Baaghi TV

Category: تعلیم

  • تعلیم یا کاروبار،مالکان کی موجیں، والدین پریشان

    تعلیم یا کاروبار،مالکان کی موجیں، والدین پریشان

    شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی) شیخوپورہ میں بڑے نجی تعلیمی اداروں نے نئی کلاسز کے اجراء سے قبل ہی فیسوں میں کئی گنا اضافہ کردیا تو دوسری طرف سکولز کے سلیبس کی قیمتوں میں اضافہ کے ساتھ ساتھ سکولز یونیفارمز بھی مہنگے کردیئے گئے اس صورتحال میں طلبہ کے والدین کی پریشانی بڑھ گئی ہے خصوصاً تنخواہ دار ملازمین پہلے ہی مہنگائی اور بجلی وگیس کی قیمتوں میں اضافہ کے باعث گزارہ مشکل سے کررہے ہیں اور اب کورونا کے باعث سکولوں کی بندش کے دوران ہی فیسوں میں اضافہ کرکے چالان فارم بھجوادیئے گئے ہیں

    حالانکہ گزشتہ ایک سال سے ان تعلیمی اداروں کی اکثریت میں تعلیمی سرگرمیاں معطل رہیں مگر سکولز کی انتظامیہ ہر ماہ متواتر فیسیں وصول کرتی رہی اور بعض اوقات تو مقررہ تاریخ گزر جانے پر جرمانے کے ساتھ فیسیں وصول کی گئیں

    فیسوں میں کئی گناء اضافہ پر محکمہ تعلیم اور ضلعی انتظامیہ بھی ان بااثر تعلیمی اداروں کے سامنے بے بس دکھائی دیتی ہے، شکایات کے باوجود ان کی کوئی باز پرس نہیں کی جاتی بعض اوقات تو شکایت کرنے والے والدین کے بچوں کو سکولز سے نکال دیا جاتا ہے

    ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک سال سے نجی سکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں معطل ہونے کے باعث سکولز کے ماہانہ اخراجات میں نمایاں کمی رہی اور بعض سکولز نے تو اساتذہ کی تنخواہیں یا توآدھی ادا کیں یا پھر دی ہی نہیں گئیں مگر بچوں سے فیسیں متواتر وصول کی جاتی رہیں جبکہ بعض سکولز کا سلیبس اور یونیفارمز سمیت سٹیشنری تک اپنی پرنٹ کروارکھی ہے جن کی قیمتوں میں بھی کئی گنا اضافہ کرکے انہیں والدین کی پہنچ سے بہت دور کردیا گیا ہے

    والدین کا کہنا ہے کہ حکومت کسی بھی شعبہ میں موثر پالیسی مرتب کرنے اور عوامی مسائل کے حل میں موثر پیش رفت یقینی بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکی جبکہ تعلیم جیسے اہم شعبہ میں بھی حکومتی رٹ کہیں دکھائی نہیں دے رہی جس کافائدہ اٹھاتے ہوئے پرائیویٹ سکولز انتظامیہ اپنی جیبیں بھر رہی ہے جن کے خلاف فوری کاروائی ناگزیر ہے تاکہ والدین کو اس استحصال سے نجات دلائی جاسکے۔

  • یونیورسٹی طلباء نے لاک ڈاؤن کے دوران فیسیں دینے سے انکار کردیا

    یونیورسٹی طلباء نے لاک ڈاؤن کے دوران فیسیں دینے سے انکار کردیا

    (غفار ریاض نمائندہ باغی ٹی وی قصور)

    سٹی پتوکی میں لیواس یونیورسٹی کے دو سے اڑھائی سو طالبات نے مین گیٹ پر کھڑے ہوکر احتجاج کیا ان کا مطالبہ ہے کہ ہم نے تمام کلاسیں آن لائن لی ہیں اس لیے یونیورسٹی اورہاسٹل کے واجبات وصول نہ کیے جائیں۔زیر قیادت زیشان احمد دو سے اڑھائی سو سٹوڈینٹس کے ساتھ لیواس یونیورسٹی کے مین گیٹ پر کھڑے ہوکر احتجاج کیا ان کا مطالبہ تھاکہ ہم نے تمام کلاسیں آن لائن لی ہیں اس لیے ہم سے یونیورسٹی اور ہاسٹل کے واجبات وصول نہ کیے جائیں انہوں نے کہاکہ مطالبات نہ مانے گئے تو مین ملتان روڈ بھی بلاک کریں گے جس کے بعد یونیورسٹی اور سٹوڈینٹس کے درمیان مزاکرات ہوگئے او ر سٹوڈنٹس احتجاج ختم کرکے پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔

  • تحریک آزادی کشمیر کو خطرہ معاہدہ امن سے نہیں تمہاری زبانوں سے ہے

    تحریک آزادی کشمیر کو خطرہ معاہدہ امن سے نہیں تمہاری زبانوں سے ہے

    فی زمانہ کشمیر پر کچھ لوگوں کا موقف مختلف رہا ہے اور ان کا کام اس محاذ پر سوائے مایوسی پھیلانے کے اور کچھ بھی نہیں
    1947 میں جب غیور کشمیریوں نے افواج پاکستان اور قبائلیوں کے ساتھ مل کر انڈیا کی اینٹ سے اینٹ بجائی تو اپنی تباہی دیکھ کر اس وقت کے وزیراعظم کو مجبوراً جنگ بندی کیلئے سلامتی کونسل پہنچنا پڑا اور پھر سلامتی کونسل کے استصواب رائے کی یقین دہانی پر جنگ بندی کرنی پڑی یہ لوگ اس وقت بھی جنگ بندی کو غلط کہتے رہے اور جنگ کو نا روکنے کا واویلا کیا اور خود گھروں میں بیٹھے رہے اور واویلا کیا جہاد کشمیر کے سودے کا ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج کو پیچھے نہیں ہٹنا چائیے تھا

    ایسی مایوسیاں پھیلانے والوں میں کچھ کشمیری ہیں اور کچھ لوگ پاکستانی بھی شامل ہیں جو دراصل راہ جہاد سے فرار چاہتے ہیںوقت گزرتا گیا پاکستان اور انڈیا کے مابین 1965,1971 کی دو جنگیں خالصتاً وجہ عناد مسئلہ کشمیر کے لئے لڑیں گئیں تب ان لوگوں نے کہا کہ جنگیں مسائل کا حل نہیں سو وقت گزرتا گیا 1989 میں جب ہندو کا ظلم عروج پر پہنچا تو کشمیریوں نے کلاشن اٹھائی اور انڈین فوج پر یلغار کی جس کیلئے مجاھدین پاکستان و افغانستان سے وادی میں پہنچے اور اپنے مسلمان کشمیری بھائیوں کی مدد کی اس بار ان لوگوں نے پھر شور کرنا شروع کر دیا کہ ہر مسئلے کا حل بندوق نہیں انٹرنیشنل کورٹ میں کیس لڑا جائے

    اس سے خون ریزی ہو گی فلاں فلاں مگر کشمیریوں نے اپنا کام جاری رکھا وادی کشمیر کے اندر جاری اس تحریک سے دونوں ملکوں کے مابین لائن آف کنٹرول پر ہر روز کشیدگی رہنے لگی جس سے روزانہ دونوں جانب سے جانی و مالی نقصان ہونے لگا جس پر یہ لوگ پھر چلائے کہ کشمیریوں کے ساتھ ساتھ عام لوگ و دونوں ممالک کی افواج کا جانی نقصان ہو رہا ہے اسے روکا جائے

    1999 میں ایک بار پھر دونوں ملکوں کے مابین کارگل چھڑی جس کا خالصتاً مقصد آزادی کشمیر تھا جس میں انڈین فوج کے ساتھ پاکستانی مجاھدین و آرمی کو سخت جانی و مالی نقصان ہوا مگر پھر ان لوگوں کے پیٹ میں مروڑ اٹھا کہ حالات خراب کئے جا رہے ہیں مسئلہ کشمیریوں اور انڈیا کا ہے پاکستانی فوج بیچ میں نا آئے وغیرہ وغیرہ

    وقت نے کروٹ لی اور 2003 میں انڈیا و پاکستان دونوں ممالک نے امن مائدہ کیا کہ ایل او سی پر حالات بہتر کئے جائیے تاکہ جانی و مالی نقصان نا ہو اس معائدے پر ان لوگوں نے پھر واویلا شروع کر دیا کہ کشمیر کا سودا ہو چکا ہے جنگ بندی کشمیر کے سودے کی علامت ہے کشمیریوں کو دھوکے میں رکھا گیا ہے فلاں فلاں مگر کشمیریوں اور مجاھدین نے ایک نا سنی اور اپنا کام جاری رکھا حتی کہ 2010 کے بعد تحریک آزادی اپنی انتہاہ کو پہنچی کشمیریوں نے بے پناہ قربانیاں دیں ا

