Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • تحریک انصاف کو ووٹ کیوں دئیے، چکوال میں ن لیگی سابق کونسلر کا ایک خاندان پر بہیمانہ تشدد

    تحریک انصاف کو ووٹ کیوں دئیے، چکوال میں ن لیگی سابق کونسلر کا ایک خاندان پر بہیمانہ تشدد

    ضلع چکوال کے شہر ڈھڈیال کے علاقے موہڑہ خورد میں اینٹوں اور ڈنڈوں سے مسلح ہو کر سابق لیگی کونسلر نے بیٹوں اور بھتیجوں کے ہمراہ زبردستی گھر کے اندر گھس کر مکینوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنا ڈالا جس کے نتیجے میں خاتون اور اس کے شوہر کے بازو ٹوٹ گئے جبکہ بیٹے محمد اکرم کا سر پھٹ گیا جسم کے دیگرحصوں پر بھی گہرے زخم آئے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حملہ آوروں نے گھر کے اندر کھڑے ٹریکٹرکو آگ لگانے کی کوشش کی موہڑہ خورد میں محمداکرم بیوی بچوں کے ہمراہ گھر کے اندر کام کاج میں مصروف تھا کہ اسی اثناءمیں سابق مسلم لیگی کونسلر راجہ محمد جاوید نے بیٹوں احسن جاوید ،محسن جاوید ،بھتیجوں عدنان شفیق، مبشر شفیق اور سلیمان ادریس کے ہمراہ مل کر گھر کے اندر گھس آئے اور اینٹوں اور ڈنڈوں سے حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں ادھیڑ عمر محمد اکرم اس کی اہلیہ ،بیٹے وسیم اشرف اینٹیں لگنے سے شدید زخمی ہو گئے ،محمد اکرم اور اس کی اہلیہ کے بازو ٹوٹ گئے۔ جبکہ جسم کے دیگر حصوں پر بھی شدید چوٹیں آئیں جبکہ وسیم اشرف کا سر پھٹ گیا ۔حملہ آوروںنے گھر کے اندر موجود ٹریکٹر کو آگ لگانے کی کوشش کی مگر لوگوں کے اکٹھا ہونے پر موقعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ ریسکیو1122نے زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چکوال منتقل کیا تو حملہ آور وہاں بھی پہنچ گئے تاہم پولیس کی مداخلت سے ہسپتال میدان جنگ بننے سے محفوظ رہا۔ تھانہ ڈھڈیال میں واقعہ کی رپورٹ درج کرا دی گئی ہے۔دریں اثناءمضروب محمد اکرم اور اس کے بیٹے وسیم اشرف نے وزیراعظم، وزیراعلیٰ پنجاب اور دیگر حکام سے نوٹس لینے کامطالبہ کیا ہے۔وجہ عناد یہ بتائی جاتی ہے کہ حملہ آور راجہ محمد جاوید نے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن کو سپورٹ کی تھی جبکہ محمد اکرم اوراس کے خاندان نے پی ٹی آئی کو ووٹ دئیے تھے جس کی بناءپر چپقلش چل رہی تھی۔ وقوعہ کے وقت راجہ محمدجاوید اور دیگرملزمان نے یہ بہانہ بنا کر حملہ کیا کہ مضروب محمد اکرم اور ان کے بیٹوں نے ان کے ذاتی رستے کو استعمال کرنے کی کوشش کی ہے تاہم پولیس مصروف تفتیش ہے۔

  • چکوال، تھانہ سٹی کے شہید اے ایس آئی کے قاتل رہا ہونے پر اہلخانہ کا دھرنا

    چکوال، تھانہ سٹی کے شہید اے ایس آئی کے قاتل رہا ہونے پر اہلخانہ کا دھرنا

    تھانہ سٹی چکوال کے شہید اے ایس آئی اختر خان کے قتل کی ناقص تفتیش اور ملزمان کے بری ہونے پر شہید کی بیوہ ،بچوں اور دیگر عزیز و اقارب نے سول سوسائٹی کے ہمراہ احتجاجی مظاہرہ کیا جو ریسکیو 15سے شروع ہوا اور بھون چوک پر پہنچ کر احتجاجی جلسہ کی شکل اختیار کر گیا،

    مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر مختلف قسم کے نعرے درج تھے۔”مجرم سربازار ہیں اجلے لباس میں“،”سائیں اختر کے قاتلوں کی رہائی پولیس کے لیے سوالیہ نشان“،”کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں“، ”اختر ہم شرمندہ ہیں، تیرے قاتل زندہ ہیں“، ”میں کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کروں“، ”کس سے پوچھوں میں سوال، کس نے انصاف جلال“، ”اختر کے قاتلو کیا بتاﺅ گے انصاف کتنے میں خریدا“،”پیارے ابو ہم شرمند ہ ہیں آپ کے خون کا بدلہ نہیں لے سکتے“وغیرہ کے نعروں نے جلوس کے شرکاءکو آبدیدہ کردیا۔بھون چوک میں اختر شہید کی اہلیہ نے مظاہرین سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کے دوران اس بات پر گہرے افسوس کا اظہار کیا کہ دوسروں کو انصاف فراہم کروانے والے کے بیوی بچے آج اپنے لیے انصاف تلاش کر رہے ہیں۔اختر شہید کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ ڈی ایس پی لیگل چکوال نے مقدمے کو جان بوجھ کا کمزور بنوایا اور ہمیں انصاف دلوانے میں دلچسپی نہیں لی۔ہمارا مطالبہ ہے کہ ڈی ایس پی راجہ ناصر کو فوری طور پر یہاں سے فارغ کیاجائے اور اگر تفتیش نئے سرے سے ہو سکتی ہے تو وہ کروا کر ہمیں انصاف دلوایا جائے اورملزمان کو پھانسی کے تختے تک پہنچایا جائے۔اے ایس آئی اختر کی بیوہ نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چکوال کی طرف سے کئے گئے تعاون پر ان کا خصوصی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ہر موڑ پر ان کا ساتھ دیا،

    واضھ رہے کہ اے ایس آئی اخترشہید تھانہ سٹی تعیناتی کے دوران اسلام آباد تھانہ نون کے علاقے میں خطرناک اشتہاری ملزمان کو گرفتار کرنے گئے جس پر خطرناک اشتہاریوں نے مزاحمت کرتے ہوئے فائرنگ کر دی تھی جس پر اے ایس آئی اختر شہید ہو گئے تھے مگر پولیس کی ناقص تفتیش کی وجہ سے مظلوم خاندان کو انصاف نہ مل سکا۔اور ملزمان کو شک کا فائدہ ملا ۔استغاثہ ملزمان کا جرم ثابت کرنے میں ناکام رہا جس پر انہیں گزشتہ روز بری کر دیا گیاہے۔اے ایس آئی اختر شہید کے خاندان نے عہد کیا ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے ہونے تک وہ خاموش نہیں رہیںگے۔

  • تلہ گنگ کے علاقہ میں بااثر افراد کا بچے پر بہیمانہ تشدد، پولیس بھی ملزمان سے مل گئی

    تلہ گنگ کے علاقہ میں بااثر افراد کا بچے پر بہیمانہ تشدد، پولیس بھی ملزمان سے مل گئی

