Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • کرونا لاک ڈاؤن ، لاہورکی باری آ گئی، کون کونسے علاقے ہوںگے 14 روز کے لئے سیل،اعلان ہو گیا

    کرونا لاک ڈاؤن ، لاہورکی باری آ گئی، کون کونسے علاقے ہوںگے 14 روز کے لئے سیل،اعلان ہو گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب حکومت نے کرونا کیسز میں اضافے کے بعد لاہور کے متعدد علاقے سیل کرنے کا فیصلہ کر لیا

    پنجاب کی صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ کل رات 12 بجے کے بعد لاہور کے کئی علاقے بند کر رہے ہیں، شاہدرہ، نشتر ٹاؤن، کینٹ، علامہ اقبال ٹاؤن، گلبرگ، مزنگ، والڈ سٹی شادباغ کو14 دن کے لئے سیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے

    یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ ماسک سے 50 فیصد پھیلاؤ روکا جاسکتا ہے،لاہور میں کورونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے،عوام ایس او پیز کو سختی سے فالو کرتے رہیں، تاکہ کورونا کا پھیلاو روکا جاسکے،

    ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ سب سے بڑا مسئلہ لاہور بنا ہواہے، لاہور میں ایس او پیز پر عمل نہیں کیا گیا، دکانیں بھی سیل کیں، وزیراعظم نے کہا جن علاقوں میں پھیلاؤ ہے وہاں اقدام کریں ،متاثرہ علاقوں کو کل تک بند کردیاجائےگا، نشتر ٹاؤن ، علامہ اقبال ٹاؤن میں کچھ سوسائٹی کوبھی بند کردیاجائےگا،علامہ اقبال ٹاؤن کےمختلف علاقوں میں بھی کوروناکیسززیادہ ہیں،ان علاقوں میں کھانے پینے کی اشیا کی دکانیں اور فارمیسی کھلی رہیں گی،کم سے کم ان علاقوں کو دو ہفتے کیلیے بند کیا جائےگا،

    کورونا کے تشویشناک مریضوں کیلیےایکٹمرا انجیکشن خریدنے پرپابندی عائد

    لیاقت نیشنل ہسپتال کا کارنامہ،ٹریفک حادثہ میں جاں بحق خاتون کو کرونا مثبت قرار دیکر لاش ضبط کر لی

    کرونا کے کتنے مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں؟ وہ کونسا صوبہ جہاں وینٹی لیٹرز پر کوئی مریض نہیں؟

    شہبازشریف، احسن اقبال کے بعد مسلم لیگ ن کی ایک اور اہم ترین شخصیت کرونا کا نشانہ بن گئی

    پنجاب میں کرونا کے بعد ٹائیفائیڈ بخار زور پکڑ گیا،10 دن میں 20 ہزار مریض سامنے آ گئے

    ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے علاقوں کو کھولنے کا فیصلہ کریں گے،افسوس ہوتاہے جب ہمارا موازنہ نیوزی لینڈ جیسے ملک سے کیا جاتاہے،مریض گھر سے فیصلہ کرتے ہیں کہ وینٹی لیٹر چاہیئے، ان علاقوں میں روزانہ ایک ہزار کیسز سامنے آرہے ہیں

    لاہور میں کرونا کے تیزی سے پھیلاؤ کےسبب سرکاری ہسپتالوں کے ایچ ڈی یو اور آئی سی یو یونٹس میں گنجائش ختم ہو گئی، جناح ہسپتال اور جنرل ہسپتال میں تشویشناک مریضوں کے خصوصی وارڈز کے تمام بیڈز بھر گئے، سروسز میں 93 فیصد اورمیو ہسپتال کے ایچ ڈی یو ، آئی سی یو میں 80فیصد بیڈز فل اور کوٹ خواجہ سعید، یکی گیٹ ہسپتال میں تشویشناک مریضوں کیلئے جگہ ختم ہو گئی ہے.

  • تحریک انصاف کی ایم پی اے عظمیٰ کاردار کے اہم انکشافات، خفیہ آڈیو لیک

    تحریک انصاف کی ایم پی اے عظمیٰ کاردار کے اہم انکشافات، خفیہ آڈیو لیک

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کی رہنما عظمیٰ کاردار کی ایک آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں انہوں نے اہم انکشاف کئے ہیں

    آڈیو ریکارڈنگ میں ایک خاتون کہتی ہیں کہ میری وجہ سے خان صاحب نے چار پانچ لوگوں‌ کو چیئر پرسن سٹینڈنگ کمیٹی بنایا ہے،مجھے خان صاحب نے کہا تھا کہ میرے پاس ٹیکسٹ ہیں خان صاحب کے، الیکشن سے ہفتہ پہلے کہ اسلئے پنجاب اسمبلی میں بھیجا کہ جا کر کام کرو، پھر یوں ہوا کہ 23، 24 آزاد امیدواروں کو منسٹری دینی پڑی،

