Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • کرم میں سیکیورٹی فورسز کا انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن، افغان خارجی سمیت4 دہشتگرد جہنم واصل

    کرم میں سیکیورٹی فورسز کا انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن، افغان خارجی سمیت4 دہشتگرد جہنم واصل

    کرم ڈسٹرکٹ میں سیکیورٹی فورسز نے خوارج کے خلاف کامیاب انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کرتے ہوئے افغان خارجی عبید اللہ سعد سمیت 4 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والا افغان خارجی عبید اللہ سعد ولد غلام غوث صالحی افغانستان کے صوبہ لوگر کے گاؤں شاہی قلعہ کا رہائشی تھا اور کالعدم فتنہ الخوارج سے وابستہ تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ عبید اللہ سعد پاکستان میں دہشتگردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھا۔سیکیورٹی فورسز کی جانب سے افغانستان سے دراندازی کرنے والے ریاست دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ملک کے امن و سلامتی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

  • کوٹلی میں سنائپر فائرنگ، رینجرز اہلکار شہید

    کوٹلی میں سنائپر فائرنگ، رینجرز اہلکار شہید

    کوٹلی: آزاد جموں و کشمیر پولیس کے ترجمان کے مطابق ضلع کوٹلی میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے مسلح ہجوم میں شامل سنائپرز نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو نشانہ بناتے ہوئے فائرنگ کی۔

    فائرنگ کے نتیجے میں پاکستان رینجرز کے سپاہی آصف حسین شدید زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ دورانِ علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے۔پولیس کے مطابق واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حملے میں ملوث شرپسندوں کی گرفتاری کے لیے علاقے میں کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانا احتجاج نہیں بلکہ کھلی لاقانونیت اور ریاستی رِٹ کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔

  • وزیراعظم شہباز شریف کا اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کو خط کا جواب

    وزیراعظم شہباز شریف کا اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کو خط کا جواب

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف اور اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے درمیان رابطہ ہوا ہے، وزیراعظم نے اپوزیشن لیڈر کے خط کا جواب بھجوا دیا۔

    ذرائع کے مطابق چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے نئے ارکان کی تقرری سے متعلق وزیراعظم کا خط اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کو موصول ہوگیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے الیکشن کمیشن میں نئی تقرریوں کے لیے آئینی طریقہ کار پر عمل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ذرائع کے مطابق سابق اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے بھی چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے خط لکھا تھا۔

    قبل ازیں رانا ثنا اللہ اور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سے ملاقات کی تھی، جس میں وزیراعظم کی جانب سے اپوزیشن لیڈر کے خط کا جواب بھجوانے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔محمود خان اچکزئی اس وقت کوئٹہ میں موجود ہیں اور آئندہ دو سے تین روز میں اسلام آباد پہنچیں گے۔ذرائع کے مطابق اسلام آباد پہنچنے کے بعد محمود خان اچکزئی وزیراعظم کے خط پر پی ٹی آئی رہنماؤں سے مشاورت کریں گے۔ وہ چیئرمین پی ٹی آئی سمیت دیگر رہنماؤں سے بھی مشاورت کریں گے۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی وزیراعظم کے خط کے معاملے پر سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس کو بھی اعتماد میں لیں گے

  • الیکشن کمیشن نے نئے انتخابات کی تیاریاں شروع کردیں

    الیکشن کمیشن نے نئے انتخابات کی تیاریاں شروع کردیں

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے آئندہ انتخابات کے لیے غیر معمولی طور پر دو سال قبل ہی انتخابی سرگرمیوں کی تیاری شروع کردی اور ملک بھر میں انتخابی افسران و عملے کا ڈیٹا بینک اپ ڈیٹ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

    اس حوالے سے الیکشن کمیشن نے چاروں صوبائی الیکشن کمشنرز کو مراسلہ ارسال کردیا، جس کے بعد صوبائی حکام نے تمام ضلعی الیکشن کمشنرز کو انتخابی عملے کا ڈیٹا بینک اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔الیکشن کمیشن کی جانب سے ہدایت کی گئی ہے کہ تمام سرکاری محکموں میں کام کرنے والے افسران اور اہلکاروں کا ریکارڈ مرتب کیا جائے۔ تمام ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنرز کو ڈیٹا بینک کی تکمیل کے لیے 10 روز کی مہلت دی گئی ہے۔مراسلے کے متن کے مطابق ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنرز 10 روز میں ڈیٹا بینک مکمل کرکے اس کی تصدیق الیکشن کمیشن سندھ کو بھجوائیں گے۔ انتخابی افسران کا اپ ڈیٹڈ ڈیٹا بینک آئندہ انتخابات کے دوران بروقت انتظامی و انتخابی اقدامات کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

