پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے یوم الحاق پاکستان پر کشمیریوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر کی آزادی اور بھارت کی شکست نوشتہ دیوار ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ کشمیریوں اور پاکستان کی منزل ایک ہے، اسی لئے قائداعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ قرار دیا۔ کشمیریوں نے قیام پاکستان سے پہلے الحاق پاکستان کا فیصلہ کیا۔ 19 جولائی 1947 کو سری نگر میں مسلم کانفرنس کے نمائندہ اجلاس میں الحاق قراردادپاکستان متفقہ منظور کی گئی ۔کشمیریوں کی اصولی، قانونی اور جمہوری جدوجہد میں ہر پاکستانی کشمیریوں کے ساتھ تھا، ہے اور رہے گا۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر اسی طرح کشمیریوں کا ہے جس طرح فلسطین فلسطینیوں کا اور انگلستان انگریزوں کا ہے۔ بھارت کے جبرواستبداد اور ظلم کے ہتھکنڈے کشمیریوں کو ان کے بنیادی نصب العین سے دستبردار نہیں کرسکتے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری شہداءکو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، نسل در نسل کشمیریوں نے الحاق پاکستان کا پہرہ دیا ہے، کشمیری اپنے لہوکے نذرانے دے کر قرارداد الحاق پاکستان کی حفاظت کررہے ہیں۔ کشمیری قوم کے حوصلے، عزم واستقلال اور جرات وبہادری تاریخ کا بے مثل باب بن چکی ہے۔ پاکستان کشمیریوں کی آزادی تک ان کی جدوجہد میں ان کے شانہ بہ شانہ رہے گا۔
Category: اہم خبریں
-

وزیراعظم کے دورہ لاہور کے بعد پنجاب کا اہم وزیر کابینہ سے فارغ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صوبائی وزیرجنگلی حیات اسد کھوکھر نے وزارت سے استعفیٰ دے دیا،
وزیراعظم عمران خان کے دورہ لاہو رکے ایک روز بعد صوبائی وزیراسد کھوکھر کو پنجاب کابینہ سے فارغ کر دیا گیا ، ان کے پاس جنگلی حیات کی وزارت تھی۔ اسد کھوکھر کو وزیر بنانے پر شدید مخالفت سامنے آئی تھی اور وزیر بننے کے باوجود انہیں کوئی محکمہ نہیں دیا گیا تھا ۔
انہیں چند ماہ پہلے ہی جنگلی حیات کا محکمہ ملا تھا تاہم اب انہیں وزارت کے منصب سے ہٹا دیا گیا ہے
دوسری جانب اسد کھوکھر کا کہنا ہے کہ وزارت سے ہٹایا نہیں گیا، خود استعفیٰ دیا ہے،ذاتی وجوہات کی بنا پر فرائض سر انجام نہیں دے سکتا۔ وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے اسد کھوکھر کا استعفی منظور کر لیا ہے
واضح رہے کہ پنجاب کابینہ کا یہ پہلا استعفیٰ نہیں ہے، اس سے قبل پنجاب کے صوبائی وزیر خوراک سمیع اللہ خان نے بھی استعفیٰ دیا تھا جسے قبول کر لیا گیا ، بعد ازاں عبدالعلیم خان کو صوبائی وزیر خوراک بنا دیا گیا
-

کشمیری یوم الحاق پاکستان کے موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کے پیغام
مقبوضہ اور آزاد کشمیر سمیت دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یوم الحاق پاکستان منا رہے ہیں،اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصرنے اس موقعہ پر اپنے پیغام میں کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل خطے کے امن اور استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم کا نوٹس لے، اسپیکر اسد قیصر نے کہا کہ آزادی کی خاطر کشمیریوں نے لازوال قربانیاں دی ہیں۔وہ دن دور نہیں جب کشمیری عوام آزادی کا سورج طلوع ہوتا ہوا دیکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیربرصغیر کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ عالمی برادری کو کشمیر میں بھارت کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم کا سختی سے نوٹس لینے کی ضرورت ہے، اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ گزشتہ 11 ماہ سے کشمیر میں بھارت کی فاشسٹ حکومت کی جانب سے جبری لاک ڈاؤن جاری ہے۔72 سالوں سے کشمیری عوام اپنی جدو جہد آزادی کی جنگ لڑ رہیں ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کی جانب سے بھارتی شہریوں کو ڈومیسائل کا اجراء غیر قانونی عمل ہے،اسد قیصرنے اس حوالے سے کہا کہ عالمی برادری بھارتی حکومت کے اس غیر قانونی اقدام کو فوری طور پر رکوانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی نام نہاد جمہوری حکومت نے اپنے ہاتھ ہزاروں کشمیریوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ مسئلہ کشمیر حل نہ ہونے کی وجہ سے خطہ کو جنگ کی دلدل میں دھکیلا جا رہا ہے۔پاکستان کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کی حمایت اور اصولی موقف سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹے گا، اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے پر عزم ہے۔کشمیر میں بھارت کی طرف سے طاقت کے بل بوتے پر قبضہ جدید معاشرے کی اخلاقی اقدار اور عوام کے بنیادی حقِ خودارادیت کے منافی ہے۔
ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری نے کہا کہ کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کی تحریک کے لیے کی جانے والی کوششیں راہیگاں نہیں جائیں گی۔کشمیری عوام بہت جلد آزادی کا سورج طلوع ہوتا دیکھیں گے، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ وہ دن دور نہیں جب کشمیری عوام کو آزادی کی فضا میں سانس لینے کا موقع ملے گا۔ پاکستانی حکومت کشمیری کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کی تحریک کی مکمل حمایت جاری رکھے گی۔وزیر اعظم عمران خان نے عالمی دنیا کے سامنے کشمیری عوام کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کیاہے۔عالمی برادری کوکشمیر میں بھارت کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم اور مقبوضہ کشمیر کی جغرافیائی حیثیت کو ختم کرنے کے عمل کو رکوانا ہو گا۔
-

