Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • سانحہ  ، بائی پاس  ڈی جی خان  تحریر:  محمد ابراہیم

    سانحہ ، بائی پاس ڈی جی خان تحریر: محمد ابراہیم

    اکرم نے اسلم سےکہا کہ بھائی ماں کے لیےاس عید پر دو سوٹ لیتے ہیں۔ امجد نے بھی ان سے اتفاق کیا۔ لیکن تینوں تھوڑی دیر تک خاموش ہو گئے۔ پھر اسلم نے کہ ہم ایسا کرتے ہیں کہ ابو جان کے لیے بھی دو سوٹ لیتے ہیں۔ سب نے اتفاق کیا۔ تھوڑے توقف کے بعد امجد بولا ، اپنی تین بہنیں کیا سوچیں گی؟ ان کے لیے بھی دو دو سوٹ لیتے ہیں۔

    سب نے اتفاق کیا۔ ماں اور بہنوں کے لیے چوڑیاں بھی خریدنی ہیں۔ سب نے اتفاق کیا۔ جوتے بھی خریدے گئے۔ لیکن جب حساب ہونے لگا تو قربانی اورکرائے کا خرچہ نکال کر ان کے پاس اپنے سوٹوں کی رقم نا ہونے کے برابر تھی۔ تینوں نے فیصلہ کیا کہ ہم اپنے لیے لنڈے کے دو دو سوٹ لے لیتے ہیں۔ اس کو صحیح دھلوا کر استری کر لیں گے اور یوں ہم اپنوں کے لیے سب چیزیں اچھی والی خرید سکیں گے۔ تینوں بھائیوں نے اتفاق کیا۔ عید سے دو دن پہلے یہ سب چیزیں شاپنگز کر کے ایک بیگ میں رکھ لی گئی۔ ان میں سے ایک کی شادی بھی ہونے والی تھی۔ گھر میں ان تینوں بھائیوں کا بڑی بے صبری سے انتظارہو رہا تھا۔ تینوں بہنوں کی بے چینی انتہاء پر تھی کیونکہ انھیں معلوم تھا کہ ان کے تین ویر 6 ماہ بعد گھر آ رہے ہیں تو ان کے لیے بہت کچھ لائیں گے۔ ابو نے ان تینوں سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ

    سیالکوٹ سے راجن پور براستہ ڈیرہ غازی خان بس آ رہی ہے ہم کل بیٹھ جائیں گے۔ پھر اگلے دن وہ روانہ ہوئے۔ تینوں بہنیں ہر گھنٹہ بعد اپنے ابو سے کہتیں کہ رابطہ کریں کہ وہ کہاں پہنچ گئے ہیں۔ رات بارہ بجے تک انھوں نے رابطہ رکھا۔ پھر کچھ دیر کے لیے نیند آ گئی۔ صبح کی نماز کے وقت جلدی بیدار ہوئیں۔ ابو سے کہا کہ رابطہ کریں۔ پتہ چلا کہ پل قمبر کراس کر لی ہے۔ انتظار بڑھتا جا رہا تھا۔ کوئی ایک گھنٹے بعد ابو کا موبائل بجنے لگا، تو تینوں بہنیں چہک کر والد کے پاس آ بیٹھیں کہ شاید ان کے بھائی قریب پہنچ گئے ہیں۔ لیکن والد صاحب بس سن رہے تھے ، کوئی جواب نہیں دے رہے تھے۔ باپ کے چہرے پر سنجیدگی بہت گہری ہوئی۔ تو تینوں بہنوں نے اپنے ابو سے کہا کہ کیا ہوا ابو، کیا ہوا ابو۔ ابو سے اور کچھ نا بولا گیا، بس یہی کہا “میں بوڑھا ہو گیا ہوں دعا کرو اللہ پاک اس امتحان میں کامیاب کرے”۔ پھر چند لمحہ بعد مزید کالز آتی رہیں۔ ایک کالز پر ابا جی گر پڑے۔ بہنوں کو معلوم ہوا کہ بس کو حادثہ ہو گیا ہے۔ ماں صدمہ سے نڈھال ہوئی۔ بہنوں نے رو رو کر اپنا حال برا کیا۔

