Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • کورونا وائرس سے زیادہ خطرناک افراتفری ہے،ہم لاک ڈائون نہیں کرسکتے، عوام خود کو قرنطینہ کرلیں، عمران خان

    کورونا وائرس سے زیادہ خطرناک افراتفری ہے،ہم لاک ڈائون نہیں کرسکتے، عوام خود کو قرنطینہ کرلیں، عمران خان

    اسلام آباد:کورونا وائرس سے زیادہ خطرہ افراتفری ہے،ہم لاک ڈائون نہیں کرسکتے، عوام خود کو قرنطینہ کرلیں،باغی ٹی وی کےمطابق اس وقت وزیراعظم عمران خان اپنی قوم سے خطاب کررہے ہیں اورکرونا سے بچاو اوراس کےخلاف مزاحمت کی حکومتی پالیسیوں کے حوالے سے قوم کی رہنمائی کررہےہیں ، ان کا کہنا ہے کہ ، پاکستان میں‌ ہم لاک ڈائون نہیں کرسکتے، عوام خود کو قرنطینہ کرلیں

    وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ملک کو لاک ڈاؤن کی بحث چل رہی ہے، اس کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں کہ اس کا مطلب ملک میں کرفیو لگانا ہے۔

    قوم سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں ایسا کرسکتا ہوں مگر ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ 25 فیصد پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اور ان کے پاس اتنے وسائل نہیں ہوں گے کہ یہ دو ہفتوں تک اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پال سکیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس اتنی صلاحیت نہیں کہ لوگوں کو گھروں میں کھانا پہنچا سکیں۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عوام سے گزارش ہے کہ وہ خود اپنے گھروں میں رہیں، ہم دیکھ رہے ہیں ہم اپنے کاروبار کے لیے کیا کیا کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اناج کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہمارے پاس بہت ذخیرہ ہے جبکہ کورونا وائرس سے زیادہ خطرہ ہمیں افراتفری سے ہے۔

    ان کا کہنا تھاکہ سب اگر گھروں میں سامان جمع کرنا شروع کردیں گے تو اس سے ہمارے معاشرے کو نقصان ہوگا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عوام حکومت پر اعتماد کرے ہم اس مشکل وقت سے نکل جائیں گے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ میں اور میری پوری ٹیم کی توجہ کورونا وائرس پر ہے، میڈیا ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے افرا تفری پھیلانے سے گریز کرے۔عمران خان کاکہنا تھا کہ اگر ہمارے حالات اٹلی اور چین جیسے ہوتے تو پورے ملک میں لاک ڈاؤن کردیتا مگر ہم ایسا نہیں کرسکتے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ کورونا کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ غریبوں کا ہے، ہمیں کورونا سے بحیثیت قوم نمٹنا ہے اور امید ہے ہم اس سے نکل آئیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر عوام نے احتیاط نہ کی تو نقصان سب کا ہوگا، امید ہے عوام مایوس نہیں کرے گی۔

    وزیراعظم عمران خان نے کہا ہےکہ جس طرح چین نےکورونا پرقابوپایا اس طرح ہم بھی کورونا پرقابوپالیں گے ،اگرکسی کو کھانسی،نزلہ،زکام ہے توخود کوآئیسولیشن میں رکھیں،پورا لاک ڈاؤن کروں گا تواورمشکلات پیدا ہوں گی

    وزیراعظم نے کہا کہ کیا ہمارے پاس اتنے وسائل ہیں کہ دہاڑی والے تمام لوگوں کوگھروں میں خوراک پہنچاسکیں ؟لوگ ازخود اپنے گھروں میں موجود رہیں،ہم نے اسکول،یونیورسٹیاں،شاپنگ سینٹرزبند کردیے،اگرپاکستان میں چین یااٹلی جیسی صورتحال ہوتی توفوراً لاک ڈاؤن کردیتا،

    لاک ڈاؤن یاکرفیوکا مطلب ہے کہ شہریوں کوگھروں میں مکمل بند کیا جائے،اگرآج پورا لاک ڈاؤن کردیتا ہوں تودہاڑی والے گھروں میں بند ہوجائیں گے،

  • خیبرپختونخوا میں کورونا وائرس کا ایک اور مریض چل بسا، ملک میں اموات 4 ہوگئیں

    خیبرپختونخوا میں کورونا وائرس کا ایک اور مریض چل بسا، ملک میں اموات 4 ہوگئیں

    اسلام آباد:خیبرپختونخوا میں کورونا وائرس کا ایک اور مریض چل بسا، ملک میں اموات 4 ہوگئیں،اطلاعات کے مطابق پاکستان میں کرونا وائرس پوری طرح اپنا اثردکھارہا ہے اورتازہ ترین اطلاعات کے مطابق صوبہ خیبرپختونخوا میں کورونا وائرس سے مزید ایک فرد دم توڑ گیا جس کے بعد صوبے میں اموات کی تعداد 3 جبکہ ملک میں مجموعی اموات 4 تک پہنچ گئی ہیں۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز ملک میں تصدیق ہونے والے کورونا وائرس کے کیسز میں صوبہ سندھ سے 39، پنجاب سے 56، بلوچستان سے 12، خیبرپختونخوا سے 8 جبکہ گلگت بلستان سے 34 نئے کیسز شامل ہوئے تھے جس کے بعد ملک میں متاثرین کی تعداد 645 ہوگئی تھی۔