ہم کشمیریوں کو ان کا حق دلانے کیلئے لڑتے رہیں گے،وزیراعظم
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آج ہم یوم الحاق پاکستان منارہے ہیں،
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ آج کے دن کشمیریوں نے پاکستان سے الحاق کی قرارداد منظورکی تھی،کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی جدوجہد میں ساتھ دینے کےعزم کی تجدید کرتے ہیں،
Today we commemorate the historic occasion of Youm-i-Ilhaq-e-Pakistan, when Kashmiris passed a resolution for accession to Pakistan. We reaffirm our commitment to the Kashmiri people & stand with them in their struggle for self-determination.
— Imran Khan (@ImranKhanPTI) July 19, 2020
وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ کشمیریوں کا حق خود ارادیت یواین سیکیورٹی کونسل نے تسلیم کر رکھا ہے،ہم کشمیریوں کو ان کا حق دلانے کیلئے لڑتے رہیں گے،کشمیریوں کی بھارتی حکومت کے مظالم کے خلاف جدجہد میں ساتھ دیتے رہیں گے،کشمیریوں کو ایک دن ضرور انصاف ملے گا،
بہت ہو گیا ،اب گن اٹھائیں گے، کشمیری نوجوانوں کا ون سلوشن ،گن سلوشن کا نعرہ
یکجہتی کشمیر، قومی اسمبلی میں کشمیر کا پرچم لہرا دیا گیا،علی امین گنڈا پور نے کیا اہم اعلان
یوم یکجہتی کشمیر،وزیرخارجہ نے کیا عالمی دنیا سے بڑا مطالبہ
مودی مسلمانوں کا قاتل، کشمیر حق خودارادیت کے منتظر ہیں، صدر مملکت
یوم یکجہتی کشمیرپرتحریک آزادی بارے مفتیان نے کیا فتویٰ دیا؟ لیاقت بلوچ نے بتا دیا
کشمیر پر دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے آ سکتی ہیں،وزیراعظم عمران خان کا اقوام متحدہ میں خطاب
وزیراعظم نے مظلوموں کا مقدمہ دنیا کے سب سے بڑے فورم پررکھ دیا،فردوس عاشق اعوان
کشمیر پر بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ بڑی کامیابی ہے، وزیر خارجہ
مقبوضہ کشمیر،کشمیری سڑکوں پر،عمران خان زندہ باد کے نعرے، کہا اللہ کے بعدعمران خان پر بھروسہ
برہان وانی کی چوتھی برسی، مقبوضہ کشمیر میں حریت کی اپیل پر مکمل ہڑتال
واضح رہے کہ دنیا بھر میں کشمیری آج یوم الحاق پاکستان منا رہے ہیں، اس دن کو منانے کا مقصد اس عہد کی تجدید کرنا ہے کہ کشمیر پاکستان کا حصہ ہے اور اسکے پاکستان سے الحاق تک جدوجہد جاری رہے گی۔
مقبوضہ وادی میں کشمیری بھارتی ناجائز تسلط سے آزادی اور پاکستان کے ساتھ الحاق کے لئے برسرپیکار ہیں، انیس جولائی 1947 کو کشمیریوں نے نظریاتی طور پر پاکستان سے رشتہ جوڑ کر الحاق کا فیصلہ کیا، آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے اجلاس کے دوران کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کی قرارداد متفقہ طورپر منظور کی گئی۔
تاریخی قرارداد میں ریاست جموں وکشمیر کے پاکستان سے مذہبی، جغرافیائی، ثقافتی اور معاشی رشتوں کے تناظر میں پاکستان کے ساتھ الحاق پر زور دیا گیا۔
کشمیر ی اس دن اس عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ الحاق تک تحریک جاری رکھی جائے گی۔ جذبہ آزادی سے سرشار کشمیریوں کا آج بھی یہی نعرہ ہے کہ کشمیر بنے گا پاکستان.انیس جولائی1947ء کو سری نگر میں کشمیری رہنماء سردار ابراہیم کے گھر جمع ہونے والے 60 کشمیری رہنماؤں نے متفقہ طور پر پاکستان میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا، وہ فیصلہ جو ہر کشمیری کے دل کی آواز تھا، وہ فیصلہ جو مذہبی، ثقافتی، جغرافیائی اور معاشی حقوق کے تحفظ کیلئے کیا گیا، وہ فیصلہ جو الحاق کے برطانوی فارمولے کے مطابق تو تھا، لیکن بھارتی عزائم سے کسی طور مطابقت نہیں رکھتا تھا۔
کشمیر کے ہندو ڈوگرا راج کے مہاراجہ ہری سنگھ کو مسلمانوں کا یہ فیصلہ ہضم نہ ہوا، ہری سنگھ نے اکثریتی آبادی کی خواہش کا احترام کیا اور نہ ہی بنیادی انسانی حقوق کا، اور چپکے سے بھارت نوازی کو قبول کرلیا، جس کے بعد پوری وادی میں ایسی بغاوت شروع ہوئی جو آج بھی جاری ہے۔
-

