Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • فیصل واوڈا اسمبلی سے استعفیٰ دے کر مشکل میں پھنس گئے

    فیصل واوڈا اسمبلی سے استعفیٰ دے کر مشکل میں پھنس گئے

    فیصل واوڈا اسمبلی سے استعفیٰ دے کر مشکل میں پھنس گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما فیصل واوڈا قومی اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ دینے کے بعد مشکل میں پھنس گئے

    فیصل واوڈا نے سینیٹ کا الیکشن تو جیت لیا تا ہم آج الیکشن کمیشن میں فیصل واوڈا کابطور سینیٹر کامیابی کانوٹیفکیشن روکنے کی درخواست دائرکردی گئی ہے، درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ جھوٹے بیان حلفی پرفیصلے تک فیصل واوڈاکی کامیابی کا نوٹیفکیشن روکاجائے ۔فیصل واوَڈا صادق اور امین نہیں رہے

    مسلم لیگ ن کے وکیل جہانگیر جدون نے الیکشن کمیشن میں درخواست جمع کرا دی ،وکیل نے کہا کہ فیصل واوڈا کی نااہلی کی درخواست آج ہی سماعت کیلئے مقرر کی جائے،اسلام آباد ہائیکورٹ کہہ چکی ہے کہ فیصل واوڈا کا حلف نامہ جھوٹا ہے، فیصل واوڈا نہ الیکشن کمیشن اور نہ ہی اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوا،

    دوسری جانب سندھ ہائیکورٹ میں فیصل واوڈا کی درخواست پر سماعت ہوئی ،فیصل واوڈا کے وکیل نے کہا کہ قادرمندوخیل اور دیگر نے الیکشن کمیشن میں ڈائریکٹ شکایت درج کی ہیں،عدالت نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی فیصل واوڈا کیس میں حکم نامہ جاری کیا ہے، عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ طلب کر لیا

    فیصل واوڈا جو بوٹ لے کر گئے وہ میرے بچوں کا ہے، خاتون کا سینیٹ میں دعویٰ

    فیصل واوڈا کے خلاف ہارے ہوئے امیدوار کی جانب سے مقدمہ کی درخواست پر عدالت کا بڑا حکم

    نااہلی کی درخواست پر فیصل واوڈا نے ایسا جواب جمع کروایا کہ درخواست دہندہ پریشان ہو گیا

    فیصل واوڈا کی بیرون ملک جائیدادیں، ناقابل تردید ثبوت باغی ٹی وی نے حاصل کر لئے

    درندہ صفت مجرمان کو پھانسی کی سزا دی جائے۔ دردانہ صدیقی

    زیادتی کے مجرموں کو خصوصی عدالت کے ذریعے فی الفور سزا دی جائے،کل مسالک علماء بورڈ

    آبروریزی کے بڑھتے واقعات کسی بڑی تباہی کی نشاندہی کر رہے ہیں، علامہ عبدالخالق اسدی

    پنجاب پولیس کی اعلیٰ کارکردگی،موٹروے زیادتی کیس کے ملزم تیسرے روز بھی گرفتار نہ ہو سکے

    موٹروے پر خاتون سے اجتماعی زیادتی، واحد عینی شاہد نے کیا منظر دیکھا؟ بتا دیا

    قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کا سی سی پی او لاہور کی برطرفی کا مطالبہ

    سی سی پی او لاہور کو نشان عبرت بنایا جائے،اسکے ہوتے ہوئے عورت محفوظ نہیں رہ سکتی، مریم اورنگزیب

    فیصل واوڈا جواب نہیں دینا چاہتے تو بتا دیں، ہم فیصلہ کر دیتے ہیں، عدالت

    فیصل واوڈا نےعدالت کو مذاق بنایا ،عدالتی نظام پر ہنس رہا ہوگا،وکیل کے بیان پر عدالت نے کیا کہا؟

    نااہلی سے بچنے کے لئے فیصل واوڈا نے عدالت میں کیا قدم اٹھا لیا

    فیصل واوڈا نااہلی کیس، جلد سماعت کیلئے مقرر کرنے پر عدالت کا حکم آ گیا

    الیکشن کمیشن میں فیصل واوڈا کیخلاف نااہلی کی درخواستوں پر سماعت ، ایک اور موقع مل گیا

    کیا فیصل واوڈا قانون سے بالا تر ہیں؟ ،عدم پیشی پر الیکشن کمیشن کا اظہار برہمی

    ووٹ ڈالنے کے بعد تحریک انصاف کی اہم شخصیت نے اسمبلی سے استعفیٰ دے دیا

    قبل ازیں دو روز قبل اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصل واوڈا نااہلی کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا،جسٹس عامر فاروق نے 13صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے میں کہاگیاہے کہ فیصل واوڈا کا بیان حلفی بادی النظر میں جھوٹا ہے،سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں جھوٹے بیان حلفی کے نتائج ہیں، فیصل واوڈا نے الیکشن کمیشن میں بیان حلفی جمع کرایا،الیکشن کمیشن معاملے کی تحقیقات کر کے مناسب حکم جاری کر سکتا ہے۔

    عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ فیصل واوڈا نے 11 جون کو دہری شہریت نہ رکھنے کا بیان حلفی جمع کرایا،ریکارڈ کے مطابق امریکی شہریت ترک کرنے کا سرٹیفکیٹ 25 جون کو جاری ہوا،کاغذات کی جانچ پڑتال کے وقت فیصل واوڈا امریکی شہری اور الیکشن لڑنے کیلئے نااہل تھے، استعفے کے باعث فیصل واوڈاکو نااہل قرار دینے کیلئے کو وارنٹو کی رٹ جاری نہیں کی جا سکتی۔

  • خدا حافظ بزدار سرکار، گیلانی کو چیئرمین سینیٹ بنانے کیلیے کون کون متحرک ؟ مبشر لقمان نے سب بتا دیا

    خدا حافظ بزدار سرکار، گیلانی کو چیئرمین سینیٹ بنانے کیلیے کون کون متحرک ؟ مبشر لقمان نے سب بتا دیا

