نوشہرہ پولیس ناکے پر نامعلوم شرپسندوں کی فائرنگ، اے ایس آئی سمیت دو پولیس اہلکار شہید، ایک شدید زخمی، تھانہ جلوزئی کے اے ایس آئی فیاض نے ارنڈو خوڑ پر ناکہ بندی کر رکھی تھی کہ شرپسندوں کا نشانہ بن، گئے
تھانہ جلوزئی پولیس کے اے ایس آئی فیاض نے پولیس اہلکاروں سجاد اور استغفراللہ کے ھمراہ ارنڈو خوڑ پر ناکہ بندی کر رکھی تھی کہ اس دوران وھاں پر نامعلوم شرپسندوں نے پولیس پارٹی کو دیکھتے ہی فائرنگ شروع کی جس سے اے ایس آئی فیاض موقع پر شہید ہوگئے جبکہ دو کانسٹیبل سجاد اور استغفراللہ شدید زخمی ہوگئے، زخمیوں کو ھسپتال لے جایا گیا جہاں ایک زخمی سجاد بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے۔
واقعہ کے بعد اعلی پولیس حکام اور بھاری پولیس نفری موقع پر پہنچ گئی اور پورے علاقے کو گھیرے میں لےلیا۔ جائے وقوعہ پشاور کے علاقہ ارمڑ سے متصل علاقہ ہے اور رات گئے تک پشاور اور نوشہرہ پولیس کا مشترکہ آپریشن جاری رہا۔ جلوزئی پولیس نے ایف آئی آر درج کرکے تحقیقات شروع کردی۔
قبل ازیں ڈی پی او چارسدہ سہیل خالد نے عوامی شکایات پر بروقت ایکشن لیتے ہوئے تحصیل تنگی سرکل میں تعینات 9 پولیس اہلکاروں کو معطل کردیا ہے۔معطل ہونے والے اہلکاروں میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر عمرحیات خان انچارج چوکی گنڈھیری ۔اسسٹنٹ سب انسپکٹر راحیل خان۔آئی او تنگی ۔ایل ایچ سی حاضرمحمدمددمحررپولیس سٹیشن تنگی۔ہیڈ کانسٹیبل ربنواز ۔ایل ایچ سی تحمید خان محرر چوکی گنڈھیری۔کانسٹیبل عمران تھانہ تنگی۔کانسٹیبل اسد تھانہ مندنی۔کانسٹیبل شاہ زمان محرر انوسٹی گیشن تنگی اور کانسٹیبل یاسر گنر ایس ایچ او تنگی شامل ہے۔
ڈی پی او چارسدہ سہیل خالد کا کہنا ہے کہ پولیس میں سزا اور جزا کا عمل جاری رہیگا۔پولس میں کرپشن اور غفلت برتنے کی کوئی گنجائش نہیں۔جہاں پر کوئی آفیسر یا پولیس اہلکار غفلت کا مظھرہ کریگا ان کیخلاف بروقت کارروائی کیجائیگی۔
امریکی حملے میں داعش سربراہ ہلاک،امریکی صدر
شمالی شام میں امریکی حملے میں داعش کا سربراہ ہلاک ہو گیا ہے
امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ کمانڈوآپریشن میں ابوابراہیم الہاشمی ہلاک ہو گیا، آپریشن میں شامل تمام امریکی فوجی بحفاظت واپس لوٹ آئے،امریکی حکام کا کہنا ہے کہ داعش کے سربراہ نے آپریشن کے دوران خود کودھماکے سےاڑا دیا، دھماکے میں ابوابراہیم کا خاندان بھی ہلاک ہو گیا،
President Biden, Vice President Harris and members of the President’s national security team observe the counterterrorism operation responsible for removing from the battlefield Abu Ibrahim al-Hashimi al-Qurayshi — the leader of ISIS. pic.twitter.com/uhK75WeUme
امریکی صدر جو بائیڈن نے آج جمعرات کو اعلان کیا کہ شمال مغربی شام میں خصوصی دستوں کی طرف سے کی گئی کارروائی میں "داعش” تنظیم کے سربراہ ابو ابراہیم الہاشمی القرشی کو نشانہ بنایا گیا۔ ہے ،انہوں نے وائٹ ہاؤس کی ویب سائٹ پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں کہا، "میری ہدایات کے تحت، شمال مغربی شام میں امریکی فوجی دستوں نے امریکی عوام اور ہمارے اتحادیوں کی حفاظت اور دنیا کو ایک محفوظ مقام بنانے کے لیے دہشت گردی کے خلاف کامیابی سے آپریشن کیا ہے۔” انہوں نے اعلان کیا کہ "ہماری مسلح افواج کی مہارت اور حوصلے کی بدولت، داعش کے رہنما ابو ابراہیم الہاشمی القریشی کو میدان جنگ سے ہٹا دیا گیا،
داعش کے سربراہ کی موت کی تصدیق کے لیے "ڈی این اے” کا تجزیہ کرنے کے لیے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔ذرائع نے یہ بھی اشارہ کیا کہ آپریشن میں ہلاک ہونے والوں میں 3 خواتین بھی شامل ہیں جو کہ داعش کے سربراہ کی بیویاں ہوسکتی ہیں۔
آج، جمعرات کو، پینٹاگون نے اعلان کیا کہ امریکی خصوصی آپریشنز فورسز نے شام کے شمال مغرب میں اہم غیر ملکی رہنما کو نشانہ بنانے کے لیے انسدادِ دہشت گردی کے مشن کو انجام دیا۔ ادلب میں امریکی لینڈنگ آپریشن کے ساتھ جھڑپیں 3 گھنٹے تک جاری رہیں۔
شامی شہری دفاع نے اعلان کیا کہ شمالی شام میں امریکی حملے کے نتیجے میں کم از کم 13 افراد ہلاک ہو گئے۔
