کراچی : کراچی کے ناظم آباد تھانے سے 3 ملزمان ہتھکڑی سمیت فرار ہو گئے۔پولیس ذرائع کے مطابق ناظم آباد تھانے سے 3 ملزمان ہتھکڑی سمیت لاک اپ سے فرار ہوئے ہیں۔
پولیس کی جانب سے ان تینوں مفرور ملزمان کو منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔گرفتار ملزمان کے خلاف پرچہ درج کیا جانا تھا، لیکن ملزمان اس سے قبل ہی لاک اپ سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔پولیس کے مطابق غفلت برتنے پر متعلقہ اہلکاروں کے خلاف کارروائی ہو گی۔
فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ میں زرعی زمین میں دفن شخص کی لاش قبر کھود کر نکال لی گئی۔
باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق جڑانوالہ میں 7 روز قبل انتقال کرنے والے شخص کو وصیت کے مطابق زرعی زمین میں دفن کیا گیا تھا تاہم اب قبر کھود کر لاش غائب کر دی گئی۔
اطلاع ملنے پر پولیس نے مرحوم کے رشتے داروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے جبکہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ایک ملزم کو گرفتار بھی کر لیا ہے اور اس سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ دو روز قبل بھی فیصل آباد میں 7 ماہ قبل انتقال کرجانے والےشخص کی میت قبر سے نکال لی گئی تھی پولیس کا کہنا تھا کہ علاقہ گڑھ فتح شاہ میں رات کو مسلح افراد پیر بہادرعلی شاہ کی قبرکھودکرمیت کونکال کرساتھ لےگئے، پیربہادرشاہ کا 7 ماہ قبل انتقال ہوگیا تھاجن کی تدفین گڑھ فتح شاہ میں کرکے ان کے چھوٹے بیٹے نے مزاربھی تعمیرکیا تھا جبکہ مرحوم کے دو بڑے بیٹے اوکاڑہ میں تدفین کرنا چاہتے تھے اور بھائیوں کا اس معاملے پر تنازع تھا۔
پولیس کا کہنا تھا کہ دونوں بڑے بھائی دیگر مسلح افراد کے ہمراہ آئے اور والد کی میت نکال کر ساتھ لے گئے، ملزمان نے مبینہ طور پر مزار کے ایک مجاور کو بھی اغوا کیا مرحوم کے چھوٹے بیٹے کی مدعیت میں اس کے دونوں سوتیلے بھائیوں سمیت 11 نامزد اور 25 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کردی ہے۔
کوئٹہ: محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی کاروائی، مشرقی بائی پاس پر مبینہ مقابلے میں 6 دہشت گرد مارے گئے۔
باغی ٹی وی : ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق دہشت گرد مشرقی بائی پاس پر آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے جبکہ دہشت گردوں کے ٹھکانے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا۔
گزشتہ روز بلوچستان کے علاقے کیچ میں بھی آپریشن کے دوران 4 مبینہ دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ جو دو بچوں کے قتل سمیت متعدد وارداتوں میں ملوث تھے۔
ترجمان سی ٹی ڈی کا کہنا تھا کہ گرفتار کیے گئے ملزمان کا تعلق کالعدم تنظیم سے ہے سی ٹی ڈی کے مطابق اکتوبر 2021 میں تربت کے علاقے کوشاں میں دستی بم پھٹنے سے دو بچے جاں بحق ہوگئے تھے۔
