باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکومت پنجاب نے کرایہ داروں کو بڑا ریلیف دے دیا
کورونا وائرس کے اثرات کے دوران صوبہ بھر کے کرایہ داروں کو لینڈ لارڈ سے بچانے کے لئے صوبائی حکومت نے اہم فیصلہ کیا ہے، حکومت پنجاب نے کرایہ داروں کے حقوق کے تحفظ کے لئے دو ماہ کے دورانیہ پر مشتمل احکامات جاری کر دئیے ، صوبہ بھر میں کوئی بھی مالک مکان لاک ڈاﺅن کی مدت کے دوران کرایہ دار کو زبردستی، غیر قانونی طور پر بے دخل نہیں کر سکے گا
واجبات کی وصولی کو بنیاد بنا کر اس وقت تک بے دخلی نہیں ہو سکے گی ، جب تک اس ضمن میں موجود قانون کے مطابق کارروائی پوری نہیں ہو جاتی ،ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ مومن علی آغاز کی ہدایت پر نوٹیفیکیشن جاری کر دیا
واضح رہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے پنجاب سمیت ملک بھر میں لاک ڈاؤن ہے، تعلیمی ادارے، بازار، شاپنگ مالز وغیرہ سب کچھ بند ہے، ٹرین، پبلک ٹرانسپورٹ بھی معطل ہے، پنجاب میں کرونا کے سب سے زیادہ مریض ہیں.
لاہور:کرونا وائرس سے بچاوکےلیے زبردست طریقہ علاج ،3 لاکھ سے زائد صحت مند بھی ہوچکے ،بہت بہتر،سستا طریقہ علاج ہے ،کرونا وائرس سے بچاو کی سلسلے میں عالمی کوششیں جاری ہیں ان کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے ،باغی ٹی وی کے مطابق پاکستان کے معروف صحافی سنیئرتجزیہ نگارمبشرلقمان نے امید سحربتاتے ہوئے کہا ہےکہ اس خطرناک بیماری کے مریضوں کے لیے خوشخبری کی بات یہ ہے کہ ایک ایسا طریقہ علاج سامنے آیا ہے کہ جس سے 3 لاکھ سے زائد کرونا کے مریض صحت یاب ہوچکے ہیں
باغی ٹی وی کےمطابق سنیئرصحافی مبشرلقمان نے آج کی تازہ صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ 2 سو سے زائد ممالک کو اس وقت اس وبا نے لپیٹ میں لیا ہوا ہے ، اس دوران اس وبا سے جان چھڑانے کے لیے کوششیں بھی جاری ہیں
مبشرلقمان نےکہاکہ اب ضرورت اس امر کی ہےکہ اس بیماری کے ایک کامل علاج ڈھونڈا جائے جس کےلیے کوششیں جاری ہیں ،سوال یہ ہےکہ یہ کب تک ممکن ہوگا ،انہوں نے کہا کہ اس کے لیے بہت وقت درکار ہے ، کیوں کہ جب ویکسن بنے گی تو پہلے اسے جانوروں پر،پھرکامیاب ہونے کی صورت میں انسانوں پرپھراس کی ویکسین کی تیاری کا باقاعدہ سلسلہ شروع کیا جائے گا پھر تب جاکرکچھ کہا جاسکتا ہے
مبشرلقمان نے کہا کہ اس وقت دنیا بھرمیں ساڑھے پندہ لاکھ سے زائد لوگ اس وائرس کا شکارہوچکے ، ایک لاکھ 13 ہزارسے زائد ہلاک ہوچکے ،لیکن اس کے ساتھ ساتھ اچھی خبریہ ہے کہ تین لاکھ 20 ہزار سے زائد صحت یاب بھی ہوچکے ہیں
