Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • خواتین سے کہوں گی کسی غلط سرگرمی کا حصہ نہ بنیں،گرفتارخاتون خودکش حملہ آور کی اپیل

    خواتین سے کہوں گی کسی غلط سرگرمی کا حصہ نہ بنیں،گرفتارخاتون خودکش حملہ آور کی اپیل

    سکیورٹی اداروں نے کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی جانب سے خودکش حملے کے لیے تیار کی گئی نوجوان لڑکی کو گرفتار کرلیا۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کوئٹہ وزیر داخلہ ضیا لانگو و دیگر حکام کے ہمراہ پریس کانفرنس کی جس دوران بی ایل اے کی جانب سے خودکش حملوں کے لیے تیار کی گئی لڑکی لائبہ کو بھی موجود تھیں،پریس کانفرنس میں لائبہ نے بتایا کہ اسے خودکش مشن کے لیے تیار کیا جارہا تھا کہ اسے خضدار سے گرفتار کرلیا گیا، تمام خواتین سے کہوں گی کسی غلط سرگرمی کا حصہ نہ بنیں۔ ضلع خضدار کے علاقے تحصیل زہری کی رہائشی ہوں، کمانڈر ابراہیم نے میرا رابطہ دل جان سے کرایا ،کمانڈر ابراہیم ذہن سازی کرکے مجھے خودکش حملہ آور بنانا چاہتا تھا،کمانڈر دل جان نے کہا کہ بی وائے سی کی ڈاکٹر صبیحہ کے پاس لے کر جائے گا خودکش حملے کی تیاری کیلئے، تنظیمی گفتگو اور نظریات سے متاثر ہو کر وہ اس راستے پر چلنے کے لیے تیار ہو گئی۔ بعد ازاں کمانڈر ابراہیم نے اس کا رابطہ دل جان سے کروایا، جہاں اسے ہدف دیا گیا کہ مزید لڑکیوں کو بھی اس سرگرمی کے لیے تیار کرے۔

    اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ دہشتگرد بلوچ خواتین کا استحصال کر رہے ہیں، لائبہ کہ کہانی سب کے سامنے ہے، بی ایل اے نے خواتین کا احترام ختم کیا، بلوچوں کو لاحاصل مقاصد کی طرف دھکیل دیا گیا ہے،بلوچستان کے عوام حکومت سے خود حساس معلومات شیئر کر رہے ہیں، سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی نے بڑی تباہی سے بچالیا اور بلوچستان کو محفوظ بنایا۔

  • کابل اسپتال حملے میں 400 افراد کی ہلاکت کا جھوٹا دعویٰ افغان میڈیا نے کیا بے نقاب

    کابل اسپتال حملے میں 400 افراد کی ہلاکت کا جھوٹا دعویٰ افغان میڈیا نے کیا بے نقاب

    افغان میڈیا نے کابل اسپتال حملے میں 400 افراد کی ہلاکت کے جھوٹے دعوؤں کی قلعی کھول دی۔

    افغان میڈیا کے مطابق حملے کے دوران ہلاکتوں ، خون کے آثار اور بڑی تباہی کے نشانات نہیں ملے، افغان طالبان حکام کے بحالی مرکز پر حملے کے دعوے کے حق میں کوئی ثبوت نہیں ملا۔افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ کابل میں بحالی مرکز کے قریب لگی آگ معمولی نوعیت کی تھی، بحالی مرکز کے قریب آگ قریبی طالبان فوجی کیمپ پر حملے کے باعث لگی۔اقوام متحدہ کے ادارے برائے افغانستان نے بھی 400افراد کی ہلاکت کے جھوٹے دعوے کی تصدیق نہیں کی۔افغان میڈیا کی رپورٹر نے بھی اسپتال میں موجود عینی شاہدین کے ذریعے طالبان رجیم پروپیگنڈا آشکار کیا۔

