Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • افغانستان میں غلامی کی زنجیریں توڑ دی گئیں،وزیراعظم عمران خان

    افغانستان میں غلامی کی زنجیریں توڑ دی گئیں،وزیراعظم عمران خان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان میں غلامی کی زنجیریں توڑ دی گئیں،

    اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یکساں نظام تعلیم سے معاشرے میں فرق ختم ہوجائے گا،انگلش میڈیم سے معاشرہ تقسیم کا شکارتھا ،میرا 25 سال یکساں نظام تعلیم کا ویژن تھا،جو پیسے والے تھے وہ انگلش میڈیم تعلیم حاصل کررہے تھے،ملک میں انگلش میڈیم والوں کو نوکریاں مل رہی تھیں،انگلش میڈیم سے ایلیٹ طبقے نے ناجائز فائدہ اٹھایا وزارت تعلیم کو یکساں نظام تعلیم کےرائج ہونے کے بعد بھی چیلنجز کاسامنا ہوگا،لوگ کہتے تھے یکساں نظام تعلیم ممکن نہیں ایلیٹ طبقہ جس نظام سے فائدہ اٹھاتا ہے اس کو تبدیل کرنامشکل ہوتا ہے

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ غلامی والے ذہن صرف نقالی کرتے ہیں آگے نہیں بڑھتے ،دوسری قوم کے کلچرکواپنانا ذہنی غلامی ہے،علامہ اقبال سب سےبڑے مسلمان اسکالر تھے ،8ویں،9ویں اوردسویں جماعت میں سیرت نبوی ﷺپڑھائی جائے گی نبی ﷺ کے علاوہ دنیا میں کسی اور کے اتنے اچیومینٹس نہیں سیرت نبوی ﷺسے نوجوانوں کو زندگی کا بہترین ضابطہ ملے گا،ہمارے یہاں جو مغرب سے آئے اس کو اچھا،ذہین اور تعلیم یافتہ سمجھا جاتا ہے تمام مذاہب کی بنیاد انسانیت ہےاور دیگرمذاہب میں بھی اچھائی کے درس موجود ہیں صرف تعلیم کافی نہیں اس کےساتھ انسانیت بھی ضروری ہے،

    جنگ ختم،آزادی کا مقصد حاصل کرلیا،طالبان کا عالمی دنیا کو اہم پیغام

    امید ہے طالبان یہ کام نہیں کریں گے، امریکی صدر جوبائیڈن

    مولوی فقیر محمد باجوڑی کو طالبان نے رہا نہیں کیا بلکہ….حقیقت سامنے آ گئی

    جے یو آئی افغان طالبان کے ساتھ ہر طرح کا تعاون کرنے کو تیار ہے، مولانا فضل الرحمان

    مشکل وقت میں عالمی صحافیوں کے انخلاء میں پاکستان کا کردار لائق تحسین ہے،سٹیون بٹلر

  • کابل فتح، اس وقت افغانستان میں کیا چل رہا ہے؟ امریکہ اور بھارت کے لئے قیامت کا منظر. طالبان کا تاریخی اعلان

    کابل فتح، اس وقت افغانستان میں کیا چل رہا ہے؟ امریکہ اور بھارت کے لئے قیامت کا منظر. طالبان کا تاریخی اعلان

    سیئنیر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ افغانستان کی صورتحال بہت تیزی سے تبدیل ہورہی ہے، بلکہ ہوچکی ہے، کل رات سے اب تک کی صورتحال یہ ہے کہ طالبان کابل کے اندر آچکے ہیں، لیکن انہوں نے اعلان کیا ہے کہ کابل پر حملہ نہیں کیا جائے گا، کابل کے شہری باہر نکل آئے ہیں، وہ انکا استقبال کررہے ہیں، جتنے بھی مغرابی سفارتخانے ہیں انکی دوڑیں لگ چکی ہیں، ائیرپورٹ پر جانے کے تمام راستے اس وقت ٹریفک سے جام ہوگئے ہیں، ائیرپورٹ پر کئی جہاز کھڑے ہیں، جن میں سے دو پی آئی اے کے جہاز ہیں، جو مختلف سفارتکاروں کو لے کر کھڑے ہیں، ان کو ابھی اڑان بھرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے، امریکہ کے چار سی 130 اور دو ہیلی کاپٹر رن وے پر ہیں.

    مبشر لقمان نے مزید کہا ہے کہ بگرام کا ہوائی اڈہ طالبان کے قبضہ میں ہے، بابیان کا ہوائی اڈہ اس وقت طالبان کے قبضہ میں ہے، اس کے گورنر ہاؤس پر طالبان نے اپنا جھنڈہ لہرا دیا ہے، انہوں نے جنرل ایمنسٹی کا اعلان کیا ہے، کس کو مارا نہیں جائے گا، کابل کی سب سے بڑی جیل کو توڑ کر اپنے قیدیوں کو رہا کروا لیا ہے.