مبشرلقمان نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ وہ دوائی کلوروکین ہے جسے دنیا صحت یاب بھی ہورہی ہے ،انہوں نے کہاکہ دنیا کے نامور ڈاکٹروں نے ہائیڈروکسی کلوروکوئین کو کرونا کیخلاف موثر ترین دوا قرار دے دیا۔تفصیلات کے مطابق ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دنیا کے نامور ڈاکٹروں کی جانب سے ہائیڈروکسی کلوروکوئین کو کرونا کے خلاف موثر ترین دوا قرار دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ اس حوالے سے سروے میں 30 ممالک کے 6ہزار سے زائد ڈاکٹروں کی رائے لی گئی۔سروے میں 37 فیصد نے ہائیڈروکسی کلوروکوئین کو کوروناکے لیے موثر ترین علاج قرار دے دیا۔ڈاکٹروں کو اس سلسلے میں 15 دوائیوں کی لسٹ فراہم کی گئی تھی۔
سر نے علاج کا دعویٰ کر دیا، کس سستی ترین دوائی سے مریض ہوئے صحتیاب؟
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق فرانس میں ایک مشہور ریسرچ پروفیسر نے کرونا وائرس کے علاج کی کامیابی کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ ابتدائی ٹیسٹوں میں وائرس سے 6 دن میں بچا جا سکتا ہے
انفیکشن ہسپتال سے تعلق رکھنے والے پروفیسر دیڈیئر راؤلٹ نے جو متعدی بیماریوں کے ماہر ہیں،کو فرانسیسی حکومت نے کرونا وائرس سے ممکنہ علاج بارے کہا تھا
پروفیسر کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کے مریضوں کا کلوروکین دوائی کے ساتھ علاج کیا تھا اس سے مریض تیزی سے صحت یاب ہوئے، کچھ مریضوں میں متعدی بیماری برقرار رہی تھی،کلوروکین – جو عام طور پر ملیریا کی روک تھام اور علاج کے لئے عام طور پر استعمال ہوتا ہے – نامی دوائی پلاکینیل کے ذریعہ دیا جاتا تھا۔
مبشرلقمان نے اس حوالےسے بتایاکہ فرانس کے پروفیسر نے یہ علاج ان 24 مریضوں کو پیش کیا جو فرانس کے جنوب مشرق میں کرونا وائرس کے پہلے مریض کے طور پر سامنے آئے تھے،اور انہوں نے رضاکارانہ طور پر خود کو اسپتال میں داخل کرایا تھا۔ کرونا کے مریضوں کو 10 دن تک 600 ایم سی جی روزانہ دیا جاتا تھا۔ انکی سخت نگرانی کی گئی تا کہ وہ کوئی اور دوائی نہ کھا سکیں کیونکہ دوسری دوائی صحت کے لئے مضر ہو سکتی تھی اور اسکا ردعمل آ سکتا تھا ، کیونکہ دوائی دوسری دوائیوں کے ساتھ بات چیت کرسکتی ہے ، اور بعض معاملات میں اس کے مضر اثرات مرتب کرسکتی ہیں۔
پروفیسر راؤلٹ کا کہنا ہے کہ ہم نے کرونا وائرس کے مریضون کا علاج کیا،ہم یہ جاننے کے قابل تھے کہ جن مریضوں کو پلاکینیل (ہائیڈروکائکلروکائن والی دوائی تھی) نہیں ملی تھی ، وہ چھ دن کے بعد بھی متعدی بیماری میں مبتلا تھے ، لیکن ان لوگوں میں سے جو چھ دن بعد ہی پلے کونیل پا چکے تھے ، صرف پچیس فیصد ابھی تک متعدی بیماری میں مبتلا تھے۔
کلوروکین فاسفیٹ اور ہائیڈرو آکسیروکلون اس سے قبل چین میں کرونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے لئے بھی استعمال کی گئی تھی، خبر رساں ادارے کے مطابق عام طور پر ایچ آئی وی کے علاج کے لئے استعمال ہونے والی ایک اینٹی ویرل منشیات ہے جس کا تجربہ کیا جا رہا ہے.
