صدر مملکت آصف علی زرداری نے وہاڑی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ سیاست میں آوازیں آنا معمول کی بات ہے، اگر برداشت نہیں کر سکتے تو کوئی آسان کام کریں۔
زرداری نے کہا کہ کسانوں کی سہولت اور زرعی شعبے کی ترقی ملک کی معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں ہر قسم کی نعمت موجود ہے، لیکن تسلسل اور سوچ کی کمی ہے۔ ان کے مطابق قومی ترقی کا انحصار کسانوں کو مضبوط بنانے اور جدید زرعی طریقے فروغ دینے میں ہے، اور ملک کے معاشی چیلنجز کا واحد پائیدار حل زراعت ہے۔
صدر نے کہا کہ ججز کی تنخواہیں تین گنا کر دی گئی ہیں اور ہر کام سوچ سمجھ کر کیا جاتا ہے۔ کشمیر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کی شہ رگ ہے اور اس پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، جبکہ ذوالفقار علی بھٹو نے علاقائی خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا۔
زرداری نے سیاسی بلوغت اور تعاون کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ملک کے حالات بہتر ہو رہے ہیں، تاہم مکمل بہتری میں وقت لگے گا۔ انہوں نے کے پی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کام نہیں ہو رہا اور سیاسی ترجیحات درست نہیں ہیں۔
عمران خان کا نام لیے بغیر صدر زرداری نے کہا کہ ملک چار سال رک گیا تھا، اور وہ شخص ہر روز تقریر کرتا تھا، ہر ٹی وی پر اس کی آواز آتی تھی، لیکن اب ڈیڑھ سال میں آواز آنا شروع ہوئی ہے۔ انہوں نے اپنے 14 سال قید کے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تکالیف کو برداشت کرنا پڑتا ہے اور اپنے بچوں سے ملاقات پر بھی روشنی ڈالی۔
Category: اہم خبریں

سیاست میں ایسا ہوتا ہے، عمران خان کی آوازیں ڈیڑھ سال میں سنائی دینے لگیں، صدر مملکت

سی ٹی ڈی کی کارروائی، کراچی میں دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام، 4 دہشتگرد ہلاک
کراچی: سی ٹی ڈی اور دہشتگردوں کے درمیان مقابلے میں 4 دہشتگرد ہلاک ہو گئے-
ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق کراچی کے شاہ لطیف ٹاؤن میں ایک گھر میں ڈرموں میں آئی ڈیز تیار کی گئی تھیں، بم ڈسپوزل اسکواڈ نے ڈیٹونیٹرز، ڈیٹو نیٹک وائر اور سرکٹ بھی برآمد کرلیے، بارودی مواد کو ڈی فیوز کرنے کے بعد محفوظ مقام پر منتقل کیا جائےگا۔
سی ٹی ڈی حکام کے مطابق فرار دہشتگردوں کی گرفتاری کیلئے ضلع ملیر سمیت مختلف اضلاع کی ناکہ بندی کردی گئی ہے، بم ڈسپوزل اسکواڈ نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر گھر کی سرچنگ کی بم ڈسپوزل اسکواڈ نے گھر میں بارودی مواد کی موجودگی کی تصدیق کی تھی بارودی مواد کے شبہ کی موجودگی میں گھر کی سرچنگ کے لیے بم ڈسپوزل اسکواڈ کو طلب کیا گیا تھا، گھر کے اطراف کے علاقے کو خالی کروایا گیا مقابلے کے دوران گھر میں موجود ایک دہشتگرد کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا، گرفتار دہشتگرد کے قبضے سے کلاشنکوف اور ہینڈ گرینڈ برآمد کیا گیا۔
سی ٹی ڈی کے مطابق دہشتگردوں کے کچھ ساتھی اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر فرار ہوئے، بعد ازاں انہیں زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا، ریسکیو حکام کے مطابق سی ٹی ڈی سے مقابلے میں زخمی 4 دہشتگرد اسپتال منتقلی کے دوران ہلاک ہو گئے ہیں۔