ابو ابراہیم الہاشمی القریشی، جن کا اصلی نام المولا یا حاجی عبداللہ بتایا جاتا ہے، 2019 میں داعش کے پہلے سربراہ ابو بکر البغدادی کی امریکی فضائی حملے میں ہلاکت کے بعد شدت پسند تنظیم کے سربراہ مقرر کیے گئے تھے امریکا کے محکمہ انصاف کی جانب سے ابو ابراہیم الہاشمی القریشی کی سر کی قیمت ایک کروڑ ڈالر رکھی گئی تھی
بیرون ملک بیٹھ کر لاہور میں واراداتیں کروانیوالا افضال کنو لاہور پولیس کے لئے چیلنج
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں امن و امان کی صورتحال انتہائی مخدوش ہو چکی ہے،آئے روز چوری ،ڈکیتی، قتل کی وارداتیں عام ہو چکی ہیں،پولیس سب اچھا ہونے کا دعوئ کرتی ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے،لاہور میں 2012 میں ہونیوالے ایک معمولی تصادم نے درجنوں جانیں لے لیں تا ہم ابھی تک معاملہ ختم نہ ہوا، مقدموں کے مدعی، گواہوں کو سنگین دھمکیوں کے بعد قتل کر دیا گیا،بچ جانے والے بھی خوف و ہراس میں زندگی گزار رہے ہیں اور ملزمان ٹھاٹھ باٹھ میں ،دھمکیاں دیتے نظر آتے ہیں، دس برسوں میں مدعی کو انصاف ملنے کی بجائے نہ صرف والد کی زندگی سے ہاتھ دھونا پڑا ،ملازمت بھی کھونی پڑی بلکہ گولیاں لگنے کی وجہ سے مستقل معذوری بھی جھیلنی پڑی، طویل ترین عرصے میں یعنی ایک دہائی گزرنے کے باوجود ابھی تک ملزمان کی جانب سے نہ صرف دھمکیاں دی جاتی ہیں ہراساں کیا جاتا ہے بلکہ دھمکیاں دلوائی بھی جاتی ہیں دوسری جانب حالت یہ ہے کہ گینگ کے سرغنہ،شوٹراور درجنوں مقدمات میں پولیس کو مطلوب،دھمکیاں دینے والے سوشل میڈیا پر خود کو بے گناہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں.
باغی ٹی وی لاہور میں جرائم پیشہ عناصر کے کرتوتوں کو سامنے لا رہا ہے،باغی ٹی وی کی تحقیقات کے مطابق افضال کنو نامی گینگ کا سرغنہ جس کے بیرون ممالک بھی دہشت گرد تنظیموں سے رابطے ہیں نے لاہور میں انت مچا رکھی ہے، افضال کنو لاہور پولیس کو کئی مقدمات میں مطلوب ہے اور اس نے خود کو ایک ویڈیو میں بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، افضال کنو کی فیملی کے افراد بھی جرائم پیشہ ہیں اور اس کے گینگ میں ہی شامل ہیں، افضال کنو گرفتاری کے ڈر سے روپوش ہے اور خفیہ مقام سے اپنے گینگ کے اراکین کو ہدایات دیتا ہے، افضال کنو گینگ لاہور کے اندر قتل، ڈکیتی، بھتہ خوری کیسزمیں ملوث ہے، افضال کنو گینگ کے افراد مسلح ہو کر نہ صرف دن دہاڑے دھمکیاں دیتے ہیں بلکہ معمولی بات پر قتل کرنے میں بھی دیر نہیں کرتے،
باغی ٹی وی کو دستیاب دستاویزات اور معلومات کے مطابق افضال کنو کے والد پرویز عرف پیجی اور بڑے بھائی لال حسین کا ذریعہ معاش بھی چوروں کی سرپرستی اور ریلوے سے ریلوے ملازمین کو گن پوائنٹ پر ہراساں کر کے ریلوے کا مال لوٹنا تھا ۔ اسی لوٹ مار کے دوران پولیس کے ہاتھوں اس کا باپ پرویز عرف پیجا قتل اور اس بھائی لال حسین زخمی ہوا تھا ۔ جس کی خبر روزنامہ خبریں 18 اپریل 2005ء میں شائع ہوئی تھی،۔ اس کے بعد ان چوروں کی سرپرستی اس کے دوسرے بھائی بلال نے لے لی تھی ۔ اور یہ اپنے علاقے کے لوگوں کو تنگ کرتا رہتا تھا جس کی بیشمار ایف آئی آر لاہور کے مختلف تھانوں میں درج ہیں ۔ اس کے دوستوں میں ایک بلال قلچہ تھا جو قتل ہو چکا ہے اس کا بھائی سی آئی اے پولس کے ہاتھوں قتل ہوا تھا جس نے لاہور شہر کے 3 تاجروں کو اغوا کے بعد پیسے لے کر بھی قتل کر دیا تھا ۔ ان ملزمان کی حرکتوں کی وجہ سے پورا علاقہ بہت تنگ تھا ۔ اس دوران افضال کنو کا بھائی بلال اپنی حرکتوں کی وجہ سے ایک کاروباری فیملی کے لڑکے کے ہاتھوں قتل ہوا ۔جس کے بعد افضال کنو نے اپنے دوستوں سے مل کر گینگ بنایا اور کرایہ کے قاتلوں کا کاروبار شروع کیا اور لاہورو دیگر شہروں میں بہت سے لوگوں کو پیسے لے کر قتل کیا۔
13 جنوری 2022 کو ڈی آئی جی آپریشنر لاہور نے ایک پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے بتایا کہ شادباغ پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے 7 خطرناک شوٹر ملزمان کو گرفتارکرلیا، ملزمان افضال عرف کنو جو کہ بیرون ملک ہے کے شوٹر ہیں، "جرائم کے انسداد کے لیے موثر اقدامات اپناتے ہوئے کاروائیاں جاری رکھیں گے” ملزمان کو میڈیا کے سامنے بھی پیش کیا گیا،
