باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کے وار جاری ہیں،ملک بھر میں کورونا وائرس سے 24 گھنٹے کے دوران 40افراد جاں بحق ہوئے
ملک بھر میں کورونا سے جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد5ہزار639ہوگئی،گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک بھر میں کورونا کے ایک ہزار13 نئے کیسز رپورٹ ہوئے،ملک بھر میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد 2لاکھ 66ہزار96ہوگئی،
کرونا وائرس کے حوالہ سے بنائے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایک ہزار 13 نئے مریض سامنے آئے، پنجاب میں 90 ہزار 444، سندھ میں ایک لاکھ 13 ہزار 553، خیبر پختونخوا میں 32 ہزار 243، بلوچستان میں 11 ہزار 441، گلگت بلتستان میں ایک ہزار 868، اسلام آباد میں 14 ہزار 625 جبکہ آزاد کشمیر میں ایک ہزار 922 مریض ہیں
پاکستان میں اب تک 17 لاکھ 58 ہزار 551 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 17 ہزار 783 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 2 لاکھ 8 ہزار 30 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ ایک ہزار 481 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے،
پاکستان میں کورونا سے ایک دن میں 40 افراد جان کی بازی ہار گئے جس کے بعد وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 5 ہزار 625 ہوگئی۔ پنجاب میں 2 ہزار 90، سندھ میں 2 ہزار 19، خیبر پختونخوا میں ایک ہزار 147، اسلام آباد میں 160، بلوچستان میں 133، گلگت بلتستان میں 43 اور آزاد کشمیر میں 47 مریض جاں بحق ہو چکے ہیں
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ لوگ پوچھتے ہین کہ انڈیا اور چائنہ کا جو تنازعہ ہے اسکی وجہ کیا ہے، دو سوال پوچھتے ہیں کہ ہو بھی رہا ہے یا اسکو بڑھا چڑھا کر بیان کر رہے ہیں کیونکہ جب پاکستان کا میڈیا دیکھتے ہیں تو مین سٹریم میڈیا پر خبریں نظر نہیں آتیں، چائنہ حکومت ویسے ہی باتیں نہیں کرتے وہ زیادہ بیان نہیں دیتے جو کہنا ہوتا ہے ایک ایمبسڈر نے کہہ دیا تھا کہ کیا ہوا ہے اور کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ لداخ ایک ایریا ہے کئی سو کلومیٹر بلکہ ہزار کلو میٹر کا، اس میں کشمیر، گلگت کی سائیڈ لگتی ہے، ارونا چل پردیش اسکا بارڈر کا ایریا لگتا ہے یہاں پر جو جھیل ہے اسکے کنارے انڈیا نے 250 کلو میٹر کی سڑک تعمیر کی تھی جس کا مقصد تھا کہ سیاچین کارگل تک انکی ڈائریکٹ رسائی ہو جائے،اور ایک لوجسٹک سپلائی ہو جائے تا کہ جو وہ تڑیاں دے رہے تھے کہ کشمیر کے بعد آزاد کشمیر پر حملہ کرنا ہے ، گلگت کا نام لے کر اجیت دیول نے کہا کہ ہم نے اسے انڈیا کا حصہ بنانا ہے، انہوں نے اسکے لئے پچھلے سال کوشش بھی کی،لیکن انکو منہ توڑ مار پڑی،ہماری ایئر فورس نے مارا، آرمی نے مارا پھر نیوی نے بھی انکو ذلیل کیا، جب انکی ایک سب میرین کو ڈی ٹیکت کیا،جب ہماری تینوں افواج سے وہ ذلیل ہوئے،5 جگہوں سے انہوں نے پاکستان پر حملہ کیا تھا انکا خیال تھا کہ ڈرا دھمکا لیں گے لیکن معاملہ الٹ ہو گیا
