Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پرچی کے بغیر خطاب، عالمی اقتصادی فورم کے صدر بھی عمران خان کے معترف، پاکستانیوں کی خوش قسمتی عمران خان جیسا لیڈرملا،بورگے برینڈے

    پرچی کے بغیر خطاب، عالمی اقتصادی فورم کے صدر بھی عمران خان کے معترف، پاکستانیوں کی خوش قسمتی عمران خان جیسا لیڈرملا،بورگے برینڈے

    ڈیوس:پرچی کے بغیر خطاب، عالمی اقتصادی فورم کے صدر بھی عمران خان کے معترف،کہاکہ پاکستانیوں کی خوش قسمتی ہے کہ انہیں عمران خان جیسا لیڈرملا،اطلاعات کےمطابق عالمی اقتصادی فورم کے صدربورگے برینڈے
    پاکستانی وزیراعظم کی گفتگوسے بہت زیادہ متاثرہوئے ہیں‌،بورگے برینڈے نے کہا ہے کہ مجھے خوشی ہوئی ہے کہ پاکستان کوعمران خان جیسا لیڈرملا ہے، اوردنیا کو بھی عمران خان کے ویژن کے مطابق آگے بڑھنا چاہیے

    باغی ٹی و ی کےمطابق پاکستانی وزیراعظم عمران خان سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں موجود ہیں جہاں انہوں نے عالمی اقتصادی فورم سے بھی خطاب کیا۔وزیراعظم کا خطاب تقریباً14 منٹ پر مشتمل تھا جس میں انہوں نے مختلف پہلوؤں پر اختصار کے ساتھ اظہار خیال کیا۔اپنے خطاب میں انہوں نے پاکستان کی معاشی اور خارجہ پالیسی سمیت ماحولیاتی مسائل سے متعلق اہم امور پر بات کی۔

    ڈیوس سے ذرائع کےمطابق پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے خطاب کے بعد تقریب کے میزبان اور عالمی اقتصادی فورم کے صدر بورگے برینڈے نے عمران خان کا شکریہ ادا کیا۔اس موقع پر عالمی اقتصادی فورم کے صدر نے وزیراعظم کی جانب سے بغیر اسکرپٹ اور پرچی دیکھے بغیر ملکی نتائج اور عزائم پر مشتمل تقریرکو سراہا۔

     

     

    https://web.facebook.com/ImranKhanOfficial/videos/198325034641845/

     

    عالمی اقتصادی فورم کے صدر بورگے برینڈے کاکہنا تھا کہ گذشتہ سال پاکستان میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ (ایف ڈی آئی) میں 70 فیصد اضافہ ہوا ہے،جس کی وجہ یقیناً جیسا کہ آپ نے کہا کہ ملک میں سیکیورٹی کی صورتحال میں بہتری ہے۔انہوں نے وزیراعظم سے سوال کیا کہ کیا وہ ملک میں سیکیورٹی کی موجودہ بہتر صورتحال کو برقرار رکھ پائیں گے تاکہ بیرونی سرمایہ کاری بالخصوص توانائی کے شعبے میں مزید ترقی ہوسکے۔

    عالمی اقتصادی فورم کے صدر بورگے برینڈے کے سوال پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 2019 نائن الیون کے بعد سے پاکستان کے لیے سب سے پرامن سال رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جب پاکستان نے امریکا کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شمولیت اختیار کی تو امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب ہوگئی اور بم دھماکے شروع ہوگئے، ایسی صورتحال میں تو بیرونی سرمایہ کاری کا سوال ہی نہیں تھا۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ اس لیے ہم سمجھتے کہ معاشی ترقی کے لیے امن کا ہونا کتنا ضروری ہے۔انہوں نے بتایا کہ سیکیورٹی کی بہتر صورتحال کی وجہ سے ملک میں سیاحت کو بھی فروغ حاصل ہوا ہے اور 2019 میں 2018 کے مقابلے میں سیاحت دگنی ہوگئی ہے۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سیاحت کے شعبے میں ترقی کے بے پناہ مواقع ہیں،یہاں مذہبی اور تاریخی سیاحت کے بے شمار مقامات ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہندو مت، بدھ مت اور سکھ مت کے بے شمار اہم مقامات ہیں جب کہ ملک میں کوہ پیمائی بھی سیاحوں کے لیے دلچسپی رکھتی ہے کیونکہ یہاں پر دنیا کی اونچی چوٹیاں موجود ہیں۔

  • امریکی صدر ٹرمپ کا کب ہو گا دورہ پاکستان؟ پہلے جائیں گے کہاں؟

    امریکی صدر ٹرمپ کا کب ہو گا دورہ پاکستان؟ پہلے جائیں گے کہاں؟

    امریکی صدر ٹرمپ کا کب ہو گا دورہ پاکستان؟ پہلے جائیں گے کہاں؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کا دورہ کریں گے تا ہم پاکستان کے دورے سے قبل وہ بھارت جائیں گے اور بھارت سے دوبارہ امریکہ واپس جائیں گے، پاکستان کے لئے انکا دورہ الگ ہو گا.

    وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی ڈاکٹر معید یوسف کا کہنا ہے کہ ورلڈاکنامک فورم میں دنیاکے بڑے سرمایہ کار آئے ہیں، صدر ٹرمپ اوروزیراعظم عمران خان کھل کربات کرتے ہیں، وزیراعظم عمران خان اورصدرٹرمپ کی ملاقات مفیدرہی،

    ڈاکٹر معید یوسف کا مزید کہنا تھا کہ امریکی صدرٹرمپ نےکہا تھوڑے وقت کیلئے پاکستان نہیں آنا چاہتا، ٹرمپ نےکہا دورہ بھارت کے بعد واپس امریکا جا کر پاکستان آؤں گا، صدرٹرمپ فروری میں پاکستان نہیں آئیں گے،

    وزیراعظم عمران خان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ڈیوس میں ملاقات ہوئی ہے، ملاقات کے دوران وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کا قومی لباس شلوار قمیض پہن رکھا تھا، وزیراعظم عمران خان نے کالے رنگ کی شلور قمیض اور نیلے رنگ ویسٹ کورٹ پہن رکھی تھی. وزیراعظم نے مشہور پشاوری چپل پہنی ہوئی تھی.

    امریکی صدر سے ملاقات کے موقع پر وزیراعظم کے قومی لباس کو سوشل میڈیا صارفین نے سراہا ہے.