    اگر صوبوں کے بات کی جائے تو کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد صوبہ سندھ میں 292، پنجاب میں 152، بلوچستان میں 104، خیبرپختونخوا میں 31، اسلام آباد میں ایک، گلگت بلتستان میں 55 اور آزاد کشمیر میں بھی ایک شخص متاثر ہوا ہے جبکہ 4 اموات بھی ہوچکی ہیں۔

    اس کے علاوہ ملک بھر میں 5 افراد کورونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد صحتیاب بھی ہوچکے ہیں۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات اجمل وزیر نے اتوار کے روز تصدیق کی کہ صوبے میں کورونا وائرس سے اموات کی تعداد 3 ہوگئی ہے جس کے بعد ملک میں اموات کی مجموعی تعداد 4 تک پہنچ گئی۔

    انہوں نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ ‘حال ہی میں کورونا وائرس کی وجہ سے فوت ہونے والی خاتون کا تعلق تربت سے تھا جنہیں علاج کے لیے ڈیرہ اسمعٰیل خان منتقل کیا گیا تھا جہاں ان کا انتقال ہوگیا’۔مشیر اطلاعات کا مزید کہنا تھا کہ ‘دوران علاج ان کے کورونا وائرس کے ٹیسٹ کیے گئے تھے جو مثبت آئے ہیں’۔

  • گھبرانا نہیں بلکہ منظم انداز سے کرونا سے لڑنا ہے سندھ کے بعد پنجاب اور بلوچستان میں بھی فوج طلب

    گھبرانا نہیں بلکہ منظم انداز سے کرونا سے لڑنا ہے سندھ کے بعد پنجاب اور بلوچستان میں بھی فوج طلب

    لاہور:گھبرانا نہیں بلکہ منظم انداز سے کرونا سے لڑنا ہے ، سندھ کے بعد پنجاب اور بلوچستان میں بھی فوج طلب ،اطلاعات کےمطابق کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے سندھ کے بعد پنجاب اور بلوچستان کی حکومتوں نے بھی فوج طلب کرلی ہے۔

    ملک بھر میں تیزی سے پھیلتے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے سندھ کے بعد پنجاب اور بلوچستان کی حکومتوں نے بھی وفاق سے فوج طلب کرنے کے لیے درخواست کردی ہے۔ذرائع کےمطابق اس حوالےسے حکومت نےفوج سے کرونا کے خلاف منظم جدوجہد کے لیے کنٹرول سنبھالنے کی درخواست کردی ہے

    ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بھی آرٹیکل 245 کے تحت صوبے میں فوج طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس حوالے سے وزیراعلیٰ پنجاب نے چیف سیکرٹری اور دیگر اعلیٰ حکام سے مشاورت مکمل کرلی ہے۔
    وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ مشکل کی گھڑی میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اور عوام کے تحفظ کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے۔

    پنجاب کی طرح صوبہ سندھ میں بھی فوج کوانتظامات سنبھالنے کا کہہ دیا گیا ہے ،ادھروزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ ہم بڑے اور سخت فیصلے کرنے جارہے ہیں تاکہ عوام کو کورونا وائرس سے بچاسکیں، عوام کی صحت اور زندگی عزیز ہے، ہم لاک ڈاؤن کی طرف جارہے ہیں جس کا آج ہی اعلان کریں گے۔

    گزشتہ روز سندھ حکومت نے بھی کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے وفاق سے صوبے میں فوج تعینات کرنے کی درخواست کی تھی۔ اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت سندھ نے وفاقی وزارت داخلہ کو ایک خط ارسال کیا ہے جس میں آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت سول ایڈمنسٹریشن کی مدد کے لیے افواج پاکستان کو تعینات کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق سندھ میں لاک ڈاؤن کا اطلاق آج اتوار کی رات 12 بجے سے ہوگا جس کا باضابطہ اعلان وزیراعلیٰ سندھ ایک ویڈیو بیان کے ذریعے کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبے بھر میں لاک ڈاؤن کے دوران اشیائے ضروریہ مثلا کریانہ اسٹور، میڈیکل اسٹور، سبزی، دودھ، بیکری اور ملک شاپ کھلی رہیں گی تاہم اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ان دکانوں پر بھی عوام کا بلاوجہ رش نہ لگنے پائے۔

    بلوچستان حکومت نے کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے فوج کی مدد طلب کرلی ہے، بلوچستان حکومت نے آرٹیکل 245کے تحت پاک فوج کو سول اختیارات دینے کے لیے خط لکھ دیا ہے، بلوچستان حکومت کے مطابق پاک فوج کو آرٹیکل 245کے اختیارات دیے جائیں گے اور صوبے بھر میں ایمرجنسی کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوج کو سول اختیارات حاصل ہوں گے۔

