Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • عمران خان کے طبی معائنے سے متعلق پمز اسپتال کا اعلامیہ جاری

    عمران خان کے طبی معائنے سے متعلق پمز اسپتال کا اعلامیہ جاری

    اسلام آباد: بانی پی ٹی آئی عمران خان کے پمز اسپتال میں طبی معائنے کے حوالے سے اسپتال انتظامیہ نے اعلامیہ جاری کر دیا ہے۔

    پمز اسپتال کے اعلامیے کے مطابق عمران خان کو 20 اور 21 اگست کی درمیانی شب طبی معائنے اور علاج کے لیے پمز اسپتال لایا گیا، جہاں ان کے مختلف طبی معائنے کیے گئے۔اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ شفا انٹرنیشنل اسپتال کے دو ماہرین نے عمران خان کے آنکھوں کے معائنے میں حصہ لیا، جبکہ دیگر طبی معائنوں کے لیے پمز اسپتال کے متعلقہ ماہرین نے خدمات انجام دیں۔پمز انتظامیہ کے مطابق امراضِ چشم کے معائنے سے حاصل ہونے والی طبی رائے کو دیگر طبی تحقیقات کے نتائج کے ساتھ مدنظر رکھا گیا۔ بعد ازاں پمز کے ڈاکٹرز پر مشتمل میڈیکل بورڈ نے عمران خان کی طبی فٹنس رپورٹ کو حتمی شکل دے دی۔اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ پمز اسپتال مریض کی رازداری اور سپریم کورٹ کی ہدایات کے پیش نظر طبی رپورٹ کے خفیہ اور حساس مندرجات ظاہر نہیں کرے گا۔

    واضح رہے کہ تین روز قبل سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ عمران خان کو طبی معائنے کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرکے ان کا مکمل چیک اپ کرایا جائے۔تاہم حکومت نے گزشتہ شب عمران خان کو پمز اسپتال منتقل کیا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کا طبی معائنہ کیا۔ طبی معائنے کے بعد انہیں رات گئے دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔

  • سکیورٹی فورسز کی  بلوچستان،خیبر پختونخوا میں کارروائیاں، 49 دہشتگرد ہلاک

    سکیورٹی فورسز کی بلوچستان،خیبر پختونخوا میں کارروائیاں، 49 دہشتگرد ہلاک

    راولپنڈی: سکیورٹی فورسز نے پولیس کے ہمراہ ملک کے مختلف علاقوں میں انٹیلیجنس بیسڈ مشترکہ کارروائیوں کے دوران 49 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق گزشتہ چند روز کے دوران بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں دہشتگردوں کے خلاف متعدد انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے۔آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان کے اضلاع مستونگ، مچھ، خضدار اور پنجگور میں 10 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن کے دوران بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنۃ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 37 دہشتگرد ہلاک ہوئے۔ کارروائیوں میں بڑی تعداد میں اسلحہ، دھماکا خیز مواد اور ریموٹ ڈیٹونیشن آلات بھی برآمد کرکے تلف کردیئے گئے۔

    ترجمان پاک فوج کے مطابق بنوں، شمالی وزیرستان، اورکزئی اور خیبر میں بھی متعدد انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن میں بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنۃ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 12 خوارج ہلاک ہوئے۔ کارروائیوں کے دوران دھماکا خیز مواد، آئی ای ڈیز، اسلحہ، گولہ بارود اور موٹرسائیکلیں بھی برآمد کی گئیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق یہ کارروائیاں بھارتی پراکسیز، فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان کے خاتمے کے لیے جاری بلا تعطل انسدادِ دہشتگردی مہم کا حصہ ہیں، جن کے ذریعے ملک کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کو مؤثر انداز میں ناکام بنایا گیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق سکیورٹی فورسز ملکی سرحدوں کے دفاع اور دہشتگردی کے خاتمے کے عزم پر ثابت قدم اور غیر متزلزل ہیں۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں موجود دیگر بھارتی سرپرستی میں سرگرم عناصر کے خاتمے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشنز جاری ہیں۔ ملک سے دہشتگردی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک انسدادِ دہشتگردی کی مہم جاری رکھی جائے گی۔

  • عمران کی جان کو خطرہ،عظمیٰ نے بیانیہ "واڑ” کر رکھ دیا،عمران تندرست،ڈھیل نہیں ملے گی

    عمران کی جان کو خطرہ،عظمیٰ نے بیانیہ "واڑ” کر رکھ دیا،عمران تندرست،ڈھیل نہیں ملے گی