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب جو سی پیک بن رہا ہے،اس سے امریکہ کو بڑی تشویش ہے، اگر یہ مکمل ہو جاتا ہے اور گوادر تک چلا جاتا ہے اور گوادر پورٹ اسٹیبل ہو جاتا ہے تو چائنہ کے لئے سنٹرل ایشیا ری پبلک دستیاب ہیں،وہاں سب سے زیادہ اسکو سستی انرجی سورس، گیس، فیول ملنا ہے کیونکہ دنیا میں سب سے بڑا انرجی کا امپورٹر چائنہ ہے، امریکہ سمجھتا ہے کہ اگر چین اس میں کامیاب ہو جاتا ہے تو چینی پروڈکٹ عالمی منڈی میں مزید سستی ہو جائے گی،اس سے امریکی یورپی پروڈکٹ رہ جائیں گی، اس سے انڈیا نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور کہا کہ ہم نے انفراسٹرکچر بنا لیا ہے، ہم چائنہ کو ری پلیس کر سکتے ہیں، جس پر امریکہ نے انڈیا کے کندھے پر تھاپی رکھی،اور انڈیا نے منصوبہ یہ بنایا کہ ہم امریکہ کی وجہ سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل ممبر کی حیثیت سے آئیں گے،اور علاقے میں جگا بدمعاش بن جائیں گے. اس کے بدلے میں نڈین لداخ میں کشمیر کے بالکل قریب امریکن کو ایئر بیس دینا چاہ رہے تھے جس سے امریکی وہاں مضبوط ہوں،تو پورا سی پیک پروجیکٹ انکے سامنے تھا اور وہ کبھی سیف پھر نہیں رہنا تھا، چین کا اکنامک پروگریس کا منصوبہ کھٹائی میں پڑ جاتا اسلئے چین نے فوری طور پر یہ قدم اٹھایا
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ چین نے ایران کے ساتھ،نیپال،بھوٹان کے ساتھ تعلقات بنا لئے،مختلف جگہوں سے انہوں نے ہائی ویز بنا کر رکھنی ہے لیکن پاکستان پھر بھی اہم راہداری ہے انکے لئے، پاکستان انکے لئے پوری دنیا میں فزیکل کنٹریکٹی کے لئے واحد ملک ہے، اب انکو جو قیمت پڑ رہی ہے وہ تھرڈ ون پڑتی ہے، جب انڈیا نے یہ موو کیا تو چین نے اسے اپنی سالمیت پر حملہ سمجھا اور جب چین کو پتہ چلا کہ وہ انڈیا کو بیس دینا چاہتے ہیں تو وہ چائنہ کو قابل قبول نہیں تھا اور وہ آئے انڈین کو کٹ کر باہر پھینک دیا،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب جب انڈیا کی پوری دنیا میں رسوائی ہوئی تو پھر وہ بھاگنا شروع ہو گیا،کبھی روس میں جہاز لے رہا ہے، کبھی امریکہ سے کبھی رافیل کبھی میزائل لے رہا ہے، اس سال انڈیا دنیا کا سب سے زیادہ اسلحہ امپورٹ کرنے والا ملک بن گیا ہے، انڈیا کے دو ایکٹو دشمن ہیں ایک چائنہ اور دوسرا پاکستان اور یہ دونوں ایک ہیں، پوری دنیا کو پتہ ہے کہ پاکستان چائنہ کے ساتھ کھڑا ہے اور چین پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے اس میں کوئی شک نہیں،انڈیا ایک تیر سے دو شکار کر رہا تھا اب یہ تنازعہ بڑا ہو گیا، اگر گلوان وادی سے چائنہ پیچھے نہیں ہٹتا جو کل ہی چین نے انکار کر دیا ہے کہم فنگر فور سے پیچھے نہیں جا رہے پھر انڈیا نے 60 ہزار ٹروپس وہاں بھجوائے اور انفنٹری بریگیڈ کو وہاں موو کر رہے ہین انکو لگتا ہے کہ لڑ کر علاقہ لینا پڑے گا، اگر وہ نہیں لیتے تو اگلی گرمیوں سے پہلے پاکستان کے پاس سیاچین اور کارگل ہوں گے بغیر کوئی گولی چلائے، بغیر کسی لڑائی کے ،کیونکہ سپلائی کی چین وہاں ٹوٹ گئی ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دوسری طرف امریکہ انڈیا پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ جو تم نے نعرے مارے تھے اب پورا کر کے دکھاؤ، مودی کو اپنی حکومت بچانے کے لئے ،بہت مسائل ہیں، اقلیتوں کے ساتھ، کشمیر کے ساتھ کیا ہو رہا ہے کتنی دیر تک نظریں چھپا رکھین گے، مودی ملک کو معاشی اور دفاعی طور پر مضبوط نہیں کر سکتا تو ساری چیزیں لوگوں کو نظر آنا شروع ہو جائیں گی،مودی کی سروائیول کا مسئلہ ہو گیا ہے کہ وہ کسی طرح لڑائی کرے یا کچھ بھی کرے، اس نے پاکستان