Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے،وزیراعظم شہباز شریف کی مذمت

    سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے،وزیراعظم شہباز شریف کی مذمت

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کے مختلف شہروں پر یمنی حوثی جماعت انصاراللہ کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی مستقل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

    یمنی حوثی جماعت انصاراللہ کی جانب سے سعودی شہروں ابہا، خمیس مشیط، نجران اور جازان میں حملے کیے گئے، جن میں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ حملوں کے نتیجے میں بچوں اور خواتین سمیت 73 افراد زخمی ہوئے۔وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ اس نوعیت کے حملے نہ صرف بے گناہ انسانی جانوں کے لیے خطرہ ہیں بلکہ علاقائی امن و سلامتی کو بھی متاثر کرتے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی مستقل حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔ انہوں نے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز، ولی عہد محمد بن سلمان اور برادر سعودی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔شہباز شریف نے حملوں میں زخمی ہونے والے تمام افراد کی جلد صحت یابی کے لیے دعا بھی کی۔

  • یومِ بحریہ: غازی سے ہنگور تک، شجاعت و قربانی کی روایت برقرار رہے گی، ایڈمرل نوید اشرف

    یومِ بحریہ: غازی سے ہنگور تک، شجاعت و قربانی کی روایت برقرار رہے گی، ایڈمرل نوید اشرف

    آج ملک بھر میں یوم بحریہ منایا جارہا ہے وطن کے دفاع میں سمندری حدود کے تحفظ کے دوران جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے

    یومِ بحریہ کے موقع پر پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ قوموں کی پہچان ان کے جغرافیے، حجم یا وسائل سے نہیں بلکہ ان کے عزم و حوصلے اور شجاعت سے ہوتی ہے۔ قیامِ پاکستان کے وقت پاک بحریہ وسائل کی کمی اور محدود آپریشنل صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ دشمن کے ناپاک عزائم سے بخوبی آگاہ تھی جو ہماری آزادی اور ریاستی استحکام کو نقصان پہنچانے کی تاک میں بیٹھا تھا۔ ایسے حالات میں محدود وسائل کے باوجود دفاعِ وطن کے غیر متزلزل عزم سے سرشار پاک بحریہ نے اپنے جوانوں میں نہ صرف قربانی، پیشہ ورانہ مہارت اور شجاعت کا جذبہ پروان چڑھایا بلکہ اپنی آپریشنل صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کی جدوجہدبھی جاری رکھی۔اس غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ 8 ستمبر 1965ء کے دوران دیکھنے کو ملا جب پاک بحریہ نے تاریخی آپریشن” سومنات” کے تحت دوارکا میں دشمن کی ساحلی ریڈار تنصیبات کو انتہائی کامیابی سے نشانہ بنایا۔ یہ آپریشن محض ایک کامیاب بحری کاروائی نہیں بلکہ پاک بحریہ کی جارحانہ صلاحیت، دوراندیش حکمتِ عملی اور ناقابلِ تسخیر جذبے کا عملی ثبوت تھا۔ اس حملے نے دشمن کے ناقابلِ شکست ہونے کے زعم کو پاش پاش کر دیا اور دنیا پر واضح کر دیا کہ عزم و حوصلے سے سرشار ایک باہمت بحری قوت عددی اور مادی وسائل کی کمی کے باوجود فیصلہ کن نتائج حاصل کر سکتی ہے۔آپریشن "سومنات” پاکستان کی تاریخ کا ایک لازوال باب ہے جو اس قوم کے مصمم عزم کی علامت ہے جو اپنی خودمختاری اور دفاع کو درپیش ہر چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ آپریشن” سومنات "میں ثبت ہونے والی شجاعت اور عزم کی یہ میراث آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ قائم و دائم ہے۔ اس درخشاں میراث کا اعادہ معرکہء حق کے دوران بھی ہوا، جب پاک بحریہ نے کامیابی سے بھارتی بحریہ کو ہرممکنہ جارحیت سے باز رکھا اور بہترین حکمت ِ عملی کامظاہرہ کیا۔1965 کے دوران استقامت اور حوصلے کی یہ داستان سمندر کی گہرائیوں میں بھی تاریخ ساز رہی جب گہرے سمندروں میں پاک بحریہ کی آبدوز غازی کی ہیبت نے پاکستان کی زیرِ آب دفاعی صلاحیت کی بنیاد مضبوط کی اور ایک مؤثر آبدوز فورس کی اہمیت کو اُجاگر کیا۔یہ شاندار ورثہ آج ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے، جہاں ہنگور کلاس آبدوزوں کی پاک بحریہ میں شمولیت اپنی جدید ٹیکنالوجی اور غیر معمولی جنگی صلاحیتوں کے ساتھ ایک نئے عہد کا آغاز ہے۔آج کے جدید دور میں پاک بحریہ نئے جہازوں کی شمولیت کے ساتھ اور بدلتے ہوئے آپریشنل تقاضوں سے ہم آہنگ ہوتے ہوئے ترقی کی منازل طے کر رہی ہے۔ ہم اپنے اسلاف کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جن کی شجاعت، بہادری اور عزم آج بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔

    ایڈمرل نوید اشرف کا کہنا تھا کہ آج ہم پاک بحریہ کے ان بہادر شہداء اور غازیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جن کی بے مثال اور بے لوث قربانیوں نے پاکستان کی بحری سرحدوں کی خودمختاری، سلامتی اور دفاع کو یقینی بنایا۔ ان کی شجاعت آج بھی ہماری راہوں کو منور کیے ہوئے ہے۔غازی سے ہنگور تک، پیغام بالکل واضح ہے۔پاکستان کے دفاع کے لیے شجاعت، عزم اور قربانی کی یہ لازوال روایت ہمیشہ قائم رہے گی جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنے گی اور انہیں پاکستان کے محفوظ، مضبوط اور روشن مستقبل کے لیے مسلسل عزم و حوصلے سے سرشار کرتی رہے گی۔

  • نظام ناکام ہے تو کلمے کا نظام لے آئیں،قائدین مرکزی مسلم لیگ

    نظام ناکام ہے تو کلمے کا نظام لے آئیں،قائدین مرکزی مسلم لیگ

    مرکزی مسلم لیگ کے قائدین نے کہا ہے کہ نظام ناکام ہونے کی باتیں ہو رہیں،کلمے کا نظام لے آئیں ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے گا،عدم برداشت، دہشتگردی بڑے مسائل،قوم کو اتحاد ویکجہتی کی ضرورت ہے، فاتح پاکستان آج امت کی قیادت کرنے کو تیار ہے، تین ملکی معاہدے کے بعد مزید ممالک بھی اس میں شامل ہوں گے،وطن عزیز کے لئے جانیں قربان کرنے والے ہمارے ہیرو ہیں،ختم نبوت کا دفاع ہرکلمہ اپنا فرض سمجھتا ہے،

    مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام یوم دفاع پاکستان کے موقع پر فیصل آباد، جھنگ، سیالکوٹ،ٹوبہ ٹیک سنگھ،پشاور ،کراچی میں سیر ت النبی و دفاع پاکستان کانفرنسوں کا انعقاد کیا گیا، شہریوں نے کثیر تعداد میں کانفرنسوں میں شرکت کی، اس موقع پر شرکاء میں جوش و جذبہ دیکھنے میں آیا، شرکاء پاکستان زندہ باد، پاک فوج زندہ باد، حرمت رسول پر جان بھی قربان ہے و دیگر نعرے لگاتے رہے.کانفرنسوں سے مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو،سیکرٹری جنرل سیف اللہ قصوری،نائب صدر حافظ عبدالرؤف،جوائنٹ سیکرٹری محمد یعقوب شیخ،مرکزی ترجمان ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی، صدر پنجاب چوہدری محمد سرور،مولانا منظور احمد،علامہ ناصر مدنی،صدر سندھ فیصل ندیم ،محمد یوسف انور ، محبوب زمان بٹ ، سردار محمد بلال ڈوگر ، قاری شبیر عثمانی،صدر خیبر پختونخوا محمد اشفاق،چیف خطیب خیبرپختونخوا محمد طیب قریشی، امیر جمعیت علمائے اسلام (س) عبدالحق حقانی و دیگر نے خطاب کیا،خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ ملک میں طبقاتی نظام ، ہم لسانیت میں بٹے ہوئے ہیں، اس تقسیم کو ختم کر کے ہمیں ایک قوم بننا ہو گا ،جہاں مسلمان ہونے کی حیثیت سے ختمِ نبوت کا دفاع ضروری ہے، وہاں پاکستانی ہونے کی حیثیت سے پاکستان کا دفاع بھی ضروری ہے، سیف اللہ قصوری کا کہنا تھا کہ زندگی کے ہر میدان میں کامیابی چاہتے ہیں توسیرت طیبہ سے رہنمائی لیں، پاکستان کے استحکام، تکمیل کے لئے مرکزی مسلم لیگ متحرک ہے، حافظ عبدالرؤف، یعقوب شیخ، ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی کا کہنا تھا کہ ہم سن رہے ہیں کہ ملک کا نظام تباہ ہو رہا ہے، یاد رکھیں ملک کو اس بات کی اشد کی ضرورت ہے کہ ایک نظریاتی تحریک کھڑی کی جائے ایک ایسی جماعت جو ہر مسلک،برادری کو ساتھ لے کر چلے، پاکستان کلمہ کے نام پر بنایا گیا تھا لیکن قیام پاکستان کے مقاصد کی تکمیل باقی ہے،دیگرقائدین کا کہنا تھا کہ دشمن پاکستان کو دنیا میں تنہا کرنا چاہتا تھا، مگر اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو عزت و وقار عطا کیا، وطن کے دفاع کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء ہماری پہچان اور فخر ہیں،جب بھی پاکستان کے دفاع کی بات ہوگی پوری قوم متحد ہوکر سامنے آئے گی، اور ملک کو مضبوط بنانے کے لیے قومی یکجہتی کو فروغ دینا ہوگا۔

  • یوم بحریہ،پوری قوم اپنے بحری محافظوں کے ساتھ کھڑی ہے،صدر مملکت،وزیراعظم

    یوم بحریہ،پوری قوم اپنے بحری محافظوں کے ساتھ کھڑی ہے،صدر مملکت،وزیراعظم

    پاکستان بھر میں یومِ بحریہ آج منگل کو قومی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جائے گا، اس موقع پر صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم محمد شہباز شریف، قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور ڈپٹی سپیکر نے پاک بحریہ کے شہداء، غازیوں، افسران، جوانوں اور اہلکاروں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے وطن کے دفاع، ملکی سمندری حدود کے تحفظ اور قومی مفادات کے لیے ان کی خدمات کو سراہا ہے۔ رہنماؤں نے کہا ہے کہ پاک بحریہ کی جرأت، عزم، پیشہ ورانہ مہارت اور قربانیوں نے ہمیشہ قوم کا سر فخر سے بلند کیا ہے اور پوری قوم اپنے بحری محافظوں کے ساتھ کھڑی ہے۔