    خیبر پختون خوا نے صوبے بھر میں لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا ہے۔ محکمہ ریلیف کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق کورونا وائرس کے سبب صوبے بھر میں 3 روز کے لیے لاک ڈاؤن کیا جارہا ہے، صوبے میں کریانہ، دودھ، ادویات ، بیکری، سبزی، فروٹ، پٹرول پمپ کھلے رہیں گے جب کہ بقیہ سرگرمیوں پر پابندی عائد ہوگی۔

  • دنیا بھر  میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ

    دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ

    دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ

    باغی ٹی وی: دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 3 لاکھ 7 ہزار سے زائد ہو گئی جبکہ مہلک وائرس سے صحت یاب ہونے والے افراد کی تعداد 95 ہزار 700 سے زائد ہے۔

    اس وقت اٹلی کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہے۔ اٹلی میں مزید 793 افراد کی ہلاکت کے بعد کورونا سے ہونے والی اموات کی تعداد 4 ہزار 800 سے زیادہ ہو گئی۔ اٹلی میں 53 ہزار 500 سے زائد افراد کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔

    چین میں اب کورونا کی مریضوں کی تعداد میں کمی آنا شروع ہو گئی ہے تاہم 6 افراد کی ہلاکت کے بعد چین میں اموات کی تعداد 3 ہزار 261 تک پہنچ گئی۔ چین میں مزید 46 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد متاثرہ افراد کی تعداد 81 ہزار 54 ہو گئی تاہم کورونا سے 72 ہزار سے زائد افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔

    اسپین میں بھی کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اسپین میں 285 افراد کی ہلاکت کے بعد اموات کی تعداد ایک ہزار 300 سے بڑھ گئی۔ اسپین میں کورونا سے متاثر 2 ہزار سے زائد افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔

    امریکہ بھی اس وقت کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے ممالک فہرست میں تیزی سے اوپر آ رہا ہے امریکہ میں مزید 84 افراد کی ہلاکت کے بعد اموات کی تعداد 340 تک پہنچ گئی جبکہ کورونا وائرس سے متاثرہ افراد میں سے اب تک صرف 176 افراد صحت یاب ہوئے ہیں۔ امریکہ میں مزید 7 ہزار 303 افراد میں کوورنا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد متاثرہ افراد کی تعداد 26 ہزار 600 سے زائد ہو گئی۔
    ادھر اٹلی میں کورونا وائرس نے ایک دن میں 800 کے قریب زندگیاں نگل لیں، میتیں اٹھانے والے بھی نہیں مل رہے ،اطلاعات کےمطابق چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والے کورونا وائرس نے یورپ میں پنجے گاڑ لیے ہیں اور اٹلی میں مہلک وائرس نے ہزاروں افراد کی جان لے لی ہے۔
    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یورپی ملک اٹلی میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 793 افراد کورونا وائرس سے انتقال کر گئے جس کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 4825 ہوگئی۔یورپی ملک اٹلی میں 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والی ہلاکتیں ایک دن میں دنیا کے کسی بھی ملک میں کورونا وائرس سے اموات کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

  • سندھ حکومت کاعوام کی نقل و حرکت روکنے کیلئے لاک ڈاؤن شروع ، پاک فوج سے مدد مانگ لی گئی

    سندھ حکومت کاعوام کی نقل و حرکت روکنے کیلئے لاک ڈاؤن شروع ، پاک فوج سے مدد مانگ لی گئی

    کراچی :سندھ حکومت کاعوام کی نقل و حرکت روکنے کیلئے لاک ڈاؤن شروع ، پاک فوج سے مدد مانگ لی گئی ،اطلاعات کے مطابق کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے ممکنہ اثرات کو روکنے کے لیے سندھ حکومت عوام کی نقل و حرکت روکنے کے لیے سخت اقدامات پرغور کررہی ہے۔

    حکومت سندھ نے کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں اضافے کے پیش نظر پاک فوج سے مدد مانگ لی اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت سندھ نے وفاقی وزارت داخلہ کو ایک خط ارسال کیا ہے جس میں آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت سول ایڈمنسٹریشن کی مدد کے لیے افواج پاکستان کو تعنیات کیا جائے ۔


    ابتدائی طور پر سندھ میں 15روز کیلئے کرفیو لگایا جائے گا، وزیر اعلی سندھ نے ایم کیو ایم ، پی ایس پی اور جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو اعتماد میں لیا لاک ڈاوَن کے فیصلے کے48گھنٹوں بعدچندگھنٹوں کا وقفہ دیا جائےگا

    ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت سندھ میں لاک ڈاؤن کرنے پر مشاورت کررہی ہے اور شہریوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے سختی کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ میں کل رات سے لاک ڈاؤن کیا جا سکتا ہے، بلا ضرورت سے گھر سے باہر نکلنے یا گاڑی سڑک پر لانے کی اجازت نہیں ہو گی، ،پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے خلاف ورزی پر حراست میں لے سکیں گے۔