    تلہ گنگ کے نواحی علاقے ڈھوک مصاحب تھانہ ٹمن کی حدود میں با اثر افراد بارہ سالہ بچے پر بہیمانہ تشدد کیا، پولیس کو ملزمان کے خلاف درخواست دی گئی تو پولیس نے ملزمان کو گرفتار کرنے کی بجائے ان کے گھر آ کر دعوت کھائی اور چل دی، بچے کے والد نے حکام سے اپیل کی ہے کہ ہمیں انصاف دلوایا جائے ، اگر انصاف نہ ملا تو مجبورا انتقامی کاروائی کریں گے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ضلع چکوال کے تھانہ ٹمن کی حدود میں واقع ڈھوک مصاحب میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے. محمد طیب خورشید ولد محمد خورشید سکنہ ڈھوک مصاحب اپنے والدین کے ہمراہ خالہ کے گھر افطاری کرنے گیا ہوا تھا ،افطاری کے بعد اسکے والدین جلدی گھر آ گئے اور طیب خورشید رات دس بجے کے قریب گھر جانے کے لئے نکلا کہ ڈھوک مصاحب کے رہائشی ذیشان ولد اشتیاق کے گھر کی طرف چند شرارتی بچے پتھر پھینک رہے تھے ،پتھر پھینکنے والے بچے بھاگ گئے اور ذیشان اور اشتیاق باپ بیٹے نے طیب کو پکڑ لیا اور تھپڑ مارے ، طیب وہاں سے بھاگا تو باپ بیٹے نے موٹر سائیکل پر سوار ہو کر بچے کا پیچھا کیا اور اس کے پاوں پر موٹر سائیکل چڑھاتے رہے. ساتھ تھپڑ بھی مارتے رہے ،طیب کے گھر کے قریب ویرانے میں ملزمان نے طیب کو زمین پر گرایا اور بہیمانہ تشدد کیا، شور کی آواز سن کر طیب کا والد باہرخورشید باہر نکلا اور ان سے منت سماجت کی تو وہ موقع سے فرار ہو گئے. طیب کو اس کا والد میال چوکی میں لے کر گیا تا کہ ملزمان کے خلاف مقدمہ کا اندراج کیا جا سکے ،پولیس چوکی والوں نے انہیں ٹمن ہسپتال بھیج دیا جہاں بچے کا باقاعدہ میڈیکل نہیں کیا گیا، یہ بات بچے کے والد خورشید نے ایک ویڈیو پیٍغام میں بتائی ہے،خورشید کا مزید کہنا تھا کہ ہسپتال والوں نے بچے کا علاج بھی نہیں کیا، پولیس میں رپورٹ کروائی گئی لیکن پولیس نے ملزمان کے گھر آ کرچکن کڑاہی کھائی اور چل دئیے، پولیس نے ملزمان کو گرفتار نہیں کیا، بچے کے والد جو پاک فوج سے ریٹائرڈ ہیں انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں انصاف چاہئے، ڈی پی او چکوال، آئی جئ پنجاب ،وزیر اعلیٰ پنجاب واقعہ کو نوٹس لیں اور بااثر ملزمان کو گرفتار کر لیں ، خورشید نے اعلان کیا کہ اگر انہیں انصاف نہ ملا تو وہ انتقامی کاروائی کرنے پر مجبور ہوں گے جس کی تمام تر ذمہ داری پولیس اور حکمرانوں پر ہو گی. ویڈیو میں بچہ کہتا ہے کہ میرے والد نے جو کہا ہے وہ سچ ہے ہمیں انصاف فراہم کیا جائے.

  • مریدکے کے قریب بچہ جوہڑ میں ڈوب کر ہلاک

    مریدکے(نمائندہ باغی ٹی وی) پھول نگر نزد رکھ باؤلی مریدکے میں گاؤں کے جوہڑ میں نہاتے ہوئے بچہ ڈوب گیا – ریسکیو 1122 مریدکے کی امدادی ٹیم نے موقع پر پہنچ کر امدادی کاروائی کرتے ہوئےلاش کو جوہڑ سے نکال کر لواحقین کے حوالے کر دیا-
    اطلاع کے مطابق قیصر ولد محمد حنیف 16 سال بچوں کے ساتھ گاؤں کے جوہڑ میں نہا رہا تھا کہ اچانک ڈوب گیا- مقامی لوگوں کی اطلاع پر ریسکیو 1122 کی غوطہ خور ٹیم نے تقریبا” 1 گھنٹے بعد لاش کو جوہڑ سے نکال کر لواحقین کے حوالے کر دیا

  • عید سے قبل ڈاکووں کی عیدی وصولی شروع

    شیخوپورہ(نمائندہ باغی ٹی وی) نبی پورہ کے قریب دن دیہاڑے ڈکیتی کی واردات، 2 موٹر سائیکل سوار مسلح ڈاکو کھل چوکر کی دوکان سے 50 ہزار نقدی اور قیمتی موبائل فون چھین کر فرار

    شہری اس سلسلے میں پریشانی کا شکار ہیں کہ عید سے قبل ڈکیتی کی وارداتوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے جبکہ پولیس بالکل خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے

  • لاہور رکشہ اور ٹرین میں تصادم، خاتون جاں بحق، چار افراد زخمی

    لاہور رکشہ اور ٹرین میں تصادم، خاتون جاں بحق، چار افراد زخمی

    پناجب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں ریلوے کا پھاٹک کھلا رہنے کی وجہ سے رکشہ ٹرین کی زد میں آ گیا، ایک خاتون موقع پر جاں بحق جبکہ چار افراد زخمی ہو گئے. حادثٕے کا ذمہ دار ٹرین ڈرائیور کو قرار دیا گیا ہے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور کے علاقہ کوٹ لکھپت میں ریلوے کراسنگ سے گزرنے والا رکشہ پاک بزنس ٹرین کی زد میں آیا جس سے رکشے میں سوار خاتون جاں بحق ہو گئی. زخمی ہونے والے افراد کو ریسکیو ٹیموں نے قریبی ہسپتال منتقل کیا ہے. عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ریلوے پھاٹک کھلا ہونے کی وجہ سے حادثہ ہوا کیونکہ پھاٹک کھلا ہونے کی وجہ سے لوگ بلا خوف و خطر لائن کراس کروا رہے تھے، دوسری جانب ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ کی تحقیقات کرنے کے بعد ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا کہ پھاٹک کیوں کھلا تھا .

    واضح رہے کہ ریلوے کے وزیر شیخ رشید احمد ہیں ،اس سے قبل خواجہ سعد رفیق جب ریلوے کے وزیر تھے تو ان کے دور میں ٹرین حادثات پر استعفیٰ طلب کیا جاتا تھا

  • گوجرانوالہ میں گیارہ دن قبل اغوا کی گئی بچی کی نعش کہاں سے ملی؟ افسوسناک خبر

    گوجرانوالہ میں گیارہ دن قبل اغوا کی گئی بچی کی نعش کہاں سے ملی؟ افسوسناک خبر

    گوجرانوالہ کے علاقے سے گیارہ روز قبل اغوا ہونے والی تین سالہ بچی کی لاش نہر سے ملی ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گوجرانوالہ کے تھانہ گرجاکھ کے علاقے محلہ سید پارک سے مبینہ طور پر تین سالہ ضمیر فاطمہ کو گیارہ روز قبل اغوا کیا گیا تھا جس کا مقدمہ تھانے میں نا معلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے .ضمیر فاطمہ اپنے گھر سے دکان پر چیز لینے کے لئے نکلی اور واپس نہیں گئی. جس پر والدین نے تھانے میں مقدمہ درج کروایا تھا. گیارہ دن بعد بچی کی لاش آدھورائے نہر سے مل گئی ہے جس پر لواحقین میں کہرام مچ گیا ہے.ایس پی سٹی عبدالقیوم گوندل کا کہنا ہے کہ واقعہ کی تحقیقات کے بعد ہی معلوم ہو گا کہ بچی کو کس طرح قتل کیا گیا ہے۔

  • بے قابوکار نے3طالبات سمیت 5افراد کچل دیئے

    مظفرگڑھ میں تیزرفتار کار بے قابو ہوکر دو موٹر سائیکلوں پر چڑھ دوڑی،حادثے میں سکول جانے والی 3 طالبات سمیت 5 افراد زخمی ہوگئے.مظفرگڑھ کے علاقے سلطان کالونی کے قریب تیز رفتار کار بے قابو ہوکر 2 موٹر سائیکلوں سے جاٹکرائی،پولیس کیمطابق حادثے میں موٹر سائیکلوں پر سوار 3 طالبات سمیت 5 افراد زخمی ہوگئے،پولیس کیمطابق موٹر سائیکلوں پر سوار تینوں طالبات کی عمریں 11 سے 13 سال کے درمیان ہیں جو اپنے گھر سے سکول کی جانب جارہی تھیں.حادثے میں زخمی ہونے والی طالبات کو انتہائی تشویشناک حالت میں نشتر ہسپتال ملتان منتقل کردیا گیا ہے،پولیس کیمطابق واقعے کے بعد کار ڈرائیور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا جس کے خلاف قانونی کارروائی کی جارہی ہے.