کا ایل او سی ہاٹ کر دیا ہے، پاکستان کے اوپر الزامات لگاتا رہتا ہے، پاکستان نے کیا کیا ہمارے ہاں جو دہشت گرد تنظیمیں اقوام متحدہ سے تھیں انکو بین کر دیا،انکے سنٹر چاہے وہ مرید کے میں ہوں یا کہیں اور انکو اپنے قبضے میں لے لیا، بہاولپور والوں کو بھی اپنے قبضے میں لے لیا، انکو مزید پابندی سخت کر دی، مزید 5 سال انہوں نے گرفتار کر لیا، پاکستان انکو موقع نہیں دے رہا، پاکستان جوابی کاروائی تو کر رہا ہے ،وہ کہتے ہیں کہ کلبھوشن یادیو سے قونصلر رسائی چاہئے پاکستان کہتا ہے آ جاؤ، وہ کہتے ہیں شیشہ ہٹا دو،یہ کہتے ہیں ہٹا دیا، وہ کہتے ہین کہ ریکارڈنگ ہٹا دو وہ بھی ہٹ گئی اسکے باوجود وہ ملتے ہیں نہیں،کلبھوشن چیختا ہی رہا کہ بات کر لو لیکن بھارتی قونصلر حکام نے اس سے بات تک نہیں کی
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان انکو موقع نہین دے رہا ، وہ ہمیں لڑائی میں ٹریپ کرنا چاہتے ہین ہم کہتے ہین کہ اپنے مسئلے خود حل کرو، نیپال، بھوٹان نے بھی آنکھیں دکھانا شروع کر دیں ،بنگلہ دیش کو بھی انکے ساتھ مسئلہ ہو گیا، انڈیا کے لئے اب کڑا وقت آ گیا ہے، اگلے ڈیڑھ ماہ میں مسئلہ حل نہیں کرتا ، کہنے کو تو اس نے ساٹھ ہزار فوجی وہاں پہنچا دیئے لیکن ڈیڑھ دو ماہ بعد جب وہاں موسم سرد ہونا ہے تو اس نے ان ساٹھ ہزار فوجیوں کو کھانا بھی دینا ہے،اوڑھنا بچھونا بھی دینا ہے، وردیاں بھی دینی ہین، اسی طرح تو فوجی نہیں رہ سکتے ورنہ وہ خود برف کا گولہ بن جائے گا، انڈیا بھاگ دوڑ کر اسلحہ کی مقدار کر رہا ہے کہ ہم لمیٹڈ جنگ کریں اور کسی طریقے سے 30 سے 50 میل کو قبضے مین لیں اور باقی پر پھر بات ہوتی رہے گی، اسلئے پورے خطے میں بہت خطرہ ہے، انڈیا، چائنہ، پاکستان نیوکلیر پاور ہے، اگر روس انوالو ہوتا ہے وہ نیوکلیئر پاور ہے، اسرائیل انڈیا کی ڈائریکٹ مدد کر رہا ہے وہ نیوکلئر پاور ہے،اور امریکہ اسکو تھاپیاں دے رہا ہے وہ نیوکلیر پاور ہے،برطانیہ امریکہ سے پیچھے نہیں رہے گا وہ بھی نیو کلیئر پاور ہے،سب اچھا نہین ہے، کچھ ہونے والا ہے، ہو سکتا ہے ہمیں کچھ نظر نہ آ رہا ہو لیکن چند ہفتوں میں پوزیشن بڑی واضح ہو گی،
دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا قابل مذمت ہے،بھارت کی اشتعال انگزیزی خطے میں امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے، بھارت اپنی حرکتوں سے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے دنیا کی توجہ نہیں ہٹا سکتا،بھارت اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنائے، بھارت 2003کے جنگ بندی انتظام کی پاسداری کرے،
ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ نہتے شہریوں کو نشانہ بنانا عالمی قوانین، اقدار کے منافی ہے،اقوام متحدہ فوجی مبصر مشن کو ایل او سی پر کام کرنے دیا جائے،
رواں سال ایل او سی پر بھارتی جارحیت میں مزید اضافہ ہو چکا ہے ،مودی نےآرایس ایس کے انتہا پسندنظریہ اورتشددکی پالیسی کو سرحد پار تک پھیلا دیا،ایل اوسی پرجنگ بندی کی خلاف ورزیوں کابھارتی ٹریک ریکارڈ بدسے بدتر ہوتاجارہا ہے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے رکن اسمبلی عامر لیاقت نے اپنا استعفیٰ وزیراعظم کو پیش کر دیا
عامر لیاقت حسین نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی اور اپنا استعفیٰ پیش کیا جسے وزیراعظم عمران خان نے مسترد کر دیا
