Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • کشمیرمیں کرفیو کا 86 واں دن،نہ غذا نہ دوا،دنیا خاموش،بہت افسوس،بہت افسوس

    سری نگر: مقبوضہ وادی میں بھارتی لاک ڈاؤن 86 ویں روز میں داخل ہوگیا،دوسری طرف کشمیری آج یوم سیاہ بھی منارہے ہیں ، کشمیری روز مرہ کی ضروری اشیاء خریدنے سے قاصر ہیں، دودھ بچوں کی خوراک، ادویات سب ختم ہوچکا ہے۔ وادی میں لاک ڈاؤن کے باعث کشمیریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔قابض انتظامیہ کی جانب سے لوگوں کو مظاہرے سے روکنے کیلئے وادی میں سخت پابندیاں نافذ کردی گئی ہیں اور ہر طرف فوج ہی فوج نظر آرہی ہے،کشمیرکا ہر چوک ہر بازار اور ہر موڑ اس وقت بھارتی مظالم کے خلاف احتجاج کرتا نظرآرہا ہے ،

    مصنوعی کیلشئیم ۔ خون کی شریانوں کے امراض کا خطرہ

    ذرائع کے مطابق پاکستان اور ایل او سی کے دونوں جانب کشمیریوں نے کل اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر منایا ہے ، صدر نے اپنے پیغام میں کہا کہ کشمیریوں کا مقدمہ پاکستان کا مقدمہ ہے، اسے ہر فورم پر اٹھائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر عالمی برادری سے کشمیر میں بھارتی مظالم ختم کرانے کا مطالبہ کر دیا۔

    حریت کانفرنس نے لال چوک کی جانب مارچ کا اعلان کیا ہے، پاکستان میں بھی شہر شہر ریلیاں اور مظاہرے کئے گئے ہیں۔بھارت نے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو بار بار دبانے کے کوشش کی ، مگر 1989 سے کشمیریوں نے اس تحریک کو اس نہج پر کھڑا کیا کہ ہر آنے والے دن یہ تحریک مضبوظ ہورہی ہے، ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرمیں 1989 سےاب تک ایک لاکھ شہادتیں ہوچکی ہیں، مقبوضہ کشمیرمیں 3 دہائیوں میں 11 ہزار خواتین کی عصمت دری کی گئی۔

    طوفانی بارشوں سے تباہی،7 افراد ہلاک

    خیال رہے کہ کل پاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم سیاہ کشمیر منایاگیا، 27 اکتوبر 1947 کو بھارت نے جموں و کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیا تھا، رواں سال 5 اگست کو بھارت نے ایک اور مذموم قدم اٹھا کر مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر کے اسے بھارت کا حصہ بنایا اور اس کے بعد سے وادی میں مسلسل کرفیو نافذ ہے۔

    تفصیلات کے مطابق جنت نظیروادی کشمیر کو بھارتی فورسز نے قیدخانے میں تبدیل کردیا ہے، مسلسل بیاسی روز سے 80 لاکھ افراد کرفیو تلے زندگی گزارنے پر مجبورہیں، قابض بھارتی فورسزکی کشمیریوں پر ہر گزرتے دن کیساتھ سختیاں اور مظالم بڑھتے جارہے ہیں، نہ بچے اسکول جاسکتے ہیں اور نہ ہی مریض سپتال۔

    مسجد کے باہر فائرنگ سے 2 افراد زخمی

    کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ علاقے میں بڑی تعداد میں بھارتی فوجیوں کی تعیناتی کے خوف اور غیر یقینیت کا ماحول اور رات گئے چھاپوں، ظلم و تشدد اور گرفتاریوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، دفعہ 144کے تحت سخت پابندیوں کا نفاذ اورانٹرنیٹ اور پری پیڈ موبائیل فون سروسز بھی بدستور معطل ہیں۔

    مقبوضہ علاقے میں صورتحال کو معمول پر لانے کی قابض انتظامیہ کی کوششوں کے باوجود کشمیری بھارتی تسلط اور کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے کے مودی حکومت کے 5اگست کے غیر قانونی اقدام کیخلاف سول نافرمانی کی پر امن تحریک جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    دکانیں اور کاروباری مراکز دن بھر بیشتر وقت بند رہتی ہیں جبکہ سڑکوں پرکوئی پبلک ٹرانسپورٹ مشکل ہی نظر آتی ہے، آبادیوں میں جعلی آپریشن ہورہے ہیں، رہنماؤں سمیت گیارہ ہزار کشمیری جیلوں میں قید ہیں، ڈھائی ماہ سے کشمیریوں کو نماز جمعہ ادا کرنے نہیں دی جارہی ہے، بھارتی مظالم کیخلاف نماز جمعہ کے بعد احتجاج کیا جائے گا۔

