لاک ڈاؤن، گھروں میں فاقے، شہری باہر نکل آئے، درجنوں گاڑیوں کو آگ لگا دی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاک ڈاؤن کے دوران غریب شہریوں نے بھوک سے تنگ آ کر ہنگامہ آرائی شروع کر دی اور درجنوں گاڑیوں کو آگ لگا دی
یہ واقعہ بھارت میں پیش آیا، بھارتی وزیراعظم مودی کے حلقہ انتخاب گجرات میں شہریوں نے بھوک سے تنگ آ کر لاک ڈاؤن توڑ دیا اور گھروں سے نکل کر توڑ پھوڑ کی ، اس دوران شہریوں نے درجنوں گاڑیوں کو آگ لگا دی،پولیس موقع پر پہنچی اور شہریوں پر تشدد کیا اور کچھ کو گرفتار بھی کر لیا
شہریوں کی جانب سے حکومت تک ابھی تک کوئی امداد نہ پہنچنے کی وجہ سے وہ گھروں سے نکلے اور مودی سرکار سے شکوہ کیا کہ جب اس حلقے سے منتخب ہونے والا وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھ گیا تو اپنے حلقے کو بھول گیا، شہریوں کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے انکا کام بھی بند ہے، مزدوری بھی نہیں مل رہی ، ان کے گھروں میں فاقے ہیں لیکن مودی سرکار کوئی مدد نہیں کر رہی.
واضح رہے کہ بھارت میں کرونا کے وار جاری ہیں، بھارت میں 21 روزہ لاک ڈاؤن چل رہا ہے تا ہم مودی سرکار لاک ڈاؤن بڑھانے پر غور کر رہی ہے.بھارت کی کئی ریاستوں نے لاک ڈاؤن بڑھانے کی حمایت کی ہے،بھارت میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 7 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے مودی سرکار نے 25 مارچ کو بھارت میں لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا
کرونا وائرس، پاکستان میں 71 ہلاکتیں، مریضوں میں بھی اضافہ، سب سے زیادہ ہلاکتیں کس صوبے میں ؟
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا وائرس کے مریضوں میں اضافہ ہوا ہے،پاکستان میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 4747 ہو گئی ہے، جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 71 ہو گئی ہے
کرونا وائرس سے سندھ میں 22 خیبر پختونخواہ میں 25 ، پنجاب میں 18، بلوچستان میں 2، گلگت میں 3 ، اسلام آباد میں ایک ہلاکت ہو چکی ہے.
صوبہ پنجاب میں کرونا وائرس کے 2336 کنفرم مریض ہیں۔ اس کے علاوہ اسلام آباد میں 107، صوبہ سندھ میں 1214، خیبر پختونخوا 656، بلوچستان 219، آزاد کشمیر 33 جبکہ گلگت بلتستان میں 215 کیس رپورٹ ہو چکے ہیں۔
خیبر پختون خوا میں کورونا وائرس کے مزید39کیسز سامنے آگئے،صوبے میں کورونا سے مزید 3اموات تعداد 25 ہو گئی ،خیبر پختون خوا میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 656 ہوگئی، صوبے میں کورونا وائرس سے متاثرہ 131افراد صحت یاب ہو چکے ہیں
وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے دیئے گئے اعدادوشمار کے مطابق پنجاب میں کرونا کے 2336 مریض ہیں جن میں سے 701 زائرین، 733 تبلیغی جماعت، 80 قیدی اور 822 اضلاع میں شہری ہیں. پنجاب کے 30 اضلاع میں کرونا وائرس کے مریض سامنے آ چکے ہیں، لاہور میں سب سے زیادہ مریض 373 اور گجرات میں دوسرے نمبر پر 99 ہیں.