عامر لیاقت کا کہنا تھا کہ کراچی میں مسائل حل نہ ہونے کی وجہ سے استعفیٰ دے رہا ہوں جس پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کراچی کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل ہوں گے، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے کے لئے آپ ہمارا ساتھ دیں
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے عامر لیاقت کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان سے طویل ملاقات، 4صفحات پر مشتمل استعفی مستردکردیا،اس پر بات نہیں ہوگی اپنا دل کھول کر وزیراعظم کے سامنے رکھا، انہوں نے کراچی کےمسائل پر آواز بلند کرنے کو سراہااور کہا یہی ایک سیاسی سوجھ بوجھ اور عوام کا درد رکھنے والے منتخب رہنما کا کردار ہوناچاہیے
عامر لیاقت کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تم تحریک انصاف کا اثاثہ ہو،کچھ چھوڑنے کی ضرورت نہیں، تمہاری ضرورت ہے، ہم نے مل کر پاکستان کو فلاحی ریاست بناناہے، اپنے حلقے اور کراچی کے لیے تمہاری آواز کی قدر کرتا ہوں، وہ تمہاری نہیں پی ٹی آئی اور میری آواز تھی،مجھے خوشی ہے کہ عامر تحریک انصاف میں ہے،
وزیر اعظم عمران خان سے طویل ملاقات، 4صفحات پر مشتمل استعفی مستردکردیا،اس پر بات نہیں ہوگی اپنا دل کھول کر وزیراعظم کے سامنے رکھا، انہوں نے کراچی کےمسائل پر آواز بلند کرنے کو سراہااور کہا یہی ایک سیاسی سوجھ بوجھ اور عوام کا درد رکھنے والے منتخب رہنما کا کردار ہوناچاہیے
— Aamir Liaquat Husain (@AamirLiaquat) July 20, 2020
وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ جمہوریت میں پارٹی سے مسائل کے لیے اٹھنے والی آوازیں جو نظم و ضبط میں ہوں وہ پارٹی کو آکے لے کر جاتی ہیں ،خوش ہوں کہ تم نے کراچی کی آواز بن کر م سب کی توجہ مبذول کرائی تم جانتے ہو اور تم نے کہا بھی کہ میں کراچی کا ہر مسئلہ اپنا مسئلہ سمجھتا ہوں، ان شا اللہ سب حل ہوجائے گا
وزیراعظم عمران خان کا عامر لیاقت سے گفتگو میں مزید کہنا تھا کہ بجلی،پانی اور بہترین زندگی پاکستان اور بالخصوص کراچی کے ہر شہری کا حق ہے اور یہ حق ہم اس کو دیں گے، عامر، مسائل بہت ہیں، تم ایک سیاسی ذہن رکھنے والے دوست ااور ہارٹی رہنما ہو،تمہیں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، ذمے داریوں سے تمہیں منہ نہیں موڑنے دوں گا، ساتھ ہواور رہوگے،
تم نے جتنے مسائل کا ابھی ذکر کیا ہے کے الیکٹرک، پانی اور سیوریج، ترقیاتی منصوبے،رکے ہوئے کام، یہ سب کچھ میرے علم میں ہےاورکراچی میرے لیے سب سے اہم شہر ہے، مجھے یاد ہے تم نے کہا تھا ہم کلین سوئپ کریں گے اور ہم نے کیا، اب ہم مسائل کو کلین سوئپ کریں گے، وزیراعظم
— Aamir Liaquat Husain (@AamirLiaquat) July 20, 2020
وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ تم نے جتنے مسائل کا ابھی ذکر کیا ہے کے الیکٹرک، پانی اور سیوریج، ترقیاتی منصوبے،رکے ہوئے کام، یہ سب کچھ میرے علم میں ہےاورکراچی میرے لیے سب سے اہم شہر ہے، مجھے یاد ہے تم نے کہا تھا ہم کلین سوئپ کریں گے اور ہم نے کیا، اب ہم مسائل کو کلین سوئپ کریں گے،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے چییرمین بلاول زرداری سے ن لیگی وفد کی ملاقات ختم ہو گئی ہے، جس کے بعد قمر زمان کائرہ اور ن لیگی وفد نے مشترکہ پریس کانفرنس کی ہے
قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ حکومت کے خلاف تحریک کے لئے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، قومی اسمبلی میں بھی اپوزیشن عوام کے فلاح کے لئے کام کرے گی،کسی ایک ایشو پر نہیں بلکہ تمام ایشو پر ہم متحد ہیں، ن لیگ کے رہنماؤں کو پی پی کی طرف سے خوش آمدید کہتا ہوں ،بڑے اچھے ماحول میں گفتگو ہوئی، عید سے قبل ہوم ورک کر لیں گے عید کے بعد اے پی سی ہو گی
قمر زمان کائرہ کا مزید کہنا تھا کہ ملاقات میں طے ہوا ہے کہ جوائنٹ اپوزیشن کوارڈینیشن کمیٹی بنائی جائے، کمیٹی میں شاہد خاقان عباسی، ایاز صادق، خواجہ آصف سمیت دیگر شامل ہوں گے، فرحت اللہ بابر، نیئر بخاری، راجہ پرویز اشرف سمیت دیگر شامل ہوں گے، : کمیٹی کا جلد ہی اجلاس ہو گا،عید کے بعد اے پی سی کا انعقاد ہو گا،
مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کی میزبانی پر شکر گزار ہوں، شہباز شریف کی ہدایت پر ہم بلاول اور انکی ٹیم کے ساتھ ملنے آئے اور ملکی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں کے مابین ہم آہنگی ہے کہ حکومت نے دو سالوں میں ملک کو جہاں پہنچا دیا، عوام کی زندگی میں مہنگائی ، بے روزگاری، غربت کا زہر گھول دیا، معاشی بحران میں دھکیل دیا، خارجہ پالیسی کے حوالہ سے ملک بحران کا شکار، مقبوضہ کشمیر کے عوام بھارت کے ظلم کا اکیلا مقابلہ کر رہے ہیں انکو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا، ملک میں نفرت اور محاذ آرائی کی سیاست کو فروغ دیا گیا، میڈیا کا گلا گھونٹنے کے لئے صحافیوں اور میڈیا مالکان کو انتقامی ایجنڈے کا نشانہ بنا کر آزادی اظہار رائے کو کچلنے کی کوشش کی، آئینی حکمرانی کے تصور کو ملیا میٹ کیا جا رہا ہے،یہ وہ خطرات ہیں جو پاکستان کی ریاست کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہے ہی
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ملک 22 کروڑ عوام کی امنگوں کے مطابق کسی اور راستے پر نہیں چل سکتا، آئین پاکستان ہی واحد راستہ ہے،ماضی میں تجربات نے ملک کو نقصان پہنچایا، معیشت حکومت کی نااہلی کی وجہ سے تباہ ہو گئی ہے، اس حکومت کے قائم رہنے سے داخلی اور خارجی خطرات کا سامنا ہو گا، ہمیں داخلی یکجہتی کی ضرورت ہے لیکن حکومت اتحاد کا شیرزاہ بکھیر رہی ہے، ہم متفق ہیں کہ حکومت سے نجات حاصل کرنا عوامی امنگوں کے عین مطابق ہے، تمام جماعتوں سے مشاورت کے بعد عید کے بعد اے پی سی ہو گی
احسن اقبال کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کو گنجائش دینے کا مطلب ملک کو اور نقصان ہے،ایف اے ٹی ایف دہشت گردی کے خلاف ایجنڈہ ہے، حکومت فیٹف کی آڑ میں ایسا قانون مسلط کر رہی ہے جو نیب کا باپ نہیں دادا ہے، یعنی 90 دن کے لئے بغیر ریمانڈ کے پکڑ سکیں اور اسکے بعد 90 دن ضمانت نہ ہو، کسی میڈیا والے، تاجر، صحافی کارکن کو بوگس 100 ڈالر کی چٹ بنا کر اقتصادی دہشت گردی کی دفعہ لگا کر 180 دن کے لئے جیل میں ڈال دیا جائے گا، فیٹف کا قانون جو حکومت بنا رہی ہے ثابت کریں کہ کسی ملک مین ایسا قانون موجود ہے، افغانستان میں بھی ایسا قانون نہین ہے، انٹرنیشنل کمیونٹی کا نام لے کر کالے قانون مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ہم مزاحمت کریں گے، ہم کسی طور پر ایسی اجازت نہین دیں گے،اس سے قوم نئی دلدل میں پھنسے گی، عوام کی سیاسی حقوق صلب کر لئے جائیں گے.
قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ نیب کے ہتھکنڈے بہت بڑھتے جا رہے ہیں، آج بھی پی پی کے خورشید شاہ جو سینئر ہیں وہ قید ہیں، وہ تمام جماعتوں کو اکٹھا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، وہ دس ماہ سے جیل میں ہیں، کیس ٹرائل نہین ہو رہا اور الزامات وہی ہیں جو 2003 میں لگے، بلا وجہ کیس میں انکو پکڑ کر رکھا گیا ہے، حمزہ شہباز طویل عرصے سے جیل میں ہیں، ہماری قیادت پر دباؤ بڑھانے کے لئے یہ ہتھکنڈے استعمال کئے جا رہے ہیں
بھارت میں حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی نے بدنام زمانہ ڈاکو ویرپن کی بیٹی ودیا ویرپن کو تامل ناڈو یوتھ ونگ کا نائب صدر بنادیا ہے۔انڈین ایکسپریس کے مطابق، دو ریاستوں(کرناٹک اور تمل ناڈو) اورویسٹ گھاٹ کے پورے جنگلی علاقے میں ویرپن کی دہشت تھی۔ اس پر پولیس اور محکمہ جنگلات کے افسران سمیت 150 سے
زیادہ لوگوں کو قتل کرنے کا الزام لگایاجاتا ہے جب کہ اس کے ساتھ ہی اس پر 100سے زیادہ ہاتھیوں کے شکار کا بھی الزام ہے۔ حالانکہ، اس کی پہچان چندن اسمگلر کے طورپر تھی۔ اس کو سال 2004 میں پولیس نے ایک مقابلے میں مار دیا تھا۔اب ویرپن کی29سالہ بیٹی ودیا ویرپن بی جے پی کے تامل ناڈو یوتھ ونگ کی نائب صدر بنائی گئی ہیں۔ مقامی یونیورسٹی سے لا گریجوایشن کرنے والی ودیا کرشناگری میں بچوں کے لیے ایک اسکول بھی چلاتی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ان کی تقرری ایک نئے مستقبل کااشارہ ہے۔ انہوں نے کہا، ‘میں کسی خاص کمیونٹی سے نہیں جڑی ہوں، میراانسانیت میں بھروسہ ہے اپنے والد ویرپن کے بارے میں بات کرتے ہوئے ودیا نے کہا، ‘میں نے اسکول کی چھٹیوں کے دوران انہیں صرف ایک بار دیکھا تھا، جب میں کرناٹک میں ہنور کے پاس گوپی ناتھم میں اپنے دادا کے گھر پر تھی۔ وہاں قریب ہی ایک جنگل تھا، تب میں مشکل سے چھ یا سات سال کی تھی۔ جہاں ہم کھیلتے تھے، وہاں وہ آئے اور کچھ دیر مجھ سے بات کی پھر چلے گئے۔ مجھے یاد ہے کہ انہوں نے کہا تھا کہ اچھا کام کرو، ڈاکٹر بننے کے لیے اچھے سے پڑھو اور لوگوں کی خدمت کرو۔’ انہوں نے کہا، ‘لیکن جب وقت کے ساتھ میں دنیا کو سمجھنے لگی تب وہ اپنی زندگی جی چکے تھے۔ میرا ماننا ہے کہ یہ ان کے آس پاس کے حالات تھے جس نے انہیں ایک غلط راستہ چننے کے لیے مجبور کیا۔ لیکن ان کی کچھ کہانیاں مجھے سماج کی خدمت کرنے کے لیے حوصلہ دیتی ہیں۔
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان ميں پہلے بھی بہت سی شخصیات حکومتوں میں اہم ذمہ داریاں نبھاتی رہی ہیں لیکن اثاثوں کی تفصیلات کو عوام کے سامنے پیش کرنے کی روایت عمران خان کی ہدایت پر تحریک انصاف نے ڈالی۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ جہاں تک دوہری شہریت کا تعلق ہے تو ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ قانون اور آئین اس سلسلے میں کیا کہتا ہے؟ قانوناً کوئی بھی دوہری شہریت کا حامل شخص قومی اسمبلی اور سینیٹ کا ممبر نہیں بن سکتا لیکن کسی بھی دیگر عہدے کے حوالے سے ایسی کوئی قدغن قانوناً موجود نہیں۔ مفادات کے تصادم سے بچنے کیلئے جس قدر واضح پالیسی تحریک انصاف نے اپنائی ہے وہ آج تک کسی جماعت نے نہیں اپنائی تاکہ کوئی شخص اپنے منصب کو اپنی ذاتی یا معاشی بڑھوتری کیلئے بروئے کار نہ لا سکے۔ انہوں نے کہا کہ میری رائے میں جمہوری روایات میں عوام کے منتخب نمائندوں کی حثیت افضل ہوتی ہے کیونکہ انہیں عوام کا اعتماد حاصل ہوتا ہے دوسری طرف امور سلطنت چلانے کیلئے آپ کو مختلف شعبہ جات کے ماہرین کی بھی ضرورت ہوتی ہے جو حکومت کی معاونت کر سکیں اور ایسا پوری دنیا میں ہوتا ہے۔ آئین کی رو سے وزیراعظم پانچ ایسے مشیر تعینات کر سکتا ہے گذشتہ ادوار میں بھی مشیران رکھے گئے اور عمران خان نے بھی قانون کے مطابق مشیران /ٹیکنو کریٹس تعینات کیے۔ وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر تحریک انصاف نے حکومتی عہدیداروں کی دوہری شہریت اور اثاثوں کو ظاہر کرنے کی نئی روایت ڈالی ہے جو ماضی میں آپ کو نظر نہیں آئے گی۔