    ارشد یوسفزئی نے کہا ہے کہ طالبان کابل شہر کے اندر داخل ہوچکے ہیں، مذاکرات جاری ہیں، کہا جا رہا ہے کہ ملا برادرز اخند قطر سے روانہ ہوچکے ہیں، جس طرح پہلے سے کہا جارہا تھا کہ اشرف غنی کی حکومت سب کچھ چھوڑ کر بھاگ جائے گی، طالبان پرامن طریقے سے کابل شہر میں داخل ہونگے، یہ قیاس آرائی آج صبح سے شروع ہوئیں تھیں، اس سے پیچھے طالبان کی جو محنت شامل ہے، وہ کئی مہینوں‌ پر مشتمل ہے، انکے دوعت اور جلب کے جو کمیشن ہے، انہوں نے کئی مہینوں سے حکومتی عہدوں پر قائم افراد پر محنت کی تھی، جن کو دعوت دیتے تھے، ان کے ساتھ مسلسل مذاکرات جاری تھے، طالبان نے کہا ہے کہ حکومتی ادارے سرنڈر کرچکے ہیں، بہت جلد ان کو اپنے قبضے میں کرلیا جائے گا، سرکاری دفاتر خالی کیے جاچکے ہیں، بیس سال کی محنت کے بعد وہ کیوں کسی انٹرن کو قبول کریں گے، اگر کوئی آتا بھی ہے تو وہ کس پر اپنا حکم چلائے گا، فوج لڑنے کیلئے تیار نہیں ہے، افغانستان اس وقت طالبان کے قبضہ میں ہے، حکومتی اہلکار نالاں ہوچکے ہیں، وہ اب کام نہیں کرنا چاہتے ہیں.

    ارشد یوسفزئی نے مزید کہا ہے کہ القاعدہ، ٹی‌ ٹی پی اور داعش کے جو کنڑ اور نورستان میں بیسسز ہیں، ان پر طالبان کا قبضہ ہوچکا ہے، طالبان نے بارہا کہا ہے کہ ہم اپنے ملک کی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، اب جب وہ اقتدار میں آچکے ہیں، اب انکو چاہیے کہ اس وعدے کو وفا کریں، اپنی رٹ کو قائم کرنے کیلئے کسی اور کو وہاں مداخلت کی اجازت نہ دیں، وہ لوگ بھاگ کر بارڈرکراس کرنے کی کوشش کریں گے اور پاکستان آنا چاہیں گے، اب ان کے پاس وہ سپورٹ نہیں رہی جو پہلے حاصل تھی، اشرف غنی ابھی تک قابل میں ہی ہے، ان کو مارنے کا کسی کا اردہ نہیں ہے، اگر وہ سرنڈر کرتے ہیں تو طالبان انہیں گرفتار کریں گے، جیسے انہوں‌ نے کمانڈر اسماعیل خان اور دوسرے علاقے کے گرنرز کے ساتھ سلوک کیا اچھے طریقے سے پیش آئیں گے، لیکن میں نہیں سمجھتا کہ اشرف غنی طالبان کے سامنے سرنڈر کرے گا، میں سمجھتا ہوں کہ وہ افغانستان سے نکل جائیں گے.

    ارشد یوسفزئی کا مزید کنہا تھا کہ ایک وقت تھا کہ جنرل عبدالرشید دوستم واحد ازبک کمانڈر تھے ان کو چیلنج کرنے والا کوئی نہیں تھا، آہستہ آہستہ وہ حکومت میں‌ چلتے چلے گئے سہل زندگی کے ساتھ انہیں‌ پیسوں کا شوق پڑگیا تھا، پھر اورعوام ابھرنا شروع ہوگئی تھی، کیساری ان مں سے ایک کمانڈر تھے، امید یہ کی جاتی تھی کہ اگر دوستم نہ لڑیں گے تو کیساری لڑیں گے، جس طرح دوستم اور عطا نور وغیرہ لڑائی سے بھاگ گئے، کیساری نے بھی بھاگنے کی کوشش کی تھی، اب مسئلپ یہ ہے کہ دوستم اور عطا نور پہلے جہاز سے چلے گئے تھے، ان کیلئے ازبکستان جانا آسان تھا، افغانستان اور ازبکستان کے بارڈر پر جو پل لگتا ہے ازبکستان کی فورسسز نے بیاسی گاڑیاں روک لیں تھیں، موقع پر پہنچ کر طالبان نے ان سب کو گرفتار کرلیا تھا، وہ سب سرنڈر ہوگئے تھے، میں سمجھتا ہوں کہ کیساری نے بہت بڑی غلطی کی کہ وہ روڈ سے جانا چاہ رہا تھا، ان کو چاہیے تھا کہ پہلے جہاز میں بیٹھ کر نکل جاتے.

