Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • خون کی قیمت مانگتے ہیں تو ہم خون کا حساب خون سے لیں گے،خواجہ آصف

    خون کی قیمت مانگتے ہیں تو ہم خون کا حساب خون سے لیں گے،خواجہ آصف

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغان طالبان نے مجھ سے 10 ارب روپے مانگے اور میں بھی دینے کو تیار ہو گیا۔ میں نے پوچھا کہ ان کو اگر آپ نے مغرب میں بسانا ہے تو کیا گارنٹی ہے کہ یہ واپس نہیں آئیں گے لیکن گارنٹی کوئی نہیں تھی، ہم ایسے ہی تو پیسے نہیں پکڑا سکتے،

    قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہناتھا کہ اگر وہ سنجیدہ ہوتے کوئی نتیجہ نکلتا،امن کے ساتھ رہتے اور ہمیں کوئی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے تو ہم تیار ہیں، لیکن اگر وہ خون کی قیمت مانگتے ہیں تو ہم خون کا حساب خون سے لیں گے،محمود خان اچکزئی سے میرا پرانا تعلق ہے لیکن پاک فوج کو 4 ضلعوں کی فوج کہنا بطور اپوزیشن لیڈر جو کہ ایک قومی عہدہ ہے اس کی تذلیل ہے،محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہماری فوج 4 ضلعوں کی فوج ہے۔ ان جیسے منجھے ہوئے پارلیمنٹیرین کے منہ سے یہ بات انتہائی غیر زمہ دارانہ ہے ، افغانستان سے منشیات اور اسلحہ آ رہا ہے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے معاہدے میں سب کچھ وہاں سے آ رہا ہے یہاں سے سامان افغانستان جاتا ہے پھر پاکستان آ جاتا ہے اور اس پر کوئی کسٹم ڈیوٹی نہیں دی جاتی،جو کہتا ہے کہ افغانستان پاکستان کا پانچواں صوبہ ہےوہ خام خیالی میں مبتلا ہےہمیں ان سے کوئی محبت نہیں۔ ہمارے 3200 شہدا ہیں جو پاکستان کے ہر صوبےاورخطےسے ہیں ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، یہ ہماری مٹی کی عظمت کی گواہی ہے اور ہم ایک ایک قطرے کا حساب لیں گے۔افغانستان میں اب پختونوں کی حکومت ہے، کیا 65 سال کی مہمان نوازی کافی نہیں ہے، اب انہیں ہر صورت واپس جانا چاہیے،

  • پاک فضائیہ کی جانب  سے  فضائی مشق گولڈن ایگل کا کامیابی کے ساتھ انعقاد

    پاک فضائیہ کی جانب سے فضائی مشق گولڈن ایگل کا کامیابی کے ساتھ انعقاد

    پاک فضائیہ کی جانب سے ساؤتھ زون میں فضائی مشق گولڈن ایگل کا کامیابی کے ساتھ انعقاد کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق سدرن ائیرکمانڈ کے دائرہ اختیار میں فضائی مشق گولڈن ایگل کا کامیابی کے ساتھ انعقاد کیا گیا مشق میں پاک فضائیہ کی جنگی صلاحیتوں کو منظم انداز میں بروئےکار لایاگیا اور جنگی تیاریوں کا شاندار مظاہرہ کیا گیا، مشق کا مقصد مصنوعی ذہانت کے ذریعے پاک فضائیہ کی آپریشنل صلاحیت بڑھانا ہے، مشق کے حربی مرحلے میں فرسٹ شوٹ، فرسٹ کل صلاحیت رکھنے والے لڑاکا طیاروں کا استعمال کیا گيا۔طیارے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بی وی آر رینج ائیر ٹو ائیر میزائلوں سے لیس تھے، طیارے توسیع شدہ رینج کے ائیرٹوگراؤنڈ اسٹینڈ آف ہتھیاروں اور انتہائی درست نشانہ سازی کی صلاحیتوں سے لیس تھے۔ کارروائیوں کو ائیر ٹو ائیر ریفیولرز اور ائیر بورن ارلی وارننگ اینڈ کنٹرول سسٹمز جیسے فورس ملٹی پلائرز کی معاونت حاصل رہی، ان سسٹمز کے ذریعے دشمن کے مراکز کو نہایت درستی اور مؤثر انداز میں نشانہ بنانے کی مشق کی گئی۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ان آپریشنز سے جنگی حالات میں پاک فضائیہ کی تیز رفتار آپریشنز کی صلاحیت کی توثیق ہوئی، مشق نے پاک فضائیہ کومتحدکمانڈ اینڈ کنٹرول کے تحت جدید فضائی جنگی تصورات کی توثیق کا موقع فراہم کیا، مشق گولڈن ایگل کی کامیاب تکمیل پاک فضائیہ کی ہمہ وقت جنگی تیاری برقرار رکھنے کا واضح ثبوت ہے۔