پاکستان میں کرونا کے وار جاری، گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 31 اموات،1587 نئے مریض
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کا پھیلاؤ جاری ہے،گزشتہ 24 گھنٹوں میں 31 اموات ہوئی ہیں جبکہ 1587 نئے مریض سامنے آئے ہیں
پاکستان میں کورونا وائرس سے اموات کی مجموعی تعداد 5599 ہو گئی ہے جبکہ مریضوں کی تعداد 2 لاکھ 63 ہزار 496 ہو چکی ہے، دو لاکھ پانچ ہزار 929 کرونا مریض صحتیباب ہوچکے ہیں۔
کرونا وائرس کے حوالہ سے بنائے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران 19 ہزار 108 ٹیسٹ کیے گئے۔ ملک بھر میں کورونا کے 17 لاکھ 40 ہزار 768 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔
سندھ میں 7 ہزار 977، پنجاب میں 7 ہزار 24، خیبر پختونخوا میں 2 ہزار 275، بلوچستان میں 194، آزاد کشمیر میں 277 اور اسلام آباد میں ایک ہزار 259 میں ٹیسٹ کئے گئے۔ گلگت بلتستان میں 102 کورونا ٹیسٹ کیے گئے۔
سندھ میں کورونا مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 12 ہزار 238 ہوگئی ہے،خیبرپختونخوا میں کورونا مریضوں کی تعداد 31890 ہو گئی ہے۔ بلوچستان میں 11424، اسلام آباد میں14576، آزاد جموں و کشمیرمیں 1888 گلگت میں 1807 اور پنجاب میں 89,793 کورونا مریض ہیں۔
پنجاب میں کورونا وائرس سے جاں بحق افراد کی تعداد 2 ہزار 83، سندھ میں ایک ہزار 993، خیبر پختونخوا میں ایک ہزار 142، اسلام آباد میں 159، بلوچستان میں 132، آزاد کشمیر میں 47 اور گلگت بلتستان میں 43 ہو چکی ہے۔ پاکستان میں کرونا کے ایکٹو کیسزکی تعداد 53 ہزار 555 ہے۔
دنیا بھرمیں بسنے والے سکھوں کی طرف سے اپنے الگ ملک خالصتان کے قیام کے لئے کروائے جانے والے ریفرنڈم ٹوئنٹی 20 کی رجسٹریشن کے حوالے سے سکھوں کی بین الاقوامی تنظیم سکھ فار جسٹس کی قائم کردہ روس میں رجسٹر ویب سائٹ کو بھارتی اثرورسوخ کے باعث بند کر دیا گیا جس کے بعد سکھ فار جسٹس نے کینیڈا سے نئی ویب سائٹ www.delhibanaygakhalistan.ca کے نام سےرجسٹر کروالی ہے۔ اس ویب سائٹ سے بھارتی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار نظرآرہی ہے۔ سکھ فار
جسٹس کے مرکزی راہنما گورپتونت سنگھ پنوں نے کہا کہ بھارتی حلومت سکھوں کی آواز دبا نہیں سکتی۔ سکھوں کے الگ ملک کے لئے کرائے جانے والے ریفرنڈم کی رجسٹریشن 19جولائی کو نئی دہلی سے شروع کر دی گئی ہے جس کے بعد سکھوں کی طرف سے ریفرنڈم کو کامیاب بنانے کے لئے جوش و خروش مزید بڑھ گیا ہے۔ سکھ فار جسٹس کے رہنما گورپتونت سنگھ پنوں نے کہا ہے سکھ قوم ریفرنڈم2020 کے ذریعے بھارتی دارالحکومت دہلی کو بھی اپنے وطن خالصتان میں ضم کر لے گی۔ سکھ فار جسٹس کے مذکورہ اعلان کے بعد بھارتی خفیہ ادارے متحرک ہو گئے ہیں اور سکھوں کی پکڑ دھکڑ شروع کر دی ہے۔
پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی برائے کشمیر کے صدر شہریار خان آفریدی نے اتوار کے روز مقبوضہ جموں و کشمیر کے متنازعہ علاقے میں غیر قانونی فوجی چھاؤنیوں کے اہل بنانے کے لئے نئے قانون بنانے کے لئے بھارتی قابض حکومت کی شدید مذمت کی اور اقوام متحدہ سے اپیل کی کہ وہ اس غیر قانونی عمل کو روکنے کے لئے کارروائی کریں۔ یوم یکجہتی یوم منانے کے لئے نیشنل پریس کلب میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے شہریار آفریدی نے کہا کہ نئے قوانین مقبوضہ کشمیر میں آبادیاتی تبدیلیاں لانے کے ہندوستانی منصوبے کا ایک حصہ ہیں جس میں مسلم اکثریتی کشمیر کو مصنوعی طور پر ہندو اکثریتی علاقے میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
