Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • رینالہ خورد: سیل شدہ دکان ،ڈی سیل کرنے پر ایک شہری کے خلاف کارروائی، دیگرمحفوظ

    رینالہ خورد: سیل شدہ دکان ،ڈی سیل کرنے پر ایک شہری کے خلاف کارروائی، دیگرمحفوظ

    رینالہ خورد (نامہ نگار) موبائل مارکیٹ میں سیل شدہ دکان استعمال کرنے پر ایک شہری کے خلاف مقدمہ درج کر دیا گیا ہے، جبکہ دیگر خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ متاثرہ دوکاندار نے میونسپل کمیٹی کے انفورسمنٹ انسپکڑ کاشف شریف کی جانب سے دوہرا معیار اپنانے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب سے فوری کارروائی کا مطالبہ کر دیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق، تقریباً ایک سال قبل پرانی سبزی منڈی رینالہ خورد کی اراضی پر دوکانات تعمیر کی گئیں اور ان کی نیلامی کی گئی۔ چند ماہ بعد زائد کرایہ کی عدم ادائیگی پر ان دوکانوں کو سیل کر دیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق، متعدد دوکانداروں نے مبینہ طور پر سیل شدہ دوکانیں خود ہی ڈی سیل کرکے استعمال شروع کر دیا، مگر خلاف ورزی کرنے والے دیگر دوکانداروں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے، صرف ایک دوکاندار، سابق فوجی محمد اکرم، کے خلاف مقدمہ درج کر دیا گیا۔

    محمد اکرم نے وزیر اعلیٰ پنجاب، کمشنر ساہیوال، ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ اور اسسٹنٹ کمشنر رینالہ خورد سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے میں یکساں اور شفاف کارروائی کی جائے تاکہ کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہ ہو۔

  • ٹھٹھہ: گٹروں کا زہریلا پانی گھار مسان شاخ میں چھوڑ دیا گیا، شہری مضرصحت پانی پینے پر مجبور

    ٹھٹھہ: گٹروں کا زہریلا پانی گھار مسان شاخ میں چھوڑ دیا گیا، شہری مضرصحت پانی پینے پر مجبور

    ٹھٹھہ (بلاول سموں) ٹھٹھہ شہر کے مین گٹر اور سیم نالوں کا زہریلا اور گندا پانی گھار مسان شاخ میں چھوڑے جانے کے باعث شہری شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ شہری آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں، جس سے نہ صرف ان کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہے بلکہ زرعی زمینیں اور فصلیں بھی شدید نقصان کا شکار ہو سکتی ہیں۔

    شہر کے سیاسی و سماجی رہنما جی ڈی اے کے شاہنواز بروہی نے اس صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ گھار مسان شاخ میں ٹھٹھہ شہر کے گٹروں اور سیم نالوں کا زہریلا پانی چھوڑا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی شاخ کے پانی کو ٹھٹھہ اور مکلی کے رہائشی پینے اور زرعی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں، مگر اس میں آلودہ پانی شامل ہونے سے انسانی صحت اور جانوروں کی زندگی دونوں شدید خطرے میں ہیں۔

    شاہنواز بروہی نے مطالبہ کیا کہ انتظامیہ فوری طور پر گھار مسان شاخ سے گندا پانی نکال کر صاف پانی چھوڑے تاکہ ممکنہ آلودگی سے انسانی جانوں اور فصلوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی موجودہ خاموشی ناقابل قبول ہے اور شہریوں کی زندگیوں اور معیشت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

    شہریوں نے احتجاج کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو وہ سڑکوں پر نکل کر اپنی جان و مال کے تحفظ کے لیے خود اقدامات کرنے پر مجبور ہوں گے۔ احتجاجیوں نے حکومت اور متعلقہ محکموں سے مطالبہ کیا کہ اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے اور شہر کے مکینوں کے لیے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

    ماہرین صحت بھی شہریوں کو متنبہ کر رہے ہیں کہ آلودہ پانی پینے سے مہلک بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ ہے، جس میں ہیضہ، ڈائریا، اور دیگر وائرل انفیکشن شامل ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ فوری طور پر پانی کے معیار کی جانچ کی جائے اور شہریوں کو صاف پانی کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔

  • لنڈی کوتل: پولیس کی منشیات کے خلاف کارروائی، 986 ایکسٹسی گولیاں برآمد، اسمگلر گرفتار

    لنڈی کوتل: پولیس کی منشیات کے خلاف کارروائی، 986 ایکسٹسی گولیاں برآمد، اسمگلر گرفتار