شادباغ پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے 7 خطرناک شوٹر ملزمان کو گرفتارکرلیا، ملزمان افضال عرف کنو جو کہ بیرون ملک ہے کے شوٹر ہیں، "جرائم کے انسداد کے لیے موثر اقدامات اپناتے ہوئے کاروائیاں جاری رکھیں گے" ڈی آئی جی آپریشنز@OfficialDPRPP@Lahorepoliceopspic.twitter.com/wrqicPEape
گرفتار ملزمان میں شہباز عزیز بٹ، ساجد علی اور ندیم، ساحر بٹ، نعیم بٹ، شہزاد، اشرف عرف ماموں، عبداللہ عرف گنجا شامل ہیں۔ انہی ملزمان کے انکشاف پر جاوید عرف بابا، فہد عرف گاما، فاروق کرمانوالہ ہوٹل والا، چوہدری اسلم، قدیر گھوڑا، فیضان عرف چیں، زبیر عرف بیری، وقار عرف حاجی گنجا، علی عرف پون، علی عرف سائیکو، ملک احمد، ملک عاصم وغیرہ کی گرفتاری کے لیے پیش رفت جاری ہے۔ اس سے پہلے پولیس مقابلے میں فاروق ڈار، ندیم عرف مٹھا گاڈی، وقاص گجر مارے جا چکے ہیں۔ جبکہ گرفتار ملزمان کے قبضہ سے ناجائز اسلحہ پسٹل اور موٹر سائیکل برآمد ہوئی، دوران تفتیش ملزمان کا درجنوں واداتوں کا انکشاف کیا اور ملزمان نے بتایا کہ وہ اُجرتی قاتل ہیں اور خطرناک اشتہاری ملزم افضال عرف کنوں کے لیے کام کرتے جو کہ بیرون ملک ہے۔
ملزمان شہباز عزیز بٹ اور ساجد علی اور دیگر شامل ہیں نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے اپنے سرغنہ افضال کنو کے کہنے پر بہت سے قتل وغارت کیے۔ 2012ء میں لڑائی کے دوران اپنے ہی دوست بلال قلچے کو قتل اور راہگیر مبین بٹ کو زخمی کیا جو کہ مشہور تاجر زاہد امین کا بیٹا ہے اور اسی کیس میں گواہی دینے اور صلح نہ کرنے کی وجہ سے 2012ء ہی میں ضعیف العمر ہال روڈ کے تاجر زاہد امین جو کہ دبئی میں ٹرانسپورٹ کا کاروبار بھی کرتے تھے کو بہت بے رحمی سے مال روڈ بندو خان کے سامنے ساجد علی، اور رمضان عرف صاحب، فاروق ڈار اور قدیر عرف قدیرا نے افضال کنو کے ساتھ مل کر قتل کیا۔ اسی طرح 2013ء میں ہال روڈ کے مشہور ضعیف العمر تاجر یوسف خان کو بھی قتل کیا۔ اور آپسی رنجش کے باعث رانا شان جو کہ ان کا قریبی دوست تھا اور اس کے ضعیف العمر والد رانا ادریس کو مسجد میں شہید کیا گیا جس کے نشانات ابھی بھی مسجد میں موجود ہیں۔ اسی طرح رانا کاشف جو کہ رانا شان کے قتل کا واحد چشم دید گواہ تھا اس کو فاروق ڈار نے کرمانوالہ ہوٹل میں بلا کر افضال کنو کے کہنے پر بے رحمی کے ساتھ قتل کروایا جس کی ایف آئی آر فاروق ڈار کے خلاف باغبانپورہ تھانہ میں درج ہوئی۔ اور اس کے بھائی اور ضعیف العمر والد پر بھی حملہ کیا گیا کیونکہ وہ اس کیس کے چشم دید گواہ تھے۔ 2018ء میں شان عرف مٹھو مشہور گولے والا جو کہ زاہد امین قتل اور بلال عرف قلچے کے قتل کیس کا بھی واحد چشم دید گواہ تھا اس کو بھی قتل کروا دیا۔ اسی طرح اگست 2020ء میں سبزہ زار کے علاقے میں ساجد نے گلی میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے اور ریکی کر کے فائرنگ سے حافظ فیصل منیر جو کہ یوسف خان قتل کیس کا چشم دید گواہ بھی تھا کو قتل کر دیا ۔
گرفتار ملزم شہباز بٹ کا دوبئی میں مقیم بنگش پٹھان سے بھی تعلق ہے جو قحبہ خانہ چلاتا ہے اور قحبہ خانہ پر کام کرنے والی پاکستانی لڑکیوں کو حراساں کرتے ہیں ۔ ملزمان بھتہ خوری کی خاطر معصوم لوگوں پر فائرنگ کرتے اور جان سے مار دینے کی دھمکیاں دیتے۔ ملزمان شہباز بٹ نے لاہور کے مشہور تاجر جونا بٹ جو بلال یسین کا کزن ہے کے قتل کا پلان کر رکھا تھا۔ دوارن تفتیش ملزمان نے مزید انکشاف کیا کہ ملزمان نے ہی فائرنگ کے لیے عابد باکسر کے گھر کی ریکی کی اور ساجد نے کیمرے انسٹال کیے۔
افضال عرف کنو جس کا تعلق فیض باغ مصری شاہ سے ہے جس نے اپنے آپ کو سوشل میڈیا پر مظلوم اور بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش کی اس کی بے گناہی کے تمام دلائل اور مقدمات کا ریکارڈ پولیس کے پاس موجود ہے، افضال کنو کی ایک ویڈیو بھی وائرل ہوئی ہے جس میں وہ گندی گالیاں دیتے ہوئے کسی کو دھمکیاں دے رہا ہے، سوشل میڈیا پر کہا گیا ہے کہ دھمکیاں عابد باکسر کو دی گئی ہیں تا ہم ابھی تک یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ دھمکیاں اور گالیاں عابد باکسر کو دی گئیں یا کسی اور کو، اس ویڈیو میں افضال کنو نے اسلحہ بھی ہاتھ بھی پکڑا ہوا ہے.
