Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • فلپائن میں خوفناک آتشزدگی، ہزاروں افراد بے گھر

    فلپائن میں خوفناک آتشزدگی، ہزاروں افراد بے گھر

    فلپائن کے جنوبی علاقے میں واقع ایک ساحلی جزیرے میں لگنے والی ہولناک آگ کے نتیجے میں ہزاروں افراد بے گھر ہو گئے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے اور سرکاری نیوز ایجنسی پی این اے کے مطابق آگ منگل اور بدھ کی درمیانی شب تقریباً رات 10 بجے بارنگائے لامیون میں بھڑکی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، آگ لگنے کے بعد تیز ہواؤں نے شعلوں کو مزید بھڑکایا، جس کے باعث آگ تیزی سے گنجان آباد علاقے میں پھیل گئی۔ متاثرہ بستی میں مکانات زیادہ تر لکڑی اور ہلکے تعمیراتی سامان سے بنے ہوئے تھے اور پانی پر کھمبوں کے سہارے قائم تھے، جس کی وجہ سے آگ نے انتہائی تیزی سے تباہی مچائی۔

    چار گھنٹے تک جاری رہنے والی اس آگ کے نتیجے میں کم از کم 1000 مکانات مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گئے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح بلند شعلے پورے جزیرے کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں جبکہ لوگ جان بچانے کے لیے زمین اور سمندر کے راستے نقل مکانی پر مجبور ہیں۔

    ریسکیو حکام کے مطابق 5 ہزار سے زائد افراد کو بحفاظت نکال کر دو عارضی امدادی مراکز میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ بونگاؤ کی مقامی انتظامیہ نے بنگسامورو وزارتِ سماجی بہبود اور صوبائی حکومت کے تعاون سے فوری امدادی سرگرمیاں شروع کر دیں۔ متاثرین کو خوراک، پانی اور بنیادی ضروریات فراہم کی جا رہی ہیں۔

    بونگاؤ رورل ہیلتھ یونٹ کی طبی ٹیمیں بھی امدادی مراکز میں تعینات کر دی گئی ہیں تاکہ متاثرہ افراد کو فوری طبی سہولت فراہم کی جا سکے میونسپل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ آفس کے مطابق خوش قسمتی سے واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم متعدد لکڑی کے فٹ برج آگ کی نذر ہو گئے جس کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا رہا۔

    فائر بریگیڈ حکام نے بتایا کہ آگ پر قابو پانے کا اعلان بدھ کی صبح تقریباً 2 بجے کیا گیا۔ واقعے کی وجوہات جاننے اور نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

  • ٹھٹھہ و مکلی میں بند آر او فلٹر پلانٹس پر صوبائی محتسب سندھ کا سخت نوٹس، رپورٹ طلب

    ٹھٹھہ و مکلی میں بند آر او فلٹر پلانٹس پر صوبائی محتسب سندھ کا سخت نوٹس، رپورٹ طلب

    ٹھٹھہ (بلاول سموں):ٹھٹھہ اور مکلی میں کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر کیے گئے آر او فلٹر پلانٹس کے طویل عرصے سے بند پڑے ہونے، مبینہ نااہلی اور بدانتظامی کے خلاف صوبائی محتسب سندھ، ریجنل آفس ٹھٹھہ نے سخت نوٹس لے لیا ہے اور متعلقہ محکمے سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

    یہ نوٹس عوامی پریس کلب ٹھٹھہ کے نائب صدر ممتاز علی سمیجو کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر صوبائی محتسب سندھ کے ریجنل ڈائریکٹر ٹھٹھہ ہارون احمد خان کی ہدایت پر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ ٹھٹھہ کو جاری کیا گیا ہے۔

    نوٹس کے متن کے مطابق شکایت میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مکلی سمیت ضلع ٹھٹھہ میں قائم تقریباً 62 آر او فلٹر پلانٹس میں سے اکثریت مکمل طور پر غیر فعال ہو چکی ہے، جس کے باعث شہری صاف پینے کے پانی جیسے بنیادی انسانی حق سے محروم ہیں اور عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    شکایت میں خاص طور پر بھٹی مسجد کے قریب ناریجا گاؤں مکلی، درگاہ حضرت شاہ ابراہیم شاہ جیلانی ٹھٹھہ، درگاہ مخدوم آدم نقشبندی ٹھٹوی مکلی اور گاؤں رسول بخش بروہی مکلی میں قائم آر او فلٹر پلانٹس کی بندش کا ذکر کیا گیا ہے، جو گزشتہ کئی مہینوں بلکہ برسوں سے غیر فعال پڑے ہیں۔

