Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پاکستان کی ترقی کو پروپیگنڈا،بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے ذریعے روکا نہیں جا سکتا،فیلڈ مارشل

    پاکستان کی ترقی کو پروپیگنڈا،بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے ذریعے روکا نہیں جا سکتا،فیلڈ مارشل

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نےکوئٹہ گیریژن کا دورہ کیا، دورے کے دوران انہوں نےافسران و جوانوں سے ملاقات کی.

    دورے کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کمانڈ اینڈ سٹاف کالج میں زیرِ تربیت افسران اور فیکلٹی ممبران سے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ کے اعلیٰ تربیتی معیار، فکری استعداد اور پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا اور اطمینان کا اظہار کیا کہ کالج کے فارغ التحصیل افسران اپنی غیر معمولی کارکردگی اور پیشے سے وابستگی کے باعث نمایاں مقام حاصل کرتے رہے ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ کے اعلیٰ تربیتی معیار اور پیشہ ورانہ کارکردگی کو سراہا،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے بلند حوصلے اور آپریشنل تیاری کو سراہا،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا اس موقع پر کہنا تھا کہ جدید جنگ کی بدلتی نوعیت سے نمٹنے کیلئے مسلسل تربیت اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگی ضروری ہے، مسلح افواج ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کیلئے پرعزم ہیں،پاکستان کی ترقی کو پروپیگنڈا یا بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے ذریعے روکا نہیں جا سکتا، بلوچستان میں پائیدار امن کیلئے عوام دوست پالیسی اور بہتر گورننس ناگزیر ہے

    چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے جدید جنگ کے تیزی سے بدلتے ہوئے انداز پر روشنی ڈالتے ہوئے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، ملٹی ڈومین آپریشنز، تینوں افواج کے باہمی اشتراک اور مستقبل کے جنگی چیلنجز سے باخبر رہنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ وہ خود کو اور اپنے جوانوں کو مسلسل تربیت دیتے رہیں تاکہ بدلتی ہوئی جنگی صورتحال کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے، جبکہ پیشہ ورانہ مہارت، تیاری اور آپریشنل کارکردگی کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھا جائے۔بعد ازاں فیلڈ مارشل نے بلوچستان میں تعینات فارمیشنز کے افسران اور جوانوں سے ملاقات کی۔ موجودہ سیکیورٹی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج عوام کی غیر متزلزل حمایت کے ساتھ ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں۔

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے زور دیا کہ پاکستان کی ترقی کے سفر کو پروپیگنڈے، جعلی خبروں یا بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے ذریعے نہیں روکا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پیشرفت کو پراکسیز اور منفی پروپیگنڈے کے ذریعے نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے والی دشمن قوتیں ریاست کے استحکام اور عوام کے اتحاد کے باعث ناکام ہوں گی۔بلوچستان میں پائیدار امن اور استحکام کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے فیلڈ مارشل نے کہا کہ طویل المدتی ترقی کے لیے سیکیورٹی اقدامات کے ساتھ عوام دوست پالیسی، جامع ترقی اور بہتر طرزِ حکمرانی ناگزیر ہیں۔ انہوں نے حکومتِ بلوچستان کی جانب سے عوامی فلاح، سماجی و معاشی ترقی اور ریاست و عوام کے درمیان تعلق مضبوط بنانے کے لیے جاری اقدامات کو بھی سراہا۔

    فیلڈ مارشل نے بلوچستان میں امن، استحکام اور ریاستی رٹ برقرار رکھنے کے لیے افسران اور جوانوں کے بلند حوصلے، آپریشنل تیاری اور پیشہ ورانہ عزم کی بھی تعریف کی۔

  • سعودیہ،قطر،عرب امارات کی درخواست پر ایران پر کل کا حملہ مؤخر کر دیا،ٹرمپ

    سعودیہ،قطر،عرب امارات کی درخواست پر ایران پر کل کا حملہ مؤخر کر دیا،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایرانپر کل کے لیے طے شدہ امریکی فوجی حملہ مؤخر کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کی قیادت کی جانب سے کی گئی درخواست کے بعد سامنے آیا۔

    صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ قطر کے امیر تمیم بن حمد آل ثانی، سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان آل سعود اور متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید آل نہیان نے ان سے ایران پر حملہ مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی کیونکہ اس وقت اہم سفارتی مذاکرات جاری ہیں، ان رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ ایک ایسا معاہدہ طے پا سکتا ہے جو نہ صرف امریکا بلکہ پورے مشرق وسطیٰ اور عالمی برادری کے لیے قابل قبول ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران کسی بھی قسم کے جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔

    امریکی صدر نے بتایا کہ انہوں نے سیکریٹری دفاع ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل اور امریکی فوج کو ہدایت جاری کی ہے کہ کل ایران پر حملہ نہ کیا جائے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکا کسی بھی وقت بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کے لیے تیار رہے گا۔

    دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں واضح کیا کہ وہ ایران کو کسی قسم کی رعایت دینے کے لیے تیار نہیں۔ امریکی اخبارنیو یارک پوسٹ کو دیے گئے ٹیلیفونک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ایران جانتا ہے کہ “بہت جلد کیا ہونے والا ہے”۔جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا وہ ایران کے یورینیم افزودگی پروگرام پر 20 سالہ پابندی کے بدلے کسی سمجھوتے پر آمادہ ہیں تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ وہ “اس وقت کسی چیز کے لیے تیار نہیں”۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران اب پہلے سے زیادہ معاہدہ کرنا چاہتا ہے کیونکہ اسے امریکی ردعمل کی شدت کا اندازہ ہے۔

    امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق چین کے حالیہ دورے سے واپسی کے بعد ٹرمپ نے ریاست ورجینیامیں اپنے گالف کلب پر قومی سلامتی ٹیم کے ساتھ اہم مشاورت کی، جہاں ایران کے خلاف آئندہ ممکنہ اقدامات پر غور کیا گیا۔

  • 28ویں مجوزہ آئینی ترامیم اور 18ویں ترمیم میں بڑی تبدیلیوں کی تجاویز سامنے آ گئیں

    28ویں مجوزہ آئینی ترامیم اور 18ویں ترمیم میں بڑی تبدیلیوں کی تجاویز سامنے آ گئیں

    اسلام آباد: 28ویں مجوزہ آئینی ترامیم اور 18ویں ترمیم میں بڑی تبدیلیوں کی تجاویز سامنے آ گئی ہیں،

    نجی ٹی وی کے مطابق نئے صوبے بنانے کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی قرارداد کی شرط ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، ذرائع کے مطابق تجاویز میں کہا گیا ہے کہ اب صوبائی اسمبلی کی اجازت کے بغیر بھی نئے صوبے بنانے کے لیے قانون سازی ممکن ہوگی،پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں (قومی اسمبلی اور سینیٹ) کی منظوری سے نیا صوبہ قائم کیا جا سکے گا, 18ویں ترمیم کے تحت این ایف سی ایوارڈ پر نظرثانی متوقع ہے اور صوبوں کے حصے میں کٹ لگنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے،فاٹا کی سابقہ حیثیت بحال کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے،کراچی اور گوادر کو وفاق کے زیر انتظام شہر قرار دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے،ان شہروں کے ترقیاتی منصوبے، ریونیو اور فنڈنگ وفاقی حکومت کے پاس ہونے کی بات کی گئی ہے،گورنر راج کے لیے صوبائی اسمبلی کی منظوری کی شرط ختم کرنے کی تجویز ہے، اس کے تحت گورنر راج کا فیصلہ وفاقی آئینی عدالت کرے گی،حکومت کی مدت سے متعلق بھی تبدیلیوں پر غور جاری ہے، جس میں مدت کو 5 سال سے غیر معینہ مدت تک بڑھانے کی تجویز شامل ہے،جنگی حالات، معاشی بحران اور قدرتی آفات کی بنیاد پر انتخابات ملتوی کیے جا سکتے ہیں،تعلیم اور صحت کی وزارتیں صوبوں سے لے کر وفاق کو دینے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے،بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ختم کرنے اور اس کا 700 ارب روپے کا بوجھ وفاق سے ختم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،صوبے این ایف سی ایوارڈ کے تحت ملنے والی رقم سے امدادی پروگرام جاری کریں گے،

  • پاکستان نے مشکل حالات کے باوجود ایک ذمہ دار ،مؤثر سفارتی کردار ادا کیا،وزیراعظم