امریکی سائنسدانوں نے نئی تعلیمی تحقیق میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ کلوروکین ایک موثر علاج ہے اور یہ فرانس میں پائے جانے والے نتائج کے مطابق ہوتا ہے۔ کلوروکین کا استعمال انسانوں میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والوں کے لئے اچھا علاج ہے، ریسرچ سے پتہ چلتا ہے کہ کلوروکین لیب میں کورونا وائرس کے خلاف روک تھام کے اقدام کے طور پر بھی قوی صلاحیت رکھتا ہے ، جبکہ ہم کسی ویکسین کے تیار ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔
کلوروکین ایک سستی ، عالمی سطح پر دستیاب دوائی ہے جو ملیریا کے لئے استعمال ہوتی ہے. اسے ہر عمر کے مریضوں کو دیا جا سکتا ہے ،دنیا بھر کے محققین کوویڈ ۔19 کے خلاف ویکسین تیار کرنے پر کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ابھی تک ، کسی بھی ملک اور نہ ہی عالمی ادارہ صحت (WHO) – نے کوویڈ 19 کے خلاف سرکاری طور پر کوئی علاج بتایا ہے ، لیکن چین اور جنوبی کوریا میں کلوروکین کے استعمال کو "موثر علاج” کے طور پر پیش کیا گیا ہے
امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے گذشتہ ہفتے ہی کورونا کے مریضوں کے علاج کے لیے ہائیڈروکسی کلوروکین کے استعمال کی اجازت دی۔سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ 51 فیصد ڈاکٹر اینل جیسک اور 41 فیصد ازیتھر ومائی سن تجویز کرتے ہیں۔
امریکہ نے بھارت کو اس دوائی کی سپلائی کے لیے دباوبڑھایا ہے برطانیہ میں بھی یہ دوائی استعمال کی گئی ، جاپان میں ایک دوائی کو استعمال کیا گیا جس میں چاردن بعد مریض صحت ہوگئے ،
انہوں نے کہاکہ ایبولہ اورسارس جیسی امراض کے خلاف اس کو موثرپایا گیا ،اس کے بعد اس کے استعمال کے قابل بنایا گیا قبل ازیں بتایا گیا تھا کہ کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے لئے ہائیڈروکسی کلوروئین اور ایزیتھرو مائی سین دوائیاں فائدہ مند ثابت ہونے لگی ہیں،مریضوں کو ان ادویات کا پانچ دن کا کورس مکمل کرایا گیا، اب تک اٹھارہ مریض صحتیاب ہو چکے ہیں۔نجی ٹی وی کے مطابق اینٹی ملیریا کیلئے استعمال ہونے والی دو دوائیوں ہائیڈروکسی کلوروئین اور ایزیتھرو مائی سین کو کورونا وائرس کے مریضوں پر استعمال کرنے کے کامیاب نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت نے تمام ممالک سے اس دوائی کے حوالے سے سیمپل لے لیئے ہیں اوراس پرحتمی کام جاری ہے ، چین میں بھی اس دوائی کا استعمال کیا گیا ، جس کے بہترنتائج حاصل ہوئے ہیں
سنیئر صحافی نے انکشاف کیا کہ اس دوائی سے صحت مند ہونے والے مریضوں کے پلازما کو مزید علاج کے لیے استعمال کریں ، جرمنی میں ایسے ہی پلازما کے طریقہ کار کواپنا یا ، نیویارک میں بی اس پلازما کو آزمایا گیا
پاکستان میں بھی اس طریقہ علاج کو آزمایا جارہا ہے، ڈاکٹرشمسی نے حکومت پاکستان سے کہا ہے کہ پلازما کے طریقہ علاج کو آزمانے کے لیے باقاعدہ سلسلسہ شروع کیا جائے ، مبشرلقمان نے بتایا کہ پاکستان میں پہلے صحت مند ہونے والے مریض یحیٰ جعفری نے اپنا پلازما عطیہ کرنے ا علان کیا ہے ،
مبشرلقمان نے کہا کہ اس کے لیے سرکاری اجازت ضروری ہے ، لیکن ہمارے ہاںتو صوبائی اوروفاقی حکومتیں اپنے اپنے مسائل میں مبتلا ہیں جس کے لیے بہترطریقہ کارآزمانا چاہے تاکہ اس بیماری سے جلد از جلد نجات مل سکے
