اسلام آباد:وبا پر قابو پانے کے لئے افواج پاکستان پوری طرح متحرک ہے،تمام ادارے ملکرکرونا سے نبٹنے کے لیے کام کررہے ہیں ،اطلاعات کےمطابق پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی وبا پر قابو پانے کے لئے افواج پاکستان پوری طرح متحرک ہے۔ عوام کا اعتمادافواج پاکستان کا اثاثہ ہے۔ ہر کسی کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
اسلام آباد میں معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور ڈاکٹر ظفر مرزا کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج سول اداروں کے ساتھ مل کر تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ پاک فوج سول اداروں کے ساتھ مل کر قرنطینہ میں مدد کر رہی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ نیشنل سکیورٹی کے 13 مارچ کے اجلاس میں ایک مشترکہ لائحہ عمل تیار کیا گیا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس وبا سے پاکستان کو محفوظ رکھے۔ پاک فوج حکومت کے ساتھ ملک کر کرونا وائرس پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے۔
میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ آرمی چیف نے فارمیشن کو ہر ممکن مدد کی ہدایت کی ہے۔ تینوں مسلح افواج کی میڈیکل سہولتوں کو ہر طرح سے تیار کیا گیا ہے۔ فوج کے تمام ادارے مشترکہ نگرانی کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ قرنطینہ سینٹر بنانے سے متعلق بھی معاونت کر رہے ہیں۔ ملتان کے قرنطینہ سینٹر میں پاک فوج بھرپور مدد کر رہی ہے۔ سکھر میں رینجرز قرنطینہ سینٹرز کے قیام میں معاونت کر رہی ہے۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ لوگوں کو بروقت اور درست معلومات دینا ضروری ہے۔ موبائل کمپنیوں کیساتھ مل کر پیغامات عوام تک پہنچائے جا رہے ہیں۔ میڈیا کے ذریعے موجودہ صورتحال سے عوام کو آگاہ کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ زمینی راستوں پر فوج اور سول انتظامیہ سکریننگ میں مصروف ہیں۔ ایئرپورٹس پر مسلح افواج کے جوان سکریننگ میں معاونت کر رہے ہیں۔ 21 مارچ سے ملتان، فیصل آباد اور کوئٹہ ایئرپورٹ آپریشنل ہوں گے۔
دوسری جانب وزیراعظم کے معاون خصوصی صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ پاکستان میں 326 کنفرم کیسز ہیں، لیکن گبھرانے کی ضرورت نہیں، پاکستان اس میں تنہا نہیں، دنیا بھر میں 2 لاکھ 20 ہزار کنفرم کیسز ہیں اور ان میں بہت سے ایسے افراد ہیں جو اس وائرس کو بیرون ممالک سے اپنے ساتھ لائے، پچھلے 24 گھنٹوں میں کورونا سے ہمارے دو پاکستانیوں کی جان گئی۔
ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ عوام ہاتھ ملانے اور گلے ملنے سے گریز کریں، عوام بلاضرورت اسپتالوں میں نہ جائیں، اسپتالوں میں مریضوں کا بہت بوجھ ہوتا ہے، مریض کی صحت بہت خراب ہے تو ساتھ صرف ایک فرد جائے، طبی عملے کو محفوظ رکھنے کیلئے سامان کی فراہمی ہماری ذمہ داری ہے اور عوام بغیر تصدیق کے اطلاعات کو نہ پھیلائیں۔
تل ابیب :کورونا وائرس: اسرائیل میں مذہبی پیشواؤں کا حکومتی ہدایات ماننے سے انکارکا معاملہ شدت اختیارکرگیا، ادھراطلاعات کےمطابق اسرائیل میں قدامت پسند مذہبی پیشواؤں نے حکومت ہدایات ماننے اور درسگاہیں بند نہ کرنے کا اعلان کردیا ہے جس سے کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل بھی دنیا کے دیگر ملکوں کی طرح وائرس کی زد میں ہیں جہاں گزشتہ 24گھنٹوں 100 سے زائد کیسز رپورٹ ہونے کے سبب متاثرہ افراد کی تعداد 529ہو گئی ہے جن میں سے 10 کی حالت نازک ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے گزشتہ ہفتے تمام ملک میں اسکولوں اور جامعات کی بندش کا حکم دیا تھا تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے اور ملک کے اکثر علاقوں میں اس حکم کی تعمیل کی گئی لیکن قدامت پسند یہودیوں کے علاقے ہریدی میں اب بھی کچھ تعلیمی ادارے کھلے ہوئے ہیں۔
تاہم یہودیوں کے مذہب پیشواؤں ‘ربی’ نے رواں ہفتے کے اوائل میں حکومت کے احکامات کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے اپنے اسکول اور درسگاہیں کھلے رکھنے کا اعلان کیا تھا۔رواں ہفتے اس بات کے شواہد ملیں ہیں کہ ہریدی کے گرد و نواح میں وائرس انتہائی تیزی سے پھیل رہا ہے اور ہر چار میں سے ایک شہری کو گھر تک محدود رہنے کی ہدایت کی گئی ہے البتہ اس کے باوجود انتہا پسند ربی اپنے موقف پر قائم ہیں۔
ربی کے اہم حلقے کے رکن شمولک وولف نے کہا کہ توریت کی تعلیمات منسوخ کرنا کورونا سے زیادہ خطرناک ہے، توریت ہماری حفاظت کرتی ہے، ہم خوفزدہ نہیں ہیں۔دوسری جانب یروشلم میں کورونا وائرس کے پیش نظر سخت حکومت ہدایات کے باوجود وائرس کے خاتمے کے لیے خصوصی دعائیہ تقریب کا اہتمام کیا گیا۔