    عمران خان کی صحت سے متعلق دعووں پر نئی بحث، سیاسی بیانیے پر سوالات اٹھ گئے

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت کے حوالے سے جاری سیاسی بیانیے پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ عمران خان کی بہن عظمیٰ خان کی جانب سے ان کی صحت کے بارے میں اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے،
    عمران کی بہن عظمیٰ خان نے جان کو خطرہ ہے کا بیانیہ واڑ کر رکھ دیا ہے. وہ بتا رہی ہے کہ ماشاءاللہ ماشاءاللہ فٹ ہے اور بلڈ پریشر 120/80 ہے

    جب کہ انتشاری اور یوٹیومرز اور بیرون ممالک میں بیٹھے Agents of Chaos عالمی جریدوں اور میڈیا کوکہتے ہیں خان کی جان کو خطرہ ہے،اس کو دل کا مسئلہ ہے اس کو بلڈ پریشر ہے اس کی 85 فیصد بینائی چلی گئی ہے۔بانی پی ٹی آئی کی طبعیت کی خرابی اور تشویشناک حالت کی تمام خبریں محض ایک گھناونا سیاسی ڈرامہ ثابت ہوئیں، جن کا حقیقت سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں تھا۔ اسپتال کی میڈیکل رپورٹس، بشمول خون کے ٹیسٹ اور ایکو کارڈیوگرافی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ مکمل طور پر تندرست اور صحت مند ہیں۔ البتہ ذہنی مریض وہ شروع ہی سے ہے.

    اس سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ علالت اور موت کے جھوٹے پروپیگنڈے کا مقصد صرف اور صرف ملک میں انتشار (Chaos) پھیلانا، سیکیورٹی کے سنگین خدشات پیدا کرنا اور عدالتِ عالیہ سے غیر آئینی ریلیف حاصل کرنا تھا۔افسوسناک امر یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت اور بالخصوص بانی پی ٹی آئی کی بہنوں نے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے حلف نامے کی کھلی خلاف ورزی کی۔ عدالت کو یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ صحت کے معاملے پر کوئی سیاست نہیں کی جائے گی، لیکن اس کے باوجود اسپتالوں کے باہر ہجوم اکٹھا کر کے اور ریاست کے خلاف زہریلی پریس کانفرنسز کے ذریعے سیکیورٹی رسک پیدا کیا گیا۔ یہ پورا کھیل ثابت کرتا ہے کہ پارٹی اپنے ہی قائد کی طبی سہولیات کو سیاسی فائدہ اٹھانے اور ریاستی اداروں کے خلاف منظم مہم چلانے کے لیے استعمال کر رہی ہے، جس کے بعد اب انہیں کسی قسم کا مزید ریلیف دینا انصاف کے اصولوں کے منافی ہوگا۔

    ملک میں کسی نئے این آر او یا ڈیل کی بازگشت محض پی ٹی آئی کی اپنی دیرینہ خواہش اور سیاسی ضرورت ہے، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پی ٹی آئی قیادت مسلسل ریاستی اداروں اور حکومت پر تنقید کر کے دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ کسی نہ کسی طرح اپنے قائد کے لیے کوئی درپردہ راستہ یا این آر او حاصل کر سکے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ نہ تو موجودہ حکومت اور نہ ہی وہ دیگر حلقے جنہیں پی ٹی آئی نشانہ بناتی ہے، اس قسم کی کسی بھی غیر آئینی رعایت میں کوئی دلچسپی رکھتے ہیں۔

    ریاست اور حکومت کا موقف اب بالکل واضح ہو چکا ہے کہ کسی بھی قسم کی بلیک میلنگ، دباؤ یا پسِ چلمن سودے بازی کی باتوں کو سرے سے سنا ہی نہیں جائے گا۔ این آر او کا دور اب ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہے اور احتساب کے عمل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ پی ٹی آئی کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ جھوٹے پروپیگنڈے اور این آر او کی خواہشیں پالنے کے بجائے، اب بانی پی ٹی آئی کا مستقبل صرف اور صرف عدالتوں کے قانونی فیصلوں اور قانونِ پاکستان کے تابع ہے۔

  • بیماری کا بیانیہ تو”وڑ”گیا،عمران خان صحت مند قرار،پمز منتقلی بھی عدالتی فیصلے پر عملدرآمد

    بیماری کا بیانیہ تو”وڑ”گیا،عمران خان صحت مند قرار،پمز منتقلی بھی عدالتی فیصلے پر عملدرآمد