    لنڈی کوتل (باغی ٹی وی رپورٹ) ڈی پی او خیبر کی خصوصی ہدایات پر لنڈی کوتل پولیس نے منشیات کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے ایک مشکوک شخص کو گرفتار کر کے 986 نشہ آور ایکسٹسی گولیاں برآمد کر لی ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق ایس ایچ او لنڈی کوتل زاہد اللہ کی نگرانی میں اے ایس ایچ او حضرت حسین نے دلخاد روڈ پر ناکہ بندی کی۔ اس دوران ایک مشکوک شخص اویس ولد اعتبار جان، سکنہ لنڈی کوتل کو روکا گیا اور تلاشی لی گئی۔ پولیس کے مطابق تلاشی کے دوران اس کے قبضے سے 986 عدد ایکسٹسی گولیاں برآمد ہوئیں، جو منشیات فروشوں کی مارکیٹ میں فروخت کے لیے تیار تھیں۔

    ملزم کو موقع پر گرفتار کر کے اس کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے تاکہ منشیات کے نیٹ ورک کو بھی بے نقاب کیا جا سکے۔

    مقامی مشران اور فلاحی تنظیموں نے پولیس کی کارروائی کو سراہا اور مطالبہ کیا کہ منشیات فروشوں کے خلاف کاروائیاں مزید تیز اور مؤثر بنائی جائیں تاکہ علاقے میں منشیات کی فروخت اور نوجوان نسل کی تباہی کو روکا جا سکے۔

    یہ کارروائی خیبر پولیس کی ضلع میں منشیات کے خاتمے کے سلسلے میں جاری کوششوں کا حصہ ہے، جس کا مقصد نہ صرف اسمگلنگ کے نیٹ ورک کو ناکام بنانا بلکہ عام شہریوں کی حفاظت اور امن و امان کو برقرار رکھنا بھی ہے۔

  • صدر زرداری نے ترلائی دھماکے پر دکھ اور متاثرین کے لیے مدد کی ہدایت دی

    صدر زرداری نے ترلائی دھماکے پر دکھ اور متاثرین کے لیے مدد کی ہدایت دی

    صدر آصف علی زرداری نے ترلائی دھماکے پر گہرا دکھ اور افسوس کا اظہار کیا، متاثرین کے لیے مکمل معاونت کی ہدایت دی
    صدر مملکت آصف علی زرداری نے ترلائی دھماکے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی۔
    ‎صدر کا کہنا تھا کہ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ آصف زرداری نے مزید کہا کہ قوم مشکل کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔

  • اوکاڑہ: پتنگ بازی کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن، درجنوں مقدمات، سینکڑوں پتنگیں برآمد

    اوکاڑہ: پتنگ بازی کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن، درجنوں مقدمات، سینکڑوں پتنگیں برآمد

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)اوکاڑہ میں پتنگ بازی، پتنگ سازی اور پتنگ فروشی کے خلاف پولیس کی جانب سے بھرپور کریک ڈاؤن جاری ہے۔ ضلع بھر میں زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت مؤثر اور بلا امتیاز کارروائیاں عمل میں لائی جا رہی ہیں۔

    ترجمان اوکاڑہ پولیس کے مطابق ماہِ جنوری کے دوران پتنگ بازی اور پتنگ فروشی میں ملوث 25 افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے، جبکہ مختلف کارروائیوں کے دوران 622 پتنگیں اور 62 کیمیکل ڈور برآمد کی گئی۔

    پتنگ بازی کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لیے ضلع بھر میں خصوصی پولیس ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جو مسلسل گشت اور مؤثر نگرانی کر رہی ہیں۔ اس سلسلے میں حساس علاقوں کی کڑی مانیٹرنگ کے لیے ڈرون کیمروں اور سیف سٹی کیمروں کی مدد بھی حاصل کی جا رہی ہے۔

    ڈی پی او اوکاڑہ نے کہا ہے کہ پتنگ بازی، پتنگ سازی اور پتنگ فروشی پر مکمل پابندی عائد ہے، اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلا تفریق سخت قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ غیر محفوظ پتنگ بازی انسانی جانوں کے لیے سنگین خطرہ ہے، اس لیے کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔

    اوکاڑہ پولیس نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں پر کڑی نظر رکھیں اور انہیں پتنگ بازی جیسے خطرناک اور جان لیوا مشغلے سے دور رکھیں۔ شہریوں سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ پتنگ بازی کی روک تھام میں پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔

    ترجمان اوکاڑہ پولیس کا مزید کہنا تھا کہ عوامی تعاون کے بغیر اس ناسور کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں، اور پولیس عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔

  • ڈاکو ایک لاکھ ڈالر اور 200 تولے سونا لوٹ کر فرار

    ڈاکو ایک لاکھ ڈالر اور 200 تولے سونا لوٹ کر فرار

    
کراچی کے علاقے بہادر آباد میں ایک شہری سے بڑی ڈکیتی کی واردات سامنے آئی ہے، جس میں ڈاکوؤں نے 200 تولے سونا اور ایک لاکھ امریکی ڈالر اپنے قبضے میں لے لیے۔ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب شہری بینک سے رقم نکلوا کر واپس اپنے گھر کی جانب جا رہا تھا۔
    پولیس کے مطابق ڈاکو بائیک پر سوار تھے اور شہری کی جانب سے بینک سے رقم لینے کے فوراً بعدڈاکوؤں نے شہری کو گھیر لیا، چوری کرنے کے بعد کچھ دور جا کر ان کا توازن بگڑا۔ جس کے نتیجے میں ڈاکوؤں کے ہاتھ سے بیگ گر گیا اور کچھ سونا سڑک پر بکھر گیا، جسے مقامی شہریوں نے فوراً اٹھا لیا۔
    ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہوئے تاہم پولیس نے علاقے میں سرچ آپریشن اور شواہد جمع کرنے کا کام شروع کر دیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ اگر کسی نے ڈکیتی کے دوران رقم یا سونا دیکھا یا پکڑا ہو تو فوری اطلاع فراہم کریں تاکہ ملزمان کی گرفتاری ممکن بنائی جا سکے۔
    ‎واقعہ کے بعد علاقے میں سکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں اور پولیس نے مقامی دکانداروں اور رہائشیوں کو ہوشیار رہنے کی ہدایت بھی کی ہے۔

  • بے قابو کار کی حلوہ پوری کے اسٹال سے ٹکر، 4 ملازمین زخمی

    بے قابو کار کی حلوہ پوری کے اسٹال سے ٹکر، 4 ملازمین زخمی

    ‎کراچی میں ایک بے قابو کار حلوہ پوری کے اسٹال سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں اسٹال کے 4 ملازمین زخمی ہو گئے۔
    ‎واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظرعام پر آ گئی ہے، جس میں کار کے اسٹال سے ٹکرانے کا منظر واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
    ‎زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ پولیس اور ریسکیو اہلکار موقع پر پہنچ گئے ہیں اور واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

  • نوشکی: احمد وال اسٹیشن پر مال بردار ٹرین پر راکٹ حملہ، انجن تباہ

    نوشکی: احمد وال اسٹیشن پر مال بردار ٹرین پر راکٹ حملہ، انجن تباہ

    بلوچستان کے ضلع نوشکی میں ، نامعلوم مسلح افراد نے احمد وال ریلوے اسٹیشن پر کھڑی مال بردار ٹرین کو راکٹ سے نشانہ بنایا، جس سے ٹرین کے انجن کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

    پولیس اور ریلوے ذرائع کے مطابق یہ حملہ گزشتہ رات کے اوقات میں ہوا، جب ٹرین گزشتہ پانچ دنوں سے اسی اسٹیشن پر کھڑی تھی راکٹ لگنے سے انجن مکمل طور پر غیر فعال ہو گیا ہے، اور اب ٹرین کو لے جانے کے لیے دوسرا انجن بھیجنے کا انتظام کیا جا رہا ہے، مگر ابھی تک متبادل انجن نہیں پہنچ سکا، اس حملے سے خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم ریلوے ٹریک اور سامان کی حفاظت کے لیے سیکیورٹی فورسز کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔

    احمد وال ریلوے اسٹیشن نوشکی اور آس پاس کے علاقوں کے لیے اہم لاجسٹک پوائنٹ ہے، جہاں سے سامان کی ترسیل ہوتی رہتی ہے۔ یہ حملہ اس وقت ہوا ہے جب صوبے میں سیکیورٹی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہےاسی علاقے میں گلنگور کے مقام پر بھی نامعلوم افراد نے دھماکہ خیز مواد سے قومی شاہراہ (نیشنل ہائی وے) پر ایک اہم پل کو نشانہ بنایا،جس سے پل کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

    پولیس ذرائع کے مطابق پل کا ایک حصہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے ٹریفک متاثر ہو سکتی ہےیہ پل نوشکی اور دیگر اضلاع کو ملانے والا اہم راستہ ہے،اور اس کی تباہی سے آمدورفت میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