  • پشاورکور ہیڈکواٹر میں اجلاس، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ایک سمت پر چلنے پر اتفاق

    پشاورکور ہیڈکواٹر میں اجلاس، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ایک سمت پر چلنے پر اتفاق

    کورہیڈ کوارٹر پشاور میں آج امن و امان سے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور کورکمانڈر پشاور نے شرکت کی۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں عسکری اور سیاسی قیادت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک سمت پر چلنے پر اتفاق کیا،ذرائع کا بتانا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور دیگراسٹیک ہولڈرز کےساتھ ملاقات خوشگوار رہی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کابینہ سمیت 3 گھنٹے تک کور ہیڈ کوارٹرمیں رہے وزیر اعلیٰ اور کابینہ ارکان نے لنچ بھی کور ہیڈ کوارٹر میں کیا، لنچ کے دوران وزیر اعلیٰ اور محسن نقوی نے قریب بیٹھ کر گفتگو کی، وزیر اعلیٰ نے محسن نقوی سمیت دیگرشرکا سے مصافحہ بھی کیا۔

    امن وامان سے متعلق اجلاس میں مالاکنڈ ڈویژن میں صوبائی حکومت کے نظم ونسق کو ماڈل کے طور پر نافذ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا،ذرائع کے مطابق اجلاس میں صوبے میں مستقل قیامِ امن کے لیے بات چیت کی گئی اور قبائلی اضلاع کی بہتری کے لیے اجتماعی حکمتِ عملی اپنانے پر اتفاق کیا گیا۔سرکاری ذرائع کے مطابق سب نے مل بیٹھ کر امن وامان کی صورتحال پرمتفقہ طورپر بات چیت کی، اجلاس اپیکس کمیٹی کے اجلاس کا فالو اپ تھا۔اجلاس میں مالاکنڈ ڈویژن میں صوبائی حکومت کے نظم ونسق کو بطور ماڈل نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور یہ ماڈل کو خیبر، اورکزئی اور کرم میں مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وفاق اور کے پی کے درمیان دہشت گردی پر مکمل ہم آہنگی یقینی بنائی جائے گی جبکہ غیرقانونی سم کارڈز، دھماکا خیزمواد اور بھتا خوری کے خلاف سخت اقدامات جاری رکھنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔رواں سال پشاور میں پی ایس ایل کے میچز بھی کرائے جائیں گے۔ وزير اعلیٰ نے اجلاس میں کہا کہ صوبے اوراس کےعوام کے مفاد کی خاطر کام کروں گا، ذاتی مفاد اور سیاست کیلئے کسی کےسامنےدست سوال نہیں کروں گا۔

  • کویتی قیادت کے ساتھ مل کر آگے بڑھنے کے لئے پرعزم ہیں،وزیراعظم

    کویتی قیادت کے ساتھ مل کر آگے بڑھنے کے لئے پرعزم ہیں،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نےپاکستان اور کویت کے سیاسی تعلقات کو سرمایہ کاری، تجارت اور معاشی تعاون میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے دہائیوں پر محیط برادرانہ تعلقات ہیں،ترقی اور خوشحالی کے مشترکہ اہداف کو عملی شکل دینے کے لئے پرعزم ہیں۔

    انہوں نے ان خیالات کا اظہار منگل کو یہاں رقمی اسلامک بینک کو ڈیجیٹل لائسنس کے اجراء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیراعظم نے لائسنس کے اجراء پر رقمی بورڈ کے چیئرمین اور متعلقہ حکام کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ رقمی بینک کو ڈیجیٹل بینکنگ کے لئے لائسنس کا اجراء پاکستان-کویت تعلقات کے لئے بہت اہم ہے، اس سے پاکستان میں بینکاری کے شعبے کو فروغ ملے گا،سیاسی تعلقات کو معاشی تعاون میں تبدیل کرنا اہمیت کا حامل ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کویت کے تعلقات کو سرمایہ کاری، تجارت اور معاشی تعاون میں تبدیل کرنا ہے،اقتصادی شراکت داری کے لئے کویتی قیادت کے ساتھ مل کر آگے بڑھنے کے لئے پرعزم ہیں،ترقی اور خوشحالی کے مشترکہ اہداف کو عملی شکل دینے کے لئے پرعزم ہیں۔