    تحریک انصاف کی سپریم کورٹ میں درخواست کی سماعت کے بعد عدالت نے عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تو حکومت نے دو روز کا مقررہ عدالتی وقت مکمل ہونے سے قبل انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے عمران خان کو اڈیالہ جیل سے نکالا اور ہسپتال میں تفیصلی طبی معائنہ کروایا

    عمران خان کو سخت سیکورٹی میں جیل سے ہسپتال منتقل کیا گیا تھا،جہاں متعلقہ ماہرین اور میڈیکل بورڈ کی دستیابی سے عدالتی فیصلے کا بنیادی مقصد مکمل طور پر حاصل ہوگیا،سپریم کورٹ نے عمران خان کو الشفا ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا تاہم الشفا ہسپتال کے باہر پی ٹی آئی کارکنان، صحافی اور دیگر مختلف گروہ جمع ہو گئے،جس کی وجہ سے سنگین سیکورٹی اور انتظامی خدشات پیدا ہو گئے تھے،اگرچہ سیکورٹی کے شفا ہسپتال کے باہر بھی غیر معمولی انتظامات کئے گئے تھے ،تاہم سیکورٹی وجوہات کی بنا پر عمران خان کو شفا سے پمز منتقل کرنا حکومت کا فیصلہ قابل ستائش تھا، بانی پی ٹی آئی نے شفا ہسپتال کی بجائے پمز منتقل ہونے یا طبی معائنے سے انکار نہیں کیا تھا بلکہ انہیں زیادہ محفوظ ماحول میں وہی طبی سہولت فراہم کرنے کا پمز میں انتظام کیاگیا تھا، سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر کیا گیا یہ فیصلہ عدالتی حکم سے انحراف قرار نہیں دیا جاسکتا۔

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پمز پاکستان کا ایک بہت بڑا سرکاری و تدریسی ہسپتال ہے جہاں متعلقہ شعبوں کے مستند ماہرین اور مکمل طبی سہولیات دستیاب ہیں، لہٰذا یہ تاثر تو شروع سے ہی درست نہیں کہ صرف کسی مخصوص نجی ہسپتال میں ہی قابلِ اعتماد طبی معائنہ ممکن تھا،قانون کے مطابق قیدی کا سرکاری ہسپتال میں‌ہی علاج معالجہ کیا جاتا ہے،ماضی میں بھی عمران خان کو علاج معالجے کے لئے سرکاری ہسپتال منتقل کیا جاتا رہا ہے،کسی مخصوص نجی ہسپتال کی نامزدگی مستقبل کے لیے امتیازی اور نامناسب نظیر قائم کرسکتی تھی،جیلوں کے دیگر قیدی بھی عمران خان کو شفا منتقلی کی وجہ سے اپنی مرضی کے ہسپتال میں معائنے کا مطالبہ کر سکتے تھے جو قانون کی خلاف ورزی ہے

    پمز ہسپتال میں بانی پی ٹی آئی کے طبی معائنے کے لئے ماہرِ امراضِ چشم، ماہرِ امراضِ قلب اور فزیشن سمیت مکمل میڈیکل بورڈ موجود تھا جنہوں نے عمران خان کا تفصیلی معائنہ کیا اور انہیں طبی لحاظ سے مکمل طور پر تندرست قرار دیا،اس دوران عمران خان کی بہن عظمیٰ خان عمران خان کے ہمراہ موجود رہیں اورعلاج معالجے کے دوران پورے عمل کی براہ راست گواہ ہیں، اس سے طبی معائنے کی شفافیت اور خاندان کی نمائندگی، دونوں یقینی بنائے گئے۔

    بانی پی ٹی آئی کے پمز میں‌ طبی معائنے کے نتائج نے عمران خان کی صحت مسلسل بگڑنے سے متعلق پی ٹی آئی کے بے بنیاد بین الاقوامی بیانیے کو رد کردیا ہے، اگر ان تمام انتظامات کے باوجود بعض ٹرولز اور یوٹیوبرز مطمئن نہیں، تو ظاہر ہے کہ ان کی دلچسپی عمران خان کی صحت سے زیادہ سیاسی سنسنی اور مالی منفعت میں ہے،

    عمران خان کو جیل سے ہسپتال منتقل کیا تو پورے عمل میں وہ طبی لحاظ سے فٹ، اور خوشگوار موڈ میں تھے،عمران خان نے ہسپتال میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کے ساتھ پورا تعاون کیا، لیکن کچھ لوگ بوجوہ ڈالر کہیں گے کہ خان صاحب نے علاج اور قیام سے مکمل انکار کیا، بس آپ نے سن لینا ہے تاکہ یوتھیوں کا بھرم قائم رہے۔