    ارشد یوسفزئی نے مزید کہا کہ فوج ملک کے دفاع کیلئے لڑتی ہے، فوج میں یہ بات مشہور تھی کہ فوج حکومت کی کرپشن کو بچانے نہیں آئے گی، کرپٹ لوگوں نے فوج کو سپورٹ نہیں کیا تھا، پچھلے ماہ ہلمند میں فوج کو طالبان کیخلاف لڑائی میں کوئی امداد فراہم نہیں کی گئی تھی، وہ پھر سمجھنے لگ گئے کہ ایسی حکومت کے ساتھ مل کر کسی خلاف لڑنا بے فائدہ ہے.

  • کابل پر کنٹرول کے بعد طالبان کو کیا حکم دیا گیا؟ ترجمان سہیل شاہین نے بتا دیا

    کابل پر کنٹرول کے بعد طالبان کو کیا حکم دیا گیا؟ ترجمان سہیل شاہین نے بتا دیا

    کابل پر کنٹرول کے بعد طالبان کو کیا حکم دیا گیا؟ ترجمان سہیل شاہین نے بتا دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کابل پر طالبان کا مکمل کنٹرول ہو چکا ہے

    افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے ایک بار پھر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‏امارت اسلامی افغان نے ایک بار پھر اپنے مجاہدین کو حکم دیا کہ کوئی بغیر اجازت کسی کے گھر داخل نہیں ہوگا، سب کی جان و مال اور عزت کی حفاظت کی جائے گی۔

    دوسری جانب طالبان نے ملا شیریں کو کابل کا گورنر مقرر کر دیا ہے ملا شیریں ملا عمر کے قریبی ساتھی ہیں اور طالبان کے ملٹری کمیشن کے سربراہ اور ملا عمر کے محافظ کے طور پر ذمہ داری ادا کر چکے ہیں

    کابل کے لیے طالبان کے نامزد گورنر ملا شیرین آخوند نے پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ کابل کے شہریوں کو ان کی جان و مال کے تحفظ کا یقین دلاتا ہوں،مطمئن رہیں پرسکون و پر امن رہیں۔ طالبان نے بہت قربانیوں کے بعد فتح حاصل کی ہے، اللہ تعالی انھیں قبول فرمائے

    طالبان کا لباس سادہ لیکن وہ انتہائی ذہین اور قابل،اگریہ کام ہو گیا تو پاکستان کو نقصان ہو گا،وزیر خارجہ

    اچھے تعلقات کے خواہشمند، مگر مداخلت کرتے ہیں اور نہ کرنے دیتے ہیں، افغان طالبان کا ترکی کو پیغام

    سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کو مشیر برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے ان کیمرہ بریفنگ دی

    ہم نہیں چاہتے کہ کوئی بزوربازو افغانستان میں مسلط ہو،شاہ محمود قریشی

    افغان آرمی چیف کو برطرف کر دیا گیا

    طالبان کا خوف،افغانستان سے اہم حکومتی شخصیت ملک چھوڑ کر فرار

    دسواں دارالحکومت طالبان کے قبضے میں،گورنر غزنی کابل فرار

    بھارت ایسے اقدامات چھوڑ دے، طالبان ترجمان کا مودی سرکار کو پیغام

    طالبان کا لشکر گاہ پر بھی کنٹرول، افغان عوام کا طالبان کا شاندار استقبال

    واضح رہے کہ گزشتہ روز طالبان کابل پہنچ گئے ہیں جس کے بعد افغان صدر اشرف غنی ملک سے فرار ہو گئے، کابل میں طالبان کا کنٹرول ہے ، دیگراہم سرکاری عمارتون پربھی افغان طالبان کا قبضہ ہوگیا ہے اس وقت شہرمیں امن وامان کی صورت حال بہتر ہے اورسڑکوں پرافغان طالبان گشت کررہے ہیں اور لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کی ہدایت بھی کررہے ہیں‌

    ملا عبدالغنی برادر نے کابل کی فتح پر مبارکبادی پیغام جاری کر تے ہو ئے کہا ہے کہ ‏افغانستان کی پوری مسلم ملت باالخصوص کابل کے شہریوں کو فتح پر مبارکباد پیش کرتے ہیں اللہ کی مدد و نصرت سے یہ کامیابی حاصل ہوئی ہے اللہ کا ہر وقت عاجزی کے ساتھ شکر ادا کرتے ہیں۔ کسی غرور اور تکبر میں مبتلا نہیں ہیں ملا عبدالغنی برادر نے کابل کی فتح پر مبارکبادی پیغام جاری کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ‏طالبان کا اصل امتحان اور آزمائش اب شروع ہوئی ہے کہ وہ کیسے افغان عوام کی خدمت کرتے ہیں اور دنیا کے لیے ایک ایسی مثال بنتے ہیں، جس کی باقی دنیا پیروی کرے