    ذرائع سندھ حکومت کے مطابق وزیر اعلٰی سندھ مراد علی شاہ نےقریبی رفقاء اور اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی ہے ،حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں کو گھروں میں رہنے کی اپیل کے وہ نتائج نہیں ملے جن نتائج کی توقع تھی۔اس حوالے سے ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ اب سخت فیصلے کرنے کا وقت آگیا ہے۔

    مرتضیٰ وہاب کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ نے گورنر سندھ ، کور کمانڈر کراچی، ڈی جی رینجرز سندھ اور آئی جی سندھ سے مشاورت کی ہے تا کہ شہریوں کے گھروں میں رہنے کو یقینی بنایا جاسکے۔ان کے مطابق حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ کریانے کی دکانیں اور میڈیکل اسٹورز کھلے رہیں گے۔

    ذرائع سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ آج اتوار کی رات سے لاک ڈاؤن کیا جا سکتا ہے، وزیر اعلی سندھ نے قانون نافذ کرنے والے حکام کو اعتماد میں لے لیا ہے۔لاک ڈاؤن کے تحت شہریوں کو بلا ضرورت سے گھر سے باہر نکلنے یا گاڑی سڑک پر لانے کی اجازت نہیں ہو گی، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے خلاف ورزی پر حراست میں بھی لے سکیں گے۔

    خیال رہے کہ پاکستان میں اب تک کورونا وائرس کے 729 کیسز میں سے سب سے زیادہ 396 کیسز سندھ سے آئے ہیں جن میں سے ایک مریض جاں بحق بھی ہوچکا ہے جب کہ 3 مریض شفایاب ہوئے ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے صوبے میں کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کے باعث گذشتہ روز شہریوں سے اپیل کی تھی کہ وہ رضا کارانہ طور خود 3 دن کے لیے آئسیولیشن میں رکھ لیں اور گھر سے باہر نہ نکلیں۔

    ۔

  • اٹلی میں ہولناک دن: کورونا وائرس نے ایک دن میں 800 کے قریب  زندگیاں نگل لیں، میتیں اٹھانے والے بھی نہیں مل رہے

    اٹلی میں ہولناک دن: کورونا وائرس نے ایک دن میں 800 کے قریب زندگیاں نگل لیں، میتیں اٹھانے والے بھی نہیں مل رہے

    اٹلی :اٹلی میں ہولناک دن: کورونا وائرس نے ایک دن میں 800 کے قریب زندگیاں نگل لیں، میتیں اٹھانے والے بھی نہیں مل رہے ،اطلاعات کےمطابق چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والے کورونا وائرس نے یورپ میں پنجے گاڑ لیے ہیں اور اٹلی میں مہلک وائرس نے ہزاروں افراد کی جان لے لی ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یورپی ملک اٹلی میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 793 افراد کورونا وائرس سے انتقال کر گئے جس کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 4825 ہوگئی۔یورپی ملک اٹلی میں 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والی ہلاکتیں ایک دن میں دنیا کے کسی بھی ملک میں کورونا وائرس سے اموات کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

    رپورٹس کے مطابق اٹلی میں ہونے والی حالیہ ہلاکتوں میں سے 60 فیصد سے زائد شمالی ریجن کے علاقے لامبارڈے میں ہوئی ہیں۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 6557 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 53578 ہوگئی۔اٹلی میں 42681 افراد ابھی زیر علاج ہیں جبکہ 6 ہزار سے زائد افراد صحتیاب ہوچکے ہیں۔

    ادھر ذرائع کےمطابق اٹلی کے ساتھ ساتھ اب اسپین میں کرونا وائرس نے تباہی پھیلانی شروع کردی ہے، یورپی ملک اسپین میں بھی کورونا وائرس سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 285 لقمہ اجل ہوچکے ہیں جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 1378 ہوگئی ہے۔یورپی ملک میں آج مزید 3803 افراد میں مہلک وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد مجموعی تعداد 25 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔

    خیال رہے کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 297642 تک جاپہنچی ہے اور ہلاکتوں کی تعداد بھی 12 ہزار 831 ہوگئی ہے۔

  • کرونا وائرس، کچھ بھی "کرو نہ” صوبائی حکومتیں لاک ڈاؤن پر مجبور،کن کن صوبوں میں ہوا لاک ڈاؤن کا اعلان؟

    کرونا وائرس، کچھ بھی "کرو نہ” صوبائی حکومتیں لاک ڈاؤن پر مجبور،کن کن صوبوں میں ہوا لاک ڈاؤن کا اعلان؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب، خیبر پختونخواہ، بلوچستان، اسلام آباد میں لاک ڈاون کا حکم نامہ جاری جبکہ سندھ کا صبح ہو جائے گا،شہریوں کو گھروں سے نہ نکلنے کی اپیل کی گئی ہے،