    خدا حافظ بزدار سرکار، گیلانی کو چیئرمین سینیٹ بنانے کیلیے کون کون متحرک ؟ مبشر لقمان نے سب بتا دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بلاول کی لاہور ماڈل ٹاون میں حمزہ شہباز سے ملاقات ہوئی، بلاول کی چودھری برادران سے بھی ملاقات ہوئی،۔ جہاں اپوزیشن نے پنجاب میں تبدیلی کے لیے بڑی جماعتوں سے رابطہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ تواطلاعات یہ بھی ہیں کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کوتبدیل کیا جارہا ہے۔بعض ذرائع کا کہنا ہےکہ چوہدری پرویز الٰہی کی طرف سے راجہ بشارت کا نام وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے لیا جارہا ہے۔یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اس کی منظوری وزیراعظم عمران خان دیں گے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کو ایوان سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد ایک اور چیلنج کا سامنا ہے اور سینیٹ الیکشن کے بعد اتحادیوں کی جانب سے ڈپٹی چیئرمین اور مزید وزارتیں دینے کے مطالبات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں جس پر عمران خان نے ایک مرتبہ انتہائی قریبی رفقاء سے مشاورت شروع کردی ۔ذرائع کاکہنا ہے کہ اتحادیوں کے مطالبات نہ ماننے پر سینیٹ چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کی لابنگ مشکل ہوجائے گی کیونکہ دوسری جانب اپوزیشن کی بڑی جماعت پیپلز پارٹی نے بھی حکومتی اتحادیوں کو آفرز شروع کردی ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ نومنتخب سینیٹر بیرسٹر علی ظفر فروغ نسیم کی جگہ وزیر قانون بنائے جانے کے خواہش مند ہیں جبکہ فروغ نسیم وزارت قانون کے سوا کسی اور عہدے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان کا قلم دان ایک مرتبہ پھر خطرے میں پڑ گیا ہے۔ بیرسٹر علی ظفر کو وزیر پارلیمانی امور بنانے کی پیش کش کی گئی ہے جسے نومنتخب سینیٹر نے قبول نہیں کیا۔۔ ایم کیو ایم نے ایک مرتبہ پھر وزارت کے مطالبے کے بعد ڈپٹی چیئرمین کا عہدہ مانگ لیا تاہم متحدہ اس مطالبے کی تردید کرتی ہے۔ادھر ایم کیو ایم کو چیئرمین سینٹ کا ووٹ دینے کی صورت میں پیپلز پارٹی کی طرف سے بڑی پیش کش کی گئی ہے اور اگر حکومت سے بات نہ بنی تو متحدہ نے حکومتی اتحاد چھوڑنے کااشارہ بھی دے دیا ۔ ایم کیو ایم کی قیادت فیصل سبزواری کو ڈپٹی چئیرمین سینیٹ یا ایم کیو ایم کے کوٹہ کا وزیر بنانے کی خواہاں ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دوسری جانب اسد عمر اور حماد اظہر کی تمام امیدوں پر پانی پھر گیا ہے کیونکہ وزیراعظم عمران خان نے حفیظ شیخ کو بطور وفاقی وزیر کام جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے بعد عبدالحفیظ شیخ نے استعفیٰ نہ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔۔ ٹوئٹر پر اے این پی کے رہنما میا ں افتخارحسین نے وزیراعظم کو ملنے والے ووٹوں کی تعداد پر انگلی اٹھا دی ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کو 178ووٹ ملے جبکہ تحریک انصاف اور ان کے اتحادی اراکین اسمبلی کی کل تعداد 180ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے فیصل واوڈا مستعفی ہو گئے،ڈسکہ کا الیکشن کا لعدم قرار دے دیا گیا ،ایک آزاد ممبر آیا نہیں ،سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ووٹ کا سٹ نہیں کیا اور بی این پی کے چار ارکان موجود نہیں تھے ۔میاں افتخار نے سوال اٹھا یا کہ کل 180میں سے یہ آٹھ نکال دئیے جائیں تو 172ممبرز رہ گئے ،پھر 178ووٹ کہاں سے مل گئے ؟ ۔انہوں نے مطالبہ کیا ان غلط اعداد وشمار سے متعلق تحقیقات ہونی چاہیے ۔

  • یاد ماضی عذاب ہے یا رب،عمران خان ہر حال میں گھر جائیں گے، مبشر لقمان کا تہلکہ خیز انکشاف

    یاد ماضی عذاب ہے یا رب،عمران خان ہر حال میں گھر جائیں گے، مبشر لقمان کا تہلکہ خیز انکشاف