پاکستان میں کرونا کے وار جاری، 24 گھنٹوں میں مزید 46 اموات
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کے وار جاری ہیں، ملک بھرمیں 24گھنٹے میں کورونا کے1579کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ گزشتہ 24 گھنٹےمیں کورونا سےمزید 46 اموات ہوئی ہیں
ملک بھر میں کورونا مریضوں کی تعداد 2 لاکھ 63 ہزار 496 ہوگئی،ملک بھر میں 2لاکھ سے زائد افراد کورونا سے صحت یاب ہو چکے ہیں،ملک بھر میں کورونا سےاموات کی مجموعی تعداد 5568 ہو گئی ہے
این سی او سی کے مطابق 24گھنٹےکے دوران 22 ہزار 559 ٹیسٹ کیےگئے،سندھ میں 9270اور پنجاب میں 7831ٹیسٹ کئے گئے،خیبر پختونخوامیں 2046اور اسلام آباد میں 2634ٹیسٹ کئے گئے،
سندھ میں کورونا مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 12 ہزار 238 ہو گئی، خیبرپختونخوامیں کورونا مریضوں کی تعداد 31890 ہوگئی،بلوچستان میں کورونامریضوں کی تعداد11424 ہو گئی، اسلام آباد میں کورونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 14576 ہے،آزاد جموں و کشمیر میں 1888 اورگلگت میں 1807 کورونا مریض ہیں
-

پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم الحاق پاکستان منا رہے ہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم الحاق پاکستان منا رہے ہیں
باغی ٹی وی : دنیا بھر میں کشمیری آج یوم الحاق پاکستان منا رہے ہیں، اس دن کو منانے کا مقصد اس عہد کی تجدید کرنا ہے کہ کشمیر پاکستان کا حصہ ہے اور اسکے پاکستان سے الحاق تک جدوجہد جاری رہے گی۔
مقبوضہ وادی میں کشمیری بھارتی ناجائز تسلط سے آزادی اور پاکستان کے ساتھ الحاق کے لئے برسرپیکار ہیں، انیس جولائی 1947 کو کشمیریوں نے نظریاتی طور پر پاکستان سے رشتہ جوڑ کر الحاق کا فیصلہ کیا، آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے اجلاس کے دوران کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کی قرارداد متفقہ طورپر منظور کی گئی۔
تاریخی قرارداد میں ریاست جموں وکشمیر کے پاکستان سے مذہبی، جغرافیائی، ثقافتی اور معاشی رشتوں کے تناظر میں پاکستان کے ساتھ الحاق پر زور دیا گیا۔
کشمیر ی اس دن اس عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ الحاق تک تحریک جاری رکھی جائے گی۔ جذبہ آزادی سے سرشار کشمیریوں کا آج بھی یہی نعرہ ہے کہ کشمیر بنے گا پاکستان.انیس جولائی1947ء کو سری نگر میں کشمیری رہنماء سردار ابراہیم کے گھر جمع ہونے والے 60 کشمیری رہنماؤں نے متفقہ طور پر پاکستان میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا، وہ فیصلہ جو ہر کشمیری کے دل کی آواز تھا، وہ فیصلہ جو مذہبی، ثقافتی، جغرافیائی اور معاشی حقوق کے تحفظ کیلئے کیا گیا، وہ فیصلہ جو الحاق کے برطانوی فارمولے کے مطابق تو تھا، لیکن بھارتی عزائم سے کسی طور مطابقت نہیں رکھتا تھا۔
کشمیر کے ہندو ڈوگرا راج کے مہاراجہ ہری سنگھ کو مسلمانوں کا یہ فیصلہ ہضم نہ ہوا، ہری سنگھ نے اکثریتی آبادی کی خواہش کا احترام کیا اور نہ ہی بنیادی انسانی حقوق کا، اور چپکے سے بھارت نوازی کو قبول کرلیا، جس کے بعد پوری وادی میں ایسی بغاوت شروع ہوئی جو آج بھی جاری ہے۔
-