    چند گھنٹوں بعد ایمبولینس کی آواز آئی۔ سب رشتہ دار آ چکے تھے۔ تھوڑی دیر میں ان تینوں شہزادوں کی لاشوں کو الگ الگ چار پائی پر لایا گیا۔ ہر آنکھ اشک بار تھی۔ در و دیوار رو رہے تھے۔ آسمان غم میں تھا۔ ماں باپ اور بہنیں ہوش میں نا تھیں۔ وہ شاپنگ بیگ جس میں چھ ماہ کی مزدوری تھی۔ کھولا گیا تو کیا شاندار کپڑے، جوتے اور چوڑیاں تھیں۔ اپنے لیے لنڈے کے وہ سوٹ لائے تھے لیکن ماں باپ اور بہنوں کے لیے بہترین کوالٹی کی چیزیں۔ اللہ اکبر۔

    یہ کہانی میرے وسیب کے بیرون شہر و ملک رہنے والے مزدور شہزادوں کی ہے۔ جو اسلام آباد،راولپنڈی سے اپنا خون پسینہ ایک کر کے پتہ نہیں کس طرح اپنوں کو خوش کرتے ہیں۔ خود کڑی دھوپ اور گرمیوں میں کام کرتے ہیں لیکن اپنوں کو ہر سکون دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ خود لنڈے کے کپڑے پہن کر دنیا کو اچھا دکھاتے ہیں لیکن اپنوں کے لیے اصلی کپڑے اور جوتے لاتے ہیں۔

    اس سانحہ عظیم پر بھی حکومت وقت نا جاگی تو کب جاگے گی؟؟ یہ قاتل انڈس ہائی وے تونسہ روڈ کب ڈبل کرے گی؟ یہ تیز رفتاری کو کب چیک کرے گی؟ یہ رشوت دے کر لائسنس بنانے اور بنوانے والوں کو کب سخت سے سخت سزا دے گی؟ ہم کب تک اپنے وسیب کے گھروں کو اجڑتا دیکھتے رہیں گے؟
    اللہ پاک شہداء سانحہ بائی پاس ڈیرہ غازی خان کے تمام افراد کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور تمام لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے۔ امین

    نوٹ: یہ میری تحریر سانحہ بائی پاس ڈیرہ غازی خان کے حوالے سے تخیلاتی ہے جس میں ایک گھر کے حقیقی درد کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے اور حکومت وقت سے چند سخت سوالات پوچھنے کی کوشش کی ہے۔ اس میں فرضی نام ڈالے گئے ہیں۔.

  • نور قتل کیس،پستول سے فائرنگ ہوئی یا نہیں؟ پولیس کا تہلکہ خیز انکشاف

    نور قتل کیس،پستول سے فائرنگ ہوئی یا نہیں؟ پولیس کا تہلکہ خیز انکشاف

    نور قتل کیس،پستول سے فائرنگ ہوئی یا نہیں؟ پولیس کا تہلکہ خیز انکشاف

    اسلام آباد کے سیکٹر ایف 7 فور میں سابق سفارتکار کی بیٹی کے قتل کا واقعہ پولیس نے جائے وقوعہ سے شہادتیں اکٹھی کرکے فارنزک لیبارٹری بھجوا دیں،

    موقع سے خون آلود چاقو، ایک پستول، 100 سے زیادہ گولیاں برآمد ہوئی ہیں چاقو پر لگے خون اور مقتولہ کے خون کا سیمپل میچنگ کیلئے لیبارٹری بھجوا دیا گیا، ڈی این اے ٹیسٹ کیلئے بھی مقتولہ اور ملزم کے سیمپل بھجوادیے گئے، پولیس نے مقتولہ اور ملزم کے والدین کے بیانات بھی قلمبند کرلیے، پولیس نے ملزم کے گھر کے 2 سیکیورٹی گارڈز کے بیانات بھی قلمبند کرلیے،