    ٹرمپ کا جوبائیڈن سے استعفیٰ کا مطالبہ

  • افغانستان کی بدلتی ہوئی صورت حال پرطیب اردوان کا وزیراعظم عمران خان کوفون

    افغانستان کی بدلتی ہوئی صورت حال پرطیب اردوان کا وزیراعظم عمران خان کوفون

    اسلام آباد: افغانستان کی بدلتی ہوئی صورت حال پرطیب اردوان کا وزیراعظم کوفون،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کوترک صدر طیب اردوان نے فون کرکے افغانستان کی تازہ ترین صورت حال پرگفتگو کی

    وزیراعظم عمران خان کو ترک صدر رجب طیب اردوان نے ٹیلی فون کیا اور افغانستان کی تیزی سے بدلتی صورتحال اور کابل مین ترک شہریوں کی حفاظت کے حوالے سے اہم بات چیت ہوئی

    وزیراعظم ہاؤس سے جاری اعلامیے کے مطابق ٹیلی فونک گفتگو کے دوران وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے بین الاقوامی سفارتی عملے کےکابل سے انخلا میں تعاون کر رہے ہیں،قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں افغان صورتحال کا جائزہ لیں گے۔

    اعلامیےکے مطابق دونوں رہنما قومی سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد صورتحال پردوبارہ مشاورت کریں گے۔

    وزیراعظم عمران خان نے ترک صدر سے بات چیت کے دوران افغان تنازع کے سیاسی حل کےلیے کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

  • افغان طالبان کابل میں صدارتی محل میں داخل:کوئی عبوری حکومت نہیں ہوگی:افغان طالبان کا اعلان

    افغان طالبان کابل میں صدارتی محل میں داخل:کوئی عبوری حکومت نہیں ہوگی:افغان طالبان کا اعلان

    کابل:افغان طالبان کابل میں صدارتی محل میں داخل:کوئی عبوری حکومت نہیں ہوگی:افغان طالبان کا اعلان،اطلاعات کے مطابق افغان طالبان کابل کے صدارتی محل میں داخل ہوگئے ہیں اوراب جس کرسی پراشرف غنی اورحامد کرزئی بیٹھا کرتے تھے اب پاوں سے ننگے طالبان اس کرسی پربیٹھ کرامریکہ اورنیٹو کو اپنی فتح کا یقین دلا رہے ہیں

    طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اعلان کیا ہے کہ صبح جنگجوؤں کو کابل کے باہر روک دیا تھا لیکن اب ایسی اطلاعات ہیں کہ کابل میں سرکاری دفاتر خالی ہوگئے ہیں اور پولیس اہلکار بھی بھاگ گئے ہیں۔

    طالبان کی طرف سے یہ واضح پیغام جاری کردیا گیا ہے کہ کسی قسم کی کوئی عبوری حکومت قائم نہیں ہوگی ، کابل اورملک کی عوام کی خواہش کے مطابق نطآم حکومت تشکیل دیں گے

    سب کو ہدایت کردی ہے کہ امن سے رہیں اورکسی کا کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہونا چاہیے ، افغان شہری خوف زدہ نہ ہوں۔

    ترجمان نے جنگجوؤں کو حکم دیا کہ طالبان نہ کسی کے گھر میں داخل ہوں اور نہ ہی کسی کو تنگ کریں۔

    اس اعلان کے بعد طالبان شہر میں داخل ہوگئے اور غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق طالبان کمانڈر نے دعویٰ کیا ہے کہ افغان صدارتی محل کا کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔

    رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ طالبان کی آمد سے قبل ہی عملے نے محل خالی کردیا تھا۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل طالبان کا کہنا تھا کہ مجاہدین جنگ یا طاقت کے ذریعے کابل میں داخل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتے،کابل کے پرامن سرینڈر کیلئے طالبان کی افغان حکام سے بات چیت جاری ہے۔

    دوسری جانب افغان صدر اشرف غنی اور نائب صدر امراللہ صالح ملک سے چلے گئے ہیں جس کی تصدیق افغان مصالحتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے بھی کردی ہے۔

    افغان میڈیا کے مطابق سوشل میڈیا پر اپنے ویڈیو بیان میں عبداللہ عبداللہ نے اشرف غنی کو سابق صدرکہتے ہوئے تصدیق کی ہےکہ وہ افغانستان سے جاچکے ہیں۔