وزیراعظم کا 38 ارب روپے کے رمضان ریلیف پیکج کا اعلان
وزیراعظم شہباز شریف نے 38 ارب روپے کے رمضان ریلیف پیکج کا اعلان کردیا۔
وزیراعظم رمضان ریلیف پیکج کے اجرا کی تقریب کے دوران سیکرٹری بی آئی ایس پی نے بریفنگ دیتے ہوئے شہباز شریف کو بتایا کہ اس سال رمضان پیکج کے تحت رقم 13 ہزار روپے کردی گئی ہے، پیکج کا مقصد مستحق افراد کو باعزت ریلیف فراہم کرنا ہے۔سیکرٹری بی آئی ایس پی نے بتایا کہ 2025 میں رمضان پیکج کے تحت مستحقین کو 5 ہزار روپے دیے گئے تھے، مستحق افراد کور قوم بینکوں کے ذریعے براہ راست فراہم کی جائیں گی،وزیراعظم رمضان ریلیف پیکج کا حجم 38 ارب روپے ہے، وزرا پر مستمل کمیٹی رمضان پیکج کے تمام مراحل کی نگرانی کرے گی، وزیراعظم خود اس نظام کی نگرانی کر رہے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا پچھلے سال رمضان میں مستحقین کو ڈیجیٹل نظام کے ذریعے رقم فراہم کی، پچھلے سال رقم 20 ارب روپے مختص کیے گئے تھے، اس سال رمضان پیکج کے تحت 38 ارب روپے مقرر کیے ہیں، چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر میں رقم شفاف نظام کے ذریعے رمضان ریلیف پیکج کی رقم تقسیم ہوگی، مستحقین کو فی خاندان 13 ہزار روپے دیے جائیں گے۔

وزیرداخلہ محسن نقوی کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات
وزیراعظم محمد شہباز شریف سے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اہم ملاقات کی جس میں ملک کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، خصوصاً وفاقی دارالحکومت کی امن و امان کی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران وزیر داخلہ نے وزیراعظم کو ملک بھر میں سیکیورٹی انتظامات، انسداد دہشت گردی اقدامات اور حساس تنصیبات کے تحفظ سے متعلق جامع بریفنگ دی۔ انہوں نے سرحدی صورتحال، بڑے شہروں میں سیکیورٹی چیلنجز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی سے بھی آگاہ کیا۔وزیراعظم کو اسلام آباد کی موجودہ مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ انہیں بتایا گیا کہ دارالحکومت میں سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، سیف سٹی منصوبے کی بہتری اور حساس مقامات کی نگرانی کے نظام کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ ادارے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے وزیر داخلہ کو ہدایت کی کہ اسلام آباد میں سیکیورٹی کی صورت حال اور دیگر انتظامی معاملات کو نہایت احسن انداز سے حل کیا جائے اور عوامی سہولت کو ہر صورت مقدم رکھا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ وفاقی دارالحکومت میں امن و امان کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ملاقات میں داخلی سلامتی سے متعلق مستقبل کی حکمت عملی، اہم قومی تقریبات کے دوران سیکیورٹی انتظامات اور بین الاقوامی سفارتی سرگرمیوں کے تناظر میں حفاظتی اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔
دوسری جانب وزیر داخلہ محسن نقوی کے آئندہ دورہ سری لنکا پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ جلد سری لنکا کا سرکاری دورہ کریں گے جہاں وہ سری لنکن صدر کو وزیراعظم شہباز شریف کا خصوصی پیغام پہنچائیں گے۔ اس دورے کے دوران دوطرفہ تعاون، سیکیورٹی معاملات اور باہمی دلچسپی کے امور پر بھی بات چیت متوقع ہے۔

پاکستان کی منفرداسٹریٹیجک حیثیت وسطی ایشیا کی اقتصادی ترقی کا محور
پاکستان نے اپنے منفرد جغرافیائی محل وقوع کی اہمیت کے پیشِ نظر وسطی ایشیا کیلئے ترقی کا نیا راستہ کھول دیا
امریکی جریدے یوریشیاریویو نے سی پیک کے تناظرمیں پاکستان،ازبکستان اور قازقستان کا اشتراک ترقی کا سنگ میل قرار دیدیا،یوریشیاریویوکےمطابق؛ازبکستان اورقازقستان کے صدور نے دورہ پاکستان میں سی پیک پر”سہ طرفہ” اشتراک سے اقتصادی تبدیلی کا آغاز کردیا،پاکستانی بندرگاہوں کی ترقی اوربہتر انفراسٹرکچر نے لینڈ لاک وسطی ایشیا کیلئے نئی تجارتی راہیں کھول دیں ، سی پیک کے ساتھ انضمام، ازبکستان کو کراچی اور گوادر کے ذریعے ایک قابل اعتماد جنوبی تجارتی راستہ فراہم کرتا ہے، سی پیک قازقستان کوپاکستان کے ذریعے اسکی برآمدات کیلئے نئی منڈیوں تک رسائی فراہم کرتا ہے،
ماہرین کے مطابق تینوں ممالک کا یہ تعاون نہ صرف اس خطے بلکہ مستقبل میں عالمی تجارت کے لیے بھی ایک اہم محرک بن سکتا ہے،پاکستان اسی تناظرمیں وسطی ایشیائی ممالک سے تعلقات مضبوط،سی پیک اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشیی ایٹیو (بی آر آئی) جیسے اقتصادی منصوبوں میں اپنی شرکت کو بہتر بنارہا ہے