    ایس ایس پی انویسٹی گیشن عطاالرحمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ملزم پولیس کی کسٹڈی میں ہے اور تفتیش جاری ہے لڑکی کے قتل کے ملزم کو موقع واردات سے گرفتار کیا گیا، متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑے ہیں ان کو انصاف کی فراہمی ہماری ذمہ داری ہے، آئی جی اسلام آباد نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا، متاثرہ خاندان سے ملاقات کی،پولیس نے ملزم کے گھر کے 2 سیکیورٹی گارڈز کے بیانات بھی قلمبند کرلیے، ایک پستول اور گولیاں برآمد ہوئی ہیں لیکن فائرنگ نہیں کی گئی،فارنزک ٹیم نے تمام شواہد موقع سے اکٹھے کرلیے ہیں،لڑکی کے قتل سے متعلق علاقہ مکین نے اطلاع فراہم کی،تفتیش کررہے ہیں کہ نورمقدم کتنے عرصے سے یہاں پر تھی،

    ایس ایس پی عطاء الرحمان کا کہنا تھا کہ پولیس نے گھر کے ملازمین کے بیانات بھی قلمبند کرلیے،ایک پستول برآمد ہوا ہے جس میں گولی پھنسی ہوئی تھی ،گرفتاری کے وقت ملزم نشے میں نہیں تھا، ملزم کے کرائم ریکارڈ کو ملک بھر میں چیک کیا جارہا ہے،ملزم بحالی سینٹر میں رہا یا نہیں ہمیں اس سے کوئی واسطہ نہیں گرفتارملزم پر ماضی میں کسی کیس کی تفصیل ہمارے پاس نہیں ،برآمد ہونےو الے پستول سے گولی فائرنہیں ہوئی،

    واضح رہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جرائم میں کمی نہ ہو سکی،سابق سفیر کی بیٹی کو قتل کر دیا گیا اسلام آباد کے تھانہ کوہسار کی حدود میں قتل ہونے والی نور مقدم کے والد شوکت علی مقدم نے بیٹی کے قتل کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا ہے رات کو تھانہ کوہسار سے کال آئی کہ نور مقدم کا قتل ہو گیا ہے اور جب میں نے موقع پر پہنچ کر دیکھا تو میری بیٹی کا گلا کٹا ہوا تھا

    مالی نے خاتون کے ساتھ زیادتی کے بعد دوستوں کو بلا لیا،اجتماعی درندگی کا ایک اور واقعہ

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    لڑکی کو برہنہ کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کو پولیس نے عدالت پیش کر دیا

    کیا فائدہ قانون کا، مفتی کو نامرد کیا گیا نہ عثمان مرزا کو،ٹویٹر پر صارفین کی رائے

    لڑکی کو برہنہ کرنے کی ویڈیو، وزیراعظم عمران خان کا نوٹس، بڑا حکم دے دیا

    عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

    پاکستان کے سابق سفیر شوکت علی مقدم کی بیٹی نور مقدم کے قتل کا مقدمہ تھانہ کوہسار میں درج کیا گیا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کے والد شوکت علی مقدم کی مدعیت میں قتل کی دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، تھانہ کوہسار میں درج ہونیوالے ایف آئی آر کے مطابق شوکت علی مقدم نے اپنے بیان میں پولیس کو بتایا کہ 19جولائی کونورمقدم فیملی کی غیرموجودگی میں گھرسے نکلی اور ہمیں رات کے وقت اطلاع ملی کہ وہ دوستوں کے ساتھ لاہورجارہی ہے نور نے ایک دو دن میں واپس آنے کا کہا۔ ملزم ظاہر جعفر سے فیملی طرز کی جان پہچان تھی کل دوپہر ظاہرجعفر کا ٹیلیفون آیا کہ نوراس کیساتھ نہیں ہے رات کو تھانہ کوہسار سے کال آئی کہ نور مقدم کا قتل ہو گیا ہے اور جب میں نے موقع پرپہنچ کردیکھا تو میری بیٹی کا گلا کٹا ہوا تھا