    اسلام آباد انتظامیہ نے مارکیٹیں رات 10 بجے بند کرنے کا حکم نامہ جاری کر دیا ،تمام مارکیٹیں، شاپنگ مالزاورریسٹورنٹ رات 10بجے بند کرنے کا حکم دے دیا گیا،بیوٹی پارلرز اور سیلون بھی رات 10 بجے بند کردیئے جائیں،پراپرٹی دفاتر اور ہاوَسنگ سوسائٹیوں کے پبلک ڈیلنگ کے دفاتر بھی بند کرنے کا حکم دے دیا گیا،

    حکمنامہ کے مطابق میڈیکل اسٹورز ، ڈسپنسریاں اور کریانہ اسٹورز کھلے رہیں گے،بیکریاں، آٹا چکی، تندور، دودھ اور گوشت کی دکانوں پر حکم نامہ لاگو نہیں ہوگا،گاڑیوں کی ورک شاپس، پٹرول پمپس پر بھی حکم نامہ لاگو نہیں ہوگا ،وزارت داخلہ کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے نوٹی فکیشن جاری کر دیا

    دوسری جانب خیبرپختونخوا میں کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے جزوی لاک ڈاوَن سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،تین دن کیلئے صوبہ بھر میں تمام مارکیٹیں ،شاپنگ مال اور ریسٹورنٹس بند کرنے فیصلہ کیا گیا ہے،فیصلے کا اطلاق کل صبح 9 بجے سے منگل کی صبح 9 بجے تک ہوگا،حکم نامہ کریانہ اسٹورز،بیکری،تندور،دودھ کی دکانوں پر لاگو نہیں ہوگا،

    قبل ازیں پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں لاک ڈاؤن کے حوالہ سے نوٹفکیشن جاری کر دیا جس میں شہریوں سے اپیل کی گئی کہ وہ گھروں سے نہ نکلیں،

    وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کورونا وائرس کے خلاف اقدامات کو موثر بنانے کیلئے آج رات 9 بجے سے منگل صبح 9 بجے تک شاپنگ مالز، مارکیٹیں، پارکس اور عوامی اجتماعات کے مقامات بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعلیٰ آفس میں کورونا کے خاتمے کیلئے قائم کیبنٹ کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مارکیٹیں، پارکس اور عوامی اجتماعات کے مقامات آج رات 9 بجے سے منگل کی صبح 9 بجے تک بند رکھے جائیں گے تاہم دودھ، دہی، کریانہ وغیرہ کی دکانیں، مٹن، چکن شاپس، پٹرول پمپس، فارمیسی، بیکریاں، نان شاپس، تنور، فروٹ اور سبزی منڈیاں اور شاپس کھلی رہیں گی۔ ہوٹلز اور ریسٹورنٹس سے ٹیک اوے سروس جاری رہے گی۔پنجاب بھر میں ٹرانسپورٹ بند نہیں کی جائے گی، تاہم عوام غیر ضروری طور پر سفر سے گریز کریں۔

    وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے متعلقہ محکموں کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ کسی دکاندار کو ناجائز تنگ یا پریشان نہ کیا جائے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ لاک ڈاؤن نہیں، سماجی فاصلے پیدا کرنے کا اہتمام کر رہے ہیں۔ویک اینڈ گزارنے کیلئے گھروں میں رہا جائے، بلاضرورت باہر نہ نکلیں۔کورونا سے مستقل بچاؤ کیلئے سماجی فاصلہ ضروری ہے، اس کیلئے سٹینڈرڈ ایس او پیز بنائے جا رہے ہیں۔رہائش گاہ پر قرنطینہ کیلئے وفاقی حکومت کی مشاورت سے ایس او پیز طے کر رہے ہیں۔عثمان بزدار نے بتایا کہ تعلیمی ادارے بند کرنے پر پارکس، تفریحی مقامات اور مارکیٹوں وغیرہ میں رش بڑھنے سے فیصلہ کرنا پڑا۔ سماجی فاصلے برقرار رکھنے کیلئے صرف عوامی اجتماع کے ممکنہ مقامات بند رکھے جائیں گے۔

    انہوں نے ہدایت کی کہ محکمہ صنعت صوبہ میں اشیائے ضروریہ کی فراہمی یقینی بنانے کا اہتمام کرے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کہا کہ کورونا ایمرجنسی آرڈیننس منگل کو کابینہ کے اجلاس میں منظوری کیلئے پیش کیا جائے گا۔چیف سیکرٹری منگل کو پراونشل کانٹی جینسی پلان کابینہ کے سامنے پیش کریں گے جبکہ وزیر خزانہ سوشل پروٹیکشن کا کانٹی جینسی پلان بھی پیش کریں گے۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ صاحب حیثیت مریضوں کیلئے بڑے نجی ہسپتالوں میں آئسولیشن/قرطینہ کی سہولت فراہم کی جائے گی۔وزیر قانون راجہ بشارت اور سیکرٹری ہیلتھ ڈاکٹرز کے ساتھ ویڈیولنک میٹنگ کریں گے تاکہ ان کے تحفظات کا ازالہ کیا جاسکے۔ انہوں نے بتایا کہ الحمداللہ! پنجاب میں صورتحال کنٹرول میں ہے، کڑی مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔پنجاب بھر میں کورونا کے 137 مریض ہیں۔ڈیرہ غازی خان قرنطینہ میں 106، لاہور 20، گوجرانوالہ 4، گجرات 3، جہلم 2، راولپنڈی اور ملتان میں ایک ایک مریض ہے۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبہ بھر میں کورونا مریضوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں اور سٹاف کیلئے 24 ہزار سے زائد گاؤن موجود ہیں۔صوبہ بھر میں 7 لاکھ 60 ہزار گلوز، 9 لاکھ 44ہزار، سرجیکل ماسک، 9 لاکھ 20 ہزار این 95 ماسک میسر ہیں۔طبی عملے کیلئے 5 ہزار گاگلز، 44 ہزار شو کور اور 40 ہزار سینی ٹائزر کا سٹاک موجود ہے۔