    صوبائی محتسب سندھ کی جانب سے جاری نوٹس میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 23 فروری 2026 تک اپنی تفصیلی اور جامع رپورٹ پیش کرے، بصورتِ دیگر محتسب ایکٹ 1991 کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ احکامات کی عدم تعمیل یا رپورٹ پیش نہ کرنے کی صورت میں صوبائی محتسب سندھ کے ریجنل ڈائریکٹر کو ہائی کورٹ کے مساوی اختیارات حاصل ہیں، جن کے تحت طلبی، تحقیقات اور توہینِ عدالت کی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔

    شہریوں اور سماجی حلقوں نے صوبائی محتسب سندھ، ریجنل آفس ٹھٹھہ کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ بند پڑے آر او فلٹر پلانٹس جلد از جلد فعال کیے جائیں گے اور ذمہ دار افسران کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، تاکہ عوام کو صاف پینے کے پانی کی سہولت میسر آ سکے۔

  • مکلی بائی پاس پر ٹریفک حادثہ، ایک راہگیر جاں بحق

    مکلی بائی پاس پر ٹریفک حادثہ، ایک راہگیر جاں بحق

    ٹھٹھہ (باغی ٹی ویڈ/ڈسٹرکٹ رپورٹربلاول سموں):مکلی بائی پاس پر تیز رفتار مزدا گاڑی کی ٹکر سے ایک راہگیر جاں بحق ہو گیا۔ پولیس کے مطابق حادثے میں جان کی بازی ہارنے والے شخص کا تعلق تھر سے تھا اور اس کی شناخت ٹھاکر کے نام سے ہوئی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق مذکورہ شخص سڑک عبور کر رہا تھا کہ تیز رفتار مزدا گاڑی نے اسے زوردار ٹکر ماری، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور لاش کو تحویل میں لے کر سول اسپتال مکلی منتقل کر دیا۔

    پولیس کے مطابق جاں بحق شخص کی جیب سے ضروری ذاتی سامان کے علاوہ ایک لاکھ ستر ہزار روپے نقد رقم بھی برآمد ہوئی ہے، جبکہ حادثے میں ملوث مزدا گاڑی کو تحویل میں لے لیا گیا ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔

  • خانپور مہر: BISP ڈیوائس ہولڈر اعجاز مہر سے ڈکیتی و فائرنگ کے خلاف احتجاج

    خانپور مہر: BISP ڈیوائس ہولڈر اعجاز مہر سے ڈکیتی و فائرنگ کے خلاف احتجاج

    میرپورماتھیلو (باغی ٹی وی/نامہ نگار مشتاق علی لغاری) خانپور مہر میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے ڈیوائس ہولڈر اعجاز مہر سے ڈکیتی اور فائرنگ کے واقعے کے خلاف آل سندھ مہر فاؤنڈیشن اور سندھ گریجویٹس ایسوسی ایشن (سگا) کے تحت احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں ملزمان کی فوری گرفتاری اور انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا گیا۔

    احتجاجی مظاہرہ آل سندھ مہر فاؤنڈیشن کے رہنماؤں ایڈووکیٹ عرض آزاد مہر، ایاز مہر، ریاض احمد مہر، عبدالقیوم مہر اور دیگر کی قیادت میں تحصیل اسپتال کے سامنے بائی پاس روڈ پر کیا گیا، جہاں مظاہرین نے شدید نعرے بازی کرتے ہوئے پولیس کی مبینہ غفلت کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا۔

    مظاہرین کے مطابق تقریباً ایک ہفتہ قبل گھوٹکی اے سیکشن تھانے کی حدود مسو کلوڑ کے قریب مسلح ملزمان نے BISP ڈیوائس ہولڈر اعجاز مہر سے 38 لاکھ روپے لوٹ لیے اور مزاحمت کرنے پر انہیں گولیاں مار کر شدید زخمی کر دیا۔ رہنماؤں نے بتایا کہ زخمی BISP ڈیوائس ہولڈر اعجاز مہر تاحال تشویشناک حالت میں سکھر کے ایک اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

