ہارورڈ کے محققین کی تحقیق کے مطابق ‘جب تک کورونا وائرس کی صورت حال کو کنٹرول نہیں کرلیا جاتا یا اس کی ویکسین مہیا نہیں ہو جاتی تو ممکنہ طور پر 2022 تک سماجی فاصلے کی ضرورت محسوس کی جاسکتی ہے’۔

    تحقیق میں جنوبی کوریا اور سنگاپور کی مثال دیتے ہوئے بتایا گیا کہ سماجی فاصلے کے ذریعے صحت کے نظام پر دباؤ کو کم اور قرنطینہ کو قابل عمل بنایا جاسکتا ہے۔تحقیق میں اس بات کا اعتراف کیا گیا کہ سماجی فاصلے کے باعث معیشت، سماجی معاملات اور تعلیم کے حوالے سے منفی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    اس میں یہ بھی بتایا گیا کہ بظاہر سطحی طور پر کورونا وائرس (کووڈ 19) کے خاتمے کی صورت میں بھی اس کی نگرانی کی جانی چاہیے کیونکہ اس کے 2024 میں دوبارہ سامنے آنے کا امکان موجود ہے۔واضح رہے کہ عالمی ادارہ صحت خبردار کر چکا ہے کہ کورونا وائرس ابھی تک اپنی انتہا کو نہیں پہنچا ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں چین کے صوبے ہوبے کے شہر ووہان سے سامنے آنے والے کورونا وائرس نے اس وقت دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیے لیا ہے اور اس وائرس سے ایک لاکھ 24 ہزار سے زائد افراد موت کے منہ میں جاچکے ہیں ۔کورونا وائرس سے دنیا بھر میں اس وقت تقریباً 20 لاکھ افراد متاثر ہوچکے ہیں۔

  • عقائد کی بنیاد پر کورونا مریضوں کے الگ وارڈز کا انکشاف،دنیا کی سخت تنقید

    عقائد کی بنیاد پر کورونا مریضوں کے الگ وارڈز کا انکشاف،دنیا کی سخت تنقید

    نئی دہلی :عقائد کی بنیاد پر کورونا مریضوں کے الگ وارڈز کا انکشاف،دنیا کی سخت تنقید ،اطلاعات کےمطابق بھارت میں مسلم مخالف سوچ اپنی انتہا کو پہنچتی نظر آرہی ہے جہاں ریاست گجرات کے احمد آباد سول ہسپتال میں کورونا وائرس کے مریضوں اور مشتبہ کیسز کو ان کے عقائد کی بنیاد پر الگ الگ وارڈز میں رکھنے کا انکشاف ہوا ہے۔

    انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر گنونت ایچ راٹھوڑ نے کہا کہ ریاستی حکومتی کے احکامات کے مطابق ہندو اور مسلمان مریضوں کے لیے الگ الگ وارڈز بنائے گئے ہیں۔ہسپتال میں کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے ایک ہزار 200 بستر مختص کیے گئے ہیں۔

    ڈاکٹر گنونت ایچ راٹھوڑ نے کہا کہ عام طور پر مرد اور خواتین مریضوں کے لیے علیحدہ علیحدہ وارڈز ہوتے ہیں، لیکن یہاں ہم نے ہندو اور مسلمان مریضوں کے لیے الگ الگ وارڈز بنائے ہیں۔مریضوں میں اس تفریق کی وجہ سے متعلق سوال کے جواب میں ڈاکٹر گنونت راٹھوڑ نے کہا کہ ‘یہ ریاستی حکومت کا فیصلہ ہے اور آپ ان سے پوچھ سکتے ہیں۔’

    ہسپتال میں داخل ہونے کے پروٹوکول کے مطابق کورونا وائرس کے مشتبہ مریض کو وائرس کے مصدقہ مریض سے اس وقت تک الگ وارڈ میں رکھا جاتا ہے جب تک اس کا ٹیسٹ کا نتیجہ نہ آجائے۔
    ہسپتال میں داخل کورونا کے 186 مشتبہ مریضوں میں سے 150 میں وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے۔ہسپتال کے ذرائع کے مطابق ان 150 متاثرین میں سے 40 مسلمان ہیں۔

    ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ نتن پٹیل نے انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ ‘میں عقائد کی بنیاد پر وارڈز کے فیصلے سے واقف نہیں ہوں، عام طور پر مرد و خواتین کے لیے علیحدہ علیحدہ وارڈز ہوتے ہیں، تاہم میں معاملے کی تحقیقات کروں گا۔’

    احمد آباد کے کلیکٹر کے کے نرالا نے بھی معاملے کا علم ہونے سے انکار کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ہماری طرف سے اس طرح کی کوئی ہدایت نہیں دی گئی اور نہ ہی ہمیں حکومت کے ایسے کسی فیصلے کا علم ہے۔’

    رابطہ کرنے پر ایک مریض نے انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ ‘اتوار کی رات ہسپتال کے پہلے وارڈ (اے فور) میں داخل 28 مرد مریضوں کے نام پکارے گئے اور پھر انہیں دوسرے وارڈ (سی فور) میں منتقل کردیا گیا۔’انہوں نے کہا کہ ‘ہمیں یہ نہیں بتایا گیا کہ ہمیں دوسرے وارڈ کیوں منتقل کیا جارہا ہے جبکہ جن کے نام پکارے گئے ان سب کا تعلق ایک ہی برادری سے تھا۔’

    ادھر امریکہ سمیت دنیا بھرکے کئی ممالک نے بھارت کے اس رویے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ بھارت ایک طرف انسانیت کا دشمن ہے تو دوسری طرف شدت پسندی اورتخریبی سوچ کا بھی حامل ہے

  • سندھ میں راشن کی تقسیم پر نیب تحقیقات کا مطالبہ آ گیا

    سندھ میں راشن کی تقسیم پر نیب تحقیقات کا مطالبہ آ گیا

    سندھ میں راشن کی تقسیم پر نیب تحقیقات کا مطالبہ آ گیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صدر پی ٹی آئی کراچی خرم شیر زمان نے کراچی کی جناح ہسپتال کا دورہ کیا، اس موقع پررکن سندھ اسمبلی راجہ اظہر، عمران صدیقی بھی ان کے ہمراہ موجود تھے،خرم شیرزمان نے سیمی جمالی سے ملاقات کی اور کورونا کے دوران جناح اسپتال کی صورتحال پر گفتگو کی

    سیمی جمالی سے ملاقات کے بعد خرم شیر زمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کل شہر کے اندر دیکھا کہ ایک صاحب ٹی وی پر بیٹھے ہوئے تھے ،ایک گھنٹے کی تقریرکی.یہاں آئے تو ایسی کوئی صورتحال نہیں، جناح میں 119 لاشوں میں کوئی ایک شخص کورونا کے باعث نہیں مرا ،اس صوبے کے سربراہ کا کام صوبے کی عوام کو حوصلہ دینا ہے، پورے صوبے میں خوف کی فضا پہیلائی جارہی یے،پورے ہاسپٹلز میں او پی ڈیز بند ہیں،

    انکا مزید کہنا تھا کہ آج کی تاریخ میں بھی جناح میں کورونا کا ٹیسٹ نہیں،50 ہزار کٹس صوبے کو ملی لیکن ٹیسٹ کی تعداد خراب ہے، پنجاب اور کے پی کے میں ٹیسٹنگ کے حالات بہتر ہیں،اس وقت ہیلتھ ایمرجنسی ہونی چاہیے،سیاست کی بنا پر الٹے سیدھے بیان دیے جارہے ہیں،وزیر اعلیٰ صاحب آپ کے وعدوں کا کیا ہوا.20 لالھ لوگوں کو راشن دین گے وہ پیسا کہاں گیا،نیب سے اپیل ہے کورونا فنڈ پر تحقیق کریں،میں ہاتھ جوڑ کر کہہ رہا ہوں آپ لوگوں کو راشن دے دیں،سنا ہے راشن صرف جیالوں کو دیا جارہا ہے،ملیر کے مضافاتی علاقے میں راشن نہیں پہنچا ،صوبے میں صورتحال خراب ہوچکی ہے ،وزیر اعلیٰ صرف ایک بات کررہے ہیں لاک ڈاؤن،لوگ مشکلات میں ہیں ایس او پیز پر عمل کرائیں لوگوں کو مشکل میں نہ ڈالے