مغربی دیوار کی حفاظت سمیت تمام تر انتظامات کے لیے قائم فاؤنڈیشن نے اعلان کیا گیا تھا کہ وہ جمعرات کو 10شرکا پر مشتمل دعائیہ تقریب منعقد کرائیں گے تاکہ کورونا وائرس کی وبا کا خاتمہ ہو سکے۔ان دعائیہ تقریب کو ٹی وی پر براہ راست نشر کیا جائے گا تاکہ گھر بیٹھے اس تقریب میں میں شرکت کر سکیں۔
ویسٹرن وال ہیریٹیج فاؤنڈیشن نے اپنے بیان میں مزید کہا تھا کہ کوتل میں دعائیہ تقریب وزارت صحت کی ہدایات پر منعقد کی جا رہی ہے جبکہ اس موقع پر مغربی دیوار کے ربی شیموئل ربی نووٹز اور مشہور گلوکار یشائی ریبو بھی موجود ہوں گے۔فاؤنڈیشن نے کہا کہ وہ سخت حکومتی ہدایات کے باوجود کوتل کے علاقے کو کھلا رکھیں گے اور عبادت کے خواہشمند افراد کے لیے مذہبی مقامات کو کھلا رکھا جائے گا۔
اسلام آباد :ہونہارہیں ، عظیم ہیں میرے ملک کے شاہین،پاکستانی جامعات کا کارنامہ، کورونا ٹیسٹ کی سستی ترین کٹس تیار،اطلاعات کےمطابق پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں ہونہار سائنسدان کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے استعمال ہونے والی "سستی” کٹ بنا کردنیا کے سامنے اپنی صلاحیتوں کالوہا منواچکے ہیں
10 مارچ 2020 کو نیشنل یونیورسٹی اف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) نے اعلان کیا کہ عطا الرحمٰن اسکول اف اپلائڈ بائیوسائنسز کے سائنسدانوں نے ووہان انسٹیٹیوٹ اف وائرالوجی (چین)، جرمن سینٹر فار انفیکشن ریسرچ (جرمن)، کولمبیا یونیورسٹی (امریکا) اور آرمڈ فورسز انسٹیٹیوٹ اف پیتھالوجی (راولپنڈی) کے اشتراک سے کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے کٹ تیار کرلی ہے، جس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ کٹ ان کٹوں سے سستی ہے جو پاکستان چین سے درآمد کررہا ہے۔ چین سے درآمد شدہ ایک کٹ کی قیمت تقریباً 8 ہزار روپے ہے جبکہ نسٹ کے سائنسدانوں کی بنائی ہوئی کٹ کی قیمت تقریباً 2 ہزارروپے بتائی گئی ہے۔
نسٹ کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر انیلا جاوید اور اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر علی زوہیب نے اس مشکل میں کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے کٹ تیار کرکے نہ صرف انسانیات کی خدمات میں اپنا حصّہ ڈالا ہے بلکہ ملک کے لیے سستی کٹیں بناکر مہنگی کٹوں کی درآمد میں لگنے والے پیسے بھی بچائے ہیں۔
اس سے پہلے رواں ماہ پاکستان کے وزیر سائنس فواد چوہدری نے یو کے پاکستان سائنس انوویشن گلوبل سائنس کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب میں پاکستانی یونیورسٹیز میں ہونے والی تحقیق کے بارے میں دنیا بھر سے آئے 70 سے زائد ماہرین اور سائنسدانوں کو بتایا کہ نسٹ کے سائنسدانوں نے لوگوں میں کورونا وائرس کی بروقت تشخیص کے لیے کٹ تیار کی ہے جس کی قیمت چین سے منگوائی گئی کٹوں سے ایک چوتھائی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی بتایا کہ کامسٹ یونیورسٹی کے تحقیق دانوں نے مصنوعی جلد بنائی ہے جو کہ پاکستان جیسے ملک کے لیے خوش آئند بات ہے۔
ابھی نسٹ سے خبر آئی ہی تھی کہ 16 مارچ 2020 کو پنجاب یونیورسٹی کے سینٹر اف ایکسیلنس ان مالیکیولر بائیولوجی سے بھی خبر آگئی کہ پروفیسر ڈاکٹر ادریس اور ان کی ٹیم نے نسٹ کی تیار کردہ کورونا وائرس کٹ سے بھی سستی کٹ تیار کرلی ہے۔
یہ خبر بہت حیرت انگیز تھی کیونکہ اب تو یوں لگنے لگا ہے کہ جیسے "کون سب سے سستی کورونا وائرس کٹ بنائے گا؟” کا مقابلہ شروع ہوگیا ہو۔ملک میں جہاں حکومتی نظام سے لے کر تعلیمی نظام تک کا آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے وہاں ایسے ‘سائنسی’ مقابلے ہونا اچھی بات ہے کیونکہ آج کے دور میں ملکی ترقی کے لیے سائنسی ترقی لازمی ہے۔
ڈاکٹر ادریس نے بتایا کہ اس کٹ میں پولیمریز چین ریکٹشن کے ذریعے بیماری کی تشخیص کی جاتی ہے۔ سائنسی اصطلاح میں پولیمریز چین ریکٹشن ایسا کیمیائی عمل ہوتا ہے جس میں خلیے کی کاپی کی جاتی ہے جس سے ان کی تعداد اتنی بڑھ جاتی ہے جو تشخیص کے قابل ہو۔
کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے مریض کے حلق اور ناک سے بلغم کا نمونہ لیا جاتا ہے جسے لیبارٹری میں پولیمریز چین ریکٹشن کے ذریعے زیادہ کرکے وائرس کے ہونے یا نہ ہونے کا بتایا جاتا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کی اس ٹیم کا دعویٰ ہے کہ نسٹ کی کٹ 2 ہزار روپے کی تھی جبکہ انہوں نے جو کٹ بنائی ہے وہ صرف 500 روپے کی ہے (یعنی درآمد شدہ چینی کٹوں سے سولہ گناہ سستی)۔یونیورسٹی کے ڈاکٹر ادریس نے بتایا کہ اگر حکومت کیمیکلز کے لیے فنڈز دے تو 500 روپے کی ہزاروں کٹس تیار کی جاسکتی ہیں۔