ریاض :کورونا وائرس: سعودی عرب نے مساجد میں نمازتراویح پرپابندی عائد کردی ،اطلاعات کےمطابق سعودی عرب کی وزارت مذہبی امور نے اعلان کیا ہے کہ اس سال رمضان المبارک کے دوران مساجد میں نماز تراویح کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق لوگوں کو نماز تراویح گھروں میں ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ مساجد میں نمازوں کی ادائیگی اس وقت تک معطل رہے گی جب تک کورونا وائرس کی وبا کا اختتام نہیں ہوجاتا۔
سعودی وزیر برائے مذہبی امور ڈاکٹر عبداللطیف الشیخ نے کہا کہ ‘مساجد میں روزانہ 5 وقت نماز پر پابندی نماز تراویح پر پابندی سے زیادہ اہم ہے، نماز تراویح کو گھر میں پڑھا جائے یا مسجد میں، اُمید ہے اللہ تعالیٰ اسے قبول کرلیں گے، ہمارے خیال میں لوگوں کی صحت اہمیت رکھتی ہے، ہم اللہ تعالیٰ سے التجا کریں گے کہ ہماری نمازوں کو قبول فرمائے اور انسانیت کو اس وبا سے بچائے جو پوری دنیا میں پھیل چکی ہے’۔
وزارت صحت اور متعلقہ حکام کی جانب سے نماز جنازہ کے لیے مرحومین کے خاندان کے 5 سے 6 افراد کو ہی شرکت کرنے کی ہدایات اور احتیاطی تدابیر کے حوالے سے ڈاکٹر عبداللطیف نے کہا کہ ‘یہ اجتماع کی روک تھام کی ایک تدبیر ہے، تاکہ قبرستان میں نماز جنازہ کے دوران مرحومین کے 5 یا 6 رشتے داروں سے زیادہ اکٹھے نہ ہوسکیں جبکہ باقی گھروں میں ایصال ثواب کے لیے دعا کریں’۔
ان کا کہنا تھا کہ نماز جنازہ فرض نمازوں سے زیادہ اہم نہیں، تو یہ ممکن ہے کہ انفرادی طور پر اسے ادا کیا جاسکے، جو اس لیے بھی ضروری ہے کہ کسی ایک مقام پر زیادہ تعداد میں لوگ اکٹھے نہ ہوسکیں اور وائرس کے پھیلنے کا خطرہ کم ہوسکے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک میں رمضان المبارک کا آغاز 24 اپریل کو ہونے کا امکان ہے۔سعودی عرب کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی نماز تراویح کی مساجد میں ادائیگی پر پابندی عائد کی جاسکتی ہے، تاہم فی الحال کسی اور ملک نے ابھی ایسا کوئی اعلان نہیں کیا۔
سعودی عرب میں اب تک نئے کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے نتیجے میں 4462 افراد متاثر جبکہ 59 اموات ہوچکی ہیں جبکہ 761 افراد صحتیاب بھی ہوچکے ہیں۔اس وبا کے نتیجے میں سعودی عرب کے مختلف حصوں میں کرفیو نافذ ہے جس کا دورانیہ مزید بڑھا دیا گیا ہے۔
لاہور:کرونا سے فوت ہونیوالوں کے جنازے ہم پڑھائیں گے، لاشوں کی بے حرمتی گوارہ نہیں،علامہ ابتسام الٰہی ظہیر،باغی ٹی وی کے مطابق کرونا سے مرنے والے مریضوں کا جنازہ نہ پڑھانے کے عمل کو اب غیرمسلم بھی درست نہیں سمجھ رہے ،
کرونا وائرس مرنے والے مریضوں کی نمازجنازہ نہ پڑھانے کے حوالے سے ابھی دو تین دن سے بی بی سی کی ایک رپورٹ مختلف والز پر شئیر ہوئی جس میں ایک ڈاکٹر صاحب نے کورونا سے وفات شدہ مریض کو غسل اور جنازہ پڑھانے کا ذکر کیا ۔
بات یہاں تک رہتی تو بظاہر اس میں کوئی برائی نہیں ہے مگر اس رپورٹ میں نامحسوس طریقے سے یہ باور کروانے کی کوشش کی گئی کہ ایک عالم دین نے کورونا کے مریض کا سن کر غسل دینے اور جنازہ پڑھانے سے انکار کردیا ۔ اس بات کو ایشو بناکر تمام لوگ علماء پر چڑھ دوڑے ۔ مولویوں اور علماء کو بے بھاو کی سنا ڈالی ۔