    انکا مزید کہنا تھا کہ عذرا پیچوہو کہیں نظر نہیں آرہی ہیں،سرکاری ہسپتالوں میں معاملات خراب ہیں،ہم خاموش نہیں ہونگے ،آپ درست کام کریں گے تو ہم آپ کی تعریف کریں گے،ہمیں کوئی ایسا کارنامہ آپ کا نظر نہیں آرہا،یہ وہی کٹس ہیں جو انہوں نے ایئرپورٹ پر رسیو کیے، وہی کٹ پنجاب اور کے پی کے میں استعمال ہورہے ہیں،سندھ میں ٹیسٹ نہیں کی جارہی ہے،سندھ حکومت کے وزراء بیانات کے سواء کوئی کام نہیں کررہے ہیں ،

    وزیراعلیٰ سندھ نے عمران خان کی بجائے بلاول کو وزیراعظم کہہ دیا،کہا سندھ میں لاک ڈاؤن سخت ہے تو نیویارک جا سکتے ہو

    تبلیغی جماعت کے ملک بھر میں کتنے اراکین قرنطینہ مراکز میں؟ 2 کی ہوئی کرونا سے موت

    کرونا وائرس، تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک اور شخص کی ہوئی موت

    کرونا کے وار جاری، 288 پولیس اہلکاروں میں ہوئی کرونا کی تشخیص

    کرونا کے کئی کیس رپورٹ نہیں ہو رہے ،ایسے کیس بھی آرہے ہیں جنہیں مردہ حالت میں لایا گیا،وزیراعلیٰ سندھ

    خرم شیر زمان کا مزید کہنا تھا کہ اگر صوبہ کام نہیں کرے گا تو سارے آپشن موجود ہیں،سندھ حکومت اگر عوام کو رلیف نہیں دی گی تو آپشن موجود ہیں،سندھ حکومت اپنا قبلہ درست کرے،ہر صوبے میں وزیر اور انتظامیہ ایک پیج پر ہیں، سندھ میں وزراء کی سمت کا پتہ نہیں ہے،12 سال سے یہ حکومت سورہی ہے، ان کی نالائقی پر اے جی پی کے کتاب چھپ رہے ہیں،عوام کو الگ الگ طریقیں سے گمراہ کیا جارہا ہے،پی پی صرف ایک کام اچھی طرح کرسکتی ہے،احساس پروگرام پر پی پی سیاست کررہی ہے،پروگرام کا مطلب غریب لوگوں کی مدد کرنا ہے،ہمارے لوگ راشن پہنچا رہے ہیں اور سندھ حکومت سورہی ہے،بلاول پریشان ہیں زرداری صاحب گم ہیں سی ایم صاحب کورنٹائن میں ہیں،

     

    سندھ میں‌ 24 گھنٹوں میں کرونا کے 340 نئے مریض سامنے آ گئے، ہلاکتوں میں بھی اضافہ

  • کرونا چین کی لیب میں بنایا گیا، امریکیوں نے ایک بار پھر خدشہ ظاہر کر دیا

    کرونا چین کی لیب میں بنایا گیا، امریکیوں نے ایک بار پھر خدشہ ظاہر کر دیا

    کرونا چین کی لیب میں بنایا گیا، امریکیوں نے ایک بار پھر خدشہ ظاہر کر دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس کا پھیلاؤ کیسے ہوا اس پر امریکہ نے ایک بار پھر چین پر الزامات عائد کرنا شروع کر دیئے

    امریکی حساس اداروں اور قومی سلامتی کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت اس بات پر غور کر رہی ہے کہ کرونا وائرس کی ابتدا مارکیٹ کی بجائے چین کی لیبارٹری سے شروع ہوئی، اس حوالہ سے کئی لوگ واقف ہیں لیک قبل از وقت کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا.