    یاد ماضی عذاب ہے یا رب،عمران خان ہر حال میں گھر جائیں گے، مبشر لقمان کا تہلکہ خیز انکشاف
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کیا وزیر اعظم ہر حال میں گھر جائیں گے۔۔؟کیا اعتماد کا ووٹ لینے کے باوجود مصیبتوں کا پہاڑ سامنے کھڑا ہے۔۔یاد ماضی عذاب ہے یا رب۔
    کیا تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔کیا عمران خان کی پیٹھ اب ہر طرح کے وار کے لیئے ننگی ہو چکی ہے جسے ڈھائی سال سے غیبی طاقتیں تحفظ دے رہی تھی۔ پاکستان کی تاریخ میں صرف ایک اور وزیر اعظم نے ایوان سے اعتماد کا ووٹ لیا تھا۔اعتماد کا ووٹ لینے کے ایک ماہ کے اندر اسکا کیا انجام ہوا تھا۔۔؟ وہ انجام حیران کن تھا۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آج کی اس ویڈیو میں ہم بات کریں گے کہ کیا اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد عمران خان کے لیئے سب اچھا ہی اچھا ہو گا یا کھیل خراب ہو چکا ہے اور اس کے اب ٹھیک ہونے کے کوئی امکانات نہیں۔ اور اس کی گواہی ہماری تاریخ دیتی ہے۔ کیا تاریخ اپنے آپ کو دہرانے جا رہی ہے۔کھیل پنجاب سے شروع ہو گا اور وفاق تک جائے گا۔؟یہ ویڈیو دیکھ کر آپ کے سامنے اگلے چھ ماہ کے اندر اندر ہونے والے تمام واقعات کی ویڈیو چل جائے گی۔ سینٹ کے بعد پنجاب میں کیا ہو گا، وفاق میں کیا ہو گا ۔۔؟اب عمران خان پر چاروں طرف سے کس قسم کے حملے ہونے جا رہے ہیں اس سب کی ہم آپ کے سامنے منظر کشی کریں گے۔اب ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت کے بقیہ اڑھائی سال آسانی سے نہیں گزریں گے، اپوزیشن سینیٹ میں اپنی فتح کے بعد بار بار حکومت پر وار کرے گی۔اور حکومت کے راستے میں احتجاج، عدم اعتماد اور لانگ مارچ کے کانٹے بچھائے گی۔ اور اس کے ساتھ ساتھ
    یہ وار کبھی سپیکر نیشنل اسمبلی پر ہوں گے تو کبھی چیئرمین سینٹ پر، کبھی پنجاب حکومت پر تو کبھی وفاقی حکومت پر۔اس سے پہلے چیئرمین سینٹ کے الیکشن میں جو اپوزیشن کے ساتھ ہوا تھا اس نے اپوزیشن کے اعتماد کو بری طرح جھنجوڑدیا تھا اور اپوزیشن کسی صورت پارلیمانی محاذ پر حکومت کو چیلنچ کرنے کے لیئے تیار نہیں تھی۔ لیکن یوسف رضا گیلانی کی جیت نے اس محاذ پر اپوزیشن کو بڑھ چڑھ کر حملہ کرنے کا حوصلہ دے دیا ہے۔ یہ بات طے ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت اگر گھر جائے گی تو آئینی طریقے سے ہی جائے گی۔ لانگ مارچوں سے حکومت گھر بھجنے اور استعفی لینے کی سیاست پاکستان میں دفن ہو چکی ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ڈھائی سال سے اپوزیشن سے ننگی گالیاں کھانے والا ۔۔الیکشن کمیشن اب حکومت پر جس طرح گرج رہا ہے جس طرح ایک دم سے اس کی غیرت جاگ گئی ہے ،جو وہ ڈسکہ انتخابات کے دوران کر چکا ہے۔ جس طرح اسٹیبلشمنٹ کے پسندیدہ حفیظ شیخ کے معاملے میں صادق سنجرانی کی تاریخ نہیں دھرائی گئی۔ اس سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ عمران خان کی پیٹھ اب ننگی ہے۔ جسے ڈھائی سال سے محفوظ رکھا گیا ۔۔اب ہر طرف سے حملے ہوں گے اور کس طرح کے ہوں گے میں آپ کو تاریخ سے کچھ واقعات بتا دیتا ہوں جو یقینا دہرائے جائیں گے۔ہم گزشہ ڈیڑھ سال سے سن رہے ہیں کہ پاکستان کے طاقتور حلقے حکومت کی کارکردگی اور ملکی حالات سے ناخوش ہیں اور تبدیلی کے آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔ پھر کرونا نے حکومت کو ایک نئی زندگی دی اور اس کے بعد پی ڈی ایم کی تحریک کے بعد اس وقت صورتحال مختلف ہے۔ اور معاملات سڑکوں پر خراب ہوتے ہوتے اسمبلیوں تک پہنچ چکے ہیں۔اگر آپ پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو آپ کو پتا چلے گا کہ پاکستان میں تاریخ اپنے آپ کو دھرانے جا رہی ہے اور شائد موجودہ حکومت کا انجام بھی وہی ہو جو انیس سو ترانوے میں میاں نواز شریف کی حکومت کا ہوا تھا اور انہیں اعتماد کا ووٹ لینے کے باوجود اپنے گھر جانا پڑا تھا۔ہم نے اپنی زندگی میں خاص طور پر نوے کی دہائی میں جو آئینی بحران، سیاسی عدم استحکام، پارلیمان اور جمہوری حکومتوں کی بے وقتی نوے کی دہائی میں دیکھی ہے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔یہ وہ دور ہے جب راتوں رات بے نظیر بھٹو کا راستہ روکنے کے لیئے اسٹیبلشمنٹ نے پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ اور مسلم لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف کی قیادت میں ایک نو جماعتی اسلامی جمہوری اتحاد بنوایا۔ نتیجہ ایک معلق پارلیمنٹ کی صورت میں نکلا۔ پیپلز پارٹی کو 93 اور آئی جے آئی کو 54 ، ایم کیو ایم کو تیرہ، جے یو آئی (ایف) کو سات اور اے این پی کو دو نشستیں ملیں۔آج بھی صورتحال کچھ اسی طرح سے ہے بس جماعتوں کے ناموں کا فرق ہے۔صدر غلام اسحاق خان نے بے نظیر بھٹو کو حکومت سازی کی دعوت دی لیکن شرائظ رکھی کہوہ افغان اور کشمیر پالیسی اور ایٹمی پالیسی میں مداخلت نہیں کریں گی۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ صدارتی انتخاب میں جنرل ضیاء الحق کے دستِ راست غلام اسحاق خان کی حمایت کریں گی۔بے نظیر بھٹو نے نہ صرف شرائط مانی بلکہ پوری بھی کی۔ لیکن پھرمسلح افواج کے سربراہوں اور ججوں کی تقرری کے معاملے پر اختلافات اتنے بڑھے کہ چھ اگست انیس سو نوے کو صدر نے اٹھاون ٹو بی کے تحت بے نظیر حکومت کو بدعنوانی اور نااہلی کا مرتکب قرار دے کر گھر بھیج دیا۔بے نظیر کے سیاسی مخالف غلام مصطفیٰ جتوئی کو نگران وزیرِ اعظم بنایا گیا اور آئی جے آئی کو ہر طرح کی مدد فراہم کر کے پیپلز پارٹی کے تمام سیاسی مخالفین کو اکھٹا کر کے میاں نواز شریف کو وزیر اعظم بنوا دیا گیا۔لیکن پھر اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کے لاڈلے
    نواز شریف کے درمیان جلد ہی بالکل اسی انداز کی کشمکش شروع ہوگئی جو بے نظیر حکومت کے زوال کا سبب بنی تھی۔ یعنی مسلح افواج کے سربراہوں اور ججوں کی تقرری کا معاملہ۔ چنانچہ جب یہ اختلافات سڑک پر آ گئے اور ایوانِ وزیرِ اعظم اور ایوانِ صدر دو متحارب کیمپوں میں تبدیل ہوگئے تو غلام اسحاق خان نے ڈیڑھ برس میں دوسری دفعہ آئینی وار کیا اور انیس اپریل انیس سو ترانوے کو نواز شریف حکومت برطرف کر کے میر بلخ شیر مزاری کو نگراں وزیرِ اعظم نامزد کردیانواز شریف نے اٹھاون ٹوبی کے تحت برطرفی کے اقدام کو صدر کی بدنیتی قرار دیتے ہوئے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ۔سپریم کورٹ نے چودہ مئی کو برطرف حکومت بحال کردی اور صدر غلام اسحاق خان کے اقدام کو غیر آئینی قرار دے دیا۔بی بی سی اردو کے مطابقاگلے روز نواز شریف نے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں جمہوریت اب خدا کے فضل سے صحیح معنوں میں ریسٹور ہوئی ہے اور غیر جمہوری ہتھ کنڈے کامیاب نہیں ہو سکے۔پہلی بار محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کے دن بدلنے والے ہیں۔اور پاکستان کو اب اس ڈگر(جمہوریت) سے کوئی ہٹا نہیں سکے گا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت بھی سب سمجھ رہے تھے کہ میاں نواز شریف کی حکومت پر اٹھاون ٹو بی چلنے کے بعد اور پھر سپریم کورٹ سے بحال ہونے کے بعد، اسمبلی سےVote of confidanceلینے کے بعد
    اب سکون اور استحقام کا دور شروع ہو چکا ہےلیکن کھیل شروع ہونے کےبعد ادھورا نہیں رہ سکتا اور کھیل نے تو پورا ہونا تھا۔ایک دم سے بھاری اکثریت رکھنے والے میاں نواز شریف کے خلاف پنجاب میں ایک باغی گروپ نے بغاوت کر دی۔نہ صرف اس گروپ نے بغاوت کی بلکہ ن لیگ کے گورنر میاں اظہر نے بھی استعفی دے دیا۔یا ان کو استعفی دینے کا حکم کہیں سے آیا تھا۔اب میاں نواز شریف کے مفادات کا تحفط کرنے والا پنجاب میں کوئی نہ تھا اور جمہوریت کو نئی زندگی ملنے کا دعوی کرنے والے نواز شریف ایک ماہ کے اندر اندر اپنے ہی صوبے میں اجنبی ہوگیا تھے۔فوری طور پر پیپلز پارٹی نے منظور وٹو کی حمایت کا اعلان کر دیا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایک منٹ رکیے یہاں پر۔۔۔۔۔آج کے سیاسی منظر نامے پر نظر ڈالیں۔پی ڈی ایم پنجاب پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنا چکی ہے۔سینٹ الیکشن میں پنجاب میں جس طرح اپوزیشن نے چوہدری پرویز الہی کی سن کرSeat adjustmentکی ہے وہ بہت سوں کی سوچ سے باہر ہے لیکن اس کی سمجھ۔۔۔ آنے والے چند ماہ میں لگ جائے گی۔کیا چوہدری سرور پنجاب میں تحریک انصاف کے لیئے کوئی بڑا پریشر برداشت کر سکتے ہیں۔ذرا سوچ کے کامینٹس باکس میں بتائیے گا۔میرے خیال سے چوہدری سرورصاحب تو کیا کوئی اور بھی ہوتا تو مشکل ہوتا۔ن لیگ، چوہدری برادران اور تحریک انصاف کا پنجاب میں متوقع باغی گروپ کیا تاریخ دہرائے گا۔؟سوچنے کی بات ہے جبکہ وسیم اکرم پلس کے بدلنے کے لیئے پہلے ہی طاقت ور حلقے عمران خان کو بہت سمجھا چکے ہیں اور پنجاب کی تباہی دیکھ کر کڑ رہے ہیں۔ بہت سی باتوں میں سے اگر یہ بات عمران خان مان لیتے تو شائد یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ منظور وٹو صرف ڈیڑھ درجن ارکان کے ساتھ ۔۔ پیپلز پارٹی کی حمایت سے وزیر اعلی بن گئے۔ اور پھر مرکز میں نواز شریف کو زچ کر کے رکھ دیا گیا۔ جس طرح نواز شریف بے نظیر کو کرتے رہے تھے۔یہ بات یاد رکھیں اس وقت چوہدری پرویز الہی سمیت بڑے سیاسی کھلاڑی نواز شریف کے ساتھ تھے لیکن آج عمران خان کے ساتھ سیاسی جوڑ توڑ کرنے والا واحد کھلاڑی جہانگیر ترین بھی نہیں ہے۔ عمران خان کے اردگرد لوگوں کو دیکھیں ان کا سیاسی تجربہ دیکھیں تو آپ کو سب کچھ خود بہ خود سمجھ آجائے گی۔ان کھلاڑیوں کا انیس سو ترانوے میں یہ حال تھا کہ ان کے لیئے وزیر اعظم ہونے کے باوجود پنجاب میں ان کے ملاقاتیوں تک کو تنگ کیا جاتا تھا گورنر چوہدری الطاف حسین نے ان کے لیئےپنجاب میں زمین تنگ کر دی تھی۔ اور یہ رینجرز کی مدد لینے پر مجبور ہوگئے ۔ سندھ پنجاب کی ٹریفک بند کرنے ، بلوچستان گیس بند کرنےاور اس وقت کا صوبہ سرحد اور آج کا ۔۔ کے پی کے ۔۔ وفاق کی بجلی بند کرنے کی دھمکی دے رہا تھا۔جبکہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپوزیشن کی آل پارٹی کانفرنس کے ساتھ مل کر لانگ مارچ کا اعلان کیا ہوا تھا۔ویسے لانگ مارچ کا اعلان تو پی ڈی ایم نے بھی کیا ہوا ہے۔سپریم کورٹ سے حکومت کی بحالی کے بعد سیدہ عابدہ حسین جوامریکہ میں پاکستان کی سفیر تھی نے ایک با خبر امریکی ذمہ دار سے یہ کہہ دیا کہ سیاسی استحکام کا راستہ ہموار ہو چکا ہےجس پر اس نے کہا کہ نہیں آپ لوگ ایک مڈ ٹرم انتخاب کی طرف بڑھ رہے ہیں۔عابدہ حسین کے مطابق اس وقت ایسی بات کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔بے نظیر کے لانگ مارچ کے اعلان اور صوبوں میں کھینچا تانی کی وجہ سےملک میں عجیب کشمکش کی صورتحال تھی، مارشل لا کی آوازیں آ رہی تھی ۔۔کور کمانڈر کانفرنس کے بعد اس وقت کے آرمی چیف جنرل وحید کاکڑ نے فیصلہ کیا کہ جو بھی ہو گا آئین کے مطابق ہو گا۔ اور پھر سارے فریقین کو بیٹھایا گیا۔ بے نظیر بھٹو سے پوچھا گیا کہ آپ کیوں لانگ مارچ کرنا چاہتی ہیں انہوں نے نئے انتخابات کا مطالبہ کیا جسے فوج نے مان لیا اور اس کے بعد وزیر اعظم اور صدر کو بھی فوج نے ہی استعفی دے کر نئے الیکشن کروانے کا پیغام دیا اور دونوں نے استعفی دے دیا۔اور یہ کام اعتماد کا ووٹ لینے کے چند ہی ہفتوں میں ہوگیاآج ہم حالات پر نظر ڈالیں تو پی ڈی ایم کا اپوزیشن آلائنس موجود ہے۔پنجاب میں تحریک انصاف کے لیئے کسی بھی وقت نمبر گیم کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے
    وفاق میں حکومت اتحادیوں کے سر پر ہے۔بظاہرایمپائر نیوٹرل ہو چکے ہیں اور نوے کی دھائی کی طرح درمیانی راستہ نکالنے میں تمام فریقین کی مدد کرنے کے لیئے تیار ہیں۔ اب دیکھتے ہیں حالات کس رخ کروٹ لیتے ہیں۔
    آئندہ تک کے لیئے اجازت دیں اللہ حاٖفظ

