پاکستان میں 24 گھنٹے میں کرونا کے 342 نئے مریض، مجموعی تعداد کتنی ہو گئی؟
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میںکرونا کے مریضوں میں مزید اضافہ ہوا ہے
نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کے مطابق پاکستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 5716 ہو گئی ہے،پاکستان میں 24گھنٹے میں 342نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں،24گھنٹے میں 3مریض جاں بحق،کل تعداد96ہوگئی،کورونا وائرس سے 1378 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں
پنجاب میں کورونا وائرس کےسب سے زیادہ2826کیسز رپورٹ ہوئے،سندھ 1452،خیبرپختونخوا800اوربلوچستان میں 231 کیسز رپورٹ ہوئے،گلگت بلتستان233،اسلام آباد131اور آزاد کشمیر میں43کیسز رپورٹ ہوئے
سندھ میں 31،پنجاب میں 24،گلگت بلتستان میں 3 مریض جاں بحق ہوئے،بلوچستان میں 2 اور اسلام آباد میں ایک مریض جان کی باز ی ہار گیا،خیبرپختونخوا میں سب سے زیادہ 35 اموات ہوئیں،پاکستان میں لوکل ٹرانسمیشن کے کیسز53فیصد ہے،
قبل ازیں اسلام آباد میں وزارت سمندر پار پاکستانیز میں کورونا وائرس کا مشتبہ کیس سامنے آنے پر سیکرٹریٹ کے کوہسار بلاک کو خالی کرا لیا گیا ہے۔ وزارت سمندر پار پاکستانیز کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن میں تمام ملازمین کو فوری طور پر کوہسار بلاک خالی کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ نوٹیفیکیشن کے مطابق سیکرٹریٹ کا کوہسار بلاک 14 اپریل سے 16 اپریل تک بند رہے گا۔ وزارت سمندر پار پاکستانیز کے ملازمین کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کر دی گئی ہے
کرونا سوائن فلو سے 10 گنا زیادہ مہلک، ویکسین کی تیاری میں لگے گا کتنا عرصہ؟ عالمی ادارہ صحت
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس نے کہا ہے کہ ڈبلیو ایچ او کو امریکا سب سے زیادہ امداد دیتا ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہمارے تعلقات اچھے ہیں.
عالمی ادارہ صحت کے ڈی جی کا مزید کہنا تھا کہ ایک موثر ویکسین کورونا کے پھیلاؤ کو مکمل طور پر روک سکتی ہے،ایسی ویکسین کی تیاری میں ایک سال لگ سکتا ہے ،کرونا وائرس 2009 میں پھیلنے والی وبا سوائن فلو سے10 گنا زیادہ مہلک ہے،
ڈاکٹر ٹیڈروس کا مزید کہنا تھا کہ کچھ ملکوں میں 3سے4 دن میں کیسز دگنے ہورہے ہیں، کرونا کے پھیلاؤ کو مکمل روکنے کے لیے مؤثر ویکسین کی ضرورت ہے، لاک ڈاؤن کو آہستہ آہستہ اٹھایا جائے جلدی نہ کی جائے۔
قبل ازیں عالمی ادارہ صحت نے تصدیق کی ہے کہ دنیا بھر میں اس وقت کورونا وائرس کی 70 ویکسین کی تیاری جاری ہے۔ تیاری کے مراحل میں موجود ان ویکسین میں تین ویکسین انسانوں پر ٹیسٹ بھی کی جا رہی ہیں۔اس سلسلے میں ہانگ کانگ کی ایک کمپنی کین سائنو بایولوجکس اور بیجنگ انسٹی ٹیوٹ آف بایوٹیکنالوجی کی تیار کردہ ویکسین بھی تجرباتی مراحل میں ہے۔اس کے علاوہ دو ویکسین امریکا کے دواساز ادارے موڈرنا اور اینو ویو فارماسیوٹکلز نے تیار کی ہیں.