    سی ای او رقمی اسلامک بینک عمیر اعجاز نے کہا کہ شرعی اصولوں کے مطابق بینکاری کا فروغ رقمی بینک کا عزم ہے،رقمی ڈیجیٹل بینکنگ پاکستان میں کیش لیس معیشت کی طرف اہم پیشرفت ہے، رقمی بینک کو تجارتی سرگرمیوں کے لئے لائسنس ملنا اہم سنگ میل ہے، تمام شعبہ زندگی کی مالیاتی نظام میں شمولیت کے لئے پرعزم ہیں،تمام شعبہ زندگی کی ترقی کے لئے مواقع کی فراہمی ترجیح ہو گی۔

    چیئرمین رقمی بورڈ عبداللہ مطیری نے کہا کہ رقمی ڈیجیٹل بینک کو تجارتی سرگرمیوں کے لئے لائسنس کا اجراء تاریخی لمحہ ہے،یہ اقدام پاکستان اور کویت کے درمیان قریبی تعلقات کا بھی عکاس ہے، ترقی اور خوشحالی کے مشترکہ اہداف کے لئے مل کر کام کرنے کے لئے پرعزم ہیں، پاکستان اور کویت کے درمیان قریبی برادرانہ تعلقات ہیں۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی تعلقات کو معاشی ترقی کے لئے بروئے کار لانا ہے،پاکستان سرمایہ کاری کے لئے بہت اہم ملک ہے، رقمی بینک کا آغاز پاکستان کے شاندار معاشی مستقبل پر اعتماد کا مظہر ہے۔تقریب میں وزیراعظم نے چیئرمین رقمی بورڈ عبداللہ مطیری کو رقمی اسلامک بینک کے لئے ڈیجیٹل لائسنس دیا۔

  • اورکزئی  ، افغانستان سے دراندازی کی کوشش ناکام، 5 دہشتگرد ہلاک

    اورکزئی ، افغانستان سے دراندازی کی کوشش ناکام، 5 دہشتگرد ہلاک

    اورکزئی ضلع کے حساس سرحدی علاقے واچاپالہ میں سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے دہشتگردوں کے ایک گروہ کو ناکام بنا دیا۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کارروائی کی گئی، جس کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
    ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی کے نتیجے میں 5 دہشتگرد ہلاک ہو گئے جبکہ 3 سے 4 دہشتگرد شدید زخمی حالت میں فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، جن کی تلاش کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔ فائرنگ کے تبادلے کے دوران سیکیورٹی فورسز کے تمام اہلکار محفوظ رہے۔سیکیورٹی حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کا تعلق ایک کالعدم تنظیم سے تھا اور وہ سرحد پار سے پاکستان میں داخل ہو کر تخریبی کارروائیاں کرنے کا منصوبہ رکھتے تھے۔ فورسز نے دہشتگردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر مشتبہ سامان بھی برآمد کر لیا ہے۔

    واقعے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر کلیئرنس اور کومبنگ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا مکمل طور پر خاتمہ کیا جا سکے۔ مقامی آبادی کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ ملک دشمن عناصر کی ہر سازش کو ناکام بنایا جائے گا اور پاکستان کی سرحدوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ دہشتگردی کے خلاف جاری آپریشنز اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک علاقے میں مکمل امن قائم نہیں ہو جاتا۔

    مقامی قبائلی عمائدین اور شہریوں نے سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ فورسز کی قربانیاں علاقے میں امن کے قیام کی ضمانت ہیں۔ عوام نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فورسز کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔

  • فتنہ الخوارج اور نور ولی کے جھوٹے جہاد کا پردہ فاش،ریاستِ پاکستان کی اسلامی حیثیت کی توثیق

    فتنہ الخوارج اور نور ولی کے جھوٹے جہاد کا پردہ فاش،ریاستِ پاکستان کی اسلامی حیثیت کی توثیق

    پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور اس کی قانون سازی اسلامی تعلیمات پر مبنی ہے۔ اسلامی ریاستِ پاکستان کے خلاف مسلح جہاد کا اعلان دین کا صریح غلط استعمال ہے۔

    پیغامِ پاکستان کے تحت 1,800 علما کی متفقہ توثیق سے جاری فتوٰی قتلِ ناحق واضح کرتا ہے کہ فتنہ الخوارج کی جدوجہد شریعت کی تعلیمات کے خلاف ہے اور ریاستی اداروں کو ان کے خلاف سخت اقدامات کا پابند بناتا ہے۔ پاکستان ایک خودمختار ریاست ہے جو ہر مسلمان کے احترام اور اپنے قومی مفادات کے تحفظ کی ذمہ دار ہے۔نور ولی اسلام کو مسخ کر کے غیر ملکی ایجنڈوں کی خدمت، تشدد کو ہوا دینے اور کمزور طبقات کو استعمال کر کے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ نور ولی کے پاس کوئی جائز دینی اختیار نہیں۔ وہ نہ تسلیم شدہ دینی تعلیم رکھتا ہے، نہ سند اور نہ ہی علمی قبولیت۔ وہ محض ایک خودساختہ مفتی ہے۔ پیغامِ پاکستان کے ذریعے 1,800 سے زائد علما نے نور ولی کے فتنہ الخوارج کے نظریے اور نام نہاد جہاد کو متفقہ طور پر حرام اور غیر اسلامی قرار دیا ہے، بالخصوص معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کے باعث۔ فتنہ الخوارج کے سربراہ کے طور پر نور ولی جدید خوارج کی نمائندگی کرتا ہے جو لالچ اور اقتدار کے حصول کے لیے دین کو ذاتی مفاد میں استعمال کرتا اور محفوظ ٹھکانوں سے تشدد کی ہدایات دیتا ہے۔ یہ طرزِ عمل اسے مجاہد نہیں بلکہ جھوٹا قائد ثابت کرتا ہے۔