    افغان میڈیا کے مطابق اس وقت کابل سینٹرل اسپتال میں 15 زخمی زیر علاج ہیں۔خیال رہے کہ گزشتہ روز پاکستان نے کابل اور ننگرہار میں کامیاب فضائی حملے کیے، ایمونیشن اور ٹیکنیکل انفرااسٹرکچر تباہ کیا۔ ترجمان افغان وزارت داخلہ نے اس سے پہلے جھوٹا دعویٰ کیا تھا کہ منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے مرکز پر حملے میں چار سو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ افغان طالبان رجیم نے اسپتال پر حملے کا جھوٹا بیانیہ بنانے کی کوشش کی اور افغان طالبان رجیم کو جھوٹی پوسٹس ڈیلیٹ کرنا پڑیں۔

    کابل اور ننگرہار میں حالیہ کارروائیوں کے بعد پاکستان نے افغان طالبان کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی ہسپتال یا شہری تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔پاکستانی مؤقف کے مطابق 16 مارچ 2026 کی شب کیے گئے حملے مکمل طور پر مخصوص عسکری اور دہشت گردی سے متعلق اہداف کے خلاف تھے، جن میں اسلحہ ذخیرہ کرنے کی جگہیں، تکنیکی انفراسٹرکچر اور وہ مراکز شامل تھے جو پاکستان کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث تھے۔‎حکام کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کو پیشہ ورانہ انداز میں انجام دیا گیا اور تمام اہداف کی نوعیت کو واضح کرنے کے لیے ویڈیو شواہد بھی فراہم کیے گئے، جن میں ثانوی دھماکے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ گولہ بارود کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا۔‎پاکستانی حکام نے طالبان کے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیا ہے کہ کسی منشیات بحالی مرکز یا ہسپتال کو نشانہ بنایا گیا، اور اسے پروپیگنڈا مہم کا حصہ قرار دیا ہے۔
    ‎مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کو سرحد پار سے دہشت گردی کے خطرات کا سامنا ہے اور یہ کارروائیاں انہی خطرات کے خاتمے کے لیے کی جا رہی ہیں۔‎پاکستان نے اپنے مؤقف میں واضح کیا کہ وہ اپنے شہریوں کے تحفظ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر ضروری اقدام جاری رکھے گی

  • ‏ایران کی قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی کی شہادت کی تصدیق

    ‏ایران کی قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی کی شہادت کی تصدیق

    ایران نے قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی کی شہادت کی تصدیق کردی۔

    عرب میڈیا کے مطابق ایرانی حکام نے علی لاریجانی کے بیٹے مرتضیٰ کے شہید ہونے کی بھی تصدیق کردی ہے۔اس سے پہلے علی لاریجانی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ہاتھ سے لکھا پیغام جاری کیا گیا تھا جس میں شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا گیا تھا۔قبل ازیں اسرائیل نے ایران کی قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی کو نشانہ بنانےکا دعویٰ کیا تھا۔

    باغی ٹی وی کو تہران سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ایرانی رہنما علی ریجانی کی ایک مبینہ اسرائیلی حملے میں اپنے بیٹے سمیت موت ہو گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ حملہ اسرائیلی افواج کی جانب سے کیا گیا،مقامی ذرائع اور بعض غیر سرکاری میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعہ نے ایران میں شدید صدمے کی لہر دوڑا دی ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی اس خبر کے حوالے سے غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

    ذرائع کے مطابق تہران میں سکیورٹی اداروں کے اندرونی حالات پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ بعض اطلاعات میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایرانی انٹیلی جنس نظام گزشتہ کئی برسوں سے کمزور ہو چکا ہے اور اس میں سنگین خامیاں موجود ہیں، جس کے باعث اس نوعیت کے حملے ممکن ہو رہے ہیں۔دوسری جانب دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ایران کی حکومت یا معتبر عالمی ذرائع اس واقعے کی تصدیق نہیں کرتے، اس خبر کو حتمی قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