قبل ازیں کروناوائرس کے خلاف جنگ میں عالمی ادارہ صحت نے افغانستان کو 10 ہزار حفاظتی کٹس اور 12 ہزار کرونا تشخیصی کٹس عطیہ کی ہیں،افغان محکمہ صحت نے عالمی ادارہ صحت کی جانب سے دی گئی امداد کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ امدادی سامان ملک کے تمام اسپتالوں میں فراہم کیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ دیگر ممالک کی نسبت افغانستان میں کروناوائرس کے مریضوں کی تعداد کم ریکارڈ کی گئی ہے۔ حکومت نے 665 کروناکیسز کی تصدیق کی جبکہ افغانستان میں کرونا وائرس سے 21 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
کرونا لاک ڈاؤن، سائیکل پر ہسپتال جانیوالی خاتون نے سڑک کنارے دیا بچے کو جنم
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاک ڈاؤن، گاڑی نہ ملنے پر خاتون کو سائیکل پر ہسپتال لے جایا جا رہا تھا کہ راستے میں ہی سڑک پر اسنے بچے کو جنم دیا
واقعہ بھارت میں پیش آیا ، بھارتی ریاست اترپردیش میں ایک خاتون کی طبیعت خراب ہوئی، ایمبولینس بلائی گئی لیکن نہ آئی، پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کی وجہ سے کوئی گاڑی نہ مل سکی جس کی وجہ سے اس خاتون کو اس کے شوہر نے سائیکل پر ہسپتال لے جانے کا فیصلہ کیا
ابھی وہ مدنا پور کے ہیلتھ سنٹر پہنچے ہی نہیں تھے کہ خاتون کی راستے میں طبیعت بگڑ گئی جس کی وجہ سے خاتون کو سڑک کے ساتھ فٹ پاٹھ پر لٹا دیا گیا، خاتون کے شوہر نے خاتون کے گرد چادرپکڑی اس موقع پر کچھ مقامی خواتین آ گئیں اور انہوں نے چادر پکڑنے میں مدد کی، یوں سڑک کنارے خاتون نے بچے کو جنم دیا
اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی،پولیس کا کہنا تھا کہ ایمبولینس کیوں نہیں گئی اس کی تحقیقات کی جائے گی، خاتون نے سڑک کنارے بچی کو جنم دیا ہے، زچہ و بچہ کو بعد میں ہسپتال منتقل کر دیا گیا
واضح رہے کہ بھارت میں کرونا وائرس کی وجہ سے 21 روزہ لاک ڈاؤن چل رہا تھا کہ مودی سرکار نے مریضوں میں اضافے کے بعد لاک ڈاؤن میں 20 اپریل تک اضافہ کر دیا.
کرونا لاک ڈاؤن، گھر میں فاقے، ماں نے 5 بچوں کو تالاب میں پھینک دیا،سب کی ہوئی موت
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس کی وجہ سے ملک بھر میں لاک ڈاؤن ہے، بھارت نے لاک ڈاؤن میں 30 اپریل تک توسیع کر دی ہے
لاک ڈاؤن کی وجہ سے مزدروں کی مزدوری ختم ہو گئی، بے روزگاری کی وجہ سے غریب شہری فاقوں پر مجبور ہیں، ایسے میں بھارتی ریاست اترپردیش میں دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا جہاں ایک خاتون نے فاقوں کی وجہ سے اپنے 5 بچوں کو تالاب میں پھینک دیا جس سے پانچوں بچوں کی موت ہو گئی ہے
واقعہ اترپردیش کے علاقے بھدوبی کے گوپی گنج میں پیش آیا جہاں ایک خاتون نے کرونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے گھر میں فاقہ کشی اور بچوں کی بھوک سے پریشان ہو کر اپنے 5 بچوں کو تالاب میں پھینک دیا،اسکا شوہر کرونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے بے روزگار ہو گیا تھا اور گھر میں کھانے کو کچھ نہیں تھا، خاتون نے شوہر سے پیسے مانگے کہ بچوں کو کھانا کھلانا ہے لیکن شوہر کے پاس کچھ تھا ساری جمع پونجی خرچ ہو چکی تھی اور گھر میں کھانے کو کچھ نہ تھا.
خاتون سے بچوں کی بھوک دیکھی نہ گئی اور اس نے انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے بچوں کو ساتھ لیا اور 3 سالہ بیٹے سمیت 5 بچوں کو تالاب میں پھینک دیا،بعد میں خود بھی چھلانگ لگا دی،بچوں میں 8 سالہ شیو شنکر، 3 سالہ کیشو پرشاد، 6 سالہ پوجا، اور دو بچوں کی عمریں 10 سے 12 سال بتائی گئی ہیں تمام ڈوب کر جان کی بازی ہار گئے، جبکہ بچوں کی ماں خاتون کو بچا لیا گیا.