    ہم اپنی سرزمین پرکسی دہشتگرد گروپ کوکام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، وزیراعظم

    نائن الیون کے بعد پاکستان نے امریکہ کی جنگ میں شامل ہو کر بہت بڑی غلطی کی، وزیراعظم عمران خان

    ایسا پہلی بار نہیں ہوا بلکہ وزیراعظم عمران خان پاکستان و بیرون ملک جہاں بھی جاتے ہیں قومی لباس ہی زیب تن کرتے ہیں ، وزیراعظم عمران خان گزشتہ برس ماہ جولائی میں امریکی صدر سے ملنے وائیٹ ہاؤس بھی پاکستان کے قومی لباس میں گئے تھے، وزیراعظم نے شلوار قمیض پہن رکھی تھی،انہوں نے نیلی شلوار قمیض کے اوپر ویسٹ کوٹ بھی پہنا ہوا ہے، وزیراعظم عمران خان صوبہ خیبر پختونخواہ کے مشہور پشاوری چپل پہن کر وائیٹ ہاوس گئے ہیں.

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اچانک پاکستان کے ہمسایہ ملک میں ، دیکھ کر سب حیران

    امریکی صدر ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کوایران سے بات چیت کا مینڈیٹ دیدیا

    کشمیر سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کیا جواب دیا؟ جان کر ہوں حیران

    وزیراعظم عمران خان نے ٹرمپ سے کشمیر بارے بڑا مطالبہ کر دیا

    وزیراعظم عمران خان کی امریکی صدر سے ملاقات خوشگوار ماحول میں ہو رہی ہے، وزیراعظم عمران خان امریکی صدر ٹرمپ سے بے تکلفانہ گفتگو کرتے رہے اور گفتگو کرتے ہوئے مسکراتے رہے

    وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات کا اعلامیہ جاری.تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں دوطرفہ تعلقات مستحکم کرنے پراتفاق ہوا .ملاقات میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال،اعلامیہ،وزیراعظم نے مسئلہ کشمیر کے حل کےلیےامریکی کردار کی ضرورت پر زوردیا، انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیرجنوبی ایشیا میں پائیدارامن ممکن نہیں،صدرٹرمپ نے مسئلہ کشمیر اورپاک بھارت کشیدگی میں کمی کیلیےتعاون کی خواہش کااعادہ کیا،ملاقات میں افغان مفاہمتی و امن عمل سے متعلق بھی تبادلہ خیال کیا گی،ملاقات میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی بات چیت کی گئی.فریقین کو تناوَکم کرنے کےلیے برداشت کا مظاہرہ اور سفارتی چینل استعمال کرنا چاہیے،

    وزیراعظم عمران خان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ڈیڑھ سال کے دوران یہ تیسری ملاقات ہے، انہوں نے ہمیشہ امریکی صدر کے سامنے پاک بھارت تنازعات میں سرفہرست کشمیر ایشو کو اجاگر کیا۔ دو ملاقاتیں امریکہ میں ہوئی تھیں،

    ڈونلڈ ٹرمپ پہلے بھی کشمیر کے معاملے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کرچکے ہیں جس پر بھارت سیخ پا ہو گیا تھا.

  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی بھی وزیراعظم عمران خان کی مداح نکلیں

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی بھی وزیراعظم عمران خان کی مداح نکلیں

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی بھی وزیراعظم عمران خان کی مداح نکلیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ کی ملاقات ہوئی ہے.

    ملاقات میں وزیراعظم کے معاون خصوصی ذلفی بخاری بھی شریک تھے،ملاقات میں پاکستان میں تعلیم وتربیت سےمتعلق ایوانکاٹرمپ کے ممکنہ پروگرام پربات چیت کی گئی. ایوانکا ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کے پاکستان بارے اقدامات کو سراہا.ملاقات میں امریکہ کے ساتھ دو طرفہ تعلقات و دیگر امور پر بات چیت کی گئی

    وزیراعظم عمران خان کی اردن کےہم منصب سےبھی ملاقات ہوئی، ملاقات میں دو طرفہ تعلقات اورباہمی دلچسپی کےامورپربات چیت کی گئی،

    وزیراعظم عمران خان سے امریکی سیکرٹری برائےٹرانسپورٹ کی بھی ملاقات ہوئی.

    وزیراعظم عمران خان سے فیس بک کےچیف آپریٹنگ آفیسرکی ملاقات ہوئی، سربراہ ڈیجیٹل پاکستان تانیہ ایدروس ودیگرارکان بھی ملاقات میں شریک ہوئے، ملاقات میں پاکستان میں فیس بک کےموثراستعمال پرتبادلہ خیال کیا گیا.

    وزیراعظم عمران خان نے عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس کے موقع پر چیف ایگزیکٹو آفیسر گلوبل ویکسین الائنس سیٹھ برکلے سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانیز سیّد ذوالفقار عباس بخاری اور سرمایہ کاری کے بارے میں سفیر عمومی علی جہانگیر صدیقی بھی موجود تھے۔

    وزیراعظم عمران خان نے چیف ایگزیکٹو آفیسر کو پاکستان میں صحت کے شعبہ کے فروغ کیلئے حکومت کی پالیسی اصلاحات کے بارے میں آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے گلوبل ویکسین الائنس کی جانب سے بچوں کیلئے مہلک تاہم قابل علاج مرض میں پاکستان کی معاونت کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان معمول کے قطرے پلانے کے شیڈول میں ٹائیفائیڈ ویکسین کو بھی شامل کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔ وزیراعظم نے ملک سے پولیو کے خاتمہ اور حفاظتی ٹیکہ جات کے ہدف کے حصول کیلئے حکومتی کوششوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت معمول کے ٹیکہ جات پروگرام کیلئے مالی اعانت کا طریقہ کار وضع کر رہی ہے۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر گلوبل ویکسین الائنس سیٹھ برکلے نے حکومت کی جانب سے کئے گئے اقدامات کا اعتراف کیا اور اپنے ادارہ کے مکمل تعاون اور حمایت کا یقین دلای

    وزیراعظم عمران خان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ڈیوس میں ملاقات ہوئی ہے، ملاقات کے دوران وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کا قومی لباس شلوار قمیض پہن رکھا تھا، وزیراعظم عمران خان نے کالے رنگ کی شلور قمیض اور نیلے رنگ ویسٹ کورٹ پہن رکھی تھی. وزیراعظم نے مشہور پشاوری چپل پہنی ہوئی تھی.

    امریکی صدر سے ملاقات کے موقع پر وزیراعظم کے قومی لباس کو سوشل میڈیا صارفین نے سراہا ہے.