اعدادوشمار کے مطابق پنجاب بھر میں گزشتہ روز تک 31535 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ ترجمان پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر نے عوام سے گزارش کی ہے کہ حفاظتی تدابیر اختیار کر کے خود کو محفوظ بنائیں۔ متاثرہ ممالک سے آئے افراد میں آئسولیشن کے دوران علامات ظاہر ہوں تو 1033 پر رابطہ کریں۔
سندھ میں کورونا وائرس کے مزید 86 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد صوبے میں متاثرہ افراد کی تعداد 1214 تک پہنچ چکی ہے۔ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے بتایا ہے کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں 586 مزید ٹیسٹ ہوئے جس میں سے 86 افراد کورونا میں مبتلا پائے گئے۔ وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق اب تک صوبے میں صحت یاب افراد کی تعداد 358 ہو چکی ہے جبکہ 22 افراد اس موذی مرض سے جاں بحق ہو چکے ہیں۔
گلگت بلتستان میں کورونا وائرس کے ایکٹو کیسز کی تعداد کم ہو کر 87 جبکہ کورونا وائرس کا شکار ہو کر صحت یاب ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 125 ہو گئی ہے۔
اگر ہم یہ کام نہ کرتے تو امریکا میں کرونا سے 22 لاکھ ہلاکتیں ہو سکتی تھیں،ٹرمپ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ میں ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ سے کم ہی رہے گی
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انسانی زندگیاں بچانے کیلئے بہت زیادہ پیشرفت دیکھی ہے،اگرہم کچھ نہ کرتے تو یہ تعداد 22 لاکھ تک ہو سکتی تھی، ہماری جارحانہ اسٹریٹیجی لاتعداد زندگیاں بچا رہی ہے، ہم نے امریکی تاریخ کا سب سے بڑا ریلیف پیکیج دیا ہے، کرونا وائرس کو شکست دینے کے لیے تمام وسائل استعمال کررہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ لاکھوں امریکی اس مشکل وقت میں قربانیاں دے رہے ہیں، ایک بہترین مستقبل امریکیوں کی راہ دیکھ رہا ہے، مجھے محسوس ہوتا ہے ہماری معیشت جلد بہتر ہوگی، ہم بھرپور طریقے سے واپس آئیں گے، مزید 500 ملین ماسک خرید رہے ہیں، اربوں ڈالرز کی میڈیکل سپلائی ریاستوں کو بھجوا رہے ہیں۔ کرونا وائرس کے سلسلے میں اب تک امریکا میں 2 کروڑ ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں، امریکی افواج 12 عارضی اسپتال بنا رہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ عالمی ا دارہ صحت کی فنڈنگ سےمتعلق اعلان آیندہ ہفتےکروں گا،امریکاعالمی ا دارہ صحت کو سالانہ تقریباً50کروڑ ڈالرامداد دے رہا ہے،
واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی ادارہ صحت پر تائیوان کی وارننگ نظرانداز کرنے کا الزام لگایا تھا، ٹرمپ نے کہا تھا کہ ڈبلیو ایچ او نے وارننگ نظر انداز کرکے بیجنگ کی مدد کی تھی۔ امریکی صدر کے الزامات پر عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ تائیوان نے 31 دسمبر کو ای میل کے ذریعے نمونیا پھیلنے سے خبردار کیا تھا۔ تائیوان نے نہیں بتایا تھا کہ یہ انسانوں سے انسانوں سے لگنے والی بیماری ہے، تائیوان نے ای میل میں کہا تھا کہ یہ بیماری سارس نہیں ہے
امریکا میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 18 ہزار سے زائد ہو چکی ہے.
سعودی عرب میں کرونا وائرس سے ہلاکتیں کتنی ہو گئیں؟
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 47 ہو گئی ہے
سعودی وزارت صحت کے مطابق سعودی عرب میں میں گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران کورونا وائرس کے مزید 364 مریض سامنے آئے جس سے مریضوں کی مجموعی تعداد 3651 ہو گئی ہے، گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران 3 افراد ہلاک ہو ئے جس کے بعد مملکت میں ہلاکتیں 47 ہو گئی ہیں.
سعودی عرب کے مختلف شہروں میں کرونا وائرس کے زیر علاج مریضوں میں سے 24 گھنٹے کے دوران 19 افراد صحتیاب ہوئے جس کے بعد صحتیاب ہونے والوں کی مجموعی تعداد 685 ہو گئی ہے، سعودی عرب میں کرونا وائرس کے 57 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے
مدینہ منورہ ریجن میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 510 ہو گئی ہے جس میں سے 480 ایکٹیو کیس ہیں 16 کی ہلاکت ہوچکی ہے- 4 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں،ینبع کمشنری میں جمعہ کو نئے 9 مریض سامنے آئے،الحناکیہ کمشنری میںکرونا کے دو نئے اور العلا میں ایک مریض سامنے آیا ہے.
سعودی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ ملک میں اب تک ایک لاکھ سے زائد کرونا وائرس کے لیبارٹری ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔’کورونا وائرس کے ٹیسٹ ملک کے مختلف شہروں میں قائم 10 لیبارٹریز میں کیے جاتے ہیں۔ تمام ٹیسٹ ’مولیکیولر پالمائزیشن‘ ٹیکنالوجی کے تحت کیے جاتے ہیں جن میں غلطی کا امکان نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے.