  • کھوکھر پیلس کے قریب کھوکھر آپس میں‌ لڑ‌پڑے، اندھا دھند فائرنگ،ایک گرفتار،دوسرا فرار

    کھوکھر پیلس کے قریب کھوکھر آپس میں‌ لڑ‌پڑے، اندھا دھند فائرنگ،ایک گرفتار،دوسرا فرار

    کھو کھر پیلس کے باھر نزد ایوب چوک جوہر ٹاون لاھور میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے

    کھو کھر پیلس کے باھر سروس روڑ پر فیصل ایوب کھوکھر اپنی گاڑی نمبر AAW-888 لینڈ کروزر رنگ سیاہ پر ڈرائیوار کے ہمراہ پہنچے تو اعظم کھوکھرگاڑی نمبر LE-12-621 ویگو ڈالا رنگ سیاہ سے آمنا سامنا ہوا جس کے بعد دونوں فریقین نے ایک دوسرے کی گاڑیوں پر سیدھی فائرنگ کی

    جسکی وجہ سے فیصل کھوکھر کی گاڑی کی فرنٹ سکرین بیک سکرین سائیڈ شیشے پر فائر لگے ھیں اور اعظم کھوکھر کی گاڑی کی فرنٹ سکرین سائید شیشے پر فائر لگے ھیں چوکی انچارج ایل بلاک نے موقع پر پہنچ کر اعظم کھو کھر کو گرفتار کر لیا ھے اور موقع سے فیصل ایوب کھوکھر فرار ھو گیا ہے

    پولیس نے ملزم سے ۔ 9Mm پسٹل 2 عدد ،رواند زندہ 36 ،میگرین SMG – 07 عدد قبضہ پولیس میں لیے ھیں،فائرنگ سے کوئی بھی فریق زخمی نہ ھوا ھے صرف بتلایا گیا ھے کہ اعظم کھوکھر ولد جہانگیر کھوکھر کے پاوں پر شیشہ لگنے سے زخمی ھوا ھے جسکو چوکی انچارج ایل بلاک نے طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا ہے

  • تفتیشی افسر کو رشوت کی پیشکش کرنیوالا ملزم گرفتار

    تفتیشی افسر کو رشوت کی پیشکش کرنیوالا ملزم گرفتار

    تھانہ ائیر پورٹ کے تفتیشی آفیسر کو رشوت کی پیش کش کرنے والا شخص گرفتار کر لیا گیا

    ملزم نے مقدمے میں نامزد فرخ کھوکھر کو بے گناہ کرنے کے لیے رشوت کی پیشکش کی تھی، گزشتہ روز فرخ کھوکھر کے خلاف شہری کے پلاٹ پر قبضے کی کوشش کرنے کی درخواست پرمقدمہ درج کیا گیا تھا، انچارج چوکی گلریز عثمان سب انسپکٹر کو واجد محمود عباسی نےساڑھے 03 لاکھ روپے بطور رشوت پیش کی،

    پولیس حکام کے مطابق پیش کردہ رقم تفتیشی افسر عثمان نے بطور وجہ ثبوت قبضہ پولیس میں لے کر ملزم واجد محمود کے خلاف مقدمہ درج کر کے اُسے گرفتار کر لیا، ایس پی پوٹھوہار نے ایس ایچ او اور چوکی گلریز ٹیم کو شاباش دی اور کہا کہ تفتیشی آفیسر عثمان کی اپنے پیشے سے وفاداری اور ایمانداری کی مثال قابل تقلید ہے،