اسلام آباد:پنجاب، بلوچستان اور سندھ میں کورونا کے مزید کیسز، ملک بھر میں تعداد 380 ہو گئی،ہوٹلوں کوقرنطینہ سینٹرز میںبدلنے پرمشاورت جاری ،اطلاعات کےمطابق پاکستان میں کورونا وائرس کے آج مزید 78 کیسز سامنے آ گئے ہیں جس کے بعد ملک میں متاثرہ افراد کی تعداد 380 ہو گئی ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس وقت سب سے زیادہ کیسز صوبہ سندھ میں سامنے آئے ہیں،سرکاری ذرائع کے مطابق سندھ میں کورونا وائرس کے مزید 5 کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد صوبے میں مجموعی تعداد 213 ہوگئی ہے۔
ترجمان محکمہ صحت نے بتایا کہ آج5 کیسز کراچی میں رپورٹ ہوئے ہیں جو مقامی لوگ ہیں، متاثرہ اشخاص کے رابطہ میں رہنے والے افراد کے بھی ٹیسٹ کے نتائج مثبت آئے ہیں۔ترجمان نے بتایا کہ سکھر میں 151، کراچی میں 61 اور حیدرآباد میں کورونا وائرس کا ایک کیس ہے۔
سندھ کے بعد پنجاب میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد ہے ، ادھر پنجاب کی وزیرصحت یاسمین راشد کا کہنا ہے کہ صوبے میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 78 ہو گئی ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یاسمین راشد نے بتایا کہ 384 نمونوں کےٹیسٹ کیے جن میں سے 320 نتائج منفی آئے جب کہ 78 افراد کے کیسز مثبت رپورٹ ہوئے۔ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق کورونا وائرس میں مبتلا ہونے والے مریضوں میں پیپلز پارٹی کے مرحوم سینیٹر کی بیٹی بھی شامل ہیں جو چند روز قبل برطانیہ سے پاکستان پہنچی تھیں۔
پاکستان میں تیسرے نمبرپرجس صوبے میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد سامنے آئی ہے اس میں بلوچستان میں کورونا وائرس کے مزید کیسز سامنے آنے کے بعد صوبے میں متاثرہ افراد کی تعداد 45 ہو گئی ہے۔ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی نے کورونا وائرس کے 22 نئے کیسز کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ صوبے میں اب تک 45 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔
جبکہ خیبر پختونخوا میں متاثرہ افراد کی تعداد 23 ہوگئی ،خیبرپختون خوا میں آج مزید 4 کیس رپورٹ ہوئے ہیں جن کے بعد صوبے میں مجموعی کیسز کی تعداد 23 ہو گئی ہے۔
گزشتہ روز ضلع بونیر میں کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا تھا۔ڈی سی بونیر محمد خالد خان کا بتانا ہے کہ کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد متاثرہ شخص کو ڈگر اسپتال آئسولیشن وارڈ منتقل کر دیا گیا ہے، متاثرہ شخص ایک ہفتہ قبل متحدہ عرب امارات سے آیا تھا۔
کورونا وائرس کے باعث خیبر پختونخوا میں ہونے والی دو ہلاکتوں کے بعد پشاور میں کینال روڈ کی ایک گلی کو قرنطینہ قرار دے دیا گیا ہے جب کہ مردان میں بھی یونین کونسل منگاہ کو لاک ڈاؤن کر کے داخلی و خارجی راستے پر پولیس تعینات کر دی گئی ہے۔
گلگت بلتستان میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 13 ہے۔ اسلام آباد میں 4 نئے کیس سامنے آئے ہیں جس کے بعد وفاقی دارالحکومت میں کورونا کے کیسز کی تعداد 7 ہوگئی ہے۔ڈپٹی کمشنر میر پور آزاد کشمیر کے مطابق میر پور آئسولیشن وارڈ میں ایک شخص میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو گئی ہے۔ڈی سی میر پور کا کہنا تھا کہ متاثرہ شخص 14 دن قبل ایران سے تفتان آیا تھا، متاثرہ شخص کو 4 دن سے میر پور آئسولیشن وارڈ میں رکھا ہواتھا۔
کورونا وائرس پاکستان سمیت دنیا کے 170 سے زائد ملکوں تک چکا ہے اور اب تک 9 ہزار سے زائد لوگ اس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔پاکستان میں بھی گزشتہ روز دو افراد کی کورونا وائرس سے 2 افراد ہلاکت کی تصدیق ہوئی۔
بازار سے نہیں ملتے تو پریشان مت ہوں اب گھر میں ہینڈ سینی ٹائزر کریں تیار
باغی ٹی وی : جب سے پاکستان میں کورونا وائرس کا حملہ تیز ہوا ہے ، تب سے ذخیرہ اندوزوں نے کورونا سے بچاؤ کے لیے استعمال ہونے والے سامان کو اتنہائی مہنگا کردیا ہے اب عام آدمی کی پہنچ سے ہی ہینڈ سینیٹائزرز دور ہو چکے ہیں. لیکن باغی کے قارئین پریشان مت ہوں یہ سینٹائزر آپ گھر بھی بنا سکتے ہیں اور اس پر کوئی اتنی زیادہ لاگت بھی نہیں آئے گی
گھر میں سینی ٹائزر بنانے کےلیے آپ 50ملی لیٹر اسپرٹ(یہ آپ کو میڈیکل اسٹور سے مل جائے گی۔مجبوری میں ہارڈوئیر شاپ سے بھی لے سکتے ہیں لیکن اس کی کوالٹی اچھی نہیں ہوتی).