لاہور:چند ماہ وبا مزید جاری رہے تو انجام کیا ہو گا۔۔؟مبشرلقمان نے دنیا کوجگا دیا،باغی ٹی وی کے مطابق پاکستان کے سنیئرصحافی ، تجزیہ نگارمبشرلقمان نے کرونا وبا کی تباہ کاریوں کے نتیجے میںہونے والی تبدیلیوں پرسے جس طرح پردہ اٹھایا ہے وہ ایک قابل غوربات اورحقیقت بن کرسامنے آیا ہے
سنیئرصحافی مبشرلقمان نے دنیا کوکرونا کے نتیجے میں ہونےوالے اقدامات پربھی روشنی ڈالا اورساتھ یہ بھی انکشاف کردیا کہ ابھی تک اس وبا سے نمٹنے کے لیے تمام تراقدامات کیئے جارہے ہیں .لیکن سب سے خوف والی بات یہ ہے کہ دنیا ایک بہت بڑے معاشی بحران کی طرف بڑھ رہی ہے
مبشرلقمان نے اس حقیقت سے بھی پردہ اٹھایا کہ ابھی تک کسی ملک اورمعاشی طاقت کے پاس بھی اس کے اثرات سے نکلنے کا کوئی ٹھوس حل نہیں ہے ، کیسے اس بحران سے نکلا جائے یہ کہنا ابھی قبل ازوقت ہی ہوگا ،انہوں نے کہا کہ کرونا کی وجہ سے دنیا ہی بدل گئی ہے، رات کو دن کا منظرپیش کرنے والے شہر اب ویران پڑے ہیں ،
سنیئرصحافی نے معاشرتی اقدارکی کچھ قدروں پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کرونا نے تو محبتیںہی چھین لی ہیں، اب کسی کو ملنا اچھا نہیں سمجھا جاتا ، بزرگوں کے پاس نہ بیٹھا جائے گا اورنہ ہی بزرگوں کو اپنے پاس بٹھایا جائے گا
انہوں نے اٹلی کے حالات کی گھمبیرصورت حال پربھی انکشافات کیئے انہوںنے کہا کہ حکومت نے لاک ڈاون میں کمی کی ہے تاکہ لوگ اپنے گھروں سے نکل آئیں لیکن لوگ خوف کے مارے اپنے گھروں سے نہیں نکل رہے
انہوں نے کہا کہ اصل صورت حال تواگلے آنے والے دنوںمیں معاشی بدحالی پرقابو پانا ہے ، کیاکرونا کی وجہ سے چین کمزورہوگیا ،روس اورامریکہ بھی متاثرہوئے بغیر نہ رہے سکے
دنیا نہیں جانتی کہ کل کیا ہوگا ، یہ وبا آگے چل کرمزید تباہی کا سبب بنے گی ، امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ ہنری کسنجر نے کہا ہےکہ اس کے اثرات بہت تباہ کن رہیں گے ،دنیا تو اس کے لیے تیار تو نہیں
اشیائی بینک نے کہا ہے کہ اس کے کرونا وائرس کی وجہ سے پیداوار کی نمومیں بہت زیادہ کمی واقع ہوجائے گی ،مبشرلقمان نے انکشاف کیا کہ جولوگ یہ اندازہ لگا رہے ہیں کہ 2008 میں مالیاتی نقصانات سے زیادہ اس کے نقصانات ہوں گے
عالمی جی ڈی پی 90 ٹرلین ڈالرہے ،عالمی دنیا نے اس وائرس کی وجہ سے 3 ٹرلین کا نقصان برداشت کیا ہے ، اگریہ وائرس ایسے ہی بڑھتا گیا تو مئی جون میں اس کی تباہ کاریاں بہت زیادہ ہوں گی
ایپل جیسے ادارے کو روزانہ کی بنیاد پراربوں روپے نقصان اٹھا رہا ہے ،
کرونا وائرس نے دنیا بھرمین بے روزگاری میں اضافہ کیا ہے ، امریکہ میں بے روزگاری سب سے زیادہ پھیل رہی ہے،اس وقت امریکہ میں 3.2 ملین بے روزگار ہوگئے ہیں،اگلے چھ ماہ میں یہ تعداد 8 سے 12 لاکھ تک پہنچ سکتی ہیں
ٹرمپ کی طرف سے اعلان کردہ امدادی پیکج کو ناکافی سمجھا جارہا ہے،6-10 ٹریلین ڈالرز کی ضرورت ہوگی تب جا کرامریکی عوام کو کچھ ریلیف مل سکتا ہے ،کرونا وائرس نے روس اورسعودی عرب کی تیل کی لڑائی کو ان کی طرف ہی موڑ دیا ہے ،