    انڈین فوج پر تاریخی یلغاریں کیں مگر جہاد کشمیر کے لئے برہان وانی ریاض نائیکو ،بشیر لشکری جیسے نوجوان راہ جہاد میں کود پڑے ان لوگوں نے پھر شور مچا دیا کہ کشمیر میں مجاھدین انڈین فوج کو مارتے ہیں جس کے ردعمل میں انڈین فوج پھر کشمیریوں پر ظلم کرتی ہے غیر ملک سے مجاھدین مال کیلئے جاتے ہیں ان مجاھدین کے جانے سے فتنہ پھیلتا ہے وغیرہ وغیرہ مگر ان کو کشمیریوں نے گھاس نا ڈالی اور جہاد کشمیر جاری رکھا یہاں تک کے پلوامہ میں مجاھدین نے فروری 2019 میں تاریخی خودکش فدائی حملہ کیا جس سے انڈیا تو انڈیا پوری دنیا کے ممالک سر جوڑ کر بیٹھ گئے کہ اتنی قوت سے اتنا بڑا حملہ کیسے ممکن ہے؟ مجاھدین بہت زیادہ طاقتور ہو گئے ہیں خاص کر اندین فوج و میڈیا نے شور ڈالا کہ مجاھدین اس قابل نہیں یہ حملہ پاک فوج نے کروایا ہے

    اس حملے میں انڈین سی آر پی ایف کے 46 فوجی ہلاک اور 100 سے اوپر زخمی ہوئے تھے اس پر ایک بار پھر یہی لوگ میدان زبانی محاذ سے تنقید کرنے کو کود پڑے کہ انسانی جانوں کا ضیاع ہو گیا حالانکہ ان کو اس وقت انسانی جانوں کا ضیاع نظر نا آیا جب روزانہ مجاھدین کشمیر کے ساتھ عام کشمیریوں کو انڈین فوج نے بے دردی سے شہید کیا اور ابتک ایک لاکھ کے قریب کشمیری نوجوانوں کو انڈین فوج شہید کر چکی ہے جن میں بچے،عورتیں اور بزرگ بھی شامل ہیں

    پلوامہ حملے کے بعد انڈین فوج نے ایل او سی کراس کی تو ان لوگوں نے پھر پاکستان کے دفاع پر سوال اٹھایا اور بزدلی کا طعنہ مارا مگر چند ہی گھنٹوں بعد پاکستان فضائیہ نے لائن آف کنٹرول کراس کی اور انڈین ائیر فورس کے دو طیارے مار گرائے جس پر چند ہی گھنٹوں بعد ان لوگوں کو انڈیا سے ہمدردی ہو گئی اور بات امن و شانتی کی ہونے لگی

    چند ماہ گزرے 5 اگست 2019 کو انڈین فوج نے کشمیریوں کی خصوصی حیثیت ختم کرتے ہوئے آرٹیکل 370 اے کو ختم کیا اور کرفیو لگا دیا جو کہ آج 600 سے اوپر دن گزرنے کے ساتھ جاری ہے اب یہی امن کی آشا والے لوگ پھر امن کو بھول کر لڑائی کا درس دے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ کشمیر کا حل سوائے بندوق کے نا ہو گا مگر کشمیریوں اور مجاھدین نے سخت حالات کا مقابلہ کرکے مسلح تحریک کو آگے بڑھایا اور کرفیو کے باوجود انڈین فوج پر حملے جاری رکھے جس کے باعث ایل او سی پر پہلے سے خراب حالات مذید خراب ہوتے چلے گئے

    حالات کو دیکھتے ہوئے دونوں ممالک نے رواں ماہ ایک بار پھر ایک دوسرے پر لائن آف کنٹرول پر گولی باری نا کرنے کا فیصلہ کر لیا جس پر پھر ایک بار انہی لوگوں کو مروڑ اٹھا کہ پاکستان نے کشمیر کا سودا کر لیا ہے کشمیر کو بیچ دیا گیا ہے مگر یہ نہیں بتایا کہ بیچا کتنے میں ہے کیونکہ سودا تو پیسوں کے عیوض ہوتا ہے

    انہوں کا اعتراض ہے کہ پاکستان آرمی اگر مخلص ہے تو کشمیر میں گھس جائے فلاں فلاں مگر کشمیریوں نے پچھلے ہفتے اکیلے سرینگر کے گردونواح میں 3 حملے انڈین فورسز پر کئے جس میں انڈین فوج کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا جس پر یہ لوگ غیر ملک سے جانے والے مجاھدین کا تذکرہ کرنے والے خاموش رہے ان کو توفیق نا ہوئی کہ یہ غیر ملکی مجاھدین آخر کشمیریوں کی رائے کے بغیر کیسے وادی میں چھپ جاتے ہیں؟
    جبکہ انڈین فورسز بار بار روتی ہے کہ غیر ملکی مجاھدین ہی سب سے بڑا خطرہ ہیں جن کو کشمیری لوگ پناہ دہتے ہیں اور ان کی معاونت کرتے ہیں