وزیر اعظم کےمعاونین اورمشیروں کی شہریت کی تفصیلات
[advanced_iframe src=”//www.tinywebgallery.com/blog/advanced-iframe” width=”100%” height=”600″]
کابینہ ڈویژن نے وزیر اعظم کےمعاونین اورمشیروں کی شہریت کی تفصیلات جاری کر دیں۔ وزیر اعظم کے15 معاونین خصوصی میں سے 5 دوہری ہریت کے حامل ہیں۔

معاون خصوصی سیاسی روابط شہباز گل امریکی گرین کارڈہولڈرنکلے۔معاون خصوصی اورسیز پاکستانی ذلفی بخاری

بھی دوہری شہریت کے حامل. ذلفی بخاری مستقل برطانوی شہریت رکھتے ہیں۔معاون خصوصی ڈیجیٹل پاکستان تانیہ آئدروس

کےپاس کینیڈا،سنگاپورکی شہریت۔ وزیر

اعظم کے معاون خصوصی پٹرولیم ندیم بابرامریکی شہریت کےحامل ہیں۔وزیراعظم کے معاون خصوصی معید یوسف کی امریکا کی رہائش ہے۔ -

آن لائن قربانی پر آن لائن فتویٰ،سنیے مبشر لقمان کے ہمراہ مفتی عبدالقوی اور آصف حمید کی اہم گفتگو
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پچھلے پروگرام میں ہم نے بات کی تھی قربانی سنت ہے یا واجب، مفتی عبدالقوی اور آصف حمید صاحب میرے ساتھ ہی تھے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں آپ کو بتاؤں دین اسلام ایک لفظ میں آ سکتا ہے اگر سمجھ آ جائے اور وہ ہے والعصر، یہ ایک لفظ، آیت ، پورے فیتھ کا مرکب ہے، کیونکہ آپ کو پتہ نہیں آپ کتنے خسارے ، نقصان میں ہیں، ایک تو وہ قسمیں ہیں جو لوگ مذہب میں آسانی پیدا کرتے ہیں،لیکن مذہب میں ایک بات کلیئر ہے کہ آپ کو کرنا ہے یا نہیں کرنا، یا تو آپ مومنین کے ساتھ ہیں یا آپ کفار کے ساتھ، وہ ایک الگ بات ہے، نماز پڑھنی ہے، روزہ رکھنا ہے اس میں کوئی دو رائے نہیں، سود لیتے ہیں تو اس پر تاویل نہیں کر سکتے، آپ خسارہ کر رہے ہیں
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب لوگوں نے جدتیں پیدا کرنا شروع کر دی ہیں،میں اشتہار دیکھ رہا ہوں کہ آن لائن قربانی ہو رہی ہے، علما دین سے پوچھتا ہوں وہ کہتے ہیں کہ بالکل صحیح ہے کیونکہ انکی کمائی کا سلسلہ بھی چل رہا ہے،لیکن قربانی کے بڑے اصول اور ضوابط ہیں، کر سکتے ہیں یا نہیں یہ الگ بات ہے لیکن ایسے جانور کی قربانی جس کے ساتھ انسنیت نہیں دیکھا نہیں وہ میرے ناقص علم کے مطابق شاید صدقہ میں تو آ جائے،خیرات میں تو آ جائے لیکن شاید قربانی نہیں
آصف حمید کا اس پر کہنا تھا کہ جانور پالا ہوا ہو، انسیت بھی ہو، پھر آپ خود ذبح کرتے ہیں،مطلب آپ محبت کے ساتھ جانور کو ذبح کر رہے ہیں، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جب لوگ حج کے لئے جاتے تھے تو جانور ساتھ لے کر جاتے تھے قربانی کے لئے جو انہوں نے پالا ہوتا تھا، آصف حمید کا کہنا تھا کہ قربانی کے لئے استطاعت ہو، اور کمائی حلال کی ہو، ہونا کیا چاہئے کہ خود ذبح کریں اگر وہ نہیں ہے تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ وہ ضائع، آپ کا مال لگا، خرید کر اللہ کی راہ میں دیا، اگر تقویٰ نہیں ہے تو فائدہ نہیں، کمائی حلال نہیں تو فائدہ نہیں، ہم کہہ دیں کہ اگر اس طرح نہیں کیا تو وہ قربانی نہیں یا سنت ابراہیمی نہیں
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس پر کوئی اجتہاد نہین ہوا، یا تو آپ لوگ اجتہاد کریں اور مجھے قائل کریں جس پر آصف حمید کا کہنا تھا کہ تعامل یہ نہیں ہوا کہ علما یا کسی اہل دین نے یہ کہا ہو کہ جانور کو جب تک خود نہیں ذبح کروگے تو نہیں کر سکتے جس پر مبشر لقمان نے کہا کہ میں کسی دوست کو مکے ، ریاض میں پیسے بھیج دیتا ہوں اور اسے کہتا ہوں کہ وہ حرم شریف میں میری قربانی کر دے، جس پر آصف حمید کا کہنا تھا کہ ایک علاقہ ہے پاکستان پسماندہ علاقہ ہے، یہاں غریب لوگ ہیں، دوست ہیں انہوں نے کہا کہ ہم قربانی پسماندہ علاقے میں قربانی کریں گے تاکہ اسکا جو مقصد ہے گوشت غریبوں تک پہنچے اور کھال بھی وہیں استعمال ہو