    امریکی سینیٹرکرس وان ہولین نے گزشتہ ہفتے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت حال پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ کشمیرمیں کرفیو ہٹا کر انسانی حقو ق کے نمائندے بھیجے جائیں۔یاد رہے کہ گزشتہ دنوں بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے نئی دہلی جانے والے امریکی سینیٹر کو وادی کا دورہ کرنے سے روک دیا تھا۔

    دوسری طرف 5 اگست سے ،جب بھارت کی حکومت نے آرٹیکل 370 کے تحت جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کردیا ،کشمیر میں نجی شعبے میں کام کرنے والے ایک لاکھ سے زیادہ افراد اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

    کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز (کے سی سی آئی)کے ابتدائی جائزے کے مطابق 5 اگست کے بعد سے عائد پابندیوں ، شٹ ڈاؤن اور مواصلات کی معطلی کی وجہ سے ، سیاحت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ کے سی سی آئی کے صدر ، شیخ عاشق نے بتایاکہ ہمارے تخمینے کے مطابق پچھلے تین ماہ کے دوران ملازمتوں میں ایک لاکھ سے زیادہ کی کمی ہوئی ہے ۔

    سیاحت کا شعبہ جس سے تقریباً پانچ لاکھ افراد کاروزگار وابستہ ہے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے ۔ سیاحت کے شعبے میں اب تک ملازمتوں میں پچاس ہزارکے قریب کمی کی اطلاع ملی ہے۔ اگر صورتحال میں بہتری نہیں آئی تو تعداد بڑھ سکتی ہے۔ وادی میں1100 ہوٹلوں میں سے تقریبا 80 فیصد تین ماہ سے بند ہیں۔ انہوں نے ساؤتھ ایشین وائر کو بتایا کہ یہاں تقریباً 300 ریسٹورانٹ، 900 ہاؤس بوٹ ، 600 شکارا کشتیاں اور 5000 ٹیکسیاں ہیں ، جن کا براہ راست انحصار سیاحت پر ہے۔

    کے سی سی آئی کے صدر نے مزید بتایاکہ سیاحت کے علاوہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں کام کرنے والے دیگر نجی دفاتر بند کر دیے گئے ہیں۔ مختلف کورئیر سروسز میں کام کرنے والے تقریباً 3000 لڑکے بیکار بیٹھے ہیں ، انٹرنیٹ سروسز کی معطلی کی وجہ سے ، تمام ای کامرس کمپنیوں نے وادی میں سروسز کی فراہمی بند کردی ہے۔ نجی اسکولوں میں کام کرنے والے اساتذہ کو خدشہ ہے کہ اگر صورتحال ایسے ہی رہی تو انہیں ملازمت سے برطرف کردیا جائے گا۔ نجی اسکول کی ایک استاد شازیہ نے بتایاکہ انہیں پچھلے دو ماہ سے تنخواہیں نہیں دی گئیں۔

    جب نیوز ایجنسی نے اسکول کی انتظامیہ سے رابطہ کیا تو انہوں نے شکوہ کیا کہ طلبا پچھلے تین ماہ سے واجبات جمع نہیں کرواسکے ہیں ، جس وجہ سے وہ اساتذہ کو تنخواہیں دینے سے قاصر ہیں۔ 5 اگست کے بعد سے ، کاروباری ادارے ، پبلک ٹرانسپورٹ ،تعلیمی ادارے اور دکانیں اپنے "اوپن اینڈ شٹ شیڈول” کے تحت بند ہیں۔ بیشتر دکانیں اورکاروباری ادارے صبح 7 بجے سے صبح 10 بجے تک کھلے رہتے ہیں ، لیکن دن میں بند رہتے ہیں ايک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ2011 کی مردم شماری کے مطابق وادی کشمیر کی آبادی 70 لاکھ افراد پر مشتمل ہے اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وادی میں معاشی شعبوں سے تقریباً20 لاکھ افراد اپنا روزگار کماتے ہیں۔

  • بھارت شرارت سے پھرباز نہ آیا، قوم کے پاسبانوں کی طرف سے منہ توڑ جواب،آئی ایس پی آر

    بھارت شرارت سے پھرباز نہ آیا، قوم کے پاسبانوں کی طرف سے منہ توڑ جواب،آئی ایس پی آر

    راولپنڈی:قوم سورہی ہے اور پاسبان جاگ رہے ہیں ، اپوزیشن سیاست کررہی ہے اور پاک فوج ان کی حفاظت کررہی ہے، اطلاعات کے مطابق آج رات عشاء کے بعد بھارتی فوج کی طرف سے پاکستانی سرحدی چوکیوں پر فائرنگ کی پھر شرارت کی گئی