10ملی لیٹر (یا دوچمچے) ایلوویرا جیل(کوار گندل کا گُودا)اس اسپرٹ میں مکس کرلیں اور تھوڑا پانی ملا لیں۔
چاہیں تو خوشبو کے لئے گلاب/صندل یا کوئی بھی ایسنس ملا سکتے ہیں ۔
ایلوویرا نہ ملے تو ایک ملی لیٹر ڈیٹول سلوشن ڈال کر مکس کرلیں۔
آپ کا سینی ٹائزر تیار ہے۔تحریر:ڈاکٹر نسیم جاوید
اسلام آباد :کرونا نے فرق مٹا دیئے ،امیر،غریب،بادشاہ ، رعایا،غلام آقا سب کوایک صف میں لاکرکھڑا کردیا ، کورونا وائرس کا شکار ہونے والی نامور شخصیات اس خطرناک وائرس کی زدمیں آگئے ہیں ،
ادھر دنیا بھر سے اکٹھے کئے گئے اعدادوشمار کے مطابق 19 مارچ کی صبح تک متاثرہ افراد کی تعداد 2 لاکھ 18 ہزار 815 تک پہنچ چکی تھی جب کہ اس وبا سے ہلاکتوں کی تعداد9ہزارسے تجاوز کرگئی ہے
کورونا وائرس دسمبر 2019 کے وسط میں چین کے شہر ووہان سے شروع ہوا تھا اور ابتدائی ڈیڑھ ماہ تک مذکورہ وبا صرف چین تک ہی محدود تھی، تاہم جنوری کے آخر میں یہ وبا دیگر ممالک تک پہنچ گئی اور صرف گزشتہ 19 دن میں اس وبا نے دنیا کے درجنوں ممالک کو اپنی لپیٹ میں لیا۔
کورونا وائرس سے 19 مارچ کی صبح تک دنیا بھر کے 170 سے زائد ممالک متاثر ہوچکے تھے اور کئی ممالک کی اہم شخصیات بھی اس وبا سے متاثر ہو چکی تھیں۔
جہاں کورونا وائرس نے دنیا کے نصف سے زائد ممالک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے، وہیں اس وبا سے کئی اہم سیاسی، سماجی، شوبز اور کھیلوں کی شخصیات بھی متاثر ہوئی ہیں جس وجہ سے عام افراد میں بھی خوف پھیل گیا ہے۔
اب تک اس وبا سے جہاں ایران کے ارکان پارلیمینٹ اور وزرا متاثر ہوئے ہیں، وہیں اس وبا سے امریکا اور برطانیہ کے ارکان پارلیمینٹ سمیت شوبز، کھیل اور سیاست کی اہم شخصیات بھی اس سے متاثر ہو چکی ہیں جب کہ تاحال اسپین اور کینیڈا کی خاتون اول بھی اس وبا سے متاثر ہو چکی ہیں۔
ایران کی خاتون نائب صدر 59 سالہ معصومہ ابتکار بھی کورونا کا شکار ہوئیں
ایران میں کورونا وائرس سے چین اور اٹلی کے بعد سب سے سے زیادہ متاثرہ افراد کی تعداد موجود ہے، وہیں ایران کے متعدد سیاستدان اور حکومتی عہدیداروں کے بھی کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کی خبریں ہیں۔
ایران کے کم سے کم 35 سے زائد ارکان پارلیمینٹ کورونا میں مبتلا ہیں۔جبکہ بڑی بڑی شخصیات کرونا کی وجہ سے جاں بحق ہوگئی ہیں
برطانوی نائب وزیر صحت نیڈن ڈورس
برطانوی نائب وزیر صحت 62 سالہ نیڈن ڈورس نے 11 مارچ کو تصدیق کی کہ وہ بھی کرونا وائرس جیسے خطرناک وائرس کا شکارہوگئیں جب کہ ان کی والدہ میں بھی مذکورہ وائرس کی علامات ظاہر ہو رہی ہیں۔
نائب وزیر صحت کے کورونا میں مبتلا ہونے کے بعد وزیر اعظم بورس جانسن سمیت کئی افراد کے بھی متاثر ہونے کا شبہ کیا جا رہا تھا تاہم 19 مارچ تک نائب وزیر صحت سے ملاقاتیں کرنے والے کسی بھی شخص میں کورونا کی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔
برطانوی رکن پارلیمنٹ کیٹ اوسبورن
عالمی ذرائع ابلاغ کےمطابق برطانوی نائب وزیر صحت کے کورونا کے شکار ہونے کے ایک ہفتے بعد برطانوی رکن اسمبلی کیٹ اوسبورن نے بھی اپنی سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے تصدیق کی کہ وہ بھی خطرناک کرونا وائرس کا شکار ہوگئیں ہیں
ٹام ہانکس اور ان کی اہلیہ ریٹا ولسن
ہولی وڈ اداکار 63 سالہ ٹام ہانکس اور ان کی اہلیہ 63 سالہ ریٹا ولسن بھی کرونا وائرس کے حملے کی زد میں آگئی ہیں اور ان دونوں نے 12 مارچ کو سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ وہ دونوں کورونا کا شکار ہوگئے ہیں۔