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عبدالقوی صاحب، آن لائن قربانیاں کروا رہے ہین کیا آسانیاں پیدا کر لی ہیں آپ لوگوں نے،جس پر مفتی عبدالقوی کا کہنا تھا کہ میں ایک جملہ کہتا رہتا ہوں کہ ایک ہے سنت ،ایک ہے شریعت، سنت کے تو وہی آداب ہیں جو آپ کہہ رہے تھے کہ جانور ہو اسکو پالا جائے، ایک ہے آج کا آسان زمانہ، آپ حیران ہوں گے بلکہ خوش ہوں گے، میں 16 سال سے سعودی عرب میں دیکھ رہا ہوں کہ وہاں بچے بیٹھے ہوتے ہیں وہاں 290 ریال جمع کروا دو آپ کی قربانی ہو گئی،وہ پرچی آپ کو دے دیتے ہیں آن لائن قربانی کے حوالہ سے میں بات کروںگا کہ جن اداروں پر ہم اعتماد کر رہے ہیں،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سنت بھی ، شریعت بھی،طریقت کہان گئی جس پر مفی عبدالقوی کا کہنا تھا کہ طریقت کا تو علیحدہ مقام ہے،وہ روحانیت کے حوالہ سے ہے،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ وہ بینک جو دنیا میں سب سے زیادہ سود لے رہا ہے وہ قربانی کروا رہا ہے،جس پر آصف حمید کا کہنا تھا کہ اس سے بھی آگے بڑھیں آپ اسوقت تک حج نہیں کر سکتے جب تک بینک کا سہارا نہ لیں، نظام ہی غلط ہے،مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں قربانی خود کر سکتا ہوں تو میں آن لائن یا بینک کے تھرو نہین کر سکتاکیونکہ مجھے سودی نظام کی ضرورت نہیں
مفتی عبدالقوی کا کہنا تھا کہ 1980 سے لے کر علم پڑھا، وہاں سے لے کر آج تک بڑی معذرت کے ساتھ برصغیر میں بڑے بڑے علماء، فقہا آئے جن کا نام لیا جائے تو میرا نام کچھ بھی نہیں، انہوں نے کوئی نظام دیا، اجتماعی قربانی ہو رہی ہے، کرونا وائرس کی وجہ سے اجتماعی قربانی کا مقصد پہلے مدرسے میں دس جانور ذبح ہوتے تھے اب یہ نہ کرو ہمارے پاس آ جاؤ اور اتنے بکروں کے پیسے جمع کروا جاؤ
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ قربانی سنت ابراہیمی ہے، میرے اوپر فرض تو نہیں،تو اگر میں اس رقم کے عوض کسی غریب بچی کی شادی کروا دوں تو وہ کار خیر نہیں جس پر مفتی عبدالقوی نے کہا کہ یہ دونوں علیحدہ عنوانات ہیں، ہمارا دین ایک تسلسل کا نام ہے، اس تسلسل میں دیکھتا ہوں کہ عثمان غنی ہر سال قربانی کرتے ہیں، مفتی عبدالقوی کے اندر یہ عمل ہونا چاہئے کہ قربانی کروں یہ سنت ہے فرض نہیں، دوسرا یہ کہ ساتھ مستحقین کی بھی مدد کروں ، ہمارے ہاں جو سب سے بڑا مسئلہ ہے ہم مولوی اور مسٹر صاحبان کو جب مکس کرتے ہیں تو معاملات میں خرابی آتی ہے، نماز مغرب ہم نے علیحدہ پڑھنی ہے، عشا علیحدہ پڑھنی ہے، قربانی الگ کرنی ہے اور یتیم بچی کی شادی کے لئے بندوبست الگ سے کرنا ہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کہ اگر آپ نے اجتماعی قربانی کرنی ہے تو پھر بکرے کی ہی کیوں ؟ اونٹ اور گائے میں حصہ ڈالیں، وہ آسان ہو جائے گا لوگوں کو چلا جائے گا لیکن پھر بکرے کی ہی کیوں آپ کو مٹن چاہئے ناں جس کے بغیر آپ کو مزہ نہیں آتا جس پر آصف حمید کا کہنا تھا کہ اسکی وجہ یہ ہے کہ شاید کچھ ایسے خاندان ہیں جن کو مٹن کھانے کا موقع سال میں ایک بار ملتا ہے،قربانی سنت ہے اور اسکو کریں. مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں کہہ رہا ہوں کہ ہم لوگوں میں اس وقت کسی چیز کی کمی ہے تو اجتہاد کی کمی ہے، آن لائن قربانی جائز ہے یا نہیں اس پر اسلامی نظریاتی کونسل ، شریعت کونسل، علما کرام کو بیٹھنا چاہئے تھا اور اجتہاد کرنا چاہئے تھا،کنوینئس اور فرائض کا آپس میں کوئی تعلق نہیں
مفتی عبدالقوی کا کہنا تھا کہ مبشر صاحب میں تو کھلی بات کہوں، ہمارے علماء بڑی معذرت کے ساتھ فرقوں اور اپنے معاملات کے اندر میں ہیں وہ بھی انکا ایک میدان ہے جس پر مبشر لقمان نے کہا کہ وہ عالم تو نہ ہوئے،جس پر مفتی عبدالقوی نے کہا کہ میری اپنی برادری ہے میں انکو عالم کہہ دیتا ہوں، یہ کام آپ کے چینل کی برکت سے ہونا ہے، ہر زمانے میں اللہ کچھ افراد کا انتخاب کرتے ہیں، قرآن بھی یہی کہتا ہے کہ ایک جماعت ہوتی ہے، آپ کے چینل کو اللہ نے اعزاز دینا ہے کہ اجتہادی مسائل کو پہنچائیں گے، مدارس کے جتنے لوگ ہیں وہ کرونا وائرس کو بنیاد بنا کر اجتماعی قربانی کا مطلب یہ ہے کہ پہلے اگر میرے مدرسے میں دس جانور ہوتے تھے تو آن لائن کی وجہ سے بیس تیس ہو جائیں، آن لائن قربانی کیسے ہو ، سنت کے مطابق ، شریعت کے مطابق کیسے ہے، کونسی شرائط ہے ، کسی عالم کو اس پر گفتگو کرنے کی ضرورت نہیں