    افواج پاکستان کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری کئے گئے اعلامیے کے مطابق آج رات بھارت فوج نے لائن آف کنٹرول بگسار سیکٹر کے علاقے میں سویلین آبادی پربہت زیادہ فائرنگ کی جس کی زد میں آکر ایک خاتون سمیت تین افراد زخمی ہوگئے ، یہ تینوں افراد ضلع بھمبھرکی تحصیل سماہنی کے علاقے منڈیکا گاوں کے رہائشی تھے

    یاد رہے کہ چند دن قبل ایسے ہی بھارتی فوج نے رات کی تاریکی میں اس وقت پاکستانی علاقوں پر شدید حملہ کردیا جب پاکستانی قوم بڑے سکون سے سورہی تھی ، اس دوران پاک فوج کے جوانوں ملت کے پاسبانوں نے سخت جواب دیتے ہوئے بھارتی افسرسمیت 9 سے زائد فوجی پھڑکا دیئے تھے ، اس واقعہ کی دلچسپی کی بات یہ تھی کہ قوم کواگلے دن اس وقت پتہ چلا جب بھارت نے اپنے فوجیوں کی لاشوں کو ڈھیرہوتے دکھایا

  • این آر او ملے گا یا نہیں وزیر اعظم نے اعلان کردیا

    این آراو ملے گا یا نہیں وزیر اعظم نے اعلان کردیا

    وزیرا اعظم عمران خان نے بابا گرو نانک یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے کہا ہے کہ جو کچھ مرضی کر لیں این آرو نہیں ملے گا. سب سے کم مہنگائی پی ٹی آئی کے دور میں ہوئی ہے.نواز شریف اور پیپلز پارٹی کے دور میں سب سے زیادہ مہنگائی ہے ہوئے ہے ان کے ادوار کے پہلے سال کو دیکھ لیں. وزیرا عظم نےکہا کہ آزادی مارچ کا کیا مقصد ہے ، ان لوگوں سے حکومت کی کامیابی برداشت نہیں ہو رہی. اسی لیے ملک کو بد امنی اور عدم استحکام کی طرف لے کر جارہے ہیں.

    آج بابا گرو نانک یونیورسٹی کا افتتاح کون کرے گی اہم شخصیت اور کون کون ہے مدعو!خبرآگئی

    .باباگرونانک یونیورسٹی میں جدید تعلیم بھی دی جائے گی.ہر درگاہ کے پاس اوقاف کی زمین موجود ہے جس پریونیورسٹی بنائی جائے،اولیا نے اپنی ساری زندگی انسانوں کےلیے گزاری،ننکانہ صاحب میں بابا گورو نانک یونیورسٹی کے افتتاح پر وزیرا رعظم کے ساتھ وزیراعلیٰ عثمان بزدار،گورنر پنجاب ،وفاقی وزیرداخلہ اورمعاون خصوصی اطلاعات بھی ہمراہ تھیں..وزیراعظم عمران خان کوباباگورونانک یونیورسٹی کےمنصوبے پربریفنگ بھی دی گئی.باباگرونانک یونیورسٹی 3مراحل میں مکمل ہوگی.جس پر تعمیرپر6ارب روپے لاگت آئے گی..

    کرپشن پر سزایافہ مگر اجازت بھی مل گئی؛کیا معاملہ ہے ؟

    انہون نےکہا کہ اولیانے ساری زندگی انسانیت کی خدمت کی اور اپنی زندگی انسانوں کےلیے گزاری،
    باباگرونانک یونیورسٹی میں جدید تعلیم بھی دی جائے گی، ماضی میں بدقسمتی سے تعلیم کو ترجیح نہیں دی گئی، تعلیم کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا،

  • آج بابا گرو نانک یونیورسٹی کا افتتاح کون کرے گی اہم شخصیت اور کون کون ہے مدعو!خبرآگئی

    اسلام آباد :پاکستان کی موجودہ حکومت نے یہ ثابت کردیا ہےکہ اس ملک میں اقلیتوں کو تمام بنیادی حقوق حاصل ہیں‌، اس ملک میں بسنے والے قادیانی ہوں یاسکھ ہندوہوں یا عیسائی سب کے بنیادی حقوق کا خیال رکھنا اس حکومت کا اعزاز ہے ،

    وزیراعلیٰ کی بیٹی اور بہن گرفتار

    اقلیتوں کے انہیں حقوق کی پاسداری کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان آج باباگرونانک یونیورسٹی کاافتتاح کریں گے، جس کے لئے انتظامات مکمل کر لئے گئے ، باباگرونانک یونیورسٹی دیگر شعبہ جات میں مذہبی رواداری کابھی گہوارہ بنے گی۔ ننکانہ صاحب میں یونیورسٹی کی تقریب کے انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں، عمران خان بابا گرونانک یونیورسٹی کی تقریب سےخطاب بھی کرینگے