    عبداللہ عبداللہ نے طالبان سے اپیل کی کہ وہ کابل میں داخل ہونے سے قبل مذاکرات کیلئے وقت دیں، انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی ہےکہ وہ پرامن رہیں۔

    ذرائع افغان وزارت داخلہ کے مطابق طالبان نے کابل کی سب سے بڑی پل چرخی جیل کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور پل چرخی جیل سے اپنے ساتھیوں کو نکال رہے ہیں۔

    ترجمان افغان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے بیان میں بتایا کہ پل چرخی جیل سے پہلے طالبان نے بگرام ائیر بیس کی سب سے اہم جیل پر بھی قبضہ کیا، بگرام ائیر بیس میں موجود تمام قیدیوں کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا ہے۔

  • معزول افغان صدراشرف غنی افغانستان سے فرار ہوکرتاجکستان پہنچنے میں کامیاب ہوگئے

    معزول افغان صدراشرف غنی افغانستان سے فرار ہوکرتاجکستان پہنچنے میں کامیاب ہوگئے

    کابل:معزول افغان صدراشرف غنی افغانستان سے فرار ہوکرتاجکستان پہنچنے میں کامیاب ہوگئے،کابل سےملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت کابل میں افغان حکومت کا حاتمہ ہوچکا ہے اورمعزول افغان صدراشرف غنی کسی غیرملکی طیارے میں‌ بیٹھ کرنامعلوم مقام کی طرف فرار ہوگئے ہیں

    کابل سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ امکان یہی ہےکہ یہ امریکہ کے طیارے میں فرارہوئے ہیں، یہ بھی کہا جارہا ہےکہ اس سلسلے میں امریکی حکومت کی درخواست پراشرف غنی کو پہلے تاجکستان پہنچایا جائے گا جہاں معاملات کوایڈجسٹ کیا جائے گا

    ادھر یہ بھی اطلاعات ہیں کہ کابل میں اس وقت غیرملکی کابل ایئر پورٹ کے اندرمحصورہوچکے ہیں اورامریکہ نے افغان طالبان سے ان غیرملکیوں کی جان کی امان افغان طالبان سے مانگی ہے اورکہا ہے کہ ان کو کچھ نہ کہا جائے

    ادھر کابل سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ اشرف غنی اپنے اہلخانہ کے ہمراہ فرار ہوئے ہیں ، اوران کی اگلی منزل کا ابھی تک کسی کو کوئی پتہ نہیں تاہم باغی ٹی وی ذرائع کے مطابق ان کی پہلی منزل تاجکستان ہہے جہاں افغان حکومت کی نئی شکل کے حوالے سے ان کوشریک مذاکرات کیا جائے گا

    دوسری طرف برطانوی میڈیا نے بھی تصدیق کی ہے کہ معزول افغآن صدرفرارہوکرتاجکستان پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ہیں

  • سب کی چھٹی:افغان طالبان نے ملا عبدالغنی برادر کو عبوری حکومت کا سربراہ مقرر کر دیا ہے

    سب کی چھٹی:افغان طالبان نے ملا عبدالغنی برادر کو عبوری حکومت کا سربراہ مقرر کر دیا ہے

    کابل:سب کی چھٹی:افغان طالبان نے ملا عبدالغنی برادر کو عبوری حکومت کا سربراہ مقرر کر دیا ہے ،اطلاعات کے مطابق افغان طالبان افغانستان کے دارالحکومت کابل کے مضافات میں داخل ہو گئے ہیں جبکہ اشرف غنی اقتدار چھوڑنے پر رضا مند ہو گئے ہیں، ایسے میں افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ افغان طالبان نے ملا عبدالغنی برادرکو نئی عبوری حکومت کا سربراہ مقرر کیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی کو کابل شہر سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ افغان طالبان کو اقتدار کی منتقلی کے لیے افغان صدارتی محل میں مذاکرات جاری ہیں۔

    افغان مصالحتی کونسل (ایچ سی این آر) کے چیئرمین ڈاکٹر عبداللّٰہ عبداللّٰہ معاملے میں ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

    قطر کے دارالحکومت دوحہ میں موجود طالبان عہدے دار کا کہنا ہے کہ طالبان رہنما ملا برادر افغانستان پہنچنے والے ہیں اور وہ کسی بھی وقت کابل میں پہنچ جائیں گے ۔

    واضح رہے کہ افغان طالبان افغانستان کے دارالحکومت کابل کے مضافات میں داخل ہو گئے ہیں۔