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں نے ذبح خانوں پر جا کر پروگرام کئے اور دیکھا جس طرح وہ چھری پھیر رہے ہوتے ہیں بلا مبالغہ کوئی تکبیر نہیں پڑھی جا رہی،سعودیہ،یو اے ای کے حوالہ سے کسی نے بتا یا کہ سپیکر پر تکبیر چل رہی ہوتی ہے اور وہ چھری پھیرے جا رہے ہوتے ہیں کیا مذاق بنا دیا ہے مذہب کو، حلال اور حرام کی تمیز ہی نہیں، اور علما اس پر چپ بیٹھے ہیں، جس پر آصف حمید کا کہنا تھا کہ ایشو کو اچھے انداز میں اٹھانا اور علماء کو اس پر غور کرنا چاہئے،اللہ نے دین میں آسانی رکھی ہے، سفر میں قصر نماز ہے، بیماری میں بیٹھ کر یا لیٹ کر نماز پڑھنے کی اجازت ہے، فرائض میں آسانی دی گئی ہے، جہاں تک آن لائن قربانی کی بات ہے اسکا تعلق قربانی کو حلال اور حرام کرنے کی جو مذبح خانے کا جو ایشو ہے وہ تکبیر یا غیر تکبیر یا کسی اور کا نام لینا، جو حرام کرتی ہے، اگر آن لائن ہے تو شرعی تقاضے پورے کئے جائیں، اگر میں جا کر قربانی نہین لے سکتا تو میں کم از کم کل خیر سے محروم تو نہ رہوں، تکبیر پڑھ کر ذبح ہونی چاہئے، ایشوز پر بات ہونی چاہئے، علماء آن لائن کو حرام یا حلال کرنے سے پہلے یہ سوچیں کہ اگر پروٹوکول پراپر کئے جا رہے ہیں تو وہ ٹھیک ہے
شہباز گل پالپا پر برس پڑے،کہا جب غلطی پکڑی جاتی ہے تو یونین آ جاتی ہے بچانے
وزیراعظم کا عزم ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری نہیں ری سٹکچرنگ کرنی ہے،وفاقی وزیر ہوا بازی
860 پائلٹ میں سے 262 ایسے جنہوں نے خود امتحان ہی نہیں دیا،اب کہتے ہیں معاف کرو، وفاقی وزیر ہوا بازی
کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت
طیارہ حادثہ، رپورٹ منظر عام پر آ گئی، وہی ہوا جس کا ڈر تھا، سنئے مبشر لقمان کی زبانی اہم انکشاف
جنید جمشید سمیت 1099 لوگوں کی موت کا ذمہ دار کون؟ مبشر لقمان نے ثبوتوں کے ساتھ بھانڈا پھوڑ دیا
کراچی میں پی آئی اے طیارے کا حادثہ یا دہشت گردی؟ اہم انکشافات
عمران خان کی حکومت کو کس سے خطرہ ہے؟ اہم انکشافات مبشر لقمان اور مرتضی علی شاہ کی زبانی
ڈارک ویب کی پراسرار دنیا، اہم انکشافات ، سنئے مبشر لقمان کی زبانی
قاتل گاڑیاں سڑکوں پر، مبشر لقمان نے آواز اٹھائی تو شہریوں نے دعائیں دیں
مڈٹرم الیکشن اور مائنس ون، اصل حقیقت کیا؟ قمر الزمان کائرہ نے سب بتا دیا
عمران خان کی جگہ کن ناموں پر غور ہو رہا ہے؟ ہارون الرشید کے اہم انکشافات ،مبشر لقمان کے ہمراہ
بھارت کی شدید پسپائی، اپنے ہی اینکر اور مبصرین پھٹ پڑے، سنئے اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی
مفتی عبدالقوی کا کہنا تھا کہ جو بات مبشر صاحب کہہ رہے تھے وہ دونوں ٹھیک کہہ رہے ہین انکے کہنے کا مقصد کہ دین میں آسانی ہے اور خود دین نے ہی وضاحت کر دی ہے، جہاں اجتہادی مسائل ہیں وہاں اسلام نے آسانی پیدا کی؟ اگر آسانی پیدا کی تو اس میں شریعت کی اجازت نہیں، بحیثیت عالم ہمارا کردار کیا ہے
آصف حمید کا کہنا تھا کہ سواری پر بیٹھ کر دعا پڑھنی ہے اونٹ ہو یا کار،جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کہ قربانی قربانی سمجھ کر لوگ گھر کا سامان بیچ کر کر رہے ہوتے ہیں یہ زیادتی ہے، یہ سنت ابراہیمی ہے، جس پر مفتی عبدالقوی کا کہنا تھا کہ جس گھر میں سنت ابراہیمی نہ ہو تو لوگ مذاق اڑاتے ہیں،
آصف حمید کا کہنا تھا کہ آسانی اور قربانی، سنت ابراہیمی ،آج سے کچھ عرصہ قبل جو سود کھاتا تھا اس سے لوگ نفرت کرتے تھے، میں خؤد گواہ ہوں کہ ایک ایسے شخص کے بارے میں معلوم ہوا جس سے نفرت کی جاتی تھی، علما کو ببانگ دہل اعلان کرنا چاہئے کہ سود کے خلاف نکلیں، ہماری مثال ایسے ہے چھان مچھر رہےہیں اور نگل اونٹ رہے ہیں، ہمارا معاشی نظام غلط ہے جس پر ہم بات ہی نہیں کر رہے
بھارتی فوج میں پھوٹ پڑ گئی، ملک کے اندر اور باہر نہیں لڑ سکتے، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی
-