    کرپشن پر سزایافہ مگر اجازت بھی مل گئی؛کیا معاملہ ہے ؟

    افتتاحی تقریب میں وزیر اعلیٰ پنجاب، وفاقی ، صوبائی وزرا اور غیر ملکی سفیر شرکت کریں گے، وفاقی وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ تقریب کے مہمانوں کا استقبال کریں گے۔یاد رہے پاکستان اور بھارت کے درمیان کرتارپور رہداری کے معاہدہ پر دستخط ہوگئے ہیں ، ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا تھا کہ آج بڑی خوشی کا دن ہے ، وزیراعظم کے وعدے کے مطابق امعاہدہ پر دستخط کردئیے۔

    دھرنے کو کیسے کنٹرول کرنا ہے وفاقی حکومت نے اہم فیصلے کرلیئے

  • کشمیرمیں کرفیو کا 85 واں دن،نہ غذا نہ دوا، کشمیری مررہے ہیں ،دنیا بے پروا

    سری نگر: مقبوضہ وادی میں بھارتی لاک ڈاؤن 85 ویں روز میں داخل ہوگیا،دوسری طرف کشمیری آج یوم سیاہ بھی منارہے ہیں ، کشمیری روز مرہ کی ضروری اشیاء خریدنے سے قاصر ہیں، دودھ بچوں کی خوراک، ادویات سب ختم ہوچکا ہے۔ وادی میں لاک ڈاؤن کے باعث کشمیریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔قابض انتظامیہ کی جانب سے لوگوں کو مظاہرے سے روکنے کیلئے وادی میں سخت پابندیاں نافذ کردی گئی ہیں اور ہر طرف فوج ہی فوج نظر آرہی ہے،کشمیرکا ہر چوک ہر بازار اور ہر موڑ اس وقت بھارتی مظالم کے خلاف احتجاج کرتا نظرآرہا ہے ،

    ذرائع کے مطابق پاکستان اور ایل او سی کے دونوں جانب کشمیریوں نے کل اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر منایا ہے ، صدر نے اپنے پیغام میں کہا کہ کشمیریوں کا مقدمہ پاکستان کا مقدمہ ہے، اسے ہر فورم پر اٹھائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر عالمی برادری سے کشمیر میں بھارتی مظالم ختم کرانے کا مطالبہ کر دیا۔

    وزیراعلیٰ کی بیٹی اور بہن گرفتار

    حریت کانفرنس نے لال چوک کی جانب مارچ کا اعلان کیا ہے، پاکستان میں بھی شہر شہر ریلیاں اور مظاہرے کئے گئے ہیں۔بھارت نے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو بار بار دبانے کے کوشش کی ، مگر 1989 سے کشمیریوں نے اس تحریک کو اس نہج پر کھڑا کیا کہ ہر آنے والے دن یہ تحریک مضبوظ ہورہی ہے، ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرمیں 1989 سےاب تک ایک لاکھ شہادتیں ہوچکی ہیں، مقبوضہ کشمیرمیں 3 دہائیوں میں 11 ہزار خواتین کی عصمت دری کی گئی۔

    کرپشن پر سزایافہ مگر اجازت بھی مل گئی؛کیا معاملہ ہے ؟

    خیال رہے کہ کل پاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم سیاہ کشمیر منایاگیا، 27 اکتوبر 1947 کو بھارت نے جموں و کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیا تھا، رواں سال 5 اگست کو بھارت نے ایک اور مذموم قدم اٹھا کر مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر کے اسے بھارت کا حصہ بنایا اور اس کے بعد سے وادی میں مسلسل کرفیو نافذ ہے۔

    تفصیلات کے مطابق جنت نظیروادی کشمیر کو بھارتی فورسز نے قیدخانے میں تبدیل کردیا ہے، مسلسل بیاسی روز سے 80 لاکھ افراد کرفیو تلے زندگی گزارنے پر مجبورہیں، قابض بھارتی فورسزکی کشمیریوں پر ہر گزرتے دن کیساتھ سختیاں اور مظالم بڑھتے جارہے ہیں، نہ بچے اسکول جاسکتے ہیں اور نہ ہی مریض سپتال۔

    دھرنے کو کیسے کنٹرول کرنا ہے وفاقی حکومت نے اہم فیصلے کرلیئے

    کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ علاقے میں بڑی تعداد میں بھارتی فوجیوں کی تعیناتی کے خوف اور غیر یقینیت کا ماحول اور رات گئے چھاپوں، ظلم و تشدد اور گرفتاریوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، دفعہ 144کے تحت سخت پابندیوں کا نفاذ اورانٹرنیٹ اور پری پیڈ موبائیل فون سروسز بھی بدستور معطل ہیں۔

