Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • ویکسینیشن کے لئے حکمت عملی سخت کرنے کا فیصلہ

    ویکسینیشن کے لئے حکمت عملی سخت کرنے کا فیصلہ

    یشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر(این سی او سی) نے ویکسینیشن کے اہداف حاصل کرنے کے لئے حکمت عملی سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : اس ضمن میں تمام محکموں اور سیکٹرز کو مختلف تاریخیں دے دی گئی ہیں تمام سیکٹرز کو اپنی تفویض کردہ تاریخوں کے مطابق مکمل ویکسنیشن یقینی بنانے کا کہا گیا ہے۔

    پنجاب کے سیکرٹری ہیلتھ عمران سکندر بلوچ کا کہنا ہے کہ مقرر کردہ آخری تاریخ کے بعد بغیر ویکسینیشن کسی فرد کو کوئی سہولت نہیں دی جائے گی محکمہ تعلیم سے منسلک افراد 30 ستمبر تک مکمل ویکسی نیشن یقینی بنائیں کاروباری مراکز میں داخلے، ہوٹلز اور ریسٹ ہاوسز میں بکنگ کے لئے مکمل ویکسینیشن ضروری ہو گی۔

    بیرون اور اندرون ملک سفر کرنے والے افراد بھی30 ستمبر تک ویکسینیشن یقینی بنائیں تمام نجی اور سرکاری دفاتر میں کام کرنے والے افراد کے لئے 15 اکتوبر تک ویکسینیشن لازم قرار دی گئی ہے۔

    سیکرٹری ہیلتھ کا کہنا ہے کہ ٹرین اور موٹروے پر سفر کے لئے 15 اکتوبر تک مکمل ویکسینیشن لگوانا ضروری ہے۔پبلک ٹرانسپورٹ، میٹرو، بی آرٹی ، اورینج ٹرین میں سفر کے لئے 31 اکتوبر تک ویکسی نیشن لازمی لگوانی ہوگی۔

    پبلک ٹرانسپورٹ میں اور ٹرمینلز پرموجود ملازمین کے لئے 15 اکتوبر تک مکمل ویکسینیشن ضروری ہے 18 سال سے کم عمر کے افراد کے لئے30 نومبرتک ویکسینیشن مکمل کروانے کی شرط عائد ہے-

    کوویڈ ویکسین سائنو ویک کے استعمال کی افادیت پر نئی تحقیق

    واضح رہے کہ پاکستان میں کورونا سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید42 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 44ہزار 712کورونا ٹیسٹ کیے گئے مزیدایک ہزار780کورونا کیسز رپورٹ ہوئے۔

    این سی او سی کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ملک میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد 12 لاکھ38ہزار668 جبکہ مجموعی اموات کی تعداد 27 ہزار566 ہو گئی اور مثبت کیسز کی شرح 3.98 فیصد رہی۔

    کورونا وائرس اوراحتیاطی تدابیر:

    کورونا وائرس کے خلاف یہ احتیاطی تدابیراختیارکرنے سے اس وبا کے خلاف جنگ جیتنا آسان ہوسکتا ہے۔ صبح کا کچھ وقت دھوپ میں گزارنا چاہیے، کمروں کو بند کرکے نہ بیٹھیں بلکہ دروازے کھڑکیاں کھول دیں اور ہلکی دھوپ کو کمروں میں آنے دیں۔ بند کمروں میں اے سی چلا کربیٹھنے کے بجائے پنکھے کی ہوا میں بیٹھیں۔

    سندھ سےگُڈّ گورننس کا ایک اورواقعہ سامنے آگیا

    سورج کی شعاعوں میں موجود یو وی شعاعیں وائرس کی بیرونی ساخت پر ابھرے ہوئے ہوئے پروٹین کو متاثر کرتی ہیں اور وائرس کو کمزور کردیتی ہیں۔ درجہ حرارت یا گرمی کے زیادہ ہونے سے وائرس پرکوئی اثرنہیں ہوتا لیکن یو وی شعاعوں کے زیادہ پڑنے سے وائرس کمزور ہوجاتا ہے۔

