پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور اس کی قانون سازی اسلامی تعلیمات پر مبنی ہے۔ اسلامی ریاستِ پاکستان کے خلاف مسلح جہاد کا اعلان دین کا صریح غلط استعمال ہے۔
پیغامِ پاکستان کے تحت 1,800 علما کی متفقہ توثیق سے جاری فتوٰی قتلِ ناحق واضح کرتا ہے کہ فتنہ الخوارج کی جدوجہد شریعت کی تعلیمات کے خلاف ہے اور ریاستی اداروں کو ان کے خلاف سخت اقدامات کا پابند بناتا ہے۔ پاکستان ایک خودمختار ریاست ہے جو ہر مسلمان کے احترام اور اپنے قومی مفادات کے تحفظ کی ذمہ دار ہے۔نور ولی اسلام کو مسخ کر کے غیر ملکی ایجنڈوں کی خدمت، تشدد کو ہوا دینے اور کمزور طبقات کو استعمال کر کے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ نور ولی کے پاس کوئی جائز دینی اختیار نہیں۔ وہ نہ تسلیم شدہ دینی تعلیم رکھتا ہے، نہ سند اور نہ ہی علمی قبولیت۔ وہ محض ایک خودساختہ مفتی ہے۔ پیغامِ پاکستان کے ذریعے 1,800 سے زائد علما نے نور ولی کے فتنہ الخوارج کے نظریے اور نام نہاد جہاد کو متفقہ طور پر حرام اور غیر اسلامی قرار دیا ہے، بالخصوص معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کے باعث۔ فتنہ الخوارج کے سربراہ کے طور پر نور ولی جدید خوارج کی نمائندگی کرتا ہے جو لالچ اور اقتدار کے حصول کے لیے دین کو ذاتی مفاد میں استعمال کرتا اور محفوظ ٹھکانوں سے تشدد کی ہدایات دیتا ہے۔ یہ طرزِ عمل اسے مجاہد نہیں بلکہ جھوٹا قائد ثابت کرتا ہے۔
مفتی تقی عثمانی نے واضح کیا ہے کہ اسلامی آئین کے تحت چلنے والی ریاستِ پاکستان جائز اسلامی اختیار کی حامل ہے اور اس کے خلاف بغاوت شرعاً ناجائز اور حرام ہے۔
پاکستان کے خلاف مسلح جہاد کا اعلان اسلامی فقہ میں بغاوت اور فساد فی الارض کے زمرے میں آتا ہے۔ خوف، بدامنی اور خونریزی پر مبنی تشدد کو مذہبی نعروں سے جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔
نور ولی جہاد کے تصور کو تکفیر، انتہاپسندی اور سیاسی خواہشات سے جوڑ کر مسخ کرتا ہے جبکہ اسلام جہاد کو عدل، ضبط اور اخلاقی ذمہ داری کے اصولوں سے جوڑتا ہے۔ قرآن کی آیت 5:32 انسانی جان کی حرمت کو قائم کرتی ہے جو دہشت گردی کی صریح نفی ہے۔
وفاق المدارس جو پاکستان کے دینی مدارس کی سب سے بڑی تنظیم ہے نے انتہاپسندی اور ہر قسم کے تشدد کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مدارس علم، اخلاقی تربیت، امن اور اصلاح کے مراکز ہیں نہ کہ بغاوت کے۔ وفاق المدارس نے واضح اعلان کیا ہے کہ فتنہ الخوارج کی جانب سے مسلح جدوجہد، دہشت گردی اور تشدد اسلام سے بنیادی طور پر متصادم اور اس کی اخلاقی و دینی تعلیمات کی توہین ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے جنگ کے واضح اخلاقی اصول مقرر فرمائے جن میں غیر جنگجوؤں کو نقصان پہنچانے کی سخت ممانعت شامل ہے۔ طاہرالقادری کے مطابق جہاد کبھی بھی شہریوں پر حملوں کو جائز قرار نہیں دیتا اور جہاد کے اعلان کا اختیار صرف ریاست کو حاصل ہے۔
مفتی عبدالرحیم کے مطابق جہاد کا اختیار صرف ریاست کے پاس ہے اور اس اصول پر اسامہ بن لادن اور ملا عمر بھی علمی مباحث کے بعد متفق تھے۔ یہ حقیقت پاکستان میں دہشت گردی کی اصل نوعیت یعنی فتنہ الخوارج کے خودساختہ نام نہاد جہاد کو بے نقاب کرتی ہے۔
مولانا عبداللہ خلیل نے مساجد، مدارس اور علما پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مقدس مقامات اور دینی شخصیات پر تشدد خود اسلام کو کمزور کرتا ہے اور فساد و انتشار پھیلاتا ہے۔
مفتی طیب قریشی نے اسلام کے نام پر دہشت گردی کو جائز ٹھہرانے کے خلاف خبردار کیا اور زور دیا کہ اسلام امن اور ہم آہنگی کا دین ہے۔ اسلام کو تشدد سے جوڑنا اس کی تعلیمات کی تحریف، عالمی اسلام دشمنی کو ہوا دینے اور دوسروں کو نقصان پہنچانے کی شرعی ممانعت کی خلاف ورزی ہے۔
اسلام جہاد کو عدل، امن اور بے گناہوں کے تحفظ کی جدوجہد قرار دیتا ہے نہ کہ دہشت اور جبر کا ہتھیار۔ پیغامِ پاکستان نے فتنہ الخوارج کو تکفیری قرار دے کر اس کے اعمال کو حرام اور اس کے نام نہاد جہاد کو دین کے لبادے میں اقتدار کی خونریز جدوجہد بے نقاب کیا ہے۔