  • شامی وزیر خارجہ کی  فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات

    شامی وزیر خارجہ کی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات

    شام کے وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی کی وفد کے ہمراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے جی ایچ کیو راولپنڈی میں ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سکیورٹی صورتحال اور دفاع و سلامتی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا، ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق اس موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے شام کے ساتھ دیرینہ برادرانہ تعلقات ہیں،علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے لیے تعاون اور مشترکہ کوششیں ضروری ہیں، مشترکہ سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون اور مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے،

    شام کے وزیر خارجہ نے علاقائی امن و استحکام کے فروغ میں پاک فوج کے پیشہ ورانہ کردار کو سراہا،پاکستان اور شام کا دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے اور دفاع و سلامتی کے شعبوں میں روابط بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا،دونوں ممالک نے دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا،

  • بلوچستان کی تقدیر صرف بلوچستان کے عوام کے ہاتھ میں ہے،فیلڈ مارشل عاصم منیر

    بلوچستان کی تقدیر صرف بلوچستان کے عوام کے ہاتھ میں ہے،فیلڈ مارشل عاصم منیر

    چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کہنا ہے کہ بلوچستان کی تقدیر صرف بلوچستان کے عوام کے ہاتھ میں ہے، ریاست کے غیرمتزلزل، پُرعزم اور فیصلہ کن ردعمل سے مذموم عزائم کو ناکام بنایا جائے گا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بلوچستان کی اہم شخصیات اور سیاسی قیادت سے ملاقات کی،اس موقع پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کہنا تھا بلوچستان اور پاکستان کا حال اور مستقبل ایک ہے اور ہمیشہ ایک رہے گا، بلوچستان باصلاحیت، ثابت قدم، محب وطن اور باوقار عوام سے مالا مال ہے، بلوچستان کے نوجوانوں میں صلاحیت اور مواقع کی کوئی کمی نہیں ہے،فتنہ خوارج اور فتنۃ الہندوستان بلوچستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے استعمال ہونے والے غیر ملکی سرپرستی یافتہ پراکسیز ہیں، یہ بلوچستان کی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے اور ریاست و عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنے کے لیے غیر ملکی سرپرستی یافتہ پراکسیز ہیں، نوجوان معاشرے کا سب سے متحرک اور امید افزا طبقہ ہیں، ریاست کے غیرمتزلزل، پُرعزم اور فیصلہ کن ردعمل سے مذموم عزائم کو ناکام بنایا جائے گا، دشمن کے پروپیگنڈے کا جامع اور بلاجھجھک مقابلہ کیا جائے اور جھوٹے بیانیوں کو بے نقاب کیا جائے۔

    چیف آف ڈیفنس فورسز کا کہنا تھا بلوچستان اور اس کے عوام کی حقیقی صلاحیت، ترقی اور امنگوں کو اجاگر کیا جائے، بلوچستان کی تقدیر صرف بلوچستان کے عوام کے ہاتھ میں ہے، امن و استحکام سے بلوچستان میں سرمایہ کاری کے مواقع بروئے کار لائے جا سکتے ہیں۔

  • عمران خان  اسپتال سے واپس اڈیالا جیل منتقل

    عمران خان اسپتال سے واپس اڈیالا جیل منتقل

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اسپتال سے واپس اڈیالا جیل منتقل کردیا گیا۔

    جیل ذرائع کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو واپس اڈیالا جیل منتقل کردیا گیا ہے،انہیں اسپتال سے اڈیالا جیل انتہائی سخت سکیورٹی میں لایا گیا،جیل ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان کو ان کے سیل میں شفٹ کردیا گیا ہے

    وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہےکہ ڈاکٹروں نے عمران خان کو صحت مند قرار دیا ہے،سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں عطا تارڑ نے کہا کہ قیدی کو 20 اور 21 اگست کی درمیانی شب حفاظتی انتظامات کے تحت اسپتال لے جایا گیا جہاں ماہرِ امراض چشم، ماہرِ امراض قلب اور فزیشن سمیت مستند ڈاکٹروں نےان کامعائنہ کیا، ڈاکٹروں نے عمران خان کو طبی طور پرصحت مند قراردیا جب کہ ان کی ہمشیرہ عظمیٰ خان علاج کےتمام مراحل کےدوران موجود رہیں، طبی معائنےکے بعد انہیں 21 اگست کی صبح 5 بجے واپس اڈیالہ جیل منتقل کیاگیا۔