    احتجاج کرنے والے رہنماؤں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کو کئی دن گزر جانے کے باوجود اے سیکشن گھوٹکی پولیس نہ تو BISP ڈیوائس ہولڈر اعجاز مہر پر قاتلانہ حملے میں ملوث ملزمان کو گرفتار کر سکی ہے اور نہ ہی لوٹی گئی رقم برآمد کی جا سکی ہے، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

    مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ BISP ڈیوائس ہولڈر اعجاز مہر سے ڈکیتی اور فائرنگ میں ملوث ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے، لوٹی گئی رقم واپس دلائی جائے اور زخمی کو انصاف فراہم کیا جائے، بصورتِ دیگر احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

  • کمبوڈیا لےجا کر پاکستانیوں کو فروخت کرنے والا گروہ گرفتار

    کمبوڈیا لےجا کر پاکستانیوں کو فروخت کرنے والا گروہ گرفتار

    گوجرانوالہ: ایف آئی اے نے کمبوڈیا لےجا کر پاکستانیوں کو فروخت کرنے والا گروہ گرفتار کر لیا۔

    ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے کے مطابق گروہ 6 افراد پر مشتمل تھا جس کے 2 افراد کمبوڈیا میں مقیم تھے پاکستان میں مقیم 4 ملزمان دیگر نوجوانوں کو جال پھنساتے تھے، ملزمان سوشل میڈیا پر کمبوڈیا میں کال سینٹر پر جاب کا اشتہار دیتے تھے، اشتہار دیکھ کر سادہ لوح نوجوان ملزمان سے رابطہ کرتے تھے ملزمان پڑھے لکھے اور کمپیوٹر اسکلز والے لوگوں کو ٹارگٹ کرتے تھے، کمبوڈیا میں مقیم ملزمان فی کس 2 ہزار ڈالر لیتے تھے پاکستانیوں کو قیدی بناکر آن لائن اسکیمنگ کا کام کروایا جاتا تھا، کام سے انکار کرنے والوں پر تشدد بھی کیا جاتا تھا، یہ گروہ اب تک 100 سے زائد پاکستانیوں کو کمبوڈیا بھیج چکا تھا۔

  • تین بہنوں کی نویں منزل سے کود کر خودکشی،گیمنگ ایپلیکیشن سے ٹاسک پر شبہ

    تین بہنوں کی نویں منزل سے کود کر خودکشی،گیمنگ ایپلیکیشن سے ٹاسک پر شبہ

    بھارتی ریاست اترپردیش کے شہرغازی آباد میں ایک دلخراش واقعہ پیش آیا جہاں 3 کمسن بہنوں نے مبینہ طور پر آن لائن گیمنگ کی لت اور والدین کی جانب سے مخالفت کے بعد 9 ویں منزل سے کود کر اجتماعی خودکشی کر لی۔

    واقعے کے بعد بچیوں کا 8 صفحات پر مشتمل ایک نوٹ سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے والدین سے معذرت کرتے ہوئے اپنی گیمنگ سرگرمیوں کی تفصیل بیان کی ہے،نوٹ ایک جیب میں رکھی ڈائری میں تحریر کیا گیا تھا جو ہندی اور انگریزی میں لکھا گیا ہے، بچیوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ پوری ڈائری ضرور پڑھیں کیونکہ اس میں لکھی ہر بات سچ ہے-

    نوٹ میں لکھا تھا کہ اس ڈائری میں جو کچھ بھی لکھا ہے وہ سب پڑھ لو کیونکہ یہ سب سچ ہے، ابھی پڑھو! مجھے بہت افسوس ہے ممی پاپا سوری، اس جملے کے ساتھ ایک روتا ہوا ایموجی بھی بنایا گیا تھا،یہ نوٹ پولیس نے تفتیش کے لیے اپنے قبضے میں لے لیا ہے بچیوں کے کمرے کی دیوار پر بھی ایک جملہ لکھا ہوا ملا کہ ’میں بہت، بہت اکیلی ہوں-

    انڈیا ٹوڈے کے مطابق واقعے کی ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ 16 سالہ نشیکا، 14 سالہ پراچی اور 12 سالہ پاکھی اپنی زندگی کا زیادہ تر وقت موبائل فونز پر گزارتی تھیں اور ایک کوریائی ٹاسک بیسڈ آن لائن گیمنگ ایپ کی عادی تھیں،جس کی لت انہیں کورونا وبا کے دوران لگی۔