    مفتی تقی عثمانی نے واضح کیا ہے کہ اسلامی آئین کے تحت چلنے والی ریاستِ پاکستان جائز اسلامی اختیار کی حامل ہے اور اس کے خلاف بغاوت شرعاً ناجائز اور حرام ہے۔

    پاکستان کے خلاف مسلح جہاد کا اعلان اسلامی فقہ میں بغاوت اور فساد فی الارض کے زمرے میں آتا ہے۔ خوف، بدامنی اور خونریزی پر مبنی تشدد کو مذہبی نعروں سے جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

    نور ولی جہاد کے تصور کو تکفیر، انتہاپسندی اور سیاسی خواہشات سے جوڑ کر مسخ کرتا ہے جبکہ اسلام جہاد کو عدل، ضبط اور اخلاقی ذمہ داری کے اصولوں سے جوڑتا ہے۔ قرآن کی آیت 5:32 انسانی جان کی حرمت کو قائم کرتی ہے جو دہشت گردی کی صریح نفی ہے۔

    وفاق المدارس جو پاکستان کے دینی مدارس کی سب سے بڑی تنظیم ہے نے انتہاپسندی اور ہر قسم کے تشدد کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مدارس علم، اخلاقی تربیت، امن اور اصلاح کے مراکز ہیں نہ کہ بغاوت کے۔ وفاق المدارس نے واضح اعلان کیا ہے کہ فتنہ الخوارج کی جانب سے مسلح جدوجہد، دہشت گردی اور تشدد اسلام سے بنیادی طور پر متصادم اور اس کی اخلاقی و دینی تعلیمات کی توہین ہیں۔

    رسول اللہ ﷺ نے جنگ کے واضح اخلاقی اصول مقرر فرمائے جن میں غیر جنگجوؤں کو نقصان پہنچانے کی سخت ممانعت شامل ہے۔ طاہرالقادری کے مطابق جہاد کبھی بھی شہریوں پر حملوں کو جائز قرار نہیں دیتا اور جہاد کے اعلان کا اختیار صرف ریاست کو حاصل ہے۔

    مفتی عبدالرحیم کے مطابق جہاد کا اختیار صرف ریاست کے پاس ہے اور اس اصول پر اسامہ بن لادن اور ملا عمر بھی علمی مباحث کے بعد متفق تھے۔ یہ حقیقت پاکستان میں دہشت گردی کی اصل نوعیت یعنی فتنہ الخوارج کے خودساختہ نام نہاد جہاد کو بے نقاب کرتی ہے۔

    مولانا عبداللہ خلیل نے مساجد، مدارس اور علما پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مقدس مقامات اور دینی شخصیات پر تشدد خود اسلام کو کمزور کرتا ہے اور فساد و انتشار پھیلاتا ہے۔

    مفتی طیب قریشی نے اسلام کے نام پر دہشت گردی کو جائز ٹھہرانے کے خلاف خبردار کیا اور زور دیا کہ اسلام امن اور ہم آہنگی کا دین ہے۔ اسلام کو تشدد سے جوڑنا اس کی تعلیمات کی تحریف، عالمی اسلام دشمنی کو ہوا دینے اور دوسروں کو نقصان پہنچانے کی شرعی ممانعت کی خلاف ورزی ہے۔

    اسلام جہاد کو عدل، امن اور بے گناہوں کے تحفظ کی جدوجہد قرار دیتا ہے نہ کہ دہشت اور جبر کا ہتھیار۔ پیغامِ پاکستان نے فتنہ الخوارج کو تکفیری قرار دے کر اس کے اعمال کو حرام اور اس کے نام نہاد جہاد کو دین کے لبادے میں اقتدار کی خونریز جدوجہد بے نقاب کیا ہے۔

  • فتنہ الہندوستان کےبزدلانہ حملوں میں بلوچستان پولیس کی لازوال قربانیاں،لواحقین کاعزم غیرمتزلزل