    پانی گرم کرکے تھرماس میں رکھ لیں اورہرایک گھنٹے بعد آدھا کپ نیم گرم پانی نوش کریں۔ وائرس سب سے پہلے گلے میں انفیکشن کرتا ہے اوروہاں سے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے، گرم پانی کے استعمال سے وائرس گلے سے معدے میں چلا جاتا ہے، جہاں وائرس ناکارہ ہوجاتا ہے-

    دھوکہ دہی اور شناخت کی چوری سے کورونا سرٹیفیکٹ حاصل کرنے والا سرٹیفائیڈ قومی چور:نادرا

  • ملک بھر میں مثبت کیسز کی شرح میں کمی

    ملک بھر میں مثبت کیسز کی شرح میں کمی

    پاکستان میں کورونا سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید42 افراد جاں بحق ہوگئے-

    باغی ٹی وی : نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 44ہزار 712کورونا ٹیسٹ کیے گئے مزیدایک ہزار780کورونا کیسز رپورٹ ہوئے۔

    این سی او سی کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ملک میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد 12 لاکھ38ہزار668 جبکہ مجموعی اموات کی تعداد 27 ہزار566 ہو گئی اور مثبت کیسز کی شرح 3.98 فیصد رہی۔

    کورونا وائرس اوراحتیاطی تدابیر:

    کورونا وائرس کے خلاف یہ احتیاطی تدابیراختیارکرنے سے اس وبا کے خلاف جنگ جیتنا آسان ہوسکتا ہے۔ صبح کا کچھ وقت دھوپ میں گزارنا چاہیے، کمروں کو بند کرکے نہ بیٹھیں بلکہ دروازے کھڑکیاں کھول دیں اور ہلکی دھوپ کو کمروں میں آنے دیں۔ بند کمروں میں اے سی چلا کربیٹھنے کے بجائے پنکھے کی ہوا میں بیٹھیں۔

    سورج کی شعاعوں میں موجود یو وی شعاعیں وائرس کی بیرونی ساخت پر ابھرے ہوئے ہوئے پروٹین کو متاثر کرتی ہیں اور وائرس کو کمزور کردیتی ہیں۔ درجہ حرارت یا گرمی کے زیادہ ہونے سے وائرس پرکوئی اثرنہیں ہوتا لیکن یو وی شعاعوں کے زیادہ پڑنے سے وائرس کمزور ہوجاتا ہے۔

    پانی گرم کرکے تھرماس میں رکھ لیں اورہرایک گھنٹے بعد آدھا کپ نیم گرم پانی نوش کریں۔ وائرس سب سے پہلے گلے میں انفیکشن کرتا ہے اوروہاں سے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے، گرم پانی کے استعمال سے وائرس گلے سے معدے میں چلا جاتا ہے، جہاں وائرس ناکارہ ہوجاتا ہے-

  • کوویڈ ویکسین سائنو ویک کے استعمال کی افادیت پر نئی تحقیق

    کوویڈ ویکسین سائنو ویک کے استعمال کی افادیت پر نئی تحقیق

    پاکستان سمیت متعدد ممالک میں سائنو ویک کوویڈ 19 ویکسین کا استعمال بہت زیادہ ہورہا ہے اور اب اس کی افادیت کے حوالے سے نیا ڈیٹا سامنے آیا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق چین کی کمپنی سائنو ویک کی تیار کردہ کوویڈ 19 ویکسین بیماری کی سنگین صورتحال سے بچانے کے لیے بہت زیادہ مؤثر ثابت ہوئی ہے ملائیشین حکومت کی جانب سے کی جانے والی ایک تحقیق میں 72 لاکھ افراد کے ڈیٹا کو دیکھا گیا جن کو سائنو ویک ویکسین کا استعمال کرایا گیا۔