    بعدازاں وزیراعلیٰ نے ویڈیو لنک میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب میں بتایا کہ کورونا کے علاج میں معاونت کیلئے چین کے ڈاکٹرز بھی آئیں گے۔ٹیسٹ کی فیس کم کرنے کیلئے نجی اداروں سے گفت و شنید جاری ہے۔لاہور میں ایک ہزار بیڈز کا کیمپ ہسپتال قائم کیا جائے گا۔صوبہ بھر میں پانچ ہسپتال کلی طور پر کورونا مریضوں کیلئے مختص کئے جا چکے ہیں۔صوبائی وزراء یاسمین راشد، ہاشم جواں بخت، میاں اسلم اقبال، چیف سیکرٹری نے شرکت کی جبکہ وزیر توانائی اختر ملک کمشنر آفس ملتان سے، صوبائی سیکرٹریز سیکرٹریٹ کمیٹی روم سے اور آئی جی پنجاب، چیئرمین پی آئی ٹی بی اوردیگر حکام نے ویڈیولنک کے ذریعے شرکت اجلاس میں شرکت کی.

    سندھ حکومت نے بھی لاک ڈاؤن کا فیصلہ کر لیا، صوبہ سندھ میں اتوار کی رات سے لاک ڈاﺅن کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ خود لاک ڈاﺅن کا باضابطہ اعلان کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ لاک ڈاﺅن کے تحت تمام نجی و سرکاری اور کاروباری سرگرمیاں بند رہیں گی، سندھ میں 5 روز کے لئے کرفیو لگایا جائے گا، تمام دفاتر بند رہیں گے، ، صرف کریانہ اور میڈیکل سٹور کھلے رہیں گے اس کے علاوہ ہر چیز بند کردی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ سندھ لاک ڈاﺅن کی مدت اور مزید پابندیوں سے متعلق خود آگاہ کریں گے۔ لاک ڈاؤن کے دوران شہریوں کے گھروں سے باہر نکلنے پر پابندی ہوگی، لاک ڈاؤن کا اطلاق اتوار کی شب 12 بجے سے کیا جاسکتا ہے، اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ سندھ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حکام کو اعتماد میں لے لیا ہے.

    دوسری طرف کرونا وائرس کی صورتحال کے پیش نظر گورنر ہاؤس سندھ کو 2 ہفتوں کے لیے بند کرنے کا اعلان کر دیا گیا، گورنر ہاؤس کے عملے کو بھی چھٹی پر بھیج دیا گیا، صرف انتہائی ضروری افسران وعملہ گورنر ہاوس میں ڈیوٹی دے گا۔ گورنر سندھ عمران اسماعیل کا کہنا ہے کہ اتوار تک لاک ڈاؤن سے متعلق فیصلہ کرلیا جائے گا۔ سندھ حکومت کے اقدامات کو سنجیدہ نہیں لیا گیا، ایک گھر سے ایک آدمی کو نکلنے کی اجازت دی جائےگی

    بلوچستان حکومت نے صوبے بھر میں 21 دن تک جزوی لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیاہے۔ محکمہ داخلہ نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق کوئٹہ میں تمام بڑے شاپنگ مال، مارکیٹس 3 ہفتوں کے لئے بند رہیں گی، اس کے علاوہ تمام ریسٹورنٹس 3 ہفتوں تک صرف گھروں کیلئے کھانے پینے کی اشیاء فراہم کرسکیں گے۔ نوٹیفکشن کے مطابق بین الصوبائی اور انٹر سٹی پبلک ٹرانسپورٹ بھی 3 ہفتوں کے لئے بند رہے گی، شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے زیادہ سے زیادہ احتیاط برتیں اور کوشیش کریں کہ اپنے گھروں میں رہی

    قبل ازیں پاکستان میں بڑھتے ہوئے کرونا وائرس کیسز کی تعدا دکے بعد صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک کو فوری طور پر لاک ڈاؤن کر دیا جائے۔ بلاول بھٹو زرداری نے لاک ڈاؤن کو کرونا وائرس پر قابو پانے کا واحد حل قراردیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو مکمل لاک ڈاؤن کی جانب ہر صورت جانا ہوگا۔ ہردن اورگھنٹے کی تاخیر وبائی آفت سے مقابلے کو مشکل بنارہی ہے.