مقامی افراد نے بچوں کو بچانے کی کوشش کی لیکن انہیں ناکامی ہوئی، پولیس بھی موقع پر پہنچی اور غوطہ خوروں کو بھی بلایا گیا لیکن تب تک دیر ہو چکی تھی، بچوں کی لاشیں نکالنے میں بھی غوطہ خوروں کو کافی وقت لگا کیونکہ تالاب گہرا تھا،
وااقعہ کے بعد مقامی شہریوں نے مودی سرکار کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ لوگ کرونا سے نہیں بلکہ بھوک سے مر رہے ہیں،حکومت مزدوروں کی مدد کرے تا کہ وہ اپنی زندگی گزار سکیں، آج ایک واقعہ پیش آیا کل مزید ہوں گے
کرونا وائرس لیب میں تیار ہوا یا قدرتی تھا، سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے عیاں کردیا
باغی ٹی وی :سینئر اینکر پرسن مبشرلقمان نے اپنی تازہ یو ٹیوب ویڈیو میںکہا ہے کہ کرونا وائرس اس وقت پوری دنیا میںپھیل چکا ہے اور ہر طرف اس کے متعلق نمبر بتائے جا رہے ہیں کہ کتنی ہلاکتیں ہو چکیںاور کتنے مریض ہیں لیکن اصل کہانی کہ یہ وبا آئی کہاں سے آئی اور کیسے پھیلی اس بارے شاید ہی کوئی بات کرتا ہے انہوں نے کہا کہ کہا کہ اس سلسلے میں دیکھا جائے تو دال میںکچھ کال نہیں بلکہ بہت کچھ کالا نظر آتا ہے. چین کے صوبے ووہان کے متعلق یہ رپورٹس آئیں کہ وہاںکی سی فوڈ مارکیٹ کے شہریوں میں نمونیا کی شکایات ہیں. وہان ہیلتھ کمیشن کی طرف سے ان کیسز کے بارے میں رپورٹ 29 دسمبر 2019 کو سامنے آئی، 31 دسمبر کو پہلا پبلک نوٹس جاری ہوا کہ سی فوڈ مارکیٹکے نمونیا کے مریضوں کو ہسپتالوں میں علاج کےلیے رکھا جائے اور کہا گیا کہ اس مرض سے انسانوںسے انسانوں میںپھیلنے کا ثبوت موجود ہے. یکم جنوری 2020 کو سی فوڈ مارکیٹ بند کردی گئی.اور مارکیٹ کی صفائی شروع ہو گئی، جیسے جرائم کے نشانات کو دھویا جارہا ہے ہو.
مبشر لقمان نے کہا کہ جنوری کو چین کے وائرالوجسٹ انسٹی ٹیوٹ نے بتایا کہ سی فوڈ مارکیٹکے چھ سو سیمپل لیے گئے ان میں 33 سیمپل سے یہ یقینی بنایا گیا کہ انفیکش یہیںسے شروع ہو ا.. اس طرح آٍفیشل نتیجہ نکال لیا گیا کہ انفیکسن کا سورس ووہان سی مارکیٹ ہی ہے . کچھ دنوں کے بعد ایک ریسرچ رپورٹ آئی اور اس نے اس میں اس بات کو چیلنچ کیا اور کہا گیا کہ یہ انفیکشن ووہان سی فوڈ مارکیٹ سے نہیںآیا.کیونکہ جن پہلے مریضوں کے نمونے ان کے سامنے آئے ان کا سی فوڈ مارکیٹ سے کوئی تعلق قائم نہیں کیا جاسکا.اور کہاگیا کہ مارکیٹ میں چمگادڑ موجود ہی نہیں ہیں اور اتنا زیادہ انفیکشن پھیل ہی نہیں سکتا.اس کے بعد ایک اور تحقیق آئی کہ ننانوے مریضوں میں سے 50 کی سی فوڈ مارکیٹ جانے کی کوئی ہسٹری ہی نہیں ہے . اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین کی جانب سے اس انفیکشن کو چھپانے کی بہت کوشش کی گئی ہے .
جنوری کو چین نے انفیکشن کی دس نئی جنیٹک رپورٹشائع کی جس میںبتایا گیا کہ اس نئے انفیکشن اور چمگادڑ سے نکلنے والے انفیکشن میں کافی زیادہ مشابہت پائی جاتی ہے . ماہرین نے یہ بھی کہا کہ اتنی زیادہ مشابہت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ انفیکشن قدرتی طور پر نہیںآیا.اور یہ ممکن ہی نہیںکہ یہ انفیکشن جانوروں سے انسانوں میںجائے اور اس کا سیکونس ایک ہی جیسا ہوِ اکیس جنوری کو ایک اور پیپر شائع ہوا جس میںکہا گیا کہ ووہان کے انفیکشن اور سارس انفیکشن میں مماثلت پائی جا تی ہے اور اس سیل میں پائی جانے والی ایس پروٹین اسے انسانوںکے سیل میں داخل ہونے کے لیے آسانی پیدا کرتی ہے. اور یہ صرف ایک لیبارٹری میں پیدا ہو سکتی ہے .
https://www.youtube.com/watch?v=eoUt-peJevs
انہوں نے کہا کہ پھر چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن نے ایک نوٹس جاری کیا جسمیں کہا گیا کہ انفیکشن پر کی جانے والی تحقیق کو بند کردیا جائے اور چین کے کمیونٹی انفیکشن کی تحقیق پر بالکل خاموشی ہوگئی. یوں یہ بات ثابت نہ ہو سکی کہ یہ وائرس حقیقت میں کیا تھا اور کہا ںسے آیا . چین کے اس رویے پر بہت زیادہ تنقید کی جا رہی ہے. اور کہا جارہا ہے کہ ایسے وائرس پھر سے آتے رہیں گے اور اس کی روک تھام کے لیے کوئی حتمی نتیجہ نہیںنکالا گیا تو کیا انسانیت ایسےہی مرتی رہے گی .مغرب چین پر یہ الزام لگا رہا ہے.کہ ان سب ہلاکتوں کا ذمہ دار چین ہے .