تحریک تحفظ آئین پاکستان، پی ٹی آئی کا دھرناجاری،پارلیمنٹ ہاؤس کو تالے لگ گئے
تحریک تحفظ آئین پاکستان کا دھرنا دوسرے روز میں داخل ہو گیا
تحریک تحفظ آئین پاکستان اور پی ٹی آئی قیادت پارلیمنٹ ہاؤس میں محصور ہے،اراکین رات بھی پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر بیٹھے رہے،پولیس کی جانب سے کسی کو پارلیمنٹ کے اندر جانے اور کسی کو اندر سے باہر آنے نہیں دیا جارہا ،پارلیمنٹ ہاؤس کے تمام دروازوں کو تالے لگا دیئے گئے،تحریک تحفظ آئین پاکستان اور پی ٹی آئی قیادت بھوک سے نڈھال ہو گئی،پولیس کی جانب سے رات کو کھانا اور اب صبح ناشتہ بھی اندر نہیں لے جانے دیا جارہا،پولیس کی بھاری نفری پارلیمنٹ کے تمام گیٹس پہ تعنیات ہے
مصطفی نواز کھرکھر ناشتہ لے کر پارلیمنٹ کے گیٹ پر پہنچ گئے،پولیس سے بحث تکرار پولیس نے ناشتہ اندر لے جانے کی اجازت نہ دی ، مصطفی نواز کھوکھر نے پارلیمنٹ کی عقبی سائیڈ سے ناشتے دینے کی کوشش کی جس پرپولیس کے اہلکاروں نے سختی سے روک دیا،ترجمان تحرہک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین یوسفزئی پولیس کے رویے پر شدید غصے ہو گئے اور کہا کہ ہم کل سے پارلیمنٹ کے اندر محصور ہیں نا پانی اور نہ ناشتہ اندر جانے دے رہے،سینٹر فلک ناز چترالی کی طبیعت رات سے خراب ہے دوائی نہیں آنے دے رہے
خیبر پختونخوا ہاؤس کے باہر اور پارلیمنٹ لاجز کے اندر دھرنے میں محمود خان اچکزئی، بیرسٹر گوہر اور علی امین گنڈاپور سمیت کئی اہم رہنما شامل ہیں۔وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی بھی دھرنے میں شریک ہیں،

پاکستان کے ساتھ بجلی کے مجوزہ ٹیرف میں ردوبدل پر بات جاری ہے،آئی ایم ایف
آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ بجلی کے مجوزہ ٹیرف میں ردوبدل کے حوالے سے تفصیلی بات چیت جاری ہے، جس میں صارفین پر ممکنہ اثرات اور حکومتی معاشی اہداف کو مدنظر رکھا جا رہا ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے آئی ایم ایف حکام کا کہنا تھا کہ حکومتِ پاکستان کے ساتھ جاری مذاکرات میں اس امر پر خاص توجہ دی جا رہی ہے کہ بجلی کے نرخوں میں کسی بھی ممکنہ اضافے یا ردوبدل کا بوجھ متوسط اور کم آمدنی والے طبقے پر نہ پڑے۔ حکام کے مطابق سماجی تحفظ کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا لائحہ عمل ترتیب دینے کی کوشش کی جا رہی ہے جس سے کمزور طبقہ غیر متناسب مالی دباؤ کا شکار نہ ہو۔
آئی ایم ایف حکام نے واضح کیا کہ مجوزہ ٹیرف ترامیم کا جائزہ پاکستان کے ساتھ طے شدہ معاشی اصلاحاتی پروگرام کے تناظر میں لیا جائے گا۔ اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے گا کہ بجلی کے شعبے میں کی جانے والی کسی بھی تبدیلی کا تعلق حکومت کی جانب سے کیے گئے وعدوں اور اصلاحاتی اہداف سے ہم آہنگ ہو۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات میں توانائی کے شعبے میں گردشی قرضے، سبسڈی کے نظام اور محصولات کی بہتری جیسے معاملات بھی زیر غور ہیں تاکہ بجلی کے شعبے کی مالی پائیداری کو یقینی بنایا جا سکے۔ آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں شفافیت اور مالی نظم و ضبط کے بغیر طویل مدتی معاشی استحکام ممکن نہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ مجوزہ ٹیرف ترامیم کے مہنگائی، صارفین کی قوتِ خرید اور مجموعی معاشی استحکام پر ممکنہ اثرات کا بھی تفصیلی تجزیہ کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں اعداد و شمار اور مختلف معاشی اشاریوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی فیصلے کے ممکنہ مضمرات کو پیشگی سمجھا جا سکے۔ماہرین معاشیات کے مطابق بجلی کے نرخوں میں ردوبدل کا براہ راست اثر صنعتی لاگت، برآمدات، گھریلو بجٹ اور مہنگائی کی مجموعی شرح پر پڑتا ہے، اس لیے حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان جاری مذاکرات کو معیشت کے لیے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