    ان منافقین کے لئے میں اللہ کے نبی کریم کی ایک حدیث پیش کرتا ہوں
    حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا مشرکین سے اپنے مالوں، جانوں اور زبانوں کے ساتھ جہاد کرو۔
    (سنن ابی داوُد ،جلد دوم کتاب الجہاد2504
    کہ اس حدیث کے مطابق تمہارا کیا کردار ہے عملی طور پر ؟

    کیا تم نے جہاد کشمیر میں جان سے حصہ لیا ؟کیا تم نے مجاھدین تنظیموں کی مدد کی ؟ مجاھدین پر تم چندہ کھانے کا الزام لگاتے ہو تو دوسری طرف انڈین فوج پر ہوئے حملوں پر یہی کہتے ہو کہ یہ کام بیرون ممالک مجاھدین کا ہے کیا کھایا گئے چندے سے انڈین فوج پر حملہ ہو سکتا ہے؟

    کیا تم نے اپنی زبانوں سے مجاھدین و کشمیریوں کی حمایت کی ؟
    اگر تم نے کبھی جہاد کشمیر و مجاھدین کی حمایت کی ہوتی تو آج اس زبانی جہاد جوکہ نبوی حدیث سے بافضیلت ثابت ہے اس کے اظہار پر تمہاری فیسبک ٹویٹر وال خاموش کیوں؟ اور اتنی مایوسی کس لئے ؟
    حالانکہ کشمیری تو پہلی کی طرح پرعزم ہیں

    اللہ کے نبی نے تو جہاد کو طاقت کے مطابق فرض قرار دیا ہے مگر تم زبانی سب سے سستے جہاد پر بھی خاموش کیوں؟؟؟
    رہی بات امن معاہدے کی یہ پہلے بھی ہوا اس سے تحریک آزادی کو نا پہلے فرق پڑا تھا اور نا اب پڑا ہے جنہوں نے جو کرنا ہے وہ خوب کرتے ہیں تم اپنی آخرت کی سوچو
    پھر بھی شک ہے تو موجودہ معرکوں پر انڈین فوج کے سامنے کشمیریوں کے نعرے کشمیر بنے گا پاکستان ،تیرا میرا رشتہ کیا؟ لاالہ الااللہ سن لو

    بات ایک سورہ قرآن بیان کرکے ختم کرتا ہوں
    یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور ا س کے فضل سے مایوس ہوجانا کافر کا وصف ہے، جیسا کہ سورۂ یوسف میں ہے:

    ’’اِنَّهٗ لَا یَایْــٴَـسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ‘‘(یوسف:۸۷)
    : بیشک اللہ کی رحمت سے کافر لوگ ہی ناامید ہوتے ہیں ۔
    یاد رکھو امن معاہدے سے تحریک آزادی کشمیر کو کوئی خطرہ نہیں اگر خطرہ ہے تو تمہاری مایوسی زدہ زبانوں سے
    اللہ تعالی ہم سب کو مایوسی جیسی لعنت سے محفوظ فرمائے آمین

  • احتجاجی کیمپ کیوں اکھاڑا،محکمہ صحت کے ملازمین سڑکوں پر آ گئے

    احتجاجی کیمپ کیوں اکھاڑا،محکمہ صحت کے ملازمین سڑکوں پر آ گئے

    احتجاجی کیمپ کیوں اکھاڑا،محکمہ صحت کے ملازمین سڑکوں پر آ گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سروسز اسپتال لاہور کے ملازمین نے جیل روڈ پر احتجاج کیا ہے

    سروسز ہسپتال کے ملازمین او پی ڈی بند کر کے روڈ پر نکل آئے، مظاہرین کا کہنا ہے کہ اسپتال میں ہمارا احتجاجی کیمپ کو اکھاڑ دیا گیا،ہمیں دھکے دیئے گئے اور تنگ کیاگیا، مستقل کیاجائے اور تنخوایوں میں اضافہ کیا جائیں، ملازمین کو جاری کیے گئے شوکاز نوٹس واپس لیے جائیں،

    وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کی صحت کے حوالہ سے ناقص پالیسییوں کے خلاف لاہور کے سروسز اسپتال میں ملازمین کا احتجاج کئی دنوں سے جاری ہے، احتجاج کے دوران او پی ڈی کو بھی بند کر دیا جاتا ہے جس سے مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لواحقین کہتے ہیں کہ دور دراز سے علاج کی غرض سے اسپتال پہنچے ہیں لیکن یہاں عملے کی ہڑتال ہی ختم نہیں ہو رہی

    گرینڈ ہیلتھ الائنس پاکستان کے زیر اہتمام مظاہرین نے جیل روڈ کے ایک سائیڈ ٹریفک کے لیے بند کر دی اور مطالبہ کیا کہ سرکاری ھسپتالوں میں مریضوں کے لیۓ فری معیاری ادویات اور ٹیسٹوں کی سہولت کو 100% یقینی بنایا جائے آپریشن کا سامان،ادویات اور ٹیسٹ 100% فری ھونے چاہئے،آئین پاکستان کیمطابق شہریوں کو صحت کی معیاری بنیادی فری سہولیات فراھم کرنا حکومت کا فرض اور ریاست پاکستان کی ذمہ داری ہے،حکومت ایم ٹی آئی ایکٹ کو واپس لے کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز ملازمین کو مستقل کیا جائے کورونا وبا کے دوران کام کرنے والے ہیلتھ پروفیشنلز کو.رسک الاونس دیا جائے

    ینگ کنسلٹنٹس ایسوسی ایشن کا کرونا سے بچاؤ کے لئے ڈاکٹر اسامہ شہید کے نام سے فنڈ کے قیام کا اعلان

    محکمہ صحت کا انوکھا کارنامہ۔ ڈاکٹر حامد بٹ سروسز ہسپتال سے برطرف۔ ایم ایس کی ویڈیو لیک۔۔

    مریم نواز اور کیپٹن ر صفدر میں ہونے لگی ہے جلد جدائی،خبر سے کھلبلی مچ گئی

    مریم نواز ایک بار پھر "امید” سے، کیپٹن ر صفدرخوشی سے نہال

    مریم نواز عدالت پہنچ گئی، بہارہ کہو میں کارکنان نے کیا استقبال

    عدالت پہنچنے پر مریم نواز نے کارکنان کے لئے جاری کیا حکم،ن لیگی رہنماؤں کو روک دیا گیا

    سروسز ہسپتال میں کرونا مریضوں کے علاج میں کرپشن،ینگ کنسلٹنٹ ایسوسی ایشن کا پروفیسرکی ریٹائرمنٹ پر یوم تشکر منانے کا اعلان

    نواز شریف کو فرار کروانے والے پروفیسر محمود ایاز کے نئے کارنامے،سنئے مبشر لقمان کی زبانی

    سروسز ہسپتال کو مسلسل ایک منظم گروہ کی بلیک میلنگ کا سامنا ہے،اعلامیہ جاری

    کرپشن کے انکشافات پر سروسز ہسپتال انتظامیہ بوکھلاہٹ کا شکار،نواز شریف کو فرارکروانے کے سوال پر نہ دیا جواب

    لاہور میں‌ ڈاکٹروں کا احتجاج، سروسز کی اوپی ڈی بند

  • ن لیگ کے دور حکومت میں تعینات اہم شخصیت کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

    ن لیگ کے دور حکومت میں تعینات اہم شخصیت کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

    ن لیگ کے دور حکومت میں تعینات اہم شخصیت کو عہدے سے ہٹا دیا گیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے ن لیگ کے دور حکومت میں تعینات اہم شخصیت کو عہدے سے ہٹا دیا

    پی ٹی آئی حکومت نے چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) طارق بنوری کو عہدے سے ہٹا دیا ہے، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے چیئرمین ایچ ای سی طارق بنوری کو عہدے سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا

    طارق بنوری کو سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے 2018 میں چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن تعینات کیا تھا اور انہوں نے مئی 2022 تک 4 سالہ مدت پوری کرنا تھی لیکن انہیں مدت پوری کرنے سے پہلے ہی عہدے سے ٰہٹا دیا گیا ،

    دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی نے ایک آرڈیننس منظور کیا تھا جس کے بعد چیئرمین ایچ ای سی کی مدت ملازمت 4 سے 2 سال ہو جانی تھی تا ہم چیئرمین ایچ ای سی کو اچانک کیوں ہٹایا گیا اسکی وجوہات سامنے نہیں آ سکیں