    الیکشن کمیشن نے ضلعی سطح پر انتخابی عملے کا ریکارڈ مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ پولنگ اسٹیشنز کی فہرست بھی اپ ڈیٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس سلسلے میں چاروں صوبوں کے تمام اضلاع میں موجودہ پولنگ اسٹیشنز کی تصدیق کی ہدایت جاری کردی گئی ہے جبکہ ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنرز کو نئے پولنگ اسٹیشنز کے لیے موزوں عمارتوں کی نشاندہی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔الیکشن کمیشن کے مطابق رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد میں اضافے کے پیش نظر اضافی پولنگ اسٹیشنز قائم کیے جائیں گے۔ تمام اضلاع میں پولنگ اسٹیشنز کی موجودہ فہرست کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا اور نئے پولنگ اسٹیشنز کے لیے موزوں سرکاری و دیگر عمارتوں کی نشاندہی کی جائے گی۔

  • تمام افغان طلبہ کو واپس نہیں بھیجا جا رہا،ترجمان دفترخارجہ

    تمام افغان طلبہ کو واپس نہیں بھیجا جا رہا،ترجمان دفترخارجہ

    اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں موجود تمام افغان طلبہ کو واپس بھیجنے سے متعلق کوئی عمومی یا یکطرفہ فیصلہ نہیں کیا گیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان میں جائز ڈگری پروگراموں میں داخل اور درست ویزا رکھنے والے افغان طلبہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں گے اور اپنی ڈگریاں مکمل کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ایسے افغان طلبہ جو یونیورسٹی میں رجسٹرڈ نہیں ہیں یا جن کے پاس درست ویزا موجود نہیں، انہیں پاکستان چھوڑ کر واپس جانا ہوگا۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ دنیا بھر میں یہ توقع کی جاتی ہے کہ کسی دوسرے ملک میں تعلیم حاصل کرنے والے طالب علم کے پاس تعلیم کے مقصد کے لیے درست ویزا موجود ہو۔ پاکستان میں افغان طلبہ کے خلاف کوئی عمومی یا بلاامتیاز پابندی عائد نہیں کی گئی۔انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ درست ویزا اور جائز ڈگری پروگرام میں رجسٹریشن رکھنے والے افغان طلبہ پاکستان میں اپنی تعلیم جاری رکھیں گے اور اسے مکمل کریں گے

  • خاران اور واشک میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 11 دہشتگرد جہنم واصل

    خاران اور واشک میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 11 دہشتگرد جہنم واصل

    بلوچستان کے اضلاع خاران اور واشک میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کے دوران 11 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 6 اور 7 ستمبر کو خاران اور واشک میں بھارتی سرپرستی یافتہ دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاعات پر کارروائیاں کی گئیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق 6 ستمبر کو دہشتگردوں نے خاران میں سڑک بلاک کرکے ٹریفک کی روانی متاثر کرنے کی کوشش کی، تاہم سکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دہشتگردوں کو گھیرے میں لے لیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں 8 دہشتگرد مارے گئے۔شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق 7 ستمبر کو واشک کے علاقے میں دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع پر ایک اور آپریشن کیا گیا۔ کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کی پناہ گاہ کو مؤثر انداز میں تباہ کردیا، جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں مزید 3 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائیوں کے دوران 2.9 ٹن دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا، جو دیسی ساختہ بم بنانے میں استعمال کیا جا رہا تھا۔

    شعبہ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں دہشتگردی کے خاتمے اور علاقے میں امن و استحکام یقینی بنانے کے لیے سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

  • ناکام آپریشن سندورکے دوران بھارتی میڈیا کی جھوٹی اور من گھڑت خبروں کا بھانڈا پھرپھوٹ گیا

    ناکام آپریشن سندورکے دوران بھارتی میڈیا کی جھوٹی اور من گھڑت خبروں کا بھانڈا پھرپھوٹ گیا

    ناکام آپریشن سندورکے دوران بھارتی میڈیا کی جھوٹی اور من گھڑت خبروں کا بھانڈا پھرپھوٹ گیا