    فتنہ الہندوستان کےبزدلانہ حملوں میں بلوچستان پولیس کی لازوال قربانیاں،لواحقین کاعزم غیرمتزلزل

    فتنہ الہندوستان کےبزدلانہ حملوں میں بلوچستان پولیس کی لازوال قربانیاں،لواحقین کاعزم غیرمتزلزل

    فتنہ الہندوستان کے بزدلانہ حملوں کے سامنے بلوچ غیورعوام اورسیکیورٹی فورسز ایک آہنی دیوارثابت ہوئے ،بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان کے ناپاک عزائم کو سیکیورٹی فورسز اور عوام کے باہمی اتحاد اورعزم نے خاک میں ملادیا ،بلوچستان پولیس کےبہادرافسر اے ایس آئی محمود الرحمٰن نے دفاع وطن کیلئےجام شہادت نوش کیا، شہید کے بھائی نےفتنہ الہندوستان کےسرپرست بھارت کو واضح پیغام دیا کہ بھائی کا شہادت کے عظیم رتبے پر فائزہونا قابل فخر ہے، اسکو الفاظ میں بیان کرنا ناممکن ہے،اے ایس آئی محمودالرحمٰن شہید نے فرض کی ادائیگی کو ہمیشہ اولین ترجیح دی ،

    اے ایس آئی محمود الرحمنٰ شہید کی بلوچستان کے امن کی خاطر دی گئی لازوال قربانی ہرگز رائیگاں نہیں جائیگی، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں بلوچستان پولیس کی لازوال قربانیاں ناقابل فراموش ہیں،شہدائے پاکستان قوم کے ماتھے کا جھومر اورآنےوالی نسلوں کیلئےمشعل راہ ہیں

  • پاکستان آرمی ٹیم اسپرٹ مقابلے اختتام پذیر، فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر  تھے مہمان خصوصی

    پاکستان آرمی ٹیم اسپرٹ مقابلے اختتام پذیر، فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر تھے مہمان خصوصی

    9 ویں انٹرنیشنل پاکستان آرمی ٹیم اسپرٹ مقابلے کھاریاں میں اختتام پذیر ہو گئے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ٹیم اسپرٹ مقابلہ 60 گھنٹوں پر مشتمل گشت پر مبنی عسکری مشق ہے، اس مشق کا مقصد پیشہ وارانہ فوجی مہارتوں میں مؤثر اضافہ کرنا ہے۔ 5 فروری 2026 سے شروع ہونے والی مشق پنجاب کے نیم پہاڑی علاقوں میں انجام دی گئی، علاقے نے حقیقت پسندانہ اور چیلنجنگ عملی ماحول فراہم کیا۔
    اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر تھے، مشق میں شریک ٹیموں کے درمیان جدید خیالات اور حربی تجربات کا تبادلہ کیا گیا، مشق میں بہترین عسکری طریقہ کار سے باہمی سیکھنے کے مواقع فراہم کیے گئے۔

    اختتامی تقریب سے خطاب میں آرمی چیف نے تمام ٹیموں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے شرکاء کی اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا، اور ٹیموں کی جسمانی اور ذہنی برداشت کی بھرپور تعریف کی،فیلڈ مارشل نے عملی صلاحیت، جنگی مہارت اور بلند حوصلے کو قابلِ ستائش قرار دیتے ہوئے کہا دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں یہ اوصاف پاکستانی جوان ثابت کر رہے ہیں،تقریب کے اختتام پر نمایاں کارکردگی دکھانے والوں کو انعامات دیے گئے، بین الاقوامی مبصرین اور دفاعی اتاشی بھی تقریب میں شریک تھے، مہمانوں نے بھی اعلیٰ پیشہ ورانہ معیار اور بہترین انتظامات کو سراہا،فیلڈ مارشل عاصم منیر نے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر پبی کا دورہ بھی کیا، فیڈ مارشل نے مختلف تربیتی سرگرمیوں کا عملی مشاہدہ کیا اور نئے قائم شدہ ٹیکٹیکل سمیولیٹر کا بھی دورہ کیا گیا، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جوانوں اور تکنیکی ٹیم کی کوششوں کو سراہا، فیلڈ مارشل نے روایتی تربیتی طریقوں کے ساتھ سمیولیٹر پر مبنی تربیت کی اہمیت پر زور دیا۔