    پاکستان نے مشکل حالات کے باوجود ایک ذمہ دار ،مؤثر سفارتی کردار ادا کیا،وزیراعظم

    وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کے دوسرے دور کیلئے پُرامید ہیں، جو بالآخر ایک دیرپا امن کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے برطانوی جریدے دی سنڈے ٹائمز کو انٹرویو میں کہا کہ پاکستان نے مشکل حالات کے باوجود ایک ذمہ دار اور مؤثر سفارتی کردار ادا کیا، ایران، امریکا اور خلیجی ممالک پاکستان پر اعتماد کرتے ہیں، امن مذاکرات کیلئے پاکستان کو قابلِ بھروسہ ثالث سمجھا جا رہا ہے، یہ ملکی تاریخ کا ایک روشن لمحہ ہے۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کی شراکت داری نے عالمی سطح پر ملک کا مثبت تشخص اجاگر کیا، پاکستان نے مشکل حالات کے باوجود ذمہ دار اور مؤثر سفارتی کردار ادا کیا، دنیا میں پائیدار امن کیلئے مسلسل سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

  • یواے ای میں نیوکلیئرپاور پلانٹ پر ڈرون حملہ، پاکستان کی شدید مذمت

    یواے ای میں نیوکلیئرپاور پلانٹ پر ڈرون حملہ، پاکستان کی شدید مذمت

    پاکستان نے متحدہ عرب امارات میں واقع براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ پر ڈرون حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جوہری تنصیبات کو دانستہ طور پر نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

    ترجمان کے مطابق پاکستان برادر ملک متحدہ عرب امارات کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے اور ایسی کارروائیوں کو خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرناک سمجھتا ہے۔پاکستان نے اپنے بیان میں زور دیا کہ کسی بھی صورت حال میں جوہری تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے، کیونکہ اس نوعیت کی غیر ذمہ دارانہ کارروائیاں نہ صرف عالمی امن بلکہ ماحولیات اور انسانی سلامتی کے لیے بھی تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتی ہیں۔

    بیان میں کہا گیا کہ شہری جوہری انفراسٹرکچر کی حرمت ایک مسلمہ بین الاقوامی اصول ہے، جس کا احترام تمام ممالک اور فریقین پر لازم ہے۔پاکستان نے تمام متعلقہ فریقین پر زور دیا کہ وہ کشیدگی کم کرنے، زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے اور معاملات کو سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں۔پاکستان کے مطابق خطے میں پائیدار امن اور استحکام کا واحد راستہ مذاکرات، باہمی احترام اور سفارتی ذرائع کا مؤثر استعمال ہے۔

  • مشترکہ کوششوں سے پاکستان کو ایک ڈیجیٹل طور پر بااختیار اور خوشحال ملک بنایا جا سکتا ہے،وزیراعظم

    مشترکہ کوششوں سے پاکستان کو ایک ڈیجیٹل طور پر بااختیار اور خوشحال ملک بنایا جا سکتا ہے،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی یومِ ٹیلی مواصلات و معلوماتی معاشرہ کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان تیزی سے ایک مکمل ڈیجیٹل انقلاب کی جانب گامزن ہے اور حکومت ’ڈیجیٹل نیشن پاکستان‘ وژن کے تحت مؤثر اقدامات کر رہی ہے، مشترکہ کوششوں سے پاکستان کو ایک ڈیجیٹل طور پر بااختیار اور خوشحال ملک بنایا جا سکتا ہے-

    وزیراعظم نے ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے سے وابستہ تمام ماہرین، اداروں، شراکت داروں اور بین الاقوامی معاونین کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس سال عالمی دن کا موضوع ’ڈیجیٹل لائف لائنز: ایک مربوط دنیا میں مضبوطی و پائیداری کا فروغ‘ پاکستان کے قومی وژن سے مکمل ہم آہنگ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ نیشنل اے آئی پالیسی 2025 مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک انقلابی اقدام ہے جبکہ حالیہ شفاف 5G اسپیکٹرم نیلامی ’ڈیجیٹل پا کستان‘ کی جانب ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوئی ہے، جسے جی ایس ایم اے نے ابھرتی معیشتوں کیلئے قابلِ تقلید قرار دیا، ملک میں سیلولر اسپیکٹرم 274 میگا ہرٹز سے بڑھا کر 754 میگا ہرٹز کر دیا گیا ہے جبکہ حکومت 5G کے تیز تر نفاذ، قومی فائبرائزیشن پالیسی اور مقامی ڈیوائس مینوفیکچرنگ کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے۔

    وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان کا ڈیجیٹل انفراسٹرکچر تیزی سے ترقی کر رہا ہے، جس میں 2 لاکھ 34 ہزار کلومیٹر سے زائد فائبر آپٹک بیک بون، 6 جدید سب میرین کیبلز، 58 ہزار سیلولر ٹاورز اور 20 سے زائد جدید ڈیٹا سینٹرز شامل ہیں، جو 205 ملین صارفین کو خدمات فراہم کر رہے ہیں پاکستان جنوبی و وسطی ایشیا میں ایک علاقائی ڈیجیٹل مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے اور CAREC ڈیجیٹل کوریڈور منصوبے پر بھی پیش رفت جاری ہے۔

    انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات 3.8 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں، جبکہ ڈیجی اسکلز، نیشنل انکیوبیشن سینٹرز اور سیمی کنڈکٹر ہیومن ریسورس پروگرام جیسے اقدامات نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کر رہے ہیں پاکستان نے آئی ٹی یو/ اقوام متحدہ کے سائبر سیکیورٹی انڈیکس میں ٹئیر-1 ’رول ماڈل‘ حیثیت حاصل کی ہے، جو ملک کی ڈیجیٹل ترقی کا عالمی اعتراف ہے۔

    وزیراعظم نے وزارتِ آئی ٹی، پی ٹی اے، سیلولر آپریٹرز اور شعبے سے وابستہ تمام اداروں اور افراد کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ مشترکہ کوششوں سے پاکستان کو ایک ڈیجیٹل طور پر بااختیار اور خوشحال ملک بنایا جا سکتا ہے۔

  • بھارتی آرمی چیف کے اشتعال انگیز  بیان پر پاک فوج کا سخت ردعمل

    بھارتی آرمی چیف کے اشتعال انگیز بیان پر پاک فوج کا سخت ردعمل

    آئی ایس پی آر نے بھارتی آرمی چیف جنرل اوپندرا دویویدی کے اشتعال انگیز بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان پہلے ہی عالمی سطح پر ایک اہم ملک اور تسلیم شدہ ایٹمی طاقت ہے۔

    آئی ایس پی آر نے اتوار کو جاری بیان میں بھارتی آرمی چیف کے پاکستان مخالف بیانات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں ’جنون اور جنگی ذہنیت‘ قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ پاکستان کو نشانہ بنانے کی کسی بھی کوشش کے نتائج خطے تک محدود نہیں رہیں گے-

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی آرمی چیف نے اپنے حالیہ انٹرویو میں اشتعال انگیز بیان دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ جغرافیہ اور تاریخ کا حصہ بننا چاہتا ہے کہ نہیں۔

    بھارتی آرمی چیف کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہندوتوا سوچ کے برعکس پاکستان عالمی سطح پر ایک اہم ملک اور تسلیم شدہ ایک خودمختار، ایٹمی طاقت ہے، پاکستان جنوبی ایشیا کے جغرافیے اور تاریخ کا ناقابلِ تردید حصہ ہے بھارتی آرمی چیف کے ریمارکس اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ ہیں، جن کا مقصد جنوبی ایشیا کو ایک اور بحران اور ممکنہ جنگ کی طرف دھکیلنا ہے-

    آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی قیادت کی سوچ اب بھی پاکستان کے وجود کو قبول کرنے میں ناکام ہے، حالانکہ دونوں ممالک کے قیام کو آٹھ دہائیاں گزر چکی ہیں، اس طرزِ فکر نے ماضی میں بھی خطے کو بارہا جنگوں اور بحرانوں کی طرف دھکیلا ہے کسی خودمختار ایٹمی ریاست کو ’جغرافیہ سے مٹانے ‘ کی دھمکی در اصل اسٹریٹجک سوچ نہیں بلکہ ’ذہنی افلاس، جنون اور جنگی ذہنیت‘ کی عکاس ہے بھارت یہ بخوبی جانتا ہے کہ کسی بھی جغرافیائی تصادم کے نتائج باہمی اور انتہائی تباہ کن ہوں گے،ذمہ دار ایٹمی ریاستیں اشتعال انگیز زبان کے بجائے تحمل، پختگی اور اسٹریٹجک سمجھداری کا مظاہرہ کرتی ہیں۔