    واضح رہے کہ فرخ کھوکھر کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے،تا ہم پولیس ابھی تک ملزم کو گرفتار نہیں کر سکی، پولیس کا کہنا ہے کہ جلد ملزم کو گرفتار کر لیا جائے گا،

  • دہشتگردی اور ہمارا معاشرہ  تحریر: محمد اشرف

    دہشتگردی اور ہمارا معاشرہ تحریر: محمد اشرف

    دہشتگردی ایک ایسا موضوع ہے جو موجودہ دور میں بین الااقوامی سطح پر سے گھمبیر مسئلہ بن چکا ہے۔ یہ ایک مطلب براری کا وحشیانہ حربہ ہے جس کے ذریعے کچھ لوگ، گروہ یا ممالک اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اگر ہماری تاریخ میں دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ماضی میں طاقت ور ممالک کی باہمی آویزشیں کئ صورتوں میں سامنے آئی ہیں ۔
    دہشتگردی کے محرکات کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے متعدد عوامل کارفرما ہوتے ہیں ۔پہلے تو اسکی سرپرستی مختلف ممالک کررہے ہوتے ہیں ۔ایک ملک دہشتگردی کے ذریعے دوسرے ملک کو دبا کر اپنے مخصوص مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔اس ضمن میں دنیا کے طاقت ور ممالک کی خفیہ ایجنسیاں مثلاً امریکا کی ایجنسی’سی آئی اے اور روسی ایجنسیاں وغیرہ سرگرم عمل دکھائی دیتی ہیں ۔ایسی ایجنسیاں خفیہ طریقوں سے ممالک میں دہشت گرد حملے کراتی ہیں ۔
    دہشت گردی کی کئی صورتیں ہوتی ہیں جیسا کہ فرقہ واریت ،طبقاتی کشمکش ،غربت وبے روزگاری اورخودکش دھماکہ وغیرہ دہشت گردی کی خطرناک ترین صورت ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دہشتگردی کے ناسور سے نجات کیسے ممکن ہے ۔اس ضمن میں بین الا قوامی سطح پر اقوام متحدہ کو کردار ادا کرنا چاہیے ۔یہ حقیقت ہے اگر اقوام متحدہ یہ پابندی لگا دے کہ کوئی ملک ذاتی دشمنی میں کسی دوسرے ملک میں کوئی تخریبی کاروائی یا دہشت گردی کی سرپرستی نہیں کرسکتا تو کوئی وجہ نہیں کہ دہشت گردی کا پودا جڑ سے نہ اکھڑ جائے۔مزید کہ عالمی سطح پر ناجائز قبضے ختم کروائے جائے تاکہ حاکم اور محکوم کے درمیان آویزش ختم ہو جائے۔
    جہاں تک علاقائی دہشتگردی کا تعلق ہے، اسکو ختم کرنے کیلئے تعلیم کو فروغ دینے کی ضرورت ہے ۔ دنیا کی ہر ریاست کو چاہئے کہ عوام کیلئے مناسب تعلیم اور روزگار کا بندوبست کرے۔ قوم کے مناسب تعلیم اور بروقت روزگار مل جائے گا تو وہ خود ان سرگرمیوں سے دور رہیں گے ۔ اسطرع ملک میں عدل و انصاف پیدا ہوگا۔
    ہمارے اساتذہ اور مزہبی زُعما کو بھی اپنی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے ۔انھیں طالبعلموں اور عوام الناس میں رواداری ،برداشت اور بھائی چارے کی فضا پیدا کرنی چاہیے ۔ظاہر ہے کہ جب اَہل معاشرہ اِحترام آدمیت کے پاسدار ہو جائیں گے تو وہ ایک دوسرے کو تکلیف پہنچانے کی بجائے ایک دوسرے کی راحت کے اَمین بن جائیں گے ۔