باغی ٹی وی کو ملنے والی رپورٹس کے مطابق افضال کنو کے غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ بھی تعلقات ہیں،افضال کنو اور اسکی فیملی آجکل روپوش ہے افضال کنوں اور اس کا بھائی چھوٹا بھائی فیضان عرف چیں اور زبیر عرف بیری پنجاب پولس کو بہت سارے سنگین جرائم میں مطلوب ہے ۔
باغی ٹی وی کو موصول رپورٹ کے مطابق افضال کنو نے مبینہ طور پر انکے خلاف کیسز میں گواہی دینے والوں کو قتل کروا دیا ہے یا پھر انہیں دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جو مدعی ہیں انکے گھروں میں بم دھماکوں کی دھمکیاں دی جاتی ہیں،اور کہا جاتا ہے کہ کنو کے دہشت گرد تنظیموں سے تعلقات ہیں اسلئے وہ کچھ بھی کروا سکتا ہے، عزت سے جینا ہے تو کیسز سے پیچھے ہٹ جاؤ،
افضال کنو پر درج ایک مقدمے کا عکسافضال کنو کی ایک فائل فوٹو
کراچی :ارسلان محسود کو کس کی ایما پر قتل کیا گیا ؟اہم انکشافات نے اہم شخصیات کو بے نقاب کردیا،اطلاعات کے مطابق ارسلان محسود قتل کیس میں پولیس نے عبوری چالان عدالت میں پیش کردیا ، جس میں بتایا گیا کہ ملزمان نے سابقہ ایس ایچ اواعظم گوپانگ کی ایماپر ارسلان کو قتل کیا۔
تفصیلات کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت میں ارسلان محسود قتل کیس پر سماعت ہوئی، سماعت میں پولیس نے مقدمے کا عبوری چالان عدالت میں پیش کیا۔
چالان میں بتایا گیا کہ ملزم انٹیلی جنس اہلکار توحید اور دوست عمیر نے سابقہ ایس ایچ او اعظم گوپانگ کی ایما پر موٹر سائیکل چھیننے کے دوران مزاحمت پر ارسلان کو قتل کیا۔
چالان میں کہا کہ زخمی نوجوان یاسر اور عینی شاہدین نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو ملزمان کو شناخت کیا، فارنسک رپورٹ میں جائے وقوعہ سے ملنے والے خول ملزم توحید کے اسلحے سے میچ کرتے ہیں۔
عبوری چالان کے مطابق سابق ایس ایچ او اعظم گوپانگ نے ذاتی ملکیت کا پستول اور تین خول جائے وقوعہ پر رکھ کر مقابلہ ظاہر کیا اور ذاتی پستول رکھ کر واقعے کا رخ تبدیل کرنے کی کوشش کی۔
پولیس نے چالان کہا کہ ملزم اعظم گوپانگ کے خلاف سندھ آرمز ایکٹ کے تحت ایک اور مقدمہ درج کیا گیا ہے، ملزم توحید اور سابق ایس ایچ او اعظم گوپانگ کے اسلحے لائسنس کی تصدیق کے لئے بلوچستان اور کے پی خطوط تحریر کئے ہیں، اسلحہ لائسنس کی تصدیق اور پوسٹ مارٹم کی حتمی رپورٹ تاحال موصول نہیں ہوسکی ہے۔
خیال رہے 7 دسمبر کو تھانہ اورنگی کی حدود میں پولیس اہلکار کی فائرنگ سے سولہ سالہ ارسلان محسود جاں بحق جبکہ دوست یاسر زخمی ہوا تھا،ارسلان اور یاسر ٹیوشن سے واپس گھر جارہے تھے۔
مری: سیاحوں کی گاڑیوں سے بیٹریاں اورٹائر چوری کرنے والا چار رکنی گروہ پولیس نے گرفتار کرلیا۔
باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق مری پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے سیاحوں کی گاڑیوں سے بیٹریاں اور ٹائر چوری کرنے والا چار رکنی گروہ گرفتار کرلیا، گرفتارملزمان میں جہانزیب، عامر جاوید، ساجد حسین اورراشد علی شامل ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق گرفتار ملزمان کے قبضے سے 50 ہزار روپے کی نقدی،4 بڑی بیٹریاں، اور 3 گاڑیوں کے ٹائر برآمد ہوئے ہیں، جب کہ ملزمان کے زیراستعمال گاڑی بھی پولیس نے قبضے میں لے لی ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے دوران تفتیش چوری کی متعدد وارداتوں کا انکشاف کیا ہے، ملزمان مختلف مقامات پر پارک گاڑیوں سے ٹائر اور بیٹریاں چراتے تھے۔
ایس پی صدر طارق محبوب کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کرکے قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی، شہریوں کی جان ومال پر حملہ کرنے والے قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتے۔
قبل ازیں سرگودھا میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ڈاکٹر رضوان احمد خان کی خصوصی ہدایت پر ڈی ایس پی صدر سرکل ملک محمد عثمان کی زیرنگرانی سنگین مقدمات میں مطلوب اشتہاری مجرمان کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے ایس ایچ او تھانہ جھال چکیاں انسپکٹر صاحب خان نے اسسٹنٹ سب انسپکٹر شاہد اقبال ودیگر ملازمان پر مشتمل ٹیم کے ہمراہ ریڈ کرکے قتل، ڈکیتی اور پولیس مقابلہ کے مقدمہ میں مطلوب اشتہاری مجرم احتشام الحق عرف فیصل کو گرفتارکیا تھا-
