Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • حکومت نے بی این پی مینگل کی ایسی کونسی شرائط تسلیم کر لیں‌ کہ اتحاد ٹوٹنے کا خطرہ ٹل گیا؟ بڑی خبر آ گئی

    حکومت نے بی این پی مینگل کی ایسی کونسی شرائط تسلیم کر لیں‌ کہ اتحاد ٹوٹنے کا خطرہ ٹل گیا؟ بڑی خبر آ گئی

    پی ٹی آئی حکومت نے بلوچستان نیشل پارٹی کی بلوچستان میں توانائی، ڈیم اور سڑکیں تعمیر کرنے کی شرائط مان لی ہیں‌ اور وفاقی حکومت بی این پی مینگل کو میگا پراجیکٹس کے لئے فنڈز دینے کیلئے بھی رضامند ہو گئی ہے. بی این پی کی شرائط تسلیم کئے جانے پر بی این پی مینگل وفاقی حکومت کی بجٹ منظوری میں حمایت کرے گی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق وفاقی حکومت اور بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے مابین معاملات وزیر اعظم آفس میں‌ ہونے والی ملاقات میں طے پاگئے ہیں. حکومت کی جانب سے وفد میں پرویز خٹک، قاسم سوری، خسرو بختیار اور ارباب شہزاد شریک ہوئے جبکہ بی این پی کے اختر مینگل، جہانزیب جمالدینی، ہاشم نوتیرئی اور عاصم بلوچ نے شرکت کی. اس دوران بی این پی اور حکومتی عہدیداران سے ہونےو الے مذاکرات سے وزیر اعظم عمران خان کو مکمل طور پر آگاہ رکھا گیا.

    مذاکرات کے دوران اتفاق رائے سے طے پایا ہے کہ قاسم سوری، پرویز خٹک اور ارباب شہزاد پر مشتمل کمیٹی طے پانے والی شرائظ پر عملدرآمد کرائے گی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان بلوچستان سمیت تمام پسماندہ علاقوں کو ترقی دیں گے. حکومتی ذمہ داران اور بی این پی وفد کے مابین اس سلسلہ میں‌ پہلی ملاقات آج دوپہر پارلیمنٹ لاجز میں‌ ہوئی جبکہ دوسری ملاقات رات آٹھ بجے وزیراعظم آفس میں ہوئی۔ حکومت اور بی این پی مینگل کے درمیان مذاکرات پر وزیراعظم کو آگاہ رکھا گیا۔ واضح رہے کہ بی این پی مینگل گروپ کچھ عرصہ سے ناراض تھا جسے آج منا لیا گیا ہے. اب وہ بجٹ کی منظوری کے حوالہ سے حکومت کی حمایت کریں‌ گے.

  • تمہیں دین اور مذہب کا نہیں معلوم تو بونگی نہ مارا کرو، مولانا فضل الرحمن عمران خان پر برس پڑے

    تمہیں دین اور مذہب کا نہیں معلوم تو بونگی نہ مارا کرو، مولانا فضل الرحمن عمران خان پر برس پڑے

    جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے وزیراعظم عمران خان پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمہیں دین اور مذہب کا نہیں معلوم تو بونگی نہ مارا کرو. حقیقت ہے کہ اس بچارے کو بھی اپنی تقریر پر قدرت نہیں ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق یہ کونسا وقت ہے قوم سے خطاب کرنے کا؟. رات کے12 بجے تقریر کرنا یہ کون سی بات ہے؟. ان کا کہنا تھا کہ ہم سلاخوں کے پیچھے جانے سے گھبرانے والے نہیں ہیں. سلاخوں کے پیچھے رہنے سے موقف مضبوط ہوتا ہے

    کراچی میں‌ گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ ایمپائر کوئی نہیں ہے، ایمپائر ہم ہیں. واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے رات بارہ بجے قوم سے خطاب کرنے پر دیگر کئی لیڈروں کی جانب سے بھی تنقید کی جارہی ہے.