    ہم اپنی سرزمین پرکسی دہشتگرد گروپ کوکام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، وزیراعظم

    نائن الیون کے بعد پاکستان نے امریکہ کی جنگ میں شامل ہو کر بہت بڑی غلطی کی، وزیراعظم عمران خان

    ایسا پہلی بار نہیں ہوا بلکہ وزیراعظم عمران خان پاکستان و بیرون ملک جہاں بھی جاتے ہیں قومی لباس ہی زیب تن کرتے ہیں ، وزیراعظم عمران خان گزشتہ برس ماہ جولائی میں امریکی صدر سے ملنے وائیٹ ہاؤس بھی پاکستان کے قومی لباس میں گئے تھے، وزیراعظم نے شلوار قمیض پہن رکھی تھی،انہوں نے نیلی شلوار قمیض کے اوپر ویسٹ کوٹ بھی پہنا ہوا ہے، وزیراعظم عمران خان صوبہ خیبر پختونخواہ کے مشہور پشاوری چپل پہن کر وائیٹ ہاوس گئے ہیں.

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اچانک پاکستان کے ہمسایہ ملک میں ، دیکھ کر سب حیران

    امریکی صدر ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کوایران سے بات چیت کا مینڈیٹ دیدیا

    کشمیر سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کیا جواب دیا؟ جان کر ہوں حیران

    وزیراعظم عمران خان نے ٹرمپ سے کشمیر بارے بڑا مطالبہ کر دیا

    وزیراعظم عمران خان کی امریکی صدر سے ملاقات خوشگوار ماحول میں ہو رہی ہے، وزیراعظم عمران خان امریکی صدر ٹرمپ سے بے تکلفانہ گفتگو کرتے رہے اور گفتگو کرتے ہوئے مسکراتے رہے

    وزیراعظم عمران خان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ڈیڑھ سال کے دوران یہ تیسری ملاقات ہے، انہوں نے ہمیشہ امریکی صدر کے سامنے پاک بھارت تنازعات میں سرفہرست کشمیر ایشو کو اجاگر کیا۔ دو ملاقاتیں امریکہ میں ہوئی تھیں،

    ڈونلڈ ٹرمپ پہلے بھی کشمیر کے معاملے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کرچکے ہیں جس پر بھارت سیخ پا ہو گیا تھا.

  • جنگ شروع ہوئی تو ختم نہیں ہو سکے گی،بھارت کا تذکرہ مناسب نہیں، وزیراعظم

    جنگ شروع ہوئی تو ختم نہیں ہو سکے گی،بھارت کا تذکرہ مناسب نہیں، وزیراعظم

    جنگ شروع ہوئی تو ختم نہیں ہو سکے گی،بھارت کا تذکرہ مناسب نہیں، وزیراعظم
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کسی جنگ نہیں بلکہ صرف امن میں شراکت دار بنے گا۔ اگر امریکا اور ایران کے درمیان جنگ چھڑ جاتی ہے تو سب کے لیے تباہ کن ہوگا، کل میں نے صدر ٹرمپ کو بتایا کہ ایران کے ساتھ جنگ تباہ کن ہوگی، افغانستان کا مسئلہ حل نہیں ہوا، ایران سے بڑا مسئلہ بنے گا۔

    عالمی اقتصادی فورم کے خصوصی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم ایران امریکا اور ایران سعودی عرب مذاکرات کی کوشش کرا رہے ہیں۔ پاکستان انتہائی اہم ممالک کے درمیان واقع ہے۔ بد قسمتی سے بھارت کے ساتھ تعلقات ایسے نہیں جیسے ہونے چاہئیں۔ اس فورم پر بھارت کے ساتھ اپنے معاملات کو تذکرہ کرنا مناسب نہیں۔ جس وقت ہمارے تعلقات بہتر ہوئے دونوں ملک انتہائی تیزی سے اوپر جائیں گے.

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ابھی دہشت گردی کا کوئی وجود نہیں۔ افغانستان میں امن کا قیام پاکستان کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ ہمسایہ ملک میں امن صرف افغان حکومت اور طالبان مذاکرات سے قائم ہو گا۔ اس میں رکاوٹیں ہیں لیکن یہ واحد حل ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ ریاستیں مسائل کا حل جنگ میں کیوں ڈھونڈ رہی ہیں، جنگ شروع کی جاسکتی ہے لیکن اسے ختم کرنا کسی کے ہاتھ میں نہیں۔ اگر کسی ملک سے شراکت کی تو جنگ کے لیے نہیں امن کے لیے کریں گے۔

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کسی جنگ کا حصہ نہیں ہو گا کیونکہ امن و استحکام کے بغیر معیشت کو مضبوط نہیں کیا جاسکتا۔ معیشت کے لیے امن کی ضرورت ہوتی ہے لیکن جب آپ کے معاشرے میں مسلح گروپ ہوں تو یہ ممکن نہیں ہوتا نائن الیون کے بعد پاکستان کو خطرناک ملک قرار دیا گیا۔ جب میں حکومت میں آیا تو یہ طے کیا کہ ہم کسی جنگ کا حصہ نہیں ہوں گے بلکہ مسائل کے حل کا حصہ ہوں گے۔ افغانستان کے امن عمل میں پاکستان امریکا کو طالبان سے مذاکرات کے لیے تعاون کررہا ہے۔ اگر کسی ملک سے شراکت کی تو جنگ کے لیے نہیں امن کے لیے کریں گے۔