اگرتیل پیدا کرنے والے ملک ہی معاشی طورپربدحال ہوگئے ہوںتوپھرامریکہ جیسے ملک کی تباہی بھی بہت زیادہ ہوگی ،یورپی ممالک اس وقت بہت سخت معاشی صورت حال کا سامنا کررہے ہیں ، یورپین یونین معاشی مارکیٹ میں پہلے سے موجود ہے ، چین ابھی تک اس سطح تک نہیں پہنچ سکی
مبشرلقمان نے کہا کہ جب طاقتورملکوں کی صورت حال اس قدرخراب ہے تو غریب ممالک کا کیا حال ہوگا ،بھارت میں تو صورت حال اس قدرخراب ہوچکی ہےکہ شاید کل کو کوئی سبزی توڑنے کے لیے بھی گھر سے نہ نکلے ،خوراک کا بحران پیدا ہوچکا ہے
مبشرلقمان نے کہا کہ پاکستان کی صورت حال بھی معاشی طورپربہت خراب ہے،اگلے الیکشن میں لوگ سڑک اورپل بنانے پرنہیں بلکہ سکول اورہسپتال بنانے پرہوگی ، مبشرلقمان نے کہا کہ پاکستان کے حکمراانوں کو بھی چاہیے کہ وہ اس مشکل صورت حال سے نکلنےکے لیے مناسب حکمت عملی اختیارکریں
لاک ڈاؤن ہے تو کیا ہوا؟ 19 سالہ لڑکی نے کیا 60 کلو میٹر پیدل سفر،اسکے بعد کیا ایسا کام کہ سب رہ گئے حیران
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس کی وجہ سے متعدد ممالک میں لاک ڈاؤن ہے، بھارت نے بھی 21 روزہ لاک ڈاؤن کا اعلان کر رکھا ہے، ایسے میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے سب کو حیران کر دیا
بھارتی ریاست آندھرا پردیش میں ایک لڑکی اپنے دوست کو ملنے گھر سے پیدل نکلی اور 60 کلو میٹر کا سفر پیدل طے کر کے دوست کے گاؤن پہنچ کر اس سے شادی کر لی، آندھرا پردیش کے ضلع ہنومان جنکشن کی رہائشی 19 سالہ چتیکلا بھوانی اپنے دوست کو ملنے اپنے گاؤں سے 60 کلو میٹر دور ایدپلی گاؤں پیدل پہنچی اور اپنے دوست سانئی پوننیا سے ملی، دونوں چار سال قبل ملے تھے اور دونوں میں دوستی ہو گئی تھی، دونوں نے دوستی بارے اپنے گھر والوں کو بتایا تھا لیکن ان کے گھر والے شادی پر راضی نہیں ہوئے تھے.
لڑکی کے گھر والوں کی جانب سے شادی کے انکار کے بعد دونوں نے بھاگ کر شادی کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن کرونا وائرس کی وجہ سے بھارت میں 21 روزہ لاک ڈاؤن لگا دیا گیا جس کی وجہ سے وہ دونوں شادی نہ کر سکے تا ہم انکا آپس میںرابطہ رہا، لاک ڈاؤن کے دوران انہوں نے شادی کا پروگرام بنایا اور لڑکی پیدل ساٹھ کلو میٹر کا سفر طے کر کے اپنے دوست کے پاس پہنچی اور دونوں نے شادی کر لی.
ساٹھ کلو میٹر پیدل سفر کرنے والی لڑکی کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کے بعد شادی کا فیصلہ کیا تھا لیکن لگتا نہیں کہ لاک ڈاؤن ختم ہو اور ہم سے صبر نہیں ہو رہا تھا اسلئے یہاں آئی اور میں نے شادی کی، شادی کی اطلاع جب ان کے گھر والوں کو ملی تو انہوں نے دھمکیاں دینا شروع کر دیں جس کے بعد دونوں پولیس سٹیشن پہنچے اور تحفظ فراہم کرنے کی درخواست کی،دوسری جانب لڑکی کے والدین نے اسکی گمشدگی کا بھی مقدمہ درج کروا دیا ہے.