    والد نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ ان کی بیٹیاں کھیل کے آخری مرحلے پر تھیں، مجھے کوئی اندازہ نہیں کہ یہ سب کیسے ہوا وہ آخری ٹاسک مکمل کر رہی تھیں اس گیم میں کل 50 ٹاسک تھے، اور میری 14 سالہ بیٹی اس کھیل کی لیڈر تھی، فیصلے کرتی تھی کہ کون سا کمانڈ مکمل کرنا ہے وہ ہمیشہ ایک ساتھ کھیلتی تھیں اور کسی کو شک نہیں ہونے دیا کہ وہ ایسا کر رہی ہیں،والد نے شک ظاہر کیا کہ بچیوں نے کھیل کے ایک ٹاسک کے تحت بالکونی سے چھلانگ لگانے کے لیے چھوٹی ٹو اسٹیپ سیڑھی استعمال کی ہے-

    ان کی گیم سے اس حد تک وابستگی تھی کہ انہوں نے اپنے لیے کوریائی نام بھی رکھے ہوئے تھے اور گیم میں دیے گئے ٹاسک بھی پورے کرتی تھیں نوٹ میں اس بات کے واضح شواہد ملے ہیں نوٹ میں لکھا تھا ’ہم کوریا کو چھوڑ نہیں سکتے، کوریا ہی ہماری زندگی ہے آپ ہمیں آزاد نہیں کر سکتے، ہم اپنی زندگی ختم کر رہے ہیں۔

    والد چیتن کمار نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس گیم کے بارے میں علم نہیں تھا، اگر معلوم ہوتا تو وہ بچیوں کو ہرگز کھیلنے کی اجازت نہ دیتےجو کچھ ہوا وہ انتہائی خوفناک ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ ایسا کسی اور بچے کے ساتھ ہو، میں والدین سے اپیل کرتا ہوں کہ بچوں کو ویڈیو گیمز سے دور رکھیں۔‘

    بھارتی میڈیا کے مطابق، رہائشیوں نے رات کے سناٹے میں زور دار آواز سنی اور فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی پولیس ٹیم نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو سیل کیا اور لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کیں۔

    پولیس سپرنٹنڈنٹ اتُل کمار سنگھ کے مطابق، واقعہ رات 12 بج کر 15 منٹ پر پیش آیا اور فوری کارروائی کے باوجود بچیوں کو زندہ نہیں بچایا جا سکا،پولیس نے یہ واضح کیا ہے کہ ابھی یہ تصدیق نہیں ہو سکی کہ خودکشی کا براہِ راست تعلق آن لائن گیمنگ سے تھا تفتیش میں خاندان کے افراد سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے اور بچیوں کے موبائل فونز اور ڈیجیٹل سرگرمیوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے سائبر ماہرین کو بھی اس معاملے میں شامل کیا جا سکتا ہے تاکہ آن لائن ایپ کے استعما ل اور ڈیجیٹل تعاملات کی جانچ کی جا سکے۔

    ڈپٹی کمشنر پولیس نمیش پٹیل کے مطابق کمزور تعلیمی کارکردگی اور مالی مسائل کے باعث بچیاں زیادہ تر گھر پر ہی رہتی تھیں حالیہ دنوں میں اہلِ خانہ نے موبائل فون کے استعمال پر بھی پابندیاں عائد کردی تھیں، پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی اصل وجہ جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

    اس افسوسناک واقعے نے نہ صرف مقامی کمیونٹی بلکہ ملک بھر میں والدین اور نوجوانوں کے درمیان آن لائن سرگرمیوں اور ان کی ممکنہ خطرناک عادات کے بارے میں ایک مرتبہ پھر ایک فکری بحث کو جنم دیا ہےیہ اندوہ ناک حادثہ نیا نہیں بلکہ ماضی میں بھی بچوں اور نوجوانوں میں آن لائن گیمز کی لت یا خطرناک ٹاسکس کی وجہ سے المناک نتائج سامنے آ چکے ہیں۔

    ڈیجیٹل دنیا میں موجود کچھ گیمز اور چیلنجز محض تفریح نہیں بلکہ بچوں کی ذہنی صحت اور جان کے لیے سنگین خطرہ بن رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ماہرین بار بار اس بات پر زور دیتے ہیں کہ والدین بچوں کے انٹرنیٹ استعمال پر نظر رکھیں، ان سے مسلسل مکالمہ کریں، اور انہیں ایسی آن لائن سرگرمیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے بروقت آگاہی اور رہنمائی فراہم کریں۔