واضح رہے کہ پنجاب کو پاکستان کی تاریخ کی پہلی کاونٹرٹیررازم فورس بنانے کا اعزاز حاصل ہے 1500 کارپورلز پر مشتمل اس فورس میں بھرتی کے لئے میرٹ اور اہلیت کے کڑے اصولوں کو پیش نظر رکھا جاتا ہے ملک کو درپیش دہشت گردی کے خطرے سے موثر طریقے سے نبر دآزما ہونے کے لئے ایک ایسی فورس کا قیام انتہائی اہمیت کا حا مل تھا جو انٹیلی جنس معلومات کے حصول، خصوصی آپریشنز اور انویسٹی گیشن کے ذریعے ملک سے دہشت گردی کا قلع قمع کر سکے۔
سابق وزیراعلی پنجاب محمد شہبازشریف نے کرائم انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کی تنظیم نو کے بعد ایک اہم ادارے کے طو رپرکاؤنٹر ٹیر رازم ڈیپارٹمنٹ کا قیام عمل میں لایا۔ یہ ادارہ دہشت گردی کی تمام اقسام بشمول فرقہ واریت اور شدت پسندی کے خاتمے کے لئے کام کر رہا ہے یہ پاکستان کی واحد پولیس ہے جسے بے پناہ اختیارات حاصل ہیں-
کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ میں 1182 کارپورلز بھرتی کر کے کاونٹر ٹیر رازم فورس قائم کی گئی، ان کارپورلز کو دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے خصوصی تربیت فراہم کی گئی۔ برادر ملک ترکی نے ان کارپورلز کی انٹیلی جنس، آپریشنز اور انویسٹی گیشن کے حوالے سے خصوصی تربیت کے لئے بھر پور تعاون کیا اور ترک نیشنل پولیس کے 45 افسران بھجوائے۔
انسداد دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں 1995 سے موجود ہے۔ پہلے اس کا نام سی آئی ڈی تھا یعنی اسے کرائم انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ کہا جاتا تھا، اس وقت اس کی کارکردگی بہتر نہ ہونے اور آئے روز مختلف واقعات سامنے آنے کی وجہ سے الزامات کی زد میں تھا جبکہ یہ ادارہ 1936 کے سی آئی ڈی مینول کے تحت قائم کیا گیا تھا۔
21 جولائی 2010 کو سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے اس کا نام تبدیل کر کے سی ٹی ڈی یعنی انسداد دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ رکھنے کی منظوری دے دی۔ 2015 میں اس ادارے کو انٹیلی جنس کا اضافی اختیار بھی دے دیا گیا اب یہ ادارہ اپنے سپیشل پولیس سٹیشنز میں دہشت گردی کے مقدمات درج کر سکتا ہے اور تحقیقات کر سکتا ہے۔ سی ٹی ڈی کے اندر سی ٹی ایف یعنی کاونٹر ٹیررازم فورس کا قیام بھی عمل میں لایا گیا، جس میں 1200 کارپولز کو بھرتی کیا گیا تھا۔
کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر کار اور آئل ٹینکر میں حادثے کے نتیجے میں سینیٹ چیئرمین صادق سنجرانی کے چھوٹے بھائی سالار سنجرانی ڈرائیور سمیت جاں بحق ہوگئے۔
ڈی سی لسبیلہ کے مطابق کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر سکن کےقریب کار اور آئل ٹینکر میں ٹکر ہوئی۔انہوں نے بتایا کہ حادثے میں چیئرمین سینیٹ کے چھوٹے بھائی سالار سنجرانی اور ڈرائیور جاں بحق ہوگئے۔
ان کا کہنا تھاکہ حادثے میں سالار سنجرانی کا ڈرائیور موقع پر ہی دم توڑ گیا تھا جبکہ سالار سنجرانی کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تھا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو ٹیلیفون کیا اور ان کے چھوٹے بھائی کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا۔