  • بسنت،مجموعی طور پر 20 ارب کا کاروبار،ہر دو ماہ بعد منانے کا مطالبہ آ گیا

    بسنت،مجموعی طور پر 20 ارب کا کاروبار،ہر دو ماہ بعد منانے کا مطالبہ آ گیا

    لاہور ایک بار پھر بسنت کی رنگا رنگ بہاروں میں نہا گیا، جہاں تین روز تک جشن کا سماں رہا۔ ملک بھر سے لاکھوں شہری بسنت منانے لاہور پہنچے، جس کے باعث شہر میں غیر معمولی گہما گہمی دیکھنے میں آئی۔ بسنت کے موقع پر اربوں روپے کا کاروبار ہوا جبکہ ٹرانسپورٹ، ہوٹلنگ، فوڈ انڈسٹری اور دیگر شعبوں میں بھی زبردست تیزی ریکارڈ کی گئی۔

    بسنت کی تعطیلات کے دوران لاہور آنے والے شہریوں کی بڑی تعداد کے باعث ٹرانسپورٹ پر مسافروں کا شدید رش رہا۔ بسیں، ویگنز اور دیگر سفری ذرائع مکمل طور پر بھرے رہے جبکہ شہر کے تقریباً تمام بڑے ہوٹل اور گیسٹ ہاؤسز مکمل طور پر بُک ہو گئے۔ انتظامیہ کے مطابق شہریوں اور سیاحوں کی آمد سے مقامی معیشت کو نمایاں فائدہ پہنچا۔حکومت پنجاب کی جانب سے بسنت کے موقع پر شہر بھر میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے۔ پولیس، ریسکیو اور دیگر ادارے تین دن تک متحرک رہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حفاظتی ایس او پیز پر عمل درآمد کے باعث مجموعی طور پر بسنت کا تہوار خیریت سے اختتام پذیر ہوا۔

    آل پاکستان کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کی جانب سے بسنت کے کامیاب انعقاد پر ایک پریس کانفرنس بھی منعقد کی گئی۔ اس موقع پر پیٹرن ان چیف عقیل ملک نے بتایا کہ صرف گڈی اور ڈور کی مد میں تقریباً 3 ارب روپے جبکہ مجموعی طور پر بسنت کے دوران 20 ارب روپے کا کاروبار ہوا، جس میں ہوٹل بکنگ، ٹرانسپورٹ، فوڈ انڈسٹری اور دیگر سرگرمیاں شامل ہیں۔عقیل ملک نے کہا کہ بسنت کا تہوار مجموعی طور پر پُرامن رہا اور وہ سانحہ اسلام آباد کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے حکومت پنجاب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی تعاون اور تجاویز سننے کے باعث یہ تہوار کامیابی سے ممکن ہو سکا۔ انہوں نے بتایا کہ کائٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے 15 ہزار راڈ بھی تقسیم کیے گئے تاکہ حفاظتی اقدامات کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔پریس کانفرنس میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ بانس مافیا کی جانب سے ریٹس تین گنا تک بڑھا دیے گئے، جس پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ عقیل ملک نے اعلان کیا کہ اگلے سال پورے پنجاب میں بسنت منائی جائے گی اور گڈی و ڈور کے ریٹس بھی باقاعدہ مقرر کیے جائیں گے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔

    صدر آل پاکستان کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن شیخ شکیل نے کہا کہ بسنت کا تہوار ہر دو ماہ بعد ہونا چاہیے تاکہ غیر ملکی سیاح بھی پاکستان کا رخ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دوبارہ بسنت منعقد کی گئی تو قیمتوں پر قابو رکھنے کے لیے سخت نگرانی کی جائے گی۔

    دوسری جانب پولٹری ایسوسی ایشن نے بتایا کہ بسنت کے تین دنوں میں مرغی کے گوشت کی فروخت 10 ارب 75 کروڑ روپے تک جا پہنچی، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بسنت سے فوڈ انڈسٹری کو بھی غیر معمولی فائدہ ہوا۔

    انتظامیہ کے مطابق بسنت کے موقع پر شہر میں 10 لاکھ سے زائد گاڑیوں کی آمد ریکارڈ کی گئی، جس کے نتیجے میں کروڑوں روپے کا ٹول ٹیکس بھی جمع ہوا۔

    واضح رہے کہ بسنت کا میلہ نہ صرف مقامی کاروبار جیسے پتنگ سازی، ڈور اور کھانے پینے کے اسٹالز کو فروغ دیتا ہے بلکہ یہ غیر ملکی سیاحوں کو راغب کرنے کا بھی ایک بڑا ذریعہ ہے۔ پنجاب حکومت اور انتظامیہ کی یہ کوشش قابلِ ستائش قرار دی جا رہی ہے کہ انہوں نے سخت حفاظتی اقدامات کے ساتھ عوام کو ان کا روایتی تہوار واپس لوٹانے کی کوشش کی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں بھی ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کیا گیا تو بسنت کا یہ فیصلہ صوبے کی معیشت اور سیاحت کے لیے ایک بہترین مثال ثابت ہو سکتا ہے۔