چینی ماہرین نے اس انویسٹی گیشن میں عالمی ماہرین کو شامل نہیںکیا اور اس تحقیق کو سیل کردیا . مبشر لقمان نے سوال اٹھایا کہ اگر اس وبا کی وجہ قدرتی تھی تو چین نے اس تحقیق کو سنسر کرنااور اثر انداز ہونا کیوں شروع کردیا.اور پھر بالکل ہی بند کردیا ،
انہوں نے کہا کہ اسی طرح پہلے جتنے بھی انفیکشن شروع ہوتے تھے وہ ہانگ کانگ کے گردو نواحسے شروع ہوتے تھے ، یہ وائرس چین کے وسط ووہان سے کیوں شروع ہوا.اور ووہان میں موجود لیب پر کوئی تحقیق سامنے کیوںنہیںآئی ؟ انہوں نے کہا کہ کہ سب سولات ہیں جو بڑی سنجیدگی سے جواب طلب ہیں.مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ان سب حقائق کی بنیاد پر یہ صرف سازشی تھیوری نہیں رہ جاتی کہ کرونا وائرس لیب مین تیار کیا گیا بلکہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اسے تیار کیا گیا اور دنیا کو اس کی اتنی قیمت چکانا پڑ رہی ہے .
کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی شرح دگنی، نئی تحقیق میں انکشاف،ممالک پریشان
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چین سے پھیلنے والا خطرناک کرونا وائرس دنیا کے 200 سے زائد ممالک میں پھیل چکا ہے، سب سے زیادہ ہلاکتیں امریکا میں ہو چکی ہیں،کرونا سے بچاؤ کے لئے دنیا کوشش کر رہی ہے لیکن ابھی تک ویکسین تیار نہیں ہو سکی، کرونا پر مختلف ممالک تحقیق کر رہے ہیں کہ یہ وائرس ہے کیا اور اسکے پھیلنے کی شرح کیا ہے،اب ایک نئی تحقیق سامنے آئی ہے
نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے بارے میں جو اندازہ تھا وہ اس اندازے کی بجائے دگنی رفتار سے پھیل رہا ہے، چین کے شہر ووہان جہاں سے کرونا پھیلا تھا وہاں پر کی گئی ایک تحقیق کے مطابق کرونا وائرس کا ایک مریض 2 سے 3 لوگوںکو متاثر کر سکتا ہے لیکن اب نئی تحقیق کے مطابق کرونا وائرس پانچ سے سات لوگوں کو متاثر کر سکتا ہے.
نئی تحقیق نیو میکسیکو کی لاس الاماس نیشنل لیبارٹریز نے کی ہے، اس لیبارٹری کے سائنسدانوں نے ووہان میں کرونا کے حوالہ سے جائزہ سروے کیا ، جس میں کہا گیا کہ ووہان سے پھیلنے والے وائرس کے ایک مریض نے اوسطا 6 لوگوں کو بیمار کیا،کرونا وائرس کو سامنے آئے پانچ ماہ گزر چکے ہیں لیکن ابھی تک اسکا علاج یا ویکسین سامنے نہیں آ سکی
برطانوی اخبار ڈیلی میل نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ کہ نیو میکسیکو میں کی جانے والی تحقیق کے مطابق کرونا وائرس سے 82 فیصد لوگوں نے لڑنے کی قوت مدافعت پیدا کر لی ہے، کرونا وائرس کے پھیلنے کی شرح جو پہلے بتائی گئی تھی وہ صحیح نہیں بلکہ یہ دگنی رفتار سے پھیل رہا ہے اور اس کا ثبوت متعدد ممالک میں ایک ایک روز میں ہزاروں مریضوں کا سامنے آنا ہے.
