ایران نے قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی کی شہادت کی تصدیق کردی۔
عرب میڈیا کے مطابق ایرانی حکام نے علی لاریجانی کے بیٹے مرتضیٰ کے شہید ہونے کی بھی تصدیق کردی ہے۔اس سے پہلے علی لاریجانی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ہاتھ سے لکھا پیغام جاری کیا گیا تھا جس میں شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا گیا تھا۔قبل ازیں اسرائیل نے ایران کی قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی کو نشانہ بنانےکا دعویٰ کیا تھا۔
باغی ٹی وی کو تہران سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ایرانی رہنما علی ریجانی کی ایک مبینہ اسرائیلی حملے میں اپنے بیٹے سمیت موت ہو گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ حملہ اسرائیلی افواج کی جانب سے کیا گیا،مقامی ذرائع اور بعض غیر سرکاری میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعہ نے ایران میں شدید صدمے کی لہر دوڑا دی ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی اس خبر کے حوالے سے غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق تہران میں سکیورٹی اداروں کے اندرونی حالات پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ بعض اطلاعات میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایرانی انٹیلی جنس نظام گزشتہ کئی برسوں سے کمزور ہو چکا ہے اور اس میں سنگین خامیاں موجود ہیں، جس کے باعث اس نوعیت کے حملے ممکن ہو رہے ہیں۔دوسری جانب دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ایران کی حکومت یا معتبر عالمی ذرائع اس واقعے کی تصدیق نہیں کرتے، اس خبر کو حتمی قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
صدر ٹرمپ علی لاریجانی کے قتل پر کہا کہ ان کے اعلیٰ ترین شخص کو دراصل کل قتل کر دیا گیا تھا۔وہ مظاہرین کے قتل کا ذمہ دار تھا۔ وہ شخص جو پچھلے دو ہفتوں کے دوران 32,000 افراد کے قتل کا ذمہ دار تھا – وہ مظاہرین کے قتل کا انچارج تھا۔میرا مطلب ہے کہ انہوں نے 32,000 سے زیادہ لوگ مارے ہیں۔
علی ہاشم لاریجانی آملی 1958ء میں نجف اشرف میں پیدا ہوئے اور اپنا بچپن وہیں گزارا۔ اس کے بعد، ان کے والد شیخ مرزا ہاشم آملی، ستر کی دہائی میں بعث پارٹی کی جانب سے کی جانے والی جبری ملک بدری کے نتیجے میں ایران ہجرت کر گئے۔ان کے والد، شیخ المیرزا ہاشم آملی، حوزہ علمیہ قم کے بڑے مراجع اور فقہاء میں شمار ہوتے تھے۔ علی لاریجانی کے بھائی بھی اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں، جن میں صادق لاریجانی (سابق چیف جسٹس) اور جواد لاریجانی (انسانی حقوق کے مشیر) شامل ہیں۔
قطر کی حمد بن خلیفہ یونیورسٹی میں پبلک پالیسی کے سینئر پروفیسر سلطان برکات کے مطابق ایرانی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی کی شہادت سے جنگ کے سفارتی حل تک پہنچنا مزید مشکل اور طویل ہو جائےگا۔عرب میڈیا کے مطابق پروفیسر سلطان برکات کا کہنا ہے کہ لاریجانی کی شہادت ایرانی نظام میں سخت گیر عناصر کو مضبوط کرے گی اور ساتھ ہی سفارتی حل فی الحال کچھ مزید دور ہوجائےگا۔انہوں نےکہا کہ لاریجانی دونوں سیاسی دھڑوں سے بات کرنےکی صلاحیت رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ ایران میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔برکات کے مطابق وہ نہایت تعلیم یافتہ ہیں اور مغرب کے علاوہ ایرانی قدامت پسندوں اور اصلاح پسندوں سے بھی بات کرنا جانتے ہیں، یہ ان لوگوں کے لیے بڑا نقصان ہے جو فوجی تصادم کے بجائے متبادل حل چاہتے ہیں
علی لاریجانی ایران کی دوسری اہم ترین شخصیت ہیں ۔ امریکہ سمجھتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اس کے اڈوں کو نشانہ بنانے کے پیچھے لاریجانی ہیں ۔لاریجانی نے تہران یونیورسٹی سے مغربی فلسفہ میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے ۔ریاضی اور کمپیوٹر سائنس میں بھی ڈگریاں رکھتے ہیں ۔ 6 کتابوں کے مصنف ہیں ۔ آج بھی ایران کی داخلی اور خارجی سیاست میں ان کی رائے کو حرفِ آخر کے قریب سمجھا جاتا ہے۔ ریاست کے گہرے رازوں کے امین اور مشکل وقت میں تزویراتی فیصلے کرنے والے دماغ سمجھے جاتے ہیں۔امریکہ اور مغربی طاقتیں علی لاریجانی کو ایک "سخت گیر لیکن حقیقت پسند” حریف سمجھتی تھیں۔ امریکی تھنک ٹینکس کا ماننا تھا کہ لاریجانی نظریاتی طور پر انقلاب کے وفادار ہیں، لیکن وہ جذبات کے بجائے عقل اور مصلحت کے ساتھ بات چیت کرنا جانتے ہیں۔ امریکہ انہیں ایک ایسا "شطرنج کا کھلاڑی” سمجھتا تھا جو میز پر بیٹھ کر سخت ترین سودے بازی کر سکتا ہے۔ اگرچہ وہ امریکہ کے سخت ناقد رہے ہیں، لیکن انہوں نے ہمیشہ سفارتی راستوں کو کھلا رکھنے کی حمایت کی، جس کی وجہ سے مغرب انہیں ایک "قابلِ اعتبار مذاکرات کار” کے طور پر دیکھتا تھا۔
دوسری جانب پاسدارن انقلاب نے پاسیج کے سربراہ غلام رضا سلیمانی کی شہادت کی تصدیق کردی ہے،عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے تہران میں پاسیج فورس کے تنصیبات پر حملہ کیا جس میں غلام رضا سلیمانی شہید ہو گئے.