    اس موقع پر قائم مقام افغان وزیرِ داخلہ عبدالستار میر زکوال نے کہا ہے کہ طالبان سے کابل پر حملہ نہ کرنے کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔

    میڈیا کو جاری کیئے گئے بیان میں انہوں نے بتایا ہے کہ معاہدے کے تحت عبوری حکومت کو اقتدار کی منتقلی پرامن ماحول میں ہو گی۔

    افغان حکام نے ’جیو نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان پس پردہ مذاکرات جاری ہیں۔

    افغان حکام کا کہنا ہے کہ افغان حکومت خونریزی کی خواہاں نہیں ہے، کوشش ہے کہ جنگ کے بغیر ہی معاملہ حل کر لیا جائے۔

    اس سے قبل افغان میڈیا پر جاری بیان میں طالبان نے کہا ہے کہ کابل میں بزورِ طاقت داخل نہیں ہوں گے۔

    دوسری طرف سے مذاکرات جاری ہیں تاکہ کابل میں داخلے کے وقت شہریوں کو نقصان نہ پہنچے۔

    طالبان نے کسی قسم کا انتقام نہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم انتقام نہیں لے رہے، تمام فوجی اور سویلین اہلکار محفوظ رہیں گے۔

    عرب ٹی وی سے گفتگو میں طالبان ترجمان نے کہا کہ بزورِ طاقت کابل میں داخل نہیں ہوں گے، اقتدار کی پرامن منتقلی کے لیے بات چیت کریں گے۔

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ چاہتے ہیں کہ افغان دارالحکومت کا کنٹرول پرامن طریقے سے ملے، اس کے لیے چند روز یا ہفتہ بھی لگا تو انتظار کریں گے۔

  • اشرف غنی کی چھٹی:نئے افغان عبوری سربراہ کون ہوں گے اعلان ہوگیا

    اشرف غنی کی چھٹی:نئے افغان عبوری سربراہ کون ہوں گے اعلان ہوگیا

    کابل:اشرف غنی کی چھٹی:نئے افغان عبوری سربراہ کون ہوں گے اعلان ہوگیا،اطلاعات کے مطابق افغان طالبان افغانستان کے دارالحکومت کابل کے مضافات میں داخل ہو گئے ہیں جبکہ اشرف غنی اقتدار چھوڑنے پر رضا مند ہو گئے ہیں، ایسے میں افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ علی احمد جلالی کو نئی عبوری حکومت کا سربراہ مقرر کیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی کو کابل شہر سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ افغان طالبان کو اقتدار کی منتقلی کے لیے افغان صدارتی محل میں مذاکرات جاری ہیں۔

    افغان مصالحتی کونسل (ایچ سی این آر) کے چیئرمین ڈاکٹر عبداللّٰہ عبداللّٰہ معاملے میں ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

    علی احمد جلالی افغانستان کے سابق وزیرِ داخلہ بھی ہیں، وہ جرمنی میں افغان سفیر کےطور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

    دوسری جانب قطر کے دارالحکومت دوحہ میں موجود طالبان عہدے دار کا کہنا ہے کہ طالبان رہنما ملا برادر افغانستان آنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ افغان طالبان افغانستان کے دارالحکومت کابل کے مضافات میں داخل ہو گئے ہیں۔

    اس موقع پر قائم مقام افغان وزیرِ داخلہ عبدالستار میر زکوال نے کہا ہے کہ طالبان سے کابل پر حملہ نہ کرنے کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔

    میڈیا کو جاری کیئے گئے بیان میں انہوں نے بتایا ہے کہ معاہدے کے تحت عبوری حکومت کو اقتدار کی منتقلی پرامن ماحول میں ہو گی۔

    افغان حکام نے ’جیو نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان پس پردہ مذاکرات جاری ہیں۔

    افغان حکام کا کہنا ہے کہ افغان حکومت خونریزی کی خواہاں نہیں ہے، کوشش ہے کہ جنگ کے بغیر ہی معاملہ حل کر لیا جائے۔

    اس سے قبل افغان میڈیا پر جاری بیان میں طالبان نے کہا ہے کہ کابل میں بزورِ طاقت داخل نہیں ہوں گے۔

    دوسری طرف سے مذاکرات جاری ہیں تاکہ کابل میں داخلے کے وقت شہریوں کو نقصان نہ پہنچے۔

    طالبان نے کسی قسم کا انتقام نہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم انتقام نہیں لے رہے، تمام فوجی اور سویلین اہلکار محفوظ رہیں گے۔

    عرب ٹی وی سے گفتگو میں طالبان ترجمان نے کہا کہ بزورِ طاقت کابل میں داخل نہیں ہوں گے، اقتدار کی پرامن منتقلی کے لیے بات چیت کریں گے۔