    صدر ٹرمپ علی لاریجانی کے قتل پر کہا کہ ان کے اعلیٰ ترین شخص کو دراصل کل قتل کر دیا گیا تھا۔وہ مظاہرین کے قتل کا ذمہ دار تھا۔ وہ شخص جو پچھلے دو ہفتوں کے دوران 32,000 افراد کے قتل کا ذمہ دار تھا – وہ مظاہرین کے قتل کا انچارج تھا۔میرا مطلب ہے کہ انہوں نے 32,000 سے زیادہ لوگ مارے ہیں۔

    علی ہاشم لاریجانی آملی 1958ء میں نجف اشرف میں پیدا ہوئے اور اپنا بچپن وہیں گزارا۔ اس کے بعد، ان کے والد شیخ مرزا ہاشم آملی، ستر کی دہائی میں بعث پارٹی کی جانب سے کی جانے والی جبری ملک بدری کے نتیجے میں ایران ہجرت کر گئے۔ان کے والد، شیخ المیرزا ہاشم آملی، حوزہ علمیہ قم کے بڑے مراجع اور فقہاء میں شمار ہوتے تھے۔ علی لاریجانی کے بھائی بھی اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں، جن میں صادق لاریجانی (سابق چیف جسٹس) اور جواد لاریجانی (انسانی حقوق کے مشیر) شامل ہیں۔

    قطر کی حمد بن خلیفہ یونیورسٹی میں پبلک پالیسی کے سینئر پروفیسر سلطان برکات کے مطابق ایرانی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی کی شہادت سے جنگ کے سفارتی حل تک پہنچنا مزید مشکل اور طویل ہو جائےگا۔عرب میڈیا کے مطابق پروفیسر سلطان برکات کا کہنا ہے کہ لاریجانی کی شہادت ایرانی نظام میں سخت گیر عناصر کو مضبوط کرے گی اور ساتھ ہی سفارتی حل فی الحال کچھ مزید دور ہوجائےگا۔انہوں نےکہا کہ لاریجانی دونوں سیاسی دھڑوں سے بات کرنےکی صلاحیت رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ ایران میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔برکات کے مطابق وہ نہایت تعلیم یافتہ ہیں اور مغرب کے علاوہ ایرانی قدامت پسندوں اور اصلاح پسندوں سے بھی بات کرنا جانتے ہیں، یہ ان لوگوں کے لیے بڑا نقصان ہے جو فوجی تصادم کے بجائے متبادل حل چاہتے ہیں

    علی لاریجانی ایران کی دوسری اہم ترین شخصیت ہیں ۔ امریکہ سمجھتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اس کے اڈوں کو نشانہ بنانے کے پیچھے لاریجانی ہیں ۔لاریجانی نے تہران یونیورسٹی سے مغربی فلسفہ میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے ۔ریاضی اور کمپیوٹر سائنس میں بھی ڈگریاں رکھتے ہیں ۔ 6 کتابوں کے مصنف ہیں ۔ آج بھی ایران کی داخلی اور خارجی سیاست میں ان کی رائے کو حرفِ آخر کے قریب سمجھا جاتا ہے۔ ریاست کے گہرے رازوں کے امین اور مشکل وقت میں تزویراتی فیصلے کرنے والے دماغ سمجھے جاتے ہیں۔امریکہ اور مغربی طاقتیں علی لاریجانی کو ایک "سخت گیر لیکن حقیقت پسند” حریف سمجھتی تھیں۔ امریکی تھنک ٹینکس کا ماننا تھا کہ لاریجانی نظریاتی طور پر انقلاب کے وفادار ہیں، لیکن وہ جذبات کے بجائے عقل اور مصلحت کے ساتھ بات چیت کرنا جانتے ہیں۔ امریکہ انہیں ایک ایسا "شطرنج کا کھلاڑی” سمجھتا تھا جو میز پر بیٹھ کر سخت ترین سودے بازی کر سکتا ہے۔ اگرچہ وہ امریکہ کے سخت ناقد رہے ہیں، لیکن انہوں نے ہمیشہ سفارتی راستوں کو کھلا رکھنے کی حمایت کی، جس کی وجہ سے مغرب انہیں ایک "قابلِ اعتبار مذاکرات کار” کے طور پر دیکھتا تھا۔