    خطاب کے بعد سوال و جواب کے سیشن کے دوران وزیراعظم نے بتایا کہ انہوں نے گزشتہ روز ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں ان پر واضح کر دیا کہ اگر ایران کیساتھ جنگ ہوئی تو پورے خطے کے لیے تباہ کن ہو گی۔ اس موقع پر میزبان نے ان سے پوچھا کہ ٹرمپ کا اس پر رد عمل کیا تھا جس پر وزیراعظم نے بتایا کہ وہ خاموش رہے۔ مشرق وسطی میں کشیدگی کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے کردار ادا کررہے ہیں۔ ہم نے تہران اور ریاض میں کشیدگی کم کرانے میں مدد کی۔ ہم کبھی کسی اور کی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ اس وقت کے صدر پرویز مشرف ہمیں بتایا کرتے تھے کہ صرف چند ہفتوں کی بات ہے، اربوں ڈالرز اور لاکھوں جانیں گنوانے کے بعد ہمیں خیال آیا کہ ہم غلطی پر تھے۔ جب میں نے اقتدار سنبھالا تو پاکستان میں 10 ارب درخت لگانے کا اعلان کیا جس کے لیے خیبر پختونخوا کے ہمارے تجربے کو استعمال کیا۔ درخت لگانا ہمارے لیے دو معنوں میں ضروری ہے، ایک تو پاکستان میں ماحول کے لیے ضروری ہے اور دوسری آلودگی سے بچنے کے لیے ضروری ہے کیونکہ لاہور میں آلودگی بڑھ گئی ہے۔ آپ اپنی معیشت کو امن و استحکام کے بغیر مستحکم نہیں کرسکتے، پاکستان نے افغان جنگ میں حصہ لیا اور جب روس افغانستان سے چلاگیا تو پاکستان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں معدنیات کا بہت بڑا ذخیرہ ہے جسے کبھی دریافت ہی نہیں کیا گیا، ہمارے پاس سونے، تانبے اور کوئلہ کے بہت بڑے بڑے ذخائر ہیں، پاکستان کے پاس سب سے بہترین زرعی زمین ہے، چین کی مدد سے ہم زرعی پیداوارو کو بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ملک میں سرمایہ کاری لارہےہیں، روزگار کے مواقع پیدا کیے۔ معیشت کی بحالی پر معاشی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، وقت کے ساتھ ساتھ روپے کی قدر میں استحکام آرہا ہے۔ حکومت ملی تو ملک تاریخ کے بڑے معاشی بحران کا شکار تھا۔ عوامی رد عمل کے باوجود ہم نے سخت فیصلے کیے، اب ہماری سٹاک مارکیٹ اوپر جاری ہے اور معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے۔ خواہش ہے کمزور طبقے کو مواقع فراہم کروں۔ معاشی حالات کی بہتری کیلئے مشکل فیصلے کرنے پڑے۔ حکومت ملی تو ملک تاریخی خسارے کا شکار تھا۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کے نوجوان ہیں، 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، ہم نے اب نوجوانوں کو ہنرمند بنانے کا پروگرام ترتیب دیا ہے۔

    وزیراعظم عمران خان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ڈیوس میں ملاقات ہوئی ہے، ملاقات کے دوران وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کا قومی لباس شلوار قمیض پہن رکھا تھا، وزیراعظم عمران خان نے کالے رنگ کی شلور قمیض اور نیلے رنگ ویسٹ کورٹ پہن رکھی تھی. وزیراعظم نے مشہور پشاوری چپل پہنی ہوئی تھی.

    امریکی صدر سے ملاقات کے موقع پر وزیراعظم کے قومی لباس کو سوشل میڈیا صارفین نے سراہا ہے.

    ہم اپنی سرزمین پرکسی دہشتگرد گروپ کوکام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، وزیراعظم

    نائن الیون کے بعد پاکستان نے امریکہ کی جنگ میں شامل ہو کر بہت بڑی غلطی کی، وزیراعظم عمران خان

    ایسا پہلی بار نہیں ہوا بلکہ وزیراعظم عمران خان پاکستان و بیرون ملک جہاں بھی جاتے ہیں قومی لباس ہی زیب تن کرتے ہیں ، وزیراعظم عمران خان گزشتہ برس ماہ جولائی میں امریکی صدر سے ملنے وائیٹ ہاؤس بھی پاکستان کے قومی لباس میں گئے تھے، وزیراعظم نے شلوار قمیض پہن رکھی تھی،انہوں نے نیلی شلوار قمیض کے اوپر ویسٹ کوٹ بھی پہنا ہوا ہے، وزیراعظم عمران خان صوبہ خیبر پختونخواہ کے مشہور پشاوری چپل پہن کر وائیٹ ہاوس گئے ہیں.

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اچانک پاکستان کے ہمسایہ ملک میں ، دیکھ کر سب حیران

    امریکی صدر ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کوایران سے بات چیت کا مینڈیٹ دیدیا

    کشمیر سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کیا جواب دیا؟ جان کر ہوں حیران

    وزیراعظم عمران خان نے ٹرمپ سے کشمیر بارے بڑا مطالبہ کر دیا

    وزیراعظم عمران خان کی امریکی صدر سے ملاقات خوشگوار ماحول میں ہو رہی ہے، وزیراعظم عمران خان امریکی صدر ٹرمپ سے بے تکلفانہ گفتگو کرتے رہے اور گفتگو کرتے ہوئے مسکراتے رہے

    وزیراعظم عمران خان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ڈیڑھ سال کے دوران یہ تیسری ملاقات ہے، انہوں نے ہمیشہ امریکی صدر کے سامنے پاک بھارت تنازعات میں سرفہرست کشمیر ایشو کو اجاگر کیا۔ دو ملاقاتیں امریکہ میں ہوئی تھیں،

    ڈونلڈ ٹرمپ پہلے بھی کشمیر کے معاملے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کرچکے ہیں جس پر بھارت سیخ پا ہو گیا تھا.

  • وزیراعظم عمران خان کی ڈیووس میں عالمی اداروں کے سربراہان سے ملاقاتیں،عمران خان پراظہاراعتماد

    وزیراعظم عمران خان کی ڈیووس میں عالمی اداروں کے سربراہان سے ملاقاتیں،عمران خان پراظہاراعتماد

    ڈیوس: وزیراعظم عمران خان کی ڈیووس میں عالمی اداروں کے سربراہان سے ملاقاتیں،عمران خان پراظہاراعتماد کرکے دنیا کو ایک اہم پیغام دے دیا :وزیراعظم عمران خان نے ڈیووس میں مختلف ممالک کے سربراہان مملکت کے علاوہ عالمی اداروں کے صدور سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان ورلڈاکنامک فورم میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں موجود ہیں جہاں ان کے دورے کا دوسرا روز بھی مصروف گزرا۔

    وزیراعظم عمران خان سے یوٹیوب کی چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) سوزن وجسيكی نے بھی ملاقات کی۔ملاقات میں ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے، سیاحت کے فروغ اور سرمایہ کاری کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات میں وزیراعظم عمران خان کے ڈیجیٹل وژن پروگرام کی سربراہ تانیہ ایدرس، معاون خصوصی برائے سمندرپار پاکستانی زلفی بخاری اوربیرونی سرمایہ کاری کے اعزازی سفیر علی جہانگیر صدیقی بھی موجود تھے۔علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان نے ٹیکنالوجی کمپنی سیمنز کے سی ای او جوئے کائسر سے بھی ملاقات کی جس میں ٹیکنالوجی کے تبادلے، سرمایہ کاری اور مہارت بڑھانے کے لیے تعاون پرگفتگو کی گئی

    باغی ٹی وی کے مطابق ڈیوس میں وزیراعظم عمران خان سے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی صدر کرسٹالینا جارجیوا نے ملاقات کی۔ ملاقات میں مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر اور بیرونی سرمایہ کاری کے اعزازی سفیر علی جہانگیر صدیقی بھی موجود تھے۔