  • آب حیات حقیقت میں ہے کہاں ؟ کیا اسے پینے والا تا قیامت زندہ رہتا ہے ؟ تہلکہ خیز انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    آب حیات حقیقت میں ہے کہاں ؟ کیا اسے پینے والا تا قیامت زندہ رہتا ہے ؟ تہلکہ خیز انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    آب حیات حقیقت میں ہے کہاں ؟ کیا اسے پینے والا تا قیامت زندہ رہتا ہے ؟ تہلکہ خیز انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ تاریخ میں ایسے بہت سے افراد موجود ہیں جنہوں نے پوری نہیں تو آدھی دنیا پرحکومت ضرور کی ہے جن میں سکندر اعظم اور چنگیز خان کا نام سر فہرست ہے لیکن فاتح اعظم اور اس جیسی فکر کے حامل دیگر افراد ایک دن شاہانہ تخت وتاج اور جاہ و جلال چھوڑ کر ہمیشہ کے لئے رخصت ہو گئے۔ لہٰذا فکر انسانی اس طرف مبذول ہوئی کہ موت سے کس طرح چھٹکارا حاصل کیا جائے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں جہاں مختلف مذاہب و مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنے علم ،عقیدےاور کشف و مجاہدے سے اس خواہش کی تکمیل میں جدوجہد کی۔ وہاں آب حیات کا حصول بھی اولین ترجیح رہا۔آج میں آپکو بتاوں گا کہ آب حیات کی حقیقت کیا ہے؟ ۔ بعض لوگ تو اس کو افسانے کے علاوہ کچھ نہیں سمجھتے۔ اس اختلاف کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ آبِ حیات کا تذکرہ نہ تو کلام اللہ کی کسی آیت میں ہے اور نہ ہی کلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کسی روایت میں ہے۔۔ ہاں البتہ کچھ مفسرین نے سورہ کہف کی ان آیات کی تفسیر کرتے ہوئے آبِ حیات کے بارے میں بات کی ہے، جن میں حضرت ذوالقرنین کے سفر کا تذکرہ ہے۔۔ سورۃ کہف کی آیات 61 تا 66 میں ارشاد ہؤا ہے۔ موسٰیؑ کو حکم ہؤا کہ ہمارا ایک بندہ ہے جو تجھ سے بھی زیادہ عالم ہے۔ موسٰیؑ نے عرض کی پروردگار میں اس تک کیسے پہنچوں حکم ہؤا جہاں دو دریا ملتے ہیں وہاں۔ ساتھ ہی یہ حکم بھی ملا کہ اپنے ساتھ ایک مچھلی نمک آلودہ لے لیں۔ جہاں وہ مچھلی گم ہو جائے وہیں ہمارا وہ بندہ ملے گا۔۔ چنانچہ جب موسٰیؑ وہ جگہ جہاں روم و فارس آپس میں ملتے ہیں میں ’’نہر حیات‘‘ کے نزدیک پہنچے تو وہیں ایک چٹان کے قریب کچھ دیر آرام کرنے کی غرض سے لیٹ گئے۔ مچھلی آپکے ساتھی یوشع بن نون کی زنبیل میں تھی۔ پانی کے قطرے جیسے ہی اس پر پڑے وہ بحکم خدا زندہ ہو کرپانی میں غوطہ زن ہو گئی اور ایک سوراخ کے ذریعے سرنگ پانی میں اترتی چلی گئی۔ جب حضرت موسٰیؑ یہاں سے روانہ ہو کر کچھ دور گئے تو یوشع سے کہا مجھے بھوک لگی ہے۔ وہ مچھلی لے آؤ۔ یوشع نے کہا وہ مچھلی تو جہاں ہم نے آرام کیا تھا وہیں عجب انداز سے جست لگا کر پانی میں غائب ہو گئی۔ اورآپ کو بتانا مجھے شیطان نے بُھلا دیا۔موسٰیؑ نے کہا پس واپس چلو اسی جگہ کی ہمیں تلاش تھی۔ جب آپ واپس لوٹے تو دیکھا کہ ایک بندہ خدا وہاں بیٹھا ہؤا ہے۔ آپؑ نے بعد از سلام کہا کہ میں موسٰی ہوں بنی اسرائیل کا نبی۔ یہی خدا کا نیک بندہ حضرت خضرؑ تھے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے بعد کی تفصیل عام ہے کہ آپؑ نے حضرت خضرؑ کے ساتھ سفر کیا اور انہوں نے کہا کہ موسٰی جو عمل میں کروں آپ سوال نہیں کریں گے۔ میں اس واقعہ کی تفصیل میں نہیں جاتا ۔ ۔ یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ نہر حیات کے پانی میں خدا نے یہ تاثیر رکھی تھی کہ مردہ مچھلی پر اس پانی کے چھینٹے پڑنے سے وہ بحکم خدا زندہ ہو کر پانی میں غائب ہو گئی جبکہ حضرت خضرؑ تو مقیم وہیں تھے تو کیا آپ اس پانی سے مستفید نہیں ہوئے ہوں گے۔ یہ اللہ کی نشانیاں ہیں۔ بیشک جو وہ چاہتا ہےوہی ہوتا ہے۔۔ آب حیات دراصل فارسی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی آب بقاء آب دوام امرت ہے ۔ آب حیات کے متعلق یہ خاصیت بیان کی جاتی ہے کہ جو اسے پئے گا یا اس میں غسل کرے گا اسے حیات دائمی اور بقائے دوام حاصل ہو جائے گا ۔ یعنی وہ تاقیامت زندہ رہے گا ۔ آب حیات کا تصور بہت قدیم ہے۔ ۔ قبل از اسلام بھی فارسی ادب کی مختلف داستانوں میں اس کا تذکرہ ملتا ہے۔ ان میں ایک داستان آشیل (اخیلس) کی ہے۔۔ بعد از اسلام بھی آب حیات کا ذکر موجود ہے۔ اس دور کی داستانوں میں تین اشخاص کا ذکر کیا گیا ہے جو آب حیات یا نہرحیات تک پہنچے ان میں حضرت خضرؑ، حضرت الیاسؑ اور حضرت ذوالقرنینؑ شامل ہیں۔ مذکورہ داستانوں کے بیان کے مطابق آب حیات حضرت خضرؑ اور حضرت الیاسؑ کو نصیب ہوا اور یوں وہ حیات دائمی کے حامل ہو گئے۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ سمندر میں لوگوں کی رہنمائی کرناحضرت خضر کے ذمہ ہے اور اِلیاس علیہ السلام کی خشکی میں۔ ۔ حضرت خضر علیہ السلام حضرت ذوالقرنینؑ کے خالہ زاد بھائی، وزیراورعلمبردار رہے ہیں۔ یہ حضرت سام بن نوح علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ مختلف تواریخ میں یہ بیان ملتا ہے کہ حضرت ذوالقرنینؑ نے پرانی کتابوں میں پڑھا تھا کہ سام بن نوحؑ کی اولاد میں سے ایک شخص چشمہ حیات سے پانی پی لے گا تو اس کو موت نہ آئے گی۔ اس لئے حضرت ذوالقرنینؑ نے اس کی تلاش میں مغرب کا سفر کیا۔ حضرت ذوالقرنینؑ کے علم میں یہ بات آئی کہ چشمہ حیوان اندھیرے راستوں میں موجود ہے، جسے آج سائنس ’ بلیک ہول‘ کہتی ہے اور وہاں تین سو ساٹھ چشمے ہیں لہٰذا ذوالقرنینؑ نے اپنے لشکر سے تین سو ساٹھ افراد منتخب کئے اور ہر ایک کو ایک، ایک مچھلی دے کر خضرؑ کی سربراہی میں روانہ کیا ۔ تمام لوگوں کو یہ ہدایات دی گئیں کہ ہر فرد اپنی مچھلی کے ساتھ چشمے میں اتر جائے اور واپس آکر اپنی،اپنی مچھلی ظاہر کرے ۔ کافی دشواری و محنت کے بعد آخر کار یہ افراد ان چشموں تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ جب واپس آئے تو حضرت ذوالقرنینؑ نے کہا کہ سب اپنی مچھلی جمع کرادیں۔ چنانچہ سب نے اپنی مچھلی ان کے سامنے پیش کردی سوائے حضرت خضرؑ کے۔ ذوالقرنینؑ نے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا میں جب چشمے میں اترا تو مچھلی میرے ہاتھ سے نکل کر پانی میں چلی گئی۔ میں نے غوطہ لگا کر اسے پکڑنے کی بہت کوشش کی مگر ناکام رہا۔ حضرت ذوالقرنینؑ نے کہا کہ وہ پانی آپ کے مقدر میں تھا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ۔ حضرت خضرؑ جہاں بیٹھتے تھے وہاں آپ کی برکت سے ہری ہری گھاس اُگ جاتی تھی اس لئے لوگ ان کو ”خضر” کہنے لگے۔آپ بہت ہی عالی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور آپ کے آباؤ اجداد بادشاہ تھے۔۔ اسی طرح تفسیر خازن میں ہے کہ ۔اکثر عُلَماء اس پر ہیں اور مشائخِ صوفیہ و اصحابِ عرفان کا اس پر اتفاق ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام زندہ ہیں ۔۔ شیخ ابو عمرو بن صلاح نے اپنے فتاوٰی میں فرمایا کہ حضرت خضر جمہور عُلَماء و صالحین کے نزدیک زندہ ہیں، یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت خضر و الیاس دونوں زندہ ہیں اور ہر سال زمانۂ حج میں ملتے ہیں۔۔ تفسیر صاوی میں ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے بھی مشرف ہوئے ہیں۔۔ اسی طرح حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی ان کی ملاقات ثابت ہے۔ اور حضرت خضر علیہ السلام نے ان کو نصیحت بھی فرمائی تھی۔ کہ اے عمر! رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس بات سے بچنا کہ تو ظاہر میں تو خدا کا دوست ہو اور باطن میں اس کا دشمن کیونکہ جس کا ظاہر اور باطن مساوی نہ ہو تو منافق ہوتا ہے اور منافقوں کا مقام درک اسفل ہے ۔یہ سن کر عمربن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہاں تک روئے کہ آپ کی داڑھی مبارک تر ہو گئی ۔ ۔ جبکہ تفسیر صاوی کے مطابق حضرت ذوالقرنینؑ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے دست حق پرست پر اسلام قبول کر کے مدتوں اُن کی صحبت میں رہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کو کچھ وصیتیں بھی فرمائی تھیں۔ ۔ تفسیر ابن کثیر میں بھی ازراقی کے حوالے سے یہ روایت ملتی ہے کہ ذوالقرنینؑ حضرت ابراہیؑم کے دور میں تھے اور انہوں نے ابراہیؑم کے ہمراہ خانہ کعبہ کا طواف بھی کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خضرؑ بھی ابراہیؑم کے دور کے ہیں۔۔ جبکہ ایک محتاط اندازے کے تحت حضرت ابراہیؑم اور حضرت موسٰیؑ کے درمیان 600 سال سے زیادہ کا فاصلہ ہے۔ ان تمام حوالہ جات سے یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ حضرت خضرؑکو یا توعمر طولانی دی گئی تھی یا پھر وہ بحکم خدا بقید حیات ہیں۔ واللہ اعلم۔