کینیڈین وزیر اعظم کی اہلیہ صوفی ٹروڈو
کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے 13 مارچ کو سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے تصدیق کی کہ ان کی زوجہ محترمہ بھی اس خطرناک وائرس سے نہ بچ سکیں ، ان کی اہلیہ کو علاج کے لیے منتقل کردیا گیا، وہیں وزیر اعظم نے بھی خود کو قرنطینہ کے حوالے کردیا۔صوفی ٹروڈو دنیا کی وہ پہلی خاتون اول بنیں جو عالمی وبا کا شکار ہوئیں۔
آسٹریلوی وزیر داخلہ پیٹر ڈٹن
آسٹریلوی وزیر داخلہ پیٹر ڈٹن نے 13 مارچ کو تصدیق کی کہ وہ بھی کرونا کے مریض بن چکے ہیں اور اب انہوں نے خود کو قرنطینہ کے حوالے کردیا، ان کے وائرس میں مبتلا ہونے کے بعد کئی اہم سیاسی شخصیات کے بھی وائرس کے شکار ہونے کا خیال ظاہر کیا گیا، تاہم 19 مارچ تک کسی اور سیاستدان میں وبا میں مبتلا ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔
آسٹریلوی سینیٹر سوزان مکڈونلڈ
آسٹریلوی ریاست کوئنز لینڈ سے سینیٹر منتخب ہونے والی سوزان مکڈونلڈ ،امریکی کانگریس کے فلوریڈا اور ریاست اٹاہ سے منتخب ہونے والےدو ممبران بھی کرونا زدہ ہوگئے ، جس کے بعد خیال کیا جا رہا ہے کہ دیگر ارکان کارنگریس بھی وائرس کا ممکنہ شکار ہوگئے۔
فلوریڈا سے منتخب ہونے والے رکن ماریو ڈیاز بلارٹ اور اٹاہ سے منتخب ہونے والے رکن بین میکڈمس وہ پہلے امریکی ارکان بنے جنہیں وائرس نے اپنا شکار بنایا۔
امریکی ریاست نیویارک اسمبلی کے ارکان
امریکی کانگریس اور میامی کے میئر کی طرح ریاست نیویارک کی اسمبلی کے 2 ارکان بھی کورونا وائرس کا شکار ہوئے۔
ممتاز میگزین فارن پالیسی کے مطابق نیویارک اسمبلی کی خاتون رکن ہیلن وائنسٹائن اور چارلس بیرون میں بھی کورونا کی تصدیق ہوئی، جس کے بعد دیگر ارکان کے بھی وائرس میں مبتلا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے ۔
امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر میامی کے میئر فرانسز سارینے بھی 13 مارچ کو اس بات کی تصدیق کی کہ ان کا کورونا کا ٹیسٹ پازیٹو آیا ہے اور اب وہ خود کو قرنطینہ کر رہے ہیں، ان کے مبتلا ہونے کے بعد کئی سرکاری حکام میں بھی خدشہ ظاہر کیا گیا تاہم 19 مارچ تک ان کے قریبی حکام میں وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔
15 مارچ کو اسپین کی حکومت نے تصدیق کی کہ وزیر اعظم پیدرو سانچز کی اہلیہ 45 سالہ کرونا وائرس کی شکار ہونے کے بعد وزیر اعظم نے خود کو محدود کردیا اور امکان ہےکہ خدشے کے باعث ان کا بھی ٹیسٹ کیا جائے۔
اسپین کی وزیر مساوات ارینی مونتیرو
اسپین کی مساوات و ثقافت سے متعلق خاتون وزیر ایرینی مونتیرو میں بھی کرونا وائرس کے پائے جانے کا انکشاف ہوا ہے ، ان میں اسپینش خاتون اول سے قبل ہی کورونا کی تشخیص ہوئی تھی، خاتون وزیر میں تصدیق کے بعد ہی خیال کیا جا رہا تھا کہ شاید اسپین کے وزیر اعظم بھی کورونا کا شکار ہوں کیوں کہ وزیر اعظم خاتون وزیر سے مل چکے تھے۔
ہولی وڈ اداکار ادریس ایلبا
یونیورسل میوزک کے سی ای او لوشین کرینج
یونیورسل میوزک کے سی ای او لوشین کرینج
گیم آف تھرونز اداکار کرسٹوفیر ہیوج
جیمز بانڈ اداکارہ اولگا کورلینکو
امریکی باسکٹ بال کھلاڑی روڈی گوبرٹ
۔
امریکی گلوکارہ و اداکارہ چارلیٹ لارنس
فلپائن سینیٹر جان میگل فرنانڈز زوبری
فرانس کی وزیر برائے ماحولیات برون پوئرسن
فرانس کے وزیر ثقافت فرانک ریسٹر
ناروے کے لیبر وزیر تورجورن روئے اساکسن
اسرائیلی سفیر جیرمی اساشوروف
برازیلی صدر کے ترجمان فیبیو ونگرتن