قوم کا عمران خان پراعتماد بڑھ گیا :معاونین خصوصی کے اثاثوں کی تفصیل جاری کرکے حکومت نے ایک اور وعدہ پورا کردیا
اسلام آباد:قوم کا عمران خان پراعتماد بڑھ گیا :معاونین خصوصی کے اثاثوں کی تفصیل جاری کرکے حکومت نے وعدہ پورا کردیا ،اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی وفاقی حکومت نے اپنا ایک اوروعدہ پورا کرتے ہوئے معاونین خصوصی کے اثاثوں کی تفصیل جاری کر دی ہے۔ 5 معاونین خصوصی دوہری شہریت حامل ہیں۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کے 15 معاونین خصوصی کے اثاثوں کی تفصیلات جاری کر دی گئی ہیں، 5 دوہری شہریت کے حامل ہیں معاون خصوصی شہباز گل امریکی گرین کارڈ ہولڈرہیں۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے ڈیجیٹل پاکستان تانیہ ایدروس کے پاس کینیڈا اور سنگاپور کی شہریت ہے، معاون خصوصی نیشنل سیکورٹی ڈویژن معید یوسف کی امریکہ کی رہائش ہے۔ معاون خصوصی پٹرولیم ندیم بابر امریکی شہریت کے حامل ہیں جن کے اثاثوں کی مالیت 2 ارب 75 کروڑ 28 لاکھ ہے۔
Govt of Pakistan has placed the assets of all SAPM’s , Advisers on the website of Cabinet division as instructed by PM Imran khan.https://t.co/TUf2FoeLZW
— Senator Shibli Faraz (@shiblifaraz) July 18, 2020
کابینہ ڈویژن کے مطابق معاون خصوصی پارلیمانی کوآرڈینشن ندیم افضل چن کی بھی دوہری شہریت نکلی، ان کے پاس کینڈین شہریت ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق معاون خصوصی اوورسیز زلفی بخاری بھی دوہری شہریت رکھتے ہیں، زلفی بخاری مستقل برطانوی شہریت رکھتے ہیں۔ پاکستان میں 1300 کنال سے زائد اراضی کے مالک ہیں، اسلام آباد میں 34 کنال اراضی پر مشتمل پلاٹس ہیں، لندن میں 48 لاکھ 50 ہزار پاونڈ کی جائیداد کے بھی مالک ہیں، بیرون ملک 5 کمپنیوں کے شیئرز ہیں۔
زلفی بخاری کی اہلیہ کے پاس 5 لاکھ پاونڈ ملکیت کا سونا ہے اور انکی اہلیہ کے پاکستان میں 24 لاکھ روپے بینکوں میں موجود ہیں، زلفی بخاری کی بیرون ملک بینکوں میں 17 لاکھ پاونڈ رقم موجود ہے
چیئر مین سی پیک اتھارٹی اور معاون خصوصی عاصم سلیم باجوہ کے اثاثوں کی مالیت 16 کروڑ 10 لاکھ سے زائد ہے۔ معاون خصوصی شہزاد اکبر کے اثاثوں کی مالیت 7 کروڑ 23 لاکھ سے زائد ہے۔
معاون خصوصی برائے سیاسی روابط شہباز گل 11 کروڑ 85 لاکھ روپے کے مالک ہیں۔ شہباز گل کے ذمے 2 کروڑ 42 لاکھ کے واجبات ہیں۔ موجودہ اثاثوں کی مالیت 9 کروڑ 44 لاکھ روپے ہے۔ پاکستان میں ایک پلاٹ، فارم ہاؤس اور بیرون ملک ایک گھر کے مالک ہیں۔