یاد رہےکہ آج کا دن پاکستان کی تاریخ میں ایک سوگ کا دن ہے جہاں ایک طرف مری میں 22 افراد کی ہلاکت کے بعد صادق آباد 6 بچے جاں بحق ،اطلاعات کے مطابق صادق آباد کے نواحی علاقہ بستی کلواڑ رحیم آباد میں گھر کی دیوار گرنے سے 6 بچے جاں بحق ہو گئے۔
صادق آباد:ولن يؤخر الله نفسا إذا جاء أجلها ۚ والله خبير بما تعملون :مری کے بعد صادق آباد 6 بچے جاں بحق ،اطلاعات کے مطابق صادق آباد کے نواحی علاقہ بستی کلواڑ رحیم آباد میں گھر کی دیوار گرنے سے 6 بچے جاں بحق ہو گئے۔
صادق آباد کے نواحی علاقہ بستی کلواڑ رحیم آباد میں گھر کی دیوار گرنے سے 6 بچے جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ 2 بچے شدید زخمی بتائے جارہے ہیں، اہل علاقہ نے اپنی مدد آپ کے تحت بچوں کو مٹی کے ملبے سے نکال کر جان بحق اور زخمیوں کو قریبی نجی بسپتال منتقل کردیاہے۔
انچارج ہسپتال سید کاظم شاہ کے مطابق ہسپتال میں 6 بچوں کی نعشیں اور ایک زخمی بچی کو لایاگیا تھا زخمی بچی کو شیخ زید ہسپتال منتقل کردیاگیا ہے جبکہ اہل علاقہ کے یہ بھی بتانا ہے کہ یہ بچے دیوار کے پاس کھیل رہے تھے۔
بارش کی وجہ سے دیوار خستہ حال تھی جو اچانک ک بچوں کے اوپر آن گری، جاں بحق بچوں کی عمریں دو سال سے دس سال ہیں۔ڈپٹی کمشنر رحیم یارخان نے افسوس ناک واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
ادھر مری میں برف کا طوفان، سیاحوں پر قیامت ٹوٹ پڑی، گاڑیوں میں پھنسے لوگ رات سٹرک پر گزارنے پر مجبور ہوئے، جس کے نتیجے میں سردی کے باعث 22 افراد جاں بحق ہوگئے، وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے 22 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے۔
مری میں پیش آنے والے سانحہ کے بعد مری ڈویژن کے کمانڈنگ آفیسر میجر جنرل واجد عزیز نے کہا ہے کہ جب آخری سیاح کو محفوظ مقام پر نہیں پہنچاتے ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری رہے گا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میجر جنرل واجد عزیز نے کہا ہے کہ آرمی ریلیف اینڈ ریسکیو آپریشن رات سے ہی شروع ہو گیا تھا، ملٹری پولیس کے اہلکار سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر ٹریفک کو دیکھ رہے تھے، رات کو آرمی چیف نے کہا کہ ہدایات کا انتظار کئے بغیر مکمل تعاون کریں۔
میموری کارڈ کے تنازعہ پر بھائی کو قتل کرنیوالا ملزم گرفتار
پشاور کے تھانہ متنی پولیس نے بھائی کو قتل کر کے واردات کو حادثے کا رنگ دینے والے شاطر اور سفاک ملزم کو گرفتار کر لیا،
ملزم رومان نے کچھ عرصہ قبل میموری کارڈ تنازعہ پر اپنے سگے بھائی فخر عالم کو فائرنگ کر کے قتل کیا تھا، پولیس تفتیشی ٹیم کیجانب سے جامع تفتیش کے دوران اصل حقائق سامنے آنے کے بعد ملزم گرفتاری کے ڈر سے گھر بار چھوڑ کر نامعلوم مقام پر روپوش ہوا تھا جس کو مقامی عدالت سے اشتہاری مجرم قرار دیا گیا تھا، ملزم کو گزشتہ روز خفیہ اطلاع ملنے پر گرفتار کر لیا گیا جس نے ابتدائی تفتیش کے دوران بھائی کو قتل کرنے کا اعتراف کر لیا ہے جس کے قبضہ سے اسلحہ بھی برآمد کر لیا گیا ہے، ملزم سے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے
قبل ازیں پشاور پولیس نے منشیات میں ملوث عناصر کے خلاف کریک ڈاون کے دوران 12 افراد کو گرفتار کر لیا، گرفتار افراد اندرون شہر اور نواحی علاقوں میں مخصوص گاہک سمیت مختلف منشیات ڈیلرز کو بھی آئس، ہیروئن اور چرس سپلائی کرنے میں ملوث ہیں جن کا تعلق شہر کے مختلف علاقوں سے ہے، ملزمان نے ابتدائی تفتیش کے دوران منشیات سپلائی میں ملوث ہونے کا اعتراف کرتے مختلف ڈیلرز کی بھی نشاندہی کی ہے جن کے گرد بھی گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے، ملزمان سے مجموعی طور پر 1342 گرام آئس، ساڑھے تین کلو گرام ہیروئن اور ساڑھے آٹھ کلو گرام اعلی کوالٹی چرس برآمد کر کے مقدمات درج کر لئے گئے ہیں
قبل ازیں تھانہ بھانہ ماڑی پولیس نے خفیہ اطلاع ملنے پر مشکوک مسلح شخص کو گرفتار کر لیا، ملزم کے قبضہ سے غیر قانونی اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے جس کا تعلق شہر کے نواحی علاقے بڈھ بیر سے ہے، ملزم مشکوک حالت میں علاقہ گڑھی قمردین میں موجود تھا کہ ایس ایچ او بھانہ ماڑی نے خفیہ اطلاع ملنے پر حراست میں لے لیا ہے جس کے خلاف مقدمہ درج کر کے مختلف زاویوں پر تفتیش شروع کر دی گئی ہے
بے اولاد ہیں، بچہ خرید لیں، بچے پیدا کرنے کی فیکٹری، تہلکہ خیز انکشاف
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایک ایسی فیکٹری کا انکشاف ہوا ہے جہاں سامان نہیں بلکہ بچے پیدا کئے جاتے ہیں
یہ فیکٹری نائیجریا میں ہے ، جہاں بچہ پیدا کرنے کے لئے باقاعدہ ایک فیکٹری چلائی جا رہی ہے جس کو بے بی فیکٹری کا نام دیا گیا ہے، بے بی فیکٹری میں بے بی فارمنگ کے نام سے گھناؤنا دھندہ ہو رہا ہے، بے بی فیکٹری میں کم عمر لڑکیوں کو بھی لایا جاتا ہے اور انہیں انکی مرضی کے بغیر حاملہ کیا جاتا ہے، چودہ برس کی لڑکیاں بھی اس بے بی فیکٹری میں حاملہ ہو چکی ہیں اور انہوں نے بچے کو جنم دیا ہے
بے بی فارمنگ فیکٹری میں بچے پیدا کرنے کا سلسلہ بے اولاد جوڑوں کے لئے شروع کیا گیا تھا جو اب پھیل چکا ہے، غریب خواتین اپنی بیٹیوں کے اس بے بی فارمنگ فیکٹری میں بھیج دیتی ہیں ، اگر بیٹا پیدا ہو تو اسکی قیمت زیادہ ملتی ہے، اور اگر بیٹی ہو تو اسکا ریٹ کم ہوتا ہے، بچوں کو بے اولاد جوڑوں کو فروخت کیا جاتا ہے اور ماں بچہ جنم دینے کے بعد دوبارہ تیار ہوتی ہے کہ وہ دوبارہ ماں بنے اور اسے اس کے عوض قیمت ملے، بے اولاد جوڑے بھی اس بے بی فارمنگ فیکٹری میں منہ مانگی قیمت دینے کے لئے تیار ہوتے ہیں، اس بے بی فارمنگ فیکٹری میں لڑکیوں کو لالچ دلا کر لایا جاتا ہے ، کئی لڑکیوں کو اس فیکٹری میں سمگل کر بھی لایا گیا ہے
بے بی فارمنگ فیکٹری میں انڈونیشیا، یوکرین سمیت کئی دیگر شہروں سے بھی لڑکیوں کو لایا جاتا ہے، بے بی فارمنگ کا دھندہ پہلے خفیہ کیا جاتا تھا مگر اب سرعام کیا جا رہا ہے، ایک رپورٹ کے مطابق سال 2011 میں ایک چھاپے کے دوران سیکورٹی اہلکاروں نے 32 حاملہ خواتین کو رہا کروایا تھا، بے بی فارمنگ فیکٹری میں آنے والی لڑکیاں اپنی مرضی سے اسقاط حمل بھی نہیں کروا سکتیں کیونکہ انکے ملک کا قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا،