  • پی ٹی آئی کے کس سینیٹر کو” آفر” ہوئی؟ وزیراعظم نے اہم انکشاف کر دیا

    پی ٹی آئی کے کس سینیٹر کو” آفر” ہوئی؟ وزیراعظم نے اہم انکشاف کر دیا

    چیئرمین سینیٹ کے الیکشن کے لئے پی ٹی آئی کے کس کس سینیٹرز کو آفر ہو چکی؟ وزیراعظم نے بتا دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت پارٹی ترجمانوں کا اجلاس ختم ہو گیا

    اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم نے جس خدشے کا اظہار کیا تھا سینیٹ الیکشن میں وہی ہوا،قوم کوحقائق سے آگاہ کریں،اپوزیشن نے پیسہ چلایا اوروہ اسلام آباد کی سیٹ جیت گئے،ماضی میں بھی یہ لوگ پیسے کے بل بوتے پر ایسا کرتے تھے،یہ پیسے سے پہلے پاور میں آتے ہیں پھر وہی پیسہ خرچ کرتے ہیں

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کا کردارمتنازع رہا،ڈسکہ الیکشن میں بھی الیکشن کمیشن نے یہی کیا، گیلانی نےاخلاقیات کی دھجیاں اڑائیں، قوم ان کی حرکتیں دیکھ رہی ہے، چیرمین سینیٹ کے انتخاب کیلئے ابھی سے ہمارے سینیٹرزکو آفرز آنا شروع ہو گئی ہیں،مجھے پتا ہے کس سینیٹرکو کیا آفر آئی،پیسا صرف اسلام آباد نہیں خیبر پختونخوا میں بھی چلا،

    لانگ مارچ کی تیاری،ہو سکتا ہے ضرورت ہی پیش نہ آئے، مریم نواز

    اک زرداری سب پر بھاری، سینیٹ الیکشن سے قبل بڑا سرپرائیز دے دیا

    رحمان ملک ان ایکشن، الزامات پر سینتھیا کو 50 ارب ہرجانے کا دوسرا نوٹس بھجوا دیا

    ق لیگ تو صرف سامنے تھی،حکومت ختم کرنے کی یقین دہانی کس نے کروائی تھی، مولانا فضل الرحمان

    مولانا کے دھرنے کے وقت پرویزالہیٰ نے وزیراعظم کو کیا کہا تھا؟ چودھری شجاعت نے کیا اہم انکشاف