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے یومِ بحریہ کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ 8 ستمبر کو ایک باوقار اور سربلند قوم کی حیثیت سے یومِ بحریہ منا رہے ہیں، وہ پاک بحریہ کے تمام افسران، سیلرز اور سویلین اہلکاروں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جن کے عزم، بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت نے ہمیشہ قوم کا سر فخر سے بلند کیا۔ انہوں نے کہا کہ 7 اور 8 ستمبر 1965 کی درمیانی شب بھاری حفاظتی حصار میں موجود بھارتی بحری ساحلی تنصیب دوارکا کے خلاف پاک بحریہ کا جرأت مندانہ آپریشن سومناتھ اس کے شاندار ماضی کی یاد دلاتا ہے۔صدر مملکت نے کہا کہ آپریشن سومناتھ پاک بحریہ کی بہادری اور ثابت قدمی کا مظہر تھا اور اس نے ایک ایسی مضبوط بحری قوت کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا جو خود اعتمادی اور ملکی بحری دفاع کو مضبوط بنانے کے غیر متزلزل عزم سے لیس تھی۔ انہوں نے کہا کہ 1965ء کے تاریخی واقعات کے بعد پاک بحریہ نے اپنی بحری سرحدوں کے دفاع میں اسی جذبہ شجاعت اور عزم کو برقرار رکھا ہے۔آصف علی زرداری نے کہا کہ مئی 2025ء کے معرکہ حق کے دوران بھی پاک بحریہ نے اپنی آپریشنل تیاری اور پیشگی تعیناتیوں کے ذریعے دشمن کو مؤثر طور پر باز رکھا اور پاکستان کے بحری مفادات کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازعے کے دوران بھی پاک بحریہ نے آپریشن محافظ البحر کے ذریعے قومی سلامتی، توانائی سلامتی اور اقتصادی شہ رگ کے تحفظ کے لیے اپنے عزم کا مظاہرہ کیا۔انہوں نے کہا کہ پاک بحریہ عصر حاضر کی تکنیکی ترقیوں سے ہم آہنگ رہتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کو جدید خطوط پر استوار کر رہی ہے۔ جدید جنگی بحری جہازوں، ہانگور کلاس آبدوزوں، جیٹ طیاروں، بغیر پائلٹ نظام اور مقامی طور پر تیار کردہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی شمولیت اس امر کی عکاس ہے کہ پاک بحریہ ایک جدید اور مؤثر بحری قوت برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے یومِ بحریہ کے موقع پر اپنے پیغام میں پاک بحریہ کے افسران، جوانوں، اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کو دلی مبارکباد پیش کی اور شہداء، غازیوں، سابق اہلکاروں اور موجودہ افسران و جوانوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ 8 ستمبر 1965ء کی جنگ کے دوران پاک بحریہ کے عزم، شجاعت اور ثابت قدمی کی یاد تازہ کرنے والا قابلِ فخر دن ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ اسی روز پاک بحریہ نے بھارتی بحری تنصیب دوارکا کے خلاف تاریخی آپریشن سومناتھ کامیابی سے انجام دیا۔ انہوں نے کہا کہ 2025ء کے معرکہ حق کے دوران بھی پاک بحریہ نے اعلیٰ عملی تیاری کا مظاہرہ کیا جس کے باعث عددی برتری رکھنے والا دشمن سمندر میں کسی بھی جارحانہ کارروائی سے باز رہا۔شہباز شریف نے کہا کہ موجودہ تزویراتی منظرنامے میں پاک بحریہ کی ذمہ داریاں کئی گنا بڑھ گئی ہیں اور وہ بین الاقوامی بحری مواصلاتی گزرگاہوں اور تجارت کے لیے اہم بحری راستوں کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود پاک بحریہ نے پاکستانی پرچم بردار تجارتی جہازوں، بالخصوص پٹرولیم مصنوعات لے جانے والے جہازوں کی بلا تعطل آمدورفت یقینی بنانے کے لیے اپنے عزم کا مظاہرہ کیا۔

    قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی نے بھی یومِ بحریہ کے موقع پر پاک بحریہ کے افسران اور اہلکاروں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ملکی بحری سرحدوں، ساحلی سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ میں ان کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے آپریشن سومناتھ کو پاک بحریہ کی حکمت عملی، جرأت اور پیشہ ورانہ مہارت کی نمایاں مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملکی دفاعی تاریخ کا قابلِ فخر باب ہے۔سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پاک بحریہ ایک جدید اور ہمہ جہت بحری قوت کے طور پر ترقی کر چکی ہے اور دفاعی و علاقائی سطح پر ابھرنے والے نئے چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک بحریہ ملکی بحری سرحدوں کے دفاع کے ساتھ سمندری تجارتی راستوں کے تحفظ، عالمی امن مشنز اور قدرتی آفات کے دوران انسانی امداد میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ قوم ان کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔

    سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاک بحریہ نے دفاع وطن اور ملکی سمندری حدود کے تحفظ کے لیے ہمیشہ عزم، جرأت اور پیشہ ورانہ صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے 1965ء کی جنگ میں پاک بحریہ کی کارکردگی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے آپریشن دوارکا کو پاک بحریہ کی تاریخ کا درخشاں باب قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ معرکہ حق کے دوران بھی پاک بحریہ نے ملکی سمندری حدود کے تحفظ اور قومی دفاع کے لیے اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں انجام دیں۔ سپیکر نے کہا کہ پاکستان کی معیشت، تجارت اور تزویراتی سلامتی میں سمندری راستوں کی بنیادی اہمیت کے پیش نظر پاک بحریہ کا کردار انتہائی اہم ہے۔

    ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی نے بھی پاک بحریہ کے شہداء اور غازیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ 1965ء کی جنگ میں پاک بحریہ کے بہادر سپوتوں نے جرأت، پیشہ ورانہ مہارت اور قومی جذبے کی لازوال داستانیں رقم کیں۔ انہوں نے آپریشن دوارکا کو پاک بحریہ کی تاریخ کا یادگار باب قرار دیتے ہوئے کہا کہ معرکہ حق کے دوران بھی پاک بحریہ نے ملکی سمندری حدود کے دفاع اور قومی سلامتی کے تحفظ میں مؤثر کردار ادا کیا۔

    پارلیمانی قیادت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کی خودمختاری، سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پوری قوم متحد ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ پاک بحریہ اپنی شاندار روایات، اعلیٰ پیشہ ورانہ اقدار اور جدید صلاحیتوں کے ساتھ ملکی بحری حدود کے دفاع اور قومی مفادات کے تحفظ کا فریضہ اسی عزم کے ساتھ جاری رکھے گی

  • مغربی سرحد پر کاری ضرب،افغان دہشت گردوں کو فیصلہ کن شکست

    مغربی سرحد پر کاری ضرب،افغان دہشت گردوں کو فیصلہ کن شکست

    گزشتہ ایک ماہ کے دوران پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے مغربی سرحد کے ساتھ 800 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کیے، جن کے ذریعے دراندازی کی متعدد کوششوں کو کامیابی سے ناکام بنایا گیا۔

    ان کارروائیوں کے نتیجے میں 200 ٹی ٹی پی دہشت گرد ہلاک ہوئے، جس سے دہشت گرد نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچا۔ ہلاک ہونے والوں میں 48 افغان شہری بھی شامل تھے، جو مبینہ طور پر دہشت گرد نیٹ ورک سے وابستہ یا اس کے ساتھ موجود تھے۔

    خیبر پختونخوا: شمالی و جنوبی وزیرستان میں 230 کارروائیوں کے دوران 62 ٹی ٹی پی دہشت گرد ہلاک ہوئے، جن میں 16 افغان شہری شامل تھے۔

    باجوڑ و مہمند: 180 کارروائیوں کے نتیجے میں 55 دہشت گرد ہلاک ہوئے، جن میں 13 افغان شہری شامل تھے۔

    خیبر و اورکزئی: 160 کارروائیوں کے دوران 46 دہشت گرد ہلاک ہوئے، جن میں 11 افغان شہری شامل تھے۔

    بلوچستان: ژوب، پشین اور کوئٹہ میں 140 کارروائیوں کے نتیجے میں 37 دہشت گرد ہلاک ہوئے، جن میں 8 افغان شہری شامل تھے۔

    افغان شہریوں کی شمولیت ان دعوؤں کو چیلنج کرتی ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی۔پاکستان نے برداشت کی تمام حدود عبور ہونے کے بعد واضح کر دیا ہے کہ ہر جارحیت کا جواب فیصلہ کن اور بھرپور طاقت سے دیا جائے گا۔