    اس کے علاوہ ذرائع کےمطابق ڈیوس میں وزیراعظم سے ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے صدر مساتسوگا آساکاوا نے بھی ورلڈ اکنامک فورم کی سائیڈ لائن پر ملاقات کی۔ وزیراعظم سے ملاقات میں پاکستان میں سرمایہ کاری سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس ملاقات میں مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ اور بیرونی سرمایہ کاری کے اعزازی سفیر علی جہانگیر صدیقی بھی موجود تھےخیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس میں شرکت کے لیے گزشتہ روز ڈیووس پہنچے تھے جہاں انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی تھی۔

  • پاکستان کسی کی جنگ نہیں لڑے گا،کشمیریوں کوبھارتی مظالم سے نجات دلانا عالمی برادری کی ذمہ داری،عمران خان کا عالمی میڈیا کونسل سے خطاب

    پاکستان کسی کی جنگ نہیں لڑے گا،کشمیریوں کوبھارتی مظالم سے نجات دلانا عالمی برادری کی ذمہ داری،عمران خان کا عالمی میڈیا کونسل سے خطاب

    ڈیووس:دنیا سن لے!پاکستان کسی کی جنگ نہیں لڑے گا،کشمیریوں کوبھارتی مظالم سے نجات دلانا عالمی برادری کی ذمہ داری ہے، عمران خان کا عالمی میڈیا کونسل سے خطاب،اطلاعات کےمطابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جن وجوہ سے ملک تباہ ہوا اس ماضی کی طرف نہیں جائیں گے، اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ کسی کی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے۔تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان آج ڈیووس، سوئٹزرلینڈ میں پاکستان اسٹریٹیجی ڈائیلاگ سے خطاب کر رہے تھے، انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بھاری نقصان اٹھایا، اس جنگ کے دوران کلاشنکوف کلچر اور منشیات نے ہمارے معاشرے کو تباہ کر دیا، جن وجوہ سے ملک تباہ ہوا اس ماضی کی طرف نہیں جائیں گے۔

    وزیر اعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ افغان جنگ سے کلاشنکوف اورمنشیات کے کلچر نے جنم لیا، جس نے ہمارے معاشرے کو تباہ کیا، 80 کی دہائی میں عسکری گروپس سے ہونے والے نقصانات آج بھی ہم بھگت رہے ہیں، پاکستانی قوم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 70 ہزار جانوں کی قربانی دی، 70 کی دہائی میں قومیائی گئی صنعتوں کے باعث ترقی کو نقصان پہنچا، اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کسی کی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے ڈیووس میں بین الاقوامی میڈیا کونسل سے خطاب میں کہا ہے کہ فوری طور پر بھارت کے ساتھ جنگ کا کوئی خطرہ نہیں، ہم پرامن طریقے کیساتھ تنازعات کا حل چاہتے ہیں۔

    پاکستان کی سابق حکومتوں نے امریکا سے وعدے کرکے غلطی کی تاہم اب دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید بہتر ہو رہے ہیں۔ ہم امریکا کے ساتھ تجارتی تعلقات کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان افغانستان کی صورتحال سے متاثر ہوتا ہے۔ افغانستان میں امن ہوگا تو وسط ایشیا تک تجارت ممکن ہوگی۔ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کے سرحدی علاقے متاثر ہوئے۔ ہماری حکومت ان علاقوں میں بحالی کے اقدامات کر رہی ہے۔

    امریکا کوافغانستان میں ناکامی ہوئی تو اس نے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ امریکا سمجھتا تھا کہ افغان مسئلے کا حل طاقت کا استعمال ہے لیکن میں نے ہمیشہ طاقت کے استعمال کی مخالفت کی۔ میرے موقف کی وجہ سے مجھے طالبان کا حامی کہا گیا۔ امریکا کو آخر کار افغان مسئلے پر مذاکرات کا راستہ نکالنا پڑا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ مجھے پتا تھا کہ بھارت کے ساتھ تعلقات کیسے بہتر کیے جا سکتے ہیں کیونکہ میرے سب سے زیادہ دوست وہاں ہیں، اس لیے اقتدار میں آنے کے بعد سب سے پہلے انڈین وزیراعظم نریندر مودی سے رابطہ کیا لیکن انہوں نے میری پیشکش کا مثبت جواب نہیں دیا۔

    وزیراعظم نے بتایا کہ پلوامہ حملے کے بعد میں نے کہا ثبوت دیں تو کارروائی کریں گے لیکن بھارت نے ثبوت دینے کے بجائے بمباری کر دی، اس کے بعد بھارت کے ساتھ معاملات زیادہ خراب اور کشیدگی بڑھ گئی۔ مودی کی غلط پالیسیوں سے حالات خراب ہوتے گئے۔ اب پلوامہ جیسے واقعات دوبارہ رونما ہونے کا خدشہ ہے۔

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مجھے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر شدید تشویش ہے۔ مودی سرکار نے 80 لاکھ کشمیریوں کو لاک ڈاؤن میں رکھا ہوا ہے۔ مودی حکومت آر ایس ایس کے نظریے پر عمل پیرا ہے۔ اس نے انتخابی مہم پاکستان سے نفرت کی بنیاد پر چلائی۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں شدید احتجاج ہو رہا ہے، حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ بھارت دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے کارروائی کر سکتا ہے۔ اقوام متحدہ ایل او سی پر اپنے مبصرین کو کیوں نہیں بھیجتا؟

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمیں امریکا اور بھارت کے تعلقات سے کوئی سروکار نہیں، امریکی صدر سے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بات ہوئی۔ فوری طور پر پاک بھارت جنگ کا خطرہ نہیں، تاہم خدشہ ہے کہ بھارت پلوامہ جیسا حملہ کرکے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرا سکتا ہے۔ایک ارب 30 کروڑ لوگوں کا ملک انتہا پسندوں کے ہاتھ میں ہے۔ بھارت میں شہریت قانون سے حالات خراب ہو رہے ہیں۔ ایل او سی پر کشیدگی کسی بھی وقت بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ امریکا اور اقوام متحدہ کو مسئلہ کشمیر کے حل میں کردار ادا کرنا چاہیے۔

    عمران خان نے کہا کہ پاکستان سیاحوں کی جنت ہے، جہاں مذہبی سیاحت کے مقامات کو کبھی فروغ نہیں ملا، پاکستان کی سرزمین کئی قدیم تہذیبوں کا مسکن ہے، سیاحت کو فروغ دے کر ملکی معیشت کو ترقی دی جا سکتی ہے، پاکستان زراعت اور قدرتی وسائل سے بھی مالامال ہے، ملک کی صنعت میں ترقی کے لیے منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایران، سعودی عرب میں تصادم روکنے کے لیے پاکستان نے کردار ادا کیا، افغانستان میں امن سے پاکستان کی وسط ایشیائی ریاستوں تک رسائی ممکن ہوگی۔