ایئر چیف مارشل انڈونیشیا پہنچ گئے، انڈونیشیا کے صدر،عسکری قیادت سے ملاقات
پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو انڈونیشیا کے سرکاری دورہ جکارتہ پہنچ گئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی انڈونیشیا کے صدر پربوو سے ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں پاکستان اور انڈونیشیا کی دیرینہ برادرانہ شراکت داری پر زور دیا گیا،اس موقع پر انڈونیشی صدر پربوو نے پاک فضائیہ کے جدید تربیتی نظام میں دلچسپی ظاہر کی، انڈونیشیا نے دفاعی صلاحیت بڑھانے کے لیے پاک فضائیہ سے تعاون کی خواہش ظاہر کی،ایئر چیف نے انڈونیشین وزیر دفاع اور عسکری قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں، ایئر چیف کو تمام مقامات پر باقاعدہ گارڈ آف آنر پیش کیا گیا،دونوں فضائی افواج نے مشترکہ تربیت اور پیشہ ورانہ تبادلوں پر اتفاق کیا، ابھرتے ایرو اسپیس شعبوں میں باہمی اشتراک بڑھانے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ انڈونیشین ایئر چیف نے پاک فضائیہ کے جنگی تجربے کو سراہا، اس موقع پر ایئر چیف کو انڈونیشین فضائیہ کا اعلیٰ ترین میڈل آف آنر دیا گیا، مشترکہ اجلاس میں دفاع اور سلامتی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

غفلت نہیں بلکہ منظم بیانیہ، بلوچستان میں استحکام کے لیے جامع حکمتِ عملی
بلوچستان میں بدامنی محض معاشی مسئلہ نہیں ہے۔ کم شرح خواندگی اور بعض علاقوں میں نوجوانوں کی بے روزگاری 25 فیصد سے زائد ہونے کے باوجود، کئی دہائیوں سے جاری علیحدگی پسند نظریاتی تربیت، جس میں پاکستان کو “قابض” کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، نے بداعتمادی کو گہرا کیا اور شدت پسند گروہوں میں بھرتی کو ہوا دی۔
تاریخی طور پر صوبے کا تقریباً 77 فیصد حصہ رضاکارانہ طور پر پاکستان سے الحاق کر چکا تھا؛ صرف قلات نے ابتدا میں مزاحمت کی۔ تاہم، مسلسل پروپیگنڈا نے اس تناظر کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔ اگرچہ ریاست نے اسکولوں، فنی تربیتی پروگراموں اور سی پیک سے منسلک ترقیاتی منصوبوں کو وسعت دی ہے، لیکن صرف معاشی اقدامات تاثر پر مبنی تنازع کو حل نہیں کر سکتے۔ استحکام کے لیے ترقی کے ساتھ اسٹریٹجک ابلاغ، شہری شمولیت اور شفاف طرزِ حکمرانی کو یکجا کرنا ضروری ہے۔
بلوچستان کی بدامنی کی بنیادی وجہ نظریاتی تربیت ہے، محض معاشی محرومی نہیں، اگرچہ بعض اضلاع میں نوجوانوں کی بے روزگاری 25 فیصد سے زیادہ ہے۔ بلوچستان کے تقریباً 77 فیصد علاقے نے رضاکارانہ طور پر پاکستان سے الحاق کیا، جبکہ صرف قلات نے ابتدا میں مخالفت کی، جو بعد ازاں پُرامن طور پر حل ہوئی۔ ریاست مخالف بیانیے سے متاثرہ علاقوں میں شدت پسند تنظیموں میں شمولیت کا رجحان اُن علاقوں کے مقابلے میں 60 فیصد تک زیادہ دیکھا گیا جہاں شہری شمولیت کے پروگرام موجود ہیں۔
ریاستی پروگراموں کے تحت 1,200 سے زائد اسکولوں کا قیام اور 30,000 سے زیادہ نوجوانوں کا فنی تربیتی اقدامات سے مستفید ہونا شمولیت کی عملی مثالیں ہیں۔ صرف معاشی ترقی شورش کا توڑ نہیں؛ “قبضے” کے بیانیے کی مسلسل تکرار بداعتمادی کو بڑھاتی رہتی ہے۔ معلوماتی مہمات، تاریخی شعور کی ترویج اور کمیونٹی مکالمہ کئی دہائیوں کی علیحدگی پسند نظریاتی تربیت کے اثرات کم کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔ سیکیورٹی اقدامات کو اسٹریٹجک ابلاغ کے ساتھ مربوط کرنا ضروری ہے؛ قانونی و اخلاقی جواز کا تاثر علاقائی کنٹرول جتنا ہی اہم ہے۔
نمایاں سرکاری جوابدہی اور شمولیتی طرزِ حکمرانی اعتماد میں اضافہ کرتی ہے، شدت پسند بیانیے کی کشش کم کرتی ہے اور مقامی نوجوانوں کو بااختیار بناتی ہے۔ بلوچستان کا مسئلہ فکری، سماجی اور معاشی پہلوؤں کا مجموعہ ہے، بداعتمادی اور عسکریت کے چکر کو توڑنے کے لیے ایک جامع ریاستی حکمتِ عملی درکار ہے۔