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس میں مبتلا شخص کا جسم 4 دن میں کرونا کی علامات سامنے لے آتا ہے جبکہ پہلے یہ کہا گیا تھا کہ علامات چھ دن میں سامنے آتی ہیں، 18 جنوری سے قبل چین کے ہسپتال میں جتنے مریض داخل ہوئے تھے ان کے جسم میں علامات نظر آنے کی شرح 5 دن تھی لیکن اس کے بعد جتنے بھی مریض آئے ان میں کرونا کے علامات کی شرح اوسطا ایک سے ڈیڑھ دن ہو گئی
ایک سائنسی میگزین ‘نیچر’ میں شائع ہونے والے رپورٹ کے مطابق ہانگ کانگ یونیورسٹی کے وبائی امراض کے ماہر بین کاؤلنگ نے کہا ہے کہ چین کے لئے یہ وقت لاک ڈاؤن ختم کرنے اور کچھ آرام کرنے کا ہے تا ہم اس بات کا قوی امکان ہے کہ کرونا وائرس کی ایک اور لہر آئے گی، اپریل کے آخر تک چین میں پھر کرونا وائرس بڑی تعداد میں پھیل چکا ہو گا،
بین کاؤلنگ کا مزید کہنا تھا کہ کورونا وائرس چین کے صوبہ ہوبئی کے ووہان شہر سے نکل کر پورے چین اور پھر یورپی ممالک اور امریکہ تک پھیل گیا۔ جس کے بعد پوری دنیا میں فضائی آپریشن بند ہو گئے، ملکوں نے اپنی سرحدیں بند کر دیں، متعدد ممالک نے لاک ڈاؤن کر دیا اور اب آدھی دنیا لاک ڈاؤن میں ہے یورپ میں کرونا وائرس کے علاج کا طریقہ دیکھ کر لگ رہا ہے کہ تقریبا دو سال تک کورونا کے مریضوں کو باقی شہریوں سے الگ رکھنا پڑے گا۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو وہ دوسرے شہریوں کی جانیں خطرے میں ڈالیں گے
بین کاؤلنگ نے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا کہ چین مین اب کئی شہروں میں لاک ڈاؤن ختم ہو گیا، ٹرانسپورٹ کا سسٹم معمول پر آ گیا، شہریوں کی آمدورفت شروع ہو گئی ہے، ایسے میں وہ لوگ جو کرونا سے معمولی متاثر ہیں یا جن کو ابھی تک پتہ ہی نہیں چلا کہ ان کو کرونا ہو چکا ہے اور انہوں نے ٹیسٹ نہیں کروایا ، ایسے لوگ چین میں کرونا کو ایک بار پھر پھیلا سکتے ہیں، اس ضمن میں چین کو ابھی بھی احتیاط کی ضرورت ہے
پولیس اہلکار میں کرونا کی تشخیص، وزیر نے کیا خود کو قرنطائن،صحافیوں کو بھی دیا مشورہ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پولیس اہلکار میں کرونا کی تشخیص کے بعد وزیر نے خود کو گھر میں قرنطینہ کر لیا
واقعہ بھارت کے علاقے ممبئی میں پیش آیا جہاں بھارت کی جماعت راشٹر وادی کانگریس کے رکن اسمبلی اور ریاستی وزیر جتیندر آوہاڑ نے خود کو قرنطینہ کر لیا ہے۔ ریاستی وزیر کی ایک ایسے پولیس اہلکار سے ملاقات ہوئی تھی جس میں کرونا وائرس مثبت آیا جس پر وزیر نے کرونا کے خوف سے خود کو گھر میں محصور کر لیا
وزیر کے گھر میں قرنطینہ ہونے کے بعد کچھ صحافیوں نے بھی ٹیسٹ کروانے کا فیصلہ کیا ہے جن کی اس وزیر سے ملاقات ہوئی تھی، صحافیوں کو بھی وزیر نے مشورہ دیا ہے کہ وہ گھروں میں الگ تھلگ رہیں اور باہر نہ نکلیں،ٹیسٹ ضرور کروائیں.
واضح رہے کہ بھارت میں کرونا وائرس کے مریضوں اور ہلاکتوں میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے، مودی سرکار نے لاک ڈاؤن میں 30 اپریل تک توسیع کر دی ہے، منگل کی صبح مودی بھارتی قوم کو کرونا کے حوالہ سے پیغام بھی دیں گے.
کرونا کا خوف، شوہر کو جسمانی تعلقات قائم کرنے سے بیوی کے روکنے پر گناہ ملے گا یا نہیں؟
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے ایک عالم دین نے کہا ہے کہ اگر کوئی خاتون اپنے شوہر کو کرونا کے خوف کی وجہ سے جسمانی تعلقات قائم کرنے سے روکتی ہے تو اس میں کوئی گناہ نہیں ہے
سعودی عرب کے عالم دین ڈاکٹرعبداللہ بن محمد المطلق نے اپنے ایک فتویٰ میں کہا ہے کہ اگر کوئی خاتون اپنے شوہر کو کرونا وائرس کے خوف کی وجہ سے قریب آنے سے روک دیتی ہے تو وہ گنہگار نہیں ہو گی.