    شہباز شریف نے بھی حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرونا وائرس سے بڑھتے خطرات پر ملک کو لاک ڈاؤن کیاجائے۔ حکومت فی الفور لاک ڈاؤن کی تیاریاں کرے، خوراک کی فراہمی سمیت دیگرانتظامات کوحتمی شکل دی جائے۔ عوام کی زندگیاں مزید خطرے میں نہیں ڈالی جاسکتیں، تاخیر کی صورت میں خوفناک انسانی المیہ ناقابل قبول ہوگا۔

  • تبلیغی جماعت کے ساتھ آنے والے غیر ملکی میں کرونا کی تشخیص، اسلام آباد میں مسجد سیل

    تبلیغی جماعت کے ساتھ آنے والے غیر ملکی میں کرونا کی تشخیص، اسلام آباد میں مسجد سیل

    تبلیغی جماعت کے ساتھ آنے والے غیر ملکی میں کرونا کی تشخیص، اسلام آباد میں مسجد سیل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں بھی کورونا وائرس کا ایک اور مریض سامنے آگیا ہے جس کے بعد اسلام آباد میں کرونا کے مریضوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے.

    ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے اسلام آباد میں کرونا وائرس کے نئے کیس کی تصدیق کی ہے،ڈپٹی کمشنر کے مطابق کرغستان کے عبدالمومن نامی شخص میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی،مریض کے ساتھ جماعت میں موجود افراد کو قرنطینہ منتقل کردیا گیا ،تبلیغی جماعت کی جانب سے دورہ کی جانے والی مسجد سیل کردی گئی،تبلیغی جماعت سے ملنے والے افراد کی فہرست بھی تیار کرلی گئی ہے،

    ڈپٹی کمشنر کے مطابق متاثرہ مریض کے ساتھ موجود افراد کو قرنطینہ منتقل کردیاگیا،اسلام آباد میں تمام سستے باذار اور مویشی منڈیاں اگلے3دن بندرہیں گے

    کرونا وائرس، چین سے طالب علم پاکستان پہنچا تو اسکے ساتھ کیا ہوا؟

    گائے کا پیشاب پینے سے کرونا وائرس ہو گا ختم،ہندو مہاسبھا کے صدر کے علاج پر سب حیران

    بھارت میں کرونا کے 44 مریض، مندر میں بتوں کو بھی ماسک پہنا دیئے گئے

    کرونا وائرس،کھانسی ہونے پر ہوٹل میں داخلے پر پابندی،قیدیوں کے لئے بھی ایڈوائیزری جاری

    24 گھنٹوں کے دوران ملک میں نئے 260 کیس کرونا وائرس کے رپورٹ ہوئے ہیں ،جس کے بعد ملک میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 729 ہو گئی، سندھ میں 396، بلوچستان 103، کے پی میں 27،گلگت میں 55، آزاد کشمیر میں ایک مریض ہے،پنجاب میں کرونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 137 ہے

    کرونا وائرس، مولانا بھی میدان میں آگئے، اینٹی کرونا سیل قائم،کریں گے گلاب کے پھول تقسیم

  • پاکستان کرونا الرٹ : ملک میں کورونا وائرس کے مزید234 کیسز آگئے، مجموعی تعداد 729 ہوگئی

    پاکستان کرونا الرٹ : ملک میں کورونا وائرس کے مزید234 کیسز آگئے، مجموعی تعداد 729 ہوگئی

    اسلام آباد :پاکستان کرونا الرٹ : ملک میں کورونا وائرس کے مزید234 کیسز آگئے، مجموعی تعداد 729 ہوگئی،اطلاعات کےمطابق سندھ میں144، پنجاب میں 41، گلگت بلتستان میں 34،بلوچستان میں 10، خیبر پختونخوا میں 4 اور اسلام آباد میں ایک نیا کیس سامنے آیا، ایک مریض صحتیاب بھی ہوا،پاکستان میں کورونا سے 3 ہلاکتیں ہوچکی ہیں جن میں سے 2 خیبر پختونخوا اور ایک کراچی میں ہوئی ہے۔

    پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور مزید نئے کیسز سامنے آنے کے بعد متاثرین کی مجموعی تعداد 729 ہوگئی ہے جبکہ اب تک ملک میں کورونا وائرس سے 3 افراد ہلاک جبکہ پانچ صحت یاب ہوچکے ہیں۔حکام کے مطابق جمعۃ المبارک کو رات 12 بجے تک پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 495 تھی جو مزید 234کیسز سامنے آنے کے بعد 729 تک پہنچ گئی ہے۔

    ہفتے کو 234 نئے کیسز میں سے سندھ میں 144، پنجاب میں 41 ،گلگت بلتستان میں 34، بلوچستان میں 10، خیبر پختونخوا میں 4 اور اسلام آباد میں ایک نیا کیس سامنے آیا ہے۔ ہفتے کو اسلام آباد میں زیر علاج ایک مریض صحتیاب بھی ہوا جس کے بعد اس وائرس سے صحتیاب ہونے والوں کی مجموعی تعداد 5 ہوگئی ہے۔ اس سے قبل کراچی میں 2، حیدرآباد میں ایک اور اسلام آباد میں ایک مریض صحتیاب ہوچکے ہیں۔