  • بین الاضلاعی 3 رکنی گینگ گرفتار، لاکھوں کے مویشی اور اسلحہ برآمد

    بین الاضلاعی 3 رکنی گینگ گرفتار، لاکھوں کے مویشی اور اسلحہ برآمد

    گجرات (نمائندہ باغی ٹی وی) ضلع گجرات سمیت مختلف اضلاع میں مویشی چوری کی واداتوں میں ملوث 3 رکنی گینگ گرفتار، لاکھوں روپے مالیت کی قیمتی گائیں،بھینسیں اور وارداتوں میں استعمال ہونے والااسلحہ برآمد تفصیلات کے مطابق گزشتہ کچھ عرصہ سے گجرات کے مختلف علاقوں میں مویشی چوری کی وارداتوں نے اہل علاقہ میں خوف و ہراس پھیلا رکھا تھا،وارداتوں میں ضلع فیصل آباد اور منڈی بہاؤالدین کے ملزمان پر مشتمل تین رکنی گینگ ملوث تھا۔جو رات کی تاریکی میں اسلحہ کے زور پر مال مویشی چھنتے اور وہاں سے فرار ہو جاتے۔مویشی چوری میں ملوث اس منظم گینگ کو ٹریس کرنے اور ان کی گرفتاری کیلئے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر گجرات سید علی محسن نے ڈی ایس پی کھاریاں اسد اسحاق کی زیر نگرانی خصوصی ٹیم تشکیل دی،جس میں ایس ایچ او تھانہ صدر کھاریاں ایس آئی سرفرازانجم اور انکی ٹیم شامل ہیں،پولیس ٹیم نے بہترین حکمت عملی سے انتہائی کم عرصہ میں اس خطرناک گینگ کو ٹریس کرکے مختلف جگہوں پر چھاپے مارکر گرفتار کرلیا۔مال مویشی چوری کرنے والے گینگ میں مسمیان 1۔سفیر احمد ولدخان محمدسکنہ مکھنانوالی ضلع منڈی بہاولدین 2۔ غفور حسین ولد ذاکر حسین سکنہ چک نمبر 449ضلع فیصل آباد، 3۔حسن ظہیر ولد محمد علی سکنہ جھلی ضلع فیصل آباد شامل ہیں۔ملزمان نے دوران تفتیش مال مسروقہ15عدد بھینسیں،5عدد کٹیاں،2عدد گائے اور 3عدد وچھے مالیتی 60لاکھ روپے برآمدکروائے۔ملزمان سے واداتوں میں استعمال ہونے والا اسلحہ 3عدد پسٹل 30بور اور روند برآمد ہوئے۔شہریوں نے ملزمان کو گرفتار کرکے مویشی برآمد کرنے پر ڈی پی او سید علی محسن اور گجرات پولیس کا شکریہ ادا کیا۔۔ملزمان نے ضلع جہلم،منڈی بہاولدین،حافظ آباد،سیالکوٹ، سرگودھااور ضلع نارووال میں وارداتوں کا انکشاف کیا ہے جن سے مزید تفتیش جاری ہے۔
    ڈی پی او سید علی محسن نے اس منظم گینگ کو ٹریس کرکے گرفتار کرنے والی پولیس ٹیم میں تعریفی سرٹفکیٹ تقسیم کئے۔

  • اسلام آباد پولیس نے مارگلہ ہلز میں گم ہوجانے والے شخص کو تلاش کرلیا

    اسلام آباد پولیس نے مارگلہ ہلز میں گم ہوجانے والے شخص کو تلاش کرلیا

    اسلام آباد: پولیس نے دامن کوہ تلہاڑ جنگل ایریا میں گم ہو جانے والے نوجوان کو زخمی حالت میں تلاش کر لیا۔جسکو ہسپتال میں داخل کروا دیا گیا. راولپنڈی کے رہائشی عدیل نامی 22سالہ نوجوان اپنے دوستوں کے ہمراہ دامن کوہ مارگلہ ہلز میں داخل ہوئے۔جنگل میں نوجوان اپنے دوستوں سے ناراض ہو کر نکلا توراستہ بھول گیا۔دوستوں نے ریسکیو 15 پر نوجوان کےراستہ بھولنے کی اطلاع کی. ڈی آئی جی آپریشنز وقار الدین کی ہدایت ایس ایچ او عبدالرزاق تھانہ کوہسار پولیس کے افسران جوانوں سمیت ,CTF پولیس, ریسکیو 15پولیس نے جنگل میں سرچ آپریشن کیا۔
    کئی گھنٹے کی محنت سے پولیس نے گمشدہ نوجوان کو زخمی حالت میں تلاش کر لیا. جسکو فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا, زخمی نوجوان کے والدین کو بھی اطلاع کر دی گئی. جنھوں نے پولیس کی کاوشوں کی بےحد تعریف کی اور شکریہ ادا کیا اس موقع پر ڈی آئی جی آپریشنز وقار الدین سید نے پو لیس ٹیم میں شامل افسران و جوانوں کو انعام دینے کا اعلان کیا.