نائیجریا کی بے بی فارمنگ فیکٹری سے بچ جانے والی ایک خاتون نے کہانی سنائی ہے، خاتون کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کو سمگل کر کے بے بی فارمنگ فیکٹری تک پہنچایا گیا ،وہاں انکی عصمت دری کی جاتی ہے پھر حمل ہونے پر انہیں ایک خیمے میں چھوڑ دیا جاتا ہے اور بچہ پیدا ہونے پر بچے کو فروخت کر دیا جاتا ہے، مریم کہتی ہیں کہ نایجیریا کی شمالی مشرقی ریاست میں آئی ڈی پیز کے کیمپ سے باہر نکلی تو انہیں ایک خاتون جو آنٹی کیکی کے نام سے مشہور ہیں انہوں نے کہا کہ کیا وہ گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کریں گی جس پر میں نے رضا مندی کا اظہار کیا، اسی کام کے لئے ایک اور دوست کو بھی تیار کیا، آنٹی کیکی ہم دو لڑکیوں کو اپنے علاقے میں لے گئی اور بارہ گھنٹے کے طویل سفر کے بعد ہمیں ایک گھر میں پہنچا دیا گیا جہاں ایک کمرہ لڑکیوں سے بھرا ہوا تھا ان میں سے اکثر حاملہ تھیں
مریم کا کہنا تھا کہ ہم تو سمجھ رہی تھی کہ گھر کی صفائی کا کام جیسے ہمیں بتایا گیا تھا ویسا ہو گا لیکن یہان پہنچ کر پتہ چلا کہانی کچھ اور ہے رات کو سب لڑکیوں کو الگ الگ کمرے دے دیئے گئے جو حاملہ تھیں وہ سب ایک کمرے میں تھیں، رات ہوئی تو دروازہ کھلا ایک شخص اندر آیا اور اس نے کپڑے اتارنے کا کہا ، میں نے منع کیا تو میرے ساتھ زبردستی زیادتی کی،میری دوست کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا، وہ رات ہم نے مشکل سے گزاری ،میری دوست کے ساتھ زیادتی کرنے والا انتہائی سفاک تھا جس نے ساری رات درندگی کا مظاہرہ کیا، جب میرے ساتھ زیادتی ہوئی تو میں نے چیخنے چلانے کی کوشش کی لیکن میرے منہ پر کپڑا رکھ دیا گیا ، تھپڑ مارے گئے، میری آنکھوں میں آنسو تھے لیکن کسی کو ترس نہ آیا،
مریم کا کہنا تھا کہ ایک ہی روز میں انہیں کئی مردوں نے اپنی ہوس کا نشانہ بنایا، اس کام کے الگ سے پیسے مردوں سے لئے جاتے اور جب لڑکیاں حاملہ ہو جاتیں تو انکو پھر الگ کر دیا جاتا اور انکے بچوں کو فروخت کیا جاتا، مریم کا کہنا تھا کہ ایک ماہ کے اندر وہ دونوں حاملہ ہو گئیں۔ لیکن پھر بھی ان کی عصمت دری کی گئی۔ جہاں یہ بے بی فیکٹری تھی وہان سے بھاگنا مشکل تھا کیونکہ سیکورٹی سخت تھی تا ہم کوشش جاری رکھی اور ہم وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہوئیں
سکھر کے سول ہسپتال میں جعلی نرس بن کر مریضوں کو لوٹنے والی ملزمہ کو پولیس کے حوالے کر دیا گیا-
باغی ٹی وی : پولیس کے مطابق سکھر سول ہسپتال انتظامیہ نے ملزمہ کو ہسپتال میں زیرعلاج مریضوں کو نشہ آور انجیکشن لگاتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا اور پولیس کو اطلاع دی جس کے بعد ملزمہ کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا گیا۔
مدعی نے بتایا کہ اس کی بیٹی آپریشن کے لیے ہسپتال میں داخل تھی اس دوران ملزمہ نے اسے انجیکشن لگا کر لوٹنے کی کوشش کی جو ہسپتال انتظامیہ نے ناکام بنادی۔