آفریدی نے کہا کہ یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کے لئے تیار کیا گیا ایک مذموم منصوبہ ہے۔ دنیا کو اب اس ناپاک منصوبے کو روکنے کیلئے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ اس مذموم منصوبے کے تحت ہزاروں ہندوستانی مزدوروں کو فوجی چھاؤنیاں بنانے کے لئے مقبوضہ کشمیر لایا گیا ہے۔ کشمیرمیں بھارتی فوجی کیمپوں کے گرد وسیع پیمانے پر تعمیرات ہو رہی ہیں۔ ہندوستانی فوج کے دستوں کے لئے ہزاروں رہائشی فلیٹ تعمیر کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ تعمیراتی عمل اقوام متحدہ کی قرار دادوں اور اس کے کنونشنوں کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت متنازعہ قرار دئیے گئے علاقے میں ہندوستانیوں کو آباد کرکے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کررہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ دنیا کو بھارت کو خطے میں اس کے مضمرات کے بارے میں نوٹ کرنا چاہئے اور اسے متنبہ کرنا چاہئے۔ آفریدی نے کہا کہ اقوام متحدہ کو مقبوضہ علاقے میں رائے شماری کے انعقاد کے لئے کشمیر سے متعلق اپنی اپنی قراردادوں پر عمل کرنا چاہئے ، انہوں نے کہا کہ اگر اقوام متحدہ کشمیر پر اپنی ہی قراردادوں پر عملدرآمد میں ناکام رہا تو اقوام متحدہ کا حشر لیگ آف نیشن سے مختلف نہیں ہوگا۔آفریدی نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ہزاروں ہندوستانیوں کو شہریت کے حقوق دیئے گئے ہیں اور انہی مقبوضہ کشمیر میں منتقل کیا جارہا ہے۔آفریدی نے مزید کہا کہ پچھلے چند ہفتوں کے دوران سینکڑوں غیر مقامی شہریوں کو کشمیر لے جایا جارہا ہے اور وہ ہندوستانی قابض فوج کے کیمپوں کے قریب دور دراز علاقوں میں آباد کئے جارہےہیں۔ اس سے کشمیریوں میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی طرف سے جابرانہ قبضے کے باوجود ، کشمیری عوام نے پاکستان اور کشمیری عوام نے ساتھ الحاق کی خواہش ترک نہیں کی ، انہوں نے پاکستان سے محبت کا اظہار کیا اور اب بھی بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی پرچم لہراتے ہوئے اور "پاکستان زندہ باد” کے نعرے بلند کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری پاکستان سے الحاق اور ہندوستان سے آزادی کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے لئے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان اپنے اصولی موقف کو برقرار رکھتے ہوئے کشمیریوں کو سیاسی اور سفارتی مدد فراہم کرتی رہیگی۔انہوں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیر سے متعلق اپنے نامکمل ایجنڈے پر عمل پیرا ہو اور کشمیریوں کے حق خودارادیت (آر ایس ڈی) کو یقینی بنائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کشمیریوں پر وحشیانہ مظالم ڈھا رہا ہے۔ بھارتی جارحیت کشمیریوں کے عزم کو مزید تقویت بخشے گی۔ مقبوضہ کشمیر میں آٹھ لاکھ ہندوستانی قابض فوجی کشمیریوں کی جدوجہد کو دبانے نہیں دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پوری دنیا میں کشمیری آج یوم پاکستان الحاق کا دن منا رہے ہیں ، بھارتی قابض افواج مقبوضہ کشمیر میں لاتعداد مظالم ڈھائے ہوئے ہیں ، اور نہتے کشمیری عوام محض پتھروں سے ہندوستان والی فوج کا مقابلہ شہادتوں دیکر کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے حصول کے لئے مرد ، خواتین اور بچے شہادت دے رہےہیں ، زخمی ہو رہے ہیں ، جیلوں میں ہیں ، تاکہ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی برادری ان کی آوازوں پر توجہ دے سکے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈارفور (جنوبی سوڈان) اور مشرقی تیمور کی طرح کشمیریوں کو اقوام متحدہ کے وعدے کے مطابق اپنے سیاسی مستقبل کے فیصلے کے لئے ووٹ ڈالنے کا حق دیا جانا چاہئے۔ لیکن اقوام متحدہ اور عالمی برادری مسئلہ کشمیر پر آنکھیں بند کر رہی ہے۔ آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان اور دیگر نے بھی فورم سے خطاب کیا۔