    تحقیق میں فائزر/ بائیو این ٹیک اور ایسٹرا زینیکا ویکسینز کی افادیت کا موازنہ بھی کیا گیا جن کا استعمال بالترتیب 65 لاکھ اور 7 لاکھ 44 ہزار افراد نے کیا تھا۔

    کورونا کے خلاف موڈرنا ویکسین فائزر اور جانسن اینڈ جانسن کے مقابلے میں زیادہ مؤثر

    ملائیشین وزارت صحت کے حکام نے بتایا کہ 72 لاکھ میں سے محض 0.011 فیصد کو کوویڈ 19 ہونے پر آئی سی یو میں علاج کرانے کی ضرورت پڑی اسی طرح فائزر ویکسین استعمال کرنے والوں میں یہ شرح 0.002 فیصد اور ایسٹرا زینیکا ویکسین استعمال کرنے والوں میں 0.001 فیصد رہی۔

    ملائیشیا کے انسٹیٹوٹ فار کلینکل ریسرچ کے زیرتحت یہ نیشنل کوویڈ 19 ٹاسک فورس کے ساتھ مل کر یہ تحقیق کی گئی محقیقین کا کہنا ہے کہ ویکسین کا برانڈ جو بھی ہو، ویکسینیشن سے آئی سی یو میں داخلے کا خطرہ 83 فیصد اور موت کا خطرہ 88 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ ویکسینیشن کے بعد بیمار ہونے والے افراد میں آئی سی یو کے داخلے کی شرح نہ ہونے کے برابر رہی اور مجموعی طور پر ویکسینیشن مکمل کرانے والوں میں یہ شرح 0.0066 فیصد رہی۔

    سندھ سےگُڈّ گورننس کا ایک اورواقعہ سامنے آگیا

    اسی طرح ویکسینیشن کرانے والوں میں اموات کی شرح بھی محض 0.01 فیصد رہی اور ان میں سے بھی بیشتر مریض ایسے تھے جن کی عمر 60 سال سے زیادہ تھی یا پہلے سے کسی اور بیماری کے شکار تھے۔

    محققین نے بتایا کہ تینوں ویکسینز استعمال کرنے کے گروپس مختلف تھے اور اسی کے باعث افادیت کے نتائج بھی مختلف رہے-

    اس سے قبل امریکا کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن کی جانب سے جاری نئی تحقیق میں سامنے آئی تھی کہ موڈرنا کی کووڈ ویکسین بیماری سے متاثر افراد میں ہسپتال کے داخلے کی روک تھام کے لیے مؤثر ترین ہے۔

    اس تحقیق میں 5 ماہ کے عرصے کے دوران موڈرنا، فائزر/بائیو این ٹیک اور جانسن اینڈ جانسن ویکسینز کی افادیت کا موازنہ کیا گیا تھا۔تحقیق میں بتایا گیا کہ موڈرنا ویکسین کے استعمال سے ہسپتال میں داخلے کا خطرہ 93 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

    کورونا کی مفت فراہمی:امریکی صدرکا 50 کروڑ ویکسین خریدنے کا اعلان

    فائزر ویکسین میں یہ شرح 88 فیصد اور جانسن اینڈ جانسن ویکسین میں 71 فیصد دریافت کی گئی۔تحقیق میں مارچ سے اگست 2021 کے دوران 18 امریکی ریاستوں کے 21 ہسپتالوں میں زیرعلاج رہنے والے 36 سو سے زیادہ کووڈ مریضوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔

    تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ویکسینیشن مکمل ہونے کے 4 ماہ بعد تک موڈرنا اور فائزر ویکسینز کی ہسپتال میں داخلے کی روک تھام کے حوالے سے افادیت لگ بھگ ایک جیسی تھی۔مگر 5 ویں مہینے میں فائزر کی افادیت 91 فیصد سے گھٹ کر 77 فیصد تک پہنچ گئی، مگر موڈرنا کی افادیت میں 5 ویں مہینے میں محض ایک فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔

    محققین نے بتایا تھا کہ اگرچہ حقیقی دنیا کے ڈیٹا میں ویکسین سے ملنے والے تحفظ کی شرح کچھ حد تک مختلف ہوسکتی ہے، مگر تمام ویکسینز سے ہسپتال میں داخلے کے خطرے سے ٹھوس تحفظ ملتا ہے۔

    محققین نے موڈرنا کی دیرپا افادیت کے حوالے سے چند وجوہات کے بارے میں بھی بتایا جیسے فائزر کے مقابلے میں موڈرنا ویکسین کی دوسری خوراک ایک ہفتے تاخیر سے دی جاتی ہے۔

    پاکستان ریڈ لیسٹ سے باہرہوگیا مگربرطانیہ کی پابندیوں سے نہ بچ سکا

  • پاکستان نےجس حکمت عملی سےکوروناوباپرقابوپایا    :ایسادنیاکاکوئی بھی ملک نہ کرسکا:عالمی ادارہ صحت

    پاکستان نےجس حکمت عملی سےکوروناوباپرقابوپایا :ایسادنیاکاکوئی بھی ملک نہ کرسکا:عالمی ادارہ صحت

    اسلام آباد: جسطرح پاکستان نے جس حکمت عملی سے کورونا وبا پرقابوپایا:ایسا دنیا کا کوئی بھی ملک نہ کرسکا:اطلاعات کے مطابق پاکستان میں عالمی ادارہ صحت کے سربراہ پلیتھاماہی پالا نے کورونا سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی کوششوں اور ویکسی نیشن کے عمل کی تعریف کی ہے۔

    اسلام آباد میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے پلیتھا ماہی پالانے کہا کہ ایسے ممالک ہیں جہاں دو فیصد آبادی کو ویکسین نہیں لگائی جاسکی لیکن پاکستان ویکسین لگانے میں بہتر کارکردگی دکھا رہا ہے اور پاکستان ایک روز میں 10 لاکھ ویکسین لگا رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ویکسین لگانےکی مہم انتہائی تیز اور مؤثر ہے، پاکستان میں مکمل ویکسین شدہ افرادکی تعداد 20 فیصد سے زائد ہوچکی ہے جب کہ پاکستان میں جزوی ویکسی نیشن والوں کی تعداد 40 فیصد سے زائد ہوگئی ہے۔

    پلیتھا ماہی پالا کا کہنا تھاکہ ایسے ممالک ہیں جہاں ویکسین زیادہ ہونے کے باوجود کورونا کیسز کی تعداد زیادہ ہے لیکن پاکستان میں احتیاطی تدابیر کے باعث ویکسین ہونے کے باوجود کیسز کم رہے جب کہ پاکستان میں این سی او سی نے بہترین کام کیا اور پاکستان میں کورونا ریسپانس میں بہترین کوآرڈینشن رہی،

    ڈبلیو ایچ او کے کنٹری سربراہ نے مزید کہا کہ کورونا کے باعث اموات کی شرح کم رہی جب کہ چوتھی لہر میں ویکسین کے باعث شرح اموات کم ہوئی، گزشتہ کئی روز سے ویکسی نیشن کے باعث کسی ہیلتھ ورکر کی موت نہیں ہوئی۔ڈبلیو ایچ او کے کنٹری سربراہ نے مزید کہا کہ پاکستان میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حکمت عملی کے باعث ڈیلٹا کیسز میں کمی آئی۔

  • کورونا سے مزید 42 ہلاکتیں

    کورونا سے مزید 42 ہلاکتیں

    پاکستان میں عالمی وبا کورونا سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید42 افراد جاں بحق ہوگئے-

    باغی ٹی وی : نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 44ہزار 958کورونا ٹیسٹ کیے گئے مزید2 ہزار60کورونا کیسز رپورٹ ہوئے۔

    این سی او سی کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ملک میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد 12 لاکھ36ہزار888 جبکہ مجموعی اموات کی تعداد 27 ہزار524 ہو گئی اور مثبت کیسز کی شرح 4.58 فیصد رہی۔