باغی ٹی وی کےمطابق اس مشکل صورت حال پرعلامہ احسان الٰہی ظہیر شہید رحمتہ اللہ کے صاحبزادوں ،مذہبی سکالرز علامہ ابتسام الہی ظہیر اور علامہ ہشام الہی ظہیر نے کافی دونوں سے یہ اعلان کیا اور اسکی باقاعدہ تشہیر کی ۔ مگر کسی کو بھی یہ کردار کی عظمت نظر نہیں آئی ۔باقی مکاتیب مفکر کے علماء سے گزارش ہے آگے بڑھیں اور اس مسئلہ میں انکے دست و بازو بنیں ۔
کراچی:سندھ کوبھجوائی گئیں 20 ہزار کورونا ٹیسٹنگ کٹس خراب ہیں،اطلاعات کے مطابق سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ وفاق سے سندھ کوبھیجی گئیں کورونا ٹیسٹنگ کٹس نامکمل اور خراب ہیں۔
مرتضیٰ وہاب کا اپنی ٹوئٹ میں کہنا تھا کہ سواب اور وی ٹی ایم کوروناٹیسٹ کےلیے انتہائی ضروری ہیں لیکن سندھ کو 20 ہزار ٹیسٹ کٹس بغیر وی ٹی ایم کے موصول ہوئیں۔انہوں نے کہا کہ وفاق کی بھیجی گئیں 20 ہزار ٹیسٹنگ کٹس کسی کام کی نہیں کیوں کہ یہ کٹس کلینیکل ایگزامینیشن کے معیار کے مطابق نہیں۔ان کا کہنا کہا کہ وفاقی وزراء کے قول اور فعل میں کتنا تضاد ہے اور یہ شرم کا مقام ہے۔
We had received 3,000 and then 17,000 tests without VTMs and swabs which are necessary for conducting the tests. Therefore of no use. Secondly, the quality of kits is not fit for clinical examination. This is also mentioned on prescription note available with the kits. pic.twitter.com/3TxTR7oge4
— Murtaza Wahab Siddiqui (@murtazawahab1) April 12, 2020
خیال رہے کہ سندھ حکومت نے ٹیسٹ کی صلاحیت بڑھانے کے لیے 50 ہزار ٹیسٹ کٹس منگوائی ہیں۔سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے ٹیسٹنگ کٹس ایمرجنسی ریلیف فنڈکے تحت خریدی ہیں اور یہ 50 ہزار کٹس کراچی پہنچ گئی ہیں۔
واضح رہے کہ سندھ میں اب تک 30 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ متاثرہ مریضوں کی تعداد 1100 سے تجاوز کرچکی ہے۔
مظفرگڑھ :ڈاکٹر کی کرونا کے مریضوں کے ساتھ رقص کی ویڈیو وائرل،دلچسپ تبصرے،لوگ خراج تحسین پیش کرنے لگے،اطلاعات کےمطابق مظفرگڑھ میں کورونا وائرس کے مشتبہ مریضوں کی فرمائش پر ڈاکٹر کی اسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں مریضوں کے ساتھ رقص کی ویڈیو وائرل۔۔ سوشل میڈیا صارفین نے ڈاکٹر کو خوب داددی
مظفرگڑھ کے ڈی ایچ کیو اسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں لیٹے کورونا وائرس کے مشتبہ مریض بوریت کا شکار ہونے لگے تو میڈیکل آفیسر ڈاکٹر صدام سے رقص کی فرمائش کردی۔مریضوں کے اصرار پر حفاظتی سوٹ پہنے ڈاکٹر نے گانوں کی دھن پر مشتبہ مریضوں کیساتھ رقص شروع کردیا۔ ویڈیو میں ڈاکٹر صدام کو مشتبہ مریضوں کیساتھ رقص کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین نے اس ویڈیو کو بہت پسند کیا اور ڈاکٹر صاحب کو خوب داد دی، سوشل میڈیا صارفین کا کہنا تھا کہ کرونا کا نام سن کر خوف آتا ہے اور جس مریض پر یہ قیامت گزرتی ہے اسے ہی معلوم ہوتا ہے کہ کرونا کس کرب کا نام ہے۔
اس ویڈیو کو تحریک انصاف کی وزیر زرتاج گل نے شئیر کرتےہوئےلکھا کہ مظفر گڑھ کے ڈاکٹر صدام کورونا کے مریضوں کے ساتھ رقص کرتے ہوئے۔ یہ ڈاکٹر اور طبی عملہ جو کورونا کا علاج کر رہے، داد کے مستحق ہیں! دوسرے ڈاکٹروں کے لئے رول ماڈل۔