    ریلوے حکام نے تصدیق کی ہے کہ حملے کے بعد فوری طور پر علاقے کی تلاشی شروع کر دی گئی ہے اور سیکیورٹی فورسز نے احمد وال اور آس پاس کے علاقوں میں گشت بڑھا دی ہے حملہ آوروں کی شناخت اور گرفتاری کے لیے تحقیقات جاری ہیں، تاہم ابھی تک کسی گروپ نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔

    مسافروں اور تاجروں میں تشویش پائی جا رہی ہے کہ ایسی کارروائیوں سے سامان کی ترسیل اور روزمرہ زندگی پر اثر پڑ سکتا ہےسیکیورٹی فورسز نے یقین دہانی کرائی ہے کہ صورتحال پر مکمل کنٹرول ہے، اور جلد ہی مرمت کا کام شروع کر دیا جائے گاتاہم،علاقے میں سیکیورٹی انتظامات کو مزید سخت کرنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں ایسی وارداتوں کو روکا جا سکے۔

  • انسداد پتنگ بازی ایکٹ کے تحت کریک ڈاؤن ، 153 افراد گرفتار

    انسداد پتنگ بازی ایکٹ کے تحت کریک ڈاؤن ، 153 افراد گرفتار

    لاہور: پنجاب پولیس کی جانب سے انسدادِ پتنگ بازی ایکٹ کی خلاف ورزی پر صوبہ بھر میں کریک ڈاؤن جاری ہے۔

    ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران لاہور سمیت پنجاب بھر میں 141 مقدمات درج کیے گئے جبکہ 153 ملزمان کو گرفتار کیا گیا، کارر وائیوں کے دوران ملزمان کے قبضے سے 22 ہزار 753 غیر منظور شدہ پتنگیں اور 570 ڈور چرخیاں برآمد کی گئیں لاہور میں غیر قانونی پتنگوں کے کاروبار میں ملوث 81 ملزمان کو گرفتار کیا گیا جبکہ 2807 پتنگیں برآمد ہوئیں۔

    ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق رواں سال صوبے میں دھاتی ڈور اور پتنگوں کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث 4171 ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے گرفتار افراد سے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار سے زائد پتنگیں اور 7985 ڈور چرخیاں برآمد کی گئیں،پتنگ بازوں، مینوفیکچررز اور پتنگیں فروخت کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز اور بھرپور کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے پتنگ بازی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک کریک ڈاؤن جاری رکھا جائے گا۔

  • بھارت : تین بہنوں کی خودکشی کی وجہ کوریائی پاپ کلچر  سے جنونی لگاؤ تھا،پولیس

    بھارت : تین بہنوں کی خودکشی کی وجہ کوریائی پاپ کلچر سے جنونی لگاؤ تھا،پولیس

    بھارت کے شہر غازی آباد میں تین بہنوں کی خودکشی کے بعد ملنے والے ایک نوٹ نے ثابت کیا ہے کہ وہ کوریائی پاپ کلچر کی جنون کی حد تک دیوانی تھیں، ساتھ ہی نوٹ میں گھر کے دباؤ اور خاندانی مالی مشکلات کے آثار بھی نمایاں ہیں۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ تینوں بہنوں کی عمریں 12، 14 اور 16 سال تھیں، جنہوں نے اپنی رہائشی عمارت کی نویں منزل سے کود کر جانیں دیں، واقعے کے پیچھے آن لائن کوریائی ڈرامے اور گیمز کے لیے شدید لگاؤ، گھر کے اندر شدید دباؤ اور خاندانی مالی مشکلات بنیادی وجوہات تھیں۔

    بچیوں کی جانب سے لکھے گئے نوٹ میں خاندان سے متعدد بار معافی مانگی گئی اور یہ احساس ظاہر کیا گیا کہ ان کے احساسات اور جذبات کر ٹھیک طرح سے سمجھا نہیں گیا اور وہ سخت ذہنی دباؤ کا شکار تھیں،کئی صفحات پر مشتمل نوٹ میں کورین میوزک گروپ ’کے-پاپ‘ اور کوریائی اداکاروں کے لیے شدت سے عقیدت کا ذکر تھا۔

    نوٹ میں بچیوں نے لکھا تھا کہ ہمیں کوریائی پاپ موسیقی سے بے حد محبت تھی، ہمیں افسوس ہے کہ شاید آپ سمجھ نہیں پائے کہ ہمارے لیے یہ کتنا اہم تھا یہ ہماری زندگی کا ایک بہت بڑا حصہ تھا بعض اوقات لگتا تھا کہ یہ دنیا ہمارے لیے سب کچھ سے زیادہ معنی رکھتی ہے،نوٹ میں بہنوں نے اپنی کوریائی پسندیدگی اور کے-پاپ، ڈراماز، اور آن لائن گیمز جیسے ’دی بے بی ان یلو‘، ’ایول نن‘ اور دیگر کوریائی، چینی، تھائی اور جاپانی شوز کا ذکر بھی کیا۔