    مئی2025کی جنگ کے دوران بھارتی گودی میڈیا حقائق کے منافی جھوٹے بیانیہ اور من گھڑت فرضی کہانیوں میں مصروف رہا ،بھارت کے اپنے سابق فوجی افسران نے بھارتی گودی میڈیا کے جھوٹ اور گمراہ کن بیانیے کو بے نقاب کردیا،بھارتی فوج کے ریٹائرڈ افسرمیجر جنرل راجن کوچہرنےکہا کہ؛مئی 2025 میں پاک بھارت جنگ کے دوران 90فیصد بھارتی میڈیا چینلزحقائق کے منافی رپورٹنگ کر رہے تھے، آپریشن سندور کے دوران بھارتی میڈیا کے پاس زمینی حقائق پرمبنی مصدقہ خبریں تھی ہی نہیں، پاک بھارت جنگ کے دوران بھارتی چینلز خود ہی جھوٹی کہانیاں بنا رہے تھے،

    معرکہ حق میں پاکستان کے شدید حملوں کے بعد بھارتی میڈیا بے معنی اور غیر منطقی بیانیے بنانے کی ناکام کوشش کرتا رہا.ماہرین کے مطابق؛سابق بھارتی افسرکے بیان نے ایک بار پھر مہر تصدیق ثبت کر دی کہ بھارتی میڈیا سراسر جھوٹ پرمبنی خود ساختہ کہانیاں بناتا رہا،گودی میڈیا نے بھارتی شکست چھپانے اور دنیا کو گمراہ کرنے کیلئے مضحکہ خیز دعوے کیے جن کی دنیا بھر میں جگ ہنسائی ہوئی ،

    ناکام آپریشن سندورکے حوالے سے بھارتی گودی میڈیا کا جھوٹا اور گمراہ کن پروپیگنڈا ایک بار پھر آشکار
    بھارتی گودی میڈیا این ڈی ٹی وی نے حقائق کو مسخ کرنے کیلئے من گھڑت اورمضحکہ خیز دعوے کیے.پروپیگنڈا کے فروغ اور بھارتی عوام کو بے وقوف بنانے کیلئے گودی میڈیا نے حقائق کے منافی نام نہاد ریسرچ بکُ بھی لکھی. این ڈی ٹی وی نے بھارت میں ایئر بیسز کی تباہی،سیٹلائٹ اور پاور گرڈ جام اور بھارتی طیاروں کی تباہی کو چھپانے کی ناکام کوشش کی .بھارتی بلا اشتعال جارحیت کیخلاف پاکستان کے مؤثر، طاقتور اور فیصلہ کن جواب میں بھارتی عسکری تنصیبات کی تباہی کو بھی چھپایا گیا . بھارتی عسکری قیادت پہلے بھی معرکہ حق میں پاکستان کے ہاتھوں بھاری فوجی نقصان کا اعتراف کر چکےہیں .امریکی صدرٹرمپ بھی متعدد بارپاکستان کے جواب میں بھارتی طیاروں کی تباہی کو عالمی سطح پر آشکار کر چکےہیں.سی این این،الجزیرہ سمیت متعدد عالمی میڈیا نے بھی آپریشن بنیان مرصوص میں بھارتی عسکری تنصیبات کی تباہی کو بے نقاب کیا.

    ماہرین کے مطابق؛بھارت اپنی شکست اور ہزیمت کو چھپانے کیلئے گودی میڈیا کو بطور پراپیگنڈا ٹول استعمال کررہاہےبھارت جنگی میدان میں شکست کے بعد اب پروپیگنڈا وار فئیر کے ذریعے اپنی مسخ شدہ ساکھ کو بچانے کی ناکام کوشش کر رہاہے

  • یوم بحریہ، 1965 کی جنگ کے بحری جانبازوں کو خراجِ عقیدت، آئی ایس پی آر

    یوم بحریہ، 1965 کی جنگ کے بحری جانبازوں کو خراجِ عقیدت، آئی ایس پی آر

    آئی ایس پی آر کے مطابق پاک بحریہ کے زیر اہتمام 1965 کی جنگ کی یاد میں یومِ بحریہ منایا گیا، جس کے دوران جنگ کے دوران بحری جنگجوؤں کی بہادری، پیشہ ورانہ صلاحیت اور قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق یومِ بحریہ کی تقریبات کا آغاز قرآن خوانی اور شہدا کے لیے خصوصی دعاؤں سے ہوا۔ نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف نے نیول ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں یادگارِ شہدا پر پھول رکھے اور شہدا کے اہلخانہ سے ملاقات کرکے ان کی قربانیوں اور حوصلے کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