  • عمران خان اپنے ذاتی اخراجات خود برداشت کر رہے ہیں، مقامی اخبار کی خبر گمراہ کن ہے. وزارت خزانہ

    عمران خان اپنے ذاتی اخراجات خود برداشت کر رہے ہیں، مقامی اخبار کی خبر گمراہ کن ہے. وزارت خزانہ

    وزارت خزانہ نے 12 جون 2019ء کو ایکسپریس ٹریبیون میں چھپنے والی خبر کو گمراہ کن قرار دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم آفس کا بجٹ برائے مالی سال 2019-20ءکو ایک ارب 17 کروڑ ہے جو کہ گزشتہ بجٹ کے مقابلے میں 19 فیصد زیادہ ہے، وزارت خزانہ نے اس خبر کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم آفس کے بجٹ میں دیگر اداروں کے بجٹ کو ظاہر کرتے ہوئے معاملے کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی ہے جو کہ موجودہ حکومت کی کفایت شعاری مہم کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ حقیقت میں وزیراعظم آفس کا بجٹ برائے مالی سال 2019-20ءچھیاسی کروڑ 28 لاکھ روپے ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کا بجٹ 30 کروڑ 90 لاکھ روپے ہے اور ان دونوں رقوم کا مجموعہ ایک ارب 17 کروڑ روپے ہی بنتا ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق وفاقی بجٹ 2019ءجلد اول (جاری اخراجات) صفحہ نمبر 302 سے صفحہ نمبر 310 تک رجوع کیا جا سکتا ہے۔ صفحہ نمبر 303 سے صفحہ نمبر 308 تک وزیراعظم آفس کے بجٹ کی تفصیلات موجود ہیں جبکہ صفحہ نمبر 308 اور 309 پر این ڈی ایم اے کا بجٹ درج ہے لہذا محکمہ خزانہ نے اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ وزیراعظم آفس کے بجٹ میں این ڈی ایم اے کے بجٹ کو ملا کر عوام کو گمراہ نہ کیا جائے۔

    وزارت خزانہ کی پریس ریلیز میں‌ کہا گیا ہے کہ این ڈی ایم اے وزیراعظم آفس کا ماتحت ادارہ ہے لہذا ان دونوں کے بجٹ کو آپس میں ملایا نہ جائے۔ مزید برآں وزارت خزانہ نے اس بات کی وضاحت کی کہ مالی سال 2018-19ءکے لئے مختص شدہ بجٹ برائے وزیراعطم آفس تقریباً ایک ارب 11 کروڑ روپے تھا۔ وزیراعظم کی کفایت شعاری مہم کی وجہ سے وزیراعطم آفس نے صرف 75 کروڑ روپے کے اخراجات کر کے موجودہ مالی سال میں 32 فیصد اخراجات کی بچت کی ہے۔ وزیراعظم آفس کا نئے مالی سال برائے 2019-20ءکا بجٹ 86 کروڑ 28 لاکھ روپے ہے جو کہ پچھلے مالی سال کے بجٹ کے مقابلے میں 13 فیصد کم ہے۔

    وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ اگر ماضی میں وزیراعظم آفس کے اخراجات کا جائزہ لیا جائے تو مالی سال 2019-20ءکا بجٹ سابقہ مالی سال 2014-15ءکے بجٹ سے بھی کم ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے اور کابینہ کی تمام صوابدیدی اختیارات کا خاتمہ کرتے ہوئے وزیراعظم آفس سے سب سے پہلے 6 کروڑ روپے کے صوابدیدی فنڈزختم کئے۔ اگلے مالی سال کے لئے وفاقی حکومت کے جاری اخراجات کو 480 ارب روپے سے کم کر کے 431 ارب روپے پر مختص کیا گیا ہے۔ ایک اور غیر معمولی مثال فوجی بجٹ کو گزشتہ سال کے بجٹ پر منجمند کرنا ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ وزیراعظم ہاﺅس کے اخراجات کا براہ راست وزیراعظم کی ذات سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ اپنی ذات سے متعلقہ اخراجات وزیراعظم خود برداشت کر رہے ہیں۔

    یاد رہے کہ ایکسپریس ٹریبیون نے خبر دی تھی جس میں‌ کہا گیا تھا کہ وزیراعظم آفس کا بجٹ برائے مالی سال 2019-20ءکو ایک ارب 17 کروڑ ہے جو کہ گزشتہ بجٹ کے مقابلے میں 19 فیصد زیادہ ہے. اس خبر پر وزارت خزانہ کی طرف سے یہ وضاحت جاری کی گئی ہے.