    انہوں نے لکھا کہ کوریا ہماری زندگی ہے، آپ نے ہمیں ہماری زندگی چھوڑنے پر مجبور کیا، اب آپ نے اس کا ثبوت دیکھ لیا،نوٹ میں یہ بھی لکھا تھا کہ ،کسی بھارتی سے شادی کرنے کا سوچنا ہمیں ذہنی دباؤ دیتا تھا، کیونکہ ہم اپنے آپ کو کوریائی دنیا کے قریب محسوس کرتے تھے، ہمیں توقع نہیں تھی کہ ہم اپنی زندگی کے بارے میں ایسے جذبات محسوس کریں گے معاف کرنا،ممی، پاپا۔‘

    پولیس کے مطابق بہنیں کئی سال سے اسکول نہیں جارہی تھیں، اپنا زیادہ تر وقت موبائل فونز پر گزارتی تھیں، اور والد کی سخت تربیت سے دلبرداشتہ تھیں بہنوں نے سوشل میڈیا پر ایک اکاؤنٹ بھی بنایا تھا، جس پر خاصی تعداد میں فالورز جمع ہوئے اور انہوں نے علیزہ، ماریہ اور سِنڈی جیسے مغربی نام بھی رکھے تھے۔

    والد چیتن کمار کو ان کے اکاؤنٹ کا تقریباً دس دن قبل معلوم ہوا، جس کے بعد انہوں نے اسے حذف کر دیا اور بچیوں کے فونز ضبط کر لیےاور انہیں کہا کہ وہ کوریائی مواد نہ دیکھیں اور آن لائن گیمز نہ کھیلیں، جس سے وہ شدید غصے اور ذہنی دباؤ میں تھیں کیونکہ انہیں وہ کوریائی شوز اور مواد دیکھنے کا موقع نہیں ملا جو وہ روزانہ فالو کرتی تھیں۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق غازی آباد کے ایڈیشنل کمشنر آف پولیس، الوک پریادرش نے کہا کہ یہ بچیاں کے-ڈراماز کے زیرِ اثر تھیں انہوں نے اسکو ل چھوڑ دیا اور اپنا ہر وقت موبائل پر دیکھنے میں صرف کیا منگل کی رات، جب باقی خاندان سو گیا، یہ بچیاں اپنے کمرے میں بند ہو گئیں اور خودکشی کر لی۔

    والد چیتن کمار نے تصدیق کی کہ ان کی بیٹیاں کے-ڈراماز کی بہت بڑی مداح تھیں اور تینوں نے کم از کم تین سال سے اسکول جانا بند کر دیا تھا۔ سب سے بڑی بچی کلاس 7 میں، دیگر دو کلاس 6 اور 5 میں اسکول چھوڑ چکی تھیں،تین ماہ قبل بچیوں نے یوٹیوب پر اپنا چینل بنایا تھا، جسے انہوں نے حذف کر دیا، جس سے بہنیں بہت دل شکستہ ہو گئیں۔

    حادثے سے قبل منگل کی رات خاندان نے بھنڈی اور روٹی کا کھانا کھایا، اس کے بعد بچیاں کمرے میں بند ہو گئیں والد کے مطابق، تھوڑی دیر بعد چیخوں اور گرنے کی آوازیں آئیں، جس کے بعد وہ تینوں بہنیں مردہ حالت میں ملی اس واقعے کی تحقیقات میں کچھ تنازعات بھی سامنے ہیں ابتدائی رپورٹس میں بتایا گیا کہ دو بہنیں ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر کودی تھیں جبکہ تیسری الگ کھڑکی سے نیچے اتری۔

    تاہم ایک گواہ نے انڈیا ٹوڈے ٹی وی کو بتایا کہ اس نے دیکھا کہ دو بہنیں کودنے کی کوشش کر رہی تھیں جبکہ تیسری انہیں روکنے کی کوشش کر رہی تھی، پولیس نے کہا کہ کیس میں خاندان کے مالی دباؤ، والد کے سخت ڈسپلن اور بچوں کی آن لائن کوریائی دنیا سے لگاؤ سب پہلو شامل ہیں اور تحقیقات جاری ہیں،ابتدائی طور پر پولیس اس کیس کو خودکشی کے طور پر دیکھ رہی ہے مگر ہر زاویے سے چھان بین کی جارہی ہے۔