    مقبوضہ علاقے میں صورتحال کو معمول پر لانے کی قابض انتظامیہ کی کوششوں کے باوجود کشمیری بھارتی تسلط اور کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے کے مودی حکومت کے 5اگست کے غیر قانونی اقدام کیخلاف سول نافرمانی کی پر امن تحریک جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    دکانیں اور کاروباری مراکز دن بھر بیشتر وقت بند رہتی ہیں جبکہ سڑکوں پرکوئی پبلک ٹرانسپورٹ مشکل ہی نظر آتی ہے، آبادیوں میں جعلی آپریشن ہورہے ہیں، رہنماؤں سمیت گیارہ ہزار کشمیری جیلوں میں قید ہیں، ڈھائی ماہ سے کشمیریوں کو نماز جمعہ ادا کرنے نہیں دی جارہی ہے، بھارتی مظالم کیخلاف نماز جمعہ کے بعد احتجاج کیا جائے گا۔

    امریکی سینیٹرکرس وان ہولین نے گزشتہ ہفتے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت حال پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ کشمیرمیں کرفیو ہٹا کر انسانی حقو ق کے نمائندے بھیجے جائیں۔یاد رہے کہ گزشتہ دنوں بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے نئی دہلی جانے والے امریکی سینیٹر کو وادی کا دورہ کرنے سے روک دیا تھا۔

  • مودی پاکستانی فضائی حدود پار نہیں کرسکتے ،بھارتی درخواست ایک بار پھر مسترد

    اسلام آباد: کشمیریوں کے قاتل ، انسانیت کے دشمن بھارتی وزیراعظم پاکستانی فضائی حدود استعمال نہ کریں ورنہ مار گرایا جائے گا، اطلاعات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اعلان کیا ہے کہ اسلام آباد نے نئی دہلی کی جانب سے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی درخواست مسترد کردی۔

    25 ہزارآنسوگیس شیل، 3 ہزار آنسو گیس بندوقیں، 40 ہزار ہیلمٹس، ایک لاکھ 5 ہزار ڈنڈے

    وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے انکشاف کیا کہ بھارتی حکومت نے 28 اکتوبر کو پاکستان سے نریندر مودی کے لیے فضائی حدود استعمال کرنے کی درخواست دی تھی، بھارتی وزیراعظم نے 29 اکتوبر کو سعودی عرب میں ہونے والے عالمی کاروباری کانفرنس میں شرکت کرنی ہے۔

    10 لاکھ سے زائد افراد کا حکومت مخالف احتجاج، کابینہ برطرف

    ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ‘یہ فیصلہ آج کے یوم سیاہ اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے تناظر میں کیا گیا ہے’۔انہوں نے کہا کہ بھارتی ہائی کمشنر کو تحریری طور پر اس فیصلے سے آگاہ کیا جارہا ہے۔دوسری طرف وزیراعظم عمران خان بھی 28 اکتوبر کو ریاض میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت کے لیے جائیں گے۔

    مقبوضہ کشمیرمیں کرفیو کا 84 واں دن،کشمیری آج یوم سیاہ منارہے ہیں‌

    واضح رہے کہ پاکستان نے ستمبر کے مہینے میں بھی نریندر مودی کے جرمنی کے سفر کے لیے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی بھارتی درخواست کو مسترد کردیا تھا۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کی صورت حال، ہندوستان کا رویہ، جو ظلم و بربریت اور وہاں ہونے والی حق تلفیوں کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کیا کہ ہم ہندوستان کے وزیر اعظم کو اجازت نہیں دیں گے’۔

    ذرائع کا کہنا تھا کہ پاکستان عالمی قوانین کے تحت پابند ہے کہ وہ بھارتی وزیراعظم کو فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے اگر اس کو مسترد کردیا گیا تو بھارت انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن سے اپیل کرسکتا ہے جس کے نتیجے میں پاکستان کو بھاری جرمانہ بھی ادا کرنا پڑسکتا ہے۔

  • نام نہاد بڑی جمہوریت کے دعویدار بھارت کا اصل چہرہ دنیا پر بے نقاب ہو گیا، عمران خان

    نام نہاد بڑی جمہوریت کے دعویدار بھارت کا اصل چہرہ دنیا پر بے نقاب ہو گیا، عمران خان

    وزیر اعظم عمران خان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں مظلوم کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقو ق کے احترام اور آزادی کو یقینی بنانے،