    عمران خان کا طبی معائنہ اچانک شفاء انٹرنیشنل کی بجائے پمز ہسپتال میں کروانے کا فیصلہ کیوں کیا گیا؟
    حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ذمہ دارانہ طرزِعمل اختیار کرتے ہوئے عمران خان کا بلا تاخیر ہسپتال میں تفصیلی معائنہ کرایا۔ متعلقہ ماہرین اور میڈیکل بورڈ کی دستیابی سے عدالتی فیصلے کا بنیادی مقصد مکمل طور پر حاصل ہوگیا۔ الشفا انٹرنیشنل ہسپتال کے گرد پارٹی کارکنوں، مختلف گروہوں، میڈیا وینز اور نمائندوں کے غیرمعمولی اجتماع نے سنگین سکیورٹی، رازداری اور انتظامی خدشات پیدا کردیے تھے۔ ایسی صورت میں مقام تبدیل کرنا ایک ضروری اور دانش مندانہ فیصلہ تھا۔ عمران خان کو پمز ہسپتال منتقل کرنا علاج یا طبی معائنے سے انکار نہیں تھا، بلکہ انہیں زیادہ محفوظ ماحول میں وہی طبی سہولت فراہم کرنے کا انتظام تھا۔ سکیورٹی کی بنیاد پر کیا گیا یہ فیصلہ عدالتی حکم سے انحراف قرار نہیں دیا جاسکتا۔ پمز ملک کا ایک بہت بڑا سرکاری و تدریسی ہسپتال ہے جہاں متعلقہ شعبوں کے مستند ماہرین اور مکمل طبی سہولیات دستیاب ہیں۔ لہٰذا یہ تاثر تو شروع سے ہی درست نہیں کہ صرف کسی مخصوص نجی ہسپتال میں ہی قابلِ اعتماد طبی معائنہ ممکن تھا۔ مروجہ طریقہ کار کے مطابق زیرِحراست افراد کو ہمیشہ سرکاری ہسپتالوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔ عمران خان کو ماضی میں بھی طبی معائنے کے لیے سرکاری ہسپتال لے جایا جاتا رہا ہے۔ کسی مخصوص نجی ہسپتال کی نامزدگی مستقبل کے لیے امتیازی اور نامناسب نظیر قائم کرسکتی تھی ماہرِ امراضِ چشم، ماہرِ امراضِ قلب اور فزیشن سمیت مکمل میڈیکل بورڈ موجود تھا۔ عمران خان کا تفصیلی معائنہ کیا گیا اور انہیں طبی لحاظ سے مکمل طور پر فٹ قرار دیا گیا۔ ان کی ہمشیرہ، محترمہ عظمیٰ خان، تمام طبی مراحل کے دوران موجود رہیں اور اس پورے عمل کی براہِ راست گواہ ہیں۔ اس سے طبی معائنے کی شفافیت اور خاندان کی نمائندگی، دونوں یقینی بنائے گئے۔ تازہ طبی معائنے کے نتائج نے عمران خان کی صحت مسلسل بگڑنے سے متعلق پی ٹی آئی کے بے بنیاد بین الاقوامی بیانیے کو رد کردیا ہے۔ اگر ان تمام انتظامات کے باوجود بعض ٹرولز اور یوٹیوبرز مطمئن نہیں، تو ظاہر ہے کہ ان کی دلچسپی عمران خان کی صحت سے زیادہ سیاسی سنسنی اور مالی منفعت میں ہے۔ یاد رہے کہ معائنے کے دوران عمران خان طبی لحاظ سے فٹ، اور خوشگوار موڈ میں تھے۔ انہوں نے ڈاکٹروں اور طبی عملے کے ساتھ پورا تعاون کیا۔ لیکن کچھ لوگ بوجوہ ڈالر کہیں گے کہ خان صاحب نے علاج اور قیام سے مکمل انکار کیا۔ بس آپ نے سن لینا ہے تاکہ یوتھیوں کا بھرم قائم رہے۔