    کرونا مریضوں کی تعداد کے تناسب کے لحاظ سے سندھ میں آج مزید 144 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی جس کے بعد صوبے میں متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 396 تک پہنچ گٗئی ہے۔

    ترجمان نے بتایا کہ سندھ بھر میں کورونا وائرس کے مجموعی کیسز کی تعداد 396 ہوگئی ہے جن میں سے تین مریض صحت یاب ہوئے ہیں، ان میں سے 2 کا تعلق کراچی اور ایک کا حیدرآباد سے ہے۔ترجمان کے مطابق اس وقت 392 افراد کا علاج جاری ہے جن میں سے 3 افراد صحتیاب ہوچکے ہیں

    پنجاب میں کورونا وائرس کے کنفرم کیسز کی تعداد بڑھ رہی ہے اور پنجاب حکومت کے مطابق 24 گھنٹے میں مزید 41 کیسز سامنے آنےکےبعد مریضوں کی مجموعی تعداد 137 ہوگئی ہے۔ صوبائی حکومت کے مطابق پنجاب کے اندر کورونا وائرس کے تصدیق شدہ 137 کیسز میں سے 106 ڈی جی خان قرنطینہ مرکز، لاہور میں 20 گجرانوالہ میں 4 راولپنڈی میں 1ملتان میں 1 اور جہلم میں 2 کیسز ہیں جب کہ مزید 3 کیسز کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

    بلوچستان میں ہفتے کے روز کورونا کے مزید 10 کیسز سامنے آنے کے بعد صوبے میں اب تک 103 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے۔چیف سیکرٹری کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کوروکنے کے لیے میل جول پرپابندی ہے، یہ وائرس میل جول سے پھیلتا ہے لہٰذا عوام سے اپیل ہے کہ وہ گھروں میں محدود رہیں۔

    خیبرپختونخوا میں ہفتے کو کورونا وائرس کے مزید 4 کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد صوبے میں مجموعی تعداد 27 ہوگئی ہے۔مشیر اطلاعات اجمل وزیر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ملائیشیا سے آنے والے 41 سالہ شخص میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، متاثرہ شخص کو پولیس سروسز اسپتال قرنطینہ میں رکھا گیا تھا۔

    اجمل وزیر کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں کنٹرول روم قائم کردیا گیا ہے جس کی نگرانی وزیراعلیٰ محمود خان خود نگرانی کر رہے ہیں۔انہوں نےکہا کہ صوبے میں شادی ہالز، اتوار بازار اور مویشی منڈیاں بند رہیں گی جب کہ 5 اپریل تک تمام ریسٹورنٹس پر بیٹھ کرکھانا نہیں کھا سکتے وہاں سے لے جاسکتے ہیں۔

    جبکہ گلگت بلتستان میں بھی کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور مزید 34 کیس سامنے آنے کے بعد کل تعداد 55 ہوگئی ہے۔ اسلام آباد میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 10 ہے۔آزاد کشمیر میں کورونا وائرس کا اب تک ایک ہی کیس رپورٹ ہوا ہے۔

  • پاک چین دوستی زندہ باد : چین نے 200 ماہر ڈاکٹرز پاکستان بھیج دیئے ، کرونا کوختم کرنے کا مشن لے کراسلام آباد پہنچ گئے

    پاک چین دوستی زندہ باد : چین نے 200 ماہر ڈاکٹرز پاکستان بھیج دیئے ، کرونا کوختم کرنے کا مشن لے کراسلام آباد پہنچ گئے

    اسلام آباد:پاک چین دوستی زندہ باد : چین نے 200 ماہر ڈاکٹرز پاکستان بھیج دیئے ، کرونا کوختم کرنے کا مشن لے کراسلام آباد پہنچ گئے ،باغی ٹی وی کےمطابق چس طرح مشکل وقت میں پاکستان نے چین کا ساتھ دے کردوستی کا حق ادا کیا ایسے ہی چین نے اپنی وفا اورمحبت کا بھرپوراظہارکرکے دنیا کوبتا دیا ہےکہ پاک چین دوستی زندہ باد ہے اور رہے گی

    باغی ٹی وی کے مطابق چین کی حکومت نے اپنے ملک میں‌کرونا سے کامیاب مزاحمت کے بعد اورچین سے کرونا کےخاتمے کے ساتھ اپنے 200 ماہر ڈاکٹروں کو اسلام آباد بھیج دیا ہے ،

    باغی ٹی وی کےمطابق یہ ڈاکٹرز اسلام آباد پہنچ چکے ہیں اورآتے ہیں انہوں پاکستان میں کرونا کے خلاف بڑی منصوبہ بندی سے مزاحمت کرنےاوراس کو بھگانےکےلیے کام شروع کردیا ہے، یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ نہ صرف یہ ڈاکٹرز پہنچے ہیں بلکہ چین نے اس سلسلے میں استعمال ہونے والا میڈیکل لیب کا سامان بھی ساتھ بھیج دیا ہے