یو اے ای کی پاکستان کی قرض واپسی کی مدت میں مزید 2 ماہ کی توسیع
متحدہ عرب امارات نے اصولی طور پر پاکستان کے2 ارب ڈالر کے ڈپازٹ میں دو ماہ کی مختصر مدت کے لیے توسیع (رول اوور) پر اتفاق کر لیا۔
میڈیارپورٹس کے مطابق ایک اعلیٰ عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ یو اے ای نے 17 اپریل 2026 تک دو ماہ کے لیے اس رقم کو رول اوور کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ذرائع کے مطابق یہ یقین دہانی اس وقت کرائی گئی جب نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے رواں ہفتے اعلیٰ اماراتی حکام سے رابطہ کیا،اعلیٰ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ عرب امارات نے یہ مختصر مدتی توسیع 6.5 فیصد شرح سود پر دی ہے، متعلقہ حکام کی جانب سے باقاعدہ منظوری کسی بھی وقت موصول ہونے کی توقع ہے۔
پاکستان اور آئی ایم ایف کے مابین تیسرے جائزہ مذاکرات سے امارات کے اس اقدام کو اہم قراردیاجارہاہے، یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک ماہ کی سابقہ توسیع ختم ہونے میں محض چار دن باقی تھے۔متحدہ عرب امارات کو آگاہ کر دیا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے بعد اسلام آباد دوبارہ طویل مدتی رول اوور کے لیے رابطہ کرے گا۔
یاد رہے کہ جنوری میں بھی یو اے ای نے رقم کی میعاد ختم ہونے پر ایک ماہ کی توسیع دی تھی جبکہ ایک ارب کی تیسری قسط جولائی 2026 میں واجب الادا ہوگی۔ترجمان دفترخارجہ طاہرحسین اندرابی نے بتایا ہے کہ اسحاق ڈار اس معاملے کو خود دیکھ رہے ہیں اور وہ اماراتی حکام کے ساتھ مشاورت اور ہم آہنگی میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ رول اوور کی مدت کا تعین کرنا قرض دینے والے کا اختیار ہوتا ہے، نائب وزیر اعظم کی کوششوں سے رول اوور یقینی ہو چکا ہے۔ترجمان دفترخارجہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ وزارت خزانہ کے حکام کی جانب سے قائمہ کمیٹی خزانہ میں دیے گئے بیانات کے پس منظر سے واقف نہیں ہیں۔ انہوں نے وزیر خزانہ کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا کہ پاکستان کے بیرونی مالیاتی پروفائل میں کوئی خلا نہیں ہے اور آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات بھی درست سمت میں جا رہے ہیں۔