سعودی سپریم علما کونسل کے اہم رکن اور ایوان شاہی کے مشیر ڈاکٹر المطلق سعودی عرب کے ٹی وی چینل کے مذہبی پروگرام فتاویٰ میں عوام کے سوالات کا جواب دے رہے تھے کہ ایک خاتون نے ان سے سوال کیا کہ میرا شوہر کرونا کی موجودہ وبا کے دنوں میں بھی گھر پر نہیں رہتا اور زیادہ وقت باہر گزارتا ہے ۔ اس کو حکومت کی ہدایات کی بھی پروا نہیں ہے ، جس کی وجہ سے میں اپنی اور بچوں کی صحت اور زندگی کے حوالے سے فکر مند ہوں ۔ اس ڈر کی وجہ سے میں نے شوہر کے ساتھ سونا بھی بند کر دیا ہے ۔ خاتون نے عالم دین سے سوال کیا کہ کیا میں ایسا کر کے گنہگار تو نہیں ہو رہی ؟
اس سوال کے جواب میں سعودی عالم دین ڈاکٹرعبداللہ بن محمد المطلق کا کہنا تھا کہ آپ بالکل بھی گناہ کی مرتکب نہیں ہو رہیں ۔ بلکہ آپ تو اپنی حفاظت کر رہی ہیں ۔ کیونکہ یہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو ۔آپ شوہر کی بات کرونا وائرس کے ڈر کی وجہ سے نہیں مان رہیں ۔ اگر آپ کی بات مان کر آپ کا شوہر گھر پربیٹھنے کی بجائے باہر جاتا ہے اور اسے زندگی کی پرواہ نہیں ، تو آپ اپنی حفاظت کی خاطر خود کو اس سے دورہی رکھیں ۔
سعودی عالم دین نے خاتون کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کا شوہر گھر نہیں بیٹھتا تو حکام کو اطلاع دے کر اسے قرنطینہ مرکز منتقل کروا دیں. وہ 14 دن وہان رہے اسکے بعد گھر آئے،انہوں نے شہریوں سے اپیل بھی کی کہ خدا را گھروں میں رہیں اور خود کو کرونا سے بچائیں.
واضح رہے کہ چین سے پھیلنے والا خطرناک کرونا وائرس دنیا بھر میں پھیل چکا ہے، سعودی عرب میں بھی کرونا کے 3 ہزار سے زائد کیسز سامنے آ چکے ہیں جبکہ 40 کے قریب اموات بھی ہو چکی ہیں، کرونا سے بچاؤ کے لئے سعودی عرب میں بھی دیگر ممالک کی طرح کرفیو نافذ کیا گیا ہے، کسی کوگھروں سے نکلنے کی اجازت نہیں ہے
کن ممالک میں پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کیلئے ملی خصوصی پروازوں کی اجازت؟
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق دبئی اور عمان میں پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کے لئے خصوصی پروازوں کی اجازت مل گئی ہے،
سول ایوی ایشن اتھارٹی نےفلائی دبئی کو خصوصی پروازچلانے کی اجازت دے دی،فلائی دبئی کی پروازکل دبئی سے فیصل آباد کے درمیان چلائی جائی جائےگی خصوصی پروازکے ذریعےدبئی میں پھنسے 180پاکستانیوں کو فیصل آبادلایاجائے گا، واپسی پراسی پرواز میں 11اماراتی سفارت کاروں کوواپس لے جایا جائے گا،پروازکے فیصل آبادپراترنے پر کریو کو جہاز سے اترنے کی اجازت نہیں ہوگی.
قبل ازیں سول ایوی ایشن اتھارٹی نے سلام ائیر کو خصوصی پروازیں چلانے کیلئے اجازت نا مہ جاری کردیا، خصوصی پرواز 16 اور 17 اپریل کو مسقط سے لاہور اور کراچی کے درمیان آپریٹ کی جائیں گی۔خصوصی پروازوں میں عمان میں پھنسے پاکستانیوں کو لاہور اور کراچی پہنچایا جائے گا۔ واپسی پر خصوصی پروازوں میں عمانی شہریوں کو واپس لے جایا جائے گا، پروازوں کے پاکستانی ائیرپورٹس پر اترنے پر کریو کو جہاز سے اترنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ لاہور اور کراچی آمد پر ائیرلائن خود جہازوں کو جراثیم سے پاک کرے گی۔
قبل ازیں سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کورونا وائرس کے تدارک کے پیش نظر بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کے لئے نئی ٹریول ایڈوائزری جاری کی۔ پاکستانیوں کے لیے گائیڈ لائنز میں اس بات کا پابند بنایا گیا ہے کہ پاکستان پہنچنے پر مسافر کو سرکاری قرنطینہ میں رہنا ہے یا خود کسی مقام پر ادائیگی کر کے قرنطینہ ہونا ہے اس متعلق پرواز سے پہلے ائیرلائن کو آگاہ کرنا لازمی ہو گا۔
طیارے کے عملے کیلیے بھی سرکاری یا کسی اور جگہ قرنطینہ ہونے کی آپشن کی سہولت ہو گی، سرکاری یا دیگر قرنطینہ ہونے سے متعلق ائیر لائن اور ائیرپورٹ عملے کو پرواز کی لینڈنگ سے چوبیس گھنٹے پہلے بتانا لازمی ہو گا۔ بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کو 7 یوم کیلئے قرنطینہ کیا جائے گا اور سرکاری بسوں میں ائیرپورٹ سے قرنطینہ پہنچایا جائے گا۔ قرنطینہ اور ائیرپورٹ پر کوئی عزیز یا رشتہ دار مسافر سے نہیں مل سکے گا، بین الاقوامی پرواز سے آنے والے مسافر اور کریو کا پہلے دن قرنطینہ میں سواب ٹیسٹ ہوگا۔
قرنطینہ میں ہی چھٹے روز مسافر اور کا دوبارہ سواب ٹیسٹ ہوگا، ساتویں دن ٹیسٹ مثبت آنے مسافر اور کریو کو اسپتال جبکہ منفی ٹیسٹ والوں کو گھر بھجوا دیا جائے گا۔ سات دن بعد گھر وں کو جانے والے تمام مسافروں اور کریو کا مکمل ذاتی ڈیٹا بھی ریکارڈ میں رکھا جائے گا جب کہ رپورٹ منفی آنےپربھی لازم ہوگامسافر یا عملہ گھر میں7دن خودکوآئسولیٹ کرے.