    سندھ میں کورونا کے کیسز کی تعداد 4 لاکھ 54 ہزار510، خیبر پختونخوا میں ایک لاکھ 72 ہزار 766، پنجاب میں 4 لاکھ 27 ہزار583، اسلام آباد میں ایک لاکھ 4 ہزار913، بلوچستان میں 32 ہزار837، آزاد کشمیر میں 33 ہزار 990ور گلگت بلتستان میں 10 ہزار 289 ہو گئی ہے۔

    کورونا کے سبب سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں 12 ہزار 535افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں 7 ہزار327، خیبرپختونخوا 5 ہزار488، اسلام آباد 910، گلگت بلتستان 184، بلوچستان میں 346 اور آزاد کشمیر میں 734 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

    کورونا وائرس اوراحتیاطی تدابیر:

    کورونا وائرس کے خلاف یہ احتیاطی تدابیراختیارکرنے سے اس وبا کے خلاف جنگ جیتنا آسان ہوسکتا ہے۔ صبح کا کچھ وقت دھوپ میں گزارنا چاہیے، کمروں کو بند کرکے نہ بیٹھیں بلکہ دروازے کھڑکیاں کھول دیں اور ہلکی دھوپ کو کمروں میں آنے دیں۔ بند کمروں میں اے سی چلا کربیٹھنے کے بجائے پنکھے کی ہوا میں بیٹھیں۔

    سورج کی شعاعوں میں موجود یو وی شعاعیں وائرس کی بیرونی ساخت پر ابھرے ہوئے ہوئے پروٹین کو متاثر کرتی ہیں اور وائرس کو کمزور کردیتی ہیں۔ درجہ حرارت یا گرمی کے زیادہ ہونے سے وائرس پرکوئی اثرنہیں ہوتا لیکن یو وی شعاعوں کے زیادہ پڑنے سے وائرس کمزور ہوجاتا ہے۔

    پانی گرم کرکے تھرماس میں رکھ لیں اورہرایک گھنٹے بعد آدھا کپ نیم گرم پانی نوش کریں۔ وائرس سب سے پہلے گلے میں انفیکشن کرتا ہے اوروہاں سے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے، گرم پانی کے استعمال سے وائرس گلے سے معدے میں چلا جاتا ہے، جہاں وائرس ناکارہ ہوجاتا ہے-

  • دھوکہ دہی اور شناخت کی چوری  سے کورونا سرٹیفیکٹ حاصل کرنے والا سرٹیفائیڈ قومی چور:نادرا

    دھوکہ دہی اور شناخت کی چوری سے کورونا سرٹیفیکٹ حاصل کرنے والا سرٹیفائیڈ قومی چور:نادرا

    اسلام آباد: دھوکہ دہی اور شناخت کی چوری سے کورونا سرٹیفیکٹ حاصل کرنے والا سرٹیفائیڈ قومی چور:اطلاعات کے مطابق نادرا اپنے نِمز سسٹم کے ذریعے کووڈ ویکسنیشن پروگرام کےلئے ⁦‪این سی او سی کو تکنیکی معاونت فراہم کر رہا ہے۔جس میں ⁦‪این سی او سی کے لئے رجسٹریشن سافٹ ویئر Module تیار کیاجو ملک بھر میں ویکسینیشن سینٹر پر ضلعی ہیلتھ آفسرکے زیرنگرانی نصب کر کے ان کے حوالے کیا گیا۔

    سینٹرز پر ویکسینیشن عمل یا ڈیٹا رجسٹریشن سے ⁦‪نادرا کا کوئی تعلق نہیں جبکہ ہیلتھ ورکرز مستعدی سےکووڈ ویکسینیشن ڈیٹا کااندراج کر رہے ہیں۔چند کالی بھیڑیں ان کی شاندار خدمات کو نقصان نہیں پہنچا سکتیں۔ ذمہ دار شہری ہونےکا ثبوت دیں اور غلط اندراج یا جعلسازی سےگریز کریں۔