پولیس کے مطابق ملزمہ اس سے قبل بھی جعلی نرس بن کر ایک خاتون کو نشہ آور انجیکشن لگا کر سونے کی بالیاں چوری کرچکی ہے، ملزمہ کے قبضے سے نشہ آور انجیکشن اور دیگر اشیاء بھی برآمد ہوئی ہیں۔
قبل ازیں نجی ہسپتال کے واش رومز میں لڑکی کیساتھ زیادتی کی کوشش کرنے والے وارڈ بوائے کو گرفتار کر لیا گیا تھا ملزم عثمان اسلم نے مریضہ کیساتھ آئی ملازمہ کو زیادتی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی،،ایس ایچ او گارڈن ٹاؤن عمران انوار کا کہنا ہے کہ ملزم کیخلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ مزید تحقیقات کا آغازکر دیا گیا ہے، ایس پی ماڈل ٹاؤن کا کہنا ہے کہ خواتین کو ہراساں کرنا ناقابل برداشت فعل ہے پارکوں،ہسپتالوں اور ایسے دیگر مقامات پر آنے والی خواتین کا تحفظ متعلقہ انتظامیہ بھی یقینی بنائیں، ڈی آئی جی آپریشنز لاہور ڈاکٹر محمد عابد کا کہنا ہے کہ خواتین فوری مدد کیلئے پولیس سیفٹی ایپ ڈاؤن لوڈ کریں-
اس ے قبل لاہور پولیس نے فیکٹری ایریا کی حدود سے04 بچیوں کے اغوا ء کا معمہ چند گھنٹوں میں حل کر لیا۔ ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر محمد عابد خان نے لاپتہ ہونے والی بچیوں سے اپنے دفتر میں ملاقات کی۔ بچیوں کی والدہ اور رکشہ ڈرائیور اصغر بھی اُنکے ہمراہ تھے۔ ایس ایس پی آپریشنز کیپٹن(ر)مستنصر فیروز بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ڈاکٹر محمد عابد خان نے بچوں کی بازیابی میں اہم کردار ادا کرنے والے رکشہ ڈرائیور کو سراہا۔انہوں نے رکشہ ڈرائیور اصغر کو گڈ سٹیزن سرٹیفکیٹ اور نقد انعام بھی دیا۔ ڈی آئی جی آپریشنز نے بچیوں کو سویٹس اور گلدستے بھی دیئے۔ انہوں نے بچیوں کی بازیابی پر ایس پی کینٹ اور فیکٹری ایریا پولیس کو شاباش دی۔ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر محمد عابد خان کا کہنا تھا کہ جرائم کا خاتمہ عوام کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔امن و امان کی صورتحال میں شہری پولیس کے ساتھ تعاون کریں-
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں شوہر نے بیوی پر تیزاب پھینک دیا
شفیق آباد شوہر کا بیوی پر تیزاب پھینکنے کا معاملہ ،ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر محمد عابد خان نےواقعہ کا نوٹس لیا اور ایس پی سٹی حفیظ الرحمان بگٹی کی قیادت میں شفیق آباد پولیس نے بروقت کاروائی کی، شفیق آباد پولیس نے کاروائی کرتے واقعہ میں ملوث ملزم عاقب کو گرفتار کر لیا .ترجمان پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ گھریلو ناچاقی لڑائی جھگڑا پر پیش آیا,زخمی خاتون کو طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کیا جو علاج معالجہ کے بعد گھر واپس آ گئی ،ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور تفتیش جاری ہے، ایس پی سٹی حفیظ الرحمان بگٹی کا کہنا ہے کہ خواتین پر تشدد اور جنسی استحصال کرنے والوں کے خلاف فوری قانونی کاروائی عمل میں لائی جا رہی ہے,