واضح رہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے اندرون ملک اور بین الاقوامی پروازوں پر عائد پابندی میں توسیع کر دی گئی ہے، ترجمان ایوی ایشن ڈویژن کے مطابق پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی نے پابندی میں توسیع کا نوٹم جاری کردیا،21 اپریل تک ملک میں ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل فلائٹ آپریشن معطل رہے گا اس سے پہلے فلائٹ آپریشن پر 14 اپریل تک پابندی عائد کی گئی تھی، سی اے اے نے پاکستان میں کام کرنے والی تمام فضائی کمپنیوں کا آگاہ کردیا
جاری نوٹم میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ بالا معطلی کا اطلاق کارگو اور خصوصی پروازوں پر نہیں ہوگا جن کو منظوری خصوصی اجازت کے تحت ہوں گے
ملک بھر کے تمام فلائنگ کلب کے طیاروں پر پابندی عائد کر دی گئی،تمام وزرائے اعلیٰ کے چارٹر طیاروں اور ہیلی کاپٹرز کو بھی خصوصی اجازت درکار ہوگی ،فلائینگ کلب کے چھوٹے طیاروں کو بھی اڑنے کی اجازت نہیں ہو گی
امریکہ. سپر پاور نہیں رہے گا.؟ مبشر لقمان کی زبانی سنیں اہم انکشافات
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ امریکہ شاید زیادہ دیر تک سپر پاور نہ رہے بہت لوگوں کا یہ خیال ہے جو میں کہہ رہا ہوں، امریکہ کے تھنک ٹینک بھی کہہ رہے ہیں کہ امریکہ کرونا وائرس کے آگے بے بس ہو چکا ہے، پہلے مذاق اڑاتا رہا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کرونا کو چینی وائرس کہتا رہا پھر یورپ کا مذاق اڑاتا رہا لیکن اب اسکو جب امریکہ میں ہلاکتیں زیادہ ہوئیں تو وہ پریشان ہو گئے، اسوقت امریکہ میں ہلاکتون نے تباہی مچا دی، امریکہ نے ہلاکتوں مین اٹلی کو پیچھے چھوڑ دیا، ایک دن میں 1700 ہلاکتیں ہوئیں، مرنے والوں کی مجموعی تعداد 30 ہزار سے زائد ہو گئی ہے.
جمعہ کے روز امریکہ میں 2018 ہلاکتیں ہوئیں جو کسی بھی ملک میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں، وبا کے متاثرین کی تعداد 5 لاکھ سے زائد ہیں،اب امریکہ میں حالات کنٹرول میں نہیں ہے،بڑی تعداد میں اموات کی وجہ سے اجتماعی قبروں میں تدفین کی جا رہی ہے یعنی ایک قبر میں کئی لاشیں دفن کی جا رہی ہیں، بیس بیس لاشیں ایک قبر میں دفن کر رہے ہیں،سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر نے اعلان کیا کہ وبا نے امریکہ میں ایمرجنسی نافذ کر دی، امریکی حکومت دیگر ممالک کی نسبت بہت دیر سے اس حوالہ سے کام کر رہی ہے،جیسے پاکستان کر رہا ہے نہ سماجی فاصلہ ہے اور جو ہے وہ بھی نہ ہونے کے برابر ہے، امریکہ میں طبی مراکز میں اشیا کی قلت ہو گئی ہے، جب وہ اقدامات کرنا چاہ رہے ہیں تو بیماری پھیل چکی ہے، امریکہ کی 50 ریاستوں میں وبا پھیل چکی ہیں، امریکہ میں ہلاکتیں سب سے زیادہ ہیں، ان حالات کے پیش نظر اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ مئی تک دو کروڑ مزید امریکی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے، پچھلے ہفتے تک ایک کروڑ امریکی نوکریوں سے فارغ ہو چکے ہیں، ساٹھ لاکھ افراد نے جو بے روزگار ہوئے انہوں نے خود کو رجسٹر کروایا، چند ہفتے میں امریکہ کی تاریخ میں بدترین معاشی بحران ہو گا، تین کروڑ پچاس لاکھ لوگ بے روزگار ہوں گے اور امریکہ میں شرح بے روزگاری 15 فیصد تک ہو گی