    تین بار ہمارے نام آئے ،پھر خان صاحب کو میں نے خط لکھا مجھے سٹیڈنگ کمیٹی کا چیئرمین بنایا گیا، سرکاری گاڑی مجھے ملی،میں ساروں کے ساتھ کام کر رہی ہوں‌، آپ کو پتہ ہی کچھ نہیں ہے، میں آفیشیلی تمام نوٹفکیشن میں میرا نام ہے،یہ تو بعد میں‌ منتیں کر کر کے آ گئے ، ہم لوگ تو آفیشیل ہیں، سی ایم کو کچھ نہیں پتہ،سارا کام راجہ جہانگیر کرتا ہے،ڈی جی پی آر سارا اسکا میڈیا سنبھالتا ہے، یہ سارا پتہ ہے. آج کے وقت نوٹفکیشن کی کیا ویلیو ہے، کوئی ویلیو نہیں ہے،کیا ہو گیا ہے تم لوگوں‌ کو

    واحد خاتون جو پی ڈی ایم اے کے ساتھ کام کر رہی ہے،ایک کمشنر کو سی ایم آفس سے ڈائریکٹو گیا ہے،وہاں سے ڈائریکشن گئی اور پی ڈی ایم اے نے لیٹر نکالے،میں نیشنل لیول پر کام کر رہی ہون،جب نوٹفکیشن ہوا تو راجہ بشارت نے کہا کہ یہ غیر قانونی ہے یہ کورٹ میں چینلج ہو سکتا ہے،اس نے لوگوں کو یہ نہیں بتانا کہ میں اپنی منسٹری کیسے چلا رہا ہون، میں کشمیر کمیٹی کی ممبر ہوں، بورڈ آف ریونیو کی ممبر ہوں، میں اسوقت جو کام کر رہی ہوں کوئی ایم پی اسوقت کام نہیں کر رہا .

    خود ہی پہنچ گئی ہو گی سیالکوٹ کی ہے ناں،یہ سارہ احمد ہے ناں چائلڈ پروٹیکشن والی تمہاری فیورٹ ہے ،سی ایم کا وزٹ تھا چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں،تو اسلئے ساتھ چلی گئی ہو گی ویسے کرنا نہیں چاہئے،جتنے منہ اتنی باتیں ہوتی ہیں پھر آپ کو پتہ ہے کہ سوشل میڈیا پر تو جو کچھ ہوتا ہے،اس پر پھر کوئی چیز رکتی تھوڑی ہی ہے، تھوڑی احتیاط کرنی چاہئے،ہم لوگوں کو بھی بڑا کیئر فل ہونا پڑتا ہے اگر خان صاحب کے ساتھ جاتے ہیں‌ کہیں

    https://www.youtube.com/watch?v=floAeS7fGLs&feature=emb_title

    میں نے دیکھا ہے کہ میں اپنے آپ کو بچا کے رکھو بس ، یہی تو مسئلہ ہے کہ سارا ،کوئی چیز چھپتی ہی نہیں،اگر ایک کو کچھ دے رہے ہیں تو باقی سوال کریں گے ،اگر جانا تھا سی ایم نے وزٹ کرنی تھی تو اپنی گاڑی پر جاتی اور سی ایم کو ریسیو کر لیتی لیکن پیلی کاپٹر پر ساتھ بٹھا کر لے کر جانا اس پر بڑے غلط میسج ہو رہے ہیں، اور ہیلی کاپٹر تو ایسی چیز ہے کہ آپ خود تو اس میں چھلانگ لگا کر نہیں بیٹھ سکتے،

    جو اس نے کرنا ہے کرنے دو، ظاہر ہے میڈیا میں بات نکلتی ہے تو پھر خود ہی ڈیل کریں اسے، ہم کیا کریں، بشریٰ بیگم کا کہنا تھا کہ خان کو میں نے کہا کہ پبلکلی نہیں آؤں گی ،لیکن پیچھے سے سب کروں گی،میں نے پوچھا خان سے کیسی جا رہی ہے تو انہوں نے کہا کہ تو شکل دیکھ کر اندازہ لگا لیا کرو کہ میں سارا دن کن پرابلم سے گزرا ہوں، وہ مؤکل ہے اسکو پتہ تو لگ جاتا ہے کہ کیا ہو رہا ہے،موکل میں جن ہوتا ہے، سب نے زرداری، نواز شریف نے رکھے ہوئے تھے اور انہیں جان کا خطرہ تھا، ان ساروں کو پتہ ہوتا ہے کہ انکے اردگرد کتنی منافقت چل رہی ہے ،دشمن ہیں ان کے اسلئے یہ سارے ایسا کرتے تھے

    بشریٰ بی بی پرانے جاننے والوں کو نواز دیتی ہیں جبکہ نئے آنے والوں کو داخلہ بند ہے، خان صاحب جب گھر پہنچ جاتے ہیں تو ایک وقت کے بعد ان سے کوئی نہیں مل پاتا، پابندی لگا دی جاتی ہے

    قبل ازیں پاکستان کے ایک معروف اینکر منصور علی خان نے دعویٰ کیا تھا کہ بہت جلد ایک آڈیو کال لیک ہونے والی ہے جس کی وجہ سے پی ٹی آئی کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    سماجی رابطے کی ویب سایٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے منصور علی خان نے کہا کہ موجودہ حکومت سے تعلق رکھنے والی کسی شخصیت کی آڈیو کال ریکارڈنگ بہت جلد منظر عام پر آنے والی ہے، یہ آڈیو کال پی ٹی آئی حکومت کیلئے بہت ہی شرمندگی کا باعث ہوگی۔ اس حوالے سے تفصیلات بہت جلد سامنے آجائیں گی.