  • سکول بند کرنے یا کھولنے کا فیصلہ کب ہوگا؟شفقت محمود نے بتا دیا

    سکول بند کرنے یا کھولنے کا فیصلہ کب ہوگا؟شفقت محمود نے بتا دیا

    ( 21مارچ 2021 رات 10 بجے ) وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا ہے کہ 24 مارچ بدھ کے روز تعلیمی اداروں کو کھولنے یا بند کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔اپنے ایک ٹویٹ میں شفقت محمود نے کہا کہ کورونا وائرس کی تیسری لہر خطرناک ہے جس کا محتاط جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ تمام وزرائے صحت و تعلیم کا نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (این سی او سی) میں بدھ 24 مارچ کو اجلاس ہوگا جس میں سکولوں کو مزید بند رکھنے یا کھولنے کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ طلبہ، اساتذہ اور سٹاف کی صحت اس اجلاس کا بنیادی ایجنڈا ہوگا۔

    کرونا کے بڑھتے ہوئے کیسزکے پیش نظرملک میں مکمل لاک ڈاون:کس نےمشورہ دے دیا ،اطلاعات کے مطابق ملک میں مکمل لاک ڈاؤن کے حوالے سے پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے بڑی تجویز دے دی ہے، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن لاہوراوردیگر نمائندہ تنظیموں نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک ملک میں مکمل لاک ڈاون نہیں کیا جائے گا وائرس کے پھیلاو پرکنٹرول نہیں کیا جاسکے گا

    پریس کانفرنس سے خطاب میں پروفیسر اشرف نظامی کا کہنا تھاکہ ملک میں مکمل لاک ڈاؤن لگایاجائے اور عوام کوویکسین کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔پروفیسر اشرف نظامی نے کہا کہ حکومت فی الفورملک بالخصوص پنجاب میں ہنگامی حالت نافذ کرے۔پروفیسراشرف نظامی نے الزام عائد کیا کہ حکومت ویکسین کی فراہمی میں مجرمانہ غفلت کی مرتکب ہوئی ہے۔ان کا کہنا تھاکہ حکومت نے تنظیموں اوراداروں کے دباؤپرلاک ڈاؤن پالیسی کو اپنایا جبکہ اس وقت ملک میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 10 فیصد سے تجاوز کرچکی ہے۔

  • تعلیمی اداروں میں ایس او پیز کو فالو کیا جائے گا

    تعلیمی اداروں میں ایس او پیز کو فالو کیا جائے گا

    شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی) محکمہ تعلیم ضلع شیخوپورہ نے ضلع بھر کے پرائیویٹ سکولوں میں کورونا کے ایس او پیز پر عملدرآمد کی مانیٹرنگ کے لیے لائحہ عمل مرتب کر لیا ہے یہ بات ڈپٹی کمشنر چوہدری محمد اصغر جوئیہ کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں بتائی گئی اجلاس میں محکمہ تعلیم کے افسروں کی سربراہی میں مانیٹرنگ کمیٹیاں تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے جو کل سے تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ کالجز اور سکولوں میں ایس او پیز پر عملدرآمد کا جائزہ لیں گی اور ایس او پیز پر عملدرآمد نہ کرنے والے تعلیمی اداروں کو نہ صرف سربمہر کر دیا جائے گا بلکہ ان کی رجسٹریشن بھی منسوخ کر دی جائے گی

    اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایس او پیز پر عملدرآمد نہ کرنے والے دوکانداروں کو روایتی انداز میں محض جرمانہ کی سزاء نہیں دی جائے گی بلکہ ان کے خلاف مقدمات درج کروائے جائیں گے اجلاس میں ضلع شیخوپورہ میں اربوں روپے کی خطیر رقم سے بچھائے جانے والے سیوریج سسٹم میں آہنی سریا کی بجائے ماضی کی حکومتوں کے دوران باریک تار سے بنے ہوئے پائپوں کو استعمال کرنے کی شکایات کا جائزہ لیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ سیوریج سسٹم بچھانے میں کرپشن ثابت ہو جانے پر اس میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اجلاس میں بتایا گیا کہ شہر میں سیوریج کا نظام بہتر بنانے کی غرض سے ایک نیا ڈسپوزل ورک اسٹیشن جیون پورہ کے قریب بنایا جائے گا جس کے لیے نجی اراضی ایکوائر کرنے کا کام محکمہ مال کے حکام نے مکمل کر لیا ہے

  • کمسن طالبات سے جنسی سوالات جیسا اہم مسئلہ اجاگر کرنے پرہم باغی ٹی وی کے مشکور ہیں    ڈاکٹر مصباح احمد