واضح رہے کہ بھارت میں کرونا کے وار جاری ہیں، بھارت میں 21 روزہ لاک ڈاؤن چل رہا ہے تا ہم مودی سرکار لاک ڈاؤن بڑھانے پر غور کر رہی ہے.بھارت کی کئی ریاستوں نے لاک ڈاؤن بڑھانے کی حمایت کی ہے،بھارت میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 5 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے مودی سرکار نے 25 مارچ کو بھارت میں لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا
واشنگٹن :طاقتورامریکا نظرنہ آنے والے کرونا کے ہاتھوں لاشیں اٹھانے لگا،نیویارک کے قبرستانوں میں جگہ ختم، جزیرے پر اجتماعی تدفین،اطلاعات کےمطابق دنیا میں سب سے زیادہ کیسز امریکا میں سامنے آئے ہیں جہاں کورونا کے تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد 4 لاکھ 75 ہزار سے زیادہ ہے
امریکا میں کورونا وائرس کی ہلاکت خیزی جاری ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں میں امریکا میں مزید 2000 افراد جان سے چلے گئے۔امریکا میں کورونا وائر س سے اموات کی تعداد 17 ہزار سے زیادہ ہوگئی اور قبرستانوں میں جگہ کم پڑنے کی وجہ سے ریاست نیو یارک کے ہارٹ لینڈ جزیرے میں ہلاک ہونے والے افراد کی اجتماعی تدفین کی جانے لگی۔
صرف نیویارک میں اب تک7 ہزار سے زائد افراد کورونا وائرس کی وجہ سے اپنی زندگی کی بازی ہار چکے ہیں جب کہ نیو جرسی میں1700، مشی گن میں 1000، لوزیانا میں 700 اور کیلیفورنیا میں 600 لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔
امریکا میں اب تک 4 لاکھ 75 ہزار شہریوں میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جب کہ کیلیفورنیا میں مفت راشن بانٹنے والے اسٹور کے سامنے گاڑیوں اور لوگوں کی لمبی قطار لگ گئی۔
+ جنوبی کوریا: کرونا وائرس کو نظرانداز کرنے والوذراکان کھول کرسن لیں ، کورونا سے صحتیاب 91 مریضوں کے ٹیسٹ دوبارہ مثبت آگئے،ذرائع کےمطابق اس حوالے سے جنوبی کوریا کے حکام نے ملک میں 91 مریضوں کے دوبارہ کورونا وائرس کا شکار ہونے کے تصدیق کی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ‘رائٹرز’ کے مطابق کوریا سینٹرز فار ڈزیز کنٹرول اینڈ پریونشن (کے سی ڈی سی) کے ڈائریکٹر جی اونگ اون کی اونگ نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ مریض دوبارہ وائرس سے متاثر نہیں ہوئے بلکہ شاید وائرس دوبارہ متحرک ہوگیا ہے۔جنوبی کوریا کے صحت حکام نے کہا کہ یہ ابھی غیر واضح ہے کہ اس رجحان کے پیچھے کون سی چیز کارفرما ہے، جبکہ وبا سے متعلق تحقیقات جاری ہے۔
وائرس کا شکار افراد کے دوبارہ اس سے متاثر ہونے کے حوالے سے عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے، کئی ممالک کو امید ہے کہ وائرس سے متاثرہ آبادی کی قوت مدافعت اس حد تک بڑھ گئی ہوگی کہ وہ دوبارہ اس سے متاثر نہیں ہوں گے۔جنوبی کوریا میں وائرس سے دوبارہ متاثر ہونے والوں کی تعداد پیر تک 51 تھی۔
کوریا یونیورسٹی گُرو ہسپتال کے متعدی امراض کے پروفیسر کِم وو جو نے کہا کہ 91 افراد کے دوبارہ وائرس سے متاثر ہونا ابتدا ہے، یہ تعداد ابھی بڑھے گی،ان کا بھی کہنا تھا کہ مریض، وائرس سے دوبارہ متاثر نہیں ہوئے بلکہ ممکنہ طور پر پُرانی حالت میں واپس آگئے ہیں۔
دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ کے غلط نتائج بھی اس کی وجہ ہوسکتے ہیں یا ہوسکتا ہے کہ مریضوں کے نظام میں وائرس کی باقیات رہ گئی ہوں جو مریض یا دیگر کے لیے خطرناک نہ ہوں۔واضح رہے کہ جنوبی کوریا میں جمعہ کو کورونا وائرس کے 27 نئے کیسز سامنے آئے تھے جو فروری میں ملک میں وبا پھیلنے کے بعد سب سے کم ہیں۔