  • بسنت،ن لیگ کی عوامی مقبولیت،مبشر لقمان کا مرتضیٰ وہاب کو چیلنج

    بسنت،ن لیگ کی عوامی مقبولیت،مبشر لقمان کا مرتضیٰ وہاب کو چیلنج

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ مرتضیٰ وہاب کی بڑی ہی فنی سٹیٹمنٹ سامنے آئی ہے کہ ہم کراچی میں لاہور سے بڑی بسنت منائیں گے، اس سٹیٹمنٹ کی وجہ نواز لیگ کو جو پنجاب میں ،عوام میں پذیرائی ملی، بہت زیادہ ان کو سپورٹ ملی، لوگ کہہ رہے ہیں کہ پنجاب میں جو ن لیگ کی حکومت ہے جس کی وزیراعلیٰ مریم نواز ہے یہ حکومت مشکل اور سخت فیصلے کرتی ہے، ایسی ہی حکومت کی ہمیں ضرورت ہے جو سخت فیصلے کر سکے اور جن میں حوصلہ ہو،اور یہ وہی حکومت کر سکتی ہے جس کو پتہ ہو کہ عوام اس کے ساتھ کھڑی ہے،

    مبشر لقمان کاکہنا تھا کہ جب جنرل ر پرویز مشرف کا دور تھا میں انکے قریب تھا اس وقت سارے کہتے تھے کالا باغ ڈیم بنانا ہے،پرویز مشرف اس وقت مقبول تھے لیکن عوام کو انگیج کرنے کی کوئی چیز نہیں تھی جس پر وہ فیصلہ نہ کرسکے، الیکٹڈ حکومت سخت سے سخت فیصلہ کر سکتی ہے، کیونکہ عوام اسکی تائید کرتی ہے، اب مرتضیٰ وہاب نے یہ بیان دے دیا، مرتضیٰ وہاب نے زندگی میں گڈی اڑائی نہیں یا پتہ نہیں، یا سیاسی بیان دے دیا، پہلی بات وہ یہ کہیں کہ پنجاب ویلڈن، ملک جب دہشتگردی کا شکار ہے تم نے ملک کو فیسٹول دے دیا، امیر ہو، غریب ہو،کوئی بھی ہو، اس میں شریک ہو سکا، آمدنی کا ایک ذریعہ دے دیا، بچوں کے ساتھ انٹرٹیمنٹ کا ذریعہ دے دیا،ہماری فیملی انٹرٹینمنٹ ہے ہی نہیں، بچوں کے ساتھ باہر جانا ہو کہاں جائیں سوائے کھانا کھانے کے، بچوں ، رشتے داروں کے ساتھ نکلتے ہیں تو ماحول چاہئے ہوتا ہے لاہور نے یہ کر دکھایا اور اب پنجاب کے باقی شہروں میں ہو گی،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مرتضیٰ وہاب میرا خیال ہے کہ آپ لاہور آئیں، میرے مہمان بنیں، لاہور کی بسنت اٹینڈ کریں میں دکھاؤں گا بسنت ہوتی کیا ہے، گڈی اڑانے کا مطلب نہیں ہوتا، کوئی چمپو بھی ہوا میں کر لے گا جتنی تیز ہوا ہوتی ہے، میں بتاؤں جب بسنت منائیں گے تو گلوز کا کاروبار شروع کر دیں، کیونکہ تیز ہوا میں پھر انگلیاں ہی کٹیں گی،وہاں پر ایسے حالات نہیں، کلائمنٹ پنجاب کا سوٹ کرتا ہے اسکو کیونکہ یہ پنجاب کے سیزن کے ساتھ منسلک ہے، جاڑے کا جانا،موسم کا بدلنا ،یہ بسنت ہے ہی اس کا نام، بسنت تہوار ہی موسم کی تبدیلی کا ہے اور خزاں کا ختم ہونا ،اس کے بعد دیکھیے گا لاہور پھولوں سے بھر جائے گا،پورا پنجاب یہ موسم کی تبدیلی ہے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دوسرے صوبوں میں سیاسی موت آئی ہے کہ ن لیگ بہت بڑا پوائنٹ سکورنگ کر گئی ہے،حالت یہ ہے کہ کل پی ٹی آئی کا ایک ورکر بھی نہیں نکلا کل خود چھتوں پر کھڑے ہوئے تھے، عمران خان کے بھانجے بھی ،آخری بسنت 18 برس قبل ہوئی تھی،کہتے ہیں یہ تین سال پرانی ہے تو مطلب اس وقت قانون توڑا، جھوٹ بول رہے، اس بسنت میں کچھ کمیاں رہ گئی ہیں، پتنگ اڑانے والوں‌کے دل کی بات کر رہا ہوں ،میں حکومت پر تنقید نہیں کر رہا، وقت بڑا تھوڑا تھا اتنے سال ہو گئے اس کام کو بند ہوئے، جو لوگ ،کاریگر ان کاموں سے منسلک تھے انہوں نے شاید کوئی اور کام شروع کر دیا، اب میں دیکھ رہا ہوں جین زی نے اس میں شرکت کی لیکن پتنگ بازی کا کچھ پتہ نہیں ،یہ نہیں پتہ کہ گڈی پر کنی کیسے باندھنی ہے،چیپی نہیں لگاتا تو اوپر جا کر پھٹ جائے گی،کس ہوا میں کیسے رکھنا ہے،ٹیکنیکل چیزیں سالہا سال پتنگ بازی کے بعد آتی ہیں،جو ڈوروں کی، پتنگوں کی کوالٹی تھی شاید وہ اتنی اچھی نہیں تھی لیکن خیر، جب یہ کام شروع ہو گا ،لوگوں کو روزگار نظر آئے تو اچھے بنانے والے بھی آئیں گے، کچھ جگہوں پر قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے جہاں لوگ کیمکل ڈور کے ساتھ اڑاتے رہے،ہم نے بھی مزنگ میں نشاندہی کی اور دھمکی دی کہ نہ اتاری تو میں خود رپورٹ کروں گا، کل منصور علی خان نے مجھے بتایا کہ کچھ جگہوں پر لوگ کیمکل ڈور سے اڑا رہے تھے،منصور کی خبریں صحیح ہوتی ہیں،اس کا نام شہیدوں میں آ گیا کیونکہ اسکی انگلیوں پر کٹ لگے تھے، کل بڑا سماں تھا جب سارے جمع ہوئے، حکومتی افراد اس بات پر ریلیف میں تھے کہ تین دن کا فیسیٹول بغیر کسی مسئلے کے گزر گیا