  • مقبوضہ کشمیرمیں کرفیوکا171واں روز،ایک ہی دن میں‌ 5 کشمیری شہید 50 سے زائد زخمی سوشل میڈیاپرتحریک اپنے عروج پر

    مقبوضہ کشمیرمیں کرفیوکا171واں روز،ایک ہی دن میں‌ 5 کشمیری شہید 50 سے زائد زخمی سوشل میڈیاپرتحریک اپنے عروج پر

    سری نگر:مقبوضہ کشمیرمیں کرفیوکا171واں روز،ایک ہی دن میں‌ 5 کشمیری شہید 50 سے زائد زخمی سوشل میڈیاپرتحریک ، اطلاعات کےمطابق مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی جارحیت کو6 ماہ مکمل ہونے والےہیں تاہم بھارت کی جانب سے کیےجانے والےمظالم کا سلسلہ نہیں رک سکا۔ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کو آج 171 دن مکمل ہوگئے۔

    https://twitter.com/salamtalat1/status/1219862556610789376?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1219862556610789376&ref_url=http%3A%2F%2Fwww.bolnews.com%2Furdu%2Ftrending-on-social-media%2F2020%2F01%2F346821%2F

    تفصیلات کے مطابق قابض بھارتی افواج اورمودی حکومت پہ چھائی مظلوم کشمیریوں کی ہیبت کا یہ عالم ہے کہ وہ کرفیو میں معمولی سی بھی نرمی دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔مظلوم کشمیری 171 دنوں سے موبائل، انٹرنیٹ اور یہاں تک کہ کھانے پینےتک سے محروم ہیں۔وادی کشمیرمیں جگہ جگہ بھارتی فوجی تعینات ہیں، کشمیریوں کا کہنا ہے وہ تمام رکاوٹیں توڑ کر آزادی حاصل کر کے ہی رہیں گے۔

    وادی میں نام نہاد سرچ آپریشن اور پکڑ دھکڑ کا سلسلہ بھی جاری ہےاور حالات تاحال کشیدہ ہیں۔وادی میں خوراک اور ادویات کی قلت بھی برقرار ہے اور بھارتی غاصب فورسز کی جانب سے مظالم کی شدت میں مزید اضافہ بھی کر دیا گیا ہے۔ وادی میں موبائل فون، انٹرنیٹ سروس بند اور ٹی وی نشریات تاحال معطل ہیں۔

    مقبوضہ کشمیر میں آزادی کے نعروں کی گونج ہے، کشمیریوں میں بھارتی مظالم کے خلاف ڈٹے رہنے کا عزم ہے، دھڑا دھڑگرفتاریوں کے باوجود کشمیریوں کے حوصلے چٹان کی طرح مضبوط ہیں۔ کشمیری پاکستانی پرچم تھامے آزادی کے حق میں اور ’’گو انڈیا گو‘‘ کے نعرے لگا رہے ہیں۔مقبوضہ وادی میں مظلوم کشمیریوں کودواؤں ،کھانےپینےکی اشیا کی شدید قلت کاسامناہے۔مقبوضہ وادی کےمظلوم مکین اپنی بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہوگئے۔ مقبوضہ وادی میں نظام زندگی بری طرح مفلوج ہوگیا۔

    https://twitter.com/Sikanda07025600/status/1219891034139906054?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1219891034139906054&ref_url=http%3A%2F%2Fwww.bolnews.com%2Furdu%2Ftrending-on-social-media%2F2020%2F01%2F346821%2F

    دوسری جانب مقبوضہ وادی میں ظلم و ستم اور 171 روز سے جاری رہنے والا کرفیو سوشل میڈیا پر بھی تحریک بن کے ابھرا ہے۔ اس وقت #171DaysOfKashmirSiege ٹاپ ٹرینڈ بنا ہوا ہے اور پوری دنیا سےبھارتی جارحیت کی مذمت کی جارہی ہے۔

    https://twitter.com/sherni02/status/1219890717067239424?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1219890717067239424&ref_url=http%3A%2F%2Fwww.bolnews.com%2Furdu%2Ftrending-on-social-media%2F2020%2F01%2F346821%2F

    واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے کشمیریوں کی خصوصی حیثیت کو5 اگست کوحکمران انتہا پسندجماعت بے جے پی نےآرٹیکل 370 راجیہ سبھا میں پیش کرنےسےپہلے ہی یک طرفہ فیصلے کے تحت صدارتی حکم نامہ جاری کرکےختم کردیاتھا۔بھارت نےکشمیریوں کے خصوصی حقوق سے متعلق آئین کے آرٹیکل 370کو ختم کرکے مقبوضہ جموں وکشمیراور لداخ کودولخت کرکے بھارتی یونین میں شامل کرلیا۔بھارت کے اس اقدام کی عالمی سطح پرمذمت کی گئی اور کشمیر پراقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں دو مرتبہ اجلاس بلایا گیا لیکن بھارت کے کانوں میں جوں تک نہ رینگی اور اسکی ہٹ دھرمی برقرار ہے۔

    https://twitter.com/sherni02/status/1219890129864744960?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1219890129864744960&ref_url=http%3A%2F%2Fwww.bolnews.com%2Furdu%2Ftrending-on-social-media%2F2020%2F01%2F346821%2F

    باغی ٹی وی کےمطابق ادھرمقبوضہ کشمیر میں نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران جارحیت پسند بھارتی فوج کی فائرنگ سے 5کشمیری نوجوان شہید ہوگئے ہیں کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جنت نظیر وادی کے ضلع پلوامہ میں بھارتی فوج نے دیگر سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر سرچ آپریشن کیا اور گھر گھر تلاشی لی جس کے دوران جارحیت پسند فوج نے فائرنگ کر کے مزید دو کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔

    https://twitter.com/sherni02/status/1219870702771359749?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1219870702771359749&ref_url=http%3A%2F%2Fwww.bolnews.com%2Furdu%2Ftrending-on-social-media%2F2020%2F01%2F346821%2F

    قبل ازیں اسی علاقے میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے قابض بھارتی فوج کے دو اہلکار زخمی ہوگئے تھی جنہیں انتہائی نازک حالت میں ملٹری اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ اس واقعے کے بعد بھارتی سیکیورٹی فورسز نے ضلع کے داخلی و خارجی راستوں کو بند کرکے سرچ آپریشن کیا۔

    https://twitter.com/sherni02/status/1219890847786905600?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1219890847786905600&ref_url=http%3A%2F%2Fwww.bolnews.com%2Furdu%2Ftrending-on-social-media%2F2020%2F01%2F346821%2F