    دوسری جانب پاسدارن انقلاب نے پاسیج کے سربراہ غلام رضا سلیمانی کی شہادت کی تصدیق کردی ہے،عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے تہران میں پاسیج فورس کے تنصیبات پر حملہ کیا جس میں غلام رضا سلیمانی شہید ہو گئے.

  • پاکستان نے رابطہ کیا تو روس اسے سستا تیل فراہم کرے گا۔روسی سفیر

    پاکستان نے رابطہ کیا تو روس اسے سستا تیل فراہم کرے گا۔روسی سفیر

    پاکستان میں تعینات روسی سفیر البرٹ پی خوریف نے کہا ہے کہ اگر پاکستان نے رابطہ کیا تو روس اسے سستا تیل فراہم کرے گا۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے روسی سفیر البرٹ پی خوریف کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان کو تیل بیچنے کے لیے تیار ہیں، پاکستان بھی اس صورتحال سے فائدہ اٹھاسکتا ہے، تیل کی خریداری کے لیے پاکستان کے روس سے رابطے کا ابھی تک میرے علم میں نہیں، پاکستان نے رابطہ کیا تو اسے سستا تیل دیں گے، توانائی کا شعبہ پاکستان اور روس کے درمیان دوطرفہ تعاون کا اہم ترین ستون ہے، ایران کے ساتھ کئی دہائیوں سے فوجی اور تکنیکی تعاون ہے، ایران کا ردعمل امریکی فوجی تنصیبات کے خلاف تھا جوخلیجی آبناؤں میں موجود ہیں، ایران کی کارروائیوں اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر مزید کچھ نہیں کہنا،صورتحال غیریقینی ہے،ٹرمپ کی فوجی مہم جوئی پر پوری دنیا حیران ہے، موجودہ کشیدگی کب اورکیسے ختم ہوگی، اس کی پیشگوئی ممکن نہیں، صورتحال پیچیدہ ہے،ہم ایران میں بچیوں کے اسکول پرحملے کی شدید مذمت کرتے ہیں، ایران میں اسکول پر حملے میں 170 بچوں کی ہلاکت قابل مذمت ہے، تمام فریقین سے مطالبہ ہے کہ طاقت کے استعمال سے گریز کریں، مسائل کا حل اقوام متحدہ کے چارٹرکے تحت سیاسی وسفارتی طریقے سے نکالا جائے۔

    روسی سفیر البرٹ پی خوریف کا مزید کہنا تھا کہ امریکا اوراسرائیل نے ایران پرطاقت کا استعمال کرکے بحران کو مزید بڑھایا، امریکا اور اسرائیل ایران کی قیادت کو کمزورکرنے کی کوشش کررہے ہیں، اسلامی دنیا میں اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

  • پیٹرولیم درآمدات کی سپلائی چین کو بہتر بنانے کیلئے وزیرِ پیٹرولیم مزید متحرک ہوں،وزیراعظم

    پیٹرولیم درآمدات کی سپلائی چین کو بہتر بنانے کیلئے وزیرِ پیٹرولیم مزید متحرک ہوں،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت خطے کی صورتحال کے پیش نظر ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات کے نفاذ پر جائزہ اجلاس ہوا

    اجلاس کو کفایت شعاری اور بچت کے اقدامات پر عملدرآمد کی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا. بتایا گیا کہ وزیرِ اعظم کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے. انٹیلی جینس بیورو تمام اقدامات پر عملدرآمد کی نگرانی رپورٹ پیش کرے گی.ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کا ضروریات کے مطابق مناسب ذخیرہ موجود ہے. وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی پیٹرولیم درآمدات کی سپلائی چین کو بہتر بنانے کیلئے وزیرِ پیٹرولیم مزید متحرک ہوں.حالات کی بہتری تک تمام متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں.