    @M_Ashraf26

  • آخر اور کتنے گھر اجڑیں گے..  تحریر: احمد فراز

    آخر اور کتنے گھر اجڑیں گے.. تحریر: احمد فراز

    ابھی خبر دیکھی کہ بس اور ٹریلر کے حادثہ میں 40 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 30 مسافروں کی حالت تشویشناک ہے اتنی جانوں کے نقصان پر افسوس تو ہے لیکن اس سے بھی زیادہ خطرناک یہ بات ہے کہ ایسے واقعات آئے روز ہوتے رہتے ہیں لیکن ہم تھوڑی دیر بعد بھول جاتے ہیں اور ان واقعات کی روک تھام کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھاتے…

    لیکن ہم شروع کریں بھی تو کہاں سے

    ڈرائیور حضرات اندھا دھند تیز رفتار سے گاڑیاں چلاتے ہیں اس پر تشویشناک بات تو یہ ہے کہ 90 فیصد ڈرائیور کسی نا کسی طرح کے نشہ کے زیر اثر ہوتے ہیں پھر بسوں کی حالت بھی قابل رحم ہوتی ہے چالیس پچاس سال پرانی بسیں اس قابل کہاں رہ جاتی ہیں کہ وہ ہزار بارہ سو کلومیٹر روزانہ چلائی جا سکیں پھر ہمارے ہاں گاڑیوں کی جانچ پڑتال کر کے سرٹیفکیٹ دینے کا نظام بھی بہت کمزور ہے اکثر تو گاڑیاں گھر بیٹھے ہی پاس ہو جاتی ہیں اور پھر رشوت دو بیشک بس کے نام پر چھکڑا بھی پاس کروا لیں
    ٹریفک کنٹرول سسٹم بھی تو ہمارے ہاں ناکارہ ہے لائسنس رشوت دیکر بن جاتے چاہے کوئی اندھا بنوا لے اور ٹریفک پولیس تو لگتا بس چالان کاٹنے اور رشوت لینے کیلئے ہے ٹریفک کی بہترین روانی اور محفوظ سفر کیلئے یہ کہیں دکھائی نہیں دیتے…
    پھر بحیثیت ڈرائیور ہم سب بھی ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کرتے ہیلمیٹ پہننا، سیٹ بیلٹ لگانا،رفتار کا خیال رکھنا اور ٹریفک قوانین کی پابندی کرنا ہمیں بے عزتی محسوس ہوتی ہے

    اب تو ہمیں سمجھنا ہو گا اور ہر ایک کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا حکومت اور متعلقہ اداروں کو نظام بہتر بنانا ہو گا اور عام عوام کو بھی با شعور ہونا اور قوانین کا پابند ہونا ہو گا تبھی ہم اپنے سمیت کئی گھر اجڑنے سے بچا سکتے ہیں

  • شراب پینے سے منع کرنے پر بدبخت بیٹے نے باپ کو قتل کردیا

    شراب پینے سے منع کرنے پر بدبخت بیٹے نے باپ کو قتل کردیا

    سرگودھا میں تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن کےعلاقے میں عید کے موقع پر شراب پینے سے منع کرنے پربیٹے نے باپ کو قتل کر دیا۔

    باغی ٹی وی : پولیس کے مطابق سرگودھا میں تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن کےعلاقے یوسف پارک میں ملزم سکندر حیات شراب پی کر گھر آیا تو والد نے اسے برا بھلا کہا۔

    پولیس کےمطابق نشہ میں دھت سکندر حیات نے پستول نکال کر باپ پر فائرنگ کردی فائر لگنے سے والد فتح محمد شدید زخمی ہو گیا زخمی فتح محمد کو ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکا۔