گرفتاراشتہاری مجرم نے ستمبر2017 کو اپنے دیگر تین ساتھیوں کے ساتھ ملکر ڈکیتی کی واردات اور پولیس پارٹی پر فائرنگ کرکے اپنے ہی ساتھی فیاض کو قتل کردیا تھا اور فرار ہوگئے تھےایس ایچ او تھانہ جھال چکیاں اور انکی ٹیم نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اشتہاری مجرم کو گرفتارکیا تھا –
شاد باغ اکیڈمی سے گھر جانے والی لڑکیوں کو تنگ کرنے والے برقعہ پہنے اوباش لڑکے گرفتار کر لئے گئے
شاد باغ پولیس نے کاروائی کی اوردو ملزمان گرفتار کر لئے، دونوں لڑکے ایک برقعہ پہنے جوڑی کی شکل میں لڑکیوں کو تنگ کرتے اور فرار ہو جاتے شاد باغ پولیس نے کاروائی کرتے دونوں کو گرفتار کیا دریافت پر برقعہ پوش بھی لڑکا ہی نکلا،گرفتار ملزمان میں حبیب ڈار اور برقعہ پہنے شاہ میر شامل ہیں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، مزید تفتیش جاری ہے
طالبات کو ہراساں اور تنگ والوں کو گرفتار کرنے پر شاد باغ پولیس کی ٹیم کو شاباش دی گئی ہے ایس پی سٹی حفیظ الرحمان بگٹی کا کہنا ہے کہ خواتین کو ہراساں اور تنگ کرنے والوں کے خلاف فوری قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی عورتوں اور بچوں کا جنسی استحصال کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں نمٹا جا رہا ہے,
قبل ازیں گلشن راوی پولیس نے ڈکیتی چوری کے مقدمات میں ملوث 03 عادی مجرمان کو گرفتار کیا ہے، عادی مجرمان احسان۔رضا۔ہارون کے خلاف ڈکیتی و چوری کے 57 مقدمات درج تھے مسلم ٹاؤن پولیس نے عادی مجرم شیر خان کو گرفتار کیا۔
قبل ازیں نوشہرہ میں تھانہ اضاخیل پولیس نے بیوی اور بیٹے کے سامنے باپ کو قتل کرنے والے نامزد ملزم کو چند گھنٹوں کے اندر گرفتار کر لیا۔گزشتہ روز مسماة(ر) نے پولیس کو رپورٹ درج کی کہ میں بمعہ بیٹے اور خاوند امین گل مکان کیساتھ تھے کہ مخالفین نے فائرنگ کی ۔جن کی فائرنگ سے میرا خاوند لگ کر جانبحق ہو گیا۔عبدالساجد خان ایس ایچ او اضاخیل نے فوری طور پر نامزد ملزمان کی گرفتاری کیلئے چھاپے شروع کر دئیے۔چند گھنٹوں کی محنت سے نامزد ملزم خیر محمد ولد وزید محمد ساکن سپین کانڑے کو گرفتار کر لیا گیا ۔ملزم کے قبضے سے اسلحہ برآمد کر لیا گیا۔مزید ملزمان کی گرفتاری کیلئے چھاپے جاری ہیں۔
حوثی باغیوں کے بعد عراقی تنظیم کے یو اے ای پر ڈرون حملے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یو اے ای مسلسل ڈرون حملوں کی زد میں ہے، حوثی باغیوں کے بعد اب ایک نئی تنظیم نے یو اے ای پر ڈرون حملے کئے تا ہم یو اے ای کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ تین ڈرون مار گرائے ہیں،
یو اے ای کی وزارت دفاع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بدھ کو یواے ای پر ڈرون حملوں کی مذموم کوشش کو ناکام بنایا ہے،حالیہ ہفتوں میں یو اے پر یہ چوتھا حملہ ہے اس سے قبل تین ڈرون اور بیلسٹک میزائل کے حملے ہوئے،حالیہ حملہ کی ذمہ داری ایک غیر معروف گروپ اولیا واعد الحق نے قبول کی، حکام کا کہنا ہے کہ جس تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول کی وہ عراق میں سرگرم ہے
اولیا واعد الحق نے یو اے ای پرڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ آج صبح متحدہ عرب امارات پر ہم نے چار ڈرون سے حملہ کیا،اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا، ہم یہ حملے اسوقت تک جاری رکھیں گے جب تک متحدہ عرب امارات یمن اور عراق میں مداخلت بند نہیں کرتا ،اب نئے حملے مزید خطرناک اور شدت سے ہوں گے
متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے کہا کہ وہ "کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہے” اور اس ملک کی حفاظت کے لیے "تمام ضروری اقدامات” کر رہا ہے، حکام نے اعلان کیا ہے کہ یو اے ای کی طرف آنیوالے تمام ڈرون کو تباہ کر دیا گیا ہے
ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے تین حالیہ حملوں کے بعد اب متحدہ عرب امارات کو اس کے شمال اور جنوب سے نشانہ بنایا جا رہا ہے حوثیوں نے متحدہ عرب امارات پر کئی ڈرون اور میزائل حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے، جنہوں نے یمن میں سات سالہ خانہ جنگی میں اضافے اور علاقائی کشیدگی کو ہوا دی ہے۔
یو اے ای پر ڈرون حملے کرنے والئ تنظیم نے 23 جنوری کو سعودی دارالحکومت ریاض میں یمامہ محل پر حملے کے بعد متحدہ عرب امارات کو دھمکی دی تھی۔ امارات کو عراق میں ایرانی حمایت یافتہ گروپوں کی طرف سے دھمکی دی گئی تھی کیونکہ ان کا خیال تھا کہ متحدہ عرب امارات نے عراق کے حالیہ پارلیمانی انتخابات میں مداخلت کی تھی