  • پاکستان میں ‌کرونا کی سپیڈ جاری، 24 گھنٹوں میں مزید 97 اموات

    پاکستان میں ‌کرونا کی سپیڈ جاری، 24 گھنٹوں میں مزید 97 اموات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کا پھیلاؤ تیزی سے جاری ہے،گزشتہ 24 گھنٹوں میں‌5 ہزار سے زائد مریض سامنے آئے ہیں جبکہ 97 اموات ہوئی ہیں،

    پاکستان میں مریضوں‌کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 44 ہزار 478 تک پہنچ گئی جبکہ ااموات کی تعداد 2 ہزار 729 ہوگئی ہے

    کرونا وائرس کے حوالہ سے بنائے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 5 ہزار 248 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، پنجاب میں 54 ہزار 138، سندھ میں 53 ہزار 805، خیبر پختونخوا میں 18 ہزار 13، بلوچستان میں 8 ہزار 177، گلگت بلتستان میں ایک ہزار 129، اسلام آباد میں 8 ہزار 569 جبکہ آزاد کشمیر میں 647 کیسز رپورٹ ہوئے۔

    پاکستان میں اب تک 8 لاکھ 97 ہزار 650 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 29 ہزار 85 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 53 ہزار 721 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ کئی مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

    پاکستان میں کورونا سے ایک دن میں 97 افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 2 ہزار 729 ہوگئی۔ پنجاب میں ایک ہزار 31، سندھ میں 831، خیبر پختونخوا میں 675، اسلام آباد میں 71، گلگت بلتستان میں 16، بلوچستان میں 85 اور آزاد کشمیر میں 13 مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھے.

  • تاریخ میں پہلی باروزیراعظم قومی خزانے پربوجھ کی بجائےمحافظ بن گئے، اپنی رہائش گاہ کے تمام اخراجات اپنی جیب سے ادا کرتے ہیں۔

    تاریخ میں پہلی باروزیراعظم قومی خزانے پربوجھ کی بجائےمحافظ بن گئے، اپنی رہائش گاہ کے تمام اخراجات اپنی جیب سے ادا کرتے ہیں۔

    ،اسلام آباد: تاریخ میں پہلی بار وزیر اعظم قومی خزانے پر بوجھ کی بجائے محافظ بن گئے،اطلاعات کے مطابق ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ وزیر اعظم قومی خزانے پر بوجھ بننے کی بجائے اس کے محافظ بن گئے، وزیر اعظم عمران خان نے قومی خزانے کے غلط استعمال کی بجائے امانت و احساس کی تاریخ رقم کر دی۔

    ذرائع کے مطابق قومی خزانے سے عیاشی کرنے کی بجائے وزیر اعظم نے امانت و احساس کی تاریخ رقم کر دی ہے، یہ معلومات سامنے آئی ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان اپنی رہائش گاہ کے تمام اخراجات اپنی جیب سے ادا کرتے ہیں۔

    معلوم ہوا ہے کہ نوکروں کی تنخواہوں، بلوں کی ادائیگی اور رہائش گاہ کی سیکورٹی پر اٹھنے والے اخراجات بھی وزیر اعظم خود ادا کرتے ہیں، وزیر اعظم کا دفتر بھی بچت کی قابل تقلید مثال بن گیا ہے، کفایت شعاری مہم کے تحت وزیر اعظم کے دفتر میں ملازمین کی تعداد تاریخ کی کم ترین سطح تک آ گئی، ایک سال کے دوران وزیر اعظم کے دفتر نے 18 کروڑ سے زائد رقم بچا کر قومی خزانے میں واپس کی۔

    دوسری طرف شریفوں نے اپنے دورِ حکومت میں سیکورٹی کے نام پر قومی خزانے سے 8 ارب روپے پھونک ڈالے تھے، ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ اپنے دفتر کے علاوہ وزیر اعظم کا ایک بھی کیمپ آفس موجود نہیں، جب کہ شریف برادران نے بطور وزیر اعظم و وزیر اعلیٰ قومی خزانے سے درجن بھر کیمپ آفس قائم کر رکھے تھے۔

    سابق حکمرانوں کے کیمپ آفسز اسلام آباد، رائیونڈ، ماڈل ٹاؤن اور مری تک پھیلے ہوئے تھے، زرداری و گیلانی نے اسلام آباد سے نکل کر ملتان اور کراچی تک کیمپ آفسز بنا رکھے تھے۔