    کمسن طالبات سے جنسی سوالات جیسا اہم مسئلہ اجاگر کرنے پرہم باغی ٹی وی کے مشکور ہیں ڈاکٹر مصباح احمد

    سینیٹر حافظ عبدالکریم کی بہو ڈاکٹر مصباح احمد نے سرکاری و غیر سرکاری سکولوں کے نصاب کا مسئلہ اجاگر کرنے پر باغی ٹی وی شکریہ ادا کیا ہے-

    باغی ٹی وی :سینیٹر حافظ عبدالکریم کی بہو ڈاکٹر مصباح احمد کا کہنا ہے کہ گورنمنٹ سکولز نے ایک بار پھر بہت مایوس کیا پہلے جہاد کی آیات نصاب سے نکالیں پھر ختم نبوت کے معاملے میں سستی اور غفلت کا مظاہرہ کیا پھر قادیانیوں کو نوازا جہلاء کو منصب تعلیم پر بٹھایا اسلامی ہیروز کے ہوتے ہوئے مسٹر چپس کا رٹا لگوایا شروع سے لے آخر تک مسلمان بچوں کی زبان پر اللہ اور اس کے رسول کا نام نہ آنے دیا الف انار تو پڑھایا الف اللہ یا اذان نہ دماغ میں بٹھایا-


    انہوں نے برہمی کاظہار کرتے ہوئے کہا کہ لیکن اب تو حد ہو گئی ہے آٹھ سالہ بچی کے سیکسوئل ریلیشن کا پوچھ کر کیا دماغ میں بٹھانا چاہتے ہیں اس کے دماغ میں کیا ڈالنا چاہتے ہیں دیکھ نہیں رہے آج کل ہمارے اسکولز کالجزیونیورسٹیز میں کیا کچھ ہو رہا ہےڈرگزرومان خودکشی بس تعلیم نہیں باقی سب کچھ ہے پرائیویٹ سکولز مافیا کے ڈسے لوگوں کی آخری امید سرکاری سکول ہی ہوتے ہیں ،مگر جب وہاں بھی گوروں کے سکولز کا نظام چلے تو بتائیے کہ مسلمان کہاں جائیں-

    ڈاکٹر مصباح احمد نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں بڑھتی ہو بے حیائی طوفان بدتمیزی اور طلباء کی ناکامی کی اصل وجہ سرکاری نظام اور نا اہل انتظامیہ ہے علم کے نام پر سوائے علم کے باقی سب کچھ سکھایا جاتا ہے میوزک پیریڈ کے نام پر بچوں کو ڈسکو سکھایاس کے نام پر ننگا کر کے اوچھی حرکات سکھائی جاتیں ہیں کرایٹیویٹی کے نام پر کری یٹر سے ہی دور کیا جاتا ہے اسلام کا کون سوچے کا دین کا درد کون سمجھے گا ہم اپنے گھریلو مسائل ذاتی کاروبار جاب کی فکر سے ہی نکلتے جو دین اور تعلیم کا کچھ سوچیں –

    انہوں نے کہا کہ باقی بکاؤ میڈیا کا بھی کردار آپ کے سامنے ہے بھلا ہو باغی ٹی وی کا جس نے اس معاملے کو اجاگر کر کے ہمیں خبردار کیا-

    واضح رہے کہ حکومت پنجاب کی طرف سے سرکاری سکولوں کے بچوں اور بچیوں میں ایک پرفارما تقسیم کیا جارہا ہے جس میں کئی سوالات پوچھے جا رہے ہیں. جس میں ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا آپ کبھی جنسی سرگرمی میں ملوث رہے ہیں.اگرچہ اس پرفارما کی ہیڈنگ میں لکھا ہے کہ یہ طلبہ اور اساتذہ دونوں کے لیے ہے تاہم معصوم طلبہ جو کہ دس گیارہ سال کی بچے ہیں ان سے یہ سوال کیا جائے تو کیا اثرات مرتب ہوں .

    اس پرفارما میں بچوں کے متعلق کافی سوالات پوچھے جاتے ہیں جن میں بچوں کی صحت کے متعلق عنوان کے تحت میڈیکل ہسٹری کے سوالات ہیں. جس میں والدین کی سرجیکل ہسٹری ، میڈیکل ہسٹری ، بچے کا وزن کم ہونا یا زیادہ ہونے کے بارے میں سوالات ہیں.