نئے کیسز کے بعد جنوبی کوریا میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 10 ہزار 450 ہوگئی ہے۔کے سی ڈی سی کے مطابق ملک میں وائرس سے اموات 211 ہوچکی ہیں۔
وبا کے کامیاب طریقہ علاج کی طرف پیشرفت، مبشر لقمان کے اہم انکشافات
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئرصحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کرونا پاکستان میں تیزی سے پھیل رہا ہے اس وبا پر قابو پانے کے لئے وفاقی حکومت کو جو علاج موجود ہے اس کے لئے جلد فیصلہ کرنا ہو گا، پلازمہ تھراپی کی پاکستان میں تجویز دی گئی ہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس دنیا کے لئے چیلنج بن چکا ہے، اس وبا نے دنیا کے 2 سو سے زائد ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ،مشکل یہ ہے کہ نئی وبا کے حوالہ سے تحقیق کر کے ہمیں معلومات حاصل کرنی ہیں،تا کہ اس کا علاج سامنے آئے، ساتھ ہی اس وبا کا ڈاکٹر علاج بھی کر رہے ہیں تو سوال یہ ہے جب ابھی تک اس کی کوئی ویکسین یا علاج سامنے نہیں آیا تو کیسے علاج کر رہے ہیں،کن ادویات کو دیا جا رہا ہے اور کون کونسا طریقہ علاج استعمال کیا جا رہا ہے، اس وبا کے علاج کے لئے ویکسین کی تیاری کا عمل شروع کر دیا ہے لیکن اس کے لئے بہت مرحلے ہیں، پہلے ویکسین تیار ہو گی پھر جانوروں پر اسکا ٹیسٹ ہو گا،جانوروں پر کامیاب ہو گی تو پھر انسانوں پر تجربہ کیا جائے گا اور اگر وہ کامیاب ہو گئی تو پھر اس کو مینو فیکچر کرنا پڑتا ہے تا کہ عام لوگوں تک سب تک پہنچائی جا سکے.
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت جو بھی مریض سامنے آ رہے ہیں وہ بہت بڑا چیلنج ہیں کہ انکا علاج کیسے کیا جائے ، پندرہ لاکھ سے زیادہ مریض ہیں، 3 لاکھ سے زیادہ مریض صحتیاب بھی ہو چکے ہیں،کونسا علاج ہے جس سے وہ مریض صحتیاب ہوئے اور پاکستان میں وہ علاج کیسے ممکن ہے؟ فی الحال جو علاج کیا جا رہا ہے اس میں مختلف ادویات کو استعمال کیا جا رہا ہے کئی سو سال پہلے پرانا طریقہ بھی آزمایا گیا جو کافی مؤثر رہا، جنوبی فرانس سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر نے ملیریا کے علاج کے لئے استعمال ہونے والی دوا کا استعمال کیا اور اس دوا کا استعمال ملیریا کے لئے 1945 سے ہو رہا ہے،حاملہ خواتین اوربچے بھی اس دوا کا استعمال کر سکتے ہیں، ایک تحقیق کے مطابق 36 میں سے 20 مریضوں کو یہ دوا استعمال کروائی گئی اور کلو روکوئین استعمال کرنے والے 6 دن میں صحتیاب ہو گئے. ان میں سے کرونا غایب ہو گیا، صرف فرانس میں نہیں بلکہ چائنہ اور آسٹریلیا میں بھی اس دوا کا استعمال کیا گیا جس کا فائدہ ہوا
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا تھا کہ ادارے نے اس دوا کے استعمال کی منظوری دی ہے تا ہم بعد میں ادارے نے اس کی تردید کر دی لیکن پھر بھی امریکہ نے انڈیا کو اس دوا کے لئے بڑا آرڈر دیا ہے،امریکہ نے مودی کو دھمکی لگائی کہ دوائی سپلائی کی جائے انکار کی صورت میں جوابی کاروائی کا سامنا کرنا پڑے گا جس کے بعد مودی نے فوری پابندی ختم کر دی،برطانیہ میں بھی اس دوا کو امپورٹ ، ایکسپورٹ کی لسٹ میں شامل کیا گیا ہے، 2002 میں اس دوا کو سانس کی بیماری کے لئے استعمال کیا گیا تھا کیونکہ اس بیماری کرونا میں سانس کا بھی مسئلہ رہتا ہے، اسلئے اس دوا کو مؤثر سمجھا جا رہا ہے.