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ چاہتے ہیں کہ افغان دارالحکومت کا کنٹرول پرامن طریقے سے ملے، اس کے لیے چند روز یا ہفتہ بھی لگا تو انتظار کریں گے۔

  • تکبر،عہدہ اورقوت سب خاک میں مل گئے:دستبرداری سےانکاری افغان صدراشرف غنی ذلّت کےساتھ مستعفی

    تکبر،عہدہ اورقوت سب خاک میں مل گئے:دستبرداری سےانکاری افغان صدراشرف غنی ذلّت کےساتھ مستعفی

    کابل :تکبر:عہدہ اورقوت سب خاک میں مل گئے:دستبرداری سے انکارکرنے والا افغان صدراشرف غنی ذلّت کے ساتھ مستعفی ،اطلاعات کے مطابق تاریخ نےآج وہ وقت دیکھا جب افغانستان میں تکبر، غرور اورطاقت کے بل بوتے پرزبردستی حکومت کرنے والا اشرف غنی جو چند دن پہلے نہ صرف مستعفی ہونے سے انکاری تھا بلکہ افغان طالبان کو سبق سکھانے کی دھمکیاں دے رہا تھا آج بڑی ذلت اوررسوائی کے ساتھ جان کی امان مانگتے ہوئے اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں

    باغی ٹی وی کے مطابق 3 بج کر10 منٹ پرافغان صدرصدارتی محل میں بڑی شرمساری اورجان کی امان مانک کراپنے عہدے سے مستعفیٰ ہوچکے ہیں ،

    تازہ ترین اطلاعات کے مطابق افغان صدارتی محل میں طالبان اور حکومت کے درمیان مذاکرات جاری ہیں جہاں فغانستان کے صدر اشرف غنی مستعفیٰ ہوگئے ہیں ،

    جب کہ مذکرات میں کابل پر حملہ نہ کرنے کا معاہدہ بھی طے پا گیا ہے ، جس کے تحت طالبان عبوری حکومت کو اقتدار کی پرامن منتقلی کا فیصلہ کیا گیا ہے ، علی احمد جلالی نئی حکومت کے سرا راہ مقرر کئے جائیں گے جب کہ اس سارے معاملے میں عبداللہ عبداللہ ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

    افغانستان کے قائم مقام وزیرداخلہ عبدالستار مرزا کوال نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کابل پر حملہ نہیں کیا جائے گا اور حکومت کی منتقلی پرامن طریقے سے ہوگی ، کابل کے شہری یقین رکھیں کہ سکیورٹی فورسز شہر کی حفاظت یقینی بنائیں گے۔

    اس سے پہلے اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ افغانستان میں طالبان افغان دارالحکومت کابل میں چاروں اطراف سے داخل ہونے لگے ہیں ، وزارت داخلہ نے طالبان کے کابل میں داخلے کی تصدیق کردی ہے جب کہ کابل میں افغان سکیورٹی فورسز اور طالبان میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے باعث افغان دارالحکومت میں سرکاری عمارتیں خالی کرالی گئیں

    دوسری طرف افغانستان میں طالبان نے طورخم بارڈر کا کنٹرول سنبھال لیا ، طالبان کی جانب سے طورخم بارڈر کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد پاک افغان سرحد طورخم پر تعینات افغان فوجی فرار ہوگئے جب کہ پاک افغان سرحد طورخم کو آمدورفت کے لیے بند کر دیا گیا ۔

    بتایا گیا کہ ملک کے اکثریتی علاقوں پر قبضہ کرنے کے بعد طالبان افغانستان کے دارالحکومت کابل میں بھی چاروں طرف سے داخل ہونے لگے ہیں ، مجموعی طور پر طالبان اب تک 34 میں سے 25 صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کر چکے ہیں اور جلال آباد پر بھی طالبان نے قبضہ کرلیا ہے جس کے بعد افغان حکومت کا کنٹرول صرف کابل تک محدود ہو گیا ہے جب کہ افغان دارالحکومت کابل میں کئی گھنٹوں سے بجلی کا مکمل بلیک آؤٹ ہے ، علاوہ ازیں پاکستانی سرحد کے ساتھ 2 اہم صوبوں پکتیا اور پکتیکا پر بھی طالبان قبضہ کر چکے ہیں، صوبے فاریاب اور کنڑ بھی طالبان کے زیرِ اثر ہیں۔