تہران نے متحدہ عرب امارات کے حملوں پر براہ راست تبصرہ نہیں کیا ہے لیکن یمن کے بحران کے سیاسی حل پر زور دیا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ نے بدھ کے روز اپنے اماراتی ہم منصب سے ٹیلیفون پر یمن پر بات چیت کی۔
دوسری جانب بہت سے عربوں کا کہنا ہے کہ وہ یہ نہیں سمجھ سکتے کہ بائیڈن انتظامیہ نے ابھی تک حوثیوں کو ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر دوبارہ کیوں نامزد نہیں کیا، خاص طور پر متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب پر حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں کے تناظر میں، ایک طرف امریکہ یو اے ای کی مدد کرنا چاہتا ہے لیکن یو اے ای پر حملے کرنے والے حوثی باغیوں کو دہیشت گرد قرار نہیں دے رہا،
عربوں کا کہنا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ نے غلطی کی جب اس نے گزشتہ سال حوثیوں کو بین الاقوامی دہشت گردوں کی فہرست سے نکالنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ بائیڈن انتظامیہ کے اس اقدام نے مشرق وسطیٰ میں سب سے خطرناک دہشت گرد گروہوں میں سے ایک کی حوصلہ افزائی کی ہے اور بین الاقوامی امن و سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
عرب لیگ کے 22 ارکان نے بائیڈن انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کو دوبارہ ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر نامزد کرے، بین الاقوامی امور کے ماہر عاطف سعداوی کا کہنا ہے کہ "بائیڈن انتظامیہ اپنی پوزیشن کا از سر نو جائزہ لینے کے لیے کس چیز کا انتظار کر رہی ہے؟ کیا وہ تماشائی بننا جاری رکھنا چاہتی ہے؟اب وقت آ گیا ہے کہ امریکی انتظامیہ اپنے متضاد موقف کو ختم کرے یمن میں اب جو کچھ ہو رہا ہے اس کی ذمہ داری امریکہ پر ہے. بائیڈن انتظامیہ کا پہلا فیصلہ حوثیوں کو دہشت گردی کی فہرست سے نکالنا تھا، اور یہ ایک بہت بڑی غلطی ہے۔
یمن کی جنگ دنیا کا بدترین انسانی بحران بن چکی ہے۔ امریکی ساختہ بموں کا استعمال کرتے ہوئے سعودی قیادت میں فضائی حملوں میں اسکول کے بچے اور عام شہری مارے گئے ہیں۔ یمن کے حوثی باغیوں نے ملک کی خانہ جنگی کے دوران اندھا دھند بارودی سرنگیں بچھا رکھی ہیں۔
تاشقند: ازبکستان کے چڑیا گھرمیں خاتون نے3 سال کی بیٹی کوریچھ کے پنجرے میں پھینک دیا۔
باغی ٹی وی : "ڈیلی میل” کے مطابق ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند کے چڑیا گھرمیں ایک خاتون نے اپنی3 سال کی بیٹی کوریچھ کے پنجرے میں پھینک دیا۔یہ منظردیکھنے والوں کی چیخیں نکل گئیں۔
بچی کے پنجرے میں گرنے کے بعد ریچھ بچی کے پاس پہنچا لیکن چڑیا گھرکے عملے نے پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ریچھ کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی اوربچی کونکال لیا۔بچی کوسرمیں چوٹ لگنے کے باعث اسپتال میں داخل کرادیا گیا جہاں اس کی حالت بہتربتائی جاتی ہے۔
پولیس نے بچی کی ماں کو قتل کی کوشش کے الزام میں گرفتارکرلیا۔ بچی کی ماں کو15 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔بچی کوپنجرے میں پھینکنے کی وجوہات کا علم نہیں ہوسکا۔
چڑیا گھر کے ایک ترجمان نے کہا: ‘ایک نوجوان عورت نے تمام مہمانوں کے سامنے ایک چھوٹی بچی کو بھورے ریچھ کے باڑے میں پھینک دیا ‘یہ مکمل طور پر واضح نہیں تھا کہ اس کا مقصد کیا تھا ‘سیاح اور چڑیا گھر کا عملہ دونوں اسے روکنے کی کوشش کر رہے تھے – لیکن ناکام رہے۔’
اس نے مزید کہا: ‘ہم یہ سوچتے ہوئے بھی خوفزدہ ہیں کہ اگر ریچھ اپنے شکار کے طور پر ننھے بچے پر ردعمل ظاہر کرے تو یہ کتنا خوفناک ہوتا زوزو دھیرے دھیرے کھڑا ہوا، آہستہ آہستہ خندق سے نیچے اترا، لڑکی کی طرف چل پڑا، اسے سونگھا – اور واپس چلا گیا۔’
رپورٹوں کے مطابق، ماں – جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے – کو حراست میں لیا گیا ہے اور جرم ثابت ہونے پر اسے کم از کم 15 سال قید کا سامنا کرنا پڑے گا گرنے سے لڑکی کو ہچکچاہٹ، سر کٹنے اور زخموں کا سامنا کرنا پڑا ‘لیکن ریچھ کے پنکھوں یا پنجوں سے زخموں کا ایک نشان بھی نہیں ملا اسے ‘ہلکے جھٹکے’ کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
ایک ترجمان نے کہا: ‘اسے ہچکچاہٹ کی تشخیص ہوئی، جس کی وجہ وہ پانچ میٹر کی اونچائی سے گر گئی، اور اس کے سر پر زخم تھا۔ ‘فی الحال اس کی حالت نارمل ہے، لیکن وہ مسلسل نگہداشت میں ہے جبکہ شاذ و نادر ہی، بچوں کے چڑیا گھر کی دیواروں میں گرنے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔
فحاشی کے اڈوں پر پولیس کے چھاپے،9 مرد،چھ خواتین رنگے ہاتھوں گرفتار
محمد بن اشرف ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چکوال کی ھدایات پر جرائم پیشہ افراد کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے
سٹی پولیس چکوالنے محلہ کالج روڈ چکوال اور محلہ نیو غلہ منڈی چکوال میں فحاشی کے اڈوں پر کامیاب ریڈ کیے 2 الگ الگ کارروائیوں میں 9 مرد اور 6 خواتین گرفتارکر کے مقدمات درج کر لئے،سید کاظم نقوی ایس ڈی پی او صدر سرکل کی سربراہی میں عاطف رضا ایس ایچ او تھانہ سٹی چکوال نے کامیاب کارروائیاں کیں،
عاطف رضا ایس ایچ او تھانہ سٹی چکوال کی ثاقب مقصود اور محمد آصف کی ہمراہی ٹیم کے ساتھ کامیاب کارروائی انہوں نے محلہ کالج روڈ چکوال میں فحاشی و عریانی کے اڈے پر کامیاب ریڈ کرتے ہوئے 4 مرد اور 3 خواتین کو گرفتار کرکے انکے خلاف مقدمہ درج کرلیا ،دوسری کارروائی میں عاطف رضا ایس ایچ او تھانہ سٹی چکوال نے ہمراہ احمد نواز اور عدنان عباس محلہ نئی غلہ منڈی چکوال میں فحاشی اور عریانی کے اڈے پرکامیاب ریڈ کرتے ہوئے 5 مرد اور 3 خواتین کو گرفتار کرلیا
قبل ازیں شہر قائد کراچی میں پاکستان رینجرز (سندھ) اور پو لیس نے انٹیلی جنس معلو مات کی بنیاد پر مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے کراچی کے علا قے اورنگی ٹاؤن سے بین الصوبائی اسلحہ اسمگلنگ گروہ کے 3کارندے عطاء اللہ، عرفان اور فیاض کو گرفتار کر لیا۔ ملزمان کے قبضے سے 11عدد پسٹلز، 22عددمیگزین اور ایک عدد ویپن پنچ ٹول برآمد کر لیا گیا۔
ابتدائی تفتیش کے دوران ملزمان نے اعتراف کیا کہ وہ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز کا استعمال کر کے لوگوں کو اسلحہ فروخت کر تے ہیں۔ملزما ن خیبر پختونخواہ سے غیرقانونی طریقے سے اسلحہ سندھ اور پنجاب کے مختلف شہروں میں مسافر بسوں کے ذریعے اسمگل کرتے تھے۔اس سے پہلے بھی ملزمان کی اسلحہ کھیپ پشاور موٹر وے اِنٹر چینج کے قریب پکڑی جا چکی ہے۔ گرفتار ملزمان عادی مجرم ہیں اورمتعدد بار جیل بھی جا چکے ہیں۔
گرفتار ملزمان کوبمعہ برآمد شدہ اسلحہ اورایمونیشن مزیدقانونی کاروائی کے لیے پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے۔ عوام سے اپیل ہے کہ ایسے عناصر کے بارے میں اطلاع فوری طور پرقریبی رینجر ز چیک پوسٹ، رینجرز ہیلپ لائن 1101 یا رینجرز مددگار واٹس ایپ نمبر03479001111پر کال یا ایس ایم ایس کے ذریعے دیں۔آپ کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔
کراچی : شاہراہِ نور جہاں پولیس نے سرکاری اہم اداروں سمیت عدالتوں میں جعلی کاغذات بنانے والے اہم گروہ کے 3 کارندے سرغنہ سمیت گرفتار کر لئے ۔
تفصیلات کے مطابق گرفتار شدہ ملزمان کی شناخت 1 رئیس احمد ولد صغیر احمد 2 خلیل احمد عرف آصف ولد حبیب رضا خان 3 محمد چاند ولد محمد عمر اللہ کے ناموں سے ہوئی . گروہ کا سرغنہ خلیل ڈکیتی کی متعدد وارداتوں سمیت قتل کے مقدمے میں جیل جاچکا ہے ۔ ملزم خلیل گرفتار ملزمان کی ضمانت سمیت جعلی شیورٹی جعلی بائیو میٹرک کے کاغذات بھی تیار کرتا ہے
ذرائع کے مطابق ملزم سرکاری افسران کے گھروں کی ریکی کرکے دیگر ساتھیوں کی مدد سے ڈکیتی کرواتا تھا ۔ ڈکیتی کی منصوبہ بندی سٹی کورٹ کی کینٹین میں کی جاتی تھی ۔ ملزم نے بتایا کہ ACLC کا ایک افسر خضر حیات بھی ڈکیتی کی واردات میں ملزم اور دیگر ڈکیتوں کی معاونت کرتا تھا اور اسلحہ و گاڑیاں مہیا کرتا تھا ۔ خضر حیات نے چند ججز کی ریکی بھی کروائی تھی جن پر اسے سزا دینے پر غصہ تھا ۔
سٹی کورٹ کے متعدد پیشکار بھی ملزم کی معاونت کرتے ہیں اور اپنا حصہ یعنی آدھا پیسہ لیتے ہیں ۔ معاون پیشکار میں آفاق، امجد، سلمان، اللہ بخش، منیر اور سلیم بیگ وغیرہ شامل ہیں ۔
ملزم خلیل نے جیل میں موجود طالبان کمانڈرز کے بارے میں بھی اہم انکشافات کیے ۔ طالبان کمانڈرز سے ملنے انکی فیملی نہیں بلکہ طالبان کے لوگ جیل میں جعلی شناختی کارڈ کی مدد سے ملنے آتے ہیں ۔ وہ لوگ کوڈ ورڈ میں احکامات اور نیا ٹارگٹ بھی دیتے ہیں ۔ شہر میں دہشت گردی کب اور کہاں کرنی ہے جیل احکامات دیے جاتے ہیں ۔
ملزم رئیس کراچی شہر میں پلاٹوں کی جعلی فائلیں بناکر فروخت کرتا اور قبضہ مافیہ، پورشن مافیا کے سہولتکار بنا ہوا تھا ۔