    اتحادی جماعت کی علیحدگی،وزیراعظم نے منانے کا ٹاسک دے دیا

    بہت ہو گیا پی ڈی ایم کا کھیل تماشا، وزیراعظم نے بڑا فیصلہ کر لیا

    یہ نہیں کہتا گھبرانا نہیں لیکن…لانگ مارچ کی بجائے کس کی ضرورت ہے، چودھری پرویز الہیٰ میدان میں آ گئے

    پی ڈی ایم کا لانگ مارچ، اجلاس میں ایسی سفارشات پیش کہ شیخ رشید بھی دنگ رہ گئے

    پی ڈی ایم اجلاس، لانگ مارچ پر پیپلز پارٹی نے "یوٹرن” لے لیا

    کون ہو گا چیئرمین سینیٹ کا امیدوار؟ نواز شریف نے پی ڈی ایم اجلاس میں کس کو نامزد کر دیا؟

  • ڈسکہ ضمنی الیکشن، حمزہ شہباز کی زیر صدارت اجلاس میں بڑے فیصلے

    ڈسکہ ضمنی الیکشن، حمزہ شہباز کی زیر صدارت اجلاس میں بڑے فیصلے

    ڈسکہ ضمنی الیکشن، حمزہ شہباز کی زیر صدارت اجلاس میں بڑے فیصلے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حمزہ شہباز کی زیر صدارت ڈسکہ انتخابات پر اہم اجلاس ختم ہو گیا

    اجلاس میں رانا ثناءاللہ، احسن اقبال اور خواجہ سعد رفیق نے شرکت کی،اجلاس میں نوشین افتخار کو بھی آن بورڈ لیا گیا، حمزہ شہباز نے انتخابی مہم میں خود بھی اترنے کا فیصلہ کیا، حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ یہ انتخاب اہم نوعیت کا ہے بھاری مارجن سے جیتنا ضروری ہے،

    اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ڈسکہ ضمنی الیکشن کے لئے اراکین اسمبلی کی ڈیوٹیاں لگائی جائیں وہ حلقے میں مہم چلائیں، ڈسکہ کا الیکشن جیتنا ایک چیلنج ہے، کسی صورت یہ سیٹ ہارنی نہیں چاہئے ،اجلاس میں رانا ثناء اللہ،احسن اقبال اور ارمغان سبحانی کو خصوصی ٹاسک سونپ دیا گیا

    تحریک انصاف نے این اے 75 ڈسکہ کے ضمنی الیکشن سے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا

    تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اپنایا کہ این اے 75 ڈسکہ میں دوبارہ انتخابات کرانے کے حکم کا کوئی جواز نہیں، دوبارہ الیکشن کا مطلب حلقے کے عوام کو دوبارہ لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کا سامنا کرانا ہے، یہ بھی استدعا کی گئی کہ الیکشن کمیشن کا ضمنی الیکشن کالعدم قراردے کرنیا الیکشن کرانے کا فیصلہ کالعدم قراردیا جائے اور 19 فروری کے این اے 75 ڈسکہ کے انتخابی نتائج جاری کرنے ، کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دیا جائے۔

    تحریک انصاف کے امیدوار علی اسجد ملہی نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے اور مؤقف اپنایا کہ الیکشن کمیشن نے دستیاب ریکارڈ کا درست جائزہ نہیں لیا اس لیے کمیشن کا فیصلہ حقائق کے برعکس ہے۔مخالفین پہلے ہی ضمنی الیکشن میں شکست سے دوچار ہوچکے ہیں۔علی اسجد ملہی نے اپیل میں ن لیگ کی امیدوار نوشین افتخار ،الیکشن کمیشن اور دیگر کو فریق بنایا ہے۔

    پولنگ ایجنٹس پولنگ بیگ سمیت لا پتہ ہوئے، عمران خان پر مقدمہ ہونا چاہئے،مریم اورنگزیب

    این اے 75 کے337 پولنگ سٹیشنزکے نتائج بدلے یا نہیں؟ دوران سماعت اہم انکشاف

    این اے 75،پی ٹی آئی کی استدعا ، دوران سماعت چیف الیکشن کمشنر کا بڑا اعلان

    ہمارے لوگ شہید ہوئے، کن شہروں سے غنڈوں کو لایا گیا،علی اسجد ملہی کا اہم انکشاف

    ڈی ایس پی نے مجھ پر تشدد کیا اور میری چادر کھینچ لی،یہ لڑائی میری نہیں بلکہ، نوشین افتخار برس پڑی

    ن لیگ جو الیکشن جیتے وہ ٹھیک ہے، جو ہارے وہاں دھاندلی،شبلی فرازبرس پڑے

    معاملہ خراب کرنے کا الزام نہ لگائیں تحقیقات کریں،رانا ثناء اللہ کا چیلنج

    ڈسکہ میں جو کچھ ہوا ہے اس پر مٹی نہ ڈالی جائے،ن لیگی وکیل کے دلائل

    کیا 20 پولنگ کے علاوہ باقی پولنگ اسٹیشن پر آپکی امیدوار جیت نہیں رہی؟ چیف الیکشن کمشنر کا سوال؟

    این اے 75 ضمنی انتخابات،کون ٹھہرا کامیاب ؟ الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا

    قبل ازیں این اے 75 انتخابات کالعدم قراردے دیئے گئے، این اے 75 میں دوبارہ الیکشن ہوں گے،18 مارچ کو دوبارہ اس حلقے میں انتخابات ہوں گے الیکشن کمیشن نے این اے 75ڈسکہ پر دوبارہ انتخابات کا حکم دے دیا پورے حلقے میں انتخابات سے متعلق مسلم لیگ ن کی درخواست منظورکر لی گئی ،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ پولنگ اسٹیشنز پر فائرنگ اور قتل و غارت ہوئی، این اے 75 ضمنی انتخابات میں ماحول خراب کیا گیا،

  • وزیراعظم کو کیا اعتماد کے 178 ووٹ ملے؟ حقیقت سامنے آ ہی گئی

    وزیراعظم کو کیا اعتماد کے 178 ووٹ ملے؟ حقیقت سامنے آ ہی گئی

    وزیراعظم کو کیا اعتماد کے 178 ووٹ ملے؟ حقیقت سامنے آ ہی گئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے بلائے گئے اجلاس کا معاملہ،کتنے اراکین نے شرکت کی حقیقت سامنے آ ہی گئی

    قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے 6 مارچ کے اجلاس میں موجود ارکان کی حاضری جاری کردی ،قومی اسمبلی سیکرٹریٹ سے جاری ہونے والے اعلامیہ کے مطابق 6 مارچ کو ایوان میں 181 ارکان موجود تھے، اپوزیشن کے مولانا اکبر چترالی اور محسن داوڑ بھی حاضر تھے، ایوان میں اسپیکر قومی اسمبلی سمیت حکومت کے 179 ارکان موجود تھے،

    سینیٹ الیکشن میں حفیظ شیخ کی شکست کے بعد وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا اعلان کیا تھا، وزیراعظم نے اسمبلی سے 178 ووٹ لئے تھے، اپوزیشن جماعتوں نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا ، تا ہم بعد میں یہ بات کہی گئی کہ ایوان میں 178 اراکین موجود ہی نہیں تھے تو 178 ووٹ کیسے بن گئے جس کی وجہ سے آج قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کو وضاحت اور حاضری جاری کرنا پڑ گئی

    ایک کے بعد ایک وار،اب کون ہو گا اپوزیشن کا نیا شکار،مبشر لقمان کے انکشاف سے پی ٹی آئی میں کھلبلی مچ گئی

    وزیراعظم کا اعتماد کا ووٹ، اپوزیشن نے اراکین اسمبلی کو اہم ہدایات دے دیں

    کپتان کا کمال، مریم اور بلاول کی راہیں پھر جدا؟

    اور پھر اس بار بلاول مان ہی گئے، ایسا فیصلہ کیا کہ مولانا فضل الرحمان اسلام آباد چھوڑ گئے