    اسلام آباد ۔ 27 اکتوبر (اے پی پی)وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ 5اگست 2019ء سے بھارتی حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں کئی گنا اضافہ اور ان کی شدت میں اضافہ ہوا ہے، انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں مظلوم کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقو ق کے احترام اور آزادی کو یقینی بنانے، اور بھارت کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات کی وجہ سے امن و سلامتی کو لاحق شدید خطرات کو روکنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ نام نہاد “بڑی جمہوریت” ہونے کے دعویدار بھارت کا اصل چہرہ مکمل طورپر بے نقاب ہوچکا ہے۔ہفتہ کو یوم سیاہ کشمیر کے موقع پر اپنے ایک پیغام وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اس سال یوم سیاہ کشمیر، جو پاکستان سمیت دنیا بھر میں منایا جارہا ہے، ماضی کی نسبت مختلف اورنمایاں ہے۔ 27 اکتوبر 1947ء کو بھارت نے بین الاقو امی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جموں و کشمیر پر قبضہ کیا اور 15 اگست 2019ء کو مزید یکطرفہ اقدامات کے ذریعے پہلے سے متنازعہ علاقے کی حیثیت میں ترامیم کرتے ہوئے آباد یاتی ڈھانچے اور شناخت کو تبدیل کردیا۔ پاکستان، کشمیریوں اور مسلم امہ نے واضح طور پر قانون اورا نصاف کے اس تمسخر کو مسترد کردیاہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ 5 اگست 2019ء سے بھارتی حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں کئی گنا اضافہ اور ان کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔ غاصب فوج کی نفری میں اضافہ اور گذشتہ تین ماہ سے ذرائع ابلاغ کیمکمل بلیک آؤٹ کی وجہ سے بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کرہ ارض کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل ہوچکا ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں اس وقت ادویات اور اشیائے خورد نوش کی شدید قلت ہے۔ ہزاروں افراد جابرانہ حراست میں لے لیے گئے ہیں۔ ہزارو ں نوجوانوں کو اغوا ء کرکے نامعلوم مقام پر قید کردیا گیا ہے اور ان کے ساتھ غیر انسانی اور تضحیک آمیز سلوک کیا جارہا ہے۔ بھارتی ریاستی دہشت گردی آج پہلے سے کہیں زیادہ سفاکانہ رخ اختیار کر گئی ہے،

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ عالمی برادری، بین الاقوامی انسانی حقو ق کی تنظیمیں او ر عالمی ذرائع ابلاغ بھارت سے اس جبر کو ختم کرنے کا کہہ رہے ہیں۔ نام نہاد “بڑی جمہوریت” ہونے کے دعویدار بھارت کا اصل چہرہ مکمل طورپر بے نقاب ہوچکا ہے۔وزیر اعظم نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان فوری طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں کرفیو اور ذرائع ابلاغ کے بلیک آؤٹ کے خاتمے کے ساتھ ساتھ بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کی منسوخی کا مطالبہ کرتا ہے۔ ہم عالمی برادری پر زور دیتے ہیں کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں مظلوم کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقو ق کے احترام اور آزادی کو یقینی بنانے، اور بھارت کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات کی وجہ سے امن و سلامتی کو لاحق شدید خطرات کو روکنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ہم مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام سے غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور اپنے کشمیری بھائیوں و بہنوں کو یقین دلاتے ہیں کہ پاکستان ہمیشہ ان کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔ پاکستان مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کو اقوام متحدہ کے چارٹر کی روشنی میں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قرار دادوں کے عین مطابق، حق خود ارایت کے حصول تک ان کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔

  • آج جنت نظیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کو 72 سال مکمل ، دنیا بھر میں‌ کشمیریوں کا یوم سیاہ

    آج جنت نظیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کو 72 سال مکمل دنیا بھر میں‌ کشمیریوں کا یوم سیاہ