کابینہ ڈویژن کے مطابق وزیراعظم کے 5 مشیروں میں سے کسی کے پاس دوہری شہریت نہیں، مشیر موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے اہلیہ کے نام پر 50 لاکھ کی سرمایہ کاری شئیرز کی مد میں کررکھی ہے، اہلیہ کے نام پر92 لاکھ روپے کی۔ تین گاڑیاں ہیں، ایک لاکھ روپے کے زرعی آلات جبکہ ڈیڑھ لاکھ روپے فرنیچر کے بھی مالک ہیں۔

ملک امین اسلم نے ایک کروڑ 47 لاکھ روپے کا بینک بیلنس بھی اثاثہ جات میں ظاہر کیا ہے، مشیر موسمیاتی تبدیلی نے اہلیہ کے نام پر 10 لاکھ 75 ہزار روپے کی جائیداد بھی ظاہر کی ہے، ملک امین اسلم وراثتی طور پر حاصل کی گئی 15 جائیدادوں کے مالک ہیں۔

معاون خصوصی صحت ظفر مرزا 5 کرو 70 لاکھ روپے کے مالک ہیں، معاون خصوصی کے پاس 2 کروڑ روپے مالیت کا گھر اور 3 کروڑ کے پلاٹس بھی ہیں، اہلیہ کے پاس 20 لاکھ روپے مالیت کے زیورات بھی ہیں۔
معاون خصوصی برائے امور نوجوانان عثمان ڈار نے اثاثوں کی مالیت 6 کروڑ روپے ظاہر کی ہے، عثمان ڈار نے سیالکوٹ میں زرعی اراضی اور کارروبار کی مالیت ظاہر نہیں کی۔
-

جھوٹے بھارتی الزامات۔ نئی دہلی میں پاکستانی ناظم الامور کی دفتر خارجہ میں طلبی
پاکستانی علاقوں پر بار بار فائرنگ اور معصوم لوگوں کو سیدھی گولیوں کا نشانہ بنانے والے بھارتی حکمرانوں نے پاکستان پر الزام دیتے ہوئے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ناظم الامور سید حیدر شاہ کو ہفتہ کے روز دفتر خارجہ میں طلب کیا اور پاکستان پر 17 جولائی کو مقبوضہ کشمیرمیں کنٹرول لائین پرواقعہ کرشنا گھاٹی سیکٹر میں فائرنگ کرکے ایک بچے سمیت تین عام شہریوں کو ہلاک کرنے کے مضحکہ خیز الزامات لگاتے ہوئے احتجاجی مراسلہ تھما دیا۔