قبل ازیں لاہور میں انسداد دہشت گردی عدالت نے شادی سے انکار پر لڑکی پر تیزاب پھینکنے والے 2 افراد کو عمر قید، 21، 21 سال قید اور جرمانے کی سزا سنا دی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملزمان محمد احمد اور شاہ نواز کو عمر قید، 21، 21 سال قید کے علاوہ 42 ، 42 لاکھ دیت اور 10، 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی ادا کرنے کا حکم سنایا ،مقدمے کے مطابق ملزمان نے شادی سے انکار پر لڑکی کے چہرے پر تیزاب پھینک دیا تھا ،عدالت نے ملزمان محمد احمد اور شاہ نواز کو ٹرائل مکمل ہونے کے بعد سزا سنائی، ملزمان نے شادی سے انکار پر تیزاب سے بھرا جگ مدعیہ پر پھینکا تھا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مری میں برف باری میں پھنسے افراد کی اموات میں اضافہ ہوا ہے
ریسکیو حکام کے مطابق اموات کی تعداد 22 ہو چکی ہے تا ہم ابھی اموات میں مزید اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ روڈ بند ہونے کی وجہ سے کئی گاڑیاں رات کو کھلے آسمان تلے تھیں اور ان میں شہری پھنسے ہوئے تھے، رات کو برفباری جاری رہی، صبح جب شہریوں نے گاڑیوں کے دروازے کھولنے کی کوشش کی تو کئی گاڑیوں میں شہری یا تو بیہوش تھے یا انکی موت ہو چکی تھی
ریسکیو حکام نے مری میں مرنے والوں کی تفصیلات جاری کی ہیں، واقعہ کی اندوہناک ویڈیو سامنے آئی ہیں، چھوٹے چھوٹے بچے گاڑیوں میں لاشیں، ویڈیو وائرل ہو چکی ہیں، ریسکیو حکام کے مطابق مری میں ہونے والی برفباری میں اسلام آباد پولیس کا اہلکار اہلخانہ سمیت جاں بحق ہو گیا ،ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق اسلام آباد پولیس کا اے ایس آئی تھانہ کوہسار میں تعینات تھا ،پولیس اہلکار کی گاڑی میں7سے 8 افراد سوار تھے تمام افراد برف باری اور سردی میں امداد نہ ملنے پر جان کی بازی ہار گئے
مری افسوسناک حادثہ میں جاں بحق ہونے والے اے ایس آئی کا تعلق تلہ گنگ سے ہے اے ایس آئی نوید اپنی اہلیہ اور پانچ بچوں سمیت برف باری میں جاں سے ہاتھ دھو بیٹھے محمد نوید تھانہ کوہسار اسلام آباد میں تعینات تھے ۔ فیملی سمیت اسلام آباد رہائش پذیر تھے محمد نوید صبح نو بجے مری کےلئے روانہ ہوئے ، واپسی پر انکی کار برف باری میں پھنس گئی محمد نوید انکی اہلیہ اور پانچ بچوں کی میتیں ان کے آبائی گاؤں دودیال پہنچانے کے انتظامات کئے جا رہے ہیں ۔
مری میں مرنیوالوں میں گوجرانوالہ کے 31 سال کے اشفاق ولد یونس، لاہور کے 31 سال کے معروف ولد اشرف شامل ہیں، ایک شخص کی شناخت نہیں ہو سکی، 46 سال کے محمد شہزاد ولد اسماعیل اور 35 سال کی مسز شہزاد عمران اور ان کے 2 بچوں کی بھی موت ہوئی ہے، 21 سال کے محمد بلال ولد غفار بھی ، 24 سال کے محمد بلال حسین ولد سیدغوث کی بھی موت ہوئی ہے
آئی جی اسلام آباد محمد احسن یونس کی ہدایت پر ASP کوہسار بینش فاطمہ اور SHO کوہسار گزشتہ رات مری میں تین بیٹیوں اور ایک بیٹے سمیت وفات پانے والے ASI نوید اقبال کی بیوی اور 1 بیٹے کے ساتھ انکے گھر پر موجود ہیں۔ اسلام آباد پولیس کی 3 ایمبولینسز مرحوم ASI اور فیملی کے جسد خاکی لینے مری روانہ ہوچکی ہیں۔اسلام آباد پولیس کے دو افسران بھی مری روانہ ہیں۔ اسلام آباد پولیس راولپنڈی انتطامیہ کے ساتھ رابطے میں ہے۔