  • بانی پی ٹی آئی کا شفا اسپتال میں علاج ،ہجوم کا جمع ہوناعدالتی حکم کی خلاف ورزی

    بانی پی ٹی آئی کا شفا اسپتال میں علاج ،ہجوم کا جمع ہوناعدالتی حکم کی خلاف ورزی

    اسلام آباد: بانی پی ٹی آئی کا شفا انٹرنیشنل اسپتال میں علاج کے لیے قیام سیکیورٹی کے حوالے سے شدید خدشات کا باعث بن گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کے احکامات واضح تھے کہ شفا اسپتال کے باہر ہجوم جمع نہیں ہوگا، تاہم اس کے باوجود پی ٹی آئی کے درجنوں کارکن اسپتال کے باہر جمع ہوگئے۔

    ذرائع کے مطابق کارکنوں کی جانب سے بانی پی ٹی آئی پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں اور سیاسی نعرے بھی لگائے گئے، جبکہ سیکیورٹی گاڑیوں اور بانی پی ٹی آئی کے روٹ کی ویڈیوز اور تصاویر بھی بنائی گئیں۔ بتایا گیا ہے کہ یہ صورتحال پہلی بار پیش نہیں آئی، گزشتہ روز بھی پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے اسی نوعیت کی سرگرمیاں کی گئی تھیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام اپنی جگہ، تاہم سیکیورٹی کے زمینی حقائق کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ بانی پی ٹی آئی کی شفا اسپتال میں موجودگی کے باعث نہ صرف اسپتال میں زیر علاج دیگر مریض متاثر ہوسکتے ہیں بلکہ اضافی سیکیورٹی انتظامات کے باعث اسلام آباد کے شہریوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    ذرائع کے مطابق اسپتال کے باہر بڑی تعداد میں لوگوں کا جمع ہونا سیکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے اور دہشت گرد تنظیموں کے لیے آسان ہدف بھی فراہم کرسکتا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ کارکنوں اور یوٹیوبرز کے بھیس میں شرپسند عناصر یا دہشت گرد گروہوں سے وابستہ افراد بھی ہجوم میں شامل ہوسکتے ہیں۔ذرائع کےمطابق پی ٹی آئی قیادت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ عدالت میں کرائی گئی یقین دہانی پر عمل درآمد یقینی بنائے اور بانی پی ٹی آئی کی صحت کے معاملے کو سیاسی سرگرمیوں سے دور رکھا جائے۔ پی ٹی آئی قیادت سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ غیر مصدقہ اطلاعات اور حقائق کے منافی بیانیے سے گریز کیا جائے تاکہ سیکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ نہ ہو۔

  • سپریم کورٹ کی ڈیڈ لائن ختم،بانی پی ٹی آئی ہسپتال منتقل نہ ہو سکے

    سپریم کورٹ کی ڈیڈ لائن ختم،بانی پی ٹی آئی ہسپتال منتقل نہ ہو سکے

    تحریک انصاف کی بانی عمران خان کو سپریم کورٹ کی حکم کے مطابق اسپتال منتقل نہیں کیاجا سکا

    سپریم کورٹ نے دو دن میں عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا،تاہم دو روز گزر گئے، حکومت نےعمران خان کو ہسپتال منتقل نہ کیا.

    پارٹی کا کوئی بھی کارکن ہسپتال کے سامنے جمع ہونے سے گریز کرے،اسد قیصر
    پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کی قیادت، عمران خان صاحب کی فیملی اور کور کمیٹی کی باہمی مشاورت سے یہ واضح اور متفقہ فیصلہ کیا ہے کہ عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیے جانے کے بعد پارٹی کا کوئی بھی کارکن ہسپتال کے سامنے جمع ہونے سے گریز کرے گا۔ اگر کوئی شخص اس ہدایت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہسپتال کے سامنے جمع ہونے کی کوشش کرے گا تو اس کا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔عمران خان کی اصل طاقت پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکنان اور سپورٹرز ہیں، جن کی بدولت وہ چٹان کی طرح اپنے حقیقی آزادی کے نظریے پر قائم ہیں۔ ہم اپنے کارکنان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں، ہسپتال کے باہر کسی قسم کی بھیڑ سے گریز کریں اور عمران خان کی صحت و علاج کے لیے دعا کریں۔

    وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ لازمی نہیں کہ عمران خان کو ہسپتال داخل بھی کرلیا جائے انھیں چیک اپ کے بعد واپس بھی لے جایا جاسکتا ہے میری اطلاع کے مطابق عمران خان صحت مند ہیں اور صحت مند شخص کو ہسپتال داخل کروانا خطرناک ہوسکتا ہے،عمران خان کو کتنی دیر ہسپتال میں رکھنا ہے اس کا فیصلہ عدالت یا حکومت نے نہیں بلکہ ڈاکٹرز نے کرنا ہے،