برازیلی صدر کے میڈیا ترجمان فیبیو ونگرتن 12 مارچ کو کرونا وائرس کے پائے جانے کا انکشاف ہوا ، جس کے بعد برازیلی صدر نے بھی خود کو کچھ وقت کے لیے گھر تک محدود کردیا۔
فیبیو ونگرتن سے ملاقات کے بعد ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا کورونا کا ٹیسٹ کروایا تھا تاہم ان میں وائرس کی تشخیص نہیں ہوئی تھی۔
یہ تو وہ افراد ہں کہ جن کے بارے میں تصدیق ہوچکی ہے کہ ان کو کرونا وائرس لاحق ہوگیا ہے، لیکن اس کے باوجود بڑی تعداد میں ایسے کیسز سامنے آئے ہیں جن میں بڑے بڑے لوگوں کوکرونا وائرس ہوا ہے،
اٹلی :کرونا کی تباہ کاریوں کے عجیب واقعات ، اٹلی میں کرونا مریضوں کا خیال رکھنے والے ڈاکٹرزکرونا میںمبتلا ہوگئے ،اطلاعات کےمطابق کورونا وائرس سے چین کے بعد سب سے زیادہ متاثر ہونے والے یورپی ملک اٹلی میں کم سے کم 2600 سے زائد طبی ارکان بھی وبا میں مبتلا ہوگئے۔
اٹلی میں کورونا وائرس گزشتہ 3 ہفتوں سے تیزی سے بڑھ رہا ہے اور 18 مارچ میں وہاں اب تک کی ایک ہی دن میں سب سے زیادہ یعنی 427 ہلاکتیں ہوئی تھیں۔اٹلی میں 19 مارچ کی دوپہر تک کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد بڑھ کر 35 ہزار 713 تک جا پہنچی تھی جب کہ وہاں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 2 ہزار 973 تک جا پہنچی تھی۔
اگرچہ اٹلی سے زیادہ مریض چین میں ہوئے تھے تاہم چین میں 19 مارچ کی دوپہر تک ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 3 ہزار 130 تھی جو اٹلی کی ہلاکتوں سے محص ڈیڑھ سو کم تھیں۔چین میں 19 مارچ کی دوپہر تک کورونا کے متاثرہ افراد کی تعداد 81 ہزار 138 تک جا پہنچی تھی جب کہ 19 مارچ کو چین کے شہر ووہان سے جسے کورونا وائرس کا مرکز سمجھا جاتا ہے وہاں سے دسمبر 2019 کے بعد پہلی بار کوئی کیس بھی سامنے نہیں آیا۔
کورونا وائرس جہاں چین سے بتدریج ختم ہوتا جا رہا ہے، وہیں یورپ اور امریکا میں تیزی سے پھیل رہا ہے اور یہ وبا اب صحت کے عملے کو بھی متاثر کرنے لگا ہے۔اٹلی کے حکام نے تصدیق کی کہ 19 مارچ تک ملک کے 2 ہزار 629 میڈیکل ارکان بھی کورونا وائرس کا شکار بن چکے تھے۔
عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں اٹلی کے میڈیکل جرنل کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ملک میں 11 مارچ کے بعد تیزی سے طبی ارکان بھی کورونا وائرس کا شکار بن رہے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ اٹلی میں پہلی بار 11 مارچ کو طبی ارکان میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی جس کے بعد اب تک وہاں سے یومیہ ایسے طبی ارکان سامنے آ رہے ہیں جو وائرس کا شکار بن رہے ہیں۔
19 مارچ کی صبح تک اٹلی میں 2 ہزار 629 طبی ارکان کورونا وائرس میں مبتلا ہو چکے تھے اور مبتلا افراد میں نہ صرف پیرامیڈیکل اسٹاف بلکہ ڈاکٹرز اور دیگر رضاکار بھی شامل تھے۔اٹلی کے نیشنل ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ ملک کے درجنوں ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر طبی رضاکار کورونا وائرس کا شکار بن چکے ہیں اور ان کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے۔
اگرچہ اٹلی کے حکام نے طبی ارکان مں کورونا وائرس کی تصدیق کی ہے تاہم حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہاں کورونا کی وجہ سے طبی ارکان کی اموات بھی ہوئی ہیں یا نہیں۔
کورونا کا خطرہ وزیراعلی آفس میں بڑی پابندی لگادی گئی
باغی ٹی وی :لاہور، کرونا وائرس کے خطرکے پیش نظر وزیراعلی آفس میں بلا اجازت داخلے پر آج سےمکمل پابندی لگا دی گئی .