وفاقی وزیر حماد اظہر کا کہنا ہے کہ مری میں شدید برف باری کے باعث بجلی کے نظام میں بھی تعطل آیا ہے۔ مری سٹی کے ایک فیڈر کو بحال کیا جا چکا ہے جبکہ شہر کے باقی دو فیڈرز بھی تقریباً ایک گھنٹے تک بحال ہو جائیں گے۔ شدید برف باری کے باوجود آئیسکو کے سٹاف کو بجلی بحال کرنے کی ہدایت دی ہے۔
دوسری جانب سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر چھوٹی چڑیا حنا نے مری میں پاک فوج کی جانب سے آپریشن کی تصاویر شیئر کی اور ساتھ کہا کہ تقریبا چار دن سے بلوچستان ریسکیو ہورہا ہے سیلاب اور طوفانی بارشوں میں پھنسے لوگوں کی مدد کررہی فوج آج مری میں پھنسے لوگوں کی مدد کررہی ہے فوج ،لیکن اس سب کے بعد فوج کہ حصہ میں آتی ہے گالیاں طعنے بجٹ کے بھاشن۔۔جہموریت کے چیمپئن اپنے اپنے بنگلوں میں سورہے ہیں
قبل ازیں پاک فوج کے اہلکار مری پہنچ گئے ،مری میں فوجی دستے سول انتظامیہ کی مدد میں مصروف ہیں ،ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق مری ڈویژن کے دستے ٹریفک میں پھنسے افراد کو نکالنے میں مصروف ہیں مرکزی شاہراہو ں کو کھولنے کے لیے آرمی انجینئرز بھی پہنچ گئے، لوگوں کو کھانا،پانی، چائے و دیگر ضروری سامان فراہم کیا جا رہا ہے لوگوں کومحفوظ شیلٹر فراہم کیا گیاہے ایف ڈبلیو او کے جوان مشینری کے ساتھ روڈ کھولنے میں مصروف ہیں
جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ مری میں 19سیاحوں کی ہلاکت اندوہناک سانحہ ہے، بغیر وارننگ سیاحوں کو داخلے کی اجازت دی ،برف باری میں پھنسے لوگوں کو بے یار ومددگارچھوڑ دیا گیا،مری کے عوام اپنے پاکستانی بہن بھائیوں کی مدد کریں،
مری اور گلیات میں سیاحوں کی اموات کے خلاف مذمتی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دی گئی،قرارداد رکن پنجاب اسمبلی رابعہ فاروقی نے جمع کروائی ،،قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ ایوان مری اور گلیات میں سیاحوں کی اموات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتا ہے،مری واقعہ انتظامی نااہلی اور مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہےحکومت کی انتظامی صلاحیت نہ ہونے کے برابر ہے، شہریوں کو بچانے اور محفوظ مقامات تک پہنچانا حکومت کی ذمہ داری ہے،محکمہ موسمیات کی پیشن گوئی کے باوجودحکومت کا حرکت میں نہ آنا سنگین جرم ہے، مجرمانہ غفلت پر وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب فی الفور مستعفی ہوں
سابق وزیراعظم ،ن لیگ کے رہنما شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ حکومت مری میں پھنسے سیاحوں کی مدد کرنے سے قاصر ہے،وزرا اور حکام فوٹو بنا بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال رہے ہیں بدنصیبی ہے کہ ایسے لوگ ملک کے حکمران ہیں،مری میں سیاحوں کی اموات پر افسوس ہے، مری میں مقامی افراد سیاحوں کی مدد کررہے ہیں، ریکارڈ برفباری سے متعلق محکمہ موسمیات ایک ہفتہ قبل بتا چکا تھا،یہ جھوٹ سے نہیں چھپ سکتے،یہ آپ کی غفلت ہے اربوں روپے کی مشینری مری میں موجود ہے کالاباغ سے لیکر باڑیاں تک گلیات کی سڑک بند ہے،