  • قصور : 4 سالہ  بچی سے زیادتی، ہسپتال منتقل،نامعلوم ملزمان کیخلاف مقدمہ درج،ورثاء کی تلاش جاری

    قصور : 4 سالہ بچی سے زیادتی، ہسپتال منتقل،نامعلوم ملزمان کیخلاف مقدمہ درج،ورثاء کی تلاش جاری

    قصور: (باغی ٹی وی،بیوروچیف طارق نوید سندھو) نواحی علاقے روہی نالہ مصطفیٰ آباد میں چار سالہ بچی سے زیادتی کے واقعے پر پولیس نے قانونی کارروائی کرتے ہوئے نامعلوم ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

    ایم ایس جنرل ہسپتال قصور پروفیسر فریاد حسین کے مطابق متاثرہ بچی کا میڈیکل معائنہ مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ علاج لاہور جنرل ہسپتال میں جاری ہے، ڈاکٹروں کے مطابق بچی کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

    پولیس کے مطابق ایس ایچ او مصطفیٰ آباد کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے، جبکہ بچی کے ورثا کی تلاش کے لیے اشتہارات جاری اور مساجد میں اعلانات کروائے جا رہے ہیں۔

    ڈی پی او قصور کا کہنا ہے کہ واقعے کی تفتیش کے لیے ایس پی انویسٹی گیشن کی سربراہی میں ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کی جا رہی ہیں اور ملزم کی گرفتاری کے لیے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔

  • اوکاڑہ: پولیس کی موثر کارروائیوں سے سنگین جرائم میں 65 فیصد کمی، 9 گینگز ختم، 290 اشتہاری گرفتار

    اوکاڑہ: پولیس کی موثر کارروائیوں سے سنگین جرائم میں 65 فیصد کمی، 9 گینگز ختم، 290 اشتہاری گرفتار

    اوکاڑہ (باغی ٹی وی/ملک ظفر) ترجمان پولیس اوکاڑہ نے ماہ جنوری 2026 کی کرائم رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ضلع میں بہترین پولیسنگ کے نتیجے میں سنگین جرائم میں 65 فیصد کمی واقع ہوئی اور امن و امان کی صورتحال میں واضح بہتری آئی۔ پولیس نے گذشتہ ماہ مختلف وارداتوں میں ملوث 9 جرائم پیشہ گینگز کا خاتمہ کیا اور ان کے 28 ارکان کو گرفتار کیا، جبکہ 1 کروڑ 60 لاکھ روپے مالیت کا مال مسروقہ برآمد کیا گیا۔ ملزمان سے 57 پستول، ایک کلاشنکوف، ایک ریوالور، 2 بندوقیں اور 173 گولیاں بھی برآمد ہوئیں۔

    منشیات کے خلاف کارروائیوں میں 85 ملزمان گرفتار ہوئے، جن سے 12 کلو چرس، 1600 گرام افیون اور 100 گرام آئس برآمد کیا گیا۔ اس کے علاوہ 1539 لیٹر شراب، 150 لیٹر لہن اور 3 چالو بھٹیاں بھی قبضے میں لائی گئیں۔ پولیس نے اشتہاری و عادی مجرمان کے خلاف بھی موثر کارروائیاں کیں، جس کے تحت 290 اشتہاری ملزمان کو گرفتار کیا گیا، جن میں سنگین جرائم میں ملوث A کیٹیگری کے 55 اور B کیٹیگری کے 235 اشتہاری شامل ہیں۔ اسی طرح، 61 عدالتی مفروران اور 139 ٹارگیٹڈ آفینڈرز بھی پکڑے گئے۔

    ترجمان پولیس اوکاڑہ نے کہا کہ ضلع میں جرائم کی شرح میں مزید کمی کے لیے پولیس کی فعال نگرانی اور کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ عوامی تحفظ اور امن و امان کی بہتر صورتحال کو برقرار رکھا جا سکے۔

  • گزشتہ 3 سالوں  میں اسلام آباد کے تعلیمی اداروں سے کتنی منشیات ضبط کی؟

    گزشتہ 3 سالوں میں اسلام آباد کے تعلیمی اداروں سے کتنی منشیات ضبط کی؟

    اسلام آباد:گزشتہ 3 سالوں کے دوران اسلام آباد کے تعلیمی اداروں کے اندر اور گرد و نواح میں منشیات کی روک تھام کی کاروائیوں کی تفصیلات سینیٹ میں پیش کر دی گئی۔