  • پاکستان کی مسلح افواج کا شاندار ارتقا، 1947 سے 2026 تک عزم و طاقت کی داستان

    پاکستان کی مسلح افواج کا شاندار ارتقا، 1947 سے 2026 تک عزم و طاقت کی داستان

    قیام پاکستان سے محدود وسائل سے آغاز کرنے والی پاک افواج نے خود کو ایک جدید دفاعی قوت میں تبدیل کیا

    جنگی تجربے سے لیس پاکستان کی بری، فضائی اور بحری فوج نے اپنی جانوں کی قربانی دے کر ملکی دفاع یقینی بنایا،1948 اور 1965 کی جنگوں سے دہشتگردی کیخلاف طویل جنگ تک، پاک افواج نے جرات، پیشہ ورانہ مہارت اور عملی تجربے کا مظاہرہ کیا،1998میں ایٹمی صلاحیت اور مقامی دفاعی پیداوار نے پاکستان کی دفاعی صلاحیت اور مؤثر اسٹریٹجک ڈیٹرنس کو مضبوط کیا،پاکستان کی بہادر افواج نے بیرونی سرپرستی میں پنپنے والی پراکسیز کیخلاف سرحد کے دونوں پارکامیاب جنگ لڑی ،جے ایف -17 تھنڈر، جدید میزائل سسٹمز، ڈرونز، بحری صلاحیتوں اور ملٹی ڈومین وارفیئر سے پاکستان نے اپنی دفاعی استعداد کو وسعت دی،مئی 2025 کے معرکۂ حق میں مربوط فضائی، زمینی اور بحری صلاحیتوں نے پاکستان کی جدید جنگی صلاحیت کو نمایاں کیا،پاکستان کی مسلح افواج پیشہ ور، تجربہ کار اور جدید دفاعی قوت کے طور پر قومی خودمختاری اور قیام امن کی ضامن ہیں

  • نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل کا پہلا بڑا تجربہ، اسلام آباد سے شروع کرنے کی تیاری

    نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل کا پہلا بڑا تجربہ، اسلام آباد سے شروع کرنے کی تیاری

    اسلام آباد: نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل کے حوالے سے پہلا بڑا تجربہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے شروع کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ وفاقی دارالحکومت کے مستقبل کے انتظامی ڈھانچے سے متعلق مجوزہ ڈرافٹ وزیراعظم کو پیش کر دیا گیا ہے، جس میں اسلام آباد کے لیے اپنی منتخب اسمبلی، چیف ایگزیکٹو اور 27 انتظامی محکمے قائم کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔

    مجوزہ ڈرافٹ کے مطابق اسلام آباد میں 27 رکنی اسمبلی قائم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسمبلی کے 21 ارکان براہِ راست عوام کے ووٹ سے منتخب ہوں گے، جبکہ خواتین کے لیے 5 مخصوص نشستیں اور اقلیتوں کے لیے ایک نشست مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔مجوزہ نظام میں قومی اسمبلی کے ہر حلقے سے سات نشستیں رکھنے کی تجویز بھی شامل ہے، جس کے ذریعے وفاقی دارالحکومت کے شہریوں کو مقامی سطح پر براہِ راست سیاسی نمائندگی فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔ڈرافٹ کے تحت صحت، تعلیم، ماحولیات، شہری سہولیات اور مقامی حکومت سمیت متعدد انتظامی امور منتخب مقامی حکومت کے سپرد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ قانون و امن اور اسلام آباد کی ماسٹر پلاننگ وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار میں رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔مجوزہ انتظامی ڈھانچے کے تحت دارالحکومت کے روزمرہ انتظامی معاملات منتخب حکومت کے حوالے کیے جانے کا امکان ہے، جس کے لیے چیف ایگزیکٹو کا منصب بھی قائم کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔

    اس منصوبے میں سی ڈی اے سمیت اسلام آباد کے مختلف اداروں کے اختیارات ازسرنو متعین کرنے کی تیاری بھی کی جا رہی ہے۔ مقصد وفاقی دارالحکومت میں موجود اختیارات کے بکھرے ہوئے نظام کو ایک مربوط انتظامی ڈھانچے میں تبدیل کرنا اور عوامی نمائندگی، اختیارات اور احتساب کے نظام کو مؤثر بنانا ہے۔مجوزہ اصلاحات کی منظوری اور حتمی شکل سامنے آنے کے بعد اسلام آباد کے انتظامی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی متوقع ہے، جس کے نتیجے میں وفاقی دارالحکومت کے شہریوں کو پہلی مرتبہ اپنی منتخب اسمبلی اور مقامی سیاسی حکومت میسر آنے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔

  • یومِ دفاع و شہدا :عسکری قیادت کا شہدا کو خراج عقیدت

    یومِ دفاع و شہدا :عسکری قیادت کا شہدا کو خراج عقیدت

    یومِ دفاع و شہدا کے موقع پر عسکری قیادت نے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج ملکی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، کسی بھی جارحیت کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق 6 ستمبر قومی اتحاد، عزم اور شجاعت کی لازوال علامت ہے، جب 1965 کی جنگ کے دوران پاکستانی قوم نے وطن کے دفاع کے لیے متحد ہوکر دشمن کا مقابلہ کیا، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشر ف، چیف آف ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو، کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ جنرل سید عامر رضا اور مسلح افواج نے پاکستان کے شہدا کو خراج عقید ت پیش کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق عسکری قیادت نے غازیوں اور شہدا کے اہل خانہ کے لیے بھی گہری عقیدت اور تشکر کا اظہار کیا شہدا نے میدان جنگ، فضا اور سمندر میں وطن کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور ان کی قربانیاں قومی تاریخ کا ناقابل فراموش حصہ ہیں، شہدا کی قربانیوں کی میراث آنے والی نسلوں کے لیے حوصلے کا باعث ہے، جبکہ شہدا کے اہل خانہ عزم، حوصلے اور ثابت قدمی کی علامت ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق مسلح افواج نے غازیوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے بہادری، ثابت قدمی اور فرض شناسی کے ساتھ ملکی سرحدوں کی حفاظت کی، پاکستان خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کا خواہاں ہے اور ذمہ دارانہ رویے اور پرامن بقائے باہمی کے لیے پرعزم ہے، تاہم اس عزم کو کمزوری نہ سمجھا جائے، پاکستان کے خلاف کسی بھی جارحیت کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

    مسلح افواج نے پاکستان اور عوام سے غیر متزلزل وابستگی کا عزم کرتے ہوئے کہا کہ شہدا کی عظیم قربانیاں، غازیوں کا جذبہ اور اہلخانہ کی استقامت قومی طاقت ہیں،مسلح افواج قومی ذمہ داریاں پیشہ ورانہ مہارت اور غیرمتزلزل عزم سے ادا کرتی رہیں گی، پاکستان کی مسلح افواج زندہ باد، پاکستان ہمیشہ پائندہ باد۔

  • سکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا میں مختلف کارروائیاں، 21 دہشتگرد ہلاک

    سکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا میں مختلف کارروائیاں، 21 دہشتگرد ہلاک

    خیبر پختونخوا میں 3 سے 5 ستمبر کے دوران سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں بھارتی سرپرستی یافتہ فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 21 خوارج ہلاک کر دیے گئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق 31 اگست اور یکم ستمبر کی درمیانی شب شمالی وزیرستان میں پاک افغان سرحد کے قریب سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی کے بعد علاقے میں چھپے مزید 10 خوارج کو ہلاک کر دیا گیا، اس کارروائی کے بعد پاکستان میں دراندازی کی کوشش کرنے والے اور سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مؤثر ا نداز میں ہلاک کیے جانے والے خوارج کی مجموعی تعداد 25 ہو گئی ہے۔