    کرونا وائرس کیسے پھیلا اس پر تحقیقات جاری ہیں کرونا وائرس کی وجہ سے امریکہ سمیت دنیا کے ممالک میں لاکھوں اموات ہو چکی ہیں، امریکا سب سے زیادہ متاثر ہے،امریکی حساس ادارے اور قومی سلامتی کے عہدیدار مسلسل اس بات کو دیکھ رہے کہ کرونا وائرس کیسے پھیلا، انہوں نے چین کی لیبارٹری میں وائرس کی تیاری کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وائرس چین کی ووہان مارکیٹ سے نہیں بلکہ لیبارٹری سے پھیلا.

    امریکی صدر کے حامی بھی اس بات کو آگے بڑھا رہے ہیں، کچھ ری پبلکن بھی یہی بات کہہ رہے ہیں، امریکی انٹیلی جینس کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس چین کی ایک لیبارٹری میں پیدا ہوا تھا اور اسے اتفاقی طور پر پھیلا دیا گیا

    خبر رساں ادارے سی این این کے دوسرے ذرائع نے امریکی عہدیداروں کے اس نظریہ کی تصدیق نہیں کی تا ہم وہ یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس میں کتنی صداقت ہے، اگر لیبارٹری میں کرونا تیار ہوا تو اس نے سب سے پہلے چین کو ہی کیوں متاثر کیا،

    دوسری جانب امریکی فوج کے سربراہ جنرل مارک ملی کا کہنا ہے کہ یہ قیاس آرائیاں ہیں کہ کرونا وائرس کو چین کی لیبارٹری میں تیار کیا گیا۔ امریکی فوج کے سربراہ نے کہا کرونا وائرس کو چین کی تجربہ گاہ میں حیاتیاتی ہتھیار کے طور پر نہیں بنایا گیا، میڈیا پر اور سوشل میڈیا میں اس حوالے سے افواہیں اور قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔قیاس آرائیوں کا جنرل انٹیلی جنس حکام نے جائزہ لیا جو کسی نتیجے پر نہیں پہنچے مگر ٹھوس شواہد وائرس کے قدرتی ہونیکی جانب اشارہ کرتے ہیں، شواہد سے پتہ چلتا ہے۔وائرس قدرتی طور پر ہی ماحول میں موجود تھا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کرونا وائرس کو چینی وائرس کانام دیا تھا جب کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اسے ووہان وائرس کا نام دیا تھا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا تھا کہ امریکہ کرونا کے پھیلاؤ کے حوالہ سے جائزہ لے رہا ہے مگر انہوں نے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا، دوسری جانب چینی حکومت نے کرونا وائرس کی لیبارٹری میں تیاری کی تردید کی ہے، کئی ماہرین نے بھی اس امریکی نظریئے پر شکوک کا اظہار کیا ہے،

    وائٹ ہاؤس کی کورونا وائرس ٹاسک فورس کے قریبی ذرائع نے کہا ہے کہ چین سے جس طرح کرونا وائرس پھیلا انٹلیجنس تفتیش کار عزم کرچکے ہیں کہ اس کی ابتدا کیسے ہوئی اس کی ایک مکمل اور جامع رپورٹ تیار کریں گے.

    بھارت میں کرونا کے 44 مریض، مندر میں بتوں کو بھی ماسک پہنا دیئے گئے

    کرونا وائرس، بھارت میں 3 کروڑ سے زائد افراد کے بے روزگار ہونے کا خدشہ

    بھارتی گلوکارہ میں کرونا ،96 اراکین پارلیمنٹ خوفزدہ،کئی سیاستدانوں گھروں میں محصور

    لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر کتنے عرصے کیلئے جانا پڑے گا جیل؟

    کرونا وائرس، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ، رکن اسمبلی کا بیٹا بھی ووہان میں پھنسا ہوا ہے، قومی اسمبلی میں انکشاف

    کرونا وائرس سے کس ملک کے فوج کے جنرل کی ہوئی موت؟

    امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے 2018 سے محکمہ خارجہ کی کیبلز کے بارے میں ووہان انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی بائیو لیب کی حفاظت اور انتظامیہ کے بارے میں تشویش ظاہر کی تھی۔

    امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ چینی کمیونسٹ پارٹی نے امریکیوں کو لیب میں اس وقت تک رسائی نہیں دی جب ہمیں ابتدائی وقت میں اسکا جائزہ لینا تھا،ہم جانتے ہیں کہ وائرس کی ابتدا خود ووہان میں ہوئی تھی۔ لہذا یہ ساری چیزیں اکٹھی ہوجاتی ہیں۔ ابھی بھی بہت کچھ ہے جو ہم نہیں جانتے ہیں ،

    کچھ امریکی عہدیداروں نے کہا کہ کرونا وائرس چائنہ کی ہی ایک لیب میں بنایا گیا ہے جس کا مقصد چائنہ کی اس میدان میں امریکہ پر برتری شو کرنا تھا،

    کرونا وائرس انسان تک چمگادڑ سے نہیں بلکہ کس جانور سے پہنچا؟ نئی تحقیق آ گئی

  • لاک ڈاؤن، اقدامات آسان نہیں،لوگ کیڑے نکالتے رہتے ہیں،شیخ رشید نے مزید کیا کہا؟

    لاک ڈاؤن، اقدامات آسان نہیں،لوگ کیڑے نکالتے رہتے ہیں،شیخ رشید نے مزید کیا کہا؟

    لاک ڈاؤن، اقدامات آسان نہیں،لوگ کیڑے نکالتے رہتے ہیں،شیخ رشید نے مزید کیا کہا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس کی وبا قابو میں ہے

    شیخ رشید احمد نے اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے سفید پوش تکلیف میں ہے ،جس طرح عمران خان نے کہا کہ ہم کام کرنے والے افراد کو کام کرنے کی اجازت دیں گے، لوگ کیڑے نکالتے رہتے ہیں اقدامات کرنا آسان نہیں ہوتا، پاکستان کی تاریخ میں بہت بڑی امداد تقسیم کی جا رہی ہے، قلیوں کو بھی ریلیف دیں گے، ثانیہ نشتر کو مبارکبار دیتا ہوں، ہمارے سب سے زیادہ قلی کراچی اور پھر لاہور میں ہیں

    شیخ رشید احمد نے مزید کہا کہ ہفتے کے دن لاہور میں پالیسی بیان دوں‌ گا.

    واضح رہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس کی وجہ سے لاک‌ ڈاؤن ہے اور ریلوے بھی معطل ہے، وفاقی وزیر ریلوے نے 15 اپرئل سے کچھ ٹرین چلانے کی تجویز دی تھی جسے وزیراعظم عمران خان نے مسترد کر دیا تھا، شیخ رشید کا کہنا تھا کہ اب ٹرین کی سروس 25 جولائی تک معطل رہے گی اس کے بعد وزیراعظم عمران خان سے مشاورت کے بعد فیصلہ کریں گے کہ ٹرین کب چلانی ہے اور کونسی چلانی ہے.

    ہمیں چور کہا جاتا ہے لیکن بتایا جائے چینی مہنگی کرکے عوام کو کون لوٹ رہا ہے؟ خواجہ آصف برس پڑے

    شوگر ملزسٹاک کی نقل و حمل اور سپلائی کی مکمل مانیٹرنگ کا حکم

    چینی بحران رپورٹ، جہانگیر ترین کے خلاف بڑا ایکشن،سب حیران، ترین نے کی تصدیق

    چینی بحران کا ذمہ دار جہانگیر ترین نہیں بلکہ شریف برادران،اہم انکشافات سامنے آ گئے

    چینی کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹ میں بھی تحقیقات کا مطالبہ

    قبل ازیں شیخ رشید احمد نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا تھا کہ کابینہ کے اجلاس میں زیادہ تر وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ ڈسکس ہوتے ہیں۔ سندھ حکومت کو جواب دینے کے لیے ہی تحریک انصاف نے کراچی میں اپنے سینٹر فارورڈز فیصل واوڈا اور علی زیدی کو میدان میں اتارا۔رمضان کے بعد نیب متحرک ہوگا اپوزیشن کی گرفتاریاں ہوں گی۔ کورونا وائرس پر ہونے والی سیاست دونوں طرف سے ختم ہونی چاہیے۔