    اسی طرح جنرل اوور آل فزیکل ایگزائمن کے تحت بچے کا قد ، وزن ، بلڈ پریشر اور دیگر سوالات ہیں. جنرل زہنی صحت کے بارے میں کئی سوالات ہیں جس میں سیلف کیئر یعنی خود اپنا کتنا خیال رکھتا ہے ، رپورٹ بلڈنگ ، صورت حال کو سمجھنا اور اپنے نگران کو اس بارے بتانے کی صلاحیت بارے سوالات ہیں.

    نفسیاتی ہسٹری کے تحت بھی کافی سوالات ہیں جس میں ، سگرٹ نوشی ، کسی طرف سے ہراساں کیے جانے کا واقعہ. چوری کی عادت ، سکول لیٹ آنا، بری صحبت، منشیات کا استعمال جنسی سرگرمی وغیر ہ شامل ہے .

    ریاست مدینہ کا نام اور کمسن طالبات سے جنسی سوالات، فرید پراچہ، ناصر اقبال پھٹ پڑے

    کیا آپکی آٹھ سالہ بیٹی جنسی تعلقات قائم کرتی ہے؟ پنجاب کے سرکاری سکولوں میں والدین سے سوال

  • مستحق طلبہ کے تعلیم کے لئے ڈھائی کروڑ روپے مختص

    مستحق طلبہ کے تعلیم کے لئے ڈھائی کروڑ روپے مختص

    شیخوپورہ(نمائندہ باغی ٹی وی) مستحق طلبہ معاشرے کا حصہ ہیں اور ان کی تعلیم و تربیت اولین ترجیح ہے ڈپٹی کمشنر اصغر علی جوئیہ
    مستحقین کا حق ان تک پہنچانے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی جائے گی چیئرمین زکوۃ عشر کمیٹی انیس جبار خان
    تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر آفس میں خصوصی بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے زکوۃ عشر کمیٹی کی جانب سے چیک تقسیم کئے گئے تقریب کے مہمان خصوصی صوبائی وزیر قدرتی آفات میاں خالد محمود اور ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ اصغر علی جوئیہ تھے

    اس موقع پر چیئرمین زکوۃ عشر کمیٹی انیس جبار خان نے پانچوں تحصیلوں کے ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ کے پرنسپل صاحبان کو مدعو کیا جن کو انہوں نے صوبائی وزیر اور ڈپٹی کمشنر کے ہمراہ ڈھائی کروڑ روپے کی خطیر رقم کے چیک دیے

    اس موقع پر صوبائی وزیر میاں خالد محمود کا کہنا تھا ڈھائی کروڑ روپے کے چیک مستحق طلبہ کی تعلیم و تربیت کے لیے تقسیم کیے گئے ہیں جس سے طلبہ کے تعلیم پر آنے والے اخراجات اور ان کی بہتر نشوونما کے لئے ہیں ڈپٹی کمشنر اصغر علی جوئیہ نے کہا کہ مستحق طلبہ معاشرے کا حصہ ہیں اور ان کی تعلیم و تربیت اولین ترجیح ہے جبکہ چیئرمین زکات عشر کمیٹی انیس جبار خان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مستحقین کا حق ان تک پہنچانے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی جائے گی اس کے علاوہ بھی جہاں تک ممکن ہوسکے بھرپور تعاون کو یقینی بنایا جائے گا

    آج ڈھائی کروڑ روپے کی خطیر رقم کے چیک شیخوپورہ کی پانچوں تحصیلوں کے پرنسپل صاحبان کے حوالے کر دیے گئے ہیں جس سے تمام پڑھنے والے بچوں کو فی کس چار ہزار روپے وظیفہ دیا جائے گا

  • گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج 14دن کے لئے بند

    گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج 14دن کے لئے بند

    شیخوپورہ(نمائندہ باغی ٹی وی) گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج شیخوپورہ کو کرونا وبا کے پیش نظر 14روز کے لیے سمارٹ لاک ڈاؤن کرتے ہوئے بند کر دیا گیا ہے

    اس سلسلے میں پرائمری اور اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر ڈپارٹمنٹ نے ایک مراسلہ بھی جاری کیا ہے جس میں ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ کے حکم سے گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کو 14 روز کے لئے بند کرنے کا حکم۔دیا گیا ہے

    باغی ٹی وی کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق مذکورہ کالج میں کرونا کے تین مریضوں کی موجودگی پائی گئی تھی جس کے بعد ایکشن لیتے ہوئے سمارٹ لاک ڈاؤن کا نفاذ کیا گیا ہے