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ میں میڈیکل سامان ،دوائیوں کی قلت ہو چکی ہے، بہت ساری ویڈیوز آ رہی ہیں کہ ان کے ہسپتال خالی پڑے ہیں،وہاں کوئی مریض نہیں، رش نہیں، سب خالی ہے، میڈیا کیا چلا رہا ہے، میڈیا قبریں تو نہیں بنا سکتا ہیں تو وہ دکھا رہا ہے، امریکی ہسپتالوں میں داخل نہیں ہونے دے رہے، ہر مریض کو داخل نہیں کرتے صرف جو سیریس ہو اس کو ہسپتال میں داخل کرتے ہیں،ماہرین کا کہنا ہے کہ وبا ختم ہو گی تو امریکہ شاید اکیلی سپر پاور نہ رہے امریکہ کی وہ صورتحال نہیں رہی، اس کو مار پڑ چکی، وہ اپنے ہی مسائل میں الجھتا چلا جائے گا، دوسری جانب نیو یارک میں وبا کے کیسز بڑی تعداد میں سامنے آئے ہیں، ہر پندرہ سیکنڈ میں ایمرجنسی کال آتی ہے، کونسا ایسا انفراسٹرکچر ہو سکتا ہے جو ان کو سنبھالے، اتنی زیادہ کالز آ رہی ہیں کہ حکام نے کالز سننا بند کر دی ہیں واٹس ائپ اور ٹیکسٹ میسج کئے جا رہے ہیں، جس میں کہا جا رہا ہے کہ اگر آپ کا مریض مرنے والا ہو تو تب اسکو ہسپتال لے کر آئیں اس سے پہلے مریض کو ہسپتال نہ لایا جائے. ہسپتال مریضوں کو نہیں لے رہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب لوگ امریکہ میں مر رہے ہیں تو لوگ انہیں دفنانے کے لئے آگے نہیں بڑھ رہے، دوسری جانب لوگ بھوک سے مر رہے ہیں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ہر آنے والا دن امریکیوں کے لئے خوفناک ثابت ہو گا، جب نوکریاں نہ ہوں، بے روزگاری ہو، اور آگے سمجھ نہ آ رہی ہو کہ کیا کرنا ہے،اسے ہیجان کی کیفیت آئے گی، اتنے لوگ پاکستان ، انڈیا، بنگلہ دیش اٹلی و دیگر ممالک سے لوگ امریکہ بھاگ کر جاتے تھے کہ شاید وہاں بہتر زندگی ہے بہتر سیکورٹی ہے لیکن اسوقت لگ نہیں رہا کہ دنیا میں کوئی ایسی جگہ ہو جو کرونا سے محفوظ ہو،فضائی آپریشن پر پابندی کی وجہ سے کوئی سفر بھی نہیں کر سکتا،امریکہ میں وبا سے ہلاک ہونے والوں میں پاکستانی بھی شامل ہیں، سو سے زائد پاکستانی نیو یارک میں کرونا وائرس کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار چکے ہیں، امریکی ڈاکٹر نے دعویٰ کیا ہے کہ بہت جلد امریکہ مین کیسز کم ہو جائیں گے ،لاک ڈاؤن کی وجہ سے کیس کم ہوں گے، سماجی فاصلے کو کم نہ کیا جائے اگر وبا کم ہو جاتی ہے اور نارمل زندگی شروع ہو جاتی ہے تو پھر بھی سماجی فاصلے کو قائم رکھیں
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی زندگی کا بڑا اعلان کر دیا،ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ملک کو دوبارہ کھولنے کے حوالہ سے نئی ٹاسک فورس کا قیام عمل میں لائیں گے جس میں بہترین ڈاکٹرز، اقتصادی ماہرین ہوں گے اور ملک کو کھولنے کے لئے ایک تاریخ دیں گے. ہمیں امید ہے کہ کسی حتمی تاریخ کا فیصلہ کر لیں گے لیکن کب تک فیصلہ کریں گے یہ پتہ نہیں کیونکہ ہمیں جب تک یہ پتہ نہ چلے کہ ہم کب تک صحتیاب ہوں گے اسوقت ہم اعلان نہیں کریں گے کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ سارا کچھ ہمیں پھر شروع سے کرنا پڑ جائے،دوسری طرف ڈبلیو ایچ او کہہ رہی ہے کہ اگر دنیا کو بچانا ہے تو لاک ڈاؤن کو ختم کرنے میں محتاط رہے ورنہ بہت بڑی قیمت ادا کرنی پڑے گی، آنے والے دن امریکہ کے لئے اہم ہیں.