    سینٹرز پر ویکسینیشن عمل یا ڈیٹا رجسٹریشن سے ⁦‪نادرا کا کوئی تعلق نہیں جبکہ ہیلتھ ورکرز مستعدی سےکووڈ ویکسینیشن ڈیٹا کااندراج کر رہے ہیں۔چند کالی بھیڑیں ان کی شاندار خدمات کو نقصان نہیں پہنچا سکتیں۔ ذمہ دار شہری ہونےکا ثبوت دیں اور غلط اندراج یا جعلسازی سےگریز کریں۔

    یاد رکھیں! شناخت کی چوری اور شناخت کی دھوکہ دہی ایک جرم ہے جس پر پاکستانی قانون کے تحت تین سال قید/ یا پچاس لاکھ روپے تک جرمانہ کی سزا ہو سکتی ہے۔ ذمہ دار شہری بنیں، شناخت کی چوری کی اطلاع قانون نافذکرنے والے اداروں کو دیں۔

  • سندھ سےگُڈّ گورننس کا ایک اورواقعہ سامنے آگیا

    سندھ سےگُڈّ گورننس کا ایک اورواقعہ سامنے آگیا

    کراچی:سندھ سےگُڈّ گورننس کا ایک اورواقعہ سامنے آگیا،اطلاعات کے مطابق سندھ حکومت کی گورننس کیسی ہے اس حوالے سے ایک ایسا واققہ سامنے آیا ہے جس نے پی پی حکومت کی آنکھیں کھول کررکھ دی ہیں

    اس حوالے سے کہا جارہا ہےکہ سندھ میں کورونا ویکسین کی 59 ہزار سے زائد خوراکیں ضائع ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

    سندھ کے مختلف اضلاع میں مارچ سے شروع ہونے والی مہم کے دوران اب تک انسداد کورونا کی مختلف اقسام کی 59 ہزار سے زائد خوراکیں ضائع ہوچکی ہیں۔

    محکمہ صحت کے مطابق سب سے زیادہ ویکسین سائنو ویک کی 18 ہزار 763 خوراکیں ضائع ہوئیں، دوسرے نمبر پر ایسٹرازینیکا کی 16 ہزار 754، سائنو فارم کی 14 ہزار 576 خوراکیں ضائع ہوچکی ہیں۔

    محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ پاک ویک کی 6 ہزار 768 اور کین سائنو کی 2 ہزار 143 خوراکیں ضائع ہوئیں جب کہ موڈرنا ویکسین کی 489 اور فائزر ویکسین کی 38 خوراکیں ضائع ہوچکی ہیں۔

    محکمہ صحت کے حکام کے مطابق ویکسین کے ضائع ہونے میں کولڈ چین کی عدم فراہمی، ویکسی نیٹر کی جانب سے ویکسین نکالنے اور لگانے کے دوران مس ہنڈلنگ، ویکسین گرنے ،ویکسین لگاتے وقت متعلقہ شخص کی طبعیت خراب ہونے کے عوامل بھی شامل ہیں۔

  • ٹی ٹوئنٹی میں 350 وکٹیں لینے والے دوسرے خوش نصیب پاکستانی بولرکون؟

    لاہور:ٹی ٹوئنٹی میں 350 وکٹیں لینے والے دوسرے خوش نصیب پاکستانی بولروہاب ریاض کے چرچے ،اطلاعات کے مطابق ایک طرف پاکستان کے مخالف پاکستان کرکٹ کونقصان پہنچانے پرلگے ہوئے ہیں دوسری طرف پاکستانی خود اپنی عزت ، وقار اوراعزاز کا دفاع کررہے ہیں ،

    اس پاکستانی بولر کا نام ہے وہاب ریاض :وہاب ریاض ٹی ٹوئنٹی میں 350 وکٹیں حاصل کرنے والے دوسرے پاکستانی بولر بن گئے۔