    پولیس نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔

  • عنوان:پاکستان میں ریپ کے بڑھتے واقعات قصوروار کون؟ تحریر:ملک حسن وزیر

    عنوان:پاکستان میں ریپ کے بڑھتے واقعات قصوروار کون؟ تحریر:ملک حسن وزیر

    ہمارے ہاں جب بھی ریپ کا کوئی واقع پیش آئے، تو معاشرے کا ایک طبقہ مختلف نقاط، جیسے کہ عورت کا لباس،عورت کی آزادی،عورت کی تعلیم وغیرہ کو بنیاد بنا کر عورت کو ہو موردالزام ٹھہرا دیتا ہے۔یعنی مظلوم کو ہی ظلم کی وجہ بنا دیا جاتا ہے۔

    مجھے اس سے اختلاف ہے۔ دو حرفی بات یہ ہے کہ ریپ کی وجہ صرف اور صرف ریپ کرنے والا مرد ہے۔

    اس معاشرے میں برقع پوش خواتین کے ساتھ ریپ ہوئے، چھوٹی بچیاں اس ظلم کا نشانہ بنیں، درندوں نے چھوٹے لڑکوں کو بھی نہیں بخشا۔ ‏ابھی کچھ روز پہلے ملتان میں ایک لڑکے کے ساتھ زیادتی کرنے کی کوشش کی کی تو جب اس لڑکے نے ریکیشن دیا تو اس کو گولی مار دی گئی۔ ابھی چند دن پہلے ایک چھوٹی بچی کے ساتھ زیادتی کرکے اس کو مار کے اس کے جسم کو آگ لگادی گئی۔ زینب کا واقعہ ہم سب کو یاد ہے۔ اس طرح کے سینکڑوں واقعات ہم سب نے سن رکھے ہیں۔

    ان بچوں نے کون سی حد پار کی تھی؟ کیا اپنے ساتھ ریپ ہونے کی وجہ یہ بچے خود تھے؟ انکا لباس تھا؟ انکی مادر پدر آزادی تھی؟

    ‏مجرم ہمیشہ ریپ کرنے والا ہے نا کہ ریپ ہونے والا۔

    اگر کوئی مرد بچوں کا ریپ کر رہا، بچیوں کا ریپ کر رہا ہے، خواتین کا ریپ کر رہا ہے تو مسئلہ اس ریپ کرنے والے مرد کے ساتھ ہےاور اسی کی ہمیں بطور معاشرہ روک تھام کرنی ہے۔