    سینیٹ انتخابا ت کے دوران ووٹ کیسے کاسٹ کیا تھا؟ زرتاج گل نے ایک بار پھر بتا دیا

    سینیٹ انتخابات میں کیا اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل تھی؟ شیخ رشید نے دیا جواب

    وزیراعظم میں ہمت ہے تو یہ کام کریں، گیلانی نے بڑا چیلنج دے دیا

    وزیراعظم سے اتحادی جماعتوں کے وفد کی ملاقات،کیا ہوئی بات؟

    اعتماد کا ووٹ تسلیم نہیں کرتے، تمہیں گلی کوچوں میں چلنے کی جگہ نہیں ملے گی،مولانا فضل الرحمان

    اعتماد کا ووٹ پڑنے کے بعد وزیراعظم کو ایک بار پھر غریبوں کا احساس ہو گیا

  • کون ہو گا چیئرمین سینیٹ کا امیدوار؟ نواز شریف نے پی ڈی ایم اجلاس میں کس کو نامزد کر دیا؟

    کون ہو گا چیئرمین سینیٹ کا امیدوار؟ نواز شریف نے پی ڈی ایم اجلاس میں کس کو نامزد کر دیا؟

    کون ہو گا چیئرمین سینیٹ کا امیدوار؟ نواز شریف نے پی ڈی ایم اجلاس میں کس کو نامزد کر دیا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مولانا فضل الرحمان کی زیرصدارت پی ڈی ایم کااجلاس اسلام آباد ہوا

    اجلاس میں نائب صدر مسلم لیگ ن مریم نواز،بلاول بھٹو،.شاہد خاقان عباسی ،شیری رحمان اجلاس میں موجود ہیں ،یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف اورفرحت اللہ بابرشریک ہوئے اجلاس میں چیئرمین سینیٹ کے نام پر مشاورت ہوئی،

    اجلاس میں بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ چار روز بعد چیئرمین سینیٹ کے انتخابات ہونا ہیں، ایجنڈے میں یہ معاملہ سرفہرست ہونا چاہیے، جمہوری قوتوں کویوسف رضا گیلانی کی جیت سے ایک امید ملی،ہم چاہتے ہیں کہ چیئرمین سینیٹ کا الیکشن جیت کرایک اور فتح اپنے نام کریں،پیپلزپارٹی پی ڈی ایم کے روڈ میپ کے ساتھ کمیٹڈ ہے،

    نواز شریف کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی سینیٹ چیئرمین کے لیے یوسف رضا گیلانی کا نام دے، مسلم لیگ ن پیپلزپارٹی کا ساتھ دے گی، جس کے بعد پی ڈی ایم نے یوسف رضا گیلانی کا نام چیئرمین سینیٹ کے لیے بطور امیدوار منظوری دیدی ،

    قبل ازیں وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے صادق سنجرانی کو دوبارہ چیئرمین سینیٹ بنانے کا اعلان کیا ہے،چیئرمین سینیٹ کی نشست پر صادق سنجرانی یوسف رضاگیلانی کا مقابلہ کریں گے ، یوسف رضا گیلانی کے الیکشن جیتنے کے بعد بلاول زرداری نے اعلان کیا تھا کہ یوسف رضا گیلانی ہی چیئرمین سینیٹ کے امیدوار ہوں گے،آصف زرداری بھی کہہ چکے ہیں کہ حکومت کو اب چیئرمین سینیٹ کے انتخابات میں سرپرائیز دیں گے

    سیاسی مبصرین کے مطابق آئندہ مرحلے میں جب چیئرمین سینیٹ کا انتخاب ہو گا تو پی ڈیم ایم کے پاس اکثریت ہے اسکے باوجود اس وقت 6 سینیٹرز فیصلہ کن کردار ادا کریں گے جو آزاد ہیں، اگر وہ حکومتی کشتی پر سوار ہوئے تو حکومت چیئرمین سینیٹ بنا لے گی ، بصورت دیگر تحریک انصاف کو چیئرمین سینیٹ کے لئے بھی شکست کا سامنا کرنا پڑے گا

    نو منتخب اراکین سینیٹ 12 مارچ کو حلف اٹھائیں گے سینیٹ سیکرٹریٹ کے مطابق ریٹائر ہونے والے سینیٹرز کی مدت 11 مارچ کو ختم ہو جائے گی 12 مارچ کو صبح کے اوقات میں حلف اٹھائیں گے 12مارچ کو ہی دوپہر میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب ہو گا،

    لانگ مارچ کی تیاری،ہو سکتا ہے ضرورت ہی پیش نہ آئے، مریم نواز

    اک زرداری سب پر بھاری، سینیٹ الیکشن سے قبل بڑا سرپرائیز دے دیا

    رحمان ملک ان ایکشن، الزامات پر سینتھیا کو 50 ارب ہرجانے کا دوسرا نوٹس بھجوا دیا

    ق لیگ تو صرف سامنے تھی،حکومت ختم کرنے کی یقین دہانی کس نے کروائی تھی، مولانا فضل الرحمان

    مولانا کے دھرنے کے وقت پرویزالہیٰ نے وزیراعظم کو کیا کہا تھا؟ چودھری شجاعت نے کیا اہم انکشاف

    اتحادی جماعت کی علیحدگی،وزیراعظم نے منانے کا ٹاسک دے دیا

    بہت ہو گیا پی ڈی ایم کا کھیل تماشا، وزیراعظم نے بڑا فیصلہ کر لیا

    یہ نہیں کہتا گھبرانا نہیں لیکن…لانگ مارچ کی بجائے کس کی ضرورت ہے، چودھری پرویز الہیٰ میدان میں آ گئے

    پی ڈی ایم کا لانگ مارچ، اجلاس میں ایسی سفارشات پیش کہ شیخ رشید بھی دنگ رہ گئے

    پی ڈی ایم اجلاس، لانگ مارچ پر پیپلز پارٹی نے "یوٹرن” لے لیا

  • پی ڈی ایم اجلاس، لانگ مارچ پر پیپلز پارٹی نے "یوٹرن” لے لیا

    پی ڈی ایم اجلاس، لانگ مارچ پر پیپلز پارٹی نے "یوٹرن” لے لیا

    پی ڈی ایم اجلاس، لانگ مارچ پر پیپلز پارٹی نے "یوٹرن” لے لیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پی ڈی ایم کا اجلاس مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت جاری ہے

    پی ڈی ایم سربراہی اجلاس سے سابق صدرآصف زرداری نے ابتدائی خطاب کیا ،آصف زرداری نے سید یوسف رضا گیلانی کے سینیٹ الیکشن جیتنے پر سب کو مبارکباد دی

    پی ڈی ایم اجلاس میں لانگ مارچ کے حوالہ سے سفارشات پیش کر دی گئیں تا ہم اب باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی لانگ مارچ سے پیچھے ہٹ رہی ہے، پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ سینیٹ الیکشن ہم جیت چکے، سینیٹ میں اکثریت ہے، یوسف رضا گیلانی چیئرمین سینیٹ بن جائیں گے تو پھر ہم ان ہاؤس تبدیلی لائیں گے اور حکومت کا راستہ روکیں گے، جمہوری طریقے سے ہم حکومت کو نکالیں لانگ مارچ سے کچھ نہیں ہونا، عمران خان نے بھی تو لانگ مارچ کیا تھا جبکہ مولانا فضل الرحمان نے بھی تو آزادی مارچ کیا تھا اسکا نتیجہ کچھ نہیں نکلا

    دوسری جانب ن لیگ کا موقف ہے کہ لانگ مارچ اگر یوسف رضا گیلانی چیئرمین سینیٹ کا الیکشن جیت جاتے ہیں تو پھر بھی ہونا چاہئے،ن لیگ یوسف رضا گیلانی کے جیتنے کی صورت میں بھی لانگ مارچ سے پیچھے نہیں ہٹے گی،

    پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ چیئرمین سینیٹ کے الیکشن کے بعد دھرنے کی جگہ کیلئے پیپلزپارٹی 12 مارچ کے بعد فیصلہ کرنےکی درخواست کرسکتی ہے،دھرنے کے دوران اسمبلیوں سے استعفے دینے کا آپشن رکھنے کی تجویز دی جائے گی،