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ واحد دوا نہیں جو استعمال کی جا رہی ہے بلکہ اور بھی دوائیں استعمال کی جا رہی ہیں، جاپان میں فلو کے لئے استعمال ہونے والی دوا کو چائنہ میں آزمایا گیا ان میں 14 دن بعد وبا ختم ہوئی،حالانکہ عام طور پردیگر دوائیوں سے اس بیماری کو ختم ہونے میں 11 دن لگتے ہیں، اس کے علاوہ اس دوا کے استعمال سے 91 فیصد مریضوں کے پھیپھڑوں میں بھی بہتری آئی ہے، دیگر ادویات سے بہتری کی شرح 62 فیصد ہوتی ہے،
ایبولا لئے تیار ہونے والی دوا اس وبا کی روک تھام کے لئے اہم ترین دوا کے طور پر سامنے آئی ہے، چائنہ امریکہ ایشیا کے مختلف ممالک میں ٹرائل ہو رہے ہیں جو جلد سامنے آئیں گے، ابتدائی علامات والے مریضوں میں یہ دوائیاں مؤثر ہو سکتی ہیں لیکن یہ کرونا وائرس کا مکمل علاج نہیں،200 سے زائد مریضوں کو ان دواؤن سے صحتیابی نہیں ہوئی یہ بات بھی سامنے ہے،عالمی ادارہ صحت نے بھی ان دواؤں کو ٹرائل والی فہرست میں شامل کیا ہے کیونکہ ان سے کچھ نہ کچھ نتائج مل تو رہے ہیں،کچھ مریضوں کا علاج اینٹی باڈیز تھراپی سے بھی کیا گیا،چائنہ نے کچھ مریضوں کا علاج صحتیاب ہونے والے مریضوں کے بلڈ پلازمہ سے کیا، پلازمہ کا استعمال پہلے بھی کیا جا چکا ہے 1918 میں آنے والی بیماری کے مریضوں کا علاج پلازمہ سے کیا گیا تھا اس بیماری سے انسان کے خون میں کچھ ایسی اینٹی باڈیز بن جاتی ہیں جو بیماری کو روکتی ہیں، امریکن یونیورسٹی کے ماہرین نے کہا ہے کہ اس علاج کے لئے مزید کسی تحقیق کی ضرورت نہیں اس کا فائدہ ہو گا،اس سے چند ہفتوں میں اپنا یا جا سکتا ہے، اس بیماری سے صحتیاب ہونے والے مریضوں کو خون کا عطیہ دینا ہوتا ہے جس سے پلازمہ بنایا جاتا ہے،انتہائی بیمار مریضوں میں اس کا استعمال کیا جاتا ہے،پلازمہ میں ایسی اینٹی باڈیز ہوتی ہیں جو بیماری کے خلاف مزاحمت کر کے مریض کو صحتیاب کرتی ہیں، اینٹی باڈیز مریض کے جسم میں کئی ماہ تک رہتی ہیں جس سے اس کے دوبارہ بیمار ہونے کا بھی خدشہ نہیں ہوتا.پلازمہ کو بطور ویکسین استعمال کیا جاتا ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ چاینہ کے ہسپتال میں ڈاکٹروں نے 20 جنوری سے 25 مارچ تک 26 سے 73 سال تک کے 5 مریضوں میں پلازمہ کا استعمال کیا ،پلازمہ مریضوں کے ہسپتال میں داخل ہونے کے 10 دن بعد دیا گیا، پلازمہ کے استعمال کے بعد پانچ میں سے چار مریضوں کا درجہ حرارت 3 دن بعد معمول پر آگیا، 12 دن کے اندر سانس کی تکلیف بھی ختم ہو گئی،اسکے بعد اس کا دیگر مریضوں میں بھی استعمال کیا گیا، امریکہ کی ریاست نیویارک میں بھی سنگین قسم کے مریضوں میں پلازمہ کا استعمال کیا جا رہا ہے،اور اسے کورل یزن پلازمہ تھراپی کا نام دیا گیا ہے،اور یہی طریقہ علاج پاکستان میں بھی تجویز کیا جا رہا ہے، ڈاکٹر طاہر شمسی نے پاکستان میں بھی تجویز دی ہے کہ پاکستان میں بھی اس طرح مریضوں کا علاج کیا جا سکتا ہے، پاکستان میں کرونا کے پہلے صحتیاب مریض یحییٰ جعفری نے اسکے لئے خون کا عطیہ دیا ہے،پاکستان میں اسوقت جو صحتیاب ہیں ان کا پلازمہ لیا جا سکتا ہے اسکے لئے صحتیاب مریض ہر دو ہفتے بعد پلازمہ کے لئے خون عطیہ کر سکتے ہیں،مریض کا 25 کلو سے کم وزن بھی ہو ٔپھر بھی اس کے خون سے ایک پلازمہ لیا جا سکتا ہے جو دو مریضوں کے علاج کے لئے کافی ہوتا ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پلازمہ کے لئے حکومتی اجازت ضروری ہوتی ہے، حکومتی اجازت کے بغیر اس کا استعمال نہیں کیا جا سکتا،وبا کا طبی ماہرین کے مطابق جراثیم زندہ نہیں ہے اسلئے اسے مارا نہیں جا سکتا بلکہ اسے تحلیل یا تباہ کر کے ہی ختم کیا جاتا ہے، انسان کے جسم میں یہ غیر محسوس انداز میں داخل ہوتا ہے، تحقیقات کے مطابق پلازمہ تھراپی ہی اس کا مؤثر علاج ثابت ہوا ہے، صوبائی حکومتیں وفاق کی جانب دیکھ رہی ہیں لیکن وفاق نے ابھی تک پاکستان نے فیصلہ نہین کیا، اس کے لئے بڑے پیمانے پر وسائل درکار ہوں گے، پہلے ہزار کیس 29 دن میں ، دوسرے ہزار کیس 7 دن میں، تیسرے ہزار کیس 5 دن میں اور چوتھے ہزار کیس تین دن میں سامنے آئے ہیں، پاکستان میں کرونا تیزی سے پھیل رہا ہے اس لئے کرونا پر قابو پانے کے لیے حکومت کو جلد کوئی فیصلہ کرنا ہو گا.