مظفر گڑھ کے ڈاکٹر صدام کورونا کے مریضوں کے ساتھ رقص کرتے ہوئے۔ یہ ڈاکٹر اور طبی عملہ جو کورونا کا علاج کر رہے، داد کے مستحق ہیں! دوسرے ڈاکٹروں کے لئے رول ماڈل۔
شکیل نامی سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ واقعی اس قوم کو کوئی شکست نہیں دے سکتا اللہ کے فضل و کرم سے۔۔۔ایک طرف پوری دنیا کے ہسپتال کرونا وائرس کی وجہ سے ہنگامی صورتحال کا شکار ہیں
ایک طرف پوری دنیا کے ہسپتال کرونا وائرس کی وجہ سے ہنگامی صورتحال کا شکار ہیں۔ مظفر گڑھ جہاں سرکاری ہسپتال میں ہمارے بھائی ڈاکٹر صدام اور کرونا کے مریض کیا کر رہے ہیں
پھالیہ : ایک طرف ڈاکٹرزاانسانیت کی جانیں بچانے میں اپنی زندگیوں کوداوپرلگائے بیٹھے ہیں تودوسری طرف افسران اعلیٰ اپنی من مانیاں کرنے پرتلے ہوئے ہیں ، اطلاعات کےمطابق ایم ایس پھالیہ نے کورونا وائرس کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑنے والے ینگ ڈاکٹرز کی تنخواہیں روک لیں۔ینگ ڈاکٹرز کا احتجاج۔ایم ایس کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کردیا۔
ایم ایس ٹی ایچ کیو پھالیہ ڈاکٹر بشری چودھری کے خلاف ینگ ڈاکٹرز نے احتجاج کیا ہے۔ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ایم ایس نے ہسپتال کو ذاتی جاگیر بنا رکھا ہے۔اور ایم ایس کی ینگ ڈاکٹرز سے بد تمیزی معمول بن چکی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وبا کے دنوں میں سب کو مل جل کر کام کرنا چایئے لیکن ایم ایس نے ینگ ڈاکٹرز پر اپنے دفتر کے دروازے بند کررکھے ہیں۔ جس کے باعث ہسپتال میں معاملات چلانے میں دشواری پیش آرہی ہے۔ایم ایس نے بلا وجہ ینگ ڈاکٹرز کی تنخواہیں بھی روک روکھی ہیں۔
ینگ ڈاکڑز کاکہنا تھاکہ ایم ایس پھالیہ کو فوری طورپر تبدیل نہ کیا گیا تو احتجاج کا سلسلہ شتوع کہا جائیگا۔
لاہور:ایک طرف کرونا کی تباہ کاریاں تودوسری طرف بھارتی فوج کا ظلم وتشدد جاری ، کپواڑہ کے لوگ احتجاج کرتے گھروں سے نکل آئے،باغی ٹی وی کےمطابق مقبوضہ کشمیرمیں کشمیری اس وقت تاریخ کے مشکل ترین دورسے گزررہے ہیں
ایک طرف کرونا کی تباہ کاریاں تودوسری طرف بھارتی فوج کا ظلم وتشدد جاری ، کپواڑہ کے لوگ احتجاج کرتے گھروں سے نکل آئے pic.twitter.com/oAo7PqAxzK
باغی ٹی وی کےمطابق بھارتی فوج نے سرحدی ضلع کپواڑہ میں کشمیریوں کا جینا حرام کردیا ہے اورگرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے ، یہ بھی اطلاعات ہیںکہ بھارتی فوج کرونا کے بہانے نوجوانوں کواٹھا کرٹارچرسیلوں میں لے کرجارہے ہیں
ادھرمقبوضہ وادی سے اطلاعات کےمطابق کپواڑہ کے عوام نے بھارتی فوج کی طرف سے پاکستانی علاقوں میں فائرنگ کے خلاف بھارتی فوجی کے سامنے آکراحتجاجی مظاہرے بھی کیئے ہیں
کپواڑہ سے ذرائع کے مطابق بھارتی فوج کی ظالمانہ کاروائیوں کے خلاف مردوخواتین گھروں سے باہرنکل آئے بھارتی فوج کے خلاف نعرے لگاکرپاکستان کے ساتھ اپنی محبت کا کھل کراظہارکیا
لاہو:ڈاکٹروں کوکرونا وائرس ، وزیراعلیٰعثمان بزدارنے نوٹس لے لیا،اطلاعات کےمطابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارنے نشتر ہسپتال ملتان میں بعض ڈاکٹروں اور عملے کے کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے حوالے سے میڈیا پر نشر ہونے والی خبر کا نوٹس لیتے ہوئے صوبائی وزیر صحت اورسیکرٹری صحت سے رپورٹ طلب کر لی ہے-