    منشیات اسمگلنگ کی روک تھام اور تدارک کے لیے انٹیلیجنس بنیاد پر چھاپہ مار کاروئیاں کی گئیں،اسلام آباد کے تعلیمی اداروں کے اندر اور گرد و نواح میں منشیات کی روک تھام کے چھاپوں میں 307 کلوگرام منشیات ضبط کی گئی۔

    گزشتہ تین سالوں میں اسلام آباد کی تعلیمی اداروں میں منشیات اسمگلنگ کے خلاف کارروائی میں 214 کیسز درج ہوئے اور 263 گرفتار ہوئےسال 2023 میں اسلام آباد کے تعلیمی اداروں سے 3 کلو ڈرگ ضبط کی گئی، 4 افراد گرفتار ہوئے اور 4 کیسز بنے۔ 2024 میں اسلام آباد کے تعلیمی اداروں سے 176 کلو منشیات ضبط ہوئی اور 102 کیسز درج ہوئے اور 125 گرفتار ہوئے جبکہ 2025 میں 307 کلو گرام منشئات ضبط کی گئی، 108 کیسز بنے، 134 گرفتار ہوئے۔

    سی سی پی او لاہور کی تبدیلی کا بھی امکان

    بھارتی گروہ کینیڈا سمیت مختلف ممالک میں بھتہ خوری، بلیک میلنگ اور منظم جرائم میں ملوث

    شوہر کے مذاق نے خاتون کی جان لے لی

  • شوہر کے مذاق نے خاتون کی جان لے لی

    شوہر کے مذاق نے خاتون کی جان لے لی

    بھارت میں ایک خاتون نے شوہر کے مزاحیہ انداز میں انہیں ’بندریا‘ کہنے پر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔

    یہ افسوسناک واقعہ بھارت اترپردیش کے شہر لکھنؤ کے اندرا نگر علاقے میں پیش آیا،ابتدائی تحقیقات کے مطابق گھر کا ماحول خوشگوار تھا اور ہنسی مذاق جاری تھا۔ اسی دوران شوہر نے مزاحیہ انداز میں اپنی اہلیہ کو ’بندریا‘ کہہ دیا، جس سے تنو سنگھ شدید صدمے کا شکار ہو گئیں اور انہوں نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ جس کے بعد پولیس نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر لاش قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دی۔

    رپورٹس کے مطابق تنو سنگھ ماڈل بننے کی خواہشمند تھیں اور اپنے جسمانی حسن کے حوالے سے بہت حساس تھیں۔ وہ اپنے شوہر راہول سنگھ کے ساتھ اندرا نگر میں رہائش پذیر تھیں تنو کی بہن انجلی نے بتایا کہ بدھ کی شام خاندان والے سیتا پور میں ایک رشتہ دار کے گھر سے واپس آئے۔ گھر پہنچنے کے بعد سب لو گ ادھر ادھر بیٹھے خوشگوار ہنسی مذاق میں مصروف تھے، اسی دوران شوہر نے مذاقاً تنو کو ’بندریا‘ کہا، جس سے وہ شدید تکلیف میں مبتلا ہو گئیں اور غصے میں اپنے کمرے میں چلی گئیں۔

    ابتدائی طور پر خاندان کے افراد یہ سمجھ رہے تھے کہ وہ جلد معمول پر آجائیں گی، اس لیے کسی نے انہیں روکنے کی کوشش نہیں کی تقریباً ایک گھنٹے بعد، جب کھانے کے لیے بلایا گیا اور کوئی جواب نہ آیا، تو گھر والوں نے کمرے میں جا کر دیکھا کہ تنو کی لاش پنکھے سے لٹکی ہوئی تھی تنو اپنے کیریئر اور جسمانی حسن کے حوالے سے بہت حساس تھیں اور اسی وجہ سے شوہر کے مذاق کو برداشت نہیں کر پائیں، جس کا نتیجہ یہ افسوسناک واقعہ نکلا۔

    پولیس نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش میں معاملہ خاندان کے اندر ہلکی پھلکی جھڑپ اور مذاق کی وجہ سے دل برداشتگی کے طور پر ظاہر ہوتا ہے۔ پوسٹ مارٹم مکمل ہونے کے بعد لاش ورثاء کے حوالے کر دی گئی ہے۔