انقرہ: کورونا وائرس: ترکی نے پھراسرائیل کے ساتھ عہد وفا نبھا دیا ، طبی سازوسامان بھیجنے کا فیصلہ،اطلاعات کے مطابق دنیا بھر میں پھیلنے والے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے ترکی نے اسرائیل کو طبی سازو سامان اور لوازمات فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان میں چہرے کے ماسک، حفاظتی لباس اور جراثیم سے پاک دستانے شامل ہیں۔ فیصلے کا مقصد کورونا وائرس کے سبب پھیلی ہوئی وبا کی روک تھام میں تل ابیب کی مدد کرنا ہے۔
یاد رہے کہ اسرائیل میں اب تک کرونا وائرس کے 10095 کے قریب کیسوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ ان میں 95 سے زیادہ افراد فوت ہو چکے ہیں۔ترکی کی حکومت نے انسانی وجوہات کی بنیاد پر اسرائیل کو طبی ساز و سامان فروخت کرنے کی منظور دی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ترکی کے ایک اعلی عہدے دار کا کہنا ہے کہ توقع ہے کہ اسرائیل ترکی کی جانب سے طبی ساز و سامان کی اسی نوعیت کی ایک کھیپ بنا روک ٹوک فلسطینی اتھارٹی تک پہنچنے کی اجازت دے گا۔ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ عالمی وبا کے دوران انقرہ کا تل ابیب کے ساتھ یک جہتی کا اظہار ترکی اور اسرائیل کے درمیان کشیدہ تعلقات کو بہتر بنانے کا راستہ کھول دے گا۔
واضح رہے کہ 2003 میں رجب طیب ایردوآن کے اقتدار میں آنے سے پہلے انقرہ اسلامی دنیا میں اسرائیل کا قریب ترین شریک تھا۔ اسکی وجہ دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط عسکری تعاون ہے۔
مذکورہ ترک عہدے دار کے مطابق آئندہ جمعرات کے روز اسرائیل کے 3 طیارے ترکی کے جنوب میں واقع انجرلک فوجی اڈے پر اتریں گے۔ ان طیاروں کے ذریعے طبی ساز و سامان اسرائیل منتقل کیا جائے گا۔ ترکی آئندہ چند روز کے دوران فلسطینیوں کے لیے طبی امداد کا عطیہ دے گا۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ترکی کی فضائیہ کا ایک طیارہ ماسک اور کورونا وائرس سے حفاظت کے لیے کٹ کی امداد لے کر برطانیہ پہنچ رہا ہے۔یہ پہلی پرواز ہو گی جو نیٹو میں ہوائی جہازوں کی قومی فضائی حدود سے تیز کلیئرنس کے لیے خصوصی عمل جسے ’ریم‘ (Rapid Air Mobility)کہا جاتا ہے استعمال کرے گی۔
یہ طریقہ اصل میں تو فوجی بحران کے دوران استعمال کرنے کے لیے بنایا گیا تھا لیکن اب یہ کووڈ 19 کی وبا کے دنوں میں تیز رفتاری سے امداد کے حصول اور بیوروکریسی کم کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ترکی سے آنے والی امداد ایک لاکھ ماسک، 50 ہزار این 95 ماسک اور ایک لاکھ ’پی پی ای‘ یعنی ذاتی حفاظت کے لیے کٹ پر مشتمل ہے۔