    ادھر سری نگر سے ذرائع کےمطابق ضلع شوپیاں میں بھی سرچ آپریشن کے دوران ایک مکان کو بارودی مواد کے دھماکے سے اُڑا دیا گیا ، بھارتی فوج نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ براہ راست گولیوں کا نشانہ بناکر 3 نوجوانوں کو شہید کر دیا تھا۔

  • وزیر اعظم اور امریکی صدر کی ملاقات کا اعلامیہ جاری . اہم امور پر اتفاق

    وزیر اعظم اور امریکی صدر کی ملاقات کا اعلامیہ جاری . اہم امور پر اتفاق

    وزیر اعظم اور امریکی صدر کی ملاقات کا اعلامیہ جاری . اہم امور پر اتفاق

    باغی ٹی وی :وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات کا اعلامیہ جاری.تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں دوطرفہ تعلقات مستحکم کرنے پراتفاق ہوا ..ملاقات میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال،اعلامیہ،وزیراعظم نے مسئلہ کشمیر کے حل کےلیےامریکی کردار کی ضرورت پر زوردیا، انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیرجنوبی ایشیا میں پائیدارامن ممکن نہیں،صدرٹرمپ نے مسئلہ کشمیر اورپاک بھارت کشیدگی میں کمی کیلیےتعاون کی خواہش کااعادہ کیا،ملاقات میں افغان مفاہمتی و امن عمل سے متعلق بھی تبادلہ خیال کیا گی،ملاقات میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی بات چیت کی گئی.فریقین کو تناوَکم کرنے کےلیے برداشت کا مظاہرہ اور سفارتی چینل استعمال کرنا چاہیے،

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اچانک پاکستان کے ہمسایہ ملک میں ، دیکھ کر سب حیران

    امریکی صدر ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کوایران سے بات چیت کا مینڈیٹ دیدیا

    کشمیر سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کیا جواب دیا؟ جان کر ہوں حیران

    وزیراعظم عمران خان نے ٹرمپ سے کشمیر بارے بڑا مطالبہ کر دیا

    واضح‌رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات میں‌ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے،ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کرانے کے لیے تیار ہیں،پاکستان خطے کے امن واستحکام کے لیے کردارادا کرتا رہے گا، امریکی صدر ٹرمپ کیساتھ ملاقات میں افغان امن عمل اور کشمیر کے مسئلے پر بات ہوگی۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس موقع پر کہا کہ عمران میرے دوست ہیں ملاقات کرکےخوشی ہوتی ہے ،پہلےہم پاکستان کے اتنےقریب نہیں تھے جتنا اب ہیں ، پاک بھارت تنازع حل کرنے کیلےتیارہیں ۔

  • چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی، وزیراعظم کے ساتھ ہو گیا "ہاتھ” نواز شریف کا قریبی بنا چیف الیکشن کمشنر

    چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی، وزیراعظم کے ساتھ ہو گیا "ہاتھ” نواز شریف کا قریبی بنا چیف الیکشن کمشنر

    چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی، وزیراعظم کے ساتھ ہو گیا "ہاتھ” نواز شریف کا قریبی بنا چیف الیکشن کمشنر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے موقع پر ایک بار پھر کپتان کے ساتھ ہاتھ ہو گیا، نواز شریف کے سابق پرنسپل سیکرٹری کے داماد سکندر سلطان راجہ کا نام وزیراعظم نے کس کے کہنے پر دیا؟ چہ میگوئیاں جاری ہیں.

    سابق وزیراعظم نواز شریف کے سابق پرنسپل سیکرٹری کے داماد، آصف زرداری کے ساتھ گھوڑوں اور اصطبل کیس میں گرفتار رہنے والے سعید مہدی کے داماد ،چوہدری نثار علی خان کے یار غار ، مقتدر حلقوں کے منظور نظر سکندر سلطان راجہ چیف الیکشن کمشنر نامزد ہو گئے ،نام تحریک انصاف نے دیا ، لیکن امیدوار ن لیگ اور پیپلزپارٹی کا قریبی نکلا

    وزیراعظم عمران خان کو چکما کس نے دیا ،کپتان کیوں بے خبر رہے ،کیا تحریک انصاف کے ساتھ ہاتھ ہو گیا ؟ یہ آنے والے وقت میں پتہ چلے گا، سکندر سلطان راجہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے قریب سمجھے جاتے ہیں اس لئے اپوزیشن نے انکے نام کو قبول کر لیا

    اسلام آباد سے ایک صحافی نے دعویٰ کیا کہ سکندر سلطان راجہ فواد حسن فواد کے بیج میٹ ہیں اور فواد حسن فواد کو عدالت نے رہا کرنے کا حکم دیا جس پر شہباز شریف نے مسرت کا اظہار کیا.صحافی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کا ایک بھائی ڈی آئی جی ہے جبکہ دوسرا بھائی ایف آئی اے کا ڈائریکٹر ہے اور ان کے عزیز سی ڈی اے کے چیئرمین ہیں، سکندر سلطان راجہ شہبازشریف کے کافی قریب سمجھے جاتے ہیں.

    برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق جہاں کچھ حلقے نامزد چیف الیکشن کمشنر کو حکومت کے قریب سمجھتے ہیں وہیں کئی لوگ ان کو سابق حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے قریب بھی تصور کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ گذشتہ حکومت کے دور میں بھی اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ سکندر سلطان راجہ کے سُسر سعید مہدی سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری رہ چکے ہیں۔ان کے ایک بھائی فخر وصال سلطان راجہ پولیس سروس میں ہیں اور راولپنڈی میں ریجنل پولیس افسر کے عہدے پر بھی تعینات رہ چکے ہیں جبکہ ان کے ایک برادرِ نبستی عامر علی احمد اس وقت اسلام آباد میں چیف کمشنر کے عہدے پر فائز ہیں۔

    وزیراعظم عمران خان کسی غیر متنازعہ اور غیر سیاسی شخص کو چیف الیکشن کمشنر بنانا چاہتے تھے، ڈیڑھ ماہ کا عرصہ گزر گیا کوئی فیصلہ نہ ہوا لیکن آخر میں نواز شریف کے قریبی کا نام جب وزیراعظم نے دیا تو اپوزیشن نے دیر نہ لگائی اور فوری منظوری دے دی.

    چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے لئے شہباز شریف نے تین نام تجویز کیے تھے جو وزیراعظم نے رد کئے بعد ازاں وزیراعظم نے تین نام دیئے، ان پر بھی اتفاق نہ ہو سکا،بعد ازاں حکومت و اپوزیشن دونوں نے اپنے نام واپس لئے اور ایک بار پھر نئے نام دیئے جس کے بعد سکندر سلطان راجہ کو چیف الیکشن کمشنر تعینات کرنے کا اعلان کیا گیا، سکندر سلطان راجہ کے نام پر اپوزیشن نے بھی اتفاق کیا، وزیراعظم کی جانب سے نام پیش کرنے کے صرف چار دن بعد فیصلہ ہو گیا.

    وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کو لکھے گئے خط میں 3 نام تجویز کئے گئے تھے، جس کے جواب میں شہباز شریف کے خط میں حکومت کو کہا گیا تھا کہ 25 نومبر کو شروع ہونے والے عمل کو غیر ضروری طور پر التوا کا شکار کیا جا رہا ہے، اپوزیشن کے ناموں پر بھی نظرثانی کی جائے۔ شہباز شریف نے ناصر کھوسہ، اخلاق تارڑ اور عرفان قادر کے نام تجویز کئے تھے تاہم بعد ازاں حکومت اور اپوزیشن کے مابین رابطوں میں موجودہ ناموں پر اتفاق طے پا گیا۔

    یہ بات قابل ذکر ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ 6 دسمبر سے خالی ہے جبکہ سندھ اور بلوچستان کے الیکشن کمیشن ممبران کی تقرریاں بھی گزشتہ ایک برس سے نہیں ہو سکی تھیں۔

    سکندر سلطان راجہ نے چیف سیکرٹری کے عہدے پر بھی اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ نئے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ یکم دسمبر 1959ء کو پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق صوبہ پنجاب کے ضلع سرگودھا سے ہے۔ انہوں نے 4 جون 1987ء کو پاکستان سول سروس جوائن کی اور 30 نومبر 2019ء کو گریڈ بائیس کے افسر کی حیثیت سے ریٹائرڈ ہوئے۔ اپنی مدت ملازمت کے دوران سکندر سلطان راجہ سیکرٹری پیٹرولیم، سیکرٹری ریلوے، چیف سیکرٹری آزادکشمیر اور گلگت بلتستان بھی رہے۔

  • ٹرمپ کی وزیراعظم سے ملاقات میں ایک بار پھر کشمیر پر ثالثی کی پیشکش

    ٹرمپ کی وزیراعظم سے ملاقات میں ایک بار پھر کشمیر پر ثالثی کی پیشکش

    ٹرمپ کی وزیراعظم سے ملاقات میں ایک بار پھر کشمیر پر ثالثی کی پیشکش،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات میں‌ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے،ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کرانے کے لیے تیار ہیں،پاکستان خطے کے امن واستحکام کے لیے کردارادا کرتا رہے گا، امریکی صدر ٹرمپ کیساتھ ملاقات میں افغان امن عمل اور کشمیر کے مسئلے پر بات ہوگی۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس موقع پر کہا کہ عمران میرے دوست ہیں ملاقات کرکےخوشی ہوتی ہے ،پہلےہم پاکستان کے اتنےقریب نہیں تھے جتنا اب ہیں ، پاک بھارت تنازع حل کرنے کیلےتیارہیں ۔

    امریکی صدر نے ایک بار کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کی اور کہا کہ میں اس کے لئے کردار ادا کر سکتا ہوں،

     

    وزیراعظم عمران خان 21 سے 23 جنوری تک سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیوس میں منعقدہ عالمی اقتصادی فورم میں شرکت کریں گے۔ عالمی اقتصادی فورم کے بانی و انتظامی چیئرمین کلاز شواب نے وزیراعظم کو عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کی دعوت دی ہے۔

    اس سال فورم کا موضوع ’سٹیک ہولڈر برائے مربوط و پائیدار دنیا‘ مقرر کیا گیا ہے۔ رواں سال یہ اجلاس فورم عالمی اقتصادی فورم کی 50 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد ہو رہا ہے۔ فورم سے سیاسی رہنما، بزنس ایگزیکٹوز، بین الاقوامی اداروں کے سربراہان اور سول سوسائٹی کے نمائندے عصر حاضر کے اقتصادی، جیو پولیٹیکل، سماجی اور ماحولیاتی مسائل پر تبادلہ خیال کریں گے۔

    وزیراعظم عمران خان کے اس دورے کے دوران عالمی اقتصادی فورم کے خصوصی سیشن میں شریک ہوں گے۔ اس کے علاوہ وہ بڑی کمپنیوں کے سی ای اوز اور کارپوریٹ رہنماﺅں سے پاکستان سٹریٹجک ڈائیلاگ بھی کریں گے۔ اس دورے کے دوران وہ متعدد عالمی رہنماﺅں سے دوطرفہ ملاقاتیں کریں گے۔

    وزیراعظم بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے کارپوریٹ، بزنس، ٹیکنالوجی اور مالیاتی ایگزیکٹوز و نمائندوں سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔ عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر وزیراعظم عمران خان پاکستان کے بارے میں اپنے وژن اور معیشت، امن و استحکام، تجارت، بزنس اور سرمایہ کاری کے مواقع کے بارے میں پاکستان کی کامیابیوں اور پاکستان میں دستیاب مواقع کے بارے میں اپنے وژن سے آگاہ کریں گے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اچانک پاکستان کے ہمسایہ ملک میں ، دیکھ کر سب حیران

    امریکی صدر ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کوایران سے بات چیت کا مینڈیٹ دیدیا

    کشمیر سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کیا جواب دیا؟ جان کر ہوں حیران

    وزیراعظم عمران خان نے ٹرمپ سے کشمیر بارے بڑا مطالبہ کر دیا

    وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال اور اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر پاکستان کے نکتہ نظر کے حوالے پر بھی روشنی ڈالیں گے۔

    ہم اپنی سرزمین پرکسی دہشتگرد گروپ کوکام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، وزیراعظم

    نائن الیون کے بعد پاکستان نے امریکہ کی جنگ میں شامل ہو کر بہت بڑی غلطی کی، وزیراعظم عمران خان

    واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دو ملاقاتیں ہو چکی ہیں،گزشتہ دنوں افغان طالبان نے اپنے تین قیدیوں کے بدلے 2 غیر ملکی پروفیسرز کو رہا کیا ہے جس کا پاکستان نے خیرمقدم کیا تھا۔ امریکی صدر وزیراعظم عمران خان سے کشمیر پر ثالثی کے حوالہ سے پیشکش کر چکے ہیں لیکن بھارت انکاری ہے