  • قرضوں کی تحقیقات کیلئے انکوائری کمیشن کا سربراہ کون ہو سکتا ہے؟ اہم ترین خبر آ گئی

    قرضوں کی تحقیقات کیلئے انکوائری کمیشن کا سربراہ کون ہو سکتا ہے؟ اہم ترین خبر آ گئی

    وزیراعظم پاکستان کی طرف سے انکوائری کمیشن بنائے جانے کی خبروں کے بعد اس بات کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس کمیشن کے سربراہ شعیب سڈل ہو سکتے ہیں.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ روز قوم سے خطاب میں انکوائری کمیشن بنانے کا اعلان کیا تھا جبکہ آج اس سلسلہ میں‌ اعلیٰ سطحی اجلاس بھی ہوا ہے جس میں انکوائری کمیشن سے متعلق امور پر غوروفکر کیا گیا اور یہ بات کی گئی ہے کہ یہ کمیشن 2008 سے لیکر 2018 تک قرضوں میں‌ 24 ہزار ارب کا اضافہ کیسے ہوا اور یہ رقم کہاں‌ خرچ کی گئی، اس کا جائزہ لے گا.

    انکوائری کمیشن سے متعلق کہا جارہا ہے کہ ماضی میں آئی جی سمیت مختلف عہدوں پر تعینات رہنے والے شعیب سڈل کو انکوائری کمیشن کا سربراہ بنایا جاسکتا ہے. اگر شعیب سڈل اس انکوائری کمیشن کے سربراہ بنتے ہیں‌تو یہ کمیشن پچھلے دس سال میں لئے گئے قرضوں کی تحقیقات کرے گا۔ یاد رہے کہ شعیب سڈل اچھی شہرت کے حامل آفیسر رہے ہیں.

  • 2008 سے 2018 تک قرضوں میں‌ 24 ہزار ارب اضافہ کیوں‌ ہوا؟ وزیر اعظم کا انکوائری کمیشن بنانے پر غور

    2008 سے 2018 تک قرضوں میں‌ 24 ہزار ارب اضافہ کیوں‌ ہوا؟ وزیر اعظم کا انکوائری کمیشن بنانے پر غور

    وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا ہے جس میں‌ انکوائری کمیشن سے متعلق امور پر غور کیا گیا ہے۔ اجلاس میں وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم، معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر اور آڈیٹر جنرل نے شرکت کی.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عمران خان کی زیر صدارت اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیہ میں‌ کہا گیا ہے کہ یہ کمیشن اس امر کی انکوائری کرے گا کہ 2008ء سے 2018ء تک قرضوں میں 24 ہزار ارب روپے اضافہ کیوں اور کیسے ہوا ہے۔ اعلامیہ میں‌ کہا گیا ہے کہ انکوائری کمیشن قومی خزانہ خرچ کرنے والی تمام وزارتوں، ڈویژنوں اور متعلقہ وزیروں کی جانچ پڑتال بھی کرے گا۔ اس موقع پر کمیشن کے ٹی او آرز کے مسودے پر بھی غور کیا گیا۔ پی ٹی آئی حکومت نے انکوائری کمیشن، پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2017ء کے تحت قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں‌ میں آئی ایس آئی، ایم آئی، آئی بی اور ایس ای سی پی کے سینئر افسر بھی شامل ہوں گے۔ کمیشن یہ بھی دیکھے گا کہ فنڈز کا کہاں‌ غلط استعمال کیا گیا جبکہ اسی طرح رقم کی واپسی کے لیے بھی یہ کمیشن کام کرے گا۔