    آج مقبوضہ کشمیر پربھارت کے غاصبانہ قبضے کا دن ہے، پاکستان اور ایل او سی کے دونوں جانب کشمیری اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر منا رہے ہیں، صدر نے اپنے پیغام میں کہا کہ کشمیریوں کا مقدمہ پاکستان کا مقدمہ ہے، اسے ہر فورم پر اٹھائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر عالمی برادری سے کشمیر میں بھارتی مظالم ختم کرانے کا مطالبہ کر دیا۔کشمیر پر بھارتی قبضے کو 72 سال مکمل، کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں
    مظفرآباد: (دنیا نیوز) آج مقبوضہ کشمیر پربھارت کے غاصبانہ قبضے کا دن ہے، پاکستان اور ایل او سی کے دونوں جانب کشمیری اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر منا رہے ہیں، صدر نے اپنے پیغام میں کہا کہ کشمیریوں کا مقدمہ پاکستان کا مقدمہ ہے، اسے ہر فورم پر اٹھائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر عالمی برادری سے کشمیر میں بھارتی مظالم ختم کرانے کا مطالبہ کر دیا۔
    مقبوضہ کشمیر پربھارتی قبضے کو 72سال ہو گئے، کشمیری آج بھی حق سے محروم ہیں۔ 27 اکتوبر 1947 کو بھارت نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جموں و کشمیر پر قبضہ کیا، آج پاکستان اور ایل او سی کے دونوں جانب کشمیری اس دن کو یوم سیاہ کے طور پرمنا رہے ہیں۔ حریت کانفرنس نے لال چوک کی جانب مارچ کا اعلان کیا ہے، پاکستان میں بھی شہر شہر ریلیاں اور مظاہرے کئے جا رہے ہیں۔
    بھارت نے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو بار بار دبانے کے کوشش کی ، مگر 1989 سے کشمیریوں نے اس تحریک کو اس نہج پر کھڑا کیا کہ ہر آنے والے دن یہ تحریک مضبوظ ہورہی ہے، ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرمیں 1989 سےاب تک ایک لاکھ شہادتیں ہوچکی ہیں، مقبوضہ کشمیرمیں 3 دہائیوں میں 11 ہزار خواتین کی عصمت دری کی گئی۔

    ایک کھرب دس ارب ڈالر کا مالک ،بیوی کو خوش نہ کرسکا

    خیال رہے کہ آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم سیاہ کشمیر منایا جا رہا ہے، 27 اکتوبر 1947 کو بھارت نے جموں و کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیا تھا، رواں سال 5 اگست کو بھارت نے ایک اور مذموم قدم اٹھا کر مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر کے اسے بھارت کا حصہ بنایا اور اس کے بعد سے وادی میں مسلسل کرفیو نافذ ہے۔

    وزیراعظم نوازشریف کی صحت کےلیے دعاگواورعلاج کے لیے دواچاہتے ہیں ،چیف جسٹس

    جب تک کشمیریوں کو آزادی نہیں‌ ملتی ہردن ہی یوم سیاہ ہے ، ملیحہ لودھی

  • ایک لاکھ کشمیری شہید،11ہزارخواتین کی عصمت دری،دنیا پھربھی خاموش،بہت افسوس: ترجمان دفترخارجہ

    اسلام آباد:27 اکتوبر، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قبضہ پر ترجمان دفتر خارجہ نے ایک بارپھر پاکستان کا موقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ 72 سال قبل آج کے دن بھارتی ظالم افواج نے بندوق کی نوق پر وادی کشمیر پر قبضہ کرکے کشمیریوں کو سخت آزمائش میں مبتلا کردیا ،کشمیریوں نے پہلے دن سے بھارتی مظالم کے خلاف مزاحمت کی اور بھارت کی غلامی سے جان چھڑانے کے لیے جدوجہد کی ، لاکھوں قربانیاں‌ دیں‌،پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں‌کی اس تحریک آزادی کی سفاری اور اخلاقی مدد کررہا ہے ،

    ایک کھرب دس ارب ڈالر کا مالک ،بیوی کو خوش نہ کرسکا

    بھارت نے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو بار بار دبانے کے کوشش کی ، مگر 1989 سے کشمیریوں نے اس تحریک کو اس نہج پر کھڑا کیا کہ ہر آنے والے دن یہ تحریک مضبوظ ہورہی ہے، ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرمیں 1989 سےاب تک ایک لاکھ شہادتیں ہوچکی ہیں، مقبوضہ کشمیرمیں 3 دہائیوں میں 11 ہزار خواتین کی عصمت دری کی گئی۔

    تفصیلات کے مطابق دفترخارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ کشمیر پربھارتی غاصبانہ قبضے کے خلاف آج دنیا بھرمیں یوم سیاہ منایاجا رہا ہے۔ترجمان دفترخارجہ کے مطابق دنیا بھرمیں پاکستانی سفارتی مشنزکو تقاریب کے لیے ہدایات جاری کی گئی ہیں، دنیا بھرمیں تنازع کشمیرکو اجاگرکرنے کے لیے تقاریب اور احتجاج کیا جائے گا۔

    وزیراعظم نوازشریف کی صحت کےلیے دعاگواورعلاج کے لیے دواچاہتے ہیں ،چیف جسٹس

    ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ کشمیر یوں کی حق خود ارادیت کی 72سالہ جدوجہد کو اجاگر کیا جائے گا، دنیا کو تنازع کشمیرکی سنگینی سے متعلق ایک بار پھر باورکرایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ لاکھوں کشمیریوں کے انسانی حقوق غصب کرکے محصورکر دیا گیا ہے، کشمیریوں کو خوراک، ادویات، بنیادی ضروریات اورسہولیات میسر نہیں ہیں، لاکھوں کشمیریوں پر جاری ظلم سے بڑا انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔

    ترجمان دفترخارجہ کے مطابق دنیا کے ہر فورم پر پاکستان نے اس غاصبانہ اقدام کے خلاف آواز اٹھائی ، عالمی برادری کشمیریوں کو ان کے حق خود ارادیت دینے کا وعدہ پورا کرے، سلامتی کونسل کی قرادادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل نکالا جائے۔

    مقبوضہ کشمیرمیں کرفیو کا 84 واں دن،کشمیری آج یوم سیاہ منارہے ہیں‌

    ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرمیں 1989 سے اب تک ایک لاکھ شہادتیں ہوچکی ہیں، مقبوضہ کشمیرمیں 3 دہائیوں میں 11 ہزار خواتین کی عصمت دری کی گئی۔aانہوں نے کہا کہ 30 سالوں کے دوران 22 ہزار خواتین بیوہ ہوئیں، بھارتی ریاستی دہشت گردی سے لاکھوں بچے یتیم ہوچکے، برہان وانی کی شہادت کے بعد مسئلہ کشمیر کو نئی جہت ملی۔

  • مقبوضہ کشمیرمیں کرفیو کا 84 واں دن،کشمیری آج یوم سیاہ منارہے ہیں‌،آزادی کی جنگ جاری

    سری نگر: مقبوضہ وادی میں بھارتی لاک ڈاؤن 84 ویں روز میں داخل ہوگیا،دوسری طرف کشمیری آج یوم سیاہ بھی منارہے ہیں ، کشمیری روز مرہ کی ضروری اشیاء خریدنے سے قاصر ہیں، دودھ بچوں کی خوراک، ادویات سب ختم ہوچکا ہے۔ وادی میں لاک ڈاؤن کے باعث کشمیریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔قابض انتظامیہ کی جانب سے لوگوں کو مظاہرے سے روکنے کیلئے وادی میں سخت پابندیاں نافذ کردی گئی ہیں اور ہر طرف فوج ہی فوج نظر آرہی ہے،کشمیرکا ہر چوک ہر بازار اور ہر موڑ اس وقت بھارتی مظالم کے خلاف احتجاج کرتا نظرآرہا ہے ،

    تفصیلات کے مطابق جنت نظیروادی کشمیر کو بھارتی فورسز نے قیدخانے میں تبدیل کردیا ہے، مسلسل بیاسی روز سے 80 لاکھ افراد کرفیو تلے زندگی گزارنے پر مجبورہیں، قابض بھارتی فورسزکی کشمیریوں پر ہر گزرتے دن کیساتھ سختیاں اور مظالم بڑھتے جارہے ہیں، نہ بچے اسکول جاسکتے ہیں اور نہ ہی مریض اسپتال۔

    کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ علاقے میں بڑی تعداد میں بھارتی فوجیوں کی تعیناتی کے خوف اور غیر یقینیت کا ماحول اور رات گئے چھاپوں، ظلم و تشدد اور گرفتاریوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، دفعہ 144کے تحت سخت پابندیوں کا نفاذ اورانٹرنیٹ اور پری پیڈ موبائیل فون سروسز بھی بدستور معطل ہیں۔

    مقبوضہ علاقے میں صورتحال کو معمول پر لانے کی قابض انتظامیہ کی کوششوں کے باوجود کشمیری بھارتی تسلط اور کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے کے مودی حکومت کے 5اگست کے غیر قانونی اقدام کیخلاف سول نافرمانی کی پر امن تحریک جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    دکانیں اور کاروباری مراکز دن بھر بیشتر وقت بند رہتی ہیں جبکہ سڑکوں پرکوئی پبلک ٹرانسپورٹ مشکل ہی نظر آتی ہے، آبادیوں میں جعلی آپریشن ہورہے ہیں، رہنماؤں سمیت گیارہ ہزار کشمیری جیلوں میں قید ہیں، ڈھائی ماہ سے کشمیریوں کو نماز جمعہ ادا کرنے نہیں دی جارہی ہے، بھارتی مظالم کیخلاف نماز جمعہ کے بعد احتجاج کیا جائے گا۔

    امریکی سینیٹرکرس وان ہولین نے گزشتہ ہفتے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت حال پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ کشمیرمیں کرفیو ہٹا کر انسانی حقو ق کے نمائندے بھیجے جائیں۔یاد رہے کہ گزشتہ دنوں بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے نئی دہلی جانے والے امریکی سینیٹر کو وادی کا دورہ کرنے سے روک دیا تھا۔