    شمالی وزیرستان کے ایک اور علاقے میں پاک افغان سرحد کے قریب خوارج کے ایک گروہ کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا گیا، سکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے گروہ کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 7 خوارج ہلاک کر دیے گئے۔

    کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خیل اضلاع میں مشترکہ کارروائیوں کے دوران دو مختلف مقابلوں میں مزید 4 خوارج کو ہلاک کر دیا گیا، علاقے میں موجود کسی بھی بھارتی سرپرستی یافتہ خارجی کے خاتمے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہیں۔

    پاک افغان سرحد کے ساتھ پیش آنے والے یہ مسلسل واقعات ایک بار پھر پاکستان کے اس مؤقف کی تائید کرتے ہیں کہ طالبان حکومت افغانستان کی سرزمین کو اپنی سرپرستی میں موجود دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے پاکستان کے خلاف سرحد پار دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔

    افغان طالبان حکومت مؤثر سرحدی انتظام کو یقینی بنانے اور دہشت گردی کے خلاف اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں مسلسل ناکام رہی ہے۔ پاکستان کی سکیورٹی فورسز ملکی سرحدوں کے دفاع کے لیے اپنے عزم پر ثابت قدم ہیں۔

    وفاقی ایپکس کمیٹی کے تحت پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی دہشت گردی کے خلاف بلاامتیاز اور مسلسل مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی، جس کا مقصد ملک سے غیر ملکی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشت گردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ ہے۔

  • بلوچستان کے عوام کا امن، خوشحالی اور فلاح و بہبود ریاستی کوششوں کا مرکزی محور ہے،فیلڈ مارشل

    بلوچستان کے عوام کا امن، خوشحالی اور فلاح و بہبود ریاستی کوششوں کا مرکزی محور ہے،فیلڈ مارشل

    چیف آف آرمی سٹاف اینڈ چیف آف ڈیفنس فورسز، نشانِ امتیاز (ملٹری)، ہلالِ جرأت فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کوئٹہ گیریژن کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے فیلڈ فارمیشنز کے کمانڈرز اور کمانڈنگ افسران سے ملاقات کی۔

    پاک فوج کے محکمہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق دورے کے موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو بلوچستان میں سیکیورٹی صورتحال، آپریشنل تیاریوں اور امن کے قیام کے لیے جاری اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے واضح کیا کہ بلوچستان کے عوام کا امن اور خوشحالی ریاست کی ترجیحات کا محور ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کوئٹہ پہنچے تو کمانڈر کوئٹہ کور نے ان کا استقبال کیا دورے کے دوران انہوں نے فیلڈ فارمیشنز کے کمانڈرز اور کمانڈنگ افسران سے بات چیت کی اور صوبے میں جاری آپریشنل معاملات کا جائزہ لیا فیلڈ مارشل کو صوبے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے جاری اقدامات پر جامع بر یفنگ دی گئی جبکہ ادارہ جاتی رابطہ کاری اور بلوچستان کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے معاونت سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے فوجی جوانوں کی اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیت، آپریشنل تیاری اور بے لوث عزم کو سراہا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر ریاستی اداروں کے درمیان مسلسل رابطہ کاری کی اہمیت پر زور دیا انھوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کا امن، خوشحالی اور فلاح و بہبود ریاستی کوششوں کا مرکزی محور ہےمستحکم اور محفوظ ماحول صوبے میں ترقیاتی منصوبوں اور معاشی مواقع کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوتا رہے گا فیلڈ مارشل نے شہداء کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور افسران و جوانوں کی اپنے فرائض کی ادائیگی میں ثابت قدمی اور لگن کو سراہا۔

    پاک فوج بلوچستان میں امن و امان کی بحالی کے لیے مسلسل آپریشنز میں مصروف ہے صوبے کے قدرتی وسائل اور اسٹریٹیجک اہمیت کے پیش نظر، سی پیک سمیت متعدد ترقیاتی منصوبے یہاں زیرِ تکمیل ہیں، جن کی کامیابی کا انحصار پائیدار امن پر ہے۔