    دوسری جانب راولپنڈی اڈیالہ جیل کے اطراف سیکورٹی ہائی الرٹ ہے،عمران خان کی اڈیالہ سے شفاء منتقلی پر کام جاری ہے،راولپنڈی پولیس نے تمام دکانین بند کرادی،راولپنڈی پولیس اہلکاروں نے لائیٹیں بھی بند کرادیں،شفا ہسپتال کے باہر بھی سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے،اڈیالہ جیل سے گاڑیوں‌کا ایک قافلہ نکلا ہے، قافلے میں 18 گاڑیاں اور 4 ایمبولینسز شامل ہیں

    علاوہ ازیں اطلاعات ہیں کہ عمران خان کا پہلے پمز ہسپتال لے جایا جائے گا جہاں انکے ٹیسٹ ہوں‌گے، سرکاری ہسپتال کے‌ڈاکٹروں کے مشورے کے بعد ضرورت پڑنے پر عمران خان کو پرائیویٹ ہسپتال منتقل کیا جائے گا.

    عمران خان کی آمد،شفا انٹرنیشنل اسپتال کی سیکیورٹی ہائی الرٹ پر، ایگزیکٹو فلور ای فور سب جیل قرار
    سیکیورٹی زون میں تعینات اسٹاف کے موبائل فونز کے استعمال پر بھی پابندی عائد ، بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اسپتال آمد کی صورت میں گیٹ نمبر ایک کو ان کے داخلے کے لیے مخصوص کیا گیا ،شفا انٹرنیشنل اسپتال کی جانب آنے والے متعدد راستے بند ، اسپتال کے پارکنگ ایریاز بھی خالی ،اسپتال کے اندر اور اطراف میں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے اور سینئر پولیس افسران سیکیورٹی انتظامات کی براہِ راست نگرانی، شفا انٹرنیشنل اسپتال اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی کی ممکنہ آمد کے پیش نظر سیکیورٹی انتظامات انتہائی سخت کر دیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اسپتال کو ہائی سیکیورٹی الرٹ پر رکھا گیا ہے جبکہ ایگزیکٹو فلور ای فور کو سب جیل قرار دے دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق شفا انٹرنیشنل اسپتال میں ایک مخصوص وارڈ/اپارٹمنٹ خالی کرا کے پولیس نے اپنی سیکیورٹی میں لے لیا ہے، جبکہ اس کے اطراف کا علاقہ بھی کلیئر کر دیا گیا ہے۔ سیکیورٹی زون میں تعینات اسٹاف کے موبائل فونز کے استعمال پر بھی پابندی عائد کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی اسپتال آمد کی صورت میں گیٹ نمبر ایک کو ان کے داخلے کے لیے مخصوص کیا گیا ہے، جبکہ اسپتال کے دیگر تمام داخلی و خارجی راستوں پر سخت سیکیورٹی تعینات کر دی گئی ہے۔ مختلف مقامات پر پولیس کے ناکے بھی قائم کیے گئے ہیں۔شفا انٹرنیشنل اسپتال کی جانب آنے والے متعدد راستے بند کیے جا رہے ہیں جبکہ اسپتال کے پارکنگ ایریاز بھی خالی کرائے جا رہے ہیں۔ اسپتال کے اندر اور اطراف میں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے اور سینئر پولیس افسران سیکیورٹی انتظامات کی براہِ راست نگرانی کر رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق اسپتال میں سیکیورٹی کے لیے جیمرز بھی فعال کر دیے گئے ہیں، جبکہ مختلف شعبہ جات کے سربراہان اور سینئر ڈاکٹرز کو بھی اسپتال میں موجود رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ سیکیورٹی انتظامات کے باعث اسپتال کے معمول کے داخل و خروج کے نظام کو بھی محدود کیا گیا ہے۔دوسری جانب ڈاکٹر عظمیٰ اور ڈاکٹر فیصل سلطان سمیت میڈیکل بورڈ کے ارکان نے اڈیالہ جیل راولپنڈی میں بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ کیا، جس کے بعد میڈیکل بورڈ کے ارکان جیل سے روانہ ہوگئے۔ذرائع کے مطابق میڈیکل بورڈ کی سفارشات کی روشنی میں بانی پی ٹی آئی کو مزید طبی معائنے یا علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔ تاہم حتمی فیصلہ طبی ماہرین کی سفارشات اور متعلقہ حکام کی منظوری کے بعد کیا جائے گا۔شفا انٹرنیشنل اسپتال میں سیکیورٹی انتظامات تاحال برقرار ہیں اور اسپتال کے اندر اور اطراف کی صورتِ حال کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔ متعلقہ اداروں کی جانب سے سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں

    دریں اثنا پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ضمانت کے لیے گراؤنڈ بہت پہلے سے موجود ہے، 496 کے تحت اگر کسی قیدی کوسزائے موت نہ ہو اور دو سال قید میں گزارے ہوں تو ضمانت اس کا حق بن جاتی ہے، یہ اصول قانون ہے ہمارے ملک میں اور عمران خان کی بیماری سے زیادہ یہ اصول قانون اہم ہے،

    بورڈ فیصلہ کرے گا کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل جانا چاہیے یا بنی گالہ،سلمان اکرم راجہ
    علاوہ ازیں تحریک انصاف کے مرکزی رہنما سلمان اکرام راجہ نے کہا ہے کہ یہ بات قبل ازوقت ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو اسپتال سے بنی گالہ منتقل کیا جائے، یہ ہوسکتا ہے کسی بھی عمارت کو سب جیل قرار دیا جائے، اگرصحت کے حوالے سے یہ رائے آتی ہے کہ جیل واپس جانا صحت کے لیے بہت مضر ہوگا تو بنی گالہ شفٹ کیا جاسکتا ہے، یہ ممکن ہے،عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق جیل میں جو حالات ہیں اس کی وجہ سے بانی پی ٹی آئی کو اینزائٹی ہو رہی ہے، یہ بورڈ فیصلہ کرے گا کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل جانا چاہیے یا بنی گالہ اور حکومت اس کو سب جیل قرار دیدے یہ تمام چیزیں ممکن ہیں۔

    عمران خان کے کزن قاسم زمان اڈیالہ جیل گیٹ 5 کے باہر پہنچ گئے.بانی کی بہن علیمہ خانم بھی اڈیالہ جیل گیٹ 5 پہنچ گئی .علیمہ خانم سیکورٹی گارڈز کے ہمراہ گیٹ 5 پہنچیں،

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے عمران خان کی صحت سے متعلق وکلا اور اہلخانہ کے تحفظات پر انہیں اسپتال منتقل کرنے اور طبی معائنے کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیا تھا۔حکومت کی جانب سے اس فیصلے کے خلاف دائر کی گئی نظرِ ثانی درخواست سپریم کورٹ رجسٹرار آفس نے اعتراضات لگا کر واپس کر دی ہے، جسے بعد میں دوبارہ دائر کیے جانے کا امکان ہے،سیکیورٹی ذرائع کے مطابق عمران خان کو جیل مینول اور آئینی ضوابط کے تحت تمام مقررہ سہولیات فراہم کی جاتی رہی ہیں جبکہ تحریک انصاف کی قیادت نے بھی کارکناں کو اسپتال کے اطراف رش نہ لگانے کی ہدایت کی ہے۔

  • آپریشن ردالفتنہ3، پنجگور کلی سوران میں 5 دہشتگرد جہنم واصل

    آپریشن ردالفتنہ3، پنجگور کلی سوران میں 5 دہشتگرد جہنم واصل

    سیکیورٹی فورسزکی بلوچستان میں آپریشن ردالفتنہ3 کے تحت فتنہ الہندوستان کیخلاف کامیاب کارروائیاں جاری ہیں

    سیکیورٹی فورسز کاآپریشن ردالفتنہ3 کے تحت پنجگور کلی سوران میں کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کے دوران فتنہ الہندوستان کے 5دہشتگردوں کو جہنم واصل کردیا،متعدد زخمی ہوئے، ہلاک دہشتگرد موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر ایک بڑی دہشتگردی کی کارروائی انجام دینے جا رہے تھے، کارروائی کے دوران جدید ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں کے استعمال سے دہشت گردوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا،ہلاک دہشتگردوں سے بھاری مقدار میں جدید اسلحہ و گولہ بارود برآمد کرلیا، دہشتگردوں سے3 گاڑیاں،2 موٹرسائیکلیں، آئی ای ڈی ڈیوائس سمیت کالعدم تنظیم کاجھنڈابھی برآمد ہوا، ہلاک دہشتگرد مقامی افراد کی لوٹ مار، بھتہ خوری، اغواء برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ اور خودکش حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے، سیکیورٹی فورسز بلوچستان سے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پرعزم،آخری دہشتگرد کے خاتمے تک کارروائیاں جارہی رہیں گی