    Twitter account @MH__586

  • قاتل روڈ  تحریر: علی رضا بخاری

    قاتل روڈ تحریر: علی رضا بخاری

    اہلیان ضلع ڈیرہ غازی خان و ضلع راجن پور 34 افراد بے موت لقمہ اجل، 40 سے زائد زخمی، 70 سے 75 خاندان برباد ہوئے، ہر آئے روز اس قاتل خونی سنگل انڈس ہائی وے کشمور، راجن پور تا ڈی جی خان، رمک اٹھتے لاشے قیامت صغری کا منظر تڑپتے لاشے کٹے پھٹے جسم، سسکیاں اور آہیں جو کہ حاکم وقت کے کانوں تک پہنچنے سے شاید قاصر ہیں، 20 سے 40 سال کےجوان صرف روزی روٹی کی خاطر پنجاب کے بڑے شہروں میں اپنوں سے دور اپنے علاقوں میں روزگار میسر نہ ہونے کے سبب مجبور بس حادثے میں اللہ کو پیارے ہو گئے، کئی بہنوں کے بھائی کئی سہاگنوں کے سر کے سائیں، کئی مائوں کے راج دلارے، جگر کے ٹکڑے ،کئی خاندانوں کے واحد کفیل، اور درجنوں اپاہج ہونے والے مجبوری اور بے بسی کی تصویر بنے لاش نما زندہ چہرے آپ سے شاید کہہ رہے ہوں کہ کس کو قاتل کہیں کس کو مقتول کہیں، 40 سال سے یہ قاتل خونی سنگل روڈ کئی حادثات کو جنم دے چکا ہے کیا اب بھی کسی اور خونی منظر، کسی قیامت صغری کا مزید انتظار ہے، اس المناک حادثے نے پورے وسیب کو ہلا کر رکھ دیا ہے، اب اس معاملے پر خاموشی بےحسی ہوگی، کب تک بے بس زندگی گزارتے رہیں گے، کب تک اپنوں کی لاشوں کو کاندھا دے کر تیرا سردار میرا سردار زندہ باد کے نعرے لگاتے رہیں گے، کب تک پارٹی پارٹی کھیلتے رہیں گے، کب تک اپنے خون کو پانی کی طرح بہتا دیکھ کر خاموش تماشائی بنے رہیں گے، خدا کے لئے ہر گروپ ہر پارٹی کو سائیڈ پہ رکھ کر اس قاتل خونی روڈ کو ون وے دو رویہ ڈبل کرانے میں اپنا کردار ادا کریں، سوال یہ ہے کہ یہ روڈ پچھلے کئی سالوں سے ہر دوسرے دن کسی نہ کسی معصوم کی جان لیتا ہے، پریس کانفرنسوں میں یہ روڈ منظور ہے مگر اصل میں کب بنے گی؟ ہم اگر عملی طور پر بطور معاشرہ قدم نہیں اٹھا سکتے تو کم سے کم سوشل میڈیا پر آواز اٹھا سکتے ہیں سنا ہے سوشل میڈیا پر کیے گئے احتجاج پر جلد ایکشن لیتے ہیں۔

    @aliraza_rp

  • ڈاکٹر کا اجتماعی عصمت دری کا شکار لڑکی کے علاج سے انکار

    ڈاکٹر کا اجتماعی عصمت دری کا شکار لڑکی کے علاج سے انکار

    ڈاکٹر کا اجتماعی عصمت دری کا شکار لڑکی کے علاج سے انکار
    میگھالیہ کے جنوبی گارو پہاڑی ضلع میں پولیس اجتماعی عصمت دری کی شکار ایک نابالغ خاتون کے علاج کرنے سے انکار کرنے پر ایک ڈاکٹر کے خلاف عدالت میں کارروائی کررہی ہے۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ڈاکٹر کے اس غیر انسانی عمل سے 14 سالہ لڑکی کو دوسرے اسپتال میں علاج کے لئے 75 کلومیٹر سفر کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ پولیس حکام نے ساوتھ ایشین وائر کو بتایا کہ وہ یہ معاملہ حکومت کے ساتھ ساتھ عدالت میں بھی اٹھا رہے ہیں۔اس کے دو پہلو ہیں۔ ایک انتظامی جس پر ہم اس معاملے کو حکومت کے سامنے اٹھا رہے ہیں۔ دوسرا قانونی پہلو ہے۔ جس کے لئے ہم عدالت جا رہے ہیں۔ اگر عدالت یہ کہتی ہے کہ ڈاکٹر کی کارروائی قابل فہم جرم ہے تو ہم اس کے خلاف مقدمہ درج کریں گے۔

    ساتھ گارو ہلز کے سپرنٹنڈنٹ پولیس ، ریتوراج روی ایس نے ساوتھ ایشین وائر کو بتایاکہ بچی جسمانی طور پر ٹھیک ہونے کے باوجود صدمے میں تھی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پولیس نے چارافراد کو گرفتار کیا ہے۔ جنوبی گارو پہاڑیوں کے نونگلبیرا میں پیش آنے والے واقعے کے بعد ، متاثرہ لڑکی کو پولیس نے اسے مشرقی گارو ہلز ضلع کے ولیم نگر کے سرکاری زیر انتظام سول اسپتال پہنچایا جہاں کے ڈاکٹر نے اس بنیاد پر علاج کرنے سے انکار کردیا کہ یہ جرم کسی دوسرے ضلع میں ہوا ہے۔