    اسی طرح طالبان نے ازبک سرحد کے قریب آخری بڑے شہر مزار شریف پر بھی قبضہ کر لیا ہے جہاں وہ اپنے پہلے دور میں قابض نہیں ہو سکے تھے ، شہر کے دفاع پر مامور افغان فورسز، فیلڈ مارشل اور وار لارڈ جنرل عبدالرشید دوستم اور ملیشیا لیڈر عطاء محمد نور وہاں سے فرا ر ہو گئے ہیں جن کے بارے میں کچھ پتہ نہ چل سکا تاہم اطلاعات ہیں کہ فیلڈ مارشل اور وار لارڈ جنرل عبدالرشید دوستم مزار شریف سے ازبکستان فرار ہوگئے ہیں اور طالبان جنرل رشید دوستم کے گھر بیٹھ کر میں قہوے اور ڈرائی فروٹ سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔

  • کابل ایئرپورٹ کے وی آئی پی ٹرمینل پراشرف غنی کی کابینہ،جرنیل اوراہم شخصیات فرارکےلیے تیار

    کابل ایئرپورٹ کے وی آئی پی ٹرمینل پراشرف غنی کی کابینہ،جرنیل اوراہم شخصیات فرارکےلیے تیار

    کابل:کابل ایئرپورٹ کے وی آئی پی ٹرمینل پراشرف غنی کی کابینہ،جرنیل اوراہم شخصیات فرارکےلیے تیار،اطلاعات کے مطابق سقوط کابل ہونے کے قریب ہے اور اس وقت کابل کے ایئر پورٹ پر بڑی عجیب صورت حال دیکھنے کو مل رہی ہے

    کابل سے باغی ٹی وی کو ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہا اس وقت ہرطرف افراتفری کا عالم ہے اور‏افغان حکومت کے عہدیدار افراتفری میں ادھرادھربھاگ رہےہیں‌

    کابل ائیرپورٹ کے وی آئی پی ٹرمینل کی انتظارگاہ اور پارکنگ صدر اشرف غنی کے مشیر، وزرا، سابق وزرا اور ارکان پارلیمنٹ سے بھرے ہوئے ہیں۔ ان کے جہاز کو ٹیک آف کی اجازت نہیں مل رہی

    ادھرکابل سے آمدہ اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ کابل پر حملہ نہ کرنے کا معاہدہ طے پا گیا، قائم مقام افغان وزیرداخلہ افغانستان میں اقتدار پرامن طور پرعبوری حکومت کو منتقل ہو گا۔

    افغان میڈیا کے مطابق طالبان کو اقتدارکی منتقلی کیلئےافغان صدارتی محل میں مذاکرات جاری ہیں، علی احمدجلالی کونئی عبوری حکومت کا سربراہ مقرر کیا جائے گا۔ عبداللہ عبداللہ معاملےمیں ثالث کا کردارادا کر رہے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ افغان صدر اشرف غنی کا کچھ دیرمیں مستعفی ہونے کا امکان ہے۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ افغان حکومت کے ساتھ براہ راست مذاکرات جاری ہیں۔

    طالبان نے افغانستان کے تمام بارڈرز کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ طالبان کی طرف سے کہا گیا کہ جنگ کے ذریعے کابل میں داخل ہونے کا ارادہ نہیں، جنگ بندی کا اعلان نہیں کیا لیکن کوئی جانی نقصان نہیں چاہتے، کسی سے انتقام لینے کا ارادہ نہیں۔ سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ ہم افغان اور دیگر لوگوں کیلئے عام معافی کا اعلان کر چکے ہیں، ان کوخوش آمدید کہیں گے جو بد عنوان کابل انتظامیہ کیخلاف ہیں، جنہوں نے دخل اندازوں کی مدد کی، ان کیلئے بھی دروازے کھلے ہیں۔

    یہ امر قابل ذکر ہے کہ طالبان کو دارالحکومت میں داخلے کے دوران قابل ذکر مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا، جنگجووں کی آمد کی اطلاعات پر افغان شہریوں میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ، کابل یونیورسٹی سے طالبات گھروں کو جا چکی ہیں، عوام گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔

    طالبان صوبہ پکتیا کے دارالحکومت گردیز میں بھی داخل ہوگئے، پاکستان کی سرحد پر واقع صوبہ کنڑ کے صدر مقام اسعد آباد پر بھی قبضہ ہو گیا، زابل کے گورنر نے طالبان کے آگے ہتھیار ڈال دیئے۔ صوبہ دایکندی کے دارالحکومت نیلی پر طالبان نے بغیر لڑے قبضہ کرلیا، افغان فوجیوں کی بکتر بند گاڑیوں اور ٹینکوں سمیت پناہ کے لئے ایران جانے کی ویڈیو بھی منظر عام پر آگئی۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے طالبان جنگجوؤں کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ سفارتی عملے کو نقصان پہنچنے کی صورت میں سخت جواب دیا جائے گا۔ مستقبل میں بھی طالبان سے نمٹنے کے لئے نگرانی جاری رکھی جائے گی۔