وزیراعلیٰ نے کہاکہ بعض ڈاکٹروں اور عملے کے کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے واقعہ کی انکوائری کر کے رپورٹ پیش کی جائے اور ڈاکٹروں اور عملے کو حفاظتی لباس اور دیگر ضروری سامان کی فراہمی کا جائزہ لینے کے حوالے سے بھی تحقیقات کی جائیں –
وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ہسپتالوں میں تعینات ڈاکٹروں اور دیگر عملے کو حفاظتی لباس اور دیگر ضروری سامان ترجیحی بنیادوں پر فراہم کیا جائے-انہو ں نے کہاکہ ڈاکٹر اوردیگر عملہ فرنٹ لائن پر ہیں اور ان کی حفاطت سب سے پہلے مقدم ہے-ڈاکٹروں اور عملے کو حفاظتی لباس اور ضروری سامان کی فراہمی میں کوتاہی برداشت نہیں کی جا سکتی-
کراچی :شکوہ ، جواب شکوہ ،فردوس عاشق اعوان بمقابلہ نفیسہ شاہ،کرونا سے لڑنے کی بجائے آپس میں الجھ پڑیں ،اطلاعات کےمطابق پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات و رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ کا فردوس عاشق اعوان کے بیان پرسیخ پا ہوگئی ہیں
ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے بحران کے دنوں میں عمران خان ذاتی لڑائیوں میں الجھے ہوئے ہیں،انہوں نے مزید کہا کہ کرونا وائرس کے بحران میں دنیا ایک پیج پر آرہی ہے اور عمران خان نئے محاذ کھول رہے ہیں ،
، ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے بلاول بھٹوکو سنجیدہ لیڈرقراردیتے ہوئے کہاہےکہ بلاول بھٹو زرداری نے کرونا وائرس کے بحران سے نمٹنے میں وفاق کے غیرسنجیدہ کردار کا ذکر کیا ،انہوں نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو نے عالمی نشریاتی ادارے میں قوم کا نمائندہ بن کر انٹرویو دیا،
، ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ فردوس عاشق اعوان شاہ سے بڑھ کر شاہ کا وفادار بننے کے بجائے حکومتی کارکردگی پر توجہ دیں،
یاد رہےکہ آج معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان تمام اکائیوں میں بسنے والے پاکستانیوں کے حقوق کے تحفظ کے ضامن ہیں۔
اپنی ٹوئٹ میں فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی میں فیصلے مشاورت سے طے پاتے ہیں اور وزیراعلی سندھ اس کمیٹی کے رکن ہیں۔ سندھ کے عوام پاکستان کے شہری ہیں۔ وزیراعظم عمران خان تمام اکائیوں میں بسنے والے پاکستانیوں کے حقوق کے تحفظ کے ضامن ہیں۔
معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری کا بیان کورونا کے خلاف جنگ میں قومی یکجہتی کی فضا پارہ پارہ کرنے کے مترادف ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد صحت کا شعبہ صوبوں کے دائرہ اختیار میں ہے۔ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہے۔ یہ سیاست چمکانے کا وقت نہیں، متحد ہوکر تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے کورونا وائرس کو شکست دینا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز بلاول بھٹو زرداری نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ کورونا پر قابو پانے کے لیے وفاقی حکومت سست روی سے کام کر رہی ہے، کورونا کے خلاف صوبے اپنے اپنے طور پر کام کررہے ہیں اور اس حوالے سے وفاق کی جانب سے بہت کم امداد مل رہی ہے۔