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ تین دن لاہور میں کرائم رپورٹ نہیں ہوا،تھانے میں دیکھ لیں زیادہ شکایتیں نہیں ملیں گی، حادثوں کے واقعات ہوئے لیکن کرائم نہیں ،کیا مرتضیٰ وہاب یہ کریں گے کہ وہ کراچی میں بسنت کریں گے تو کرائم نہیں ہو گا، میں مرتضیٰ وہاب کو چیلنج کرتا ہوں‌وہ بسنت نہیں کر سکتے، بسنت کا مطلب گڈی اڑانا نہیں بلکہ ایک تہوار ہے ہماری چھتوں پر جہاں ہم نے بسنت کا فنکشن کیا وہاں خواتین بسنتی جوڑوں میں آئے، ہم نے کھانے بھی وہی بنوائے،جن کے رنگ ملتے ہیں،اسی طرح میوزک بھی بسنت کے اعتبار سے تھا،جو فیسیٹول تھا اس کو ہم نے فیسٹو فیسٹول بنایا ہوا تھا، ہزاروں جگہ بسنت منائی جا رہی تھی ہر جگہ ایسا ہوا، سب سے کمزور پروگرام وہ والے تھے جن کی حکومت کی پشت پناہی تھی،نیم سرکاری جہاں لوگ حاضریاں دینے گئے تھے ، عوامی سطح پر جو ہوا یہ پذیرائی آپ کی سوچ سے باہر ہے، مرتضیٰ وہاب کہتے ہیں لاہور سے بڑی بسنت کر کے دکھاؤں گا،آپ نے مریم نواز کا مقابلہ کرنا ہے تو لاہور کی سڑکوں کا کریں، کراچی کی سڑکوں کا کریں،وہاں پانی مل رہا ہے یا نہیں، کرائم کم ہو رہے یا نہیں، تجاوزات ختم کر رہے یا نہیں، ریسکیو چل رہی ہے یا نہیں، پبلک ٹرانسپورٹ کیسی چل رہی، مریم نواز سے تو ان باتوں کا مقابلہ کریں، کراچی کے لوگ بھی کل میری بسنت پر آئے تھے وہ دانتوں میں انگلیاں دبا کر پھر رہے تھے کہ یہ لاہور ہے،؟ آپ نے جو حال وہاں کا کیا…..

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بسنت پر آ جائیں مریم نواز کو چھوڑیں میرا چیلنج ہے میرے سے بڑی بسنت کر کے دکھائیں ،ویڈیو موجود ہیں، جس دن آپ بسنت منائیں گے میں پنجاب حکومت سے اجازت لے کر بسنت کا اعلان کروں گا، نہ سرکاری فنڈز لوں گا،نہ کوئی سپانسر،میں کروں گا دیکھنا وہاں ہزاروں‌لوگ کیسے آتے ہیں، لاہوریئے ہیں، دل والے ہیں، تم کرو،تمہیں تو اڑانی نہیں آتی تو تمہاری کال پر کون آئے گا.