    لانگ مارچ کیلئے بنائی جانے والی خصوصی کمیٹی کی سفارشات اجلاس میں پیش کر دی گئیں،کمیٹی نے سفارش کی کہ لانگ مارچ 26 مارچ کو کراچی سے ایک عوامی اجتماع کےساتھ شروع ہوگا، تمام جلوس 30 مارچ کی سہ پہر 3 بجے تک اسلام آباد پہنچیں گے، تمام جماعتیں زیادہ سے زیادہ افراد کو لانے کیلئے متحرک ہوں،شرکا کے استقبال کیلئے فیض آباد پر مرکزی کیمپ لگایا جائے گا،روات چوک، 26 نمبر چونگی، اور بھارہ کہو میں کیمپ لگایا جائے گا،

    لانگ مارچ کی تیاری،ہو سکتا ہے ضرورت ہی پیش نہ آئے، مریم نواز

    اک زرداری سب پر بھاری، سینیٹ الیکشن سے قبل بڑا سرپرائیز دے دیا

    سینیٹ الیکشن کے بعد لانگ مارچ ہوگا، عوام تیاری کریں،بلاول کا اعلان

    پی ڈی ایم کی تمام جماعتیں اپنے جلوسوں کو الگ الگ منظم کریں گی، تمام جماعتیں اپنے اخراجات برداشت کریں گی،پی ڈی ایم کی سینئرقیادت کو فوری چاروں صوبوں کا دورہ کرنا چاہیے، لوگوں کو متحرک کرنے کیلئے ایک مشترکہ نظم تیارکیا جائے، لانگ مارچ کیلئے مختلف کمیٹیاں فوری طور پر تشکیل دی جائیں، مختلف کمیٹیوں میں کنٹرول روم، میڈیا اور تشہیر،استقبالیہ کمیٹی شامل ہو، سیکیورٹی،سہولیات،لیگل،فنانس، پروگرام، فوڈ اورمیڈیکل کمیٹیز بنائی جائیں، دھرنے کے مقام پر شرکا کے پہنچنے سے قبل انتظامات کیے جائیں،دھرنا اس وقت تک جاری رہےجب تک کہ مقصد حاصل نہیں ہوتا،

    رحمان ملک ان ایکشن، الزامات پر سینتھیا کو 50 ارب ہرجانے کا دوسرا نوٹس بھجوا دیا

    ق لیگ تو صرف سامنے تھی،حکومت ختم کرنے کی یقین دہانی کس نے کروائی تھی، مولانا فضل الرحمان

    مولانا کے دھرنے کے وقت پرویزالہیٰ نے وزیراعظم کو کیا کہا تھا؟ چودھری شجاعت نے کیا اہم انکشاف

    اتحادی جماعت کی علیحدگی،وزیراعظم نے منانے کا ٹاسک دے دیا

    بہت ہو گیا پی ڈی ایم کا کھیل تماشا، وزیراعظم نے بڑا فیصلہ کر لیا

    یہ نہیں کہتا گھبرانا نہیں لیکن…لانگ مارچ کی بجائے کس کی ضرورت ہے، چودھری پرویز الہیٰ میدان میں آ گئے

    پی ڈی ایم کا لانگ مارچ، اجلاس میں ایسی سفارشات پیش کہ شیخ رشید بھی دنگ رہ گئے

  • اب نہیں تو کبھی نہیں، گیلانی کے خلاف پی ٹی آئی نے بڑا قدم اٹھا لیا

    اب نہیں تو کبھی نہیں، گیلانی کے خلاف پی ٹی آئی نے بڑا قدم اٹھا لیا

    اب نہیں تو کبھی نہیں، گیلانی کے خلاف پی ٹی آئی نے بڑا قدم اٹھا لیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین سینیٹ کے امیدوار سید یوسف رضا گیلانی کے خلاف پی ٹی آئی نے ایک بار پھر ایک اور درخواست دے دی ہے

    الیکشن کمیشن آف پاکستان میں پی ٹی آئی کی جانب سے دی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ یوسف رضا گیلانی چیئرمین سینیٹ کے امیدوار ہیں،چیئرمین سینیٹ کا انتخاب 12 مارچ کو شیڈول ہے، الیکشن کمیشن نے 11 مارچ کو کیس مقرر کر رکھا ہے،مناسب ہوگا وقت ضائع کیے بغیر کیس کی فوری سماعت کی جائے،پہلی بار ہوا کہ چیئرمین سینیٹ کا امیدوار انتخابی بدعنوانی کا مرتکب قرار پایا، فوری سماعت کی درخواست فرخ حبیب، کنول شوذب اور ملیکہ بخاری نے دائر کی

    قبل ازیں معروف قانوندان اظہر صدیق ایڈووکیٹ کے توسط سے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کی گئی،الیکشن کمیشن آف پاکستان میں دائر درخواست میں اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے موقف اپنایا کہ دھاندلی کے الزام میں مریم نواز اور علی حیدر گیلانی کیخلاف کارروائی کی جائے، سپریم کورٹ کی واضح ہدایات کے باوجود انتخابات میں جدید ٹیکنالوجی استمعال کیوں نہیں کی گئی،

    سینیٹ میں تحریک انصاف اکثریتی پارٹی بن گئی،ن لیگ کونسے نمبر پر؟

    سینیٹ میں شکست کے بعد پی ٹی آئی حکومت کا اخلاقی جواز ختم،سابق وزیراعظم

    کون ہو گا اگلا چیئرمین سینیٹ؟ اپوزیشن نے اعلان کر دیا

    سینیٹ میں شکست کا ذمہ دار کون؟ وزیراعظم نے سب کو بلا لیا

    ایک کے بعد ایک وار،اب کون ہو گا اپوزیشن کا نیا شکار،مبشر لقمان کے انکشاف سے پی ٹی آئی میں کھلبلی مچ گئی

    کیا کپتان انتخابات سے خوف زدہ ہیں؟ وعدہ پورا کریں، بلاول

    آصف زرداری کا نواز شریف،مولانا فضل الرحمان سے رابطہ، بڑا فیصلہ کرلیا

    چیئرمین سینیٹ کے انتخاب پر بھی حکومت کو بڑا سرپرائز دیں گے،زرداری متحرک

    ن لیگ کو پنجاب اور پیپلز پارٹی کو سندھ تک محدود کردیا ،ترجمان اسلام آباد سیٹ ہارنے کے باوجود نہال

    یوسف رضا گیلانی کے مقابلے میں چیئرمین سینیٹ کے لئے وزیراعظم نے امیدوار کا کیا اعلان

    چیئرمین سینیٹ کا الیکشن، اگلا بڑا معرکہ کب ہو گا؟ تاریخ کا اعلان کر دیا گیا

    وزیراعظم سے آرمی چیف کے بعد ایک اور اہم شخصیت کی ملاقات، لاہور سے کس کو ہنگامی طور پر طلب کر لیا گیا؟

    ڈر اور کسی خوف میں حکومت نہیں کر سکتا،وزیراعظم کا دبنگ اعلان

    سینیٹ انتخابات اور اعتماد کے ووٹ کے بعد کابینہ میں رد و بدل کا امکان،ایم کیو ایم کی بھی "ڈومور”

    درخواست میں مزید کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل نہ کرنا توہین عدالت ہے۔ علی حیدر گیلانی کی ویڈیو اور مریم نواز کا بیان دھاندلی کا ثبوت ہے، ویڈیو اور بیان پر الیکشن ایکٹ کے تحت کارروائی کر کے سیکشن 167، 168، 170 کی خلاف ورزی پر مقدمہ درج کیا جائے،

    درخواست میں مزید کہا گیا کہ انتخابات میں دھاندلی قابل دست اندازی جرم ہے، اس کی انکوائری کی جائے، استدعا ہے کہ یوسف رضا گیلانی کا بطور سینیٹر کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری نہ کیا جائے.

    مریم نواز نے یوسف رضا گیلانی کو مشکل میں پھنسا دیا