جی اوآرز میں وزرا،اراکین اسمبلی سمیت دیگر ملاقاتیوں کاداخلہ بند کردیا گیا.ایوان وزیراعلی سمیت دیگر دفاتر میں داخلے پیشگی اجازت لینا ہوگی،جی اوآرزکےرہائشی اور اجلاس کیلئے طلب افراد اور افسران مثتثنیٰ ہوں گے. سیکورٹی حکام کے مطابق ایم اینیز،ایم پی ایز کا داخلہ پروٹوکول اور سیکورٹی آفس کی اجازت سے مشروط ہوگا.
واضح رہے کہ دنیا بھر میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد8ہزار968ہوگئی،چین میں3245،اٹلی2978اورایران میں1135ہلاکتیں ہوئی ہیں، اسپین میں 638، فرانس264،امریکہ155اوربرطانیہ میں 104ہلاکتیں ہوئی ہیں،جنوبی کوریا91،نیدرلینڈز58،جاپان 32 اور سوئٹزر لینڈمیں33ہلاکتیں ہوئی ہیں.
دنیا بھر میں کورونا وائرس سے85ہزار745مریض صحت یاب ہوئے ہیں،جرمنی 28، انڈونیشیا19 ،فلپائن17 ،بیلجیئم14 ،عراق 12اورسویڈن میں10ہلاکتیں ہوئی ہیں. پاکستان میں کرونا وائرس کے 2 مریض، بھارت میں 3 مریض ہلاک ہوئے ہیں،
وزیراعظم پرتنقید کا وقت نہیں، کرونا وائرس کا پاکستان مقابلہ کر سکتا ہے، بلاول
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا کہ کرونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے قرنطینہ کا عمل تیز کیا جائے
بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ میں جانتا ہوں پاکستان اس بیماری کا مقابلہ کر سکتا ہے، وفاقی حکومت پر تنقید کی ضرورت نہیں، غریب طبقے کو گھر تک کھانا پہنچائیں گے، پوری دنیا میں اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، دو ہلاکتیں کرونا کی وجہ سے ہوئیں، ہمیں دونوں محاذوںپر مقابلہ کرنا ہے، کرونا کے ساتھ معیشت کو بھی دیکھنا ہو گا، حکومت کو ٹھوس اقدامات لینا ہوں گے
بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ کرونا سے ڈرنے کی ضرورت نہیں،کورونا وائرس کا زیادہ اثر عمر رسیدہ لوگوں پر پڑتا ہے،میں جانتا ہوں ہم اس کا مقابلہ کر سکتے ہیں ،ہمیں اس کے لئے ایک ہونا ہو گا، اب ہمیں سنجیدہ ہو کر کام کرنا ہو گا، کاروبار کو سنبھالنےکیلئے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے،ووٹ لینے کے لئے جس طرح کام کرتے ہیں اب کرونا سے اسی طرح عوام کو بچانا ہو گا، سونامی کا مقابلہ کرنے کے لئے جو کرتے ہیں اس طرح اقدامات کرنے ہوں گے،موجودہ صورتحال مین ملازمین کو نہ نکالا جائے بلکہ انہیں تنخواہیں دی جائیں
بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ عوام کی صحت کا تحفظ کرنا ہماری ذمہ داری ہے، ہم دن رات محنت کریں گے، ہم جتنی جانیں بچا سکتے ہیں، ہمیں بچانا ہوں گی، آئسولیشن قائم کرنا ہوں گے،ملکر کرونا کا مقابلہ کریں گے، حکومت سندھ پوری کوشش کر رہی ہے کہ ہم کرونا سے نمٹیں، پیرا میڈیکل سٹاف مزید ہائئر کر رہے ہیں، ڈاکٹر، نرسز کو سلیوٹ پیش کرتے ہیں جو اپنی جان خطرے میں ڈال کر عوام کی خدمت کررہے ہیں.