ملزمان گزشتہ کئی سالوں سے KDA,KMC و دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر جعلسازی کرتے ہوئے جعلی فائیلیں بناکر فروخت کیا کرتے تھے۔ ملزمان نے دوران انٹروگیشن بتلایا کہ KDA کے کچھ افسران سے ہمارے ذاتی تعلقات ہیں جن کو ہم پلاٹ نمبر بتاتے ہیں تو وہ اس پلاٹ کے کاغذات کی ریکارڈکاپی سوا لاکھ روپے سے دولاکھ روپے لیکر ہمیں مہیا کرتے ہیں۔
KDAافسران میں مظہر کالا ، خالد عرف کاشف، ندیم و بروکر شاہد ، منصور، باسط، جمیل عرف کالا ودیگر لوگ شامل ہیں۔
KMCکی پرانے تاریخوں کی جعلی موٹیشن ایک لاکھ روپے میں اور اوریجنل جے سی موٹیشن ریکارڈ والی آٹھ سے دس لاکھ روپے میں ریکارڈ انچارج اظہر سے کرواتے ہیں۔ پلاٹ کی فوٹو کاپیاں حاصل کرکے لیز فائل کے اوپر جعلی سیل ڈیڈ بناکر آگے پارٹیوں کو 30 فیصد پر فروخت کرتے ہیں۔ ٹرانسفر فائیلوں پر جعلی پاوریں لگاکر اور رجسٹرار آفس میں رشوت کا استعمال کرتے ہوئے رجسٹریاں کرادیتے ہیں ان فائلوں کو آگے فروخت کرتے ہیں۔ فائلوں کو آگے فروخت کروانے میں علاقہ کہ کچھ بلڈرحضرات بھی شامل ہیں اور ان کی خصوصی معاونت حاصل ہیں اور بلڈر حضرات کی طرف سے مہیا کیا گئے کاغذات /فائل متعلقہ اداروں سے درست کرواکر انہیں دیتے ہیں بلڈروں میں سرفہرست کاشف انڈا،علی میمن ،ازباہان اور اسکے پارٹنر نعمان اورعثمان شامل ہیں ۔
علی میمن جوکہ ٹوٹل دونمبر پلاٹوں پر بیلڈنگیں بناتا ہیں اور اپنے آپ کو کسی DSP کا بھائی بھی ظاہر کرتاہے۔ KDA کی موٹیشن کرانے کیلئے سینٹر ریکارڈ کا جعلی سرچ سرٹیفیکٹ کا استعمال کرتے ہیں اور KDA کے متعدد افسران باقاعدگی سے رقم لیکر موٹیشن کا کام سرانجام دیتے ہیں جس میں کلرک سے لیکر اسسٹنٹ ڈائریکٹر،ڈپٹی ڈائریکٹراور ڈائریکٹر شامل ہوتے ہیں اور متعدد پلاٹس کی نشاندہی KDA کے افسران ہمیں کرتے ہیں ۔جن پلاٹو ں پر موٹیشن بنوانے میں پریشانی ہوتی ہیں تو ان پلاٹس پر بلڈرز کے ساتھ مل کر پورشن بناکر سیل ڈیڈ کرادیتے ہیں۔
اسکے علاوہ سرجانی ٹاون کے لاتعداد پلاٹس کے جعلی فائیلیں بناکر آگے پارٹیوں کو فروخت کی ہیں۔ہرعلاقے میں کام کرنے والا ایک مخصوص گروپ ہے، نارتھ کراچی میں قمر قریشی ،نوید کالا ، عمران اور منا منشیات سرفہرست ہیں۔
ملزم چاند کریم آباد مارکیٹ میں اسٹیمپ اور ڈاکومنٹیشن کا کام کرتا تھا . ملزم 15/16 سال سے جعلی اسٹیمپ اور جعلی ڈاکومینٹیشن کا کام کر رہا ہے . ملزم جعلی سیل ڈیڈ جعلی الاٹمنٹ جعلی سرچ سرٹیفکیٹ ہر طرح کے جعلی سرکاری کاغذات اور مہریں بنانے کا ماہر ہے . ملزم چاند نے سینکڑوں مکانات اور پلاٹوں کے کاغذات جو بالکل اصل جیسے ہوتے ہیں بناکر قبضہ مافیا اور لینڈ گریبر کو فروخت کیے ہیں . ملزم چاند اس سے قبل بھی گرفتار ہوچکا ہے .
ملزمان سے ذیل پلاٹوں کی جعلی فائیلیں بھی برآمد ہوئی ہیں جبکہ 200 سے زائد سرکاری اداروں عدالتوں، بینک ڈپٹی کمشنر بینکس کی مہریں برآمد ہوئی ہیں ۔
1۔ پلاٹ نمبر R-219، بلاک 13گلستان جوہر کراچی۔
2 ۔ پلاٹ نمبرA-124، بلاک H نارتھ ناظم آبادکراچی رقبہ233 گز۔
3۔ پلاٹ نمبر11/14 ، بلاک 4 ناظم آبادکراچی۔رقبہ 422 گز۔
4۔ پلاٹ نمبر R-370 ، سیکٹر 9 نارتھ کراچی۔
5۔ پلاٹ نمبر 17/1، سیکٹر 9نارتھ کراچی۔
6۔ پلاٹ نمبر A-204، بلاک 2 گلشن اقبال کراچی۔
7۔ پلاٹ نمبر LS-530 ،ST-2B بلاک 6 FB ایریاکراچ رقبہ100گز۔
8۔ پلاٹ نمبرR-69 ، سیکٹر 5-C-1 نارتھ کراچی۔
-9 پلاٹ نمبر A-473 ، سیکٹر 11-A نارتھ کراچی رقبہ 240 گز
-10 پلاٹ نمبر A-474 ، سیکٹر 11-A نارتھ کراچی رقبہ 240 گز
-11 پلاٹ نمبر A-475 ، سیکٹر 11-A نارتھ کراچی رقبہ 240 گز
-12 پلاٹ نمبرA-476 ، سیکٹر 11-A نارتھ کراچی رقبہ 240 گز
-13 پلاٹ نمبرB-10 ، بلاک 16 گلستانِ جوہر اسکیم 36کراچی رقبہ 400 گز
-14 پلاٹ نمبر R-369 ، بلاک 9 FB ایریا کراچی۔
-15 پلاٹ نمبر B-147 ، بلاک W ناظم آباد 5 کراچی رقبہ 430 گز
-16 پلاٹ نمبر B-6 ، بلاک W ناظم آباد 5 کراچی رقبہ 430 گز
-17 پلاٹ نمبر C-43، بلاک 17 FB ایریا کراچی رقبہ 600 گز
-18 پلاٹ نمبر 3-H(ii), 3/12 ناظم آباد 3 کراچی۔
-19 پلاٹ نمبر C-3113 ، بلاک 2/14-A میٹروویل II کراچی۔جسکا قبضہ ہوم ڈپارٹمنٹ کے جعلی سیکشن آفیسر کو دیا ہوا ہے۔
-20 پلاٹ نمبر F-129 ، بلاک F نارتھ ناظم آباد کراچی رقبہ 2160 گز
-21 پلاٹ نمبر C-19 ، بلاک Q نارتھ ناظم آبد کراچی رقبہ 600 گز
-22 پلاٹ نمبر C-20 ، بلاک Q نارتھ ناظم آبد کراچی رقبہ 600 گز
-23 پلاٹ نمبر 1J 67/7 ناظم آباد 1 کراچی۔
-24 پلاٹ نمبر R-840 ، بلاک 20 ایریا کراچی۔
گرفتار شدہ ملزمان کے خلاف کانونی کاروائی عمل میں لاتے ہوئے مقدمات درج کئے گئے ہیں اور مزید تفتیش جاری ہے ۔