    بھارت پر الزام عائد کیا کہ وہ خطے میں عدم استحکام کا باعث رہا ہے اور اس کا موجودہ جارحانہ رویہ بھی ناکامیوں اور مایوسی کا نتیجہ ہےبھارت کی قیادت کو چاہیے کہ وہ جنوبی ایشیا کو مزید کشیدگی کی طرف دھکیلنے کے بجائے پاکستان کے وجود اور حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے پرامن بقائے باہمی کی راہ اپنائے۔

  • محسن نقوی کی  ایرانی ہم منصب سے ملاقات،علاقائی صورتِ حال،امن کے چیلنجز پر  گفتگو

    محسن نقوی کی ایرانی ہم منصب سے ملاقات،علاقائی صورتِ حال،امن کے چیلنجز پر گفتگو

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران میں اپنے ایرانی ہم منصب اسکندر مومنی سے ملاقات کی ہے، جس میں دوطرفہ تعلقات اور خطے میں امن مذاکرات کی بحالی کے امکانات باہمی دلچسپی کے امور، بشمول تازہ علاقائی صورتِ حال اور علاقائی امن کے چیلنجز پر گفتگو ہوئی-

    ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ کے مطابق ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی اور پاکستان کے وزیر داخلہ سید محسن نقوی کے درمیان ملاقات ہوئی، جس میں دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات اور خصوصاً سرحدی تجارت، ٹرانزٹ اور اشیاء کے تبادلے کو آسان بنانے سے متعلق امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں پاک ایران تعلقات، خطے میں امن و استحکام اور امن مذاکرات کی بحالی کے امکانات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اسکندر مومنی نے محسن نقوی کے ایران کے ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں دوسری مرتبہ ایران آمد کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستانی حکومت اور عوام کے دوستانہ رویے پر شکریہ ادا کیا۔

    اس موقع پر اسکندر مومنی نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان طویل مشترکہ سرحد کو باہمی تعاون سے مزید محفوظ اور معاشی طور پر فائدہ مند بنایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو وسعت دینے کے لیے سرحدی علاقوں میں سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے تاکہ دوستی، اتحاد اور برادرانہ روابط مزید مضبوط ہوں۔

    ایرانی وزیر داخلہ نے کہا کہ ایران اور پاکستان کی حکومتوں اور عوام کے درمیان ایک دوسرے کے بارے میں مثبت سوچ پائی جاتی ہے، جو خطے میں تعلقات کی مضبوطی کی علامت ہے انھوں نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا اسکندر مومنی نے ایران اور امریکا کے درمیان تنازع کے حل کے لیے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خصوصی کوششوں کی بھی تعریف کی۔

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی میزبان ایرانی وزیر داخلہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی سیکیورٹی، تجارت اور دوطرفہ تعلقات سے متعلق معاملات پر قابلِ عمل حل نکالے جائیں گے وہ ایران اور پاکستان تعلقات سے متعلق امور کو ایران کے دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ اپنی آئندہ ملاقاتوں میں مزید سنجیدگی سے آگے بڑھائیں گے۔

    ذرائع کے مطابق اپنے دورے کے دوران محسن نقوی کی ایرانی قیادت کے ساتھ مزید ملاقاتیں بھی متوقع ہیں، جن میں خطے کی مجموعی صورتِ حال اور ایران اور سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال جاری رہے گا۔

  • تربت،فتنہ الہندوستان کی بربریت،لیڈی کانسٹیبل شکیلہ شہید،شوہر،بیٹا زخمی

    تربت،فتنہ الہندوستان کی بربریت،لیڈی کانسٹیبل شکیلہ شہید،شوہر،بیٹا زخمی

    فتنہ الہندوستان کالعدم تنظیموں کی بربریت، سفاکیت اور درندگی اپنی انتہاء کو پہنچ گئی،تربت میں دہشت گردوں کی سفاکیت ، لیڈی کانسٹیبل شکیلہ اپنے شوہر سنیل اور دو معصوم بچوں کے ساتھ اپنے فرض کی ادائیگی کے لیے گھر سے نکلی تھیں کہ راستے میں دہشت گردوں کی فائرنگ نے ان کی خوشیوں کو خون میں بدل دیا