بلاول کا کہنا تھا کہ وزیراعظم پر تنقید کا وقت نہیں،ہم متاثرین کےگھروں تک کھاناپہنچائیں گے، وفاقی حکومت کٹس کیلئےصوبوں کی مدد کرے، کروناسےمتاثرہ افرادکی ذمہ داری سندھ حکومت پرہے. وزیراعظم کی تقریرکے حوالہ سے جو اقدامات کئے گئے ہیں ان پر نظر ثانی کی جائے. پاکستان کا ہیلتھ سسٹم بہتر ہونا چاہئے، ٹھوس اقدامات جلد کرنا ہوں گے، سندھ میں لاک ڈاؤن کی طرف جا رہے ہیں.پیپلز پارٹی کے تمام پارلیمنٹیرینز اپنے حلقوں میں جائیں اور سماجی رابطے کم کرنے کیلئے اپنے لوگوں پر وہ اثر و رسوخ استعمال کریں جو ووٹ لیتے وقت کر سکتے ہیں،ہم کرائسز کا مقابلہ کرنے کے لئے اقدامات اٹھا رہے ہیں، پوری کوشش کر رہے ہیں کہ انسانی جانوں کو بچائیں،سندھ حکومت نے10ہزارکٹس کابندوبست کیاہے،
بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ میڈیا ہماری فرنٹ لائن ہے، وفاقی حکومت کرونا کو سیریس لے، ہم ملکر مقابلہ کر سکتے ہیں، سندھ حکومت نے کچھ اقدامات کئے ہیں، کسی بھی معیشت کو کرونا نقصان پہنچائے گا، پاکستان کی معیشت کو بہت زیادہ نقصان پہنچے گا اگر مریض زیادہ ہوتے ہیں تو، اسلئے لاک ڈاؤن جیسے اقدامات اٹھانا پڑیں گے،لاک ڈاؤن کی طرف نہ گئے تو کافی نقصان ہو گا، اسوقت روزانہ میٹنگ ہونی چاہئے، پاکستان کی معیشت، عوام کی صحت کے لئے اقدامات اٹھانا ہوں گے،
کون کونسی ٹرینیں بند کر رہے ہیں؟ شیخ رشید نے بتا دیا، مزید بھی بند کر سکتے ہیں
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا کہ لاہور کے مختلف سٹیشن پر ٹرینیں رکیں گی تا کہ رش نہ بڑھے، کراچی میں لانڈھی،ملیر، ڈرگ روڈ پر کھڑی ہوں گی،پنڈی کی تمام ٹرینیں چکلالہ پر کھڑی ہوں گی، فوری طور پر 22 تاریخ سے 12 ٹرینیں بند کی ہیں، 8 کروڑ روپیہ ری فنڈ کر دیا ہے، سو فیصد ریفنڈ دیں گے، 25 کو پھر بیٹھیں گے جس میں مزید فیصلہ کریں گے. ریلوے سٹیشن پر صفائی کے بہترین انتظامات کئے گئے ہین،جو کماتے ہیں وہی ریلوے پر خرچ کرتے ہیں، ٹرینوں کی صفائی کا خاص خیال رکھا جارہا ہے، ضرورت پڑنے پر مزید ٹرینیں بھی بند کر دیں گے، ٹرینیں بند ہونے سے ریلوے کی آمدن بھی متاثر ہوگی
شیخ رشید کا مزید کہنا تھا کہ 134 ٹرینیں چلتی ہین، 34 بند ہو جائیں گی، اگر سب بند کر دی تو ملک نئے مسئلے سے دو چار ہو جائے گا، 12 کا اعلان کر رہے ہیں، 20 کا بعد میں اعلان کریں گے، سکریننگ کوئی حل نہیں، ماتھے پر آلہ لگا کر ٹیسٹ کرنا کوئی حل نہیں، بلڈ ٹیسٹنگ پر ہم نہین جا سکتے، ہمارے ساتھ وہی سفر کر رہا ہے جو غریب ہے اور کسی نہ کسی وجہ سے کراچی پہنچنا ہے، ہم نے پنجاب حکومت کو آفر کی تھی کہ ہمارے پاس ہسپتال ہیں وہاں آئسولیسشن سنٹر بنا دیئے جائیں
قبل ازیں وزارت ریلوے نے پاکستان مین ریلوے کی بندش کے حوالہ سے نوٹفکیشن جاری کر دیا ہے، نوٹیفکیشن کے مطابق جو ٹرینیں 22 مارچ سے بند کی جارہی ہیں ان میں پشاور سے کراچی کے درمیان میانوالی چلنے والی خوشحال خان خٹک ، لاہور سے کوئٹہ براستہ فیصل آباد اکبر ایکسپریس، کراچی سے ملتان کے درمیان چلنے والی سندھ ایکسپریس ، لاہور سے جڑوانوالہ کے درمیان چلنے والی راوی ایکسپریس ، دھابیجی ، حیدرآباد میر پور خاص کے درمیان چلنے والی شاہ لطیف ایکسپریس ،خان پور ، روہڑی کے درمیان چلنے والی روہی پسنجر ٹرین شامل ہیں.
کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد افسران نے وزارت ریلوے کو ٹرین آپریشن بند یا محدود کرنے کی سفارشات کیں تھی، ریلوے انتظامیہ کو ٹرین آپریشن کے دوران حفاظتی اقدامات کرنے میں مشکلات کا سامنا تھا۔ ریلوے سٹیشن پر کوئی خاطر خواہ انتظامات نہیں ہیں، کرونا سے بچاؤ کے لئے سندھ حکومت نے متعدد بار ریلوے بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا.
کرونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر ٹرانسپورٹ بھی بند کر دی گئی ہے
پنجاب حکومت نے سندھ کے مطالبے پر سندھ کے لئے پبلک ٹرانسپورٹ بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس ضمن میں پنجاب پراونشل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی جانب سے متعلقہ افسران کو مراسلہ جاری کر دیا گیا ہے، جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پبلک ٹرانسپورٹ پر پابندی تا حکم ثانی برقرار رہے گی۔ پنجاب سے کوئی بھی پبلک ٹرانسپورٹ سندھ نہیں جائے گی
قبل ازیں سندھ میں انٹرسٹی بس سروس پر بھی عارضی پابندی لگائی گئی ہے۔ صوبے بھر میں ریسٹورنٹ اور مالز بھی بند ہیں۔ ریسٹورنٹس صرف پارسل دے سکتے ہیں ، سندھ حکومت نے وفاق سے ٹرینیں بند کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے،