Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • تھانہ شہزاد ٹاؤن پولیس کا انسپکٹر مقتول کے کفن کا سودا کرنے لگا

    تھانہ شہزاد ٹاؤن پولیس کا انسپکٹر مقتول کے کفن کا سودا کرنے لگا

    تھانہ شہزاد ٹاؤن پولیس کا انسپکٹر عاشق شاہ مقتول کے کفن کا سودا کرنے لگا۔مدعیہ پر ظلم اور بربریت کی انتہا کردی۔ مقتول کے بھائی سے 4 لاکھ روپے تک کی رشوت وصول کر لی۔ بوڑھی والدہ اور بہنوں کے سامنے قاتل کو کمرہ میں بیٹھا کر مدعیہ سے ڈیل کرنے لگا۔عاشق شاہ کہتا ہے کہ یہ قاتل تیرے دوسرے بچے کا نام لے رہا ہے۔ اگر پیسے دو تو یہ قاتل تیرے دوسرے بچے کا نام نہیں لے گا۔بوڑھی ماں بیٹیوں سمیت در در کے دھکے کھانے پر مجبور ہو گئی۔

    ملزمان کو گرفتار کرنے کی بجائے مدعی کو دھمکیاں دینے لگا مقدمہ میں نامزد ملزمان کو گرفتار کرنے کی بجائے مقتول کے بھائی سے پانچ لاکھ روپے کی اور رشوت کی ڈیمانڈ کر لی گئی۔کہ اگر پانچ لاکھ روپے نہ دئیے تو تمھارے بھائی کے قتل کے الزام میں تمہیں اندر کروں گا۔ بوڑھی والدہ در در کے دھکے کھانے پر مجبور ہو گئی۔بوڑھی والدہ کا کہنا ہےکہ پولیس ملزمان کو گرفتار نہیں کرتی ملزمان بااثر ہیں۔ان کو عاشق شاہ نے رشوت کے عوض ان کو مقدمہ سے ڈسچارج کروا دیا۔اب ہمیں انسپکٹر عاشق شاہ دھمکیاں دے رہا ہےکہ پانچ لاکھ کی رشوت دو ورنہ تمہارے قتل ہونے والے بچے کا قتل تمہارے دوسرے بچے پر ڈال دونگا۔تم لوگ پیسے سود پر کسی سے مانگ لو۔میں بوڑھی عورت ہوں جاؤں تو جاؤں کہاں؟ تمام دروازے کھٹکھٹا لیے لیکن کچھ نہ بنا.آئی جی سے انصاف کی اپیل کرتی ہوں۔میرا کیس ایماندار افسر کو دیا جائے۔انسپکٹر عاشق شاہ سے میرا 4 لاکھ روپیہ واپس دلوایا جائے۔ جو کہ میرے بیٹے عبران سے اس نے وصول کیا۔ میں بوڑھی ماں ہوں۔عاشق شاہ نے گزشتہ روز ایک ملزم جو میرے بیٹے کے قتل کے وقت سے غائب تھا۔

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    بیرون ملک سے لڑکی کی جسم فروشی کے لئے پاکستان سمگلنگ،عدالت نے کس کو کیا طلب؟

    شوبز سے وابستہ لڑکیوں سے کروائی جا رہی جسم فروشی، 60 ہزار میں ہوتا ہے "سودا”

    عاشق شاہ نے پیسوں کی خاطر مجھے اور میری دونوں بیٹیوں کو تھانہ میں اپنے کمرے میں بلوایا۔اور ملزم کو کرسی پر بیٹھا دیا۔اور راشی تفتیشی نے پیسوں کی خاطر ملزم کے ساتھ مل کر ہم پر ہنسا اور ملزم کو کہا کہ جو تم کو بولا ہے ان کو بتاؤ۔ملزم غیور نے کہا کہ تمھارے چھوٹے بیٹے اور داماد نے تیرا بیٹا رضوان مجھ سے قتل کروایا۔ملزم مجھ بوڑھی ماں پر ہنسا اور کہنے لگا کہ عاشق شاہ کو خرچہ لگاؤ یہ مجھے جیسے کہیں گے میں ویسے ہی بیان دونگا۔اور عاشق شاہ کے ساتھ اختر نامی پولیس اہلکار میری بیٹی کو ہراساں کرنے لگا۔اور میری بیٹی کو کہنے لگا کہ میں تم کو بھی بند کر دونگا۔میں بوڑھی ماں اپنی بیٹیوں کو لے کر تھانے سے ذلالت سمیت نکل آئی۔کیا پولس والوں کی کوئی ماں بہن نہیں ہوتی۔میرا ایک بیٹا بھی قتل ہو گیا اور ذلالت بھی میرے مقدر میں کیوں؟میں انصاف کی اپیل کرتی ہوں میرے ساتھ انصاف کیا جائے۔وزیراعظم شہباز شریف وزیر داخلہ اور آئی جی اسلام آباد سے انصاف کی اپیل کرتی ہوں۔ کہ میرے بیٹے کے اصل قاتلوں کو گرفتار کیا جائے اور ایسے پولیس افسر جو پورے محکمے کی رسوائی کرتے ہیں ایسے راشی تفتیشی سے میری جان چھڑوائی جائے۔تاکہ انصاف کا بول بالا ہو سکے۔

  • مدرسے میں چھ کمسن بچوں کے ساتھ استاد نے کی زیادتی

    مدرسے میں چھ کمسن بچوں کے ساتھ استاد نے کی زیادتی

    مدرسے میں چھ کمسن بچوں کے ساتھ استاد نے کی زیادتی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب میں بچوں کے ساتھ زیادتی بدفعلی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے

    پنجاب کے ضلع رحیم یار خان میں افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، رحیم یار خان کے ایک مدرسے کے استاد نے چھ کمسن طلبا کے ساتھ زیادتی کی ہے، جن طلبا کے ساتھ زیادتی کی گئی انکی عمر دس سے بارہ برس کے درمیان ہیں، واقعہ کا مقدمہ تھانہ صدر صادق آباد نے درج کر لیا ہے، واقعہ بھٹہ واہن میں پیش آیا، پولیس کے مطابق مدرسے کے طلبا نے بتایا کہ قاری صاحب نے بچوں کے ساتھ بدفعلی کی اور کہا کہ اگر کسی کو اس گھناؤنے کام کے بارے میں بتایا تو قتل کر دوں گا، قاری کی جانب سے جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی،

    بچوں کے والدین کا کہنا ہے کہ بچوں نے جب گھر بتایا تو پتہ چلا کہ قاری کے روپ میں کوئی سفاک درندہ یہاں تھا، جو اب فرار ہو چکا ہے، قاری نے بچوں کے ساتھ زیادتی کو معمول بنا لیا تھا جس کی وجہ سے بچے پڑھنے نہیں جاتے تھے،بچوں کے والدین نے مطالبہ کیا کہ ملزم کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے،

    پولیس کے مطابق زیادتی کا شکار بچوں کا میڈیکل کروایا گیا ہے، تین بچوں کی رپورٹ آ چکی ہے اور انکے ساتھ بدفعلی کی تصدیق ہوئی ہے مدرسے کا استاد فرار ہو گیا ہے جسکی گرفتاری کے لئے پولیس ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جلد ملزم کو گرفتار کر لیں گے

    واضح رہے کہ لاہور میں بھی بدفعلی کا ایک واقعہ سامنے آیا تھا، لاہور کے ایک مدرسے کے مفتی عزیزالرحمان نے طالب علم کو زیادتی کا نشانہ بنایا تھا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھی،اسکے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے مفتی عبدالعزیز کو گرفتار کر لیا گیا

     پولیس نے مدرسے کے لڑکے سے بد فعلی کے ملزم مفتی عزیز الرحمن کے خلاف مقدمہ درج کر دی

    مولانا کی بچے سے زیادتی ، ویڈیو لیک ، اصل حقیقت کیا ہے ، سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    مذہبی رہنماوں کا ردعمل

    طالب علم نے چائے پلائی اور پھر….مفتی عزیرالرحمان کی زیادتی کیس میں وضاحتی ویڈیو

    طالب علم سے زیادتی کرنیوالے مفتی کو مدرسہ سے فارغ کر دیا گیا

    تین سال سے ہر جمعہ کو مفتی عزیز الرحمان میرے ساتھ…..متاثرہ طالب علم مزید کتنی ویڈیوز سامنے لے آیا؟

    میں نے کوئی جبر تو نہیں کیا، مفتی عزیزالرحمان اعتراف کے بعد فرار

    گزشتہ ماہ 25 جولائی کو پنجاب پولیس نے 14 سالہ بچے سے ’بدفعلی‘ کرنے والے مدرسہ معلم کو گرفتار کیا تھا،پنجاب پولیس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق جوہر ٹاؤن پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے 14 سالہ بچے سے زیادتی کرنے والا ملزم کو گرفتار کیا۔پولیس کے مطابق ملزم قاری امین مدرسہ میں بچوں کو پڑھاتا تھا، جس نے طالب علم بچے کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔متاثرہ بچے کی والدہ کی درخواست پر جوہر ٹاؤن پولیس ملزم کے خلاف کارروائی عمل میں لائی۔

    قصور کے بعد تلہ گنگ میں جنسی سیکنڈل. امام مسجد کی مدرسہ پڑھنے والی بچیوں کی ساتھ زیادتی

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی اے

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

    رواں برس ماہ جنوری میں ہی 11 سالہ بچی سے تدریسی کمرہ میں فحش حرکات کرنے والا استاد گرفتار کر لیا گیا تھا پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں ملت پارک پولیس نے کارروائی کی، ملت پارک پولیس کو درخواست موصول ہوئی جس کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم قاری نور احمد کو گرفتار کر لیا ،مدرسہ کے تدریسی کمرہ میں اکیلی بچی کا ناجائز فائدہ اٹھایا ،ابتدائی تحقیقات میں ملزم قاری نور احمد نےاعتراف جرم کر لیا ۔متاثرہ بچی کے بھائی کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے،ملزم کو گرفتار کر کے حوالات میں بند کر دیا گیا ہے ،ایس پی اقبال ٹاؤن کا کہنا ہے کہ معصوم بچوں اور خواتین کو حراساں کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔

    لاہور سے چار بہنیں اغوا،ماں کی مدعیت میں مقدمہ درج

    خواجہ سراؤں کو ملازمتوں میں کوٹہ مقرر کرنے کا مطالبہ سامنے آ گیا

    خواجہ سرا کا یہ کام دوسروں کیلئے مشعل راہ ہے،لاہور ہائیکورٹ

    سگی بیٹی کو فحش ویڈیو دکھا کر سفاک باپ سمیت 28 افراد نے کیا ریپ

    موبائل میں فحش مواد ڈال کر دینے والا دکاندار گرفتار

    فحش ویڈیوز کا دھندہ کرنیوالے 20 ملزمان گرفتار

  • محرم اورجش آزادی کے موقع پر دہشتگردی کا منصوبہ بنایا سی ٹی ڈی نے ناکام

    محرم اورجش آزادی کے موقع پر دہشتگردی کا منصوبہ بنایا سی ٹی ڈی نے ناکام

    محرم اورجش آزادی کے موقع پر دہشتگردی کا منصوبہ بنایا سی ٹی ڈی نے ناکام
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سی ڈی ٹی حیدرآباد نے ٹنڈوالہیار میں کارروائی کرتے ہوئے دو دہشتگرد گرفتار کر لئے ہیں

    سی ٹی ڈی حکام کے مطابق گرفتار دہشتگروں کے قبضے سے تیار شدہ دو آئی ای ڈیز برآمد ہوئی ہیں، دہشتگردوں کی شناخت صدرالدین اور ظھیرعباس کے طور ہوئی ہے گرفتار دہشتگردوں کا تعلق کالعدم علیحدگی پسند تنظیم ہے ایک دہشتگرد کا تعلق ضلع لاڑکانہ جبکہ دوسرے کا تعلق ضلع دادو سے ہے دونوں دہشتگرد ٹنڈوالہیار میں تخریب کاری کا ٹاسک لئے پہنچے تھے دہشتگرد تخریب کاری کرکے محرم الحرام اور جشن آزادی کے موقع پر خوف وہراس پھیلانا چاہتے تھے گرفتار دونوں دہشتگروں کیخلاف انسداد دہشتگردی اور ایکسپلوژو ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے

    قبل ازیں شہر قائد کراچی میں ڈسٹرکٹ سٹی پولیس نے مختلف کاروائیاں کرتے ہوئے عادی پیشہ ور جرائم میں ملوث 07 ملزمان کو گرفتار کر لیا ملزمان میں 2 موٹر سائیکل لفٹر اور 5 منشیات فروش شامل ہیں ملزمان سے 2 چوری شدہ موٹر سائیکل,ہیروئن, کرسٹال اور چرس برآمد کیا گیا. ملزمان کو علاقہ تھانہ بغدادی, نیپئر, کلاکوٹ, چاکیواڑہ, میٹھادر اور نبی بخش کی حدود سے گرفتار کیا گیا.برآمدہ چوری شدہ موٹر سائیکل کا مقدمہ تھانہ بغدادی میں درج ہے.رآمدہ چوری شدہ موٹر سائیکل نمبری KJK-1906 کا مقدمہ تھانہ میٹھادر میں درج ہے. ملزمان میں فیصل عرف چلی, عمر, محمد امین, محمد حنیف, نوشاد, شکیل خان اور محمد حنیف عرف بابا شامل ہیں.ملزمان عادی ،پیشہ ور ہیں, ملزمان اس سے قبل بھی کئی مقدمات میں گرفتار ہوکر جیل جا چکے ہیں, ملزم شکیل خان اس سے قبل بھی منشیات فروشی کے مقدمہ میں مفرور اور مطلوب تھا,ملزمان کے خلاف متعلقہ تھانہ جات میں مقدمات درج کرکے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے.

    کراچی دھماکا، خاتون خود کش بمبار نے کیا، کالعدم تنظیم نے ذمہ داری قبول کر لی

    چینی باشندوں کی جان لینے والوں کو پھانسی کے پھندے پر لٹکائیں گے،

    کراچی یونیورسٹی میں ایک خاتون کا خودکش حملہ:کئی سوالات چھوڑگیا،

    پاکستان میں تعینات چینی ناظم الامور مس پینگ چَن شِیؤکی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ سے ملاقات ہ

    کراچی کی مچھر کالونی کی سن لی گئی،سی پیک سے متعلق سست روی کا تاثر غلط ہے،خالد منصور

  • ایمبولینس کیلئے پیسے نہیں،بیٹا ماں کی لاش کو 80 کلومیٹر تک بائیک پر لے کر گیا

    ایمبولینس کیلئے پیسے نہیں،بیٹا ماں کی لاش کو 80 کلومیٹر تک بائیک پر لے کر گیا

    ایمبولینس کیلئے پیسے نہیں،بیٹا ماں کی لاش کو 80 کلومیٹر تک بائیک پر لے کر گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں غربت اور بے حسی کی انتہا،ماں مر گئی، بیٹے کے پاس ایمبولنس کو دینے کے پیسے نہیں، کسی کو ترس نہ آیا، بیٹا ہسپتال سے اسی کلو میٹر دور ماں کی لاش کو موٹر سائیکل پر لے کر گیا

    واقعہ بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں آیا، شہڈول کے علاقے میں میڈیکل کالج کی انتظامیہ نے ماں کے مرنے پر بیٹے کو ایمبولینس نہیں دی، پرائیویٹ ایمبولینس والوں نے پانچ ہزار روپے مانگے، بیٹے کے پاس وہ بھی نہیں تھے، بیٹا ماں کی لاش کو گھر پہنچانے کے لئے ایمبولینس کی فراہمی کے لئے سب کی منتیں کرتا رہا مگر کسی نے کوئی مدد نہ کی، بالآخر بیتے نے ماں کی لاش کو موٹر سائیکل پر گھر لے جانے کا فیصلہ کیا، اس واقعہ کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہیں اور صارفین ہسپتال انتظامیہ کی بے حسی پر تبصرے کر رہے ہیں

    بیٹے نے ماں کی لاش موٹر سائیکل پر رکھی اور اسی کلو میٹر کا فاصلہ موٹر سائیکل پر ہی طے کیا، شہڈول سے گڈارو کا سفر اسی کلو میٹر بنتا ہے،جس خاتون کی موت ہوئی وہ گڈارو کی رہائشی تھی، اسے ایک روز ہسپتال میں رکھا گیا تھا، سینے میں درد کی تکلیف کی وجہ سے اسے ہسپتال لایا گیا تھا، نوجوان نے اپنی ماں کی موت کا ذمہ دار ہسپتال انتظامیہ کو ٹھہرایا اور کہا کہ طبی عملے نے علاج میں غفلت برتی جس کی وجہ سے ماں کی موت ہوئی

     پاکستان کی اہم خاتون کو جسم فروشی کی پیشکش کی گئی ہے جس پر خاتون نے کھری کھری سنا دیں

    سفاک دیور نے بھابھی کو ہی جسم فروشی کے دھندے میں لگا دیا

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    بیرون ملک سے لڑکی کی جسم فروشی کے لئے پاکستان سمگلنگ،عدالت نے کس کو کیا طلب؟

    شوبز سے وابستہ لڑکیوں سے کروائی جا رہی جسم فروشی، 60 ہزار میں ہوتا ہے "سودا”

    سوشل میڈیا پر تصاویر وائرل ہونے کے بعد صارفین نے انتہائی غم وغصے کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ کیا اسی کلومیٹر کے سفر میں کوئی ایک انسان بھی نہیں تھا جو اسکو گاڑی دے دیتا یا ایمبولینس کا کرایہ دے دیتا، صارفین نے ہسپتال انتظامیہ کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ مریضوں کو لوٹنے والے ایسے ہسپتالوں جہاں ہر روز بے حسی دیکھنے کو ملے انکے خلاف سخت ایکشن کی ضرورت ہے

  • فلم کی عکس بندی کے دوران مسلح افراد کا حملہ،8 خواتین کا ریپ

    جنوبی افریقا کے ایک چھوٹے سے قصبے کے قریب فلم کی عکس بندی کی جگہ پرمسلح افراد نے حملہ کیا اور فلم بندی میں حصہ لینے والی 8 نوجوان خواتین کی عصمت دری کی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق پولیس نے جمعہ کی شام کو بتایا کہ مسلح افراد نے جنوبی افریقا کے ایک چھوٹے سے قصبے کے قریب فلم کی عکس بندی کی جگہ پر حملہ کیا اور فلم بندی میں حصہ لینے والی 8 نوجوان خواتین کی عصمت دری کی۔

    سعودی عرب :منی لانڈرنگ میں ملوث تین غیرملکیوں کو سزا

    جنوبی افریقی پولیس حکام کے مطابق جوہانسبرگ کے مغرب میں کروگرسڈورپ کے مضافات میں جمعرات کے حملے کے تناظر میں اتوار تک تقریباً 20 مشتبہ افراد میں سے تین کو گرفتار کیا جا چکا ہے گینگ نے ورک ٹیم پر اس وقت حملہ کیا جب اس کے ارکان فلم بندی شروع کرنے کے لیے ساز و سامان اور سجاوٹ کی تیاری کر رہے تھے۔

    برطانیہ میں غیرملکی کمپنیوں کو حقیقی مالکان کی شناخت کروانا ضروری قرار

    انہوں نے بتایا کہ جن نوجوان خواتین پر حملہ کیا گیا ان کی عمریں 18 سے 35 سال کے درمیان تھیں ان میں سے ایک خاتون کو دس مردوں نے زیادتی کا نشانہ بنایا جبکہ ایک خاتون کو آٹھ مردوں نے مبینہ طور پر گینگ ریپ کا نشانہ بنایا ورک ٹیم کے مردوں پر بھی حملہ کیا گیا۔ ان کے کپڑے اور سامان چھین لیا گیاایسا لگتا ہے کہ مشتبہ افراد غیر ملکی ہیں، خاص طور پر غیر قانونی کان کن ہوسکتے ہیں۔

    جنوبی افریقا کے صدر سیرل رامافوسا نے اعلان کیا کہ انہوں نے پولیس وزیر کو حکم دیا ہے کہ "اس جرم کے مرتکب افراد کی گرفتاری کو یقینی بنایا جائے۔

    اوسطاً، جنوبی افریقا کی پولیس کو ہر 12 منٹ میں عصمت دری کی رپورٹ موصول ہوتی ہے۔ اس بڑی تعداد کے باوجود ملک میں عصمت دری کے بہت سے واقعات رپورٹ نہیں ہوتے ہیں-

  • چار برس تک بیٹی کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالے باپ کو عدالت نے سنائی سزا

    چار برس تک بیٹی کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالے باپ کو عدالت نے سنائی سزا

    چار برس تک بیٹی کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالے باپ کو عدالت نے سنائی سزا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چار برس تک 14 سالہ بیٹی کے ساتھ گھناؤنا کام کرنے والے سفاک باپ کو عدالت نے سزائے موت سنا دی ہے

    واقعہ خیبر پختونخواہ کا ہے ، خیبر پختونخواہ کے شہر کوہاٹ کی مقامی عدالت نے ملزم کو سزا سنائی، ملزم چار برس تک اپنی بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بناتا رہا، واقعہ کا مقدمہ دسمبر 2020 میں تھانہ کینٹ میں درج کروایا گیا تھا، متاثرہ لڑکی نے پولیس کو اپنے بیان میں بتایا تھا کہ اسکے والد چار برس سے اسکے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں اور مسلسل دھمکی بھی دیتے ہیں کہ اگر کسی کو بتایا تو مار دوں گا، دھمکیوں کی وجہ سے خاموش تھی ،والد فروخت کرنے کی دھمکی بھی دیتے اور کہتے کہ اگر کسی کو جنسی زیادتی بارے بتایا تو میں تمہیں فروخت کر دوں گا

    پولیس کے مطابق چار سال تک باپ کا ظلم سہنے والی بیٹی نے والدہ کو چار برس بعد بتایا تو پولیس میں مقدمہ درج کروایا گیا.پولیس نے فوری کاروائی کرتے ہوئے جنوری 2021 میں ملزم کو گرفتارکر لیا تھا، جس کے بعد عدالتی کاروائی کا اغاز ہوا،اب عدالت نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کو سزائے موت سنائی ہے،ملزم کا نام سلطان محمود ہے اور کوہاٹ کے علاقے جرونڈ کا مکین ہے، عدالت نے ملزم کو تین سال قید با مشقت اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی بھی سزا سنائی ہے

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

    خواجہ سراؤں کا چار رکنی گروہ گھناؤنا کام کرتے ہوئے گرفتار

    چار ملزمان کی 12 سالہ لڑکے کے ساتھ ایک ہفتے تک بدفعلی،ویڈیو بنا کر دی دھمکی

    والد،والدہ،بہن، بھانجے،ساس کو قتل کرنیوالا سفاک ملزم گرفتار

    تبادلہ کروانا چاہتے ہو تو بیوی کو ایک رات کیلئے بھیج دو،افسر کا ملازم کو حکم

    معذور بچی کے ساتھ زبردستی گھناؤنا کام کرنیوالا ملزم گرفتار

    20 سالہ لڑکی کو اغوا کر کے کیا گیا مسلسل دو روز گھناؤنا کام

  • دعا زہرہ کے شوہر کی ضمانت کی درخواست پر فیصلہ آ گیا

    دعا زہرہ کے شوہر کی ضمانت کی درخواست پر فیصلہ آ گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہر قائد کراچی سے بھاگ کر شادی کرنے والی دعا زہرہ کے شوہر کی عدالت نے ضمانت منظور کر لی

    کراچی کی مقامی عدالت نے دعا زہرہ کے شوہر ظہیر اور اسکے بھائی شبیر کی ضمانت کی درخواست پر فیصلہ سنایا ہے اور 17 اگست تک ضمانت میں توسیع کر دی ہے ،ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت کراچی نے دعا زہرا کیس میں ملزم ظہیر اور شبیر کی درخواست ضمانت کی سماعت کی ،دوران سماعت سرکاری وکیل نے عدالت میں کہا کہ دعا زہرہ کیس کے مقدمے کا چالان تاحال عدالت میں پیش نہیں ہو سکا. عدالت نے چھ اگست تک چالان جمع کروانے کا حکم دے دیا ،عدالت نے دونوں ملزمان کی ضمانت میں توسیع کر دی

    ظہیر کے خلاف دعا زہرا کے اغوا کا مقدمہ کراچی کے الفلاح تھانے میں درج ہے،عدالت کے حکم پر دعا زہرا دارالامان میں رہائش پزیر ہے

    دعا زہرا کو کراچی منتقل کردیا گیا۔

    والدین سے نہیں ملنا چاہتی،دعا زہرہ کا عدالت میں والد کے سامنے بیان

    دعا کیجیے گا ہماری دعا ظالموں کے چنگل سے آزاد ہو،دعا زہرہ کے والدین کی اپیل

    دعا زہرہ کیس،عمر کے تعین کیلئے ایک بار پھر میڈیکل بورڈ بنانے کا حکم

     دعا زہرہ کو عدالت نے دارالامان بھجوانے کا حکم 

    واضح رہے کہ دعا زہرہ نے گھر سے بھاگ کر شادی کر لی تھی، دعا زہرہ کے شوہر ظہیر احمد کا کہنا ہے کہ کہ دعا اور میرا رابطہ پب جی گیم کے ذریعے ہوا اور پچھلے تین سال سے ہمارا رابطہ تھا دعا زہرہ کراچی سے خود آئی ہے دعا نے میرے گھر کے باہر آکر مجھے میسج کیا وہ رینٹ کی گاڑی پر آئی تھی میرے گھر والے شادی پر آمادہ تھے میرے گھر والے بھی چاہتے تھے کہ دعاکے گھر والے رضامند ہوں لیکن دعا کے گھر والوں نے شادی کیلئے مثبت جواب نہیں دیا اسی وجہ سے یہ خود اپنا گھر چھوڑ کر آ گئی

     دعا زہرہ کی پرائیویٹ تصاویر لیک کر دی گئیں

  • جنسی جرائم اور ہمارے معاشرے کا نفسیاتی پہلو، تحریر:رابعہ خان

    جنسی جرائم اور ہمارے معاشرے کا نفسیاتی پہلو، تحریر:رابعہ خان

    پچھلی چند دہائیوں سے جنسی جرائم کے ارتکاب میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے کو ملا ہے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق جنسی جرائم جیسے خطرناک فعل میں ڈرامائی انداز میں اضافہ ہوا ہے ۔جن کے براہ راست اثرات خواتین اور بچوں پر ہیں ۔معاشرے کے ہر فرد بالخصوص خواتین اور بچوں میں غیر یقینی کی سی صورتحال ہے کہ کسی بھی وقت اُنھیں جنسی حملے کا شکار بنا یا جا سکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہر فرد کے ذہن میں ایک خوف طاری رہتا ہے ۔اور اُسے معمول کا جرم ماننے لگے ہیں حلانکہ یہ ایک خطرناک عمل ہے ۔جسکی زندہ مثال رواں ماہ صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع چارسدہ میں چار سالہ مریم کا قتل ہے ۔پولیس کو معصو م بچی کی گردن کٹی لاش ملی اور وقوعہ کے بعد ہر کوئی یہ سمجھ رہا تھا کہ کسی جنسی درندے نے یہ حرکت کی ہوگی مگر بعدمیں پولیس کے تفتیش کی بدولت معلوم ہوا کہ قتل کا محرک کچھ اور تھا اور چار سالہ معصوم مریم کا قاتل بچی کا باپ ہی نکلا ۔ کہنے کا مطلب یہ کہ ایسے واقعات کو عوام فوراً کسی جنسی حملہ یا جنسی تشدد کے فعل کے ساتھ جوڑ لیتے ہیں کیوں کہ عوام کے ذہن میں یہ ایک تصور رچ بس چکی ہے کہ ایسے واقعات کو جنسی تشدد ،جنسی حملہ کے ساتھ جوڑ لیتے ہیں ۔

    جنسی جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو "جانور ” وحشی درندہ "جیسے مقبول عرف سے پکارا جاتا ہے حالانکہ معاملہ کی نوعیت اِس کہیں بڑھ کر ہے لیکن اِس قسم کے واقعات کے تناسب میں بڑھتی ہوئی تعداد اور آئے روز میڈیا میں چلنے والی خبروں کی وجہ سے ہمارے جیسے قدامت پسند معاشرے میں یہ تا ثر دیا جاتا ہے کہ دیگر جرائم کی طرح یہ بھی ایک عام جرم ہے ۔ایک اندازے کے مطابق پاکستا ن میں سال 2018ء میں 4326سال 2019ء میں 4377سال 2020ء میں 3887اور سال 2021ء میں 1866زنا بالجبر کے مقدمات رجسٹرد ہوئے ۔یہ اعدادو شمار نیشنل پولیس بیورو کی جانب سے مرتب کئے گئے اور وزارت انسانی حقوق نے پارلیمنٹ آف پاکستان میں پیش کیے۔ یعنی گزشتہ چار سالوں میں کل ملا کر 14456ایسے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں یہ اُن تمام واقعات کا کل ملا کر نصف حصہ بھی نہیں کیونکہ پاکستان میں اِس قسم کے واقعات بہت کم رپورٹ ہوتے ہیں جن کی بنیادی وجوہات میں ایک خاتون کی مستقبل ، عزت ،غیرت وغیرہ وغیرہ جیسے سوچ ہیں ۔رپورٹ کے مطابق کام کی جگہوں پر ہراسگی کے رجسٹر  شدہ واقعات کی تعداد 16153ہے حلانکہ یہ تعداد اُ ن تمام واقعات کا ایک چوتھا ئی حصہ بھی نہیں جو گزشتہ چار سال کے دوران رونما ہو چکے ہیں ۔ بیشتر خواتین اِس قسم کے واقعات معاشرے  میں خاندان کی عزت کی پامالی، معاشی مسائل ، پولیس کا منفی رویہ کی وجہ سے بیان کرنے یا رجسٹر کرنے سے کتراتے ہیں ۔
    کام کی جگہ پر ہراسگی کے روک تھام کے لیے سال 2010ء میں قانون متعارف کرایا گیا اور سال 2020ء میں اسے مزید فعال بنانے کی خاطر ترامیم کی گئی ۔مگر تا حال اس سے کسی قسم کی کامیابی نہ مل سکی جس کی سب سے بڑی وجہ ایسے قوانین کو عام لوگوں سے دور رکھنا ہے۔ قانونی اصطلاحات اتنی پیچیدہ رکھی گئی ہے۔کہ عام خواتین کی سمجھ سے بالاتر ہیں ۔دوسری بڑی وجہ اوپر بیان کی گئی ہے کہ معاشرے میں بدنامی کاڈر ،پولیس کا خواتین کے ساتھ منفی برتاؤ وغیرہ جیسی وجوہات کی وجہ سے اپنے مسائل کو بیان کرنے سےکتراتی ہیں۔

    ایک جاننے والی خاتون جس نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بیان کیا کہ انہیں اپنے دفتر میں آئے روز ہراسانی کے واقعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو زبانی فقرہ بازی ،اشارہ بازی سے لےکر بسا اوقات جسمانی چھیڑ چھاڑ کرنے کی کوشش ہوتی تھی۔مذکورہ خاتون کا مؤقف تھا کہ اگر یہ واقعہ خاندان کے کسی فرد کو بتاؤں گی تو یا تو وہ کام کرنے سے منع کریں گے یا دفتر کے مرد اہلکاروں سے لڑائی  جھگڑے کی نوبت آسکتی تھی۔ بدیں وجہ اپنے آپ کو یہ مسئلہ بیان کرنے سے روکی مگر جب معاملہ حد سے تجاوز کر گیا تو پولیس میں شکایت درج کرائی جو بعد میں علاقہ عمائدین کی کوششوں سے صلح کے ذریعے مسئلہ وقتی طور پر ختم ہوا مگر اس کے بعد لوگوں کی طرف سے اپنی طرف اٹھنے والی تمام نظروں کو مشکوک سمجھتی ہوں۔

    یہ تصویر کا ایک رخ ہے ۔خیرپختونخوا ہی کا ایک اور واقعہ ہے۔ضلع دیر لوئر میں چند ماہ قبل ایک خاتون نے سول جج کے خلاف جنسی ہراسانی کی درخواست مقامی پولیس کو دیکر جس پر باقاعدہ سول جج کے خلاف مقدمہ درج ہوا مگر بعد میں مدعیہ اپنی ابتدائی بیان سے مکر کر بیان کیا کہ یہ تو مقامی پولیس نے مجھے ورغلا پھسلا کر جج صاحب کے خؒاف شکایت درج کرانے کا کہا۔یہاں غلطی جس کی بھی ہومگر جھوٹ پر مبنی ایسے الزامات کسی کی بھی پیشہ ورانہ زندگی ،معاشی و معاشرتی زندگی برباد کرسکتی ہے۔

    زنا بالجبر ،جنسی ہراسانی کے علاوہ ایک اور اخلاقی برائی جو ہمارے معاشرے میں بری طرح سرائیت کر چکی ہے وہ Paedophilia ہے۔یہ ایک ذہنی بیماری ہے جس میں مبتلا ہونے کے کئی وجوہات ہے،جن میں سرفہرست وجہ یہ ہے کہ اس میں مبتلا افراد بچپن میں کسی قسم کے استحصال (خواہ والدین کی توجہ ،اساتذہ کی طرف سے جسمانی تشدد،معاشی احساسی کمتری وغیرہ)کا شکار ہوا ہوتاہے۔دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ ایسے افراد کئی مہینوں سے جنسی Fantasy میں رہتے ہیں ۔مثال کے طور پر  ایسا شخص سراب خیالی میں کسی اداکارہ ،جاننے والی عورت کے ساتھ جنسی عمل کر رہا ہوتا ہے مگر بعد میں وہ پورا نہ ہونے کی صورت میں کسی کمزور فرد بالخصوص بچہ/بچی کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں۔

    اس ہیجان میں مبتلا شخص کے لیے کام کرنے کی جگہوں پر کام کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بسا اوقات ڈپریشن میں مبتلا رہتا ہے اور تمام مشکلات کا سامنا کرنے کی بناء پر وہ تصور کر لیتا ہے کہ تمام مسائل کا جڑ یہی ایک عمل ہے اور آسانی سے نشانہ بننے والے بچے /بچیوں کو اپنا نشانہ بناتا ہے۔عام طور پر قریبی رشتہ دار ، ہمسائے  ایسے شخص کی درندگی کا آسان ہدف بن سکتے ہیں۔اور بعض اوقات بچے ڈر کی وجہ سے خاموش رہ جاتے ہیں جو بعد میں معمول بن جاتا ہیں۔ایک محتاط اندازے کے مطابق ہر بچہ/ بچی اپنی زندگی میں کم از کم ایک بار جنسی ہراسانی ، تشدد کا شکار ہوا ہوتا ہے مگر بچوں کا اپنے والدین کے ساتھ کم کمیونیکیشن  اور خوف کی وجہ سے ایسے واقعات وہ بیان نہیں کر سکتے ۔خواتین اور بچوں کے علاوہ مرد بھی ایسے ہراسگی ،جنسی حملوں کا نشانہ بنتے ہیں جن کی عمر 18 سے 30 سال کے درمیان ہو مگر اُسکی تعداد کافی کم ہے۔ یہ عمل عمر، رنگت ،مذہب اور معاشرتی رُتبے کو مد نظر رکھ کر نہیں کیا جاتا اور نہ ہی اس کے موافق حالات  دیکھے جاتے ہیں۔چلتی شاہراہوں پر اس قسم کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔ حال ہی میں رونما ہونے اولے موٹروے کیس اس نوعیت کا پہلا وقوعہ تھا مگر اس کے بعد ابھی ابھی ایک خاتون کی چلتی ریل گاڑی میں اجتماعی زیادتی  کا نشانہ بنایا گیا ۔ایسے واقعات کی روک تھام انتہائی ضروری ہے۔

    جنسی درندگی کے مجرمان کو عام طور پر "اکیلے پن سے شکار ، دماغی امراض میں مبتلا ،پاگل ،دیوانہ”وغیرہ جیسے ناموں سے منسوب کیا جاتاہے۔حالانکہ یہ بات کسی  حد تک درست ہے مگر رجسٹرشدہ شکایات میں نامزد ملزمان کی ہسٹری اُٹھا کر دیکھی جائے تو تقریباً  تمام افراد ذہنی  طور پر درست ہوتے ہیں اور قبل ازیں  بھی کسی بڑے جرم میں مبتلا رہ چکے ہوتے ہیں  ۔ایسے واقعات میں آئے روز اضافے کی وجوہات  میں سب سے بڑی وجہ جسٹس سسٹم کی ناکامی ، قوانین پر من وعن عمل درآمد نہ کرنا ۔سزاؤں کی کمی ،جیلوں میں مجرمان کی نفسیاتی علاج کی عدم فراہمی جیسے اسباب ہیں۔تقریباً 2 سال قبل خیبر پختونخوا میں بچی کے ساتھ زیادتی کے بعد قتل کے ملزم کو ایک ماہ کے اندر عدالت سے ضمانت مل گئی۔جو ہمارے  تفتیش کے معیار اور جسٹس سسٹم پر سوالیہ نشان ہے۔ایسے واقعات کے روک تھام کے لیے عوام با لخصوص خواتین اور بچوں میں سرکاری  سطح پر منظم آگاہی مہم چلانی چاہیے۔ سکول ،کالجز ،یونیورسٹیز میں سیمینار منعقد کراکر  خواتین ،بچوں کو یہ باور کرایا جائے  اگر کسی کے ساتھ اس قسم کا واقعہ پیش آئے تو بلا جھجک پولیس ،خاندان کے کسی بڑے کو شکایات بیان کر کے کیوں کہ ایسے واقعات کو چھپانا مستقبل میں اُن کی ناکامی کی موجب بن سکتی ہے۔

    پولیس کو تفتیش بہتر بنانے ،عوام  با لحصوص خواتین کے ساتھ مناسب رویہ اپنانے کے لیے جدید خطوط پر استوار  ورکشاپس سرکاری سر پرستی میں منعقد کرائے جائیں ۔حال ہی میں پاس ہونے والے اینٹی ریپ(انوسٹی گیشن اینڈ ٹرائل ) ایکٹ 2021 کو پوری طرح نافذ العمل کرنے اور خواتین کے خفاظت کے لیے عملی اقدامات اٹھانا  ناگزیرہے ۔خواتین کو با اختیار بنانے کے لئےفرسودہ سوچ کا خاتمہ کرنا ہوگا ۔قوانین کو عام عوام تک پہنچانے ، عام فہم زبان میں شائع کرنے کے عملی اقدامات اُٹھانا  ضروری ہے ۔والدین اور بچوں کے درمیان دوستا نہ تعلقات ہو جو بلا جھجک والدین کو اپنے مسائل بیان کر سکے ۔بچوں پر نگرانی ، غیر افراد پر اعتماد کو کسی حد تک کم کرکے والدین اپنے بچوں کو محفوظ کر سکتے ہیں ۔ایسے مقدمات میں بہتر تفتیش کو یقینی بنانا ۔عدالتوں کی طرف سے سخت سے سخت سزائیں اور جیلوں میں مجرمان کی نفسیاتی تربیت کرکے ہی ایسے افعال ، جرائم کا خا تمہ ممکن ہے ۔

  • لاہور: اے ٹی ایم مشینوں میں ڈکیتیوں کا انکشاف

    لاہور میں اے ٹی ایم مشینوں میں ڈکیتیوں کا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقے نشترکالونی میں ڈاکو نے اے ٹیم میں گھس کر پیسے نکلوانے والے شہری کو گن پوائنٹ پر لوٹ لیا۔

    پولیس کے مطابق واردات 26 جولائی کو ہوئی ،سی سی ٹی وی میں دیکھا گیا کہ ایک شہری اے ٹی ایم سے رقم نکلوا رہا ہے،شہری رقم گن رہا تھا کہ پستول تھامے ماسک لگائے ڈاکو اندر داخل ہوتا ہے اورشہری سے رقم چھیننے کی کوشش کرتا ہے شہری مزاحمت کرتا ہے لیکن ڈاکو رقم چھین کر فرار ہو جاتا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج کر لیا ہے ڈاکو کی تلاش جاری ہے۔

    قبل ازیں ایک پریس کانفرنس میں ایس ایس پی انویسٹی گیشن عمران کشور نے بتایا تھا کہ صدر ڈویژن میں مجموعی طور پر 70 گینگز کے 171ملزمان گرفتارکر لیے،1493مقدمات ٹریس کئے گئے، گرفتار ملزمان سے 3 کروڑ44 لاکھ روپے سے زائد مالیت کا مال مسروقہ برآمد کر لیا گیا، مجموعی طور پر اے کیٹگری کے 182 خطرناک اشتہاریوں سمیت 1099 اشتہاری ملزمان کو گرفتار کیا گیا،صدر ڈویژن میں 26989 مقدمات کے ملزمان کو گرفتار کر کے8567 چالان عدالتوں میں جمع کروائے گئے-

    انویسٹی گیشن پولیس ستو کتلہ نے دردِ سر بننے والا بین الاضلاعی نقب زن گینگ کا سرغنہ گرفتار کر کے تقریباً ایک کروڑ روپے مالیت کا مال مسروقہ برآمد کیا تھا گرفتارملزم شفقت رسول کے خلاف مختلف اضلاع میں نقب زنی کے درجنوں مقدمات ٹریس ہوئے ملزم کی نشاندہی پرتقریباً ایک کروڑ روپے سے زائد مالیت کا مال مسروقہ برآمد کیا گیا تھا ملزم سے 2 کاریں، 11 تولے زیورات، 20موٹر سائیکلیں، آرٹیفشل جیولر برآمد کی گئی تھیں، 1461 ڈالر،261 پانڈ، ملائشیاء، سنگا پور ڈالر، سعودی ریال اوردرہم برآمد کئےگئےملزم کے قبضے سے کیمرے، گھڑیاں، لیپ ٹاپ، نقدی، دیگر قیمتی اشیاء اورناجائز آتشیں اسلحہ برآمد کیا گیا ہے، ملزم اپنے ساتھیوں کے ہمراہ نقب لگا کر خالی گھروں میں داخل ہوتا اور قیمتی اشیاء چرا کر رفو چکر ہو جاتا تھا-

  • نامعلوم افراد نے پولیس ملازم کی ناک، کان اور ٹانگ کاٹ دی،کھانا دیر سے ملنے پر بیٹے نے ماں کو قتل کر دیا

    نامعلوم افراد نے پولیس ملازم کی ناک، کان اور ٹانگ کاٹ دی،کھانا دیر سے ملنے پر بیٹے نے ماں کو قتل کر دیا

    جھنگ میں مسلح افراد نے پولیس ملازم کی ناک، کان اور ٹانگ کاٹ دی۔

    باغی ٹی وی : پولیس کے مطابق ملازم پر تشدد کا واقعہ جھنگ کے علاقے ساہ جھووال میں پیش آیا پولیس ملازم پر تشدد کے الزام میں مقدمہ درج کر کے 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    ایف آئی اے کی کاروائی، بچوں کی فحش ویڈیو وائرل کرنیوالے ملزمان گرفتار

    پولیس کا بتانا ہے کہ زخمی پولیس ملازم کے خلاف خاتون کی نازیبا ویڈیو بنانے اور اسے بلیک میل کرنے کا مقدمہ درج ہے۔

    دوسری جانب کھانا دیر سے دینے پر سنگدل بیٹے نے ماں کو کلہاڑیوں کے وار سے قتل کر دیاپولیس کے مطابق شکار پور کے نواحی علاقے رستم تھانے کی حدود میں گاؤں سعیدو شر میں سنگدل بیٹے نے کھانا دیر سے ملنے پر بوڑھی ماں کو قتل کردیا۔

    پولیس کے مطابق ملزم راشد شر نے اپنی بوڑھی ماں ساناری کو کلہاڑیوں کے وار کرکے قتل کیا اور فرار ہو گیا پولیس نے لاش کو ضروری کارروائی کے لیے مقامی اسپتال منتقل کر دیا ہے اور علاقے کی ناکہ بندی کرکے فرار ملزم کی تلاش شروع کر دی ہے۔

    بہو نے ساس کو قتل کر کے ڈکیتی کا رنگ دے دیا

    قبل ازیں سوشل میڈیا پر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی تصاویر اور ویڈیو اپلوڈ کرنے والے ملزم ایف آئی اے نے گرفتار کئے تھے ایف آئی اے سائبر کرائم نے کاروائی کی اور اس دوران ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا دونوں کاروائیاں الگ الگ کی گئیں، ایف آئی اے نے محمد شہزاد اورمحمد عاصم کوگرفتار کیا تھا، ملزمان بچوں کے ساتھ زیادتی کرتے ،اس کی ویڈیو اور تصاویر بناتے اور پھر سوشل میڈیا پر وائرل کر دیتے تھے-

    ایف آئی اے حکام کےمطابق کاروائی کےدوران گرفتار ہونے والےملزم شہزاد سے 194 جبکہ عاصم سے 300 سے زائد چائلڈ پورنو گرافک ویڈیو، تصاویر ملی ہیں،ملزمان کے کئی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی تھےملزمان ویڈیو اور تصاویر کی وجہ سے بلیک میلنگ کا کام بھی کرتے تھے، ملزمون کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا تھا-

    پانچ سالہ بچے سے زیادتی،پھر قتل کر کے لاش بیڈ کے نیچے چھپا دی گئی