    وہاب ریاض نے نیشنل ٹی ٹوئنٹی میں سینٹرل پنجاب سے کھیلتے ہوئے خیبر پختونخوا کیخلاف عادل امین کی وکٹ لےکر یہ سنگ میل عبور کیا۔

    وہاب ریاض یہ کارنامہ انجام دینے والے دوسرے پاکستانی جب کہ دنیا کے آٹھویں بولر ہیں۔ویاب ریاض سے قبل سہیل تنویز ٹی ٹوئنٹی میں 350 وکٹیں حاصل کرنے والے واحد پاکستانی بولر تھے۔

    ٹی ٹوئنٹی میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے کا ریکارڈ ویسٹ انڈیز کے ڈوائن براوو کے پاس ہے جنہوں نے 501 ٹی ٹوئنٹی میچز میں 543 وکٹیں حاصل کی ہوئی ہیں۔

  • پاکستان ریڈ لیسٹ سے باہرہوگیا مگربرطانیہ کی پابندیوں سے نہ بچ سکا

    پاکستان ریڈ لیسٹ سے باہرہوگیا مگربرطانیہ کی پابندیوں سے نہ بچ سکا

    لاہور:پاکستان ریڈ لیسٹ سے باہرہوگیا مگرانگریزوں کی پابندیوں سے نہ بچ سکا ،اطلاعات کے مطابق اس وقت پاکستان سے برطانیہ جانے والوں کوسخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ، یہ مشکلات بعض اس قدربڑھ جاتی ہیں کہ جانے والے مصیبت میں پڑجاتے ہیں

    اس حوالے سے کچھ ایسی اطلاعات آرہی ہیں کہ برطانوی حکومت نے کچھ زیادہ ہی پاکستان کے بارے میں پالیسی سخت کردی ہے ، حتی کہ پاکستانیوں کو طون عزیز سے جو کورونا ویکسین لگائی گئیں وہ برطانیہ میں قبول نہیں کی جارہیں

    ادھر اس حوالے سے کہا جارہا ہےکہ پاکستان سے برطانیہ جانے والوں پہلے قرنطینہ کےمرحلے گزرنا پڑے گا

    اس حوالے سے یہ بھی کہا جارہاہےکہ سب سے زیادہ وہ پریشان ہورہےہیں جن کی وہاں جابز ہیں اورجن کوبرطانیہ پہنچتےہی اپنے کام کاج میں لگ جانا ہےلیکن جب اس کےلیے یہ پروسیجرلازمی قراردیاجائے گا تووہ تو بیچارہ انتہائی تنگ ہوگا

    برطانیہ میں اس حوالے سے کچھ پابندیاں 22 ستمبر سے لاگو کی گئیں جبکہ اس کے بعد 4 اکتوبر سے کچھ مزید چیزیں لازم قرار دی جائیں گی

    اس تاریخ کے بعد تمام ممالک کو ریڈ، ایمبر اور گرین لسٹ میں تقسیم نہیں کیا جائے گا۔ایمبر اور گرین لسٹ کی جگہ ممالک کو ایک نئی فہرست Rest of World ( ROW) میں شامل کیا جائے گا۔

    اس لسٹ میں شامل ممالک سے آنے والے افراد کو اگر ویکسین کی دونوں خوراکیں لگ چکی ہوں گی تو انھیں انگلینڈ روانگی سے قبل تین دن کے اندر اندر پی سی آر ٹیسٹ نہیں کروانا ہوگا۔

    لیکن ان مسافروں کو اپنی آمد کے دو دن بعد یعنی ’ڈے ٹو‘ ٹیسٹ کروانا ہوگا لیکن 4 اکتوبر سے نئے قوانین کے اطلاق کی صورت میں پی سی آر کی جگہ کم قیمت والا ’لیٹرل فلو ٹیسٹ‘ کروانا ہوگا۔اس میں شامل مملک سے آنے والے افرد کو 11 راتیں ہوٹل میں قرنطینہ کرنا ہوگا اور اکیلے سفر کرنے والے مسافروں کو اس کے لیے دو ہزار دو سو پچاسی پاؤنڈ ادا کرنے ہوں گے۔