    بلوچستان کے شہر تربت کے علاقے آبسر میں نامعلوم مسلح افراد کی گاڑی پر فائرنگ سے لیڈی کانسٹیبل شہید ہو گئی ہیں،اس حوالے سے پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ سے لیڈی کانسٹیبل کا شوہر اور 5 سالہ بیٹا زخمی ہوئے ہیں،پولیس نے کہا ہے کہ واقعے کے بعد لاش اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    معاون وزیراعلیٰ بلوچستان شاہد رند کا کہنا تھاکہ تربت اور نوشکی میں دہشت گردی کے واقعات، لیڈی کانسٹیبل اور معروف براہوئی ادیب پروفیسر غمخوار حیات کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہیں، بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا کھلی بربریت ہے،خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں۔پروفیسر غمخوار حیات پر حملہ بلوچستان کی علمی، ادبی اور فکری اقدار پر حملہ ہے۔علم و قلم کے دشمن عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔دہشت گرد اساتذہ، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنا کر خوف و ہراس پھیلانا چاہتے ہیں۔

    معاون برائے داخلہ حکومت بلوچستان بابریوسفزئی کا کہنا ہے کہ فتنہ الہندستان کے دہشت گرد خواتین، اساتذہ اور بلوچستان کے معصوم لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں ،بلوچستان کے عوام اور سیکیورٹی فورسز دہشتگردی کے خلاف متحد ہیں۔بلوچستان کے عوام دہشتگردی اور جہالت کے ایجنڈے کو مسترد کرتے ہیں،فتنہ الہندستان کا مقصد بلوچستان میں خوف، جہالت اور بدامنی پھیلانا ہے،تعلیم دشمن عناصر بلوچ نوجوانوں کا مستقبل تاریک کرنا چاہتے ہیں،بلوچستان کے عوام، اساتذہ اور سیکیورٹی فورسز دہشتگردی کے خلاف متحد ہیں۔فتنہ الہندوستان نے آج صبح بلوچستان کی دوسری بہادر شہید بیٹی پولیس اہلکار شکیلہ کو نشانہ بنایا،لیڈی کانسٹیبل کو بچوں کے سامنے شہید کرنا کھلی دہشتگردی ہے، بلوچستان پولیس کی بہادر خاتون اہلکار نے وطن پر جان قربان کر دی،شہید لیڈی کانسٹیبل شکیلہ کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی،

  • پاکستان کو قطر سے آنے والا ایک اور ایل این جی کارگو موصول

    پاکستان کو قطر سے آنے والا ایک اور ایل این جی کارگو موصول

    پاکستان کو جمعہ کے روز قطر سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کا ایک اور کارگو موصول ہوگیا، جو تین روز کے دوران قطر سے آنے والا دوسرا ایل این جی کارگو ہے۔

    تفصیلات کے مطابق حکومت نے امریکا اور اسرائیل کے ایران کے ساتھ جاری تنازع کے باعث خطے میں توانائی سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں اور ملک میں بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر اقدامات تیز کر دیے ہیں۔حکام کے مطابق تقریباً ایک لاکھ ساٹھ ہزار کیوبک میٹر ایل این جی لے جانے والا جہاز ’’محزم‘‘ کراچی کی پورٹ قاسم میں پاکستان گیس پورٹ کنسورشیم لمیٹڈ کے ٹرمینل ون پر لنگر انداز ہوا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت توانائی کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے کے لیے ایل این جی درآمدات میں تسلسل برقرار رکھے ہوئے ہے تاکہ بجلی کی پیداوار متاثر نہ ہو۔اس سے قبل 13 مئی کو کیو فلیکس ایل این جی بردار جہاز ’’الخریطیات‘‘ اینگرو ایل این جی ٹرمینل پر پہنچا تھا، جس کے بعد چند دنوں میں قطر سے آنے والا یہ دوسرا بڑا کارگو ہے۔