    بیرونی دوروں میں بھی وزیر اعظم عمران خان کفایت شعاری اور کم از کم اخراجات میں سب سے آگے ہیں، عمران خان بطور وزیر اعظم واشنگٹن گئے تو محض 67 ہزار 180 ڈالرز میں اپنا 5 روزہ دورہ مکمل کر کے آئے، سابق صدر آصف علی زرداری نے مئی 2009 میں واشنگٹن کے اپنے 2 روزہ دورے پر 7 لاکھ 52 ہزار 688 ڈالرز پھونک ڈالے تھے۔

    اکتوبر 2013 میں نواز شریف 3 روز کے لیے واشنگٹن گئے تو 5 لاکھ 49 ہزار 853 ڈالرز اڑا آئے، ستمبر 2019 میں وزیر اعظم عمران خان نے صرف1 لاکھ 62 ہزار 578 ڈالرز میں نیویارک کا سرکاری دورہ مکمل کیا، جب کہ زرداری نے 13 لاکھ 9 ہزار 620، نواز شریف نے 11 لاکھ 13 ہزار 142 اور شاہد خاقان عباسی نے 7 لاکھ 5 ہزار 19 ڈالرز اپنے اپنے دورہ نیویارک پر اڑائے۔

    قومی خزانے کی نگہبانی کا کلچر وزیر اعظم عمران خان نے حکومت کے تمام اداروں تک پھیلا دیا ہے، تمام وزارتوں کو انتظامی اخراجات کم سے کم کرنے اور رقوم بچا کر قومی خزانے میں واپس کرنے کی خصوصی ہدایات دی گئیں، سرکاری گاڑیوں کے بڑے بڑے قافلے ختم کیے گئے اور وزارتوں میں مہمان داری کے لیے رقوم کی ترسیل ختم کی گئی، وزیر اعظم نے ایک ایک پائی غریبوں کی دیکھ بھال پر خرچ کرنے کی عملی مثال قائم کی۔

  • وزیراعظم عمران خان قوم سےکیا ایک اوروعدہ پورا کردیا،پنجاب کی جامعات میں قرآن مجید ترجمے کیساتھ پڑھنا لازم قرار

    وزیراعظم عمران خان قوم سےکیا ایک اوروعدہ پورا کردیا،پنجاب کی جامعات میں قرآن مجید ترجمے کیساتھ پڑھنا لازم قرار

    لاہور:وزیراعظم عمران خان قوم سےکیا ایک اوروعدہ پورا کردیا،پنجاب کی جامعات میں قرآن مجید ترجمے کیساتھ پڑھنا لازم قرار،اطلاعات کے مطابق پنجاب کی جامعات میں قرآن مجید ترجمے کیساتھ پڑھنا لازم قراردے دیا گیا ہے

    ذرائع کے مطابق اس حوالے سے فیصلہ ہوگیا ہے ، پنجاب کی جامعات میں ڈگری کے حصول کے لیے قرآن مجید ترجمے کے ساتھ پڑھنے کی شرط لاگو کر دی گئی۔اس نئے سرکاری اعلامیے کے مطابق جامعات میں قرآن پاک ترجمے کے ساتھ پڑ ھانے کا حکم دیا گیا ہے۔

    اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب کی تمام جامعات میں لیکچررز طلبہ کو ترجمہ کے ساتھ قرآن پڑھائیں گے جو کہ اسلامیات کے مضمون کےعلاوہ پڑھایا جائے گا۔اس حوالے سے گورنر پنجاب چوہدری سرور کا کہنا ہے کہ پنجاب کی جامعات میں قرآن مجید ترجمے کےساتھ پڑھے بغیر ڈگری نہیں ملے گی۔

    چوہدری محمد سرور نے کہا کہ قرآن پاک کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر ہی دنیا اور آخرت سنواری جا سکتی ہے۔

  • کرونا کی ہولناکیاں تیز تر، پاکستان میں مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 39 ہزار سے تجاوز کر گئی، 2632 افراد جاں بحق

    کرونا کی ہولناکیاں تیز تر، پاکستان میں مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 39 ہزار سے تجاوز کر گئی، 2632 افراد جاں بحق

    کرونا کی ہولناکیاں تیز تر، پاکستان میں کورونا کیسز کی تعداد ایک لاکھ 39 ہزار سے تجاوز کر گئی، 2632 افراد جاں بحق

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق: کورونا وائرس سے مزید 81 افراد موت کے گھاٹ اتر گئے، ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 2 ہزار 632 تک پہنچ گئی۔ اب تک مرض سے متاثرہ 51735 مریض صحتیاب ہوکر گھروں کو لوٹ چکے ہیں۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق ملک میں کورونا کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، 24 گھنٹوں میں ریکارڈ 6825 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد مریضوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 39 ہزار 230ہو گئی۔ پنجاب میں 52691، سندھ میں 51518، خیبر پختونخوا 17450 اور بلوچستان میں 8028 مریض زیرعلاج ہیں۔ اسلام آباد میں 7934 ، گلگت بلتستان 1095، آزادکشمیر میں 604 کیسز سامنے آ چکے ہیں۔