    اس Tier 2 سسٹم کے لاگو ہونے سے پہلے جن آٹھ ممالک کو 22 ستمبر سے ریڈ لسٹ سے ہٹایا گیا ان میں پاکستان بھی شامل ہے۔ ان ممالک میں ترکی، مالدیپ، مصر، سری لنکا، عمان، بنگلہ دیش، اور کینیا بھی شامل ہیں۔

    ادھر برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ ریڈ لسٹ میں شامل ممالک سے برطانیہ آنے والے کسی ایک فرد کے لیے قرطینہ ہوٹل کے کمرے کی فیس 2285 پاؤنڈ ہے جس میں ٹرانسپورٹ، کھانے اور ٹیسٹوں کی لاگت بھی شامل ہے۔ ایک اضافی بالغ یا 11 سال سے زیادہ عمر کے بچے کے لیے یہ فیس 1430 پاؤنڈ تھی ور پانچ سے 11 سال تک کے بچے کے لیے 325 پاؤنڈ ادا کرنا لازم تھے۔

    اور اگر آپ انگلینڈ روانگی سے قبل قرنطینہ پیکیج کا انتظام نہیں کرتے تو آپ کو اوپر دی گئی رقم کے علاوہ 4 ہزار پاؤنڈ جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔قرنطینہ کے اصولوں کی خلاف ورزی کی صورت میں مسافر کو دس ہزار پاؤنڈ تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

  • صدر مملکت کی اہلیہ ثمینہ علوی کا کورونا ٹیسٹ مثبت

    صدر مملکت کی اہلیہ ثمینہ علوی کا کورونا ٹیسٹ مثبت

    صدرمملکت عارف علوی کی اہلیہ ثمینہ علوی کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ثمینہ علوی نے اپنے پیغام میں بتایا کہ ایک دن پہلے میرا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا۔ کورونا کے باعث کمزوری محسوس کررہی ہوں۔ قوم سے دعاؤں میں یاد رکھنے کی درخواست ہے انہوں نے خود کو قرنطینہ کرلیا ہے۔


    خیال رہے کہ مارچ2021 میں صدر پاکستان کا کورونا ٹیسٹ بھی مثبت آیا تھا۔ اس سے قبل وزیر اعظم عمران خان کا کورونا ٹیسٹ بھی مثبت آ گیا تھا۔ وزیر اعظم عمران خان نے خود کو گھر میں قرنطینہ کر لیا ہے۔

    ملک بھر میں کورونا سے مز ید 58 اموات،2 ہزار357نئے کیسز رپورٹ

    پاکستان میں کورونا وائرس سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 58 افراد جاں بحق ہوگئےہیں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 48ہزار 151کورونا ٹیسٹ کیے گئے مزید2 ہزار357 کورونا کیسز رپورٹ ہوئے۔

    این سی او سی کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ملک میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد 12 لاکھ32ہزار595 جبکہ مجموعی اموات کی تعداد 27 ہزار432 ہو گئی اور مثبت کیسز کی شرح 4.89 فیصد رہی۔

    سندھ میں کورونا کے کیسز کی تعداد 4 لاکھ 53 ہزار51، خیبر پختونخوا میں ایک لاکھ 72 ہزار 210، پنجاب میں 4 لاکھ 25 ہزار703، اسلام آباد میں ایک لاکھ 4 ہزار619، بلوچستان میں 32 ہزار812، آزاد کشمیر میں 33 ہزار 923اور گلگت بلتستان میں 10 ہزار 277 ہو گئی ہے۔

    ’فیل طلبہ کے حوالے سے فیڈرل بورڈ کے طلبہ کی پروموشن پالیسی جاری

    کورونا کے سبب سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں 12 ہزار 490 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں 7 ہزار310، خیبرپختونخوا 5 ہزار463، اسلام آباد 907، گلگت بلتستان 183، بلوچستان میں 345 اور آزاد کشمیر میں 7 34 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