    یومِ بحریہ کے موقع پر پاک بحریہ کی جرات، پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور قومی دفاع کے لیے دی گئی قربانیوں کو سراہا گیا۔ نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف نے کہا کہ آپریشن سوم ناتھ نے محدود وسائل کے باوجود فیصلہ کن نتائج حاصل کرنے کی پاک بحریہ کی صلاحیت ثابت کردی تھی۔

    انہوں نے کہا کہ آپریشن سوم ناتھ کے دوران قائم ہونے والی جرات، عزم اور پیشہ ورانہ مہارت کی میراث آج بھی برقرار ہے۔ معرکۂ حق میں بھارتی بحریہ کے خلاف پاک بحریہ کی کامیابی بھی اسی عزم اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظہر ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق یومِ بحریہ کے سلسلے میں ملک بھر میں مختلف تقریبات کا انعقاد کیا گیا، جن میں پاک بحریہ کے شہدا اور غازیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

  • وزیراعظم سے کاروباری شخصیات کی ملاقات، توانائی لاگت میں کمی اہم ترجیح قرار

    وزیراعظم سے کاروباری شخصیات کی ملاقات، توانائی لاگت میں کمی اہم ترجیح قرار

    وزیراعظم شہباز شریف سے ممتاز صنعتکاروں اور کاروباری شخصیات کے وفد نے ملاقات کی، جس میں برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کے فروغ، کاروباری سرگرمیوں میں اضافے اور صنعت و تجارت کو درپیش مسائل کے حل پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔

    ملاقات میں میاں منشا، عارف حبیب، ثاقب شیرازی، عاطف باجوہ، محمد علی اور مصدق ذوالقرنین سمیت معروف کاروباری شخصیات شریک ہوئیں۔ وفد میں عمر سعید، صمد داؤد، اشرف موکاتی، شاہد صورتی، شہزاد اصغر، شہزاد سلیم، آصف پیر اور دیگر کاروباری رہنما بھی شامل تھے۔اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملاقات کا مقصد برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کے فروغ کے لیے کاروباری برادری کی تجاویز اور مسائل سے آگاہی حاصل کرنا ہے۔ حکومت کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور صنعت و تجارت کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی کے لیے مؤثر اقدامات کررہی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ توانائی کی لاگت میں کمی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے اور اس حوالے سے اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے برآمد کنندگان کے لیے سپر ٹیکس سے استثنیٰ میں توسیع کے معاملے کا جائزہ لینے کی متعلقہ حکام کو ہدایت بھی کردی۔شہباز شریف نے ٹریڈ فیسیلیٹیشن بورڈ کو تجارت کے فروغ کے لیے مؤثر ادارہ بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ کا دائرہ کار مزید مؤثر بنانے کے لیے کاروباری برادری کی تجاویز کا خیرمقدم کیا جائے گا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے ذریعے سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کو آسان اور سہل پلیٹ فارم فراہم کیا گیا ہے، جبکہ ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن کے حوالے سے بھی ایک بڑا کام مکمل کرلیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایف بی آر نے انفورسمنٹ کے ذریعے گزشتہ مالی سال کے دوران 800 ارب روپے اکٹھے کیے۔ وزیراعظم کے مطابق معاشی ٹیم کی کوششوں کے نتیجے میں ملک کے میکرو اکنامک حالات میں نمایاں بہتری آئی ہے، تاہم مائیکرو اکنامک سطح پر مزید بہتری کے لیے ابھی مزید محنت کی ضرورت ہے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ صنعتی ضروریات کے مطابق افرادی قوت کی تربیت پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے تاکہ صنعتوں کو مطلوبہ ہنرمند افرادی قوت فراہم کی جاسکے۔ انہوں نے کاروباری برادری کو درپیش مسائل کے فوری اور دیرپا حل کے لیے اقدامات جاری رکھنے کی ہدایت بھی کی۔