    انکوائری کمیشن سے متعلق بتایا گیا ہے کہ یہ اس بات کا بھی جائزہ لے گا کہ اس مدت میں کوئی میگا منصوبہ شروع نہ ہونے کے باوجود اتنے قرضے کس بنیاد پر لیے گئے؟. یہ بھی بتایا گیا ہےکہ کمیشن میں آڈیٹر جنرل آفس،ایف ائی اے اور دیگر حکام بھی شامل ہوں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ میں اپنے گھر میں رہتا ہوں، کسی کا ڈر نہیں، میرا جو مرضی کرنا ہے کر لیں، میں آپ کو نہیں چھوڑوں گا۔ سرکاری ٹی وی پر قوم سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا انکوائری کمیشن کے ذریعے دس سال میں لئے گئے قرضے کی تحقیقات کی جائے گی جس میں انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) اور انٹیلی جنس ادارے آئی ایس آئی کے نمائندے شامل ہوں گے۔

    یاد رہے کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے گزشتہ روز قوم سے کئے گئے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ میں ملکی خزانہ لوٹنے والے چوروں‌ کو کسی طور نہیں‌ چھوڑوں‌ گا. انکا کہنا تھاکہ چاہے میری جان چلی جائے میں‌ کسی کی پرواہ نہیں‌ کروں‌ گا اور نہ ہی کسی بلیک میلنگ کا شکار ہوں گا. ان کا کہنا تھا کہ انکوائری کمیشن اس لئے بنایا جارہا ہے تاکہ قوم کو پتہ چلے کہ ملکی خزانہ کس نے لوٹا ہے اور کون قرض لیکر اپنی جیبیں‌ بھرتا رہا ہے.

  • گرفتاری کے بعد الطاف حسین کے متعلق لندن سے بڑی خبر آ گئی

    گرفتاری کے بعد الطاف حسین کے متعلق لندن سے بڑی خبر آ گئی

    بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے. انہیں‌ گزشتہ روز لندن سے حراست میں‌ لیا گیا تھا.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لندن پولیس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ بانی ایم کیو ایم کے خلاف شواہد نا کافی ہیں جس کی بنا پر انہیں رہا کیا جا رہا ہے۔ بانی ایم کیو ایم الطف حسین کو منگل کے روز صبح سویرے لندن میں ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مار کر گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد انہیں مقامی پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا تھا۔ لندن پولیس نے الطاف حسین کی گرفتاری ممکنہ طور پر 2016 کی نفرت انگیز تقریر پر کی تھی۔

    بانی ایم کیو ایم کی رہائش گاہ پر چھاپے میں 15 پولیس افسروں نے حصہ لیا تھا اور اس خبر کو بین الاقوامی میڈیا کی جانب سے شہ سرخیوں‌ میں شائع اور نشر کیا گیا تھا. یاد رہے کہ پاکستان کی جانب سے بانی ایم کیو ایم کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے.

  • اپوزیشن لیڈروں‌ کو فرضی مقدمات میں جیلوں‌ میں‌ ڈالنا احتساب نہیں‌ انتقام ہے، دباؤ میں نہیں‌ آئیں گے، بلاول بھٹو

    اپوزیشن لیڈروں‌ کو فرضی مقدمات میں جیلوں‌ میں‌ ڈالنا احتساب نہیں‌ انتقام ہے، دباؤ میں نہیں‌ آئیں گے، بلاول بھٹو

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زر داری نے اپوزیشن رہنماؤں کی گرفتاریوں‌ پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ فرضی اور جعلی مقدمات میں اپوزیشن لیڈروں‌ کو جیلوں میں ڈالنا احتساب نہیں انتقام ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپور‌ٹ کے مطابق بلاول بھٹو کا کہنا تھاکہ انہوں نے اور ان کی جماعت نے ہمیشہ عدلیہ اور قانون کی بالادستی کی بات کی ہے. پی ٹی آئی حکومت کی طرف سے قانون کی دھجیاں بکھیرنے پر عدلیہ کو نوٹس لینا چاہیے. پاکستان پیپلزپارٹی کے جیالے کسی دباؤ کا شکار نہیں‌ ہوں گے کسی کو اس حوالہ سے غلط فہمی میں‌نہیں‌ رہنا چاہیے.

    بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میرے ترجمان اور سینیٹ انسانی حقوق کمیٹی کے چیئرمین پر اسلام آباد پولیس کی جانب سے خفیہ ایف آئی آر کا اندراج اور اسے چھپانا قابل مذمت ہے. میں‌ پوچھتا ہو‌ں کہ کس قانون کے تحت سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر کے خلاف درج ایف آئی آر سیل کی گئی اور سامنے نہیں لائی جارہی. حقیقت ہے کہ اس قسم کے ہتھکنڈے صرف آمرانہ دور میں استعمال کئے گئے۔ انصاف کا تقاضا تو یہ ہے کہ ہر شخص کو اس پر لگائے گئے الزامات سے فوری آگاہ کیا جائے. موجودہ حکومت جو کچھ کر رہی کسی طور درست نہیں‌ ہے.

    بلاول بھٹو زرداری نے ایک دن قبل سندھ حکومت گرانے سے متعلق سازش کئے جانے کا بھی دعویٰ کیا تھا.

  • عمران خان کتنے سو کنال کے گھر میں رہتے اور کتنا ٹیکس دیتے ہیں؟ مریم نواز نے بڑا دعویٰ کر دیا

    عمران خان کتنے سو کنال کے گھر میں رہتے اور کتنا ٹیکس دیتے ہیں؟ مریم نواز نے بڑا دعویٰ کر دیا

    پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ نیب کوشہبازشریف،حمزہ شہباز،شاہد خاقان ،سعد رفیق نظرآتے ہیں حکومتی وزرا نہیں. جس نے ساری زندگی محنت نہیں کی، اسے کیا پتا محنت کش کے گھر روٹی کیسے بنتی ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مریم نواز نے کہا ہے کہ نیازی کوصرف گونہیں کہنا گھرتک چھوڑکرآنا ہے. بجٹ کے ذریعے عوام پرقیامت ٹوٹی ہے، پیاز، ڈیزل، ٹماٹر، چینی سمیت ہر شے مہنگی ہوگئی. جس نے ساری عمر دوسروں کی جیبوں کا کھایا ہو اسے کیا پتا عام آدمی کیسے گزارا کرتا ہے. عمران خان نے کبھی کوئی کاروبارنہیں کیا،کبھی کوئی نوکری نہیں کی. بنی گالہ کا گھربغیراین اوسی کے بنا،کسی میں ہمت ہے کہ وہ گھرکوگرائے؟. کسی میں اتنی جرات ہے کہ اس اشتہاری کوکٹہرے میں کھڑا کرے.عمران خان تین سوکینال کے گھرمیں رہتا ہے اورصرف ایک لاکھ روپے ٹیکس دیتا ہے. الیکشن کمیشن کے پاس عمران خان اورپی ٹی آئی کےخلاف ثبوت موجود ہیں.

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ آج کوئی بھی طبقہ سکون کی زندگی نہیں گزاررہا. یاد رہے کہ بجٹ کے بعد تمام اپوزیشن جماعتوں‌ کی طرف سے حکومت پر سخت تنقید کی جارہی ہے.

  • آسٹریلیا کا فتح کیلئے پاکستان کو 308 رنز کا ٹارگٹ، پاکستانیوں‌ کی بیٹسمینوں‌ کی عمدہ کارکردگی کیلئے دعائیں

    آسٹریلیا کا فتح کیلئے پاکستان کو 308 رنز کا ٹارگٹ، پاکستانیوں‌ کی بیٹسمینوں‌ کی عمدہ کارکردگی کیلئے دعائیں

    ورلڈ کپ کے اہم میچ میں‌ پاکستان کے خلاف آسٹریلیا نے پچاس اوور کے اختتام پر
    304 رنز بنا لئے ہیں‌ اور اس کے 9 کھلاڑی آؤٹ ہوئے ہیں.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی فیلڈر نے اس انتہائی اہم میچ میں انتہائی ناقص فیلڈنگ کی ہے اور چار کیچ چھوڑے گئے ہیں. کھلاڑی آصف علی نے تین کیچز چھوڑے جبکہ ایک کیچ سرفرازاحمد نہیں پکڑ سکے. کینگروز کو پہلا نقصان 146 رنز پر ہوا جب ایرون فنچ 82 رنز بنا کر محمد عامر کی گیند پر حفیظ کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔ دونوں بلے بازوں نے دباؤ میں آئے بغیر جارحانہ انداز اپنایا اور گراؤنڈ کے چاروں اطراف دلکش اسٹروکس کھیلتے ہوئے کریز پر موجود ہیں۔

    قومی ٹیم میں ایک اور آسٹریلوی ٹیم میں 2 تبدیلیاں کی گئی ہیں، اسپنر شاداب خان کی جگہ فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی گرین شرٹس میں شامل ہیں، جب کہ انجری کے شکار مارکس اسٹوئنس اور ایڈم زمپا کی جگہ شان مارش اور کین رچرڈسن کو گیارہ رکنی آسٹریلوی ٹیم کا حصہ بنایا گیا ہے۔

    ٹاؤنٹن میں کھیلے جانے والے میچ میں محکمہ موسمیات کی جانب سے ایک بار پھر بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے. اب تک ایونٹ میں 3 میچز بارش کی وجہ سے منسوخ ہوچکے ہیں جس میں سے ایک میچ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان کھیلا جانا تھا۔ دونوں ٹیموں نے اب تک ٹورنامنٹ میں 3،3 میچز کھیلے ہیں، پاکستان کو پہلے میچ میں ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم انگلینڈ سے مقابلے میں قومی ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور انگلینڈ کو شکست دی جبکہ سری لنکا کے ساتھ کھیلا جانے والا میچ بارش کی وجہ سے منسوخ کردیا گیا تھا۔ دوسری جانب آسٹریلیا نے پہلے میچ میں افغانستان اور دوسرے میچ میں ویسٹ انڈیز کو شکست دی تھی تاہم تیسرے میچ میں بھارت کے ہاتھوں کینگروز کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ انگلینڈ کو شکست دینے کے سبب پاکستانی ٹیم کے حوصلے بلند ہیں اور وہ مضبوط عزم کے ساتھ میدان میں اتری ہے.

  • جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ریفرنس، ہڑتال کی کال پر وکلاء تقسیم، وکلاء ایکشن کمیٹی اورضیاء حیدر رضوی کی مخالفت

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ریفرنس، ہڑتال کی کال پر وکلاء تقسیم، وکلاء ایکشن کمیٹی اورضیاء حیدر رضوی کی مخالفت

    سابق وزیرقانون پنجاب ضیا حیدر رضوی نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ریفرنس کے معاملہ پر وکلا کی ہڑتال کی مخالفت کردی ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ضیاء حیدر رضوی نے کہا ہے کہ وکلا کو سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلہ کا انتظار کرنا چاہیے. ان کا کہنا تھا کہ ریفرنس کے معاملہ پر چیف جسٹس پاکستان نے کیمبرج یونیورسٹی میں جو کہا وہ درست ہے. ادھروکلاء ایکشن کمیٹی نے بھی صدر سپریم کورٹ بار کے موقف سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ 14جون کو ہڑتال نہیں کریں‌گے ۔ وکلا ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ قانون کے سامنے سب برابر ہے اور یہ کہ ہر ایک کا بلاامتیاز احتساب ہونا چاہئے۔

    رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق سیکرٹری سپریم کورٹ بار ذوالفقار بخاری نے چودہ جون کو معمول کے مطابق عدالتوں میں پیش ہونے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ وکلاء کو کوئی ہڑتالی ٹاؤٹ نہ سمجھے. ہم ہڑتال کی کال مسترد کرتے ہیں اور وکلاء عدالتوں میں پیش ہونگے. ججز جرنیلوں اور سیاستدانوں سمیت سب کا احتساب ہونا چاہیے۔ وکلاء ایکشن کمیٹی کا کہنا تھاکہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ریفرنس بھیج کر اپنا آئینی اختیار استعمال کیا ہے. اگر کسی جج کے خلاف کوئی الزامات ہیں تو انہیں ان کا سامنا کرنا چاہئے۔

    یاد رہے کہ وکلاء کے ایک دھڑے نے چودہ جون کو ہڑتال کی کال دی تھی.