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ تمام صورتحال کی نگرانی کی جارہی ہے، اور پیٹرولیم مصنوعات کا ریکارڈ رکھا جارہا ہے، تاکہ کسی قسم کی بے قاعدگی کی فوری نشاندہی ہوسکے ،تمام کابینہ ارکان نے رضاکارانہ طور تنخواہیں نہیں لیں. سرکاری محکموں کی تیل کی کٹوتی کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ بچت کے اقدامات سے موجودہ صورتحال میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔ ملکی ضروریات پوری کرنے کیلئے ملک میں ادویات کا مناسب ذخیرہ موجود ہے. ورک فرام ہوم کے حوالے سے سرکاری ای-افس کی سہولت فراہم کرنے کے لئے خصوصی کنیکٹیویٹی کے انتظامات وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی جانب سے کیے جا چکے ہیں .
    اجلاس میں نائب وزیراعظم وز وزیر خارجہ اسحاق ڈار ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک ، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ ، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی طارق باجوہ، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

  • افغان طالبان امن کیلئے سنگین خطرہ ، اقوام متحدہ کی کڑی پابندیاں برقرار

    افغان طالبان امن کیلئے سنگین خطرہ ، اقوام متحدہ کی کڑی پابندیاں برقرار

    دہشت گرد گروہ افغان طالبان عالمی امن اور انسانی حقوق کیلئے سنگین خطرہ بن چکے ہیں

    افغان طالبان رجیم افغانستان میں خواتین اور اقلیتوں کو سماجی اور اقتصادی طور پر مکمل مفلوج کرنے میں مصروف ہیں،افغان جریدے ہشت صبح کے مطابق؛انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس الائنس نےطالبان پر اقوام متحدہ کی کڑی پابندیوں کا خیرمقدم کیا ہے،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 22اعلیٰ طالبان ارکان پر پابندیاں لگائیں جو کہ انتہائی اہم اقدام ہے ،انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس الائنس نے کہا کہ؛ یہ پابندیاں ثبوت ہے کہ افغان طالبان ایک دہشت گرد گروہ کے طور پر اب بھی شدید خطرہ ہیں، پابندیوں میں افغان عبوری وزیراعظم محمد حسن اخوند،وزیر داخلہ سراج الدین حقانی سمیت کئی سینئر عہدیدار شامل ہیں، برطانیہ نے بھی اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے مطابق اپنی طالبان پر پابندیوں کی فہرست کی توثیق کی ہے، برطانیہ نے سلامتی کونسل کے فیصلے کے مطابق طالبان پر عائد پابندیوں کی فہرست کو اپ ڈیٹ کر دیا ،برطانوی بیان کے مطابق طالبان اب بھی امن کیلئے خطرہ ہیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں،

    دفاعی ماہرین کے مطابق طالبان کی موجودہ پالیسیوں نے افغانستان کو ایک بار پھر شدت پسند گروہوں کیلئے محفوظ پناہ گاہ بنا دیا ہے،اقوام متحدہ کی پابندیاں اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ عالمی برادری طالبان کو ایک ریاست کے بجائے عسکری گروہ کے طور پر دیکھ رہی ہے، طالبان کی سرپرستی میں سرگرم شدت پسند نیٹ ورکس جنوبی و وسطی ایشیا میں دہشت گردی کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھا رہے ہیں،

  • افغانستان میں ڈرون اسمبلی ورکشاپس پر حملے، ننگرہار اور کابل میں چھ مراکز تباہ

    افغانستان میں ڈرون اسمبلی ورکشاپس پر حملے، ننگرہار اور کابل میں چھ مراکز تباہ

    کابل: افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار اور دارالحکومت کابل میں ڈرون اسمبلی سے متعلق متعدد ورکشاپس کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے نتیجے میں ڈرون بنانے کے ایک اہم نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

    ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران صوبہ ننگرہار میں چار جبکہ کابل میں دو ڈرون ورکشاپس کو تباہ کر دیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ان ورکشاپس میں مختلف جدید پرزوں کی مدد سے ڈرون تیار کیے جا رہے تھے۔اطلاعات کے مطابق ان مراکز میں استعمال ہونے والے کئی پرزے بھارتی اور اسرائیلی ساختہ تھے، جنہیں استعمال کر کے ڈرون تیار کیے جاتے تھے۔ ان مراکز میں بننے والے ڈرون مختلف سرگرمیوں کے لیے استعمال کیے جانے کا خدشہ تھا۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حالیہ حملوں کے نتیجے میں افغانستان میں ڈرون اسمبل کرنے کی صلاحیت کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔ ان کارروائیوں سے اس نیٹ ورک کے آپریشنز کو شدید نقصان پہنچا ہے اور ڈرون تیاری کی سرگرمیاں عارضی طور پر متاثر ہونے کا امکان ہے۔

  • آپریشن  غضب للحق ،کابل اور ننگر ہار میں افغان طالبان کی فوجی تنصیبات کامیابی سے نشانہ

    آپریشن غضب للحق ،کابل اور ننگر ہار میں افغان طالبان کی فوجی تنصیبات کامیابی سے نشانہ

    آپریشن غضب للحق میں پاک افواج کے افغانستان میں کامیاب فضائی حملے جاری ہیں۔

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک افواج نے 16 مارچ کی شب کابل اور ننگر ہار میں افغان طالبان کی فوجی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا،سکیورٹی ذرائع کے مطابق ان حملوں میں پاک افواج نے کابل میں دو مقامات پر ٹیکنیکل سپورٹ انفرااسٹرکچر اور ایمونیشن اسٹوریج کو مؤثر انداز میں تباہ کیا،سکیورٹی ذرائع کے مطابق فضائی حملےکے بعد سیکنڈری ڈیٹونیشن کی وجہ سے بلند ہوتے شعلے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ بارود کا بہت بڑا ذخیرہ تھا۔سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہےکہ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا ڈرگ اسپتال کو نشانہ بنانےکا بیان مضحکہ خیز ہے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق ننگر ہار میں بھی کارروائی کرتے ہوئے پاک افواج نے 4 مقامات پر افغان طالبان کی ملٹری تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ ننگر ہار میں ملڑی تنصیبات سے ملحقہ لاجسٹک انفرااسٹرکچر کو تباہ کیا گیا، فضائی کارروائیوں میں ایمونیشن، ٹیکنیکل انفرااسٹرکچر کو بھی تباہ کیا گیا۔سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہےکہ آپریشن غضب للحق کے تحت کارروائیاں اہداف کے حصول تک جاری رہیں گی۔

    وفاقی وزارت اطلاعات نے کہا ہے کہ پاکستان نے نہایت درستگی کے ساتھ کابل اور ننگرہار میں افغان طالبان کی عسکری تنصیبات کونشانہ بنایا لہٰذا افغان طالبان رجیم کے ترجمان کا بیان جھوٹا اور گمراہ کن ہونے کی بنا پر مسترد کرتے ہیں۔

    وزارت اطلاعات کے مطابق طالبان رجیم کے نام نہاد ترجمان کا دعویٰ حقائق کے برعکس ہے اور طالبان رجیم کے دعوے کا مقصد عوامی رائے کو گمراہ کرنا ہے۔

    وزارت اطلاعات نے بتایاکہ 16 مارچ کی رات پاکستان نے کابل، ننگرہار میں دہشتگردی کے معاون ڈھانچے کو نشانہ بنایا، انفرااسٹرکچر میں تکنیکی آلات کے ذخیرے اور اسلحہ و گولہ بارود کے ذخائر شامل تھے، یہ اسلحہ بے گناہ پاکستانی شہریوں کے خلاف استعمال ہو رہا تھا۔

    وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ ذخیرہ شدہ گولہ بارود کے دھماکے دہشت گرد پراکسی کے زیرِ استعمال اسلحے کی موجودگی ظاہر کرتے ہیں، پاکستان کی کارروائیاں نہایت درست اور محتاط ہوتی ہیں تاکہ کولیٹرل نقصان نہ ہو، ان اہداف کو منشیات بحالی مرکز قرار دینا جذبات کو بھڑکانے کی کوشش ہے۔

    وزارت اطلاعات کے مطابق افغان طالبان رجیم کا دعویٰ سرحد پار دہشت گردی کی معاونت کو چھپانے کا حربہ ہے، افغان طالبان رجیم کے ترجمان کا بیان جھوٹا اور گمراہ کن ہونے کی بنا پر مسترد کرتے ہیں، پاکستان نے نہایت درستگی کے ساتھ کابل اور ننگرہار میں افغان طالبان کی عسکری تنصیبات کونشانہ بنایا۔

  • عوام کو ریلیف دینے کیلئے مزید اقدامات پر بھی مشاورت جاری ہے،وزیراعظم

    عوام کو ریلیف دینے کیلئے مزید اقدامات پر بھی مشاورت جاری ہے،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت عالمی سطح پر کشیدگی کے پیش نظر ملکی معیشت کے استحکام اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا.

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حالیہ عالمی صورتحال کے پیش نظر عوام کو ریلیف دینے کے حوالے سے مزید اقدامات پر بھی مشاورت جاری ہے، حکومت کے بروقت فیصلوں کی بدولت اس وقت ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مناسب مقدار موجود ہے، بدلتی ہوئی عالمی صورتحال کے پیش نظر ملک میں معاشی استحکام قائم کرنے کے لیے بر وقت بنائی گئی کمیٹی کے فیصلوں کی بدولت عوام کے لیے تیل کی مسلسل فراہمی ممکن ہوئی، قومی سطح پر کفایت شعاری اور بچت کے لیے اقدامات کا نفاذ ہو چکا ہے اور مزید پر کام جاری ہے،

    وزیراعظم کی کفایت شعاری اور بچت کے تمام نافذ العمل اقدامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ کی ہدایت پہلے ہی جاری کی جا چکی ہے.وزیراعظم کا کہنا تھاکہ معاشی استحکام اور عوام کے لیے ریلیف حکومت کی اولین ترجیح ہے، تمام اقدامات نہ صرف فوری ریلیف بلکہ طویل مدتی معاشی استحکام کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے لیے جا رہے ہیں، حکومت پاکستان عالمی سطح پر جاری کشیدگی کے پیش نظر کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے، وزیراعظم نے پیٹرولیم مصنوعات کی تقسیم کار کمپنیوں کو حکومت کے تعین کردہ نرخوں پر تیل کی فروخت یقینی بنانے اور اس معاملے میں شفافیت برقرار رکھنے کی ہدایت کی،اجلاس میں وزیراعظم کو ملک میں موجود تیل کے ذخائر، فیول کی مانگ پوری کرنے لے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات اور عوام کو عالمی کشیدگی کے پیش نظر ریلیف دینے کے حوالے سے اقدامات پر بریفنگ دی گئی ،بتایا گیا کہ حکومت پاکستان تیل کی متعین قیمت پر فروخت کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے، تیل کی مسلسل فراہمی اور اس کی متعین قیمت پر فروخت کو یقینی بنانے کے لیے پاک ایپ Pak App میں صارفین کے لیے فیچر شامل کر دیا گیا ہے،اب صارفین پاک ایپ Pak App کے ذریعے ملک میں کہیں بھی تیل کی عدم دستیابی یا مہنگے داموں پر فروخت کے حوالے سے متعلقہ حکام کو آگاہ کر سکتے ہیں جس پر حکومت کی جانب سے فوری اقدامات لیے جائیں گے، اجلاس کے شرکاء نے گزشتہ جمعہ کو وزیراعظم کے تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ نہ کرنے کے فیصلے کو سراہا،اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے

  • تیجس کے مسلسل حادثات،بھارتی ناقص دفاعی صلاحیت بے نقاب

    تیجس کے مسلسل حادثات،بھارتی ناقص دفاعی صلاحیت بے نقاب

    بھارت میں تیار جنگی طیارے تیجس کے مسلسل حادثات نے نام نہاد "میڈ اِن انڈیا” دفاعی منصوبے کی ناکامی اور ناقص دفاعی صلاحیت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ طیاروں کی تباہی کے ساتھ جنگی جنون میں مبتلا مودی کے وشو گرو بننے کے تمام عزائم کو بھی شدید دھچکا پہنچا ہے۔

    بی بی سی کی حالیہ رپورٹ کے مطابق جنگی طیاروں کے بڑھتے ہوئے حادثات بھارت کے ایک بڑی فوجی طاقت بننے کے خواب کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 7 فروری 2026 کو تیجس کے تیسرے حادثے کے بعد بھارتی فضائیہ نے خاموشی سے تیجس طیاروں کے 30 جہازوں پر مشتمل پوری فلیٹ کو گراؤنڈ کر دیا۔ ماہرین کے مطابق کسی طیارے کی مکمل فلیٹ کو گراؤنڈ کرنا عام طور پر سنگین تکنیکی مسائل کی نشاندہی کرتا ہے۔بی بی سی کے مطابق تیجس پروگرام کا آغاز 1981 میں کیا گیا تھا جبکہ اس کی پہلی ٹیسٹ فلائٹ 2001 میں ہوئی، تاہم اتنے طویل عرصے کے باوجود بھارت اب تک اس طیارے کے لیے اپنا انجن تیار کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تیجس طیاروں میں استعمال ہونے والے انجن، ایویونکس، ریڈار سسٹمز اور ہتھیار امریکہ اور اسرائیل سے درآمد کیے گئے ہیں، جس سے مقامی دفاعی پیداوار کے دعوؤں پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

    مزید برآں بھارت کے پاس اس وقت ففتھ جنریشن جنگی طیارہ موجود نہیں ہے اور روس کے SU-57 میں دلچسپی کے باوجود امریکی ناراضگی کے خدشات بھی پائے جاتے ہیں۔بی بی سی کے مطابق 6 مارچ کو روسی ساختہ SU-30MKI جنگی طیارہ بھی جورہٹ کے قریب حادثے کا شکار ہو چکا ہے، جس سے بھارتی فضائیہ کے حفاظتی اور تکنیکی نظام پر مزید سوالات اٹھ گئے ہیں۔عسکری تقاضوں کے مطابق بھارتی فضائیہ کو کم از کم 42 اسکواڈرن درکار ہیں، تاہم دستیاب اسکواڈرن کی تعداد مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔ماہرین کے مطابق تیجس طیاروں کی گراؤنڈنگ، اسکواڈرن کی کمی اور دیگر آپریشنل مسائل بھارت کی فضائی طاقت کی ساختی کمزوریوں کو ظاہر کرتے ہیں۔دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ تیجس سمیت جنگی طیاروں کے مسلسل حادثات بھارتی فضائیہ کی تکنیکی اور آپریشنل کمزوریوں کو نمایاں کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق تیجس کا حادثہ کسی ایک پائلٹ کی غلطی نہیں بلکہ بھارت کے دفاعی صنعتی نظام اور طویل المدتی منصوبہ بندی کی ناکامی کی علامت ہے۔ماہرین کے مطابق بھارتی فضائیہ کو اپنی مطلوبہ صلاحیت حاصل کرنے میں ابھی کئی دہائیاں درکار ہو سکتی ہیں۔