    ملاقات کے دوران وفد کو ملکی معیشت بہتر بنانے، کاروبار، تجارت اور صنعت کے فروغ کے لیے حکومتی اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک کی بندرگاہوں پر پورٹ چارجز میں کمی کے ساتھ آپریشنل استعداد میں بھی بہتری لائی گئی ہے۔حکام نے بتایا کہ کراچی کی بندرگاہوں سے اندرون ملک رسائی بہتر بنانے کے لیے ایم-10 کی اپ گریڈیشن جاری ہے، جبکہ ایم-13 کھاریاں، راولپنڈی کی تعمیر سے لاہور اور اسلام آباد کے درمیان فاصلہ کم ہوگا۔ ریلوے کے انفرااسٹرکچر کی اپ گریڈیشن سے تجارتی سامان کی ترسیل بھی مزید تیز ہونے کی توقع ہے۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں آئی ٹی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ 10 لاکھ افراد کو آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تربیت فراہم کی جارہی ہے۔

    ملاقات میں کاروباری شخصیات اور صنعتکاروں نے ملک میں میکرو اکنامک استحکام کو سراہتے ہوئے حکومتی معاشی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر اعتماد کا اظہار کیا۔ کاروباری رہنماؤں نے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی قیادت میں تعمیری کردار کو بھی سراہا۔شرکاء نے حکومت کی نجکاری اور ڈی ریگولیشن پالیسی کی تعریف کرتے ہوئے کاروبار اور صنعت کے شعبوں کو درپیش مختلف مسائل سے وزیراعظم کو آگاہ کیا اور ان کے حل کے لیے اپنی تجاویز بھی پیش کیں۔

  • توہین آمیز کلمات،دھمکیاں، مبشر لقمان کی درخواست پر محمود بھٹی کی عدالت طلبی

    توہین آمیز کلمات،دھمکیاں، مبشر لقمان کی درخواست پر محمود بھٹی کی عدالت طلبی

    لاہور: ایڈیشنل سیشن جج لاہور نے سینئر صحافی و اینکر مبشر لقمان کی جانب سے دائر درخواست پر حکم جاری کرتے ہوئے نامزد ملزم محمود احمد بھٹی کو ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 204 کے تحت 28 ستمبر کو طلب کرلیا۔

    عدالت نے اپنے حکم میں قرار دیا کہ شکایت کے ساتھ پیش کیے گئے پوڈکاسٹس کی ویڈیوز، ٹرانسکرپٹس، اسکرین شاٹس اور دیگر مواد کا جائزہ لینے کے بعد بادی النظر میں درخواست گزار کے خلاف بعض ہتک آمیز، توہین آمیز اور قابلِ اعتراض ریمارکس سامنے آئے ہیں، جو سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائے گئے۔مبشر لقمان کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ وہ صحافی، ٹی وی اینکر، میڈیا ایگزیکٹو اور عوامی مبصر ہیں اور مختلف معروف ٹی وی چینلز اور میڈیا اداروں کے ساتھ وابستہ رہے ہیں۔محمود احمد بھٹی نے مختلف پوڈکاسٹس اور ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز پر مبشر لقمان کے بارے میں جھوٹے، ہتک آمیز اور توہین آمیز بیانات دیے۔ شکایت میں 6 جون، 18 جون، 19 جون اور یکم جولائی 2026 کو نشر ہونے والے پوڈکاسٹس کا حوالہ دیا گیا۔بیان کیے گئےبعض بیانات براہِ راست دھمکیوں کے زمرے میں آتے ہیں،

    عدالتی حکم کے مطابق مبشر لقمان نے بطور عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کرایا جبکہ نوید شیخ اور سید کاظم حسین نقوی بھی بطور گواہ پیش ہوئے۔ درخواست کے حق میں مختلف دستاویزات اور پوڈکاسٹس کی ویڈیوز پر مشتمل یو ایس بھی عدالت میں پیش کی گئی۔عدالت نے قرار دیا کہ پیش کیے گئے مواد اور گواہوں کے بیانات کی روشنی میں محمود احمد بھٹی کے خلاف عائد الزامات مزید جانچ پڑتال کے متقاضی ہیں اور بادی النظر میں شکایت میں PECA 2016 کی دفعات 11، 20، 21 اور 24 جبکہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 500 اور 506 کے تحت جرائم کا معاملہ بنتا ہے۔عدالت نے حکم دیا کہ نامزد ملزم نمبر 1 محمود احمد بھٹی کو دفعہ 204 ضابطۂ فوجداری کے تحت 28 ستمبر 2026 کو طلب کرنے کا نوٹس جاری کیا جائے،عدالتی حکم ایڈیشنل سیشن جج لاہور نصرت علی صدیقی ملک نے 7 ستمبر 2026 کو جاری کیا۔