    کورونا مزید 81 زندگیاں نگل گیا، ملک میں وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 2632 ہو گئی، 24 گھنٹوں میں 29546 کورونا ٹیسٹ کئے گئے جس کے بعد ٹیسٹوں کی مجموعی تعداد 8 لاکھ 68 ہزار سے زائد ہوچکی ہے۔ این سی او سی کے مطابق اب تک کورونا سے متاثرہ 51735 مریض صحتیاب ہوکر گھروں کو لوٹ چکے ہیں۔

    کورونا کیسز کی بڑھتی تعداد کے سبب وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ رضا کاروں کے ذریعے ایس او پیز پر عمل کرائیں گے، ایس او پیز پر انتظامیہ، ٹائیگرفورس عملدرآمد کرائے گی، اب ہمیں سختی کرنی ہے، کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنا ہے، اگرکنسٹریکشن سائٹ پرلوگ احتیاط نہیں کریں گے توبند ہوجائے گی۔

    پنجاب میں کورونا کے مریضوں کی تعداد ایک بار پھر دوسرے صوبوں سے زیادہ 52 ہزار 601 ہو چکی ہے جبکہ اس سے ہلاکتیں بھی دیگر صوبوں سے زیادہ 969 ہو گئی ہیں۔

    سندھ میں کورونا وائرس کے اب تک 51 ہزار 518 مریض سامنے آئے ہیں، جبکہ 816 کورونا مریض جان کی بازی ہار چکے ہیں۔خیبر پختون خوا میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 17 ہزار 450 ہو چکی ہے جبکہ اموات 661 ہو گئیں۔کورونا وائرس کے بلوچستان میں 8 ہزار 28 مریض اب تک رپورٹ ہوئے ہیں جہاں 83 افراد اس مرض سے انتقال کر چکے ہیں۔
    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 7 ہزار 934 کورونا وائرس کے متاثرہ مریض ہیں جبکہ 75 افراد اس وباء سے جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

    گلگت بلتستان میں 1 ہزار 95 کورونا وائرس کے مریض سامنے آئے ہیں جبکہ اس سے 16 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔

    آزاد کشمیر میں کورونا کے اب تک 604 مریض رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ اس وائرس سے 12 مریض جاں بحق ہو چکے ہیں۔

  • کرونا وائرس کے شکارہونے کے بعد شیخ رشید کی حالت تشویشناک!ملٹری ہسپتال داخل

    کرونا وائرس کے شکارہونے کے بعد شیخ رشید کی حالت تشویشناک!ملٹری ہسپتال داخل

    راولپنڈی : کرونا وائرس کے شکارہونے کے بعد شیخ رشید کی حالت تشویشناک!ملٹری ہسپتال داخل،باغی ٹی وی کے مطابق وفاقی وزیرریلوے شیخ رشید احمد کرونا وائرس کے شکارہونے کی بعد شیخ رشید کی حالت تشویشناک ہوگئی ہے !

    باغی ٹی وی کے مطابق طبعیت خراب ہونے کے بعد شیخ رشید کو راولپنڈی ملٹری ہسپتال شفٹ۔کچھ دن قبل کرونا ٹیسٹ پازیٹو آیا تھا۔راولپنڈی سے ذرائع کا کہنا ہے کہ چند دن قبل شیخ رشید کوکرونا وائرس ہونے کی تصدیق ہوئی تھی ، جس کے بعد انہوں نے اپنے آپ کوآئسولیشن میں رکھ لیا تھا

    ذرائع کےمطابق اس کے باوجود شیخ رشید کی طبعیت ناسازہوگئی تو انہیں‌ فی الفورراولپنڈی کے ملٹری ہسپتال میں داخل کروادیا گیا ہے ، یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ہسپتال پہچنے کے بعد ان کا علاج معالجہ شروع ہوگیا ہے ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ شیخ رشید کوابھی تھوڑی دیر پہلے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے

  • چین میں کرونا وائرس پرقابوپانے کے دعوے جھوٹے نکلے ،بڑی تعدادمیں نئے کیسزآنے کے  بعد کئی علاقوں میں لاک ڈاؤن

    چین میں کرونا وائرس پرقابوپانے کے دعوے جھوٹے نکلے ،بڑی تعدادمیں نئے کیسزآنے کے بعد کئی علاقوں میں لاک ڈاؤن

    بیجنگ :چین میں کرونا وائرس پرقابوپانے کے دعوے جھوٹے نکلے ،بڑی تعدادمیں نئے کیسزآنے کے بعد بیجنگ کے کچھ علاقوں میں لاک ڈاؤن.اطلاعات کےمطابق چین کے دارالحکومت بیجنگ میں مقامی سطح پر کورونا وائرس کے بڑی تعداد میں کیسز منظر عام پر آنے کے بعد وائرس کے پھیلاؤ کے خطرے کے پیش نظر شہر کے کچھ حصے کو لاک ڈاؤن کردیا گیا ہے۔

    جنوبی بیجنگ کے ضلع فینگتائی کی 11 رہائشی اسٹیٹس میں لوگوں کو گھروں سے نکلنے سے روک دیا گیا ہے کیونکہ اکثر کیسوں کا تعلق قریبی گوشت کی مارکیٹ سے ہے۔یہ بیجنگ میں دو ماہ کے دوران پہلا کیس ہے جس کا جمعرات کو اعلان کیا گیا تھا اور وائرس کا شکار ہونے والے شخص نے گزشتہ ہفتے گوشت کی مارکیٹ کا دورہ کیا تھا اور انہوں نے شہر سے باہر کوئی سفر نہیں کیا تھا۔

    چین میں دنیا بھر میں سب سے پہلے ووہان شہر میں کورونا وائرس منظر عام پر آیا تھا جس کے بعد سخت لاک ڈاؤن کی بدولت چین وائرس پر قابو پانے میں کامیاب رہا تھا لیکن اس سے قبل 80ہزار سے زائد افراد وائرس سے متاثر اور ساڑھے 4ہزار ہلاک ہو گئے تھے۔

    انفیکشن میں کمی کے بعد لاک ڈاؤن میں نرمی کردی گئی تھی اور حالیہ مہینوں میں جو لوگ وائرس کا شکار ہوئے تھے انہوں نے بیرون ملک کا سفر کیا تھا اور وطن واپسی پر ان میں وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔

    ہفتے کو مقامی سطح پربڑی تعداد میں وائرس کے شکار ہونے کا انکشاف ہوا حکام نے مذکورہ مارکیٹ کے ساتھ ساتھ ایک اور سمندر کی اشیا کی مارکیٹ کو بند کردیا ہے کیونکہ اس مارکیٹ کا بھی ایک مریض نے حال میں دورہ کیا تھا۔خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق سینکڑوں پولیس افسران اور درجنوں پارلیمانی پولیس کو دونوں مارکیٹ میں تعینات کردیا گیا ہے۔

    ضلع فینگتائی نے ہفتے کو اعلان کیا ہے کہ وائرس کی نئی لہر سے نمٹنے کے لیے جنگی نظام اور فیلڈ کمانڈ سینٹر قائم کردیا گیا ہے۔علاقے میں واقع 9 قریبی اسکول بند کردیے گئے ہیں اور نئی لہر کا نتیجہ ہے کہ بیجنگ کے پرائمری اسکول کے طلبا کی اسکول واپسی کو ملتوی کردیا گیا ہے اور کھیلوں کے تمام مقابلے بھی منسوخ کردیے گئے ہیں۔

    ژن فاڈی گوشت ہول سیل مارکیٹ کے چیئرمین نے کہا ہے کہ یہ وائرس گوشت کاٹنے والے ہتھیاروں پر ملا ہے جس سے چین کے عوام کے کھانے کی ترسیل اور ان کی صحت کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔بیجنگ کی مارکیٹ کے حکام نے تمام مارکیٹوں میں کھانے کی باحفاظت جانچ کا حکم دیا ہے جس میں خصوصی طور پر سپر مارکیٹس میں تازہ اور منجمد گوشت خصوصاً پولٹری اور مچھلی کی جانچ کی جائے گی ۔

    اس سلسلے میں چین میں مچھلی کی ایک قسم سیلمون کو کاٹنے اور بنانے والے ہتھیاروں پر وائرس ملا تھا جس کے بعد بڑے سپر اسٹور سے اس مچھلی کے تمام تر اسٹاک کو ہٹا لیا گیا ہے البتہ بقیہ تمام چیزوں کی ترسیل جاری رہے گی۔بیجنگ میں کچھ ریسٹورنٹس اور ہوٹلوں میں مذکورہ مچھلی کو کھانے میں پیش نہیں کیا گیا۔

    بیجنگ کے حکام نے اعلان کیا ہے کہ جتنے بھی افراد 30مئی کے بعد سے ژن فاڈی مارکیٹ کے قریب رہے ہیں یا اس سے گزرے ہیں ان کے کورونا کے ٹیسٹ کیے جائیں گے۔کسانوں کی مارکیٹ اور بڑی سپر مارکیٹ میں پانچ ہزار ٹیسٹ کیے گئے جس میں سے 40 مثبت آئے جبکہ ہول سیل مارکیٹ میں بھی 2 ہزار افراد کے ٹیسٹ کیے گئے۔

    اب تک مجموعی طور پر ان میں 46افراد کے ٹیسٹ مثبت آ چکے ہیں لیکن ان میں وائرس کی کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئی اور ان سب کی سخت طبی نگرانی جاری ہے۔

  • معروف اداکارہ عائشہ ثنا گرفتار ہو سکتی ہیں؟ سنئے مبشر لقمان کی زبانی اہم انکشافات

    معروف اداکارہ عائشہ ثنا گرفتار ہو سکتی ہیں؟ سنئے مبشر لقمان کی زبانی اہم انکشافات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ہماری جاننے والی ہیں جس جس کا شوبز سے تعلق ہے، ٹی وی سے یا ماڈلنگ سے، سب کی واقف ہیں، عائشہ ثنا، آج انکے اوپر لاہور کے ایک تھانے میں علی معین کی جانب سے ایک ریئل اسٹیٹ ڈیولپر بتاتے ہیں درخواست دی ہے کہ کچھ عرصہ قبل عائشہ ثنا نے دو کروڑ روپے لئے اور چیک دیئے تھے جو باؤنس ہو گئے، اس کے بعد اب ان سے رابطہ نہیں ہے اور وہ غائب ہیں

    سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ سٹوری کافی نہیں ہے، اس پر کھرا سچ کی ٹیم نے کافی انویسٹی گیشن کی ہے، ابھی تک پتہ چلا ہے کہ 11 افراد ایسے ہیں جن سے ایک مخصوص پیریڈ میں پیسے لئے گئے، کچھ کو چیکس دیئے گئے اور کچھ کو نہیں، ان سب کا تعلق شوبز سے ہے،یہ وہ ہیں جن کا ہمیں پتہ چلا اگر اس کے علاوہ کوئی ہے تو باقی کا پتہ نہیں،

    ان سب کو مسائل ہو رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ گھر جاتے ہیں تو گھر والے کہتے ہیں کہ ہم نےعاق کر دیا ،یہ پیسے آپ جانیں ، آپ کا ذمہ،یہ ساری ملی بھگت لگتی ہے کیونکہ مالی پرابلم تو اسوقت سب کو ہے، گھر والوں‌ نے اپنی زمین وغیرہ بیچ دی، اپنا گھر بیچ دیا، چھوٹے اپارٹمنٹ بنا لئے یعنی اس طرح شوبز کے لوگوں سے پیسے اٹھائے گئے، کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو کہہ رہے ہیں کہ ہم سے ایڈوانسز بھی لئے گئے کوئی سیریلز وغیرہ کے لئے، عائشہ ثنا راحت فتح علی خان کے ساتھ بہت سالوں سے منسلک ہیں، راحت جہان‌بھی شو کرتے ہیں وہ انکے شو کی کمپیرنگ کرتی ہیں

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے پرابلم ہو رہی ہے ذاتی طور پر بات کرتے ہوئے میں اس سٹوری کے اندر کافی لوگوں کو ذاتی طور پر جانتا ہوں بالخصوص عائشہ کو ، سب جانتے ہیں شوبز کے اندر کہ بڑی اچھی فیملی ہے،تو پھر ایسا کیوں ہو رہا ہے، کیوں وہ فون وغیرہ بند کر کے لوگوں‌سے لاتعلق کیوں بیٹھی ہیں،ایک صاحب نے تو مجھے کہا کہ انہوں نے سارا پیسہ لندن ٹرانسفر کیا ہوا ہے،ایک اپارٹمنٹ وہاں لے لیا ہے، کرونا کی وجہ سے شائد آمدورفت مشکل ہے اسلئے شاید وہ نہیں جا سکیں ،ابھی وہ اسلام آباد میں ہیں، جن کا نام لیا جا رہا ہے کہ جن کے پاس وہ اسلام آباد میں ہیں وہ بھی ایک بڑا نام ہے چھوٹا نام نہیں ہے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پولیس میں رپورٹس ہونا شروع ہو گئی ہیں یہ تمام شوبز کے حلقوں کے لئے لمحہ فکر ہے کیونکہ جب بھی کسی پر میڈیا میں یا شوبز میں مشکل آتی ہے تو سارے اس میں پریشان ہو سکتے ہیں، اب ان سے رابطہ کرنے کی بڑی کوشش کی جارہی ہے ، کافی لوگ رابطہ کر رہے ہیں لیکن رابطہ نہیں ہو ریا،ڈر اس بات کا ہے کہ اب یہ رپورٹس اگر زیادہ ہو گئیں تعداد میں ، کئی لوگ ایسے ہیں جو ابھی تک پولیس میں نہیں گئے، جب رپورٹ زیادہ ہونا شروع ہو جائیں گی،تو خبر اخباروں میں بھی آئے گی ،ہر جگہ آئے گی اسکے بعد ای سی ایل میں نام ڈالنے کی ڈیمانڈ ہو گی، تلاش کرنے کی ڈیمانڈ ہو گی،یہ سب کچھ ہو گا

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب اللہ کرے کہ وہ خیریت سے ہوں اور اللہ کرے کہ اتنا بڑا ایشو نہ ہو جتنا بتایا جا رہا ہے، فی الحال پتہ چلا ہے کہ 11 افراد تقریبا سامنے آنے کو تیار ہیں، پرچہ ہو چکا ہے،روزنامچے کا اندراج ہو چکا ہے،متعدد بار جس کا نام دیا جاتا ہے اور وہ شامل تفتیش نہ ہو تو پھر پولیس اسکے اوپر ایف آئی آر کاٹنے کی مجاز ہوتی ہے، چیک باؤنسز یہ سیریس ایشو ہے، اب اس میں گنجائش نہیں ، اگر میں نے کسی سے رقم لی اور نہیں دے رہا تو یہ میرے اور اسکے مابین جھگڑا ہے لیکن جب چیک باؤنس ہو جاتا ہے تو پھر وہ ایک لیگل سارا کام چلنا شروع ہو جاتا ہے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جو بھی مزید تفصیل آئے گی اسکو شیئر کروں گا ، جو بھی اس میں لوگ ہیں وہ ہمارے جاننے والے ہیں اور کافی دوست ہیں، سب کے سب پریشان بھی ہیں، اور جب کوئی کسی کو کچھ دیتا ہے تو یہ سوچ کر دیتا ہے کہ یہ میرا دوست ہے یا اس سے میرا تعلق ہے وہ اسلئے دیتا ہے، جو نہیں دےسکتا اسکے لئے بھی کوئی مشکل ہو گی،وہ بھی کوئی اتنا آسان نہیں ہوتا، فیملی والے لوگ ہوتے ہیں، اب وہ کیا ایسی چیز پڑی کہ پولیس تک بات پہنچی، مزید چند دن تک پتہ چلے گا،

  • لاک ڈاون کرونا سے بچاو کا حل نہیں ، احتیاطی تدابیراختیارکریں ، پرہیز علاج سے بہترہے ، خود بھی بچیں ، دوسروں کو بھی بچائیں،وزیراعظم

    لاک ڈاون کرونا سے بچاو کا حل نہیں ، احتیاطی تدابیراختیارکریں ، پرہیز علاج سے بہترہے ، خود بھی بچیں ، دوسروں کو بھی بچائیں،وزیراعظم

    لاہور:لاک ڈاون کرونا سے بچاو کا حل نہیں ، احتیاطی تدابیراختیارکریں ، پرہیز علاج سے بہترہے ، خود بھی بچیں ، دوسروں کو بھی بچائیں،وزیراعظم،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اگر عوام نے لاک ڈاؤن میں نرمی پر احتیاط نہیں کی تو ملک کو نقصان اٹھانا پڑے گا اس لیے عوام کو ذمہ داری ادا کرنی پڑے گی۔

    وزیراعظم عمران خان نے لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک تصور تھا کہ ہم لاہور کو پھر لاک ڈاؤن کریں تو میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ لاک ڈاؤن کا مطلب ہے وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے پوری معیشت کو بند کردینا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ میرے شروع سے تاثرات ہیں کہ اگر ہمارا ملک سنگاپور جیسا چھوٹا ملک ہوتا جس کی50 لاکھ کی آبادی ہے، تائیوان یا نیوزی لینڈ کی طرح ہوتا جہاں 30 لاکھ آبادی ہے تواس ملک کو لاک ڈاؤن کرنا بڑا آسان کام ہے، یہ امیر ملک ہیں جن کی سالانہ آمدنی 30، 50 ہزار ڈالر ہے، ان کو بند کردینے سے کوئی زیادہ مسئلہ نہیں ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ میں پہلے دن سے کہہ رہا تھا کہ ہمارے جیسے ملک جہاں 22 کروڑ عوام ہیں جس میں سے 25 فیصد غربت کی لکیر سے نیچے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت، بنگلہ دیش اور ہمارے مختلف حالات ہیں، جب ہم لاک ڈاؤن کرتے ہیں اور معاشی سرگرمیاں معچطل ہوتی ہیں تو دہاڑی دار طبقے پر سارا بوجھ پڑتا ہے اور بے روزگار ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایسے ممالک کے اندر صرف ایک ہی چیز ہے کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن، سوچھ سمجھ کر لاک ڈاؤن کریں تاکہ معاشی کا پہیہ بھی چلے اور غریب پر بھی بوجھ نہ پڑے اور ساتھ ساتھ کورونا کا پھیلاؤ بھی روکتے جائیں۔

    عمران خان نے کہا کہ آج نیویارک کا گورنر جو دنیا کا سب سے امیر شہر ہے جس کا صحت کا بجٹ ہمارے ملک کے پورے سے بجٹ سے دو تین گنا زیادہ ہے اور کہہ رہا ہے کہ نیویارک کا لاک ڈاؤن کا دیوالیہ نکل گیا ہے تو ہم جیسے ملکوں کا کیا ہوا ہوگا اور جب ہم بجٹ بنانے آئے ہیں تو کتنا مشکل ہوا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہمارے ہاں تین مہینوں میں جتنی اموات ہوئی ہیں نیویارک میں ایک دن میں اس کے قریب ہوئی ہیں، اس لیے وہاں زیادہ مشکل حالت تھے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کے ہسپتالوں میں زیادہ دباؤ تھا۔

    لاک ڈاؤن پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جتنی دیر آپ کسی ملک کو بند کردیتے ہیں اتنی اس کی معیشت خراب ہوتی ہے اور اگر آج ہم نے پاکستان میں 13 مارچ کو لاک ڈاؤن کیا تھا اور اتنا ہی لاک ڈاؤن ہے جتنا نیویارک کا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب نیویارک کا دیوالیہ نکل سکتا ہے تو سوچیں کہ ہمارے جیسے ملک میں کتنی مشکلات آئیں، جو آمدنی اوپر جارہی تھی وہ نیچے چلی گئی۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں جب بھی آیا ہوں کہ یہی کہا ہے کہ احتیاط نہیں کیا تو آگے مشکل حالات آئیں گے، ایس او پیز کا مطلب ہے کہ احتیاط کرنا، عوام کی ذمہ داری ہے اور اگر احتیاط نہیں کریں گے